Rate this Novel
Episode 3
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 03
ثمرین شیخ
آج تین دنوں بعد ساحر حویلی واپس آیا تھا اور وہ کس دل سے آیا تھا یہ بات تو اللّٰہ اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا
“وہ” کسی اور کی ہوچکی ہے یہ بات اذیت کی کن گہری کھائیوں میں پہنچا چکی تھی اسے وہ بس ضبط ہی کر سکا
ساحر نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس نے سب بڑوں کا اپنی ماں اور اپنے ساتھ سرد رویہ ہی محسوس کیا تھا سوائے اسعد سائیں کے وہ ہمیشہ اس سے شفقت سے پیش آتے
مگر جب حانم پیدا ہوئی تو اسے لگا اسعد سائیں اب اس سے دور ہو جائیں گے شروع شروع میں وہ حانم سے بھی چڑنے لگا مگر جہاں دوسرے بچے اس سے دور رہتے حانم ہر وقت اس کے سر پر سوار رہتی کبھی کوئی مزاق کر دیتی تو کبھی کوئی کام زبردستی کرواتی آہستہ آہستہ اس نے حانم کو زندگی کے اہم حصے کی طرح قبول کر لیا
اور پھر وہ اسے عزیز ہوتی گئی
اسے چند سالوں پہلے کا واقع یاد آیا ۔۔۔۔
رات کے دو بجے کا وقت تھا ساحر ابھی دوسرے شہر سے لونگ ڈراؤ کرکے واپس آیا تھا بھوک تو بہت لگ رہی تھی مگر تھکاوٹ اتنی تھی کہ بھوک کو بھاڑ میں جھونک کر اپنے کمرے کی طرف کا رخ کر گیا مگر اپنے کمرے کے دروازے کے باہر کھڑی حانم کو دیکھ کر چونک گیا
تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟
رات کے اس پہر حانم کا یہاں کھڑا ہونا ٹھیک نہیں تھا اس لیے لہجے میں تھوری سختی کا عنصر نمایاں تھا
کیوں یہاں پر کھڑا ہونا بین ہے وہ حانم ہی کیا جو کسی بات کا ٹھیک سے جواب دے دے
دیکھو اس وقت تمہارا یہاں پر کھڑا ہونا ٹھیک نہیں تم۔۔۔۔
اچھا تو پھر چلیں اس کی بات کاٹ کر بولی
کہاں؟؟؟؟
ساحر نے چونک کر اسے دیکھا
کیچن !!!
کیچن ؟؟؟ کیوں؟؟؟
اففف ساحر سائیں خود ہی تو کہا ہے یہاں پہ کھڑے ہو کر بات کرنا ٹھیک نہیں آپ کیچن میں آئیں آپ کو پوری بات بتاتی ہوں
ساحر نفی میں سر جھٹکتا اس کے پیچھے جانے لگا کیونکہ بنا بات منوائے وہ کہاں ٹلنے والی تھی
یہ لیں۔۔۔۔ حانم نے کیچن میں پہنچ کر اسے مختلف کیبنٹ سے سامان نکال کر اس کے آگے رکھا
یہ سب کیا ہے ؟؟ ساحر کو اب سچ میں تعجب ہوا
پاستے کا سامان مجھے پاستہ کھانا قسم سے ساحر سائیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے
نور حانم کی فرمائش پر ساحر صاحب کی تیوری چڑھی تمہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں پاستا بنا کر کھلاؤں گا
اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ پاستا نہیں بنائیں گے
نور حانم نے اپنے ہاتھ اپنی کمر پر رکھے
ساحر سائیں نے اس کی اس ادا پر نظر چرائی
دیکھو اس وقت میں بہت تھکا ہوا ہوں تم۔۔۔۔۔۔
نورِ حانم،،،، نورِ حانم نام ہے میرا یہ تم تم کیوں کرتے ہیں آپ ساحر سائیں اور دوسری بات مجھے بھوک لگ رہی تھی میں نے رات کو بھی کھانا نہیں کھایا تھا آپ کو دوست سمجھ کر کہہ دیا کیا ہوگیا اگر مجھے کوکنگ نہیں آتی
“نورِ حانم اسعد حاکم “نام ہے میرا کوکنگ بھی سیکھ لوں گی پھر آپ کو پوچھوں گی تک نہیں حانم نے غصے سے رخ موڑ لیا
یہ لو ساحر کی آواز پر حانم نے چونک اسے دیکھا جس نے ایک سیب نفاست سے کاٹ کر پلیٹ میں رکھ کر اس کی جانب بڑھایا اور اب مہارت سے سبزیاں کاٹ رہا تھا
تھوڑی دیر میں پاستہ بنا کر اس نے حانم کے سامنے رکھا
ساحر سائیں مجھے اکیلے کھانا کھانے کی عادت نہیں ہے اسے کچن سے باہر جاتے دیکھ کر بولی تو وہ چار و ناچار خاموشی سے تھوڑا پاستہ اپنے لیے بھی نکال کر کھانے لگا
واہ کیا ٹیسٹ ہے واہ ساحر سائیں آپ کی بیوی بہت لکّی ہوگی اپنے دھیان میں کھاتی مزے سے بولی
حانم کی بات پر ساحر کو بہت برا پھندا لگا حانم نے فوراً پانی کا گلاس س اس کی طرف بڑھایا جسے وہ فٹافٹ پکڑ کے گھٹک گیا
یہ سوچیں تمہے آتی کہاں سے ہیں ؟؟؟ درد ہوتے گلے سے اس نے بامشکل پوچھا
افکورس ون اینڈ اونلی دی گریٹ گریٹ نورِ حانم کے دماغ سے
ویسے میں نے سوچا ہے آج دی کھڑوس آئی مین دی گریٹ ساحر سائیں نے مجھے پاستہ بنا کر کھلایا ہے تو میں بھی گاجر کا حلوہ بنانا سیکھ کر ضرور کھلاؤ گی وہ یہ کہہ کر اپنی پلیٹ سنک میں رکھتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی
جبکہ وہ اس کے جانے کے بعد اس کی خالی کرسی کو دیکھتا رہ گیا
حانم کا خود پر رعب جمانا اسے بالکل برا نہیں لگتا تھا اس کی الٹی سیدھی حرکتیں اسے عزیز تھی مگر اسے گھر والوں کا اپنے ساتھ سرد رویے پر خوف اتھا تھا۔۔۔
اور پھر جس بات کا ڈر تھا وہ ہی ہوا جب آنسہ بیگم نے اسے آکر بتایا کہ زاویار آرہا ہے اور اس کے ایک ہفتے بعد اس کا نکاح نورِ حانم سے کردیا جائے گا
اس رات نہ ساحر سویا تھا نہ ہی آنسہ بیگم وہ اپنے بیٹے کو دکھ میں دیکھ کر کیسے سو سکتی تھی
مگر جب اسے پتا لگا کہ حالہ بیگم کی خواہش ہے کہ حانم کا رشتہ اس کی رضامندی سے کیا جائے تو اس کے دل میں آس تھی جو اگلے ہی دن آغا سائیں کی بات پر ختم ہوگئی کہ حانم اس رشتے پر راضی ہے
رہی بات زاویار کی جب ساحر زاویار سے ملا تھا اسے بہت مغرور لگا جہاں رہی بات حسن و وجاہت کی وہ تو میروں کو وراثت میں ملا تھا
سفید رنگت اونچا لمبا قد اور چوڑے شانے ایبروڈ کی ڈگری اور گاؤں کے مستقبل کا سردار غرور تو پھر آنا ہی تھا
مگر دونوں میں ہی پہلی ملاقات بالکل بھی اچھی نہیں تھی جس طرح زاویار نے ساحر کو جھتلایا تھا کہ وہ ان کے ٹکڑوں میں پل رہا ہے
اگر اس کا تعلق حانم سے نہ جڑا ہوتا تو وہ اسے اچھے سے بتاتا کہ وہ کیا ہے
مگر ہر شہ کی طرح یہ بات بھی ساحر درگزر کرگیا
ان کے نکاح سے ٹھیک ایک دن پہلے اسے ایک ضروری کام سے جانا پڑا گو کہ کام زیادہ بھی ضروری نہیں تھا مگر اسے تو صرف ایک بہانہ چائیے تھا جو اسے مل گیا
اس نے سوچا تھا جب وہ حویلی جائے گا ہر طرف قہقہے اور کھکھلاہٹوں کا دور چل رہا ہوگا وہ بھی مسکراتی تتلی کی طرح ادھر اّدھر اڑتی پھر رہی ہوگی اور وہ اسے خوش دیکھ کر اس دل کو سمجھا لے گا
مگر اس کی سوچ کے برعکس حویلی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی دوپہر کا وقت تھا بارش اب قدرے ہلکی ہو چکی تھی وہ لان کی دوسری طرف سے حویلی میں داخل ہوا سامنے کا منظر اس کے قدموں کو زنجیر کر گیا
نورِ حانم سیاہ لباس میں اس وقت مکمل بارش میں بھیگی لان کے بیچ و بیچ کھڑی تھی
حانم کو بارش بہت پسند تھی اتنی کے سردیوں کی بارش میں بھی وہ کسی کی نہ سنتی
ساحر نے آنکھیں میچ کی وہ پہلے بھی اسے دیکھنے پر احتیاط برتتا تھا مگر اب تو وہ کسی اور کی ہوچکی ہے
ساحر کو اسے دیکھ کر ایک شعر یاد آیا جسے اس نے زیر لب دہرایا
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں۔
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہوگی
ساحر نے بھی ہاتھ بڑھا کر ان بارش کے قطروں کو تھمنا چاہا مگر وہ پھلتی ہوئی اس کی مٹھی سے جدا ہوگئی جیسے نورِ حانم!!!
محبت تو بارش ہے
جس سے چھونے کی تمنا
ہر کوئی رکھتا ہے ۔زید
مگر ہاتھ ہمیشہ خالی رہ جاتے ہیں
حانم کو ایک ہی جگہ کافی دیر سے بغیر ہلے کھڑے دیکھ کر ساحر کو تشویش ہوئی اس لیے اس نے قدم حانم کی طرف بڑھائے
صنم سائیں صنم جی جی آدی سائیں علینہ کے چھوتی دفعہ جھنجھوڑ کر بلانے پر صنم کو ہوش آیا کہاں کھوئی ہوئی ہو تم صنم ہوش ہے کب سے دودھ ابل رہا
صنم نے آگے ہوکر دیکھا دیکچی میں دودھ پک پک کر آدھا رہ گیا تھا
می۔میں ٹھیک ہوں
ادی سائیں
ہممم بولو صنم
ادی سائیں اگر آپ سے مزاق مزاق میں کسی کا بہت بڑا نقصان ہوجائے تو اس کا گناہ ملتا ہے
صنم نے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا
پہلی بات تو ایسا مذاق کرنا ہی نہیں چاہیے جس سے کسی کو نقصان ہونے کا خدشہ ہو
دوسری بات تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو کیا کیا ہے تم نے؟؟
علینہ نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
نہیں وہ نہ مجھ سے مزاق مزاق میں سونیا ادی سائیں کی ڈریس خراب ہوگئی تو کیا ہوا تم ان سے معافی مانگ لوں سمپل!!!
وہ معاف کردیں گی
افکورس اگر پھر بھی ناراض رہی تو اخضر ادا سائیں کے ساتھ جا کر اس کے لیے نیا ڈریس لے آنا
جھلی علینہ نے صنم کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی اور اپنے کام میں مگن ہوگئی
میں معافی مانگ لوں گی اوکے بائے اینڈ تھینک یو آدی سائیں وہ علینہ کا گال کھینچ کر بھاگ گئی
ہممم پاگل علینہ مسکرا کر رہ گئی
سونیا صنم کو حانم کے کمرے کی طرف جاتے دیکھ کر چونکی
صنم تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟
سونیا کی آواز پر صنم اچھلی
وہ ۔وہ میں میں حانم ادی کو سب سچ بتانے جارہی ہوں
سونیا کے ماتھے پر تیوریاں چڑھیں
پھر وہ صنم کو بازو سے پکڑے اپنے کمرے میں لے گئی
کیا سچ بتانے جا رہی تھی تم ہاں بولو
سونیا ادی مجھے انہیں اس دن کی سب باتیں بتانیں ہیں ہانی آپی کی قصور وار ہوں میں زاوی لالہ کو ہماری وجہ سے غلط فہمی ہوئی تھی ۔۔۔۔
مزاق ۔۔۔۔
سونیا کو ان کے نکاح سے ایک دن پہلے کا منظر یاد آیا
سونیا نے جب سے زاویار کو دیکھا تھا اسے حانم سے حسد ہورہا تھا حانم ہر چیز میں اس سے آگے تھی پڑھائی دوسرے کام اور اس کی خوبصورتی نے جلتی پر تیل کا کام کیا رہی کثر آغا سائیں کا اس سے بے انتہا لاڈ پیار اور اب وہ اس گاؤں کے سردار کہ بیوی بن کر بیگم سردار بن جائے گی
نہیں یہ کیسے
سونیا اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر کھڑی ہوگئی اس کا کمرہ لان کے ساتھ اٹیچ تھا
ہاں یار بول
ہممم ابھی تو آنا مشکل ہے ارے یار آغا سائیں میرا نکاح کر رہے ہیں
ارے یار میرا کوئی ریلیشن تو تھا نہیں اس لیے میں ہاں کردی
دیکھا!!!! نہیں یار ابھی تو نہیں دیکھا اب تو دو دن رہ گئے ہیں اب نکاح کر ہی ملاقات ہوگی
ہاہاہاہا زیادہ بکواس نہ کر
مقابل کی کسی بات پر قہقہ لگا کر فون بند کر گیا
سونیا نے حسرت سے اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھا
صنم کیا کر رہی ہو
سونیا نے صنم کو پکارا جو پھولوں کو جمع کیے نہ جانے کیا کر رہی تھی
جی سونیا ادی صنم نے اسے دیکھا ادھر آؤ پھر بتاتی ہوں
جی صنم ہاتھ جھاڑتی سونیا کے ساتھ آئی جو اسے لان میں لے آئی تھی
ہم نے نہ زاویار سائیں کو تنگ کرنا ہے
تنگ زاوی لالہ سائیں کو کیوں ؟؟ صنم نے نا سمجھی سے کہا
ارے بدھو زاویار سائیں نے ابھی تک حانم کو نہیں دیکھا ہم نہ ان کے سامنے حانم کو بد صورت مطلب حانم کے لیے الٹی سیدھی باتیں کریں گے اور پھر کل نکاح پر وہ وہ حانم کو دیکھیں گے تو شوک ہوجائیں گے
صنم کے چہرے پر بھی شرارتی مسکراہٹ آئی
ٹھیک ہے آدی سائیں
زاویار اپنے دوست سے بات کرکے ادھر لان میں بیٹھ گیا
جب اسے اپنے پس سے سے سونیا اور صنم کی آوازیں آئیں
یار زاویار سائیں کیسے گزارا کریں گے حانم کے ساتھ زاویار سائیں اتنے پیارے اور پڑھے لکھے اور کہاں ان پڑھ حانم نہ ڈھنگ کا کھانا بنانا آتا یے اور نہ ہی دوسرے کام اوپر سے اتنی موٹی
سونیا نے صنم کو آنکھ ماری
کیا بتاؤں سونیا ادی مجھے خود زاوی لالہ سائیں کے لیے اتنا برا لگ رہا ہے حانم آپی تو کسی کو منہ نہیں لگاتی
آغا سائیں کو بھی اتنی عزیز ہے اپنی پوتی کہ اسے سامنے رکھنے کے لیے زاویار سائیں کے گلے کا ڈھول بنانے لگے ہیں
وہ دونوں تو وہاں سے چلی گئی مگر پیچھے زاویار کے دل و دماغ کو بالکل بدگمان کرگئیں
تم اگر یہ ساری باتیں حانم کو بتاؤ گی تو وہ تمہے معاف کردے گی
نہیں ہرگز نہیں
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے مگر میں ضمیر کے اس بوجھ
کو نہیں اٹھا سکتی اس سے پہلے صنم وہاں سے جاتی سونیا کی آواز پر اس کے قدم تھمے
یہ۔یہ آ۔آپ کیا کہہ رہی ہیں سونیا ادی
تم ساحر سائیں کو پسند کرتی ہو نا
اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا
سچ کہہ رہی ہوں میں اور مجھ سے چھپانا مت تمہارے کمرے میں پڑھیں ڈائری پر بڑا بڑا لکھا ساحر سائیں اس بات کی گواہی ہے کہ تمہارے دل میں اس کے لیے کچھ ہے
دیکھو صنم اگر تم نے یہ مزاق والی بات حانم کو بتائی تو ساحر سائیں۔ کو بھی پتا لگ جائے گی اور تم انہیں کھو دو گی تم نے ہی بتایا تھا نہ ساحر سائیں نے بھولے کو صرف حانم کا نام بگاڑنے پر کتنا مارا تھا
اس لیے اگر تم ساحر سائیں کو نہیں کھونا چاہتی تو یہ بات یہی دبا دو یہ بات تمہیں اور مجھے نہیں پتا ہے
میں کسی کو نہیں بتاؤ گی
صنم کی نظر کھڑکی سے باہر لان میں کھڑے ساحر اور حانم پر پڑی جو دونوں ہی بارش میں بھیگے ہوئے تھے
اس کے دل کو کچھ ہوا
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
