Manzilein Lapaata By Samreen Sheikh Readelle50059

Manzilein Lapaata By Samreen Sheikh Readelle50059 Last updated: 6 July 2025

58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Manzelein Lapaata

By Samreen Sheikh

رات کے دو بجے کا وقت تھا ساحر ابھی دوسرے شہر سے لونگ ڈراؤ کرکے واپس آیا تھا بھوک تو بہت لگ رہی تھی مگر تھکاوٹ اتنی تھی کہ بھوک کو بھاڑ میں جھونک کر اپنے کمرے کی طرف کا رخ کر گیا مگر اپنے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی حانم کو دیکھ کر چونک گیا تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟ رات کے اس پہر حانم کا یہاں کھڑا ہونا ٹھیک نہیں تھا اس لیے لہجے میں تھوری سختی کا عنصر نمایاں تھا کیوں یہاں پر کھڑا ہونا بین ہے وہ حانم ہی کیا جو کسی بات کا ٹھیک سے جواب دے دے دیکھو اس وقت تمہارا یہاں پر کھڑا ہونا ٹھیک نہیں تم۔۔۔۔ اچھا تو پھر چلیں اس کی بات کاٹ کر بولی کہاں؟؟؟؟ ساحر نے چونک کر اسے دیکھا کیچن !!! کیچن ؟؟؟ کیوں؟؟؟ اففف ساحر سائیں خود ہی تو کہا ہے یہاں پہ کھڑے ہو کر بات کرنا ٹھیک نہیں آپ کیچن میں آئیں آپ کو پوری بات بتاتی ہوں ساحر نفی میں سر جھٹکتا اس کے پیچھے جانے لگا کیونکہ بنا بات منوائے وہ کہاں ٹلنے والی تھی یہ لیں۔۔۔۔ حانم نے کیچن میں پہنچ کر اسے مختلف کیبنٹ سے سامان نکال کر اس کے آگے رکھا یہ سب کیا ہے ؟؟ ساحر کو اب سچ میں تعجب ہوا پاستے کا سامان مجھے پاستہ کھانا قسم سے ساحر سائیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے نور حانم کی فرمائش پر ساحر صاحب کی تیوری چڑھی تمہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں پاستا بنا کر کھلاؤں گا اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ پاستا نہیں بنائیں گے نور حانم نے اپنے ہاتھ اپنی کمر پر رکھے ساحر سائیں نے اس کی اس ادا پر نظر چرائی دیکھو اس وقت میں بہت تھکا ہوا ہوں تم۔۔۔۔۔۔ نورِ حانم،،،، نورِ حانم نام ہے میرا یہ تم تم کیوں کرتے ہیں آپ ساحر سائیں اور دوسری بات مجھے بھوک لگ رہی تھی میں نے رات کو بھی کھانا نہیں کھایا تھا آپ کو دوست سمجھ کر کہہ دیا کیا ہوگیا اگر مجھے کوکنگ نہیں آتی "نورِ حانم اسعد حاکم "نام ہے میرا کوکنگ بھی سیکھ لوں گی پھر آپ کو پوچھوں گی تک نہیں حانم نے غصے سے رخ موڑ لیا یہ لو ساحر کی آواز پر حانم نے چونک اسے دیکھا جس نے ایک سیب نفاست سے کاٹ کر پلیٹ میں رکھ کر اس کی جانب بڑھایا اور اب مہارت سے سبزیاں کاٹ رہا تھا تھوڑی دیر میں پاستہ بنا کر اس نے حانم کے سامنے رکھا ساحر سائیں مجھے اکیلے کھانا کھانے کی عادت نہیں ہے اسے کچن سے باہر جاتے دیکھ کر بولی تو وہ چار و ناچار خاموشی سے تھوڑا پاستہ اپنے لیے بھی نکال کر کھانے لگا واہ کیا ٹیسٹ ہے واہ ساحر سائیں آپ کی بیوی بہت لکّی ہوگی اپنے دھیان میں کھاتی مزے سے بولی حانم کی بات پر ساحر کو بہت برا پھندا لگا حانم نے فوراً پانی کا گلاس س اس کی طرف بڑھایا جسے وہ فٹافٹ پکڑ کے گھٹک گیا یہ سوچیں تمہے آتی کہاں سے ہیں ؟؟؟ درد ہوتے گلے سے اس نے بامشکل پوچھا افکورس ون اینڈ اونلی دی گریٹ گریٹ نورِ حانم کے دماغ سے ویسے میں نے سوچا ہے آج دی کھڑوس آئی مین دی گریٹ ساحر سائیں نے مجھے پاستہ بنا کر کھلایا ہے تو میں بھی گاجر کا حلوہ بنانا سیکھ کر ضرور کھلاؤ گی وہ یہ کہہ کر اپنی پلیٹ سنک میں رکھتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ وہ اس کے جانے کے بعد اس کی خالی کرسی کو دیکھتا رہ گیا حانم کا خود پر رعب جمانا اسے بالکل برا نہیں لگتا تھا اس کی الٹی سیدھی حرکتیں اسے عزیز تھی مگر اسے گھر والوں کا اپنے ساتھ سرد رویے پر خوف اتھا تھا۔۔۔