58.3K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19


منزلیں لاپتہ
قسط نمبر 19
ثمرین شیخ

شائستہ بیگم نے غصے سے پاگل ہوتے آنسہ بیگم کو دھکا دیا اس سے پہلے وہ سیڑھیوں کی جانب گڑتیں کسی نے انہیں تھامہ۔۔
وہ سرمائی آنکھیں آنسہ کیسے انہیں بھول سکتی تھی
وہ سب کچھ بھلائے ان آنکھوں میں دیکھ رہیں تھیں جب حماد خان نے انہیں سہارا دے کر اپنے ساتھ کھڑا کیا
جہاں باقی گھر والے حماد کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے وہی آنسہ بیگم کی بے یقین آنکھیں حماد خان پر ٹکی ہوئی تھی
مجھے افسوس ہے آپ لوگوں پر جو آنکھیں ہونے کے باوجود اندھے رہے
مگر بس میرا بیٹا اور میری بیوی اب ایک لمحے کے لیے بھی اس حویلی میں نہیں رہیں گے
چلیں آنسہ حماد خان نے پورے حق کے ساتھ آنسہ بیگم کا ہاتھ تھامہ جنہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے اپنا ہاتھ انہیں تھما دیا
برسو پہلے آپ نے ہم سے سارے رشتے توڑ کر ہمیں یہاں سے نکال دیا تھا آج میں کہتا ہوں میری بیوی اور بیٹے کا اس حویلی اور ان حویلی والوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔
چلیں ۔
ساحر سائیں آغا سائیں نے اسے پکارا
ساحر حماد خان آغا سائیں تصیح کرلیں

حماد خان نے ایک ہاتھ آنسہ بیگم کا تھاما اور دوسرا ہاتھ ساحر کا ۔۔۔۔
حانم دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی آغا سائیں کے سامنے آئی

میں سنا تھا میر حاکم سائیں کہ میری طرح آنسہ حاکم آپ کی لاڈلی بیٹی تھی مگر اپنی لاڈلیوں کو محبت دینے کے ساتھ ساتھ چند مہریں اعتبار کی بھی تھما دیتے تو آج آپ شرمندہ نہ ہوتے خیر اب جانا تو ہے ہی میں نے اپنے شوہر کے ساتھ
شوہر ایک اور جھٹکا تھا
آج شاہد آگہی کا دن تھا حویلی والوں کے لیے لمحہ بہ لمحہ ایک نیا راز کھلتا
حانم نے ایک نظر حالہ بیگم کو دیکھا جنہوں نے مسکرا کر حانم کواپنی رضا مندی کا عندیہ دیا

کہاں جارہے ہیں ساحر سائیں مجھے چھوڑ کر کیا اس لیے نکاح کیا تھا میرا ساتھ
نکاح !!!!
حانم کی آواز پر ساحر کے بڑھتے قدم تھمے بے ساختہ اس کی نظر حالہ بیگم پر گئی انہوں نے اسبات میں سر ہلایا
ساحر خان نے بھی بنا دیر کیے اپنا ہاتھ حانم کے آگے پھیلایا
حانم صنم کے کندھے کو ٹک کرتی اس کے پاس سے گزرتی ساحر کا ہاتھ تھام گئی
وہ چاروں وہاں سے ہوتے حویلی سے باہر نکل گئے کبھی نہ واپس آنے کے عہد کے ساتھ
نورے آغا سائیں کے قدم لہرائے
شائستہ بیگم جو ان کے پاس ہی کھڑی تھیں
انہیں تھامنے آگے ہوئیں
دور رہو مجھ سے اپنا ہاتھ بھی نہ لگانا مجھے آغا سائیں اس کا ہاتھ جھٹک گئے
سب ہی اپنی جگہ شرمندہ تھے صنم کو باقائدہ کانپ رہی تھی
جس کی خاطر اس نے اتنے گناہ کیے حانم پر بہتان لگائیے وہ تو اس کا تھا ہی نہیں


وہ چاروں خان ولا میں داخل ہوئے آنسہ بیگم اتنے سالوں بعد خان ولا کو دیکھ کر رو پڑی انہیں اپنی زندگی کے وہ خوبصورت سال یاد آئے جو انہیں نے خان ولا میں گزارے تھے وہ آخری دن بھی جب ساحر کی سالگرہ کا فنکشن تھا۔۔۔
یار آنسہ آپ اس طرح روئیں گی تو مجھے تکلیف ہوگی حماد خان نے ان کے آنسو صاف کیے
خان سائیں مورے اور خان بابا
ایک بار پھر ان کی آنکھیں چھلکنیں لگیں
حماد خان نے ان پاس بیٹھ کر انہیں سہارا دیا
ساحر اور حانم دوسرے پورشن میں جا چکے تھے دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اوپر آکر حانم نے غصے سےاپنا ہاتھ چھڑوا لیا
کیا ہوا ساحر اس کا غصہ کرنے پر چونکا اور پھر اس کا ہاتھ پکڑ لیا
مجھے بھول گئے تھے ادھر اکیلا ہی چھوڑ کر آرہے تھے اب کیوں ہاتھ تھام رہیں ہیں چھوڑیں
حانم نے نتھے پھلا کر شکوہ کناں لہجے میں کہا
پہلی بات تمہے کیسے بھلا سکتا ہوں اور دوسری بات یہ ہاتھ چھوڑنے کے لیے تھوڑی نہ تھاما ہے
پھر بھی میں آواز نہ دیتی تو آپ تو چلے ہی گئے تھے لہجے میں ابھی بھی خفگی تھی
مجھے لگا اس سچویشن میں تمہے ساتھ لے کر جانا
ٹھیک نہیں اور حالہ ممانی سائیں بھی تو ادھر ہی تھی
دیکھیں ساحر سائیں میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا میں اپنے رشتوں کو لے کر بیت پوزیسو ہوں اور آپ کے ساتھ جڑے رشتے کو بھی قبول کر لی ہوں
اور رہی ماما سائیں کی بات انہیں میں وہاں اس حویلی میں ہرگز نہیں رہنے دوں گی
انشاللہ ممانی سائیں کو بھی ہم ادھر ہی لے آئیں گے ویسے آج تم نے جس عقل مندی کے ساتھ خود کے ساتھ ساتھ مورے کے اوپر سے سارے الزام جھوٹے ثابت کیے ہیں میں ساری زندگی تمہارا احسان مند رہوں گا
ساحر نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے
مگر ساحر سائیں میرے ثبوت دکھانے سے پہلے ہی آپ نے میرا ساتھ دیا اور مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا تھا کیا آپ کو مجھ پر یقین تھا حانم نے کب سے اپنے دل میں پلتے سوال کو لبوں کے راستے آزاد کیا۔۔۔۔
جب تم میری ہر بات پر بغیر کسی عزر کے مان لیتی تھی تو میرا تو معاملہ ہی الگ تھا میرے نزدیک “محبت” میں اعتبار پہلی شرط ہے
حانم چونک گئی اگر وہ نکاح کا لفظ استعمال کیا ہوتا کہ نکاح جیسے رشتے میں اعتبار ضروری ہے تو وہ اتنا نہ چونکتی مگر اس نے معاً “محبت” کا لفظ استعمال کیا تھا
حانم کا دل زور سے دھڑکا یہ احساس تو نیا تھا
کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟؟
ساحر نے اسے مہو ہوکر دیکھنے پر مخاطب کیا
تم نہیں ساحر سائیں نور حانم اللّٰہ سائیں کا واسطہ ہے میرا نام نورِ حانم ساحر میر ہے ساحر شاہد اس نے لاشعوری طور لگا دیا پھر زبان دبا گئی
اس کے نام کے ساتھ اپنے نام کا اضافہ ساحر کو سرشار کرگیا
ایک گہرہ مسکراہٹ اس کے منچھوں تلے عنابی لبوں پر آئی
تم جاننا چاہو گی کہ میں تمہے تمہارے نام سے کیوں نہیں پکارتا
ہم جی بتا ہی دے آج حانم نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے
اس لیے کہ تمہے نورِ ساحر کہنا چاہتا تھا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا مجھ گناہ گار پر بھی اللّٰہ اتنا مہر بان ہوگا کہ میری یہ خواہش پوری ہو جائے گی
حانم اس کے لہجے میں کھو گئی
مگر آج میں ہوتا حق رکھتا ہوں تمہے نورِ ساحر کہنے کا ساحر نے ایک بار پھر اس کے ہاتھ تھام لیے
حانم کے چہرے پر بے شمار رنگ بکھرے
وہ ۔وہ ساحر سائیں شاید وہ پہلی دفع ساحر کے سامنے کنفیوژ ہورہی تھی
ساحر سائیں آپ نے بتایا نہیں حماد انکل سائیں یہاں کیسے مطلب وہ تو ۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔