58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 20
ثمرین شیخ

ساحر سائیں آپ نے بتایا نہیں حماد انکل سائیں یہاں کیسے مطلب وہ تو ۔۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے !!!!
ہیلو زارون ہاں یار میں پہنچ گیا ہوں تیرے فارم ہاؤس پہ ہاں 1215 پہ اچھا
تھوری دیر بعد زارون نے دروازہ کھولا تو ساحر اس کے ساتھ ہی اندر بڑھ گیا
کیا ارجنٹ بات تھی زی جو تو اتنی دور پاکستان ہی آ۔۔۔۔۔۔
ساحر کا باقی کا جملہ اپنے سامنے کھڑے حماد خان کو دیکھ کر منہ میں ہی رہ گیا
وہ بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑے حماد خان کو دیکھ رہا تھا جن کی آنکھیں میں نمی اور ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ تھیں ۔۔۔
خان ان سے مل یہ میرے سینیر آفسر ہیں حماد خان ۔۔۔
کیا بات ہے میرے شیر باپ کے گلے نہیں لگو گے ؟؟
حماد خان نے اپنے بازو واہ کیے ساحر بنا دیر کیے اپنے باپ کے گلے لگا جس کا لمس اس نے اس عمر میں کھو دیا تھا جب بچے کو پہچان نہیں ہوتی آج اپنے بابا کے گلے لگ کر وہ بالکل بچوں کی طرح رویا
بابا آپ کہاں تھے ؟؟بابا سائیں
میرا شیر بہت بہادر ہے ماشاءاللہ بہت ترقی کی ہے میرے چھوٹے خان نے حماد خان نے فخر کے ساتھ کہا
کہاں تھے آپ بابا ہمیں ان سفاک لوگوں کے رحم کرم میں چھوڑ کر
میرے بچے میں مجبور تھا ان کے لہجے میں بے بسی تھی۔۔
ایسی بھی کیا مجبوری تھی ساحر بے تاب تھا جاننے کے لیے
اگر بات میری زندگی کی ہوتی ہو میں کسی کی بھی پروا کیے بغیر تم لوگوں کو وہاں سے نکال لیتا مگر بات تمہاری اور آنسہ کی زندگی کی تھی جس کے آگے میں بے بس تھا
ہوا کیا تھا بابا سائیں ؟؟

پچیس سال پہلے۔۔۔۔
آنسہ ہماری جائیداد ہمیں واپس مل گئی ہے آنسہ حماد خان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
مگر یہ خوشی چند دنوں کی تھی انہیں اپنے چچا کی طرف سے دھمکی بھرے پیغام آنے لگ پڑے ایک دو دفعہ تو اس کی اپنے کزنز کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوچکی تھی مگر حماد نے یہ بات گھر میں کسی کو بھی نہ بتائی آنسہ کی طبیعت بھی اسے کسی طرح کا سٹریس لینے کی اجازت نہیں دے رہی تھی
حماد کا انٹرسٹ شروع سے ہی آرمی یا پولیس جوائن کرنے کا تھا مگر وہ دونوں ہی اپنی مجبوریوں اور کچھ گھر کے حالات کی وجہ سے جوائن نہیں کر پایا کچھ خان بابا کی بگڑتی طبیعت اس نے اپنا خواب فراموش کردیا پھر ایک دن جب وہ اپنے چچا سائیں کے گھر ان سے اپنے حق کی بات کرنے گیا تھا اس کے ہاتھ چند فائلیں لگیں جنہیں اس نے صرف تجسس کے ہاتھوں ہی پکڑی تھی مگر وہ ان لوگوں کی گھناؤنی سازشوں کا انبار خود میں سمائی ہوئی تھیں
انہیں دنوں میری ملاقات زارون کے بابا سے ہوئی جو ایک کوپ تھے کوپ ان کا ڈائریکٹ تعلق آرمی یا پولیس کے ساتھ نہیں تھا یہ ایک الگ تنظم تھی جس کا کام بھی ملک میں امن کی فضا قائم کرنا تھا مگر ان کا کوئی مخصوص لباس یا مخصوص ٹھکانہ نہیں تھا
اکرم کے ساتھ حماد کی کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی اکرم کا ایک بیٹا تھا آٹھ سال کا اور بیوی کا انتقال ہوچکا تھا اکرم اپنی جوب کے ساتھ ساتھ ایک بزنس کو بھی رن کر رہا تھا اب جائیداد تو حماد خان کو مل ہی چکی تھی تو اس نے بھی اکرم کے ساتھ بزنس میں حصہ ڈالا اور دوسری طرف حماد نے کوپ میں آنے کا انٹرسٹ شو کیا
ان کا پہلا کیس ہی حماد کے چچا کے خلاف تھا اور خوش قسمتی کے ساتھ حماد کے پاس ان کے خلاف کافی ثبوت تھے مگر جب وہ اس کیس میں پوری طرح انواو ہوا تو ان دونوں کو ہی احساس ہوا یہ کوئی چھوٹے موٹے مجرم نہیں یہ لوگ بیک وقت کہیں کاموں میں ملوث ہیں

سالگرہ والی رات ۔۔؟۔
حماد خان گاڑی میں بیٹھا ہوا مورے اور خان بابا کا انتظار کر رہا تھا جب وہ دونوں گاڑی میں آکر بیٹھے
اففف آج تو بہت تھک گئے مورے نے گہرا سانس لینے ہوئے کہا
کہاں مورے گھر جاتے ہی آپ نے ساحر کو پکڑ لینا ہے پھر کہاں کی تھکن
حماد خان نے انہیں چڑایا
ہاں تو ساحر ہماری جان ہے خان بابا نے بھی مورے کی ہاں میں ہاں ملائی
اچھا اب وہ کل کا آیا بچہ جان ہوگیا
صحیح کہتے ہیں اصل سے سود پیارا ہوتا ہے
وہ کسی بچے کی طرح روٹھے
شرم کرو چھوٹے خان تمہارا بیٹا ہے
ہاہاہا او شٹ یاد آیا آنسہ نے مجھے ایک اور کیک لانے کا کہا تھا راستے میں حماد نے گاڑی بیکری کا آگے رکوائی
اففف ہماری بچی کو کام پر لگایا ہوا ہے خود چیزیں بھول جاتے ہو مورے نے پھر طعنہ دیا
ہائے ہماری حسرتوں میں سے ایک حسرت ساس بہو کی لڑائی دیکھنا
ہاہاہا حماد خان کے ساتھ خان بابا کا بھی قہقہ گونجا
مارا لڑے تمہارے دشمن وہ ہماری دھی ہے سمجھے اور تم سے بھی زیادہ عزیز ہے ہمیں ۔۔۔
واللہ
اچھا آپ لوگ روکے میں پانچ منٹ میں کیک لے کر آیا
حماد جب بیکری سے باہر نکل کر آیا جو کچھ لوگ مورے اور خان بابا پر گولیاں چلا رہے تھے حماد کے ہاتھ سے کیک کا ڈبہ گڑا مورے وہ چیخا ایک گولی اس بازو چیرتے ہوئے وہاں سے نکل گئی اور پھر ایک دھماکہ ہوا ۔۔۔۔۔
مجھے جب ہوش آیا تو میں بستر پر تھا میرے بازوؤں سے بیک وقت کہیں ساری مشینیں جڑی ہوئیں تھی
نرس آئی سی یو میں مجھے ہوش میں دیکھ کر ڈاکٹر کو بلانے چلی گئی پھر اکبر اندر ایا اور اس نے مجھے بتایا کہ میں پچھلے دو سال سے قومہ میں تھا
یہ بات سن کر صدمے میں چلاگیا مجھے یقین ہی نہیں آیا پھر چھ مہینے مجھے صحیح ہونے میں لگے میں بے تاب تھا اپنے گھر والوں کے بارے میں جاننے کے لیے مگر جب مجھے یہ خبر ملی کہ مورے اور بابا تو ڈھائی سال پہلے ہی مر چکے ہیں اور اس کی ساری جائیداد دشمنوں نے ہتھیالی ہے تو مجھے سب سے پہلے آنسہ اور اپنے چھوٹے سے بیٹے کا خیال آیا ان کا تو میرے سوا کوئی بھی نہیں یے میرے اندر بدلہ لینے کا خون سر پر سوار ہوا مگر یہ سب اتنا آسان نہیں تھا دشمن رفتہ رفتہ اور طاقتور ہوگئے تھے
میں نے جب شروع شروع میں آنسہ سے ملنے کی خواہش اپنی ٹیم کے سامنے کی تو انہیں نے مجھے اجازت نہیں دی بقول ان کے آنسہ کے نزدیک میں مر چکا ہوں اس دن انہوں نے کسی اور کی جلی ہوئی لاش کو میرے کپڑے پہنا کر خان ولا میں بھیجا تھا اس کا مقصد دشمنوں کو راہ سے بھٹکانہ تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے اور یہ آنسہ اور ساحر کی زندگی کے لیے بھی ضروری تھا اگر ان کا پتا لگتا کہ ساحر خان کی اولاد بھی ہے اس کی جائیداد کا وارث تو وہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے
حماد کی شادی جن حالات میں ہوئی تھی اس کی خبر بہت کم ہی لوگوں کو تھی اس لیے وہ اس مسلئے سے بچ گیا تھا
حماد اپنے فرض اور ان دونوں کی زندگیوں کی خاطر ان سے دور ہوگیا تھا مگر ان پر نظر بھی رکھی ہوئی تھی
مسئلہ تو تب بنا جب حماد کو خبر ہوئی کہ حویلی ہوالے آنسہ کی زبردستی شادی کروانا چاہتے ہیں تو اسکی بس ہوئی اور وہ بھیس بدل کر حویلی تک پہنچا مگر جانے کیسے دشمنوں کو آنسہ اور ساحر کی خبر ہوئی ان دونوں پر حملہ ہوا جس کو حماد اور اس کی ٹیم نے صفائی کے ساتھ ہینڈل کیا
حماد اس حادثے کے بعد حقیقتاً ڈر گیا تھا اپنے بچے اور بیوی کو کھونے کے ڈر سے پھر اس کا ایک اور سہارا اکرم شہید ہوگیا اور اٹھارہ سالہ زارون یتیم
زارون بھی اپنے باپ کی طرح محب وطن تھا اور اس کا مقصد بھی وہ ہی تھا حماد نے زارون کو فردر ٹرینگ کے لیے اور پڑھائی مکمل کرنے لیے پیرس بھیج دیا
پیرس سے واپس آکر زارون کی ملاقات ساحر سے ہوئی جو صرف اتفاق تھا ساحر نے ایکسیڈنٹ میں اس کی جان بچائی تھی پھر زارون کو ساحر کے قریب رہنے کا موقع مل گیا اور پھر ساحر نے چند پیسوں سے اور اپنی محنت سے زارون کے ساتھ پیرس میں اپنا بزنس سٹارٹ کیا
حماد خان بھی اپنے بیٹے کے قریب ہوگیا ۔۔
حماد کے دونوں کزنز کا آپس میں ایک دوسرے کا قتل بھی انہیں لوگوں کی سوچیں سمجھی سازش تھی ان سالوں میں کتنے ہی لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچایا تھا ہاتھ نہیں جا رہا تھا تو کبیر خان پر نہیں جارہا تھا
مگر کہتے ہیں کچھ کاموں کا وقت تعین ہوتا ہے سو اس کام کو بھی وقت لگنا تھا پر حماد خان نے کبیر کو خود اپنے ہاتھوں سے جہنم واصل کرکے اس سمیت اس کی پوری فیکٹری کو آگ لگوائی تھی
اور اب جب سب کچھ ان کو واپس مل گیا تھا تو حماد خان نے بھی منظر عام پر آنے کا سوچا
یار خان مجھ سے ناراض مت ہوئیں میں واقع مجبور ۔۔۔۔۔۔
ابھی زی آگے کچھ بولتا ساحر اس کے گلے لگ گیا
زارون نے بھی مسکرا کر اپنی گرفت مضبوط کی۔۔۔


چاروں کی ہی آنکھیں نم تھی ماضی یاد کرکے نیچھے والے پورشن پر ٹیوی لاؤنج میں موجود آنسہ اور حماد کی اور اوپر والے پورشن میں کمرے میں موجود ساحر اور حانم کی ۔۔۔۔


حویلی کے سب لوگ اس وقت بیٹھک میں موجود تھے آغا سائیں اپنے سربراہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے ان کے سامنے شائستہ بیگم سر جھکائے کھڑی تھیں
جود اور جاوید میر خود سے ہی نظریں نہیں ملا پارہے تھے وہ دونوں جس حقارت کے ساتھ آنسہ کو دیکھتے تھے آج ان کا دل کیا خود ہی ڈوب مریں ۔۔۔
وہ لڑکا عزیم نام کا اسے بھی ہوش آچکا تھا اس نے سب سچ بتا دیا کہ کس طرح اس کی ملاقات سونیا سے ہوئی سونیا کی پیش قدمی اس سے تحفے منگوانا
اشرف میر نے ایک کڑاکے دار تھپڑ سونیا کے چہرے پر رسید کیا تھا
وہ باپ جس نے کبھی اونچی آواز میں ڈانٹا تک نہیں تھا آج اس کے ہاتھ سے تھپڑ کھا کر سونیا کا روم روم کانپ اٹھا
وہ نکر پر کھڑی رونے لگ پڑی
حال برا تو صنم کا بھی تھا ابھی اس کا حساب ہونا باقی تھا
بولو شائستہ اتنی نفرت تھی تمہارے دل میں آنسہ کے لیے کہ اس کی زندگی عزاب بنادی تم نے بتاؤ نہ
بولو شائستہ آغا سائیں کی آواز اب بہت بلند تھی
نفرت کرتی ہوں میں اس سے بہت نفرت کیا تھا ایسا اس میں جو سب کو وہ ہی عزیز تھی
ایک دفعہ ادا سائیں نہ کہا کہ نہ پڑھو آگے آنسہ اس نے کہہ دیا نہیں پڑھنا تو وہ اور چہیتی بن گئی اس میں میرا کیا قصور تھا مجھے تھا پڑھائی میں شوق اسے نہیں ہوگا نہ نہیں آنسہ چھوٹی ہے مگر سمجھ دار ہے آنسہ یہ کرتی ہے آنسہ وہ کرتی ہے زہر لگتی ہے مجھے
اور بھابھی سائیں کے ابروڈ والے کزن کا رشتہ بھی آنسہ کے لیے
مجھے نفرت تھی اس سے اس کی کامیابی سے
مگر میرے ساتھ ساتھ اسے بھی جلن تھی مجھ سے اس دن چھت پر اگر اس نے مجھے دیکھ ہی لیا تھا تو شور کیوں کیا کیوں میرا تماشہ بنانا چا رہی تھی میں میں نے اسی کا تماشہ بنادیا
ہاہاہہا عجیب پاگلوں کی طرح ہنسی
کتنی بے شرمی سے اپنے شوہر بیٹے باپ اور بھائیوں کے آگے اپنے سیاہ کرتوت کھول رہی تھی
اشرف سائیں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا انہوں نے ایک اور تھپڑ شائستہ کے منہ پر دے مارا
دیکھ لیا آپ نے آغا سائیں جو لڑکی اپنی سگی بہن کی نہ ہوسکی وہ میری کیا ہوگی بہت کر لیا میں نے اپنی زندگی میں سمجھوتا مگر اب بس اب میں اس عورت کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں گزارنا چاہتا
تمہارا جو فیصلہ ہوگا اشرف سائیں ہمیں قبول ہے آغا سائیں نے تھکے پسماندہ انداز میں کہا
کون سا لمحہ اشرف سائیں میں پوچھتی ہوں کون سا لمحہ
شادی کے بعد سے ہی آپ کا انداز لیا دیا ہی رہا ہے آپ تو آنسہ کی بے وفائی میں تڑپ رہے تھے سچ تو یہ ہی تھا کہا آپ اسے بھولے نہیں تھے تو کیا نہ ہوتی مجھے اس سے نفرت وہ نہ ہونے کے باوجود سب کے دل میں تھی
میں ایک دم سے تمہارے ساتھ نکاح ہونے پر کچھ وقت کے لیے اس بات کو نہیں قبول کر پارہا تھا مگر تم نے کونسا مجھے کوئی سکھ دیا تمہے بھی بس پیسوں کی لالچ تھی ہر وقت پیسا پیسا اور تمہیں کچھ چائیے ہی نہیں ہوتا تھا تمہاری وجہ سے میں کبھی اپنے بچوں کے اتنے قریب نہیں ہوسکا تمہاری وجہ سے آج میری بیٹی تمہارے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔۔۔
ایک عجیب سی جنگ چل رہی تھی ان دونوں کے درمیان شائستہ بیگم کی ساری سچائی کھل کر سب کے سامنے آگئی تھی
بچوں کے قریب تب ہوتے جب اس کی جدائی کے روغ سے نکلتے جب وہ بیوہ ہوکر اس حویلی میں واپس آئی تھی تمہاری اس کے لیے ہمدردی اور رنگ ڈھنگ دیکھ کر سمجھ چکی تھی کہ سوئی محنت جاگ رہی ہے
کیا کچھ نہیں کیا میں نے اسے سب کے دل سے اتارنے کے لیے اپنے رشتے کو بچانے کے لیے سب گھر والوں کو آنسہ کی دوسری شادی کے لیے رضا مند کیا کتنے پاپڑ بیلے مگر نہ اسے اس حویلی سے نکال پائی نہ تمہارے دل سے
میں کہہ رہا ہوں اپنی بکواس بند کرو شائستہ میں کچھ کر گزروں گا
کیا کرو گے ہاں کیا کرو گے چھوڑ دو گے جاؤ جاؤ مگر بچے نہیں دوں گی جاؤ اب تو تمہیں اس سے بڑا روگ ملا ہے تمہاری محبوبہ کا شوہر زندہ۔۔۔۔۔۔

ایک اور شدید تھپڑ جو آغا سائیں کی طرف سے شائستہ کے چہرے پڑا تھا
اور اشرف میر نے ایک ہی سانس میں تین طلاق شائستہ کے منہ پر دے ماری
ایک پل کو ہر شہ ساکت ہوگئی
اشرف میر وہاں سے جانے لگے جب ابرار کی آواز آئی ٹھہریں بابا میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا
نہیں نہیں ابرار تم تم کسیے جا سکتے ہو مجھے چھوڑ کر تمہیں تو ابھی اس گاؤں کا سردار بننا ہے ابرار نہیں جاسکتے تم مگر وہ بغیر ان کی جانب دیکھے وہاں سے چلاگیا
کیا تم اس لڑکی سے نکاح کے لیے تیار ہو
جاوید سائیں نے عزیم سے سونیا کے لیے پوچھا
ہاں جی جی مجھے قبول ہے
نہی۔نہی۔ نہیں مامو سائیں مجھے نہیں کرنا یہ نکاح میں نے نہیں
چھوڑیں ادا سائیں نہیں کرے گی میری بیٹی یہ نکاح میں کہہ رہی ہوں چھوڑ دیں
شائستہ بیگم کی روک ٹوک کے باوجود ان دونوں کا نکاح ہوگیا تھا

جاری ہے