Rate this Novel
Episode 16
ابھی حانم کچھ کہتی نورا وہاں آئی
سائیں جی سائیں کچھ لوگ آنسہ بی بی سائیں سے ملنے آئیں ہیں
آنسہ سے ملنے
دونوں بھائیوں کے ساتھ شائستہ بیگم کے بھی ماتھے پر بل پڑے
کون آیا ہے انہیں ادھر ہی بھیج دو
آغا سائیں نے تشویش کے ساتھ کہا
اسلام علیکم
ایک درمیانی عمر کی لڑکی اور ایک سیاہ کوٹ میں آدمی اندر آئے
وکیل صاحب آپ یہاں ؟؟؟
میر جواد سائیں آٹھ کر وکیل صاحب کے گلے ملے
جی جواد سائیں ہم ایک بہت ہی ضروری کام کے سلسلے میں یہاں حاضر ہوئے ہیں
جی جی آئیے وکیل صاحب جاوید سائیں بھی کھڑے ہوئے
اسلام علیکم آغا سائیں وکیل صاحب سب سے پہلے
میر حاکم سائیں کے پاس جا کر ان سے ملے
جی تو کیسے آنا ہوا یہاں ؟؟اور یہ بی بی
آغا سائیں نے وکیل کے ساتھ کھڑی اس درمیانی عمر کی لڑکی کا پوچھا
آغا سائیں میرا نام شمائلہ ہے میں آنسہ حماد خان کو ان کی امانت دینے آئی ہوں
آنسہ سائیں کی امانت کیسی امانت سب چونک گئے
ساحر نے بھی حیرانگی سے اس عورت کو دیکھا جاے شاہد وہ پہلی بار ہی مل رہا تھا
آغا سائیں ہم یہاں پر ساحر حماد خان کے حصے کی جائیداد انہیں دینے آئے ہیں
آغا سائیں میرے سسر زبیر خان جو رشتے میں حماد خان کے چچا لگتے ہیں انہوں نے دوھکے سے ان کی جائیداد پر قبضہ کرلیا تھا جس کا کیس برسوں سے چل رہا تھا اس جائیداد کے وجہ سے بہت لڑائیاں ہوئیں ہیں بہت قتل ہوئے ہیں میرے شوہر کو میرے سسر کے کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی انہوں نے بارہا کہا کہ یہ جائیداد جن کا حق ہے انہیں واپس کردی جائے مگر میرے جیٹھ اور دیور ہمارے خلاف ہوگئے یہاں تک کہ میرے شوہر پر جان لیوا حملہ بھی کروایا میرے شوہر اب ہاسپٹل میں قومہ میں ہیں میرے دیور نے جائیداد کی لالچ میں میرے بڑے جیٹھ کا قتل کردیا میرے سسر کی فیکٹری میں آگ لگ گئی اور وہ اسی میں جل کر کرگئے یہاں تک کہ ان کے جسم کے مکمل ٹکڑے بھی نہیں مل سکے میرا بیٹا پیدائشی طور پر معزور ہے یہ اتنی ساری جائیداد دولت کچھ بھی میرے شوہر کو دوبارہ صحت یاب نہیں کرسکتی نہ ہی میرے بیٹے کو عام زندگی دے سکتی ہے
میں نے شروع میں بہت بار کوشش کی کہ میں کچھ تو کرسکوں پھر میں نے وکیل صاحب کے ساتھ رابطہ کیا پلیز آنسہ مجھے اور میرے شوہر کو معاف کردو ہم اس وقت بہت مشکل میں ہیں اولاد بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے میں اس وقت بہت تکلیف میں ہوں آنسہ ایک طرف میرا بیٹا دوسری طرف میرا شوہر تم ہمیں معاف کردو گی تو شاہد اللہ پاک بھی ہم پر رحم کر دے گا
پلیز آنسہ شمائلہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی
اس جائیداد کا میں کیا کروں گی کیا اس سے میرا شوہر میرے ماں باپ واپس آجائیں گے
آنسہ بیگم نے بھیگے لہجے میں پوچھا
ساحر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے سیدھا اپنے کمرے میں آگیا
ساحر کی سرخ ہوتی سرمئی آنکھیں دیکھ کر ایک لمحے کے لیے تو حانم بھی کانپ گئی
اور سب کی نظروں سے بچ کر خاموشی سے اس ساحر کے پیچھے اس کے کمرے کی طرف بڑھی
آہ۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا کیسے کیسے اتنی آسانی سے میرا مجرم مر گیا اسے تو میں نے مارنا تھا بدلہ لینا تھا اپنے گھر والوں کا ساحر اپنے کمرے میں پڑھیں چیزوں کو پوری طاقت کے ساتھ زمین بوس کر رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر گزرے اپنے خون آلود ہاتھ میں پکڑا برانڈڈ پرفیوم کی بوتل پوری طاقت کے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر دے ماری جو چھناکے کی آواز کے ساتھ چکنا چور ہوکر زمین پر بکھر گیا
اسی اثناء میں حانم اس کے کمرے میں داخل ہوئی کمرے سے زیادہ ساحر کو برے حال میں دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا
ساحر سائیں
حانم بیڈ کی سائیڈ پر بکھرے حال بیٹھے ساحر کے ساتھ ہی بیٹھ گئی
ساحر سائیں !!!!
حانم نے ساحر کا زخمی ہاتھ جس میں سے تیزی کے ساتھ خون بہہ رہا تھا
حانم کو جب آس پاس کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اس نے بیڈ شیٹ کا کونا پھاڑ کر ساحر کے زخم پر خون روکنے کی غرض سے باندھ دیا
ساحر ویران نظروں سے حانم کا چہرہ دیکھ رہا تھا جہاں اس کے لیے واضح فکر مندی تھی
مجھ سے میرا مقصد چھین گیا نورِ
ساحر نے کرب کے ساتھ کہا
نہیں آپ کا مقصد پورا ہوگیا ہے حانم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
کیسے پورا ہوگیا میرا مقصد کیا ان پیسوں سے میرے گھر والے واپس آجائیں گے
ساحر کا گلا رندھ گیا
میں اپنے گھر والوں کے قاتل کو اپنے ہاتھوں سے تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا مگر وہ کیسے اتنی آسان موت مر گیا جب میں اسے پانے ہاتھوں سے مار ہی نہیں سکا تو کیسے میرا بدلہ پورا ہوگیا
کیسے؟؟؟
کیونکہ اللّٰہ سائیں آپ کے ہاتھ اس مجرم کے گندے خون سے نہیں رنگنا چاہتے تھے
ساحر حانم کے شانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گیا ۔۔۔
حانم نے بھی اسے پیچھے نہیں کیا وہ اس کا محرم تھا اور ویسے بھی وہ اس رشتے کو دل سے قبول کر لی تھی تو وہ کیسے ساحر کو ہٹاتی جبکہ سب سے زیادہ ساحر کو اسی کے سہارے کی ضرورت تھی ……
ہے شام تو تعریف میں
تو چین ہے تکلیف میں
تجھ سے ملا تو پالیا
ہر چیز میں
ہے خواب تو تعبیر میں
مانا تجھے تقدیر میں
تیرا ہوا اس بھیڑ میں
اس بھیڑ میں!!!
آنسہ بیگم ساحر کے غصے سے با خوبی واقف تھیں مگر حانم کو اس کے پیچھے جاتا دیکھ کر اپنا ارادہ بدلتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
کیا ہوا مما کیا سوچ رہیں ہیں ؟؟
سونیا شائستہ بیگم کو کمرے میں مسلسل ادھر سے ادھر چکر لگاتے دیکھ کر جھنجھلا کر بولی
آج جو لوگ آئے تھے ان کے بارے میں سوچ رہی ہوں شائستہ بیگم صوفے پر بیٹھ کر بولی
آج کونسے لوگ آئے تھے سونیا نے چونک کر پوچھا
بے وقوف لڑکی وہ وکیل اور وہ عورت شائستہ بیگم نے سونیا کی عقل پر ماتم کیا
اچھا وہ لوگ جو خالہ کی جائیداد کے کاغذات دینے آئے تھے ویسے ماما یہ تو بڑی امیر پارٹی نکلی اگر خالہ کا مرحوم شوہر اتنا امیر تھا تو خالہ حویلی کیوں آئیں جہاں ان کی ٹکے کی عزت نہیں ہے ۔۔
اس لیے کیونکہ اس کے سسرال والوں اور شوہر کا قتل اسی جائیداد کی وجہ سے ہوا تھا اور اب جب یہ کیس عدالت کی طرف سے حل ہوگیا تو ان لوگوں کو ان کی جائیداد مل گئی
شائستہ بیگم نے گہری سوچ میں کھوئے ہوئے کہا
…….
حماد تم کب رشتہ لاؤ گے میرے گھر میں نے پہلے ہی آغا سائیں سے اپنی پڑھائی کی ضد کرکے ان کو بہت مشکل سے ٹالا ہے اب تو میرا انٹر بھی پورا ہوگیا اب اس سے آگے میں نے پڑھنا بھی نہیں ہے اور ویسے بھی میری چھوٹی بہن کا رشتہ بھی ہوگیا ہے اب میں آغا سائیں کو اور نہیں ٹال سکتی شائستہ نے اپنی شال سے اپنا آدھا چہرہ چھپاتے ہوئے کہا
یار شائستہ میں بات کروں گا مورے اور خان بابا سے مگر ایک مسئلہ ہے
کیسا مسئلہ شائستہ نے حماد کا وجہہ چہرہ دیکھ کر کہا جا کی سرمئی آنکھیں دھوپ میں چمک رہیں تھیں
یار میں نے تمہے بتایا تھا نہ کچھ لوگوں نے ہماری جائیداد پر قبضہ کیا ہوا ہے
ہاں تو شائستہ کے ماتھے پر بل پڑے
تو یہ شائستہ وہ کیس ابھی بھی اڑا ہوا ہے اس کا کچھ کہہ نہیں سکتے تو
تو کیا حماد سیدھا سیدھا بتاؤ
تو یہ کہ تب تک تم ہمارے چھوٹے سے گھر میں ایڈجسٹ کرلو گی دیکھو شائستہ تم فکر مت کرو یہ کیس ہم ضرور جیت لیں گے ہماری گاوں میں بہت ساری زمینیں اور جائیدادیں ہیں بس تھوڑا سا وقت لگے گا
کتنا وقت شائستہ کے چہرے کی سنجیدگی ہنوز قائم تھا
چھ ماہ سال یا دو سال یا۔۔۔
اس سے بھی زیادہ یا ساری زندگی آگے کی بات شائستہ نے پوری کی ۔۔۔
شائستہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہاری ہر فرمائش پوری کروں گا بس تم میرا ساتھ دینا
حماد اور بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا مگر شائستہ خاموشی سے آکر گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔۔
شائستہ حویلی آئی تو حویلی میں تیاریاں عروج پر تھیں
بھابھی سائیں یہ تیاریاں خیریت
شائستہ سائیں اشرف ادا سائیں آرہے ہیں کینیڈا سے
وہ کینیڈا میں تھے شائستہ نے پھل کی ٹوکری میں سے سیب نکال کر دانتوں سے کترتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ کینیڈا میں تھے اب تو ہماری آنسہ سائیں بھی شادی کے بعد ان کے ساتھ کینیڈا چلی جائیں گی
شائستہ کے سیب کھاتے ہاتھ تھمے
اچھا جی اب ہماری چھوٹی آنسہ سائیں سات سمندر پار چلی جائیں گی
شائستہ نے آنسہ کے کندھے پر ٹہوکہ دے کر شرارت کے ساتھ کہا
پھر اپنا بیگ اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں
اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کیا اور اپنا بیگ اٹھا کر زور سے دیوار پر دے مارا
آنسہ کینیڈا جائے گی
ہر گز نہیں
کاش میں اس کنگلے حماد کی باتوں میں نہ آتی نہ میں آغا سائیں کو شادی کے لیے ٹالتی اور نہ ہی آنسہ کا رشتہ اتنی اچھی جگہ ہوتا
شائستہ غصے سے ادھر اُدھر چکر کاٹنے لگی
اسے اپنی بے بسی پر غصہ آرہا تھا
شام کے وقت چھپکے سے بیٹھک میں لگے لینڈ لائن پر کال کرکے شائستہ نے حماد سے ہر تعلق ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا تھا اور اب حماد کی وہی جائیداد اب آنسہ کو ملنے جا رہی تھی
ساری محنت میری ہوتی اور ہر چیز آنسہ کی جھولی میں ڈال دی جاتی ہے مگر اس بار نہیں ہر گز نہیں
کہاں کھو گئیں ہیں آپ مما
سونیا نے انہیں ہلایا
ہاں ۔۔۔کیا کہہ رہی ہو
آپ کہاں کھو گئیں ہیں
تمہارا رشتہ میں ساحر کے ساتھ تہہ کرنے والی ہوں شائستہ بیگم نے مکرو مسکراہٹ کے ساتھ سونیا کو دیکھ کر کہا جو پہلے تو چونک گئی پھر اپنی ماں کی طرح شاطرانہ مسکراہٹ ہونٹوں پر لیے ماں کے گلے لگ گئی
مجھے منظور ہے مما
مما مما اتنے میں ابرار کمرے میں آیا
ہاں بولو میرے بچے
شائستہ بیگم ابرار۔ کے قریب آئیں
مما آپ نے کس کی اجازت کے ساتھ میرا رشتہ حانم کے ساتھ تہہ کیا ہے
کیا مطلب کس کی اجازت کے ساتھ میں ماں ہوں تمہاری مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے
شائستہ بیگم کے ماتھے پر بل پڑے
نہیں مما یہ میری زندگی ہے اور میں اسی کے ساتھ شادی کروں گا جس کے ساتھ میں نے زندگی گزارنی ہوئی
مما یہ علینہ کی بات کر رہیں ہیں
سونیا نے آگ لگائی
تم اپنی بکواس بند کرو ابرار دھاڑا
ایک ایک منٹ علینہ کہاں سے آگئی ابرار میری بات کان کھول کر سن لو تمہارے شادی صرف اور صرف نور حانم کے ساتھ ہی ہو گی
میں بی آپ ہی کا بیٹا ہوں اور اب یہ فیصلہ بابا ہی دبئی سے آکر کریں گے۔۔۔۔
پیرس !!!!
ہیلو اسلام علیکم جی خیال سے اب تک وکیل صاحب حویلی پہنچ چکے ہوں گے
آپ یہ بتائیں آپ کب جارہے ہیں واپس میرے ساتھ حویلی
چلیں پھر ٹھیک ہوگیا انشاللہ پھر میں کل کی فلائٹ بک کرواتا ہوں اوکے
اللّٰہ حافظ!!!!
زی !!!!
نور العین کی آواز پر زارون نے موبائل اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈالا
کس کا فون تھا زی
نور العین ٹیرس میں ہی اگئی
میرے سینیر کی کال تھی تم بتاؤ تمہارے بازو یا ماتھے میں درد تو نہیں ہورہا
نہیں زی بھوک لگی ہے اچھا اندر چلو میں کچھ آڈر کرتا ہوں زارون نور العین کو شانے سے تھام کر اندر کی جانب بڑھ گیا
نہیں زی آپ کچھ گھر پر بنا کر دیں
اوکے مسسز زی جو آپ کا حکم
ہاہاہاہا
جاری ہے ۔۔۔۔۔
