Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Last Episode (Part 2)

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Last Episode (Part 2)

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

” ارتضی میری سمجھ سے باہر ہو تم کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔ یہ بات عام سی ہے جو لڑکی بھی ریپ کیس فائل کرتی ہے اس سے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں اور ایک تم ہو ۔۔۔ بجائے اس کے کے تم حیا کو سمجھاؤں تم وکیل سے یہ بحث کر رہے تھے کہ ایسے سوالات حیا سے پوچھے ہی نا جائیں ” وہاج اس حد تک زچ ہو رہا تھا کہ اپنے بال ہی نوچ لے عجیب ضد تھی ارتضی کو

” یہ کیسا قانون ہے وہاج ایک تو وہ لڑکی پہلے اس اذیت سے گزری ہے جو نا قابل برداشت ہے اور پھر اسی کو بھری عدالت میں اس قسم کے بے ہودہ سوالات کر کے اسکی عزت نفس کی دھجیاں اڑائی جائیں اسے اس اذیت کا ایک ایک پہلو پوچھا جائے جو اسے ذہنی اور جسمانی تکلیف سے دو چار کر دے ۔۔۔ مطلب اذیت پر اذیت دینے والی بات ہے ۔۔۔۔ “ارتضی کاچہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا

” ایسا پہلی بار تو نہیں ہو گا ۔۔۔ نا حیا وہ واحد لڑکی ہو گی جو ایسے سوالات کاسامنا کرے گی ” وہاج نے پھر سے اسے سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی

” جب میں سارے ثبوت دینے کو تیار ہوں جو آذر کو مجرم ثابت کرتے ہیں تو اس قسم کی سوالات لایعنی حیثیت رکھتے ہیں پھر ۔میں کیوں کسی کو یہ حق دوں کہ وہ حیا سے اس قسم کی گفتگوں کرے ۔ “

” قانون تمہارے مطابق تو چلے گا نہیں ۔۔۔ مخالف پاڑی ہم سے زیادہ سٹرونگ ہے ۔۔ سب سے بڑا وکیل ہائیر کروایا ہے دلاور ہمدانی نے آذر کے لئے ۔۔۔ جھوٹ کو سچ بنانا اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا مشکل نہیں ہے انکے لئے ۔۔۔ “وہاج کی باتیں بھی اپنی جگہ ٹھیک تھیں

” بہت کم عمر ہے یار وہ ۔۔۔اور اس پر جذباتی بھی بہت ہے ۔۔۔ نا جانے کیا جواب دے گی ۔۔۔ ٫ ” ارتضی کی سوچ سوچ کر حالت غیر ہو رہی تھی جیسے حیا سے پوچھنے جانے والے سوالات کی اذیت اس نے سہنی ہو

” یہ سمجھانا تمہارا کام ہے “

” کیا میرا کام ہے یار ۔۔۔۔ سیدھا سا کیس ہے ایک ڈی این اے کی رپوٹ اسے جرم ثابت کر دے گی وہ سب ویڈیوز اس رپوٹر کا بیان سب کچھ تو موجود ہے ۔۔۔ پھر یہ سب ” ارتضی اپنا سر پکڑ کر رہ گیا تھا حیا اپنے کمرے میں بیٹھی سب کچھ سن رہی تھی ۔۔۔

” اتناوہ سمجھ گئ تھی۔۔۔ وکیل کی نظریں اور اسکی باتیں حیا کو سمجھا گئیں تھیں کہ اسے کٹہرے پر کھڑے ہو کر کس اذیت سے دو چار ہونا پڑے گا ۔۔۔ لیکن ارتضی کا اس بات پر اتنا بے چین اور بے کل ہونا اسے حیران کر گیا تھا ۔۔۔۔ اس سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ حیا سے کوئی بے باک قسم کے سوال نا کرے ۔۔۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا کیسے وہ اسے سب کی نظروں سے اوجھل کر دے اور خود اسکی جگہ پر کھڑا ہو جائے ۔۔۔۔

پہلی پیشی پر آذر کو کٹہرے پر کھڑا کیا گیا تھا ۔۔۔ دو دن جیل میں رہ کر اس کے چہرے پر پژمردگی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ہال کی کرسی پر بیٹھی حیا کواس نے قہر برساتی نظر سے دیکھا تھا جیسے چھوڑے گا نہیں ۔۔۔ حیا کے جسم پر سنسی سی ڈوری تھی بے ساختہ ارتضی کا ہاتھ کس کے پکڑا تھا ۔۔۔ ارتضی نے پہلے حیا کی طرف دیکھا پھر اسکی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے سامنے کھڑے آذر کو دیکھا ۔۔۔۔ جو حیا کو گھور کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔ لیکن جب آذر کی نظر ارتضی پر پڑی اسکی نظریں اسے یہ سمجھا گئی۔ تھیں کہ حیا کے کے ساتھ کون کھڑا ہے ۔۔۔وہ رخ بدل گیا

حیا کے وکیل نے ایک مختصر سی تحریر جج کے سامنے رکھی ۔۔۔

اڈووکیٹ عطا الرحمن۔۔۔ ہمم تو آپ حیا ارتضی کی طرف سے وکیل صفائی کے طور پر ہیں

“جی “

آذر کی جانب سے بھی کھڑے ہونے والے وکیل نے بھی اپنا تعارف کروایا ۔۔۔

کچھ دیر تو جج اس کیس کو پڑھتا رہا ۔۔۔

پھر عطاء الرحمن سے مخاطب ہوا

عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ۔۔۔

جج کے کہنے پر سب سے پہلے اس رپوٹر کو بلایا گیا ۔۔۔ جس نے سارا تماشہ لگایا تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر آذر کے چہرے کا رنگ اڑا تھا ۔۔۔ وہ پولیس کسٹڈی میں تھا ۔۔۔ ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے کٹہرے پر لایا گیا تھا ۔۔۔

” سب سے پہلے تواس سے یہ حلف اٹھایا گیا کہ وہ جو کچھ کہے کا سچ کہے گا ۔۔۔

آذر کے وکیل نے سوال و جواب شروع کیے

جوسرسری اور عام نوعیت کے تھے ۔۔۔ اس نے حیا کو ارتضی کے ساتھ لگے دیکھا اور پھر جو کچھ حیا نے وہاں کہا وہ انہیں باتوں کو زیر بحث لاتا رہا ۔۔۔ اور یہ ثابت کرتا رہا کہ اصل قصور وار ارتضی تھا اور جب حیا نے اپنے لئے خود ہی فیصلہ چن لیا تھا کیس ختم کر دیا گیا تھا تو پورے دس ماہ بعد اس کیس کو نئے سرے سے ری اوپن کیوں کیا گیا ۔۔

” جناب والا میرے خیال سے جب حیا صاحبہ نے اس وقت میڈیا کی سامنے پورے ہوش وحواس میں اپنے ساتھ ہوئی والی ذیادتی کا الزام اپنے ہی پروفسر پر لگا کر پھر وہیں موقع پر انا فانا اپنا فیصلہ سنا کر کیس ختم کر دیا تھا تو دس ماہ بعد یہ کیسے میرے کلائنٹ پر الزام لگاسکتی ہیں ان کی وہ ویڈیو اب بھی میڈیا میں محفوظ ہو گی اگر کہیں تو وہ عدالت کو یاد دہانی کے طور پر دیکھائی جاسکتی ہے جس میں انہوں نے خود خود نکاح کیا تھا ۔۔۔ میری عدالت سے درخواست ہے کہ عدالت کا قیمتی وقت ذائع کرنے پر حیا ارتضی کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے ۔۔”یہ کہہ وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا عطاء الرحمن کھڑا ہو کر آذر کے پاس پہنچ گیا ۔۔

” حیا کے ساتھ جو کچھ بھی پروفسر ارتضی نے کیا آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ؟ “

” جی۔۔۔ جی ہاں ” وہ حد درجہ گھبرایا ہوا تھا “

” ذرا پھر سے ایک بار بتانا پسند کریں گئے کہ آپ نے کیا کرتے دیکھا تھا پروفیسر کو ۔۔۔ “

“وہ حیا کو گلے لگائے ہوئے تھے ۔۔۔ اور وہ بہت رو رہی تھی میں وہاں اس ہال میں ایک تقریری ۔مقابلے کی ویڈیو بنانے آیاتھا لیکن یہ سب دیکھ کر ۔۔ میں وہی پہنچ گیا اور پھر جو کچھ ہوا وہ سب نے دیکھا تھا “

“ویسے کتنا عجیب اتفاق ہے کہ پروفیسر صاحب نے اپنی ایک اسٹوڈنٹ کے ساتھ ریپ کرنے سے پہلے ہال کادروازہ تک بند کرنے کے بجائے آپ کے لئے کھلا چھوڑ دیا تھا تاکہ آپ کو مشکل پیش نا آئے ۔۔۔ اور آپ عین موقع پر وہاں پہنچے اور بجائے پروفیسر کا گریبان پکڑنے کے کیمرہ آن کیا اور انکی ویڈیو بناتے ہوئے انہیں مجرم ثابت کر دیا ۔۔۔ جیسے آپ اس کام کے لئے ذہنی طور پر کرنے کے لئے پہلے سے تیار تھے ورنہ اچانک سے ایساواقع دیکھنے والےشخص کو کیمرہ ان کرنے کی ہوش کہاں رہتی ہے ۔۔۔ اسے پہلے کہ میں ان سے مزید سوال وجواب کروں میں چاہوں گا کہ جناب والا آپ ان محترم کا وہ بیان سنیے جو انہوں نے انجانے میں اپنے آفس میں دیا تھا جس کی ویڈیو انسپکٹر نے چھپ کر بنائی تھی گواہ کے طور اور وہ اس واقع کےعینی شاہد بھی ہیں ۔۔۔ وکیل نے وہ ویڈیو جج کے سامنے لگا دی جس میں ارتضی کے سامنے اس رپوٹر نے اقبال جرم کیا تھا ۔۔۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے ہر ثبوت آذر کے خلاف وکیل کے پاس موجود تھا جسے وہ اپنی طرف سے ختم کر چکا تھا بھول ہی گیا تھا جس ویڈیو کو وہ حیا کو بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بنا رہا ہے وہی اس کے لئے سزابن جائے گی ۔۔۔۔۔۔ جب اس نے حیا کووہ ویڈیو سینٹ کی تھی اور اس واقع کے بعد دیکھی تھی تو اپنے دوست کی لاپروائی پر اسے خوب مارا تھا ویڈیو وہ ڈیلٹ کر چکا تھا ۔۔۔ اسے لگا حیا کے موبائل سے بھی ویڈیو ڈلیٹ ہو چکی ہے ۔۔۔ حیا نے اس بلیک میلنگ کو ختم کرنے کے لئے اسے ڈیلیٹ ہی کرنا چاہا تھا لیکن جلد بازی میں وہ حمیرا کو سینٹ کر چکی تھی

” دس ماہ کی تاخیر اس وجہ سے کی گئ ۔۔۔ اس ریپ کی وجہ سے حیا پریگننٹ ہو چکی تھی اور آج اسی کے بچے کی ماں ہے ڈی این اے کی رپورٹ کے مطابق یہی اس کا باپ ہے ” وکیل نے وہ رپوٹ بھی جج کے سامنے رکھ دی آذر کو گفتاری کے دوران اس کا بلڈ سمپل۔لے لیا گیا تھا ۔۔۔

یہ بھی نیا انکشاف تھا آذر کے لئے ۔۔۔ گو کہ کوئی ثبوت نہیں بچا تھا ۔۔۔ عدالت برخاست ہوتے ہی ۔۔ باہر نکلتے میڈیا کا ایک بے ہنگم سا شور تھا۔۔۔ بہت سے چینل کے رپوٹر وہاں موجود تھے اور ان کے ان گنت سوالات

حیا نے کیس کیوں فائنل کیا۔۔۔ اصل قصہ کیا تھا ۔۔۔۔ پھر دس ماہ بعد کیوں دوبارہ سے نئے سرے سے الزام لگایا گیاوہںایک نامور سیاستدان کے بیٹے ہر

وہاج اور ارتضی با مشکل اس ہجوم سے حیا کو لے کر نکلے تھے ۔۔۔۔ خبر آگ کی طرح پھیلی تھی ۔۔۔۔ سب کو یہ جاننے کا تجسس تھا کہ ایک لڑکی نے کیسے ایک نامور سیاستدان کے بیٹے ہر الزام لگ دیا

وہاج انہیں گھر لے جانے کے بجائے ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا ۔۔۔

” یہ تم نے گاڑی کہاں روکی ہے “ارتضی نے نا فہم انداز سے وہاج سے پوچھا

” تم اترو تو بتاتا ہوں تمہیں پہلے کچھ کھا پی لیں ” وہاج کی لا پروائی پر وہ زچ ہوا تھا ۔۔ حیا اپنی جگہ پریشان تھی ۔۔۔ چپ چاپ باہر آ گئ۔۔۔ لنچ آڈر کر کے وہ لوگ آگے کے لائحہ عمل کے بارے میں ہی بات کر رہے تھے جب انکے پیچھے بیٹھے چند لڑکے حیا کو پہچان کر بولنے لگے

” یہ وہی لڑکی ہے نا جس نے آذر ہمدانی پر کیس کیا ہے ۔۔” ان میں سے ایک نے کہا ساری آوازیں ان تینوں تک بھی پہنچ رہیں تھیں

” ہاں وہی لگ رہی ہے ۔۔۔ ہنہ خود کو مشہور کرنے کا یہ اچھا بہانہ مل گیا لڑکیوں کو ۔۔۔کسی بھی مشہور شخصیت کے ساتھ خود کو بدنام کر لو ۔۔۔

پچھلے دنوں ریپ کیس میں ایک پروفیسر کو پھسایا تھا اب جی بھر گیا ہو گااس سے اس لئے نیا لڑکا تلاش کر لیا ۔۔” حیا کاسن کر دل بیٹھناشروع ہوا تھا ۔۔۔ لیکن ارتضی غصے سے اٹھ کر اس لڑکے پاس پہنچ گیا اسکاگریبان پکڑ کر اسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا

” کیا بکواس کر رہے ہوں تم ۔۔۔ “

” چھوڑو میراگریبان ہم اکیلے نہیں کر رہے یہ باتیں سارا معاشرہ کر رہا ہے ایسی داغدار لڑکیوں کا کام ہی یہی ہے اپنے منہ کی کالک دوسروں پر منہ ملتی ہیں ۔۔۔ ” وہ لڑکا حقارت سے بولا جب تک وہاج ارتضی کے پاس پہنچا ارتضی اس لڑکے کے منہ پر مکا مار چکا تھا وہ لڑکاپرے جا کر گرا تھا حیا ہونق بنی کھڑی تھی ۔۔۔

” ارتضی کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔ ” وہاج نے اسے پیچھے کیا وہ لڑکا کھڑے ہوتے ہوئے بولا

” ان سے سچ برداشت نہیں ہو رہا ہے ” وہ لڑکا چلا کر بولا ۔۔۔ اسکے باقی کے دوست اس لڑکے کو چپ کروارہے تھے وہاج بھی ارتضی کو پیچھے کر رہا تھا

لیکن وہ قابو سے باہر ہوا تھا اس کے پاس جا بولا

” کون ہے داغدار ہاں ۔۔۔ کہاں ہے کالک دیکھاوں مجھے۔۔۔ مجھے تو اس کے چہرے پر ایسا کچھ نظرنہیں آتا ۔۔۔ سوائے پاکیزگی ہے ۔۔ کالک اسکے چہرے پر نہیں اس ۔معاشرے میں تم جیسے مردوں کی آنکھوں میں ہے ۔۔۔ تم لوگ چاہتے ہو تمہاری ہر برائی اور گناہ کو لڑکی چپ رہ کر سہتی رہے ۔۔۔ کبھی تھپڑ کے بدلے کبھی اس کے سخت رویے کے بدلے تم لوگ اسے ہوس کا نشانہ بنا کر مردانگی کے جھنڈے گاڑ دواور وہ بدنامی کے ڈر سے چپ رہے ۔۔۔ تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے زندگی گزار دے لیکن اگر انصاف کا تقاضہ کر دے تووہ داغدار ہو گی ۔۔۔ اسکے ماتھے پر تمہیں بد نامی کا داغ دیکھ جاتا ہے اپنی آنکھوں میں ثور کا بال نہیں دیکھتا ۔۔” ارتضی کا بس نہیں چل رہا تھا کیا نا کر گزرے اسکے ساتھ۔۔۔ وہاج نے بڑی مشکل سے اسے پیچھے کیا تھا وہ لڑکے ریسٹورنٹ سے۔ باہر نکل گئے ریسٹورنٹ میں جو تماشہ لگ چکا تھا وہاں بیٹھے سب لوگوں کی نظریں انہیں پر مذکور تھیں ۔۔۔ حیا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اسکی ہر لڑائی وہ لڑ رہا تھا ۔۔۔ کیساشخص تھا حیا اسے دیکھتی رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔ پورے راستے وہاج ارتضی سمجھاتا رہا کہ وہ خود کو قابو میں رکھے ۔۔۔ وہ غصے سے چپ بیٹھا رہا ۔۔۔

گھر پہنچے ہی لاونج میں آغا سلیمان اور ،زوبیہ بیٹھے تھے ۔۔۔ مریم انکی آمد کا وہاج کو بتا چکی تھی ۔۔۔ تبھی وہ گھر کے بجائے انہیں ریسٹورنٹ میں لے گیا تھا ۔۔۔ لیکن جو ہنگامہ وہاں شروع ہو چکاتھا وہاج کو واپس گھر ہی لوٹنا پڑا ورنہ اس کاارادہ تھا کہ حیا کے پیرنٹس کے جانے کے بعد ہی انہیں گھر لیکر آتا ۔۔ دلاور کے پاس یہی ایک راستہ بچا تھا کہ وہ حیا کوارتضی سے الگ کر کے اپنی چال چل سکے ۔۔ ایک پل تواپنے ماں باپ کو دیکھ کر حیا کا دل تڑپا تھا بے ساختہ انکی طرف بڑھی تھی مگر ہاتھ ارتضی کی گرفت میں آ چکا تھا ۔۔۔ جھٹکے سے حیا رکنا پڑا ۔۔۔ سلیمان کا یہ دیکھ خون کھولا تھا ۔۔۔

” حیا کم آن بیٹا ۔۔۔ ادھر آؤں ہمارے پاس ” زوبیہ کی میٹھاس بھری آواز ۔۔۔ اور آغا سلیمان کے سخت تیور دیکھ اس نے ایک نظر ارتضی کی طرف دیکھا جو آغا سلیمان کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ حیا کا ہاتھ اب بھی اس نے پکڑ رکھا تھا

” کس کی اجازت سے آپ لوگ یہاں آئیں ہیں ۔۔ “ارتضی کا بے تاثر چہرہ اور سپاٹ سااندداز دیکھ کر زوبیہ کے منہ کے زاویے بگڑے تھے

” تم جیسے کمی کمین سے میں بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں چھوڑو میری بیٹی کا ہاتھ ۔۔۔ حیا بیٹا میں تمہیں لینے آیا ہوں چلو

میرے ساتھ ۔۔ ” آغا سلیمان بھیںاپے سے باہر ہوتے ہوئے ارتضی کے سامنے کھڑے ہو گئے اور حیا سے کہنے لگے

” آغا جی وہ ” حیا متذبذب سی ہوئی تھی

“حیا کہیں نہیں جائے گی ۔۔۔ ” حیا کی بات ارتضی نے بیچ میں ہی اچک لی تھی

” تم میری بیٹی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے ” وہ غصے سے پھنکارتے ہوئے ارتضی سے بولے

” شاید بھول رہے ہیں آپ ۔۔۔۔کے یہ میری بیوی ہے ۔۔۔ میری اجازت کے بغیر آپ اسے لے جا نہیں سکتے حیا کہیں نہیں جائے گی اس لئے آپ یہاں سے جا سکتے ہیں ” آغا سلیمان نے غصے اور حقارت سے اسے دیکھا پھر حیا سے بولے

” حیا تم میرے ساتھ چلو ۔۔۔ اس سے کہو کے تمہارا ہاتھ چھوڑے “

” آغا جی ۔۔۔ آپ نے سنا نا ارتضی نے کیا کہا ہے ۔۔ میں نہیں جاؤں گی ۔۔۔ اس لئے آپ جاسکتے ہیں ” حیا کے صاف انکار پر وہ تلملا کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔ حیا پیچھے نہیں ہٹ سکتی تھی ورنہ ماں باپ کو دیکھ دل ضرور مچلا تھا

“سن لیا آپ نے یاکچھ اور سننا باقی ہے ” ارتضی نے جتاتے ہوئے کہا

وہ ارتضی کو گھورتے ہوئے چلے گئے ۔۔۔ انکے جاتے ہی ارتضی نے حیا کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

اور خود کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

نا دوپہر کا کھانا کھایا نا رات کا ۔۔۔ وہاج ہی ڈنر کے بعد اسکے کمرے میں گیا پورا کمرہ سگریٹ کے دھوئیں سے بھرا ہوا تھا سامنے رکھی راکنگ چیر پر وہ بیٹھا اب بھی سگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔۔

وہاج کو دیکھ کر سگریٹ ایش ٹرے ۔میں بجھا دی

وہاج چلتا ہوا اس کے پاس آ گیا ایک کرسی کھنچ کے اس کے مقابل بیٹھ کر اسے غور سے دیکھنے لگا کچھ دیر تو ارتضی اسکی نظروں کو نظر انداز کرتا رہا پھر اسے گھورنے لگا

” یہ کیا تم مجھے اتنے غور سے دیکھ رہے ہو “

” دیکھ رہا بڑے عرصے بعد میرا دوست واپس ارتضی سے جازم بنتا جا رہا ہے…. راز کیا ہے ” وہاج نے مسکراتے ہوئے آنکھ دباتے ہوئے کہا

” میں اس وقت مزاق کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں ۔۔۔ بہتر ہو گا کہ تم یہاں سے چلے جاؤں ” ارتضی نے تپے ہوئے کہا

” او کے میں چلا جاتا کہو تو حیا کو بھیج دوں تمہارا کچھ موڈ اچھا ہو جائے گا ” وہاج کے مزاق وہ ہتھے اکھڑا تھا

” یہ حیا بیچ میں کہا سے آ گئ “

” وہی تو آئی ہے جازم صاحب ۔۔ اتنا غصہ اتنی لڑائی اتنی بے بسی ۔۔۔ اور اتنی فکر کئ سال بعد کسی لڑکی کے لئے دیکھی ہے تمہارے اندر ” وہاج کی بات وہ ارتضی نے نظریں چرائیں تھی پہلو بدلہ تھا

” مجھے تو لگا تھا حیا کا جادو رومان پر ہی چڑھا ہے لیکن نہیں باپ بیٹا دونوں زیر اثر ہیں ” وہ ہنستے ہوئے بولا

” بکو مت ۔۔۔ تم جانتے ہو میں تانیہ سے آج بھی بے انتہا محبت کرتا ہوں اور حیا میرے مزاج کی بھی نہیں ہے “

” کل تک تو مجھے یہی لگتا تھا ۔۔۔ کہ تانیہ سے جتنی محبت تم نے کی ہے کوئی اور اس کی جگہ لے ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ لیکن آج بات اور ہے ۔۔۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھو اور خود سے پوچھو حیا حیا کی آواز آئے گی تمہیں ۔۔۔۔۔ “

” وہاج میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا کیس ختم ہوتے ہی میری اور اسکی راہیں الگ ہیں ۔۔۔۔ وہ اپنے منگتر سے محبت کرتی ہے اسکا اپنا ایک لائف اسٹائل ہے ۔۔ جو مجھ جیسا بندہ تو افورڈ نہیں کر سکتا جیسے ہی وہ بے قصور ثابت ہو جائے گی ۔۔۔ ارسل اسے اپنا لے گا ۔۔۔ ” ارتضی کی بات سن وہاج سنجیدہ ہوا تھا

“ارتضی بہت بڑی غلطی کروں گئے تم جب اسکے لئے اپناسب کچھ داؤ پر لگا رہے ہو تو اسے چھوڑنا کیوں چاہتے ہو ۔۔۔ “

” شادی زبردستی کا سودا نہیں ہوتا ہے وہاج ۔۔۔ نا میں نے آج تک کسی سے کی ہے نا آگے کسی کے ساتھ کر سکتا ہوں ۔۔۔ اس بات کو یہیں ختم کر دو ۔۔۔ ” ارتضی بات سن وہ چپ سا ہو گیا تھا

” او کے ٹھیک ہے سمجھ گیا ہوں ۔۔۔ اب اٹھ کر کھانا کھاؤں ۔۔۔ اور اسے بھی کھلاؤ جو دوپہر سے اپنے کمرے میں بیٹھی رو رہی ہے مریم کہہ کہہ کر تھک گئ ہے لیکن ایک نوالہ اس نے منہ میں نہیں ڈالا نا تو وجہ بتا رہی نا کچھ کھارہی ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہاج کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔۔۔۔۔ارتضی کے لئے یہ نئ فکر تھی۔۔۔

“ایک تو اس لڑکی کے ڈراموں سے ۔میں بہت تنگ ہوں ۔۔۔ ” کمرے سے باہر آ کر وہ حیا کے کمرے کو ناک کرنے لگا اندر سے مریم کی آواز آئی تھی ۔۔۔ ارتضی نے دروازہ کھولا تومریم حیا کے پاس ہی بیٹھی تھی کھانے ٹرے رکھے

” کچھ تو کھا لو حیا صبح سے بھوکی ہو ۔۔۔ “

” مجھے بھوک نہیں ہے ” سوجی ہوئی سرخ آنکھوں سے اب بھی آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔

مریم نے دروازے پر ارتضی کو دیکھا تو بیڈ سے کھڑی ہو گئ

” آپ ہی اسے کچھ سمجھائیے ارتضی بھائی میں تو کہہ کہہ کر تھک گئ ہوں ۔۔۔۔ ” مریم یہ کہہ کر کمرے سے چلی گئ ۔۔۔۔

ارتضی چلتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا روٹی کا نوالہ توڑ کر سالن لگا کر اسکے ہونٹوں کے کے قریب کر دیا۔۔ حیا نے پیچھے ہٹ گئی

” اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ ارسل کی طرح میں تمہاری منتیں کروں گا تو غلط سوچ رہی ہو ۔۔۔ منہ کھولو اپنا اور شرافت سے کھانا کھاو۔۔۔ یہ نخرے تم اپنے شوہر کو دیکھانا مجھے نہیں ” اس بات پر حیا نے تاسف سے اسکی طرف دیکھا تھا پھر منہ کھول کر نوالہ منہ میں لے لیا

” ہاں آپ بھلا یہ سب کیوں کریں گئے ۔۔۔ میں کوئی تانیہ تھوڑی ہوں ” ساتھ وہ کھا رہی تھی ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی

” ہو بھی نہیں سکتی ہو ۔۔۔ ” دوسرا نوالہ اس کے اسے کھلاتے ہوئے ارتضی نے کہا

” مجھے ہونا بھی نہیں ہے میں حیا ہوں ۔۔ اور مجھے حیا ہی رہنا ہے ۔۔ ” وہ تن کر بولی

” تمہارے بس کی بات بھی نہیں ہے کہ تم تانی جیسی بن جاوں “

” ہوتی بھی ۔۔۔۔۔۔ تب بھی میں نہیں بنتی مجھے حیا ہی رہنا ہے ۔۔۔ ” ایک عجیب سی جلن تھی جو حیا کو تانیہ سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔ اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے وہ اسکا اظہار بھی کر رہی تھی ۔۔۔

” ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم ۔۔۔ جب سے میری زندگی آئی ہو پریشان کر کے رکھ دیا ہے مجھے ہر روز ایک نیا ڈرامہ ہوتا ہے تمہارے پاس مجھے تنگ کرنے کے لئے اگلی پیشی تک کیس ختم ہو جائے گا چلی جانا اپنے باپ کے پاس ۔۔۔ جن کی یاد میں یہ آنسوں کی ندیاں بہا رہی ہو تم ۔۔۔ ‘” دل تو ارتضی کا بھی بے چین ہو رہا تھا اسکا جانے کا سوچ کر ل

” ہاں چلی جاؤں ہمیشہ کے لئے ۔۔ خوش رہیے گا اپنی خیالوں کی دنیا میں اپنی تانیہ کے ساتھ دوبارہ کبھی شکل بھی نہیں دیکھاوں گی آپ کو ” نا جانے کون ساغصہ تھا ۔۔ کس بات کی تکلیف تھی جیسے وہ لفظ نہیں دے پارہی تھی

” اچھی بات ۔۔۔۔ دوبارہ تمہارے یہ نخرے نہیں دیکھنے پڑیں گئے مجھے ۔۔۔ اپنے ارسل کے ساتھ خوش رہنا ۔۔۔ مجھ جیسا نہیں ہے وہ جو تم پر رعب جمائے ۔۔۔ ” کھانا وہ کھا چکی تھی ۔۔۔ پانی کا گلاس ارتضی نے حیا کے ہاتھ میں تھمایا اس سے پہلے کے وہ اٹھ کر جاتا حیا نے اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔ گلاس سامنے رکھی ٹرے پر رکھ دیا اور ارتضی کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔

” ارسل واقع آپ جیسا نہیں ہے ۔۔۔ وہ اس لڑکے جیسا ہے جو ریسٹورنٹ مجھے پر فقرے بازی کر رہا تھا ۔۔۔۔ ارسل ہر اس مرد جیسا ہے جو عام طور پر سر راہ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔

آپ ویسے کیوں نہیں ہیں ارتضی ۔۔۔ “حیا اب اسکی آنکھوں میں جیسے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ وہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا

“جو میرے ساتھ ہوا وہ بہت سی لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔ لوگ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ گناہ کرنے والا پھر عزت پا لیتا ہے اسے کوئی الزام نہیں دیتا لیکن عورت کےدامن میں لگا داغ کبھی نہیں مٹتا اسکے ماتھے پر لگی ریپ نامی کالک ہمیشہ سب کو نظر آتی ہے ۔۔۔۔ ہر شخص سے احساس دلاتا ہے اس کے ساتھ یہ ہوا ہے ۔۔۔۔ مجھے ریسٹورنٹ میں باتیں کرتے اس لڑکے نے حیران نہیں کیا کیونکہ میں جانتی تھی کہ جب کیس کروں گی یہ سب سننا پڑے گا ۔۔۔ مجھے حیران آپ کی باتوں نے کیا ۔۔۔۔ کیسی نظریں ہیں آپ کی جس سے آج تک مجھے خوف نہیں آیا ۔۔۔ ان آنکھوں سے آج تک مجھے یہ احساس ہیں ہوا کہ یہ نظریں میرے وجود میں کسی خنجر کی طرح پیوست ہورہی ہیں ۔۔۔ میرے ماتھے پر لگا بدنامی کالا ٹیکہ آپ کو کیوں نہیں دکھتا ۔۔۔

حیا آپ کو ہمیشہ حیا جیسی پاکیزہ کیوں لگتی ہے ۔۔۔ بری کیوں نہیں لگتیں ۔۔۔۔ کیوں چھپانا چاہتے ہیں مجھے سب کی نظروں سے کیوں ۔۔۔ آپ کی آنکھوں میں اتنی پاکیزگی کیوں ہے ۔۔۔ کہ مجھے میرا وجود بھی معتبر لگتا ہے ۔۔۔ ” وہ کسی اور وژن میں بول رہی مسلسل وہ اس سے نظریں چرا رہا تھا مسلسل وہ اسکی آنکھوں ۔میں دیکھ رہی تھی ایسے جیسے ان آنکھوں میں سما جائے یا انہیں اپنے اندر اتار لے ۔۔۔ پھر بے اختیاری میں اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔۔ ایک کرنٹ تھا جو ارتضی کو اپنے وجود میں لگتا ہوا محسوس ہوا تھا ایک جھٹکے سے ارتضی نے اسکے ہاتھوں کو پیچھے کیا تھا ۔۔

” بیہوی یور سلف حیا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے چلا گیا حیا اب بھی اس بند دروازے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ جہاں سے وہ جا چکا تھا ۔۔۔۔

صبح اپنے ماں بات کو دیکھ کر دل مچل کر رہ گیاتھا ۔۔۔ اپنی ماں سے گلے لگنا چاہتی تھی باپ کے کے کندھے سے لگ کر رونا چاہتی تھی ارتضی کا اسے ان سے ملنے سے روکنا بھی برا لگا تھا ۔۔۔ لیکن اس وقت ارتضی کاساتھ ضروری تھا ۔۔۔ وعدے کی پابند تھی ۔۔۔ اس لئے وہی کر گئ کووہ چاہتا تھا لیکن اپنے والدین کے جانے بعد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی دس مہنے بعد اس نے ان کی شکل دیکھی تھی۔۔۔۔ دل میں ارتضی کے لئے بڑی بد گمانیاں بھی آئیں تھیں ۔۔۔ رات تک کھانا بھی نہیں کھایا تھا ۔۔۔ شکوے ہی تو کر رہی تھی اس سے ۔لیکن شکوے کب محبت میں بدل گئے وہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی ۔۔۔ یہ جان چکی تھی کہ دل میں اب ارسل کہیں نہیں رہا تھا ۔۔۔ کوئی تھا توارتضی تھا ۔۔۔ اپنی آنکھیں اس نے زور سے میچ لیں آنکھوں میں ٹہرے آنسوں رخساروں پر گرنے لگے ۔۔۔

” میں نہیں رہ سکتی ہوں آپ کے بغیر ۔۔۔ کیوں سمجھ میں نہیں آتا ہے آپ کو ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ سمجھ میں تو تب آئے جب دل ودماغ سے تانیہ نکلے ۔۔۔۔ بس اپنی اس بیوی کا خیال ہے جو دنیا سے جا چکی ہے ۔۔۔ جو سامنے بیٹھی ہے وہ تو نظر ہی نہیں آتی ہے

تانیہ ۔۔ تانیہ ۔۔۔ بس تانیہ ۔۔۔ آئی ۔۔۔ آئی ہیٹ تانیہ ” بیڈ سے کشن اٹھا کر اس غصے سے زمین پر پھنکا تھا