Rate this Novel
Episode 4
تم مکمل بھیگ چکی ہوں تمہارا یہاں پر کھڑا رہنا مناسب نہیں ہے
ساحر کی آواز پر نورِ حانم نے چونک کر اسے دیکھا
کیا ؟؟؟؟ اسے سمجھ نہ آئی کہ ساحر نے اسے کیا کہا ہے
جی ؟؟؟ حانم نے پھر نا سمجھی سے اسے دیکھا
اتنی خوشی ہے نکاح کی اس موسم کی بارش میں بھیگ رہی ہو
ساحر خود کو باور کروانے کی غرض سے بولا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اپنے الفاظ سے وہ حانم کو کتنی بڑی اذیت دے چکا ہے
نکاح!!! حانم نے زیر لب کہا
ہاں نکاح سوری مجھے دوسرے شہر جانا پڑگیا تھا نہیں تو تمہاری خوشی میں ضرور شرکت کرتا ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے اس کے غم سے بے خبر بول رہا تھا
ساحر سائیں۔۔۔۔ جانے کیا تھا اس کی پکار میں ساحر ساکت ہوا
آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کبھی ہم سے غافل نہیں ہوئے
میں۔۔۔۔ خیر ویسے نکاح کی مبارکباد دے رہے تھے
خیر مبارک!!!
یہ کہہ کر خاموشی سے وہاں سے چلی گئی
ساحر پریشان سا کھڑا رہ گیا
ایسا کیا ہوا ہے جو حانم اس پر اتنا گہرا طنز کر گئی تھی
کوئی صلح کرا دے زندگی کی الجھنوں سے
بڑی طلب لگی ہے ہمیں بھی آج مسکرانے کی
پیرس !!!!
ہے یار کیسا ہے تو اور کب آیا مجھے ابھی اپنی پی اے سے پتا لگا زارون آکر زاویار کے گلے ملا
میں ٹھیک ہوں میں کل ہی آیا ہوں
اچھا ڈائرکٹ پاک سے پیرس ہممم اور سنا بھابھی کیسی ہیں ؟؟؟
نہیں پاک سے آئے ڈیرھ ہفتہ ہوگیا ہے
لندن میں تھا کل ہی پیرس آیا ہوں
کیا ڈیرھ ہفتہ کیا نکاح کے اگلے دن ہی اٹھ کے آگیا تھا زارون نے دو کپ کافی اوڈر کرکے اس کے پاس آفس میں لگی گلاس ونڈو کے پاس آ کر مزاحیہ انداز میں کہا
نہیں نکاح والی رات ہی
زارون نے چونک کر زاویار کے چہرے پر دیکھا مگر اسے مزاق کی کوئی رمک تک نہیں نظر آئی
تو کیا کہہ رہا ہے زاویار مطلب اتنی بھی کون سی آفت آگئی تھی جو تو اپنی اپنے نکاح والی رات ہی واپس آگیا
کیا سوچتی ہوں گی بھابھی
وہ تیری بھابھی نہیں ہے
آف کورس وہ میری بھابھی ہے
مگر اب نہیں ہے
زارون زاوی کی فضول بات پر جھنجھلایا
کیا مطلب؟؟؟
۔۔۔۔
زاویار ریلیکس انداز میں کرسی سے ٹیک لگائے گھونٹ گھونٹ کافی پی رہا تھا جبکہ زارون مسلسل آفس روم میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا
تجھے تجھے اب میں کیا کہوں کمینے تو اسے طالاق دے آیا ہے تو کیسے ایسا کرسکتا ہے زاویار
کیوں نہیں کر سکتا آغا سائیں نے میری انا کو للکارا ہے
انہیں کیا لگتا ہے میں ان کی دولت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا
زاویار بھی آپے سے باہر ہوکر چیخا
زاویار کو وہ دن یاد آیا
جب آغا سائیں نے اسے بتایا تھا کہ وہ اسے گاؤں کا سردار بنانے کے ساتھ اس کا نکاح اس کی کزن کے ساتھ کر رہے ہیں
سردار والی بات پر وہ خاموش ہوگیا حالانکہ اس کا مستقبل میں اس گاؤں میں رہنے کا کوئی موڈ نہیں تھا پھر بھی وہ فلحال خاموش ہوگیا
مگر دوسری بات پر اس نے آغا سائیں کو صاف منع کردیا اس نے ابھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور ابھی سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
میر زاویار سائیں کیا تم کسی کو پسند کرتے ہو ؟؟؟
آغا سائیں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا
نہیں آغا سائیں ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں ۔۔۔۔۔
تو پھر انکار کرنے کی وجہ ؟؟؟ انہوں نے اسے بھی میں ٹوک کر کہا
میں ابھی شادی کے لیے تیار نہیں ہوں آغا سائیں
کیوں تم کوئی دودھ پیتے بچے ہو ان کا۔طنز سے بڑا تیر اسے چبھا
ماشاءاللہ سے پڑھ لکھ لیے اور اللّٰہ سائیں کے کرم سے اسی ہفتے تمہیں گاؤں کی زمہ دادی بھی سونپ دیں گے
اس لیے کوئی معقول وجہ بتاو آغا سائیں نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا
آغا سائیں کیا ہے نہیں کرنی نہ مجھے شادی
بغیر کسی معقول وجہ کے تم مجھے انکار نہیں کرسکتے میر زاویار سائیں اور دوسری بات تمہے یہ خوش فہمی کیوں ض1 ہوگئی کہ ہم تمہاری شادی کر رہے ہیں ابھی بس ہم تمہارا نکاح اپنی نورے کے ساتھ کریں گے
رخصتی ابھی نہیں ہوگی
صرف نکاح !!!!
زاویار نے پر سوچ انداز میں انہیں دیکھا
ہمممم۔۔۔
ٹھیک ہے میں اس نکاح کے لیے راضی ہوں
(جب میں کسی کو پسند نہیں کرتا تو کیا فرق پڑتا ہے
آپ ے خاندن کی لڑکی ہے اچھی ہی ہو گی )
اس نے دل میں سوچا
آغا سائیں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ہمیں تم سے یہ ہی امید تھی میر زاویار سائیں آغا سائیں نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی
دن تیزی سے گزر رہے تھے کل اس کا نکاح تھا حانم سے جس سے ملے ہوئے بھی اسے دس سال ہوگئے تھے اور وہ اسے اتنی خاص یاد بھی نہیں تھی
حویلی میں موجود ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی ہونے والی منکوحہ سے مل نہ سکا
چلو کل ہی سہی اتان بھی اسے کوئی شوق نہیں تھا ملنے کا
اپنے دوست سے فون میں بات کرنے کے بعد وہ لان میں لگی کرسیوں میں ہی بیٹھ کر اپنے بزنس پلینز سوچ رہا تھا
جب اسے صنم اور سونیا کی سرگوشیاں سنائیں دیں
ان کی سرگوشیاں اسے صاف سنائیں دے رہی تھیں خاص طور پر حانم کا زکر سن کر اس کے کان کھڑے ہوگئے
کہاں حانم کہاں زاویار
وہ ان پڑھ تو وہ پڑھا لکھا
اور بہت سی باتیں زاویار کا دل بدگمان ہونے لگ پڑا ابھی وہ وہاں سے اٹھتا سونیا کی اگلی بات پر اس کے قدم تھمے
نا جانے اس میں ایسی کیا کمی ہے جو آغا سائیں اسے زاویار سائیں کے گلے کا ڈھول بنانا چاہتے ہیں
وہ لوگ تو وہاں سے چلی گئیں تھیں مگر زاویار کا دل مکمل بے زار اور بدگمان کر گئیں تھیں
نہیں ہر گز نہیں میں کسی پوہڑ لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا میں کسیے اسے اپنے سوشل اور بزنس سرکل میں انٹروڈیوز کرواؤ گا
مجھے ایک ایسی بیوی چائیے جو میرے شانا بہ شانہ ہو کر چلے یہ سلی حانم نہیں میں ابھی آغا سائیں سے بات کرتا ہوں
ابھی وہ آغا سائیں کے کمرے میں جاتا راستے میں اسے روتی ہوئی سونیا مل گئی
کیا ہوا سونیا تم تو کیوں رہی ہو ؟؟؟
رہنے دیں میں ٹھیک ہوں
پھر بھی بتاؤ تو سہی
زاویار سائیں آپ خواہ مخواہ ہی پریشان ہورہیں ہیں کچھ نہیں ہوا مجھے
سونیا،،،،،
زاویار اس کے بار بار انکار کرنے پر چڑتا ہوا وہاں سے جانے لگا جب سونیا بولی
وہ میں حانم کو مہندی لگانے گئی تھی تو اس نے مجھے جھٹک کر کمرے سے نکال دیا کہ رہی تھی اس کے پاس ان فضولیات کا وقت نہیں ہے
پہلے تو زاویار کا دل کیا وہ اندر جا کر دیکھ ہی لے اس
بد تمیز لڑکی کو مگر اپنا ارادہ بدلتا وہ آغا سائیں کے کمرے کی جانب بڑھا
آؤ زاویار سائیں بتاؤ کیسے آنا ہوا۔۔
آغا سائیں میں آپ سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں
ہمم۔بتاو میں سن رہا ہوں آغا سائیں مکمل اس کی جانب متوجہ ہوئے
آغا سائیں میں یہ نکاح نہیں کرسکتا اپنی بات کہ کر اس نے آغا سائیں کی طرف نظر اٹھائی وہ بالکل سپاٹ انداز میں اسے دیکھ رہے تھے
اپنے کمرے میں جا کر آرام کریں میر زاویار سائیں کل کا دن خاصا تھکا دینے والا ہوگا آپ کے لیے گاؤں کے بڑے لوگ بھی آپ سے مل کر آپ کو نکاح کی مبارکباد دیں گے
میں آپ سے کیا کہ رہا ہوں آغا سائیں آپ اپنی ہی بولے جارہے ہیں زاویار کی آواز تیز ہوئی
آواز نیچی رکھیں میر زاویار سائیں کیا آپ بھول گئے ہیں آپ کس سے مخاطب ہیں
میں بہت اچھے سے جانتا ہوں میں کس سے مخاطب ہوں
گاؤں کے ظالم سردار سے جنہیں بس اپنے فیصلے سنانے آتے ہیں دوسروں کی زندگی جائے بھاڑ میں لفظوں میں گستاخی شامل ہوئی
کون سی زبردستی تم سے پوچھ کر ہی ہم نے اس رشتے کے لیے ہاں کی تھی تم اب آج بتا رہے ہو جبکہ کل نکاح ہے
ہاں تو اب میں ہی انکار کر رہا ہوں نہیں کروں گا میں اس سے شادی
زاویار سائیں تمیز سے ہم نے تمہے چھوٹ دی ہے تو ہم تمہے باندھ بھی سکتے ہیں
کل تمہارا حانم سے نکاح ہوگا یہ ہی میرا آخری فیصلہ ہے
اس کی مسلسل بدتمیزی پر آغا سائیں کو طیش آئی
میں بھی دیکھتا ہوں کیسے کرتے ہیں آپ میرا اس سے نکاح مقابل کی انا کا بت بن کر ان کے سامنے کھڑا ہوا
اگر تم نے حانم سے نکاح نہ کیا تو میں تمہے جائیداد سے عاق کرودں گا
زاویار کے قدم تھمے
میر حاکم سائیں کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی
تمہارے باپ کا بھی باپ ہوں میں
کیا کرو گے خالی ہاتھ
زاویار کی انا پر گہری چوٹ تھی کہ وہ ان کے سامنے بے بس ہوا تھا
مگر وہ بھی جانتے میر زاویار نام ہے میرا جس نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا
نکاح کے ہوتے ہی حاکم سائیں کے چہرے سے پھوٹتی مسکراہٹ دیکھ کر زاویار طنزیہ ہنسا
اسے طلاق دیتے وقت تیرے دل میں ایک دفعہ بھی اس لڑکی کا خیال نہ آیا ایک دفعہ بھی تیرے ضمیر نے تجھے نہیں جھنجھورا کہ وہ تو اپنی انا کی تسکین کے لیے کسی کی زندگی برباد کرنے جارہا ہے اپنے دادا سے خودساختہ جنگ میں ایک لڑکی کے جزبات کو روندنے جارہا ہے۔۔۔۔۔۔
تو چاہتا ہے میں یہاں سے چلا جاؤ زاویار نے کرسی سے کھڑے ہوکر اپنے کوٹ کو جھاڑتے ہوئے خفگی سے پوچھا
خیر اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا تو بتا اب تو مجھ سے کیا چاہتا ہے ناراض ناراض لہجے میں بولا
میں تیرے بزنس میں پاٹنر شپ کرنا چاہتا ہوں اس لیے آیا ہوں میں
یار۔۔۔ مگر
کیا ؟؟؟ زاویار نے ائیبرو آچکائی
تو تو جانتا ہے نہ اس کمپنی کا میں اکلوتا اونر نہیں ہوں میرا دوست ہے ففٹی پرسنٹ شئیر کا مالک
ہاں تو تم اپنے شیرز کے خود مالک ہو اگر تمہے کوئی مسئلہ ہے تو بتا دو میں کچھ اور دیکھ لیتا ہوں
نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں تم تو جان ہو
میں پیپرز تیار کرواتا ہوں
اوکے بائے
حانم نہا کر باہر نکلی اپنے بال سکھا رہی تھی
جب صنم دروازہ کھٹکا کر اندر آئی
آؤ صنم بیٹھو
نہیں میں ٹھیک ہوں آپ کو آغا سائیں بلا رہے ہیں
سپاٹ سے انداز میں کہتی وہاں سے چلی گئی پیچھے حانم اس کا رویہ روڈ رویہ دیکھتی رہ گئی
اسے کیا ہوا ہے ؟؟ پھر سر جھٹک کر آغا سائیں کے کمرے کی طرف بڑھی وہاں سب بڑوں کو دیکھ کر اسے تعجب ہوا
آؤ نورے دادا سائیں کی نرم آواز سن کر وہ سب کو سلام کرتی اپنی ماما سائیں کے پاس صوفے پر جا کر بیٹھ گئی
ہمیں معاف کر دو حانم بچے ہمیں نہیں پتا تھا کہ زاویار کوئی ایسی حماقت کرے گا
آپ کو مجھ سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے بڑی مما سائیں تایا سائیں میں جس کی غلطی ہوتی ہے اسی کو سزا دینے کی قائل ہوں آپ۔مجھ سے معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں
حانم کی بات پر ثمینہ بیگم سائیں نے اس چادر سے ڈھکے سر پر پیار کیا
جیتی رہو میری بچی
داد سائیں آپ نے مجھے بلایا تھا
حانم آغا سائیں سے مخاطب ہوئی
ہمم نورے تم نے کہا تھا کہ تم ہمیں ایک ہی شرط پر معاف کو گی جب ہم تمہاری مانگ پوری کریں گے
نورے تم نے کہا تھا کہ تم نے اپنا خواب پورا کرنا چاہتی ہو
کیا مانگنا چاہتی ہو نورے ؟؟؟
میں فرانس سے اپنا ایم ۔بی۔ اے پورا کرنا چاہتی میری خواہش ہے کہ میں بزنس وومن بنوں اور اسلیے ہر گز نہیں کہ میں اپنے آگے سے “پینڈو ” کا دھبہ ہٹانا چاہتی ہوں بلکہ اس لیے یہ میرے باب سائیں کی خواہش تھی
اگر آپ لوگ چاہتے ہیں میں آپ لوگو کو معاف کردوں تو یہ ہے میری شرط
مگر حانم سائیں تم اکیلی
جاوید سائیں نے تعجب سے آغا سائیں کو دیکھا
چاچو سائیں بد تمیز پینڈو اور اب طلاق یافتہ جیسا ٹیگ بھی میں اکیلے ہی برداشت کر رہی ہوں
ہمیں منظور ہے
آغا سائیں کی رضامندی پر سب خاموش ہوگئے
تمہے مہینہ تو انتظار کرنا پڑے گا تمہارے ویزا اور یونیورسٹی کے داخلے کے لیے ڈوکومنٹس پورے ہونے میں
اس کی فکر مت کریں میرا اون لائن اینٹری ٹیسٹ ہوچکا ہے بس ویزے کے لے ابھی اپلائی کردوں گی تو ہفتے دو ہفتے تک وہ بھی ہوجائے گا
وہ تو جیسے سب تہہ کرکے بیٹھی تھی
ساحر کو جب حانم کی طلاق کا پتا لگا اسے سمجھ نہیں آیا وہ روئے خوش ہوئے یاں حانم کے دکھ میں افسردہ اور پھر اس کی فرانس جانے کی بات وہ بھی اکیلے
ساحر کچھ سوچتا ہوا آغا سائیں کے کمرے کی جانب بڑھ گیا
اور سناؤ کزن سائیں سنا ہے تم فرانس جارہی ہو پڑھائی کرنے لیے سونیا نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ویسے کیا فرق پڑتا ہے پیڈو کا ٹیگ تو لگ گیا سونیا بہت دھیمی آواز میں بولی کو صرف حانم کو ہی سنائی دی
ہاں حانم تم فرانس جارہی ہو مگر تم نے لندن میں نہیں اپلائی کیا تھ۔۔۔۔علینہ بولتے بولتے چپ ہوئی
آؤ تو پہلے سے ہی پلیننگ ہورہی تھی۔۔۔
حانم نے سونیا کو فراموش کرکے صنم کو پکارا
کیا کر رہی ہو صنم؟؟؟
آپ سے مطالب صنم نے لٹھ مار انداز میں کہا
صنم یہ کیسے بات کر رہی ہو علینہ نے صنم کو ڈپٹا
کیا غلط کہا ہے آدی سائیں ان کی وجہ سے اتنے سالوں بعد لالہ سائیں آئے تھے وہ واپس چلے گئے پتا نہیں اب کب واپس آئیں گے
ماما سائیں رات کو روتے ہوئے انہیں یاد کرتی ہیں
صنم۔۔۔۔بے یقینی سے کہتی حانم وہاں سے چلی گئی
اتنے لمبے سفر سے وہ فرانس کے شہر پیرس میں آئی تھی جسم تھکن سے چوڑ تھا اپنے پرس سے پلیٹ کے دروازے کی چابی نکالی اور دروازہ کھولا
واو۔۔۔۔۔
اٹس بیوٹیفل نفاست سے سجا دو کمروں کا فلیٹ ساتھ اٹیچ باتھ ٹیوی لاؤنج کی لیفٹ سائیڈ پر کیچن اور رائیٹ سائیڈ پر گلاس وال لگی ہوئی تھی وہ گلاس وال شاہد ٹیرس کو کھلتی تھی یہ امیرکن طرز سے بنا فلیٹاسے بہت پسند آیا تھا ۔۔۔۔ق
اپنا سارا سامان اور ٹیچی وغیرہ ٹیوی لاؤنج میں رکھ کر وہ ٹیرس کی طرف بڑھی سامنے کا منظر بہت خوبصورت تھا آسمان میں ہلکی ہلکی سرخی اور سرمئی چادر اوڑھے ہوئی آئفل ٹاور کی بلند و بالا عمارت خوبصورتی کی شاہ کار فیری لائٹ سے سجا ہوا تھا
نورِ حانم بالکل مہبوت ہو کر اس منظر کو دیکھ رہی تھی
“پیرس کی حسین گلیوں تمہے میروں کی نورِ حانم اسعد حاکم اپنا شرف بچشنے آئی ہے “
اتنا کہ کر وہ کھلکھلائی
نورِ حانم نے جہاں اپنے سامنے کے منظر کو مہبوت ہوکر دیکھا تھا
ٹھیک اوپری فلیٹ کے ٹیرس پر کھڑے ساحر نے اس کی کھکھلاہٹ کو مہبوت ہوکر دیکھا تھا
جاری ہے ۔۔۔۔
