58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 07
ثمرین شیخ

تو بس یہ ہی تھی گھر والوں کی ہمارے سے سرد رویے کی وجہ
ساحر نے طنزیہ انداز میں کہا
حانم کی بھوری آنکھیں بھیگی ہوئی تھی
اس نے ایک نظر ساحر کی سرخ ہوتی سرمئی آنکھوں میں دیکھا

ہستے ہوئے چہروں کو غموں سے آزاد مت سمجھو
تبسم کی پناہوں میں ہزاروں درد ہوتے ہیں

میں کبھی بھی اس بات پر یقین نہ کرتی کی بڑی پھوپھو سائیں ایسی ہیں ساحر سائیں اگر یہ بات مجھے کسے اور سے سننے کو ملتی
حانم نے اپنے آنسو صاف کیے
ساحر نے چونک کر اسے دیکھا تو کیا وہ اس کے لیے خاص تھا
مگر دل میں آئی خوش فہمی کو دماغ نے بری طرح جھٹکا ۔۔۔۔
تو آپ نے کیا اب تک اپنے بابا کے قاتلوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اور بڑی پھوپھو ابھی تک پوری شان و شوکت کے ساتھ حویلی آتی ہیں آپ نے اور چھوٹی پھوپھو سائیں نے سچ ثابت کرنے کی کوشش نہیں
بتائیں ساحر سائیں ابھی تک وہ سب کی نظروں میں مجرم ہیں میری نظروں میں ظالم اور ظلم برداشت کرکے خاموش رہنے والا ایک برابر ہیں
آپ اتنے بزدل کیسے ہو سکتے ہیں مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی حانم تو سچ جان کر شوک میں تھی
میں بزدل نہیں ہوں تمہے کیا لگتا ہے میں نے کوئی کوشش نہیں کی ان لوگوں کے خلاف جانے کی مگر تم بتاؤ نہ میں دو سال کا تھا جب میرے گھر والوں کا قتل ہوا مورے کی طرف سے کون انہیں انصاف دلاتا کون کھرا ہوتا ان کا باپ جنہوں نے ان پر یقین نہیں کیا یاں ان کے بھائی جو ان کا قتل کرنے کے در پے تھے
وہ اس گھر میں صرف اسعد ماموں سائیں کی ضد کی وجہ سے ہیں
اور رہی بات حقیقت کی تو چند سال پہلے مجھے مورے سے حقیقت معلوم ہوئی تمہے کیا لگتا میں بس خاموشی سے ان کی بات سنتا رہا خون خول رہا تھا میرا مگر نا تو میں فائینینشلی سٹرونگ تھا اور نہ ہی اتنا مجھے معلوم تھا کسے کہتا میرا بس نہیں چل رہا تھا اس شخص کا قتل کرکے خود جیل میں چلا جاؤ تو بتاؤ کون کرتا میری ماں کی دیکھ بھال ان سے ان کا آخری سہارا بھی کھینچ لیتا تو کیا وہ زندگی رہتی
حانم کی بات پر اس کی رگیں تنی وہ پھٹ ہی پڑا
ان دس سالوں میں اس نے کیا کچھ نہیں کیا تھا اکیلے ہر شہ سے لڑا تھا آج اس کے سچ سے صرف حانم واقف ہوئی تھی یہاں تک کہ آنسہ بیگم کو بھی نہیں معلوم تھا
اور رہی بات شائستہ بیگم کی اس معاملے میں بےبس ہوں مورے کی قسم کے آگے
مگر مجھے اللّٰہ پر پور یقین ہے جھوٹ جتنا مرضی طاقت ور ہو مگر جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے
اب چلو مجھے دیر ہورہی ہے
ساحر نیپکین سے ہاتھ صاف کرتا پل کارڈ میں پیسے رکھے حانم کو اشارہ کرتا باہر کی طرف بڑھا
………
گاڑی میں سفر خاموشی سے ہی گزرا تھا
نہ حانم کی کوئی آواز آئی اور ساحر تو پہلے ہی کم بولتا
تھا
ساحر اسے فلیٹ کے باہر چھوڑ کر اسکے اندر جاتے ہی وہاں سے نکل گیا


اتنی دیر ہوگئی ساحر سائیں نہیں آئے
میں نے زیادہ ہی سنا دی ساحر سائیں
حانم تم بھی نہ کتنے دکھی ہوں گے مجھ سے زیادہ انہیں دکھ تھا اپنے بابا کے قتل اور گھر والوں کے رویے کا اور
یہ بڑی پھوپھو سائیں ایک دفعہ حویلی تو پہنچوں میں ان کو تو میں دیکھتی ہوں
پھوپھو سائیں کی زندگی خراب کردی
اور پھوپھو سائیں انہوں نے ساحر سائیں کو سب بتانے سے کیوں منع کیا
کیا کوئی اتنا بھی رحم دل ہوسکتا ہے
……….

ساحر کافی دیر سے باہر تھا حانم کی ہی باتیں اس کے دماغ میں گونج رہی تھیں
اب واپس جارہا تھا مگر راستے پر ٹریفک جیم تھا
ساحر کو حانم کا خیال آیا
حانم اکیلی ہوگی ساحر نے فون نکالا مگر اسے احساس ہوا اس کے پاس حانم کا نمبر نہیں ہے
شٹ !!!
گاڑی گھما کر دوسری طرف ڈالی


اففففف اب تو کافی دیر ہوگئی ہے
ساحر سائیں کو کال ملاتی ہوں حانم نے اپنا فون پکڑا مگر رک گئی اسے یاد آیا اس کے پاس تو ساحر سائیں کا نمبر ہی نہیں ہے ۔۔
ڈیڑھ ماہ ہونے کو آیا تھا دونوں کو پیرس آئے مگر ان کے پاس ایک دوسرے کا نمبر ہی نہیں ہے


دروازہ بجنے کی آواز پر حانم نے دروازے کے سوراخ سے دیکھا تو ساحر کھڑا تھا
حانم نے گہرا سانس لے کر دروازہ کھولا اور خود ٹیوی لاؤنج کی طرف بڑھ گئی
راستے میں ٹریفک جیم ہوگیا تھا اس لیے مجھے لیٹ ہوگئی یہ لو کھانا نکال کر کھا لینا
میں تمہے اپنا نمبر نوٹ کرواتا ہوں
اگر کوئی مسئلہ ہوا تو تم مجھے کال کر لینا
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوری ساحر سائیں میں کچھ زیادہ ہی بول گئی
حانم کی نادم آواز پر ساحر تھما اٹس اوکے تم نے ایسا بھی کچھ غلط نہیں کہا تھا
آ۔آپ کھانا نہیں کھائیں گے؟؟؟
نہیں میں باہر سے کھا کر آیا ہوں
تم اندر سے دروازہ اچھے سے لاک کرلو اور کسی کے لیے بھی مت کھولنا
۔۔۔۔۔۔
کھڑوس!!!!


اگلی صبح ساحر حانم کو پی۔ ایس ۔بی چھوڑنے جارہا تھا جب حانم نے اسے مخاطب کیا
ساحر سائیں!!!
ہممم مجھے جوب کرنی ہے کیا آپ کو کسی کمپنی کا پتا ہے جہاں ویکینسی خالی ہو ۔۔۔
حانم کی اس عجیب و غریب بات پر ساحر نے گاڑی کی بریک لگائی
کیا مطلب کہ تم نے جوب کرنی ہے
تمہے جوب کی کیا ضرورت ہے آغا سائیں نے تمہاری ضرورتوں کے لیے معقول سے زیادہ رقم تمہارے اکاؤنٹ میں دلوائی ہے پھر
میں نے کب کہا کہ میں پیسوں کے لیے جوب کرنا چاہتی ہوں
تو پھر ساحر نے نظر سامنے صاف ستھری روڈ پر ڈالی
میں پیرس اپنا خواب پورا کرنے آئی ہوں اپنے بابا سائیں کی خواہش پوری کرنے
ماموں سائیں؟؟؟ ساحر نے چونک کر حانم کو دیکھا
جی بابا کی خواہش تھی میں بہت پڑھوں ایک بڑا نام کرو لوگ مجھے پہچانیں
میری خواہش بزنس وومن بننے کی ہے
اگر خالی پڑھنا ہی ہوتا تو میں پاکستان میں ہی پڑھ لیتی جہاں دادا سائیں نے مجھے گریجویشن کرنے کی اجازت دی تھی تو وہاں ایم ۔بی ۔اے بھی کرنے سے نہیں روکتے
مگر آغا سائیں نہیں مانیں گے وہ تمہارا اتنی دور پڑھنے کے لیے کن حالات میں مانیں ہیں تم جانتی ہو
تو ان کو بتائے گا کون ویسے بھی دو سال ہیں میرے پاس
پلیز ساحر سائیں پلیز حانم نے اپنی آنکھوں جھپکائیں
ساحر نے چہرہ موڑ لیا
تمہے کیا لگتا ہے صرف پاکستانی گریجویشن کی ڈگری پر تمہے جوب مل جائے گی
ساحر نے اسے ٹالنے کی آخری سی کوشش کی
ہاں تو آپ کس کام آئیں گے ساحر سائیں اور اگر آپ سے کوئی کام نہ بنا تو میرا کلاس فیلو ہے ریچرڈ وہ میری ہیلپ کردے گا
حانم نے اس آخری کوشش کو بھی رد کردیا
لڑکے کے زکر پر ساحر لب بھینج گیا
میں کرتا ہوں کچھ تم یہاں دوست بنانے سے پرہیز کرو خاص طور پر لڑکے
مگر وہ تو بس کلاس فیلو ہے
حانم نے کندھے اُچکا کر عام سے انداز میں کہا
اچھا میں دیکھتا ہوں تم جاؤ اور نمبر ہے نہ میرا تمہارے پاس کوئی مسئلہ ہوا تو تم۔مجھے کال کرلینا
تم۔تم۔تم مجھے اس تم سے چڑ ہوگئی ہے ساحر سائیں کتنی دفعہ کہا میرا نام نورِ حانم ہے
اب جب اپنی بات پوری ہوگئی تھی تو حانم واپس اپنی ٹون میں آئی


حانم کو چھوڑ کر وہ زی کے پاس آگیا
ارے خان کیسا ہے تو زارون خان کے گلے لگا
ہممم ٹھیک ہوں تو سنا تمہارا دوست آرہا ہے آفس ؟؟؟
ہاں ڈوکومنٹس میں سائن وغیرہ ہوگئے ہیں اچھا ہوا کہ تو بھی آگیا تو بھی سائن کردے تجھے تو پتا ہے ان فارمیلیٹیز کا
ہممم کا پیپر کر دیتا ہوں سائن خان نے اپنی پینٹ کی جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا
سگریٹ منہ میں دبائے سگرٹ سلگانے لگا
کیا ہوا خان تو ٹھیک تو ہے آنٹی ٹھیک ہیں
زارون نے خان کو سگریٹ سلگاتے دیکھ کر کہا
جب وہ زیادہ پریشان ہوتا تب ہی سگریٹ پیتا تھا
ہممم ٹھیک ہیں وہ
غیر مرعی نقطے کو دیکھ کر بولا
اتنی دیر میں زارون پیپرز اور جوس لے آیا
بس کر جا خان یہ چوتھا سگریٹ تھا
میں سوچ راہا ہوں اب مجھے وہ کام کردیا چاہیے جس کے لیے میں نے اتنے سال محنت کی ہے
مگر خان ابھی ؟؟؟
زارون مضطرب ہوا
وہ لوگ ابھی بھی بہت طاقتور ہیں خان
طاقتور زات صرف اللّٰہ کی ہے زی اور میں اب اور انتظار نہیں کر سکتا اب ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ضروری ہے
میں تیرے ساتھ ہوں زارون نے خان کے شانے پر ہاتھ رکھا
نہیں تو نے میرے لیے جو کیا بہت ہے اب تیری جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا
خان نے زی کی طرف دیکھ کر کہا
کہاں یار یہ جان تیری ہی بچائی ہوئی ہے
بے شک جان مال عزت سب اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے مگر وسیلہ تو تو بنا تھا اگر اس دن ایکسیڈینٹ میں مر جاتا تو کیا ہوتا میری دولت کا کون ہے میرے آگے پیچھے
اچھا اچھا بس کتنی دفعہ یاد کروائے گا تو نے بھی تو میری مدد کی پیرس جیسے شہر میں میرا اپنا کاروبار ہے تیری سپورٹ کی وجہ سے خان نے سیگریٹ ایش ٹرے پر مسلی
پیپر دیکھا میں سائن کروں ۔۔۔
اس سے پہلے ساحر کاغزات پر دستخط کرتا اس کے فون پر کال آئی
پاکستانی نمبر
ہیلو اسلام علیکم
جی کیا ؟؟
اب کیسی ہیں مورے
میں میں آتا
ہوں ۔۔۔۔
کیا ہوا خان ؟؟؟؟
زارون خان کی ہڑبڑاہٹ دیکھ کر پریشان ہوا
مورے وہ ٹھیک نہیں میری ایمرجنسی فلائٹ بک کرو پاکستان کی
یار فکر نہ کر کچھ نہیں ہوتا آنٹی کو میں پاکستان کی پہلی فلائٹ بک کرواتا ہوں اچھا تو پیپرز دے خان نے پیپرز پکڑ کر دستخط کیے اور وہاں سے ریش ڈرائیو کرتا نکل گیا


حانم کو انسٹیٹیوٹ سے واپس لے کر گھر چھوڑا
حانم یہ لو یہ کارڈ کل تم اس آفس میں چلی جانا اور سر زی سے مل لینا وہ تمہارا انٹرویو کرلیں گے
ارے واہ ساحر سائیں آپ تو بہت فاسٹ ہیں
حانم ابھی کچھ کہتی ساحر نے اسے بلایا
حانم میں صبح پاکستان کے لیے نکل رہا ہوں مجھے ضروری کام ہے کل سے کچھ دنوں کے لیے تمہے اکیلے ہی سب ہینڈل کرنا پڑے گا میڈ کے جانے کے بعد دھیان سے دروازہ بند کرلینا کسی کے لیے بھی دروازہ مت کھولنا
یہ میرا پاکستان والا نمبر ہے اسے بھی سنبھالو
ساحر نے عجلت سے دو کارڈ حانم کی طرف بڑھائے
آرام سے ساحر سائیں کیا ہوگیا ہے میں بچی تھوری نہ ہوں ویسے بھی پہلے بھی میں نے اکیلے ہی سب ہی دل کرنا تھا
حانم نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
ویسے خیریت ہے ؟؟؟
ہاں بس نورے کی طبیعت نہیں ٹھیک
کیا ہوا پھوپھو سائیں کو حانم نے بھی پریشانی سے پوچھا
کچھ نہیں انہیں بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے
بس میں کل جا رہا ہوں پھر دیکھتا ہوں
اچھا میں اپنا سامان پیک کرنے جارہا ہوں تم دروازہ لاک کرلو


ساحر کے جانے کے بعد حانم نے دروازہ لاک کیا اور ہاتھ میں پکڑے کارڈ کو دیکھا بے شک پہلے اس نے اکیلے آنا تھا مگر اب کیا وہ سب کچھ اکیلے ہینڈل کرلے گی


ساحر فجر ٹائم پہ ہی ائیرپورٹ کے لیے نکل گیا تھا
آج وہ پبلک ٹیکسی سے انسٹیٹیوٹ پھر ساحر کے بتائے ہوئی بلڈنگ پر گئی تھی
بلند وبالا عمارت دکھنے میں بہت خوبصورت تھی
حانم اللّٰہ کا نام لے کر اندر گئی
اندر سے وہ بلڈنگ باہر سے بھی زیادہ خوبصورت تھی
وہ ریسیپشنسٹ کے ڈیسک کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
ایکسکیوز می کیا آپ بتا سکتی ہیں سر زی کا روم کونسا ہے
حانم نے اپنے سامنے کھڑی ماڈرن سی ریسیپشنسٹ سے پوچھا حانم ان سب میں مختلف اور نمایا تھی جہاں کسی نے ماڈرن تو کسی نے الٹرا ماڈرن کپڑے پہنے ہوئے تھے وہی حانم نے پستہ رنگ کی شلوار کمیز ساتھ اوف وائٹ کلر کا حجاب لیا ہوا تھا آدھے سے زیادہ سٹاف اسے گھور رہا تھا مگر اس کے کانفیڈنس میں کوئی کمی نہیں آئی تھی
ایکسکیوز می میں نے سر زی کے روم کا پوچھا ہے
حانم نے ریسیپشنسٹ کے آگے چٹکی بھائی جو اسے جواب دینے کی بجائے گھوری جارہی تھی
آپ کے پاس کوئی اپوائنٹمنٹ ہی بوس سے ملنے کے لیے
ریسیپشنسٹ نے ایک آئی برو اوپر اٹھا کر پوچھا
اپوائنٹمنٹ،،،،،،،
وہ تو نہیں ہے حانم کو اب کنفیوژن ہونے لگے
ہمم۔ تو بغیر اپوائنٹمنٹ میں آپ کو باس سے ملنے کی اجازت نہیں دے سکتی
حانم ابھی واپس مڑتی اسے ساحر کا دیا ہوا کارڈ یاد آیا
اس نے فوراً اپنے ہینڈ بیگ سے کارڈ نکال کر ریسیپشنسٹ کی طرف بڑھایا
ریسیپشنسٹ نے ایک نظر کارڈ پر پھر ایک نظر حانم پر ڈال کر اسے راستہ بتایا
اوکے تھینک یو حانم تیز تیز قدم اٹھاتی لیفٹ کی جانب بڑھی جب اس کی ٹکر زاوی کے ساتھ ہوئی
سوری !!!!
حانم ایک جھٹکے سے مڑی
سو سوری حانم نے نیچے گڑی زاوی کی گاڑی کی چابی اور اپنی فائیلز اٹھائی
چابی اسے پکڑائی
سوری زاوی حانم کو دیکھ کر سٹل ہوا
بیوٹیفل گرل !!!
حانم اسے اگنور کرکے آگے بڑھی
پیرس جائے ماڈرن سٹی میں ایسے کومنٹس عام سی بات تھی اس لیے وہ اس بندے کے کمنٹ کو اگنور کرتی مسٹر زی کے آفس کی جانب بڑھی


زاوی کا موڈ آج بہت فریش تھا وہ آفس زارون سے ملنے آیا تھا ساتھ یہ بھی بتانے کہ آج نہیں آسکتا
گاڑی کی چابی کو اپنی انگلی میں گھماتا آتی میں اپنی پسندیدہ دھن بجاتا وہ زی کے آفس سے باہر نکلا ابھی لفٹ کراس کی ہی تھی ایک لڑکی کی ٹکر اس کے ساتھ ہوئی
وہ لڑکی اپنے پہناوے اور نقوش کی وجہ سے ایشین لگ رہی تھی مگر تھی بلا کی خوبصورت
زاوی کے منہ سے بے ساختہ بیوٹیفل گرل نکلا
مگر اس لڑکی کے زاوی کو نظر انداز کرنے پر زاوی اس کی طرف اور ایٹریکٹ ہوا
ہممم بیوٹی وید ایٹیٹیوڈ نوٹ بیڈ


زاوی نے ریسیپشنسٹ کے پاس جاکر اس کی ڈیسک پر نوک کیا
ہائے سر سینڈرا فوراً اپنی سکرٹ ٹھیک کرتی کھڑی ہوئی
زاوی نے سینڈرا کی حرکت کو برمے زاری سے دیکھ کر کہا
ہائے سینڈی ابھی وہ جو لڑکی اندر گئی ہے وہ کون تھی؟؟؟
کون سی سر؟؟؟ سینڈی ابھی بھی زاوی کی ہی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
وہ ہی پستہ کلر کے سوٹ والی
آؤ وہ سینڈی بد مزہ ہوئی
پتا نہیں آر زی کے روم کا پوچھ رہی تھی اس کے پاس ریفر کارڈ بھی تھا
اوکے تھینک یو سینڈی
مینشن نوٹ سر
ہممم تو مس ایٹیٹیوڈ جوب کے لیے آئی ہیں
ہممم پھر تو ملاقات ہوتی رہے گی۔۔۔

جاری ہے ….