Rate this Novel
Episode 26
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 26
ثمرین شیخ
یار عینی اداس کیوں ہو رہی ہو یار ایک ہفتے کی ہی تو بات ہے ویسے بھی تم لوگوں نے بھی تو پاکستان آجانا ہے آیک آدھ دن تک آفٹر آل تمہاری بیسٹی کی شادی ہے حانم نے عینی کو گلے لگایا
نور میں تمہے بہت مس کروں گی میری زندگی میں بہت کم لوگ ہیں جو میرے لیے بہت خاص ہیں اور تم ان میں سے ایک ہو
آووو اب رولاو گی کیا پگلی حانم نے عینی کے گال کھینچے
مس نور زاوی سر آپ کو بلو فائلز کے ساتھ اپنے آفس میں بلا رہے ہیں
اتنے میں حانم کے کالیگ نے نور کو آکر بتایا
بے ساختہ ہی حانم کے ماتھے پر بل پڑے
اچھا میں آتی ہوں
اپنے ڈیسک سے بلو فائلز پکر کر حانم نے گہرا سانس لیا
اور زاوی کے کیبن کی طرف بھر گئی
مے آئی کم ان سر ؟؟؟
نور حانم کی آواز پر اپنی چئیر پر ریلیکس سا بیٹھا زاویار سیدھا ہوا
یس مس نور کم ان اینڈ سٹ
حانم اس کے سامنے والی چئیر میں جاکر بیٹھ گئی اور زاویار کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑی
یہ لیں سر بلیو فائل میں نے یہ کمپلیٹ کردی ہے اینڈ جو ڈی ۔جی انڈسٹری کے پیپرز تھے اور جو پرنٹ کروانے کے لیے ڈاکومنٹس دئیے تھے ہو میں نے خان سر کے آفس میں رکھ دئیے ہیں آگے اجازت ہو تو میں جاؤ انتہائی پروفیشنل انداز میں اسے بریف دے کر حانم نے اجازت مانگی وہی دوسری طرف زاویار بے چین ہوا
پلیز نور میری بات سنو زاویار نے اپنے ٹیبل پر پڑی فائلز سائیڈ پر کرکے حانم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا چاہا جب حانم نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا
بی ان یور لمٹ مسٹر زاویار
آئی ایم سوری،،،،
آخر کس کس چیز کی معافی مانگے گے آپ مسٹر زاویار حانم نے آنکھیں بڑی کرکے پوچھا
حانم میں اپنی بات پر شرمندہ ہوں مجھے ایسے نہیں کہنا چائیے تھا
زاویار نے صلح جو انداز میں کہا
مگر مجھے تو آپ کے لب و لہجہ سے کہیں شرمندگی نہیں جھلکتی محسوس ہورہی
خیر بائے دا وئے آپ کو یہ بتانا تھا کہ میں کل جارہی ہوں پاکستان
پاکستان واپس مگر کیوں نور؟؟؟ زاویار کے لہجے میں پریشانی اور بے چینی دونوں ہی تھے
میری فیملی ہے ادھر میری مما سا ۔۔۔ مما کی طبیعت نہیں صحیح اس لیے میں ادھر جارہی ہوں کیوں آپ کو کوئی پرابلم ہے ؟ اگر ہے تو آئی ڈونٹ کئیر کیونکہ خان سر مجھے لیو دے چکے ہیں
حانم نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا
نور تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہی ہو
زاویار کی تھکی بے بس سی آواز آئی
ایک پل کو حانم نے بھی اپنی سرخ ہوتی بھوری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا جو زیادہ دیر حانم کی انکھوں میں نہیں دیکھ سکا
میں کیا کر رہی ہوں مسٹر زاویار
کین یو پلیز اکسپلین ؟؟؟؟
تم مجھے کیوں اگنور کر رہی ہو نہ میرے میسج کا
رپلائے کرتی ہو نہ ہی میرے پرپوزل کا واضح جواب دیا ہے
اور اب پاکستان جارہی ہو میں کسیے رہوں گا نور میرے لیے تو تمہارے بغیر گزارے پچھلے دو ہفتے سوہان روح تھے اب تم پھر جانے کی بات کر رہی ہو۔۔۔۔
فرسٹ آف آل آپ کو ایسا کیوں لگا کہ میں اگنور کر رہی ہوں دوسرا میں ہر آن ناؤن نمبر کے میسج کا رپلائے نہیں کرتی
اور تیسری اور سب سے اہم بات پرپوزل تو آپ نے مجھے دے دیا مگر کہاں ہے آپ کی فیملی
کہاں ہے آپ کے پیرنٹس کو باقاعدہ رسم کے ساتھ میرے گھر رشتہ لے کر آتے
بتائیں مسٹر زاویار ؟؟
میرے پرپوزل کا میرے گھر والوں سے کیا تعلق ہے
زاویار نے حیرانی سے پوچھا
واؤ مسٹر زاویار واؤ
میں ایک عزت دار گھر سے تعلق رکھتی ہوں وہاں ایسے لڑکے کا کھلے عام لڑکی کو پرپوز کرنا بے غیرتی سمجھا جاتا ہے وہاں ایسے رشتے نہیں ہوتے اور آپ بات کرتے ہیں پرپوزل کی
حانم نے طنزیہ تالی بجائی
آج کے بعد اپنے گھر والوں سے بات کیے بغیر مجھ سے پانے سو کالڈ پرپوزل کے جواب کا مت ہی پوچھیے گا
تو تمہے کیا لگتا ہے میں عزت دار گھر سے تعلق نہیں رکھتا زاویار نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر کہا
آئی ڈونٹ نو میں نے آپ کو کبھی اتنا جاننے کی کوشش نہیں کی پر سکون انداز میں اسے جواب دیتی حانم اس کے کیبن سے باہر نکل گئی
میں گھر کیا کہوں گا
زاویار مسلسل اسی بات کو سوچ رہا تھا
کیا گھر والے اس کا فون بھی اٹھائیں گے
زاویار نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ اتنا بے بس بھی کبھی ہوگا ۔۔۔۔۔
یہ سب میری اس سو کالڈ کزن کی وجہ سے ہوا ہے اسی کی وجہ سے میرے گھر والے مجھ سے دور ہوگئے ہیں
کیا تھا اگر میں نے اپنی پسند کی ہم سفر کی خواہش کرلی تھی اسے ہی میرے متھے مارنے کی پڑی تھی
زاویار کو اپنی اس غائبانہ کزن سے شدید نفرت محسوس ہوئی
افف نور حاکم تمہے تو میں ہا کر ہی رہوں گا تم میری محبت کے ساتھ ساتھ ضد بھی ہو اب تمہارا یہ ہی ایٹیٹیوڈ تمہے سب جدا اور منفرد بناتا ہے تمہارے لیے کچھ بھی کروں گا
بھابی سائیں کیا کہ رہی تھی حانم کیا اسے کوئی اعتراض ۔۔۔۔۔ آنسہ بیگم نے حالہ سے حانم کے جواب کے بارے میں استفسار کیا
جی ادی سائیں میری ہوئی تھی حانم سے بات اسے کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ لوگ تو کل ہی آرہے ہیں واپس
ارے یہ تو بہت اچھی بات ہے حالہ میں بہت خوش ہوں اللہ سائیں ہمارے بچوں کو بھی سدا خوش رکھے ۔۔۔۔
آفس میں ایک مصروف دن گزارنے کے بعد حانم گھر آئی
اب اس کا رخ ساحر کے فلیٹ کی طرف تھا جو آج اپنی مصروفیت کی وجہ سے آفس نہیں آیا تھا
ساحر کی نئی مصروفیت ایس کے انڈسٹری کی ایک اور برانچ کھولنا ہے یہ خواہش تو ساحر کی پہلے کی تھی مگر پیسے اور وقت کی قلّت کی وجہ سے وہ اس پر کام نہیں کر پارہا تھا اب چونکہ اس کے پاس وقت بھی تھا اور پیسہ بھی اس لیے وہ فرانس کے دوسرے شہر میں بھی اپنی انڈسٹری کی برانچ کھولنا چاہ رہا تھا جس پر کام زوروں شور سے ہورہا تھا ۔۔۔
خان سائیں حانم رخصتی کے لیے مان گئی ہے آنسہ بیگم نے مسکراتے ہوئے حماد خان کو بتایا
یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر آپ لوگ تیاریاں شروع کریں اور جنہیں جنہیں بلانا ہے اس کی لسٹ تیار کریں پھر ہم حویلی چلیں گے انویٹیشن دینے حماد خان نے کہا تو آنسہ بیگم کی مسکراہٹ تھمی
نہیں خان سائیں
میں اس حویلی میں نہیں۔ جاؤں گی اور نہ ہی ان لوگوں کو اپنے بچے کی شادی پر بلاؤ گی انہوں نے ہمیشہ میرے خان کو حقارت آمیز لہجہ میں مخاطب کیا ہے
مگر آنسہ وہ صرف ہماری بیٹے کے رشتہ دار نہیں ہیں
ہماری بہو کے بھی کچھ لگتے ہیں ہم نہ سہی مگر حانم
کا تو ان کے ساتھ بہت گہرا رشتہ ہے آغا سائیں اس کے
دادا لگتے ہیں اس کے دونوں تایا اور تائی سائیں اس کی کزنیں کیا حانم کو دکھ نہیں ہوگا جب ان میں سے کوئی نہیں ہوگا
وہاں
آپ بھول گئے ہیں خان سائیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مجھے دکھ دینے کے ساتھ ساتھ حانم کو بھی دکھ دیا اس پر بھی بہتان لگائگ مگر فرق صرف اتنا تھا کہ وہ مجھ جیسی ڈرپوک نہیں۔ تھی اس نے ثابت کیا کہ وہ نور حانم ہے اپنے اوپر غلط الزام پر اٹھی انگلی کو توڑ بھی سکتی ہے اور اکھاڑ بھی اور جہاں رہ گئی ان لوگوں کو بلانے کی بات تو اگر حانم چاہے گی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ حانم کی خوشی مجھے خود سے بڑھ کر عزیز ہے
حانم پلیٹ میں بریانی ڈال کر ساحر کے لیے لے گئی اسے پورا یقین تھا کہ ساحر نے کچھ نہیں کھایا ہونا
ساحر کے فلیٹ کا دروازہ ان لاک کرکے حانم اندر آئی اور سیدھا ساحر کے کمرے کی طرف بڑھی اور توقع کے عین مطابق ساحر اپنی سرمئی آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے اپنے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپنگ کرنے میں مشغول تھے
اہممم اہممم حانم نے گلا کھنکھارا مگر کوئی رسپونس نہیں
اہم اہمممممم
حانم نے ایک دفعہ پھر زور سے گلا کھنکھارا تو ساحر نے بنا اس کی طرف دیکھے اپنی دائیں ہاتھ کے پاس پڑے ٹیبل سے پانی کا گلاس پکڑا کر حانم کی سمت بڑھایا
حانم نے دانت کچکائے پھر ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ لائے
وہ بالکل ساحر کے سامنے ہی بیٹھ گئی
ساحر سائیں نرم میٹھا لہجہ
ساحر کے کان کھڑے ہوئے مگر نظر لیپ ٹاپ سکرین پر تھیں
ساحر سائیں!!!!
ساحر نے نا محسوس انداز میں آنکھیں ترچھی کیں
حانم اپنی آنکھیں پٹپٹائے وہ اسے اپنی طرف متوجہ کرنے پر تّلی ہوئی تھی ۔۔۔
حانم نے گہرا سانس لیا اس بار اس نے لیپ ٹاپ بند کرنے کی بجائے ساحر کی آنکھوں سے اس کا چشمہ ہی اتار لیا
نورِ ساحر میں بہت امپورٹنٹ کام کر رہا ہوں
مجھے گلاسس دے دو
امپورٹنٹ کام بعد میں پہلے یہ گرما گرم بریانی کھائیں میں نے خود اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔۔۔ پلیٹ میں ڈالی ہے حانم نے فرضی کالر جھاڑ کر کہا
یار بھوک نہیں ہے
پر مجھے تو تھی مگر آپ نے نہیں کھانی تو ٹھیک ہے میں اٹھا لیتی ہوں سامنے حانم ہو اور اگلا بندا بات نہ مانے
تم نے ڈنر نہیں کیا نور ساحر نے سنجیدگی سے پوچھا
نہیں نہ میں نے ہم دونوں کے لیے بریانی بنائی آپ کو پتا تو ہے مجھے اکیلے کھانے کی عادت نہیں ہے
اچھا بیٹھو میں زرا فریش ہوکر آیا
پانچ منٹ بعد ساحر فریش ہو کر آیا پھر دونوں نے کھانا شروع کیا
واہ بریانی ٹیسٹی تھی مگر جو سپائیسی بریانی آنسہ پھوپھو سائیں بناتی ہیں اس کا کوئی جواب نہیں۔ ۔۔۔
ہممم مورے کے ہاتھ کی بریانی تو میں خود مس کر رہا ہوں
ساحر نے پانی کا گلاس پکڑ کر کہا ۔۔۔۔
اچھا نور اب دو مجھے گلاسس میں نے ابھی اور کام بھی کرنا ہے
نہیں بالکل بھی نہیں مجھے بالکل بھی اچھی نہیں لگتی یہ گلاسس آپ کی سرمئی آنکھیں ہی چھپ جاتی ہیں حانم نے منہ بنایا
اچھا نہ ابھی کے لیے دے دو
فریم لیس گلاسس اس کی سرمئی آنکھوں پر بہت جچ رہیں تھیں مگر حانم کو تو صرف سرمئی آنکھیں ہی پسند تھیں
یہ لیں حانم نے منہ بسور کر اسے گلاسس تھمائی
پھر اٹھ کر پلیٹس کیچن میں رکھ کر واپس اس کے کمرے میں آئی
ویسے ساحر سائیں آپ کتنے کنجوس ہیں اتنا ٹائم ہوگیا مجھے یہاں آئے ہوئے آپ ایک دفعہ بھی مجھے پیرس کی خوبصورت جگہوں پر گھمانے نہیں لے کر گئے
حانم نے شکوہ کیا مگر ساحر ابھی بھی اپنے کام میں محو تھا۔۔۔
حانم ایک شکوہ کناں نظر ساحر پر ڈال کر وہاں سے اٹھ گئی
اس کے جانے کے بعد ساحر نے ایک بند دروازے کی طرف دیکھا اور اپنی گلاسس اتار کر گہری سانس ہوا کی طرف سپرد کی پھر اپنا فون اٹھا کر مطلوبہ جگہ پر ملایا
ہیلو ہاں جو میں نے کہا تھا وہ سب تیار ہے
میں نور کو سرپرائز دینا چاہتا ہوں
جاری ۔۔۔۔۔۔
