Rate this Novel
Episode 17
منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 17
ثمرین شیخ
ساحر اور حانم کو ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے کافی وقت ہوگیا تھا حانم کا کندہ درد کر رہا تھا مگر وہ ہنوز بت بنی بیٹھی رہی جب ساحر کے کمرے کا دروازہ کھٹکا دونوں کو ہی ہوش آیا
ساحر اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھا جبکہ حانم وہاں سے تھوڑا سائیڈ پر ہوگئی تاکہ آنے والی کی نظر اس پر نہ پڑے ۔۔۔۔
ساحر سائیں وہ آپ کو آغا سائیں۔۔۔۔۔
اللّٰہ ساحر سائیں آپ کے ہاتھ سے تو خون بہہ رہا ہے صنم ساحر کے ہاتھ پر بندھی سرخ ہوتی پٹی کو دیکھ کر بوکھلائی
کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں تم کس لیے آئی ہو یہاں ہر ساحر نے سختی سے کہا وہ محسوس کر رہا تھا صنم اس کے معاملوں میں کافی دلچسپی لینے لگی ہے
وہ ۔وہ آغا سائیں بلا ۔۔رہے تھے
کیا انہوں نے تم سے کہا کہ مجھے بلاؤ
چہرے پر ہنوز سخت تاثرات قائم تھے
ن۔نہی۔ نہیں وہ ادا سائیں نے کہا
آج کے بعد تم مجھے میرے کمرے کے پاس نہ دیکھو
جج۔جی۔۔ صنم اپنے آنسو کو اندر دکھیلتی وہاں سے دوڑتی ہوئی چلی گئی
ساحر واپس کمرے میں آیا تو حانم زمین پر گرے کانچ کے ٹکڑے اٹھا رہی تھی
مت اٹھاو انہیں تمہے لگ جائیں گے
ساحر نے اسے روکا
اگر میں نے نہیں اٹھائیں تو آپ کو لگ جائیں گے حانم اس کی سرمئی آنکھوں میں دیکھ کر بولی
تو لگ جانے دو ساحر بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا لہجے میں چھپی اذیت حانم کو آپ نے دل میں محسوس ہوئی
لگ لینے دیتی اگر آپ سے کوئی رشتہ نہ ہوتا مگر اب آپ سے میرا رشتہ ہے اور میں اپنے رشتوں کے معاملے میں بہت پوزیسو ہوں
کانچ کے ٹکڑے سائیڈ ٹیبل کے پاس پڑی بن میں ڈال کر حانم اس کے پاس سے ہوتی گزر گئی
ساحر نے ایک نظر اس کی پشت کو دیکھا پھر آنکھیں بند کرکے گہرے گہرے سانس لینے لگا
آغا سائیں نے ابرار کو ساحر کو بلانے کے لیے بھیجا تھا مگر راستے میں ہی علینہ کو دیکھ کر ابرار نے صنم کو ساحر کو بلانے کے لیے بھیج دیا
تم کہاں تھی علینہ ؟؟؟
میں کب سے ڈھنڈ رہا تھا تمہے
میں نے کہاں جانا ہے ادا سائیں
ادا سائیں؟؟؟ ابرار اس کے ادا کہنے پر حیران ہوا
تم مجھے ادا کیوں کہہ رہی ہو علینہ
ہمم اپنے سے بڑے کزنز کو ادا سائیں ہی کہتے ہیں ابرار ادا سائیں علینہ نے تحمل کے ساتھ کہا
اففف اللہ علینہ تم۔۔۔۔
ویسے آپ کو مبارک ہو سونیا ادی سائیں نے بتایا آپ کا رشتہ پکا ہوگیا ہے
سونیاااا۔۔۔ ابرار نے دانت پیسے
آپ سے ایک درخواست ہے آپ پلیز حانم کو خوش رکھیے گا
اپ۔۔۔
چپ ایک دم چپ کوئی رشتہ نہیں پکا ہوا میرا فضول بول کر گئی ہے وہ تمہے
کوئی نہیں ہورہی میری شادی حانم کے ساتھ غصے سے پیر پٹھکتا وہ وہاں سے نکل گیا
صنم اپنے آنسو صاف کرتی کیچن میں آئی جب نورا دودھ گرم کرکے اس میں ہلدی ڈال رہی تھی
یہ ہلدی والا دودھ کس لیے
یہ صنم بی بی سائیں حانم بی بی سائیں نے رکھوایا ہے اور ساحر ادا سائیں کے ہاتھ پر چوٹ لگ گئی ہے نہ اس کے لیے ۔۔۔۔
ہوگیا ہے دودھ تیار نورا
اتنے میں حانم وہاں آگئی
جی حانم بی بی سائیں حانم دودھ کا کپ لیکر کیچن سے جانے لگی جب اسے اپنے پیچھے سے صنم کی آواز آئی
آپ کیوں جارہی ہیں ان کے کمرے میں صنم کا لہجہ سنجیدہ تھا حانم نے اس کی طرف مڑ کر ایک آئی برو اُچکائی
کیوں صنم سائیں اب مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت ہے اس بار حانم کے لہجے میں بھی نرمی غائب تھی
ابھی تو نہیں مگر بہت جلد پڑے گی صنم پیر پٹھک کر وہاں سے چلی گئی ۔۔
اس کی عجیب و غریب بات پر حانم کے ماتھے پر بل پڑے
مگر وہ سر جھٹک کر ساحر والے پورشن کی جانب بڑھی
ہیلو زارون تو یہاں پاکستان میں
اچھا کب
کہاں آنا ہے اچھا میں پہنچ جاؤں گا۔۔۔
ساحر کی بات زارون سے ہوئی تھی جس نے اسے بتایا تھا کہ وہ صبح پاکستان لینڈ کر رہا ہے
ساحر اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکا کر حانم اندر آگئی ایک ہاتھ میں دودھ کا گلاس اور دوسرے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ کٹ پکڑی ہوئی تھی
ہلدی والے دودھ سے زخم جلدی بڑھ جاتے ہیں حانم نے آگے بڑھ کر دودھ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور خود اس کے پاس صوفے پر جا کر بیٹھی
یہ کپڑا خون سے بڑھ گیا ہے اس لیے نئی پٹی کروا لیں
نئی ٹھیک ہے ساحر نے اپنے زخمی ہاتھ کی مٹھی بند کھول کر کہا
میں نے پوچھا نہیں ہے میں نے کہا ہے پٹی کروا لیں
ساحر حانم کا تحکم بڑھا انداز دل میں اتار رہا تھا ساحر کی نظریں اسی کی طرف تھیں جو اپنے کام میں مشغول اس کے ہاتھ کی پٹی بدل رہی تھی
حانم کی باتوں کا اس کے دل ہی نہیں دماغ میں بھی خاصہ اثر پڑا تھا وہ اب ریلیکس تھا
درد تو نہیں ہورہا مجھے لگتا ہے سٹیچیس لگوانے پڑیں گے زخم کا معائنہ کرتے ہوئے حانم نے کہا
ہاں نہیں تم بس پٹی کردو مجھے کہیں جانا ہے
خاموشی سے پٹی کرکے اٹھی اور واش روم سے ہاتھ دھو کر واپس جانے لگی
ساحر کو اس کی خاموشی بری لگی تھی وہ شاہد ناراض ہوگئی
اس نے سرعت میں حانم کا ہاتھ تھما
ناراض ہو ؟؟؟
فرق پڑتا ہے ؟؟؟ حانم کا اندازہ استہزائیہ نہ تھا مگر سوالیہ ضرور تھا
حانم کے سوال پر ساحر کو کچھ ہوا وہ کیا بتاتا جس دن ان کا نکاح ہوا تھا ساحر کتنا ہی وقت اپنے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لایا تھا تو اسے کیسے نہ فرق پڑتا
بہت فرق پڑتا ہے وہ حانم کے پاس ہوا
تو پھر ابھی کہی مت جائیے گا
اتنا کہہ کر حانم کمرے سے باہر نکل گئی
صنم حانم کے پیچھے آئی اسے لگا تھا ساحر سائیں حانم کو بھی اسی کی طرح ڈانٹے گے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا حانم دروازہ کھٹکا کر اندر چلی گئی جب پانچ منٹ تک حانم باہر نہیں آئی تو صنم غصے اور بے بسی سے وہاں سے چلی گئی۔۔۔
کیا ہوا صنم سائیں کہا جارہی ہو ۔۔۔۔
راستے میں ہی اس کو سونیا نے اچک لیا
کیا ہوا ہے صنم اتنا غصہ
غصہ نہ کروں تو کیا کروں میں جب ساحر سائیں کو بلانے گئی تو انہوں نے مجے ڈانٹ دیا مگر جب حانم ادی گئیں تو انہیں کچھ نہیں کہا
میں نے تو تمہے پہلے ہی کہا تھا صنم یہ جو تمہاری حانم ادی سائیں ہیں نہ وہ صرف اپنا بھلا چاہتی ہیں وہ کسی کی سگی نہیں ہے
ویسے ساحر سائیں ہیں کہا پر
کہاں ہوگے اپنے کمرے میں ہیں ان کے ہاتھ پر چوٹ لگی ہوئی ہے
اچھا میں دیکھتی ہوں میرا مطلب میں دیکھتی ہوں حانم کو کیا کر رہی ہے تم ایک کام کرو زاویار سائیں کی تصویریں ہیں نہ تمہارے پاس
لالہ سائیں کی تصویریں جی ہیں مگر ان کا کیا کرنا ہے
صنم نے نا سمجھی سے کہا
تم سب گھر والوں کی نظروں سے بچا کر اسے زنان خانے کی طرف لگا دو وہاں حانم کے کہیں چکر لگتے ہیں خود ہی جب اس کی نظر ان تصویروں پر پڑے گی تو اسے تکلیف ہوگی پھر اسے احساس ہوگا تکلیف کسے کہتے ہیں
م۔۔میں مگر کیسے سونیا آدی سائیں اگر کسی نے دیکھ لیا آگر آغا سائیں نے دیکھ لیا تو وہ مجھے چھوڑیں گے نہیں انہوں نے سختی سے منع کیا ہے ان کا زکر بھی نہ ہو تصویر تو دور کی بات ہے
کیوں یہ گھر صرف اس حانم کا ہے تمہارا نہیں ہے ہم اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتے یاں پھر تمہے اپنے لالہ سائیں سے زیادہ حانم ادی عزیز ہے
سونیا نے اس کا مائنڈ واش کیا
نہیں نہیں میں لے کر آتی ہوں ان کی تصویر ماما سائیں نے ان کے کمرے میں لگوانی تھی ۔۔
پیرس!!!!
کیا ہوگیا ہے عینی کیوں رو رہی ہو
زی کیا آپ کا جانا ضروری ہے
ہاں ۔۔۔قسم سے اگر میرا جانا ضروری نہ ہوتا تو میں کبھی تمہے اس حالت میں چھوڑ کر نہیں جاتا
نور العین !!!!!
زارون اپنی پیکنگ چھوڑ کر سیٹر پر بیٹھی نور العین کے پاس آیا
زی میرا دل گھبرا رہا ہے کیا میں نہیں چل سکتی آپ کے ساتھ پاک
ضرور لے جاتا تمہے مگر ابھی تمہارے لیے سفر ٹھیک نہیں ہے
اچھا ٹھیک ہے عینی نے کیوٹ سا منہ بنایا
اب دیکھ لو خود ہی ایسے ایکسپریشن بناتی ہو بندہ بشر اپنا ننھا سا دل لے کر کہا جائے زارون نے گال کھینچا آہ۔۔۔
زی چپ کرکے پیکنگ کریں اور میرے لیے پائن ایپل پیزا آرڈر کرکے جائے گا
اِئیو ۔۔۔ پیزا ود پائن ایپل یہ لڑکی میرے ٹیسٹ خراب کرے گی
کیا کہاااا
اندر سے عینی کی آواز آئی
کچھ نہیں میری جان ابھی کرتا ہوں آڈر ۔۔۔۔۔
کیسے ہیں آپ سر زارون اپنے سینئر کے گلے ملا
الحمدللہ بچے تم بتاؤ اور ہماری بیٹی کیسی ہے ؟؟
الحمدللہ وہ بھی ٹھیک
اچھا سر آپ تیار ہیں
فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہو چکی ہے
ہممم ۔۔۔۔
پاکستان!!!!
حانم تمہے خالہ سائیں بلا رہیں ہیں وہ زنان خانے کے پچھلے حصے پر
ماما سائیں حانم اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتی چونکی
ہممم خالہ سائیں
اچھا چلو حانم لیپ ٹاپ بند کرکے سونیا کے ساتھ زنان کھانے کی طرف بڑھی جب اس طرف ہاتھ میں بڑا سارا فریم پکڑے کرسی پر کھڑی صنم تصویر دیوار پر لگانے کی سعی کر رہی تھی
دھیان سے صنم گڑ جاؤ گی حانم نے اس کے لڑکھڑاتے پاؤں دیکھ کر اس کے پاس آکر کہا
اہ۔۔۔ ایک دم سے صنم کا پاؤں پھسلا حانم نے اسے سہارا دیا اسی اثنا میں صنم کے ہاتھ میں پکڑا وہ پریم زمین پر گر کر چکنا چور ہوگیا
چھناکے کی آواز پر علینہ بھی اسی طرف اگئی
صنم نے حانم کا ہاتھ زور سے جھٹک کر فریم سیدھا کیا جس کا شیشہ ٹوٹ چکا تھا مگر حانم کی نظریں تو تصویر پر ہی ٹھہری ہوئیں تھیں
سر زاوی !!!!
اس کے لبوں سے بے آواز سرگوشی نکلی
یہ آپ نے جان بوجھ کر کیا ہے نہ حانم ادی آپ سے ہماری خوشی کیوں نہیں دیکھی جاتی پہلے ہی آپ کی وجہ سے زاویار ادا سائیں سے آغا سائیں نے سب تعلق تور لیے ہیں اب آپ سے ان کی ایک تصویر بھی نہیں برداشت ہورہی صنم نم آنکھوں سے فریم پکڑے حانم پر چیخی
بس کرو صنم کس طرح بات کر رہی ہو تم حانم سے بڑی ہے تم سے
بڑی ہے تو کیا علینہ بی بی یہ گھر صرف اسی کا ہے یاں آغا سائیں کی چہیتی ہونے کا شرف اسی کے پاس ہے اب ہم اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے
سونیا نے بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی
اچھا اپنی مرضی سے یہ تصویر لگاؤ گے حالانکہ تم لوگ اچھے سے جانتے ہوں آغا سائیں نے سختی سے منع کیا ہے
اور صنم تم سے مجھے یہ امید نہیں تھی علینہ اسے تاسف سے دیکھ کر حانم کی طرف بڑھی جس کی نظریں ابھی بھی اسی تصویر پر تھیں
حانم حانم !!!
آہ ہاں علینہ
تم ٹھیک ہو
مجھے کیا ہونا ہے میں ٹھیک ہوں
اور ٹھیک کہا انہوں نے یہ حویلی ان لوگوں کی بھی ہے تم لوگ جو چائے کرو مگر اپنے رحم و کرم پر میں نورا کو بھیجتی ہوں وہ اس تصویر کو صاف کرکے کوڑے میں مطلب اس کی اصلی جگہ پر ٹھکانے لگا آئے گی ۔۔۔۔۔
حانم کی یہ ہی بات بہت اچھی تھی وہ زیادہ باتوں کو دل پر نہیں لیتی تھی اور مشکلیں اپنے حواس نہیں کھوتی تھی ۔۔۔۔۔
آنسہ بیگم نماز پر کر اپنے بیڈ پر بیٹھی تسبی کر رہیں تھیں جب شائستہ بیگم ادھر ہی چلیں آئیں
شائستہ ادی سائیں آنسہ بیگم چونک کر کھڑی ہوئیں
بیٹھو بیٹھو آنسہ تم۔اے کوئی خدمت نہیں کروانے آئی میں
شائستہ بیگم غرور کے ساتھ اپنی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے آنسہ بیگم کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئیں
کیوں آئیں ہیں آپ یہاں آنسہ بیگم کا لہجہ سخت ہوا
ارے میری چھوٹی تم سے رشتہ جوڑنے آئیں ہوں
رشتہ کیسا رشتہ ماتھے پر بل نمودار ہوئے
ارے تمہارے ساحر کے لیے اپنی سونیا کو رشتہ
آخر کون منہ لگائے گا تمہارے بیٹے کو یہ تو میں تمہاری بہن ہوں تم پر احسان کر رہی ہوں
مت کریں مجھ پر اور میرے بیٹے پر احسان
اچھا تو پھر کون کرے گا ساحر سے شادی جبکہ سب جانتے ہیں اس کی ماں کیسی ہے
مگر حقیقت تو کچھ اور ہے شائستہ سائیں اور آپ بہت اچھے سے واقف ہیں حقیقت میں کون پاک دامن ہے اور کون داغدار
ہاں میری چھوٹی مجھے اچھے سے یاد ہے وہ دن جب تم رات کے پہر چھت پر آئی تھی اور مجھے حماد کے ساتھ دیکھ کر چیخی تھی مگر کیا ضرورت تھی تمہے چیخ مارنے کی پھس گئی نہ تم خود ہی خیر جتنا میں نے کہا ہے اتنا کرو ساحر اور سونیا کا رشتہ تہ کرنے آئی ہوں میں
مگر میں ایسا نہیں کروں گی
کرنا تو میں بھی نہیں چاہتی میری چھوٹی مگر وہ کیا نہ سونیا کی مت ماری گئی ہے
اسے ساحر چائیے
میرا بیٹا چائیے یاں اس کی دولت
کیسی باتیں کر رہی ہو جب ساحر اس کا ہوگا تو دولت بھی تو اس کی ہوگی
میری طرف سے صاف انکار ہے آپ جا سکتی ہیں
اچھا تم شاہد ابھی اپنی بہن کو جانتی نہیں ہو آنسہ
اگر برسو پہلے تمہے بدنام کرکے حویلی سے نکلوا سکتی ہوں تو ابھی بھی مجھے زیادہ وقت نہیں لگے گا ساتھ ساتھ خاندان کے ہر بچے کو تمہاری کرتوت بتاؤ گی تو اچھے سے سوچ لو ۔۔
اللّٰہ سائیں کے عزاب سے ڈریں اس نے آپ کی رسی دراز کی ہے تو اس کا مطلب کچھ بھی کریں گی جس دن رسی کھینچی گئی تو آپ کی روح تڑپ جائے گی
جاؤ جاؤ تمہاری بد دعاؤں سے کچھ نہیں ہو گا مجھے
شائستہ بیگم منہ بھاڑ کر وہاں سے چلی گئیں
ہیلو بابا جی کب تک آرہیں ہیں آپ ابرار فون پر موجود اشرف صاحب سے بولا
بس بیٹا سٹے کے لیے فلائٹ کویت میں رکی ہے یہاں سے پاکستان کی فلائٹ لینی ہے پھر تمہے فون کروں گا مجھے حویلی لے جانا
اوکے ٹھیک ہے بابا آپ اپنا دھیان رکھیے گا ۔۔۔۔۔
رات ہوگئی ہے ساحر سائیں ابھی تک نہیں آئے حانم لان میں مسلسل ساحر کے انتظار میں چکر کاٹ رہی تھی جب اس کی نظر حویلی کی چھت پر پڑی
تم یہاں پر کیا کر رہے ہو میں نے منع کیا تھا نہ کہ اب مجھ سے رابطہ مت کرنا حویلی کا ایڈریس تمہے کس نے دیا ایک نسوانی سرگوشی چھت پہ گونجی جو مقابل کو ڈانٹ رہی تھی
تم کیسے مجھ سے رابطہ ختم کر سکتی ہو
دیکھو یہاں سے نکل جاؤ اس سے پہلے کوئی اوپر آجائے
میں کیسے چل جاؤ پہلے تم وعدہ کرو اپنے گھر والوں سے ہمارے رشتے کی بات کرو گی
میں کیسے بات کروں میرا رشتہ تہہ ہوگیا ہے
کیا مطلب رشتہ تہہ ہوگیا ہے اور میں میں کہاں گیا
دیکھو یہ میرے گھر والوں کا فیصلہ ہے
اچھا اور جب مجھ سے ڈھیروں گفٹ لیتی تھی تب کہاں گئے گھر والے مقابل نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھورا
کب دونو کو اپنے پیچھے سے کسی کی آہٹ کی آواز آئی
دونوں چونک کر مڑے
جاری ہے……
