58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

ہیلو ہاں زاوی میں نے خان سے بات کرلی ہے
اسے کوئی اعتراض نہیں ہے
میں پیپرز بنوا لیتا ہو ایک مہینہ تو لگ ہی جائے دوسرے ڈاکومنٹس کو مکمل ہونے میں تو چاہے تو کل سے ہی آجا آفس
پہلی بات تو تمہارے اس خان کو اعتراض ہونا بھی نہیں چائیے کیونکہ تم پچاس فیصد کے مالک ہو دوسری بات میں ابھی لندن کے لیے نکل رہا ہوں کچھ ضروری کام ہیں وہ سب سیٹ ہو جائیں تو تب تک ڈوکومنٹس کلیر کروا میں مہینے بعد ہی تجھے جوائن کروں گا
زاوی کی پہلی بات مغرور انداز میں کہنے پر زارون نے سر جھٹکا یہ بندہ نہیں بدل سکتا
اچھا ٹیک یور ٹائم بائے !!!!


آؤ جاوید سائیں خیریت سے آنا ہوا آغا سائیں جو ابھی حویلی کے باغات کی نظر سانی کرکے آئے تھے میر جاوید کو اپنے کمرے میں دیکھ کر بولے
اسلام علیکم آغا سائیں
وعلیکم السلام ہم بولو
آغا سائیں آپ نے نور حانم کو ساحر کے ساتھ بھیجا ہے پیرس
جاوید سائیں کے لہجے کی سختی محسوس کرکے آغا سائیں کے اپنی شال ٹھیک کرتے ہاتھ تھمے
تم ہم سے جواب سانی کرنے آئے ہو جاوید سائیں
آغا سائیں کا لہجہ سپاٹ تھا
نہیں آغا سائیں مگر آپ ساحر کو کیسے بھیج سکتے ہیں حانم کے ساتھ
میں نے اسے نہیں بھیجا جاوید اس کے آفس والوں نے اسے کام کے سلسلے میں بھیجا ہے
میں نے بس نورے کو اسی بلڈنگ میں فلیٹ لے کر دیا ہے
مگر آپ اس پر کیسے یقین کرسکتے ہیں آغا سائیں
جاوید سائیں کو کسی صورت یہ بات برداشت نہیں ہورہی تھی کہ ساحر بھی حانم کے ساتھ پیرس میں ہے
تمہاری نفرت ایک طرف جاوید سائیں
گر ہم نورے کے معاملے میں غیر پر یقین نہیں کرسکتے ویسے بھی پہلے اس نے اکیلے جانا تھا تب ہمیں اس کی زیادہ فکر لگی رہتی
صرف میری نفرت آغا سائیں آپ کو نہیں نفرت اس سے آپ کو یاد نہیں کس طرح اس کے باپ نہیں ہماری عزت پر وار کیا تھا
وہ شخص اب اس دنیا میں نہیں ہے اور ویسے بھی جاوید سائیں تاکہ ایک ہاتھ سے نہیں بجتی جتنا قصور ساحر کے باپ کا ہے اتنا ہی اس کی ماں کا ہے
ساحر پر اس لیے یقین کیا کہ وہ ہمارے سامنے پلا بڑا ہے
ہمارے سامنے پرورش تو ساحر کی ماں نے بھی پائی تھی
میں صرف آپ کو مستقبل کا آئینہ دیکھا رہا ہوں آغا سائیں باقی آپ کی مرضی کیونکہ حانم میرے چھوٹے بھائی کی اکلوتی اولاد ہے اور مجھے عزیز بھی
یہ کہ کر جاوید سائیں کمرے سے باہر چلے گئے بنا دروازے کے ساتھ لگی آنسہ بیگم کو دیکھے جن کی آنکھیں آنسوؤں
سے بھری ہوئی تھیں
آج اتنے سالوں بعد اپنے باپ بھائی کے منہ سے اپنا زکر سن کر دل جہاں خوش فہم ہوا خود کے لیے ان کے الفاظ سن کر دل چھلنی ہوگیا اندر زکر تو ان کا تھا مگر مجرم کی صورت میں ساحر کی ماں کی صورت میں
کہاں کی بہن !!!!
کہاں کی بیٹی !!!!
بائس سال بائس سال تھوڑے تو نہیں ہوتے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ان کے بڑے بھائی اور بابا سائیں اس سے لا تعلق تھے مگر وہ پھر بھی راتوں کو اپنے آغا سائیں کے پیروں میں بیٹھ کر کتنے ہی گھنٹے گزار دیا کرتی تھی اور آج
آنسہ کا دل کیا کہ ابھی انہیں موت آجائے اور اسی وقت گھر والوں کے سامنے سچ

غم زندگی، غم بندگی، غم دو جہاں ،غم کارواں
میری ہر نظر تیری منتظر ،تیری ہر نظر میرا امتحان


ڈیڑھ ماہ بعد !!!!
حانم کو پی ۔ایس ۔بی (پیرس سکول اوف بزنس ) میں پڑھتے ہوئے شروع شروع میں اسے وقت کی تبدیلی اور کھانے کی وجہ سے مسئلہ ہوا تھا مگر وہ بھی ساحر نے حل کردیا تھا ایک میڈ روزانہ اس کے گھر آنے پر کھانا بنا کر چلی جاتی اور پک۔اینڈ ڈروپ ساحر دے دیتا
……..

ساحر حانم کو پک کرکے فلیٹ چھوڑنے کا رہا تھا
مجھے بھوک لگ رہی ہے کچھ باہر کا کھانا ہے
ساحر نے گاڑی ریسٹورنٹ کی طرف بڑھا دی
آج فادرز ڈے تھا جگہ جگہ بیلون اور کارڈز بنے دیکھنے کو مل رہے تھے
فادرز ڈے یاد کرکے حانم کی آنکھیں نم ہوئیں
ایک بات پوچھوں ساحر سائیں
ہمممم ۔۔۔۔ کھانے کے دوران حانم کی باتوں کی عادت تو اسے بھی ہوچکی تھی
گھر والوں کا رویہ آپ کے ساتھ اتنا سرد کیوں ہے
ساحر کے ہاتھ تھمے
تم کیوں جاننا چاہتی ہو
بتائیں نہ ساحر سائیں آپ کو بھی تو میرے بارے میں سب پتا ہے
چھوڑو تم جلدی کھانا کھاؤ مجھے تمہے گھر چھوڑ کر آگے بھی جانا ہے
That’s not fair

آپ کو تو میرے بارے میں سب پتا ہے اپنی باری بات چھوڑو
آپ کو پھوپھو سائیں کی قسم
نورِ حانم ساحر نے اس کی قسم دینے پر بے بسی سے اسے دیکھا
حانم نظریں چڑا گئی


تم یہاں پر کیا کر رہے ہو میں نے منع کیا تھا نہ کہ آج کے بعد مجھ سے رابطہ مت کرنا تم سیدھا حویلی میں ہی گھس گئے ہو شائستہ حماد پر دبا دبا سا چیخی
دیکھو شائستہ میرے ساتھ ایسا مت کرو میں تم سے محبت کرتا ہوں تم کیوں مجھے نظر انداز کر رہی ہو
اس کے محبت محبت کی رٹ پر وہ چڑ گئی مگر اس وقت معامل گھمبیر تھا اس لیے گہری سانس لے کر اسے سمجھانے لگی دیکھو میری بات سمجھنے کی کوشش کرو اگر کسی نے تمہے اس وقت میرے ساتھ چھت پر دیکھ لیا تو قیامت آجائیے گی اور اگر جواد یا جاوید ادا سائیں میں سے کسی نے بھی دیکھ لیا تو وہ دونوں کو ہی زندہ زمین میں گاڑ دیں گے
پلیز چلے جاؤ حماد
شائستہ نے جھرجھری لیتے اسے مستقبل کا نقشہ دیکھایا ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا میں قسم کھاتا ہوں میں اپنی محبت پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا تم بس وعدہ کرو ہمیشہ میرا ساتھ دو گی
کیا ساتھ ساتھ کی رٹ لگائی ہوئی ہے میں تم کنگلے سے شادی کروں گی میں چاہوں تو ابھی کہ ابھی ادھر تمہاری قبر بنوا سکتی ہوں اس لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم یہاں سے دفعہ ہوجاؤ
شائستہ کی اب بس ہوگئی تھی حماد کو واضح لفظوں میں اس کی اوقت یاد دلا کر یہاں سے چلتا کرنا چاہتی تھی
ابھی وہ اسے اور کچھ کہتی اسے اپنے پیچھے سے کانچ کے ٹوٹنے کی آواز آئی شائستہ کا رنگ متغیر ہوا
وہ ایک دم پیچھے مڑی


آنسہ جو پانی لینے کی غرض سے کیچن میں جارہی تھی جب چھت سے کھٹ پٹ کی آواز آئی پہلے تو وہ ڈر گئی مگر جب اسے شائستہ کی آواز محسوس تو آنسہ ہمت کرتی سیڑھیوں پر چڑھی
شائستہ ادی اس وقت چھت پر مگر شائستہ کو کسی لڑکے کے قریب دیکھ کر اس کا رنگ متغیر ہوا ہاتھ میں پکڑا پانی کا جگ زمین پر گر کر چکنا چور ہو گیا
شائستہ آنسہ کو دیکھ کر جہاں تھورا سکون میں آئی وہاں نیچے سے جواد سائیں کی آواز سن کر اس کے صحیح معنوں میں اوسان خطا ہوئے
کون ہے اوپر کون ہے جواد سائیں کے ساتھ جاوید بھی آواز سن کر اوپر سیڑھیوں کی طرف لپکا
شائستہ نے آنسہ کو اسی حالت میں کھڑا دیکھ کر اسے حماد کی جانب دھکا دیا اور خود چور چور آوازیں دینے لگی حماد تو ابھی بھی شائستہ کے لفظوں کے زیر اثر زمین کو گھور رہا تھا ہوش تو تب آیا جب آنسہ کا ہاتھ اس کے کندھے پر لگا
آنسہ شاہستہ کے دھکے پر سنبھل بھی نہ پائی گرنے سے بچنے کے لیے اس کا ہاتھ حماد کے کندھے سے مس ہوا اور اس کے سر پر لپٹی چادر ڈھلک کر کندھوں پر آگئی
اس نے غائب دماغی سے اپنے قریب کھڑی لڑکی کو دیکھا جب ایک بھاری ہاتھ کا مکا اس کے گال پر لگا وہ لڑکھڑا کر دور گڑا آنسہ کی چیخ بے ساختہ تھی
تم دونوں یہاں پر کیا کر رہی ہو جاوید سائیں نے آنسہ کا بازو سخت گرفت میں پکڑا
ادا سائیں میں پانی پینے آئی تھی چھت سے آوازیں آئیں تو مجھے لگا چور ہے مگر جب میں نے اوپر آکر دیکھا تو
آن۔آنسہ اس ۔۔ شخص ک۔کےے قریب کھڑی تھی شائستہ نے آنسہ کے بولنے سے پہلے ہی تیزی سے کہا
آنسہ کو تو چُپی لگی ہوئی تھی جو کبھی بغیر حجاب کے بھائیوں کے سامنے نہیں گئی آج اسے اپنی شال کا بھی ہوش نہیں تھا
چٹاخ!!!!
جواد سائیں نے ایک زناٹے دار تھپڑ آنسہ کی گال پر جڑھا
بے حیا ۔۔۔۔
آغا سائیں نے ایک نظر اپنی بیٹی کے حُلیے پر ڈالی اور ایک نظر اس شخص پر جس کا منہ خون سے رنگا ہوا تھا
کرب سے آنکھیں میچ کر ایک فیصلہ کیا
جواد سائیں مولوی صاحب کو بولاؤ ان دونوں کا نکاح ہوتے ہی ان کو حویلی سے چلتا کرو اور کہ دینا اس لڑکی سے اگلی بار اس در پر آئی تو سامنے اس کا باپ نہیں اس گاؤں کا سردار ہوگا اور باغی لوگوں کا انجام تم لوگوں کو اچھے سے پتا ہے
ایک نفرت انگیز نظر آنسہ پر ڈال کر وہ اندر بڑھ گئے


حماد اسے لے کر اپنے گھر آگیا
حماد یہ کیا سن رہے ہیں ہمم
صوفے کی پشت پر سر لگا کر آنکھیں موندا حماد مورے کی آواز پر جھنجھلایا
کیا سن لیا آپ نے مورے
تم ۔۔تم اس لڑکی کو شادی کرکے لے آئے ہو
خان تم ایسا کیسے کر سکتے ہو میں ہرگز نہیں اس لڑکی کو اپنی بہو مانوں گی
مورے کی گرجدار آواز پر حماد نے بے زاری سے کہا
تو مت مانیں۔۔۔۔
حماد گھر سے باہر نکل گیا


آنسہ کو سمجھ ہی نہ آیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے اس کی بہن اس کی ماں جایا نہ اس پر اتنا بڑا اور گھٹیا الزام لگا دیا اس کے ادا سائیں جو اس پر جان چھڑکتے تھے انہوں نے اس سے بغیر کوئی وضاحت مانگے اس پر ہاتھ اٹھا چکے تھے اور آغا سائیں کسی کے بھی ہاتھ میں اس ہاتھ پکڑا کر احسان کرتے ہوئے کہا کہ شکر کرو جان بخش دی اس سے اچھا تو اس سے جان سے ہی مار دیتے
اور وہ شخص جس کے ساتھ اس کی زندگی جڑ گئی تھی وہ کیسے بے کار شہ کی طرح
باہر لاونج سے آتی ایک عورت( جو شاہد اس لڑکے کی ماں تھی ) کی سرد آواز اسے سہمنے پر مجبور کرگئی
آہ۔۔۔ لڑکی ادھر آہ تجھے شرم نہیں آتی اپنے گھر والوں کی عزت خراب کرتے ہوئے
یہاں پھر تیرا خاندان ہی ایسا ہے
آنسہ ان کی بات پر تڑپ اٹھی نہیں میں ایسی نہیں میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے میں ایسی نہیں ہوں
اتنا کہ کر آنسہ چکراتے سر کے ساتھ زمین پر گر گئی ۔۔۔
مورے اس کے بے ہوش ہونے پر تشویش میں آئیں


حماد کے والد کو جب حماد کی حرکت کا پتا لگا ان کا ردعمل شدید تھا کس لڑکی کو اٹھا کر لائے ہو حماد خان
بابا وہ ۔۔۔
جہاں سے لائے ہو اسے وہی چھوڑ آؤ حماد خان اس سے پہلے میرا دماغ خراب ہو
خان بابا آپ ایک دفعہ میری بات سن لیں
پھر آپ کا جو فیصلہ ہوگا
حماد نے سب سچ انہیں بتا دیا
تمہے شرم نہ آئی حماد خان رات کے پہر کسی کے گھر میں گھستے ہوئے
اور وہ بچی کتنا برا ہوا اس کے ساتھ
میں نے بھی اسے کافی کھڑی کھوٹی سنا دی
مورے کو افسوس ہوا
کہاں ہے اب وہ بچی خانم ہم جاتے ہیں اس کے گھر
وہ بے ہوش پڑی ہے اندر
کیا بے ہوش آپ نے ڈاکٹر کو اطلاع دی
نہیں ۔۔۔۔۔
کیوں بڑے خان کے ماتھے پر بل پڑے
مجھے اس پر غصہ تھا خان صاحب مجھے لگا وہ لڑکی ناٹک کر رہی ہے
………

مورے اور بڑے خان جب کمرے میں گئے تو آنسہ اپنی شال کو زمین میں بچھائے اس پر بیٹھ کر ہچکیاں لیتی رو رہی تھی
اللّٰہ میری مدد فرما
اللّٰہ!!!!
مورے نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
آنسہ چونک گئی
میں ایسی نہیں ہوں
ہاں میری بچی مجھے معاف کر دو مورے نے اسے گلے لگا لیا
دونوں کا ہی آنسہ کے ساتھ رویہ ٹھیک ہوگیا تھا مگر حماد رات رات کو دیر سے گھر آتا اس کا آنسہ کے ساتھ نہ ہونے کے برابر تعلق تھا


حماد خان رات کے دو بجے گھر واپس آیا تھا جب مورے اسے دروازے پر ہی مل گئیں
مورے آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں
تم اتنی اتنی دیر تک باہر رہتے ہو میں کیسے بے فکر ہوکر سو سکتی ہوں
حماد خان حماد ابھی اپنے روم جانے ہی لگا تھا کہ مورے کی آواز پر تھما
جی مورے
حماد وہ بچی بہت اچھی ہے
مورے اگر آپ نے اس کی بات کرنی ہے تو میں جاؤ
کب تک اس دھوکے باز لڑکی کا روغ دل میں لیے پھیرو گے ارے اس نے تو اپنی بہن کو نہیں چھوڑا
شکر کرو تم کہ تمہے اتنی نیک سیرت بیوی ملی ہے خوش نصیب ہو تم
تم خان ہو حماد اور خان اپنی بیویوں کو سر کا تاج بناتے ہیں پاؤں کی جوتی نہیں سنبھل جاؤ حماد یہ نہ ہو اسے کھو دو وہ تم سے زیادہ دکھ میں ہے اسے تمہاری ضرورت ہے تم اس کا واحد سہارا ہو ۔۔۔۔


مورے کی بات اب تک اس کے دماغ میں گونج رہی تھی
کیا واقعی وہ اب بھی شائستہ کو یاد کرتا ہے ؟؟
نہیں وہ اسے یاد نہیں کرتا تھا
نہیں وہ لالچی لڑکی تھی جو اپنے مطالب کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی تھی اس نے تو اپنی بہن کو بھی نہیں چھوڑا
پچھلے کچھ دنوں سے وہ پریشان تھا اس کے بابا کے کزن نے ان کی جائیداد پر نا حق قبضہ کیا ہوا تھا جس کا کیس پچھلے دو سال سے چل رہا تھا حماد اسے لے کر پریشان تھا
حماد کو وہ گندمی رنگت والی لڑکی یاد آئی آنسہ ہاں آنسہ نام تھا اس کا اس کا کیا قصور تھا
اس کے تو گھر والوں نے ہی اسے گھر سے نکال دیا اور اب حماد نے اس سے لا تعلقی برتلی
حماد کے قدم بے ساختہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھے آنسہ جاہ نماز پر بیٹھی دعا کر رہی تھی اس کی گندمی رنگت سے سنہریاں چھلک رہی تھی
حماد کو لگا اس نے آج سے پہلے کبھی اتنا خوبصورت منظر نہیں دیکھا اس کے آنسو اس کے گال پر موتیوں کی طرح چمک رہے تھے ..
حماد خان کے قدم بلا جھجھک ہی آنسہ کی طرف بڑھے
آپ آنسہ جاہ نماز تہہ کر رہی تھی حماد کو سامنے کھڑے دیکھ کر چونکی
آنسہ کی آنکھوں میں ڈر دیکھ کر حماد شرمندہ ہوا
بیٹھو بیڈ کے پاس جگہ بنائی
آپ میری بات کا یقین کریں مجھے اس دن کے بارے میں کچھ نہیں پتا
میں بہت برا ہوں نہ اور بزدل بھی اس وقت تمہاری بہن کی سچائی بھی نہ کھول سکا اور تمہے بھی نہ بچا سکا
مجھے معاف کر دو
حماد نے نم آنکھوں سے ہاتھ جوڑے
نہیں پلیز آپ میرے آگے ہاتھ نہ جوڑیں آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی ان سب چیزوں کی قصور وار کون ہے
اگر تم کہوں گی تو میں تمہے تمہارے گھر چھوڑ آؤں گا
آپ کو لگتا ہے میرے گھر والے مجھے وہاں آنے دیں گے زیادہ زیادہ جان سے مار دیں گے
نم لہجے میں کہا
اگر تم چاہو تو تم۔میرا مطلب ہے کہ اس رشتہ
میرا ماننا ہے جو ہوتا ہے اس میں اللّٰہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے
اس رشتے میں بھی میرے رب کی رضا ہوگی


اس دن کے بعد سے حماد کا رویہ بھی آنسہ کے ساتھ ٹھیک ہوگیا تھا
کچھ مہینوں بعد ۔۔۔۔۔۔
مورے مورے خوشی سے تیز تیز آواز دیتا گھر میں داخل ہوا
مگر سامنے لیڈی ڈاکٹر کو دیکھ کر اس کا رنگ اڑا
مورے یہ ڈاکٹر یہ یہاں کیا کر رہی تھی
آرام سے خان اتنا اتولا کیوں ہورہے ہوں
مورے آپ بتائیں آنسہ ٹھیک ہے
ہاں بھائی ٹھیک ہے آنسہ یہ پکڑ جوس اسے پلادے میں تو بہت تھک گئی ہوں ان دونوں کو خیال رکھتے ہوئے
جوس کمرے تک لے جاتا حماد ایک دم مڑا دونوں
ہاں میرے باؤلے خان دونوں
مورے نے ہنس کر کہا
حماد کا چہرا بھی خوشی سے چمکا
کیا ہے خان سائیں ایسے کیوں دیکھ رہیں ہیں
آنسہ نے حماد کو مسلسل خود کو دیکھتے پا کر آخر کہہ ہی دیا
اففف تمہارا “خان ” “سائیں” کہنا
آنسہ شرما گئی
تم کسی نیکی کا پھل ہو آنسہ جب سے تم آئی ہو میری زندگی میں سب اچھا ہورہا ہے
پتا ہے ہمارا جو کیا پچھلے تین سالوں سے اٹکا ہوا تھا وہ سولو ہوگیا ہے ہمیں ہماری جائیداد واپس ملنے لگی ہے
حماد نے خوشی خوشی اسے بتایا
یہ تو بہت اچھی خبر ہے خان سائیں
آپ نے مورے اور خان بابا کو بتایا وہ بہت خوش ہوں گے
ہاں ان کو ہی بتانے جار ہا ہوں تم جوس پیؤ میرے آنے تک ختم ہوچکا ہو


آنسہ نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا جس کا نام انہوں نے ساحر حماد خان رکھا
…..
آج ساحر نے پہلی دفع بابا بولا تھا
اس کے توڑ کے بابا بولنے پر حماد اور آنسہ دونوں کی ہی آنکھیں نم ہوگئیں


آپ خوش ہیں نہ آنسہ
حماد خان جانے کس رو میں تھے جو آنسہ کے پاس بیٹھے ان سے پوچھنے لگے
میرے چہرے کی مسکراہٹ کو دیکھنے کے باوجود آپ کو کوئی شک ہیں خان سائیں
نہیں مگر
کیا بات ہے خان سائیں ایسے بات دل میں رکھنے سے بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں
آنسہ نے رسان سے کہا
آپ کا کہیں رشتہ طہ تھا ؟؟؟
جی میری شادی میری بڑی بھابھی کے مامو زاد بھائی کے ساتھ تہ تھی اور میں اس شادی کے لیے راضی بھی تھی
حماد نے آنسہ کے چہرے پر درد کے آثار کھوجنا چائیے مگر اس کے پر نور چہرے پر کسی قسم کے کوئی تاثرات نہیں تھے ہر طرح کے تاثرات سے پاک چہرہ
مگر ۔۔۔۔۔
مگر؟؟؟ حماد کا دل زور سے دھڑکا
آنسہ اب ان کی بیوی تھی نہ صرف بیوی ان کے بیٹے کی ماں اور ان کی محبت بھی ان کی منہ سے کسی اور کا زکر سننے کا حوصلہ بہت مشکل سے پیدا کر پائے تھے وہ ۔۔۔
مگر ؟؟؟
میرے دل میں ان کے لیے کوئی جزبات نہیں تھے
میں نکاح سے پہلے کسی غیر محرم کی سوچ اور خیال دل میں پیدا کرکے گناہ گار نہیں ہونا چاہتی تھی اب چائے وہ میرے منگیتر ہی کیوں نہ تھے
آنسہ عام سے انداز میں کہتی ان کا دل سرشاری سے بھر گئی تھیں


آج ساحر کی دوسری سالگرہ تھی
بڑے پیمانے پر فنکشن رکھا گیا تھا
خان ویلا کو ہر طرف سے سجایا گیا تھا بڑے خان اور
بی بی صاحب دربار کھانا بانٹنے گئے تھے
اللّٰہ کے کرم سے ان کے گھر خوشیاں آئیں تھیں
حماد خان گھر کی سجاوٹ میں مصروف تھے
آنسہ آنسہ کہا ہیں آپ ؟؟
حماد خان آنسہ کو ڈھونڈتے کمرے میں آئے اور ادھر ہی سٹل ہوگئے
جی خان سائیں میں بس ساحر کو تیار کر رہی تھی بہت شرارتی ہوگیا ہے آپ کا شیر ایک جگہ ٹکرا ہی نہیں صبح کے تیسری دفعہ کپڑے بدل چکی ہوں اس کے مگر۔۔۔۔
سرخ رنگ کی لمبی فراک پہنی ہوئی تھی اور بالوں کو جوڑے میں قید کیا گیا تھا میک اپ اسے اتنا کوئی خاص پسند نہیں تھا تو صرف لائنر کی ہلکی سی لکیر بھوری آنکھوں پہ جچ رہی تھی
اپنے ہی دھیان میں ساحر کو شوز پہنا رہی تھی جب حماد خان نے ان کے ہاتھ سے شوز پکڑ کر ساحر کو پہنائے اور خود آنسہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں شیشے کے سامنے لے آئے
کیا ہوا خان سائیں ؟؟؟
بہت پیاری لگ رہیں خانم سائیں
حماد خان نے ایک عقیدت اور محبت بھری نظر ان پر ڈالی
خان سائیں ساحر دیکھ رہا ہے آنسہ نے نظریں جھکا کر کہا
تو کیا ہوا میں اپنے شیر کی مما کو دیکھ رہا ہوں
حماد خان نے چھوٹے سے ساحر کو گود میں اٹھا کر ہوا میں اچھالا جس کی کھکھلاہٹ پورے کمرے میں گونجی
یہ لیں یہ گجرے
یہ تو بہت پیارے ہیں خان سائیں آنسہ نے گجرے اپنی ناک کے قریب کیے
تو پھر انہیں اپنے بالوں پے لگائیں نہ
حماد خان نے اس کے بالوں کے بنے جوڑے کی طرف اشارہ کرکے کہا
کیا فائدہ خان سائیں میں نے تو حجاب کر لینا ہے
تو کیا ہوا دیکھنے تو میں نے ہی ہیں نہ
آنسہ نے مسکرا کر گجرے اپنے جوڑے میں بندھے بالوں میں سجا لیے
آپ مورے اور بابا کو لے آئے ہیں خان سائیں
آنسہ حجاب پر پن لگاتی بولی
سس۔۔۔
کیا ہوا حماد خان آنسہ کی سسکی پر فوراً اس کی طرف ہولیے
کچھ نہیں خان سائیں بس پن لگ گئی
حماد خان نے آنسہ کی انگلی تھامی جہاں سے نکتا برابر خون نکل رہا تھا
کچھ نہیں ہوتا خان سائیں آپ ساحر کو مجھے پکرائیں اور جا کر مورے وغیرہ کو لے کر آئیں دیر نہ ہو جائے
اچھا بابا جا رہا ہوں
حماد خان کو باہر جاتے دیکھ ساحر ان کی طرف لپکا
نو بے بی نہیں آپ صبح سے پہلے ہی بہت تھکا چکے ہیں مما کو پھر کپڑے خراب کرو گے
آنسہ نے ساحر کو گود میں اٹھا لیا ۔۔۔۔


کچھ ہی لمحوں کی بات تھی آنسہ کی خوشیوں کو نظر ہی لگ گئی
حماد اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ مورے اور بابا سائیں تھے ان کی گاڑی کی بریکیں فیل کردی گئی تھی
ایکسیڈنٹ شدید تھا تینوں ہی موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے
ویلا میں گونجتی آنسہ کی درد ناک چیخیں سن کر آس پاس کے لوگوں کے ساتھ ساحر بھی کڑلا گیا


اکیلی عورت کو کبھی معاشرے نے رہنے دیا وہ حویلی کسی اور کی دولت کہ کر ضبط کرلی گئی تھی
آنسہ جس حالت میں واپس حویلی آئی تھی کسی نے تو کیا خود آنسہ نے بھی نہیں سوچا تھا
اس قابل رحم حالت پر گھر والوں نے اسے رہنے دیا تھا مگر
سلوک ایسا ہی کیا جاتا جیسے وہ کوئی ہے ہی نہیں
آنسہ نے اپنی مجرم کو تلاش کیا تھا مگر بھابھی کے ہی باتوں سے پتا چلا تھا شائستہ کی شادی اشرف سے ہوگئی ہے اور اب وہ امریکہ میں سیٹل ہیں
دونوں بڑی بھابھیوں کا انداز تو لیا دیا تھا مگر حالہ بیگم چونکہ اس معاملے سے واقف نہیں تھی ان کا رویہ ٹھیک تھا
تو بس یہ ہی تھی گھر والوں کی ہمارے سے سرد رویے کی وجہ
ساحر نے طنزیہ انداز میں کہا
حانم کی بھوری آنکھیں بھیگی ہوئی تھی
اس نے ایک نظر ساحر نے سرخ ہوتی سرمئی آنکھوں میں دیکھا

ہستے ہوئے چہروں کو غموں سے آزاد مت سمجھو
تبسم کی پناہوں میں ہزاروں درد ہوتے ہیں

میں کبھی بھی اس بات پر یقین نہ کرتی کی بڑی پھوپھو سائیں ایسی ہیں ساحر سائیں اگر یہ بات مجھے کسے اور سے سننے کو ملتی
حانم نے اپنے آنسو صاف کیے

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔