58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 28
ثمرین شیخ

کس سے بات کر رہی ہوں ثمینہ سائیں
میر جواد نے ثمینہ بیگم کو فون پر کسی سے روتے ہوئے بات کرتے دیکھ کر پوچھا
وہ وہ میر سائیں۔۔۔ ثمینہ سائیں جو زاویار سے بات کر رہیں تھیں اپنے سامنے جواد میر کو دیکھ کر بوکھلا گئیں
وہ ۔۔۔۔
انہوں نے ثمینہ سائیں کے ہاتھ سے فون پکڑا
زاویار
فون والے ہاتھ کی مٹھی کسی
ثمینہ بیگم نظریں جھکا گئیں کیا کرتی ماں تھی وہ۔۔۔۔


اسلام علیکم ،،،،،،،
حانم اور ساحر خان ولا کے ٹیوی لاؤنج میں داخل ہوئے
باتوں میں مصروف حالہ اور آنسہ بیگم چونکی
حانم چھوٹے خان سائیں دونوں مائیں اپنے بچوں کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہی ہوگئی
جب حماد خان بھی اندر داخل ہوئے
خان سائیں آپ تو کہہ رہے تھے بچے شام کو آئیں گے ابھی کھانہ بھی تیار نہیں ہوا
بچے اتنی دور سے آئیں ہیں
آنسہ بیگم نے خفا لہجے میں کہا
اوہو پھوپھو سائیں ہم کون سا پیدل آئیں ہیں اور حماد پھوپھا سائیں کو ہم نے ہی منع کیا تھا ہم اپنی سوئٹ سی ماؤں کو سرپرائز دینا چاہ رہے تھے تو بتائیں سویٹ لیڈیز
کیسا لگا آپ لوگوں کو ہمارا سرپرائز حانم نے دونوں کو ایک ساتھ گلے لگا کر کہا ۔۔
میری جان تم دونوں ہی تو ہماری کل کائنات ہو
تم لوگوں کو اپنے پاس دیکھ کر اتنی خوشی ہورہی ہے کہ میں بتا نہیں سکتی
اچھا تم لوگ جاؤ فریش ہوجاؤ میں کھانا لگواتی ہوں تم لوگوں کے لیے ۔۔۔
نہیں نہیں مما سائیں میں بس تھوڑی دیر آرام کروں گی
مجھے بھوک نہیں ہے
اچھا میری جان تم لوگ آرام کرو پھر۔۔۔


نیم اندھیر کمرے میں اپنی آرام دے راکنگ چئیر پر بیٹھے اس وقت ایک گہری سوچ میں محو میر حاکم سائیں ماضی کی یادوں میں کھوئے۔۔۔۔
دادا سائیں آپ کو یاد ہے نہ کل کیا دن ہے آغا سائیں کے کمرے میں بیٹھی اپنا ہوم ورک کرنے میں مشغول حانم ایک دم چونک کر سیدھی ہوئی کچھ یاد آنے پر آٹھ کر آغا سائیں کے پاس گئی جو زمینوں کا حساب کر رہے تھے
آغا سائیں کے بھی ہاتھ تھمے انہیں کیسے بھول سکتا تھا کہ کل کیا ہے مگر وہ انجان بن گئے
نہیں مجھے نہیں یاد کل کیا ہے ؟؟؟
کیا ہے کل نورے انداز سوچنے والا تھا
دادا سائیں حانم نے منہ بنایا
ارے ہم کیسے بھول سکتے ہیں اپنی نورے کی سالگرہ دیکھنا اس بار بھی ہم اپنی نورے کی سالگرہ دھوم دھام سے کریں گے
یےےےےے اور سب سے سپیشل گفٹ بھی آپ کا ہوگا
نورے نے جیسے حکم دیا
جو حکم ہماری پرنسس میر حاکم نے اسے اپنی شفقت کی آغوش میں لیا
میر حاکم کو جب ہوش آیا تو ان کا پورا چہرہ بھیگا بھیگا سا تھا
یک دم ان کے دل میں درد سا بڑھا اور وہ ادھر ہی ڈہ گئے


حانم اٹھی اور فریش ہو کر نیچے آئی تو ہر طرف خاموشی سی چھائی ہوئی تھی
مما سائیں
پھوپھو سائیں
ابھی وہ کچھ اور بولتی کہ ایک دم سے اس پر پھولوں کی برسات ہوئی
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو،،،،
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو،،،
ہیپی برتھ ڈے ڈئیر حانم
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
وہاں آنسہ بیگم حالہ بیگم ساحر خان حماد خان اخضر اور علینہ بھی موجود تھے
حانم علینہ کو دیکھ کر چیختے ہوئے اس کے گلے لگی
لینہ۔۔۔ہیپی برتھڈے حانم سائیں سالگرہ بہت بہت مبارک علینہ نے گفٹ اس طرف بڑھایا جسے حانم نے تھام لیا
ادی سائیں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو شر مندہ لہجے میں کہتا اخضر سر جھکا گیا
جب حانم نے آگے بڑھ کر اسے پیار سے اپنے ساتھ لگایا
بہت شکریہ چھوٹے سردار سائیں خان نے بیک وقت شرارت اور پیار سے کہا
ساحر بھی آگے بڑھ کر اخضر کے گلے لگا
حانم اب دونوں ماؤں کو گلے لگا رہی تھی
حماد خان نے بھی آگے بڑھ کر اس کے سر پر پیار دیا
تم لوگوں کو یہاں کا کیسے پتہ لگا
حانم نے استفسار کیا
ہمیں ساحر ادا سائیں لائے ہیں
حانم نے مسکرا کر ساحر کو دیکھا جس نے جواب میں سر خم کیا
اچھا چلو اب کیک کاٹ لیں
حانم نے سب بڑوں کی دعاؤں میں کیک کاٹا اور سب کو کھلایا
حانم خوش تھی مگر کہیں اندر دل میں تکلیف بھی تھی۔۔۔۔
اخضر اور علینہ واپس چلے گئے تھے شام کا کھانا کھا کر
حماد خان اور آنسہ نے بھی حویلی جانا تھا


حانم اپنے کمرے میں آئی دادا سائیں سب سے اچھا گفٹ ہمیشہ آپ کا ہوا ہے آپ بیسٹ ہو
حانم کو اپنی کہی بات یاد آئی
دادا سائیں آپ نے مجھے ہمیشہ قیمتی اور خوبصورت تحفہ دیا ہے سب سے الگ مگر آپ کو پتا ہے اس سالگرہ میں سب سے خوبصورت تحفہ مجھے کس نے دیا؟؟
ساحر سائیں نے ….
ہاں میرے شوہر نے کیونکہ انہوں نے مجھے یقین کا تحفہ دیا ہے ہے کاش آپ بھی مجھے یقین کا تحفہ دیتے یہ سونا یا چاندی یہ قیمتی چیزیں میرے کسی کام کی نہیں آئی جس وقت مجھے صرف آپ کے اعتبار کی ضرورت تھی۔۔۔
حانم نے اپنے لب بھینجے ایک دفعہ تو منانے آتے اپنی نورے کو دادا سائیں
بس ایک دفعہ
میں پھر آپ کے گھٹنے پر سر رکھ کر رو لیتی


آنسہ اور حماد خان حویلی میں داخل ہوئے جہاں واپس نہ آنے کی عہد کیا تھا مگر یہ خوش کے رشتے عہدوں پیما سے کہیں آگے ہوتے ہیں
آنسہ جواد میر اور ثمینہ جواد ان دونوں کا دیکھ کر کھڑے ہوئے
آنسہ میری بہن
وہ آگے بڑھے جب آنسہ بیگم نے انہیں بیچ میں ہی روک لیا
آپ پلیز آغا سائیں کو بلا دیں ان سے ضروری بات کرنی ہے
جواد میر کو دکھ ہوا مگر انہوں نے بھی کون سی کوئی کثر چھوڑی تھی
کیسی ہو آنسہ ؟؟؟ اور حالہ ثمینہ بیگم ان کے قریب آئیں
ٹھیک ہو بھابھی سائیں اللّٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے
شادی کر رہی ہو میں اپنے ساحر کی
مانتی ہوں میرا بیٹا ہے اس کی خوشی عزیز نہیں آپ لوگوں کو مگر ساحر کے ساتھ جڑنے والی حانم اس کا تو رشتہ ہے آپ لوگوں کے ساتھ اس خاندان کی پوتی ہے وہ
اس کے ساتھ جو سلوک حویلی والوں نے کیا ہے میں یہاں آنا تو نہیں چاہتی تھی مگر میں نہیں چاہتی کہ کل کو کوئی میری بہو کے خاندان پر سوال کھڑا کرے
آنسہ بیگم کا لہجہ اٹل تھا
اتنے میں ہما بیگم وہاں آئیں
جواد ادا سائیں آغا سائیں
آغا سائیں اپنے کمرے میں بے ہوش پڑے ہیں
ہما بیگم ہانپتے کانپتے لہجے میں بولیں
آغا سائیں آنسہ اور حماد سمیت سارے ہی آغا سائیں کے کمرے کی طرف بڑھے
آغا سائیں کو فوراً ہاسپٹل لے کر گئے
آنسہ بیگم روئے جا رہیں تھیں
کہاں کی ناراضگی؟؟
کہاں کی لاتعلقی؟؟


حانم کو جب ساحر کے زریعے آغا سائیں کی طبیعت خرابی کی خبر ہوئی تو وہ بھی سب کچھ بھلائے حالہ بیگم کے ساتھ ہاسپٹل میں موجود تھی
ڈاکٹر کیا ہوا ہے میرے دادا سائیں کو آپ بتائیں
حانم ڈاکٹر کے روم سے باہر نکلتے ساتھ ہی ان کے سر ہوئی
دیکھیں وہ اس وقت شدید زہنی دباؤ کے شکار ہیں اور ان کی پلس ریٹ بھی کم ہے جو ہارٹ آٹیک کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے جو ان کی صحت اور عمر دونوں کے لیے خطرناک ہے اس لیے انہیں زیادہ سے زیادہ خوش رکھنے کی کوشش کریں تاکہ انہیں ذہنی دباؤ نہ ہو ۔۔۔۔
انہیں ہوش کب تک آئے گا
آنسہ بیگم نے پوچھا
ہمم انہیں روم میں شفٹ کردیا ہے تھوری دیر تک انہیں ہوش آجائیے گا کوشش کریں زیادہ لوگ نہ جائیں ان سے ملنے اس طرح انہیں گھٹن ہوگی


اس وقت آغا سائیں کے کمرے میں حانم اور آنسہ ہی موجود تھیں اور شاہد آغا سائیں کو اس وقت انہیں دونوں کی ضرورت تھی
آغا سائیں کو جب ہوش آیا تو ان کے ایک طرف آنسہ اور دوسری حانم بیٹھی ہوئیں تھیں
نورے آنسہ نقاہت کی وجہ سے بہت دھیرے سے پکار پائے دونوں ہی ان کے پاس ہوئیں
جی آغا سائیں
دادا سائیں
تم دونوں مجھے معاف کردو بیٹا سائیں
نہ میں ایک اچھا باپ بن سکا نہ ہی ایک اچھا دادا
سہی کہتی ہے نورے کہ اگر میں نے تم دونوں کو لاڈ کی جگہ اعتبار دیا ہوتا تو آج میں یوں شرمندہ نہ ہوتا مجھے معاف کردو
آغا سائیں کی آنکھیں بھر گئیں
نہیں نہیں آپ ہمیں شرمندہ مت کریں آغا سائیں دونوں نے ہی ایک ساتھ میر حاکم سائیں کے ہاتھ تھامے وہ ان کے آنسو دیکھ کر تڑپ ہی تو گئیں تھیں
سب سے زیادہ میں تمہارا مجرم ہوں آنسہ اتنے سال اتنے سال میں نے تم سے لا تعلقی رکھی میری انگلی پکڑ کر چلنے والی آنسہ جو میرے بغیر کبھی باہر نہیں نکلی اس پر لگے الزام میں جھوٹے ثابت نہیں کر سکا میں اس قابل ہی نہیں تھا بس میری آخری خواہش ہے کہ میری بیٹیاں مجھے معاف کردیں تاکہ میں روز محشر اسعد اور صفیہ بانو کے آگے شرمندہ نہ ہوں
پلیز دادا سائیں ایسی باتیں نہ کریں آپ کہیں نہیں جارہے آپ ہمارے پاس ہیں آگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو معاف کردیں تو پلیز ایسی باتیں مت کریں اور جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ابھی تو آپ نے اپنی نورے کی شادی بھی دیکھنی ہے آنسہ بیگم نے آگے بڑھ کر آغا سائیں کے آنسو صاف کیے تو آغا سائیں نے اپنے کانپتے ہاتھ دونوں کے سروں پر رکھ دئیے ۔۔۔۔۔


آغا سائیں کو حویلی لے آئے تھے اب ان کی طبیعت قدرے بہتر تھی حانم نے سب گھر والوں کو معاف کردیا تھا
شائستہ اور سونیا کو اسی دن گاؤں اور شہر کے راستے میں پڑتے ایک گھر میں شفٹ کردیا گیا تھا جو کہ آغا سائیں کی ہی ملکیت تھا شائستہ بیگم نے بہت واویلہ کیا تھا مگر ان کی سنسنی کس نے تھی
اس لیے حانم کی ان سے صد شکر ملاقات نہیں ہوئی
آنسہ بیگم نے بھی سب کو معاف کردیا تھا مگر ایک خلا تھا جو ان کی زندگی میں رہ گیا تھا اور انہیں کوئی شک نہیں تھا کہ ان کے خان سائیں اس خلا کو بھی پر کردیں گے
حماد خان کو پوری عزت اور مرتبے کے ساتھ حویلی میں بلایا گیا تھا
اسی ہفتے حانم کی رخصتی اور پھر اگلے دن ولیمہ تھا جو حماد خان کے فارم ہاؤس میں رکھا گیا تھا
آغا سائیں کی خواہش تھی کہ حانم اسی حویلی سے رخصت ہو مگر پہلے کا واقع یاد کرکے وہ خاموش ہوگئے


تم یہاں پر کیا کر رہی ہوں صنم سائیں
جھولے پر تن تنہا بیٹھی کھوئی ہوئی صنم کے پاس اخضر آیا
وہ وہ سردار سائیں کچھ نہیں
صنم ہڑبڑا کر اٹھی
بے شک وہ اس سے چار ماہ بڑی تھی مگر اب وہ گاؤں کا سردار تھا
بیٹھ جاؤ صنم سائیں اخضر نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا
صنم چپ کرکے بیٹھ گئی
تم جانتی ہوں حانی آدی سائیں آئی ہوئی۔ ہیں
اخضر کی نظریں صنم کے زرد چہرے پر تھیں
ج۔جی پتا ہے
تم ملی ان سے ؟؟؟
نہ۔نہیں کیا وہ مجھ سے ملے گی وہ تو میری طرف دیکھیں گی بھی نہیں
صنم نے کرب سے بولا
تمہے ایسا کیوں لگتا ہے انہوں نے سب کو معاف کردیا ہے ہم سب برابر کے شریک ہیں اس جرم میں اخضر سائیں نے گہرا سانس لے کر دکھ سے کہا
نہیں میں زیادہ مجرم ہوں میں نے اپنی ادی سائیں پر ہی الزام لگا دیا میں اتنا گر گئی کہ اس سونیا کی باتوں میں آگئی
صنم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
اگر اتنا دکھ ہے اپنے کیے پر تو منا کیوں نہیں رہی اپنی ادی سائیں کو
کیا اتنا نہیں یقین ان پر کہ وہ تمہے معاف کرکے گلے لگا لیں گی
اخضر نے اس کا حوصلہ بڑھایا تو صنم اٹھ کھڑی ہوئی میں میں منا لوں گی آدی سائیں کو میں منا لوں گی صنم اندر چلی گئی پیچھے اس خالی جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں سے صنم اٹھ کر گئی تھی


حانم اپنے ہاتھ میں سوپ کا باؤل پکڑے آغا سائیں کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسے راستے میں صنم ملی زرد رنگت اور وہ اسے پہلے کی نسبت زیادہ کمزور لگی
ہر وقت شوق و چنچل سی صنم تو نہیں تھی وہ اخضر کو ہمیشہ ستاتی پڑھائی سے جان چھڑائی الٹی سیدھی حرکتیں کرتی صنم تو کہیں کھو ہی گئی تھی یہ تو کوئی اور تھی ویران سی
مجھے معاف کردیں حانم ادی سائیں میں بہت بری ہوں میں نے بہت غلط کیا آپ کے ساتھ
میں ۔۔۔میں سونیا کی باتوں میں آکر آپ کو دکھ دیتی رہی
وہ مجھے آپ کے خلاف کرتی رہی اور میں اس کا کہا مانتی رہی آج میں بھگت رہی ہوں ادی سائیں ایک ان دیکھی آگ میں جو میں نے ہی جلائے تھی آدی سائیں مجھے معاف کردیں علینہ آپی سائیں بھی مجھے نہیں بلاتی اخضر بھی ناراض ہے نہ گھر والے ٹھیک سے بات کرتے ہیں میں مانتی ہوں میری غلطی بہت بڑی ہے مگر آپ تو بہت بڑے دل کی ہیں نہ آپ مجھے معاف کردیں سب۔۔۔
سب معاف کردیں گے پلیز آدی سائیں مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی جب یہ سنتی ہوں کہ کسی پا ک دامن کے کردار پر الزام لگانے کی سزا کیا ہے تو میری روح کانپ جاتی ہے مجھے معاف کردیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں دن بہ دن ختم ہوتی جارہی ہوں حانم ادی سائیں مجھے معاف کردیں صنم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ پڑی حانم نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا ۔آج صنم کے دل کا بھی غبار نکل رہا تھا
میری جان میں نے تمہے معاف کیا
حانم کے ایک الفاظ اس کے جلتے دل پر اوس کی ٹھنڈی پھوار کی طرح برسے ۔۔۔۔


حانم جب صبح اٹھی تو نیچے سے ہنسنے کی آواز سن کر نیچے پہنچی
اففففف عینی اور زی سر آپ یہاں
ان دونوں کو حویلی میں موجود پا کر حانم تو پھولے نہیں سما رہی تھی اس کی دوست اس کی بہن نور العین فرانس سے آ چکی تھی
نہیں تو کل تک تو وہ مایوس ہی ہو چکی تھی کیونکہ عینی کے ڈاکومنٹس میں کوئی مسئلہ آرہا تھا
دیکھا میں نے کہا تھا نہ کہ میں ضرور آؤں گی
عینی نے گردن اکڑائی تو حانم اور عینی دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس دیں ۔۔۔۔


عینی کو بھی یہاں بالکل حانم ہی کی طرح ٹریٹ کیا جارہا تھا اس کی آنکھیں اتنی محبت پر بار بار نم ہورہیں تھیں
آنسہ بیگم نے تو صاف کہا تھا کہ ساحر کی بہن ہونے کی حیثیت سے نور العین میری اور حماد خان کی بیٹی ہے جس پر حماد خان نے بھی پورا ساتھ دیا تھا
جبکہ زارون اپنے خان سر کے یو پلٹنے پر خفا ہوا
خان سر آپ بھی زارون کی بے یقین سی آواز پر حماد خان کا قہقہہ گونجا
ہاں بھائی اتنے سال ایک جوان جہان لڑکے کا باپ بنا ہوں اب جا کر بیٹی ملی ہے تو تم گلا کر رہے ہو۔۔۔۔


حانم جب خان ولا ہوتی تو ساحر میر حویلی جب ساحر خان ولا آتا تو میر حویلی پہنچی ہوتی اتنے دنوں سے دونوں کی کوئی ملاقات نہیں ہوپائی
پھر جس دن ساحر نے واپس آنا تھا
تب بھی حانم اس سے نہیں مل پائی جی اس کا ساحر سے پردہ تھا
بقول ان کے اس طرح دلہن کو زیادہ روپ آتا ہے
بچارے ہاہاہا۔۔۔
عینی ان سب رسموں کو خوب انجوائے کر رہی تھی


مما سائیں پھوپھو سائیں میں نے نہ عینی اور زارون سر کو سرپرائز دینا ہے آپ پلیز تیاریاں پکی رکھئے گا حانم نے دونوں کو رازداری کے ساتھ کہا تو دونوں ہی اسبات میں سر ہلا گئیں تھیں
کیا باتیں ہورہیں ہیں لیڈیز عینی وہاں آئی
کچھ خاص نہیں شاپنگ کی باتیں ہورہیں ہیں
تم نے کر لی شاپنگ ؟؟؟
ہاں کر تو لی۔نور مگر میں یہ کپڑے کیسے پہنوں گی
تمہے پتا تو ہے میں نے کبھی پہلے ایسے کپڑے نہیں پہنے
یو نو ہیوی ہیوی ٹائپ
کوئی بات نہیں میں ہوں نہ حانم نے اسے ہے کیا
یو آر مائی سویٹ ڈارلنگ اس نے حانم کے گال کھینچے


زاویار بھی پاکستان آچکا تھا
ثمینہ بیگم نے اسے اس دلائی تھی
اب اس کا دل بے چین تھا نور حاکم کو دیکھنے کے لیے اس لیے اس نے اسے میسج کیا
جب دو بیلوں پر کال پک کر لی گئی
ہیلو نور نور میں زاویار
جی بولیں سر
نور میں پاکستان آگیا ہوں
جی تو؟؟؟
زاویار کو اس کی بے رکھی پر دکھ ہوا
مگر ہائے رے یہ بے بسی کبھی کسی کو محبت نہ ہو
تم اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ تب ہی میں ملوں گا تمہارے گھر والوں سے
آپ کو کیوں ہی اتنی جلدی میں گھر والوں سے ملنے کی اور ویسے بھی میری بہن کی شادی ہے ہم اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں
حانم نے سراسر جان چھڑائی
تو کیا تم مجھے اپنی بہن کی شادی پر انوائیٹ نہیں کرو گی ؟؟؟
حانم جو فون رکھنے والی تھی ایک لمحے کو چونکی
ضرور مسٹر زاویار کیوں نہیں آپ کے بغیر تو یہ شادی ادھوری ہے حانم پراسرار سا مسکرائی تو دوسری طرف زاویار اتنی سی توجہ پر خوس ہوگیا
میں ضرور آؤں گا شادی پر ۔۔۔


خیر سے وہ دن آہی گیا تھا جس کا سب کو انتظار تھا
مگر دوسری جانب زاویار کو بھی اس دن کا انتظار تھا مگر اس بات سے بالکل فراموش کہ یہ دن اس کی زندگی کا سب سے تلخ دن بننے والا ہے ۔۔۔۔


یہ منظر ایک بڑے اور خوبصورت سے فارم ہاؤس کا تھا جسے نہایت ہی خوبصورت سے دلہن کی طرح سجایا
گیا تھا
زاویار فارم ہاؤس کی چکا چوند دیکھ کر ایک لحمے کو تھم سا گیا تھا اسے نہیں پتا تھا کہ نور حاکم اتنی امیر ہے
خیر اس نے اپنے کورٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر نور کو میسج کیا ۔۔۔۔۔


حانم برائڈل روم میں بالکل تیار شیار بیٹھی تھی
بیوٹیشن کو کیونکہ ادھر ہی بلا لیا گیا تھا تو ابھی حانم کسی سے نہیں ملی تھی
گھر کے سب لوگ تیاریوں میں مصروف تھے تھوڑی دیر میں جب ساحر نے آنا تھا تب اس کا اور ساحر کا فوٹو شوٹ تھا پھر رسمیں شروع ہونی تھیں
اپنی بوریت دور کرنے کے لیے حانم نے فون اٹھایا تو بیک وقت دو میسج موصول ہوئے
زاویار میر کا میسج
وہ یہاں پہنچ چکا تھا اور اسے بلا رہا تھا ۔۔۔

ساحر سائیں حانم نے چونک کر اس کا میسج کھولا
سب سے پہلے اپنی نور ساحر کو دیکھنے کا حق صرف ساحر سائیں کا
حانم شش و پنج میں مبتلا ہوئی پھر کچھ سوچتے ہوئے انٹریس کی طرف بڑھی جہاں زاویار کھڑا تھا


پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب زاویار کی نظر بے دھیانی میں اپنے بائیں طرف بنی راہ داری پر پڑی اور اسے لگا جیسے وقت تھم سا گیا
نور سرخ رنگ کے لہنگے میں بھاری بھرکم زیور پہنے قدم قدم چلتی اس کے پاس آئی
سرخ خوبصورت جوڑے میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی مہارت سے کیا گیا میک اپ اس کے نقوش میں نکھار پیدا کرہا تھا ۔۔۔۔
نور۔۔۔۔زاویار مہبوت سا بس یہ ہی کہہ سکا ۔۔۔
کہاں کھو گئے کزن سائیں
حانم نے زاویار کے آگے چٹکی بجائی
ہاں وہ نہیں زاویار ابھی تک مہبوت تھا کہ اس کے منہ سے اپنے لیے کزن سائیں سن کر بھی حیران نہ ہوا
مسٹر زاویار سکتے میں چلے گئے ہو کیا
حانم نے زور سے تالی بجائی
زاویار کو ہوش آیا
تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو نور
نورِ حانم پورا نام ہے میرا سو کال می نورِ حانم
حانم نے سپاٹ لہجے میں کہا
نورِ حانم،،،،، زاویار تھوڑا سا چونکا ۔۔۔۔
خیر تمہارے گھر والے کہاں ہیں نور میں نے اپنی مما سے بات کی ہے وہ آئیں گے ۔۔
وہ اپنے مستقبل کو لے کر ایکسائٹڈ تھا
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ آئیں یا نہ آئیں حانم نے بے زار سے لہجے میں کہا
نور مجھے پتا ہے کہ تم مجھ سے ناراض ہو اس طرح پرپوز کرنے پر مگر مجھے نہیں پتا تھا میں اب لے کے آؤ گا نہ انہیں
زاویار کی حالت مسکینوں جیسی ہوگئی تھی
زاویار اور بھی بہت کچھ بول رہا تھا مگر حانم کی اگلی بات پر اس کو چپ لگ گئی
جلدی بولو جو تم بولنے آئے ہو میر زاویار بارات کے آنے کا وقت ہوگیا ہے میرے سسرال والے پہنچتے ہی ہوں گے
اسے لگا اس نے سننے میں غلطی کی ہے
کیا کہا مطلب تمہارا مطلب تمہاری بہن کے سسرال والے ۔۔۔ نہیں مسٹر زاویار میں اپنے سسرال والوں کی بات کر رہی ہوں لگتا ہے آپ کے کان خراب ہوگئے ہیں
یہ یہ کیسا مذاق ہے حانم
یہ مزاق نہیں ہے مسٹر زاویار
تم نے تو کہا تھا کہ تمہاری بہن کی شادی ہے
یس آفکورس میری رخصتی کے بعد اسی کی شادی ہے
یہ کیا بکواس ہے ہی جھوٹ ہے تمہاری رخصتی
یہ کوئی بکواس یا مزاق نہیں ہے مسٹر زاویار جواد میر
یہ حقیقت ہے
میری زندگی کی سب بڑی حقیقت اور پتا ہے میری زندگی کی سب سے تلخ حقیقت کیا ہے میرا تم سے سامنہ ہونا ہے
اس سے بڑی تلخ حقیقت یہ ہے کہ تم زاویار جواد میر ہو اور میں نورِ حانم اسعد میر اس سے بڑی حقیقت میں تمہاری سابقہ بیوی ہوں جس سے تم بغیر ملے بغیر دیکھے طلاق دے کر جا چکے تھے
جس کی ذات کے پرخچے تم نے اپنی انا کے زعم نکالے تھے

اس سے بھی بڑی حقیقت کے آج میری شادی ہے
پتہ ہے کس سے
جہاں اتنے جھٹکے دیئے ہیں وہاں ایک اور سہی حانم نے طنزیہ لہجے میں کہا
میٹ مائی سیلف مسز نورِ حانم ساحر حماد خان!!!
حانم کے لہجے میں تفخر تھا
نہیں۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔۔یہ سب جھوٹ ہے تم جھوٹ بول رہی ہو تم تم وہ نہیں ہوسکتی تم تو نور ہو نور حاکم بہادر ،عقلمند ،خوبصورت تم وہ نہیں ہوسکتی
تم کیسے وہ ہوسکتی ہو
میں وہ ہی ہوں جس کی ذات کا تماشا بنایا تھا تم نے نے میں وہی ہوں ہو جس کے کردار کو سوالیہ نشان بنا دیا تھا تم نے
تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے بدلہ لیا ہے مجھ سے
زاویار غم غصے اور دکھ بھرے لہجے میں حانم کو دونوں بازوؤں سے تھامے جھنجھور کر بولا
اس کا لہجہ اور آواز بلند ہوگئی
جب وہاں ساحر آیا ساحر کی آنکھوں میں شولے بھڑک رہے تھے ۔۔۔
حانم کا اس کی سرمئی سرخ آنکھیں دیکھ کر دل سہما
حانم نے پوری قوت سے زاویار کو دور جھٹک کر اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا
میں نے پہلے بھی کہا تھا مسٹر زاویار مجھے ہاتھ لگانے کی جرات بھی مت کرنا
اور جا رہی دھوکے اور بدلے کی بات تو یہ سب تمہاری فطرت ہے میری نہیں میں نے کبھی تمہاری حوصلہ افزائی نہیں کی تھی
تم ہی رال ٹپکا کر آئے تھے
تم پر میں تھوکنا پسند نہ کروں
میری خواہش تھی کہ میری کبھی تمہارے ساتھ ملاقات نہ ہو ہو مگر شاید قسمت کو بھی تم جیسے انا پرست غرور کے پتلے کو خاک کرنا تھا
یاد تو ہوں گے ہی تمہے اپنے الفاظ۔۔۔
آج تمہے اس حال میں دیکھ کر میں تم سے اپنا آخری نفرت کا رشتہ بھی ختم کرتی ہوں۔۔۔
حانم جاتے جاتے مڑی
ہاں اب آ ہی گئے ہو شادی پر تو کھانا کھا کر جانا ہم گاؤں والے بہت بڑے دل کے ہوتے ہیں
حانم نے حقارت آمیز لہجے میں کہہ کر ساحر کا ہاتھ تھامہ اور اسے وہاں سے کے گئی
نہیں نہیں نور میں مر جاؤ گا تمہارے بغیر زاویار گھٹنے کے بل بیٹھتا چلا گیا
دوسری والی سائیڈ سے مہمان آنے لگ پڑے تھے اور زاویار ادھر ہی ساکت گھٹنے کے بل بیٹھا تھا تھکے ہارے لٹے ہوئے جواری کی مانند اسے وہ تھپڑ تکلیف دہ نہیں لگا جتنا یہ سن کر کہ وہ ساحر کی بیوی ہے اور اس سے بڑھ کر اس کی سابقہ بیوی ہے جسے پانے کے تمام راستے وہ کھو چکا تھا نور!!!!!
زاویار وہاں سے اٹھا اور ایکزٹ کی طرف تنے ہوئے اعصاب کے ساتھ بڑھا

جاری ہے ۔۔۔۔۔