Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 14

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 14

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

صبح نو بجے رومان نے حیا کو اٹھایا تھا ۔۔۔

رات کو وہ روتے روتے کافی دیر سے سوئی تھی ۔۔۔ اس لئے اٹھنے کا بلکل موڈ نہیں تھا ۔۔۔ موندی موندی آنکھیں کھول کر رومان کو دیکھ کر ماتھے پر کئ بل پڑے تھے ۔۔۔ ناگواری سے اسے دیکھا

“کیا کے تمہیں ۔۔۔ چین نہیں ہے ۔۔۔ صبح صبح ہلا کر رکھ دیا مجھے ” وہ تلخ لہجے سے بولی

” مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپ کو جگانے کا ۔۔۔ بابا بلا رہے ہیں آپ کو ” رومان نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا وہ ابھی نیند میں تھی

” مجھے نیند آ رہی ہے مجھے ابھی نہیں اٹھنا بول دو جا کر ۔۔۔ ” یہ کہہ کر اسنے لحاف منہ تک اوڑھا تھا رومان نے جا کر ارتضی سے وہ سب بول دیا ۔۔۔ اس بار وہ خود اٹھ کر اسکے پاس آیاتھا

” اے اٹھوں یہاں سے ۔۔۔۔ “

“مجھے نہیں اٹھنا مجھے نیند آ رہی ہے “حیا لحاف کے اندر سے ہی بولی تھی

” دو منٹ میں اگر تم اٹھ کر کھڑی نہیں ہوئی تو دیکھوں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ ” ارتضی کے سخت لہجے کے باوجود وہ لیٹی رہی

” او کے تمہاری مرضی ہے میں صرف پانچ تک گنوں گا ۔۔۔۔ ایک ۔۔۔ دو ۔۔۔ تین ” ارتضی کی گنتی ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ لحاف اتار کر کھڑی ہو گئ

” اٹھ گئ ہوں ” وہ یوں تھی جیسے ابھی رو دے گئ

“گڈ ۔۔۔ سامنے گھڑی دیکھوں ” ارتضی نے آنکھوں سے گھڑی کی طرف اشارہ کیا حیا نے کسی ریموڈ کی طرح نظریں یک دم گھڑی کی طرف کیں تھیں

“پورے دس منٹ ہیں تمہارے پاس تم نہاو منہ دھو نا دھو برش کرو نا کرو وہ تمہارا مسلہ ہے پورے دس منٹ بعد تم مجھے لاونج میں نظر آؤں ناؤ ہری اپ ” حیا اپنی نازک سی جان جلاتی ہوئی رومان کے کمرے میں گئ تھی پورے نو منٹ بعد دھلے ہوئے منہ سے باہر نکلی تھی لیکن جمائیاں ابھی بھی لے رہی تھی

” آج سے ہر کام تم کروں گی ” ارتضی نے اسے گھورتے ہوئے کہا

“ہر کام سے کیا مطلب ہے” وہ نا فہمی سے بولی

“مطلب گھر کی صفائی جھاڑو پوچا ۔۔۔ کھانا بنانا وغیرہ ” یہ سب سن کر حیا کی نیند بھگ سے بھاگی تھی

” ایکسکیوز می ۔۔۔۔ میں کروں گی ۔۔۔ میں حیا سلیمان ۔۔۔۔ ٫ نخوت اسکے لہجے میں تھا

” او نو ۔۔۔۔ حیا سلیمان نہیں۔۔۔۔ حیا ارتضی ۔۔۔۔ ذرا یاداشت قائم دائم رکھا کرو اپنی اب تم امیر باپ کی بیٹی نہیں ہو جو خدمت گزاروں کی لائنیں لگی ہوں ایک ادنی سے پروفیسر کی بیوی ہو ۔۔۔ اس لئے سارے کام تو تمہیں ہی کرنے پڑیں گئے ” وہ بڑے حق سے آج وہ رشتہ اسے جتارہا تھا جس کو کل تک ماننے کو تیار نہیں تھا

” مجھے یہ سب نہیں آتا آپ جانتے ہیں ” حیا روہانسی ہوئی تھی

” او نو مائے وائف آپ کو تو سب کچھ آتا ہے اتنا آتا ہے کہ اپنی عمر سے بہت بڑے بڑے کام آپ آرام سے کر لیتیں ہیں ایسے ڈیر تم نے کیے ہیں عقل دنگ رہ جائے ۔۔۔ سمجھوں کے یہ بھی تمہارا ایک ڈیر ہے اس لئے اسے بھی پورے دل جان سے کر کے دیکھاؤ ۔۔۔۔ ابھی تو ذرا کچن میں آؤں تمہیں بتاؤں کہ ناشتہ کیسے بناتے ہیں ۔۔۔ ” بڑی بے تکلفی سے ارتضی نے اس کا بازو پکڑا اور اسے کچن میں لے آیا۔۔ اور شلف کے سامنے کھڑا کر دیا

” دیکھیں یہ سب نہیں کر سکتی ہوں میں۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ ویسے بھی کچھ دن میں سب پہلے جیسا ہو جائے گا اب میں کوئی پریزیڈنٹ کی بیٹی تھوڑی ہوں کے لوگ ۔مجھے یاد رکھیں گئے ۔۔۔۔ اب تو بھول بھال گئے ہوں سب کچھ ۔۔۔ بس آپ مجھے ڈائیواز دیں ۔۔۔ اور مجھے بس اسلام آباد کی بس میں بیٹھادیں باقی میں خود اپنے گھر پہنچ جاؤں گی ” حیا کی بات اس نے نارمل انداز سے سنی تھی

” اچھا ۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب میں کروں گا؟ ۔۔۔ اب تو ہاتھ آئی تم میرے سارے بدلے لئے بغیر تھوڑی چھوڑو گا ۔۔۔۔ “ارتضی ہاتھ باندھے بڑے نارمل انداز بول رہا تھا حیا نے پوری آنکھیں حیرت سے پھیلا کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔

“مطلب کیا ہے آپکی بات کا “

” میرا ارادہ بدل گیا ہے ۔۔۔ بہت تنگ کیا ہے تم نے مجھے ۔۔۔ بہت پریشان کیا ہے ۔۔۔ معافی بھی منگوائی ہے اور جگ رسوائی الگ کروائی ہے اور پھر زبردستی نکاح بھی ۔۔۔۔ میں تو نہیں چھوڑو گا تمہیں طلاق تو اب کسی قیمت پر نہیں دونگا ۔”

“کیسے نہیں دیں دیں وہ توآپ کے اچھے بھی دیں ۔۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے حیاسلیمان کو ” حیا اپنی دھن میں بول گئ تھی ارتضی نے شلف سے چھری اٹھائی

” تمہیں تو میں بہت اچھے سے سمجھ چکا ہوں اب تم مجھے سمجھوں۔۔۔ وہ بھی بہت اچھے سے ۔۔ میری بات سے اختلاف کرنے والوں کو میں ۔۔۔۔ ” چھری گھومتے ہوئے پوری بات وہ حیا کو بولتا رہا حیا کی نظریں صرف چھری پر تھیں ۔۔۔ آخر میں ارتضی نے چھری حیا کے گلے کے قریب تھی

” میں اگر تمہاری جان بھی لے لوں تو کسی کو کان و کان خبر نہیں ہو گی ۔۔۔ ” دھیرے سے اس نے اسکی جان ہی تو نکالی تھی

” ٹھیک ہے چھری پیچھے کریں آپ جو کہیں گئے میں وہی کروں گی “چھری ارتضی نے پیچھے کر کے حیا کے ہاتھ میں تھما دی ۔۔۔ پیاز کاٹو ٫

“کیسے “حیا نے چھری دیکھی ارتضی نے سامنے سے کٹنگ بورڈ اٹھایا اور آدھا پیا، کاٹ کر اسے دیکھایا ۔۔۔ باقی کا پیاز حیا کے سامنے کر دیا اور خود فرائی پین اسٹو پر رکھنے لگا موٹا موٹا پیاز اس نے بڑی مشکل سے دس منٹ میں کاٹا تھا ۔۔۔ آنکھوں سے کچھ پیاز کی تیزی سے پانی نکل رہا تھا کچھ اسکے رونے کی وجہ سے اسی طرح ٹماٹر اور ہری مرچیں بھی کاٹی تھیں ۔۔۔ ارتضی نے ایک نظر موٹے موٹے کٹے پیاز ٹماٹر پر ڈالی دوسری اسکے روتے ہوئے چہرے پر پھر کٹنگ ٹرے سے سب کچھ اٹھا کر باؤل میں ڈالا ۔۔

“آج تو میں نے برداشت کر لیا ہے یہ سب کل سے باریک کاٹنا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے انڈے اور نمک مرچ ڈالنی شروع کی اب ادھر آؤں اور چائے کی کیتلی میں پانی میں ڈال چکا ہوں دو چمچ پتی ڈالو یہ سامنے پڑی ہے ۔۔۔ “چائے کااسے سمجھانے کے بعد وہ تیزی سے آملیٹ بنانے لگا ۔۔۔ حیا بڑی حیرت سے اسے تیزی سے سب کچھ کرتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ٹیبل پر ناشتہ لگا کر سب سے پہلے وہی بیٹھی تھی ۔۔۔ کام کر کے بھوک بھی جاگ اٹھی تھی ۔۔۔ رومان بھی ٹیبل پر حیا کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔ جب سے یہاں آئی تھی پہلی بار حیا نے ڈھنگ سے ناشتہ کیا تھا پیٹ بھر کے

چائے کا پہلا گھونٹ بھرتے ہی اسے یقین نہیں آیاتھا کہ یہ چائے اس نے بنائی ہے ۔۔۔ اچھی خاصی مزے کی لگ رہی تھی اسے

“بابا یہ چائے کیسی بنی ہے ٹھیک سے پکی نہیں ہے” رومان نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے کپ واپس ٹیبل پر رکھا تھا حیا نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا تھا

” تمہاری ممی نے پہلی بار بنائی ہے بیٹا اس لئے ۔۔”ارتضی کے ممی کہنے پر چائے سیدھی حیا کے حلق پر لگی تھی وہ بری طرح سے کھانسی تھی رومان کی ہنسی چھوٹی تھی ۔۔۔ مگر ارتضی بے تاثر ہی چائے پیتا رہا

“واقع چائے پینے کے قابل تو نہیں ہے ۔۔۔ لیکن میں بھی صبر کے گھونٹ بھر رہا ہوں تم بھی بھر لو ۔۔۔ کل سے ذرا اور پریکٹس ہو جائے گی تو شاید اچھی بنانی بھی آ جائے گی “

” بابا میں ان آنٹی کو ممی کہہ دیا کروں ؟ ” رومان نے حیا کو گھورتے ہوئے دیکھ کر مزا لیتے ہوئے کہا

“شیور بیٹا یہ تمہاری ممی ہی تو ہیں ۔۔۔ ممی کہو ۔۔ امی کہوں یا اماں کہوں جو چاہے کہو ” ارتضی چائے سپ لیتے ہوئے حیا کے غصے سے لال پیلے ہوتے چہرے کو دیکھ کر لطف اندوز ہوا تھا ۔۔۔ وہ لڑکی اپنے لئے آنٹی لفظ برداشت نہیں کرتی تھی کجا ممی کہاں سے سن سکتی تھی ۔۔۔

ناشتہ ختم کرتے ہی حیا ٹیبل سے اٹھ کر کمرے میں جانے لگی

” حیا ڈرالنگ جا کہاں رہیں آپ برتن اٹھائیے ۔۔۔ ” حیا نے بڑی حیرت سے اپنا ایک ابرو چڑھا کر ارتضی کو دیکھا تھا وہ اب بھی بے تاثر تھا ۔۔۔ کچھ کہہ تو سکتی نہیں تھی اس لئے

غصے سے پلیٹ جمع کرنی شروع کیں

“سنو ۔۔۔برتن دھونے کے بعد کچن پوراصاف کر دینا کیونکہ اس کے بعد تمہیں گھر کی صفائی سے ہی فرصت نہیں ملے گی ” ارتضی کا اگلا حکم نامہ سن کر حیا روہانسی سی ہوئی تھی

” کیا گھر کی صفائی بھی آج ہی کرنی پڑے گی ۔۔ مجھے تو ڈسٹ الرجی ہے ۔۔۔۔۔ “

“کوئی بات نہیں جب روز صفائی کروں گی تو عادی ہو جاؤں گئ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ باہر چلا گیا

حیا برتن دھو رہی تھی جب رومان کچن میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ وہ روتے ہوئے برتن دھو رہی تھی ۔۔

” لائیں دیں مجھے آپ کی ہیلپ کروادوں ” رومان نے اسے یوں روتے دیکھ کر کہا

“ہٹو یہاں سے کر لوں گی میں خود ۔۔۔ ذیادہ ہمدرد بننے کی کوشش مت کرو ۔۔۔ جانتی ہوں میں تمہیں بھی ۔۔۔ پورے اپنے باپ کے سگے ہو ۔۔۔ ایک کی دس کر کے میری شکایتیں لگاتے ہو ۔۔۔ “وہ ساتھ ساتھ آنسوں صاف کر رہی تھی ساتھ۔ برتن بھی دھو رہی تھی ۔۔۔

” اچھا ایم سوری ۔۔۔ اب نہیں لگاؤں گا کوئی شکایت آپ روئیں تو نا ۔۔۔ میں آپ کی ہیلپ کروا دیتا ہوں ۔۔۔ ” رومان نے بڑی نرمی سے بات کی ۔۔ پھر اسکے ساتھ مل کر سارا کام بھی کرایا بلکہ اسے بتاتا رہا کہ کون سا کام کیسے کرنا ہے ۔۔۔ ارتضی ناشتہ کرتے ہی گھر سے جا چکا تھا ۔۔۔۔ وہ دونوں دوپہر تک ہی فارغ ہوئے تھے ۔۔۔ حیا کی کمر دکھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔

سب کام ختم کر کے رومان نہانے جا چکا گیا ۔۔۔ دو دن سے وہ رومان کے ٹروزر شرٹ میں ملبوس تھی ۔۔۔ کچھ اسکی ہائٹ بہت لمبی نہیں تھی با مشکل رومان سے دو تین انچ ہی لمبی تھی ۔۔۔ اس لئے اسکے ڈیھلے ڈھالے کپڑے اسے آرام سے آ گئے تھے اب بھی وہ اسکی الماری گھسی اپنے مطلب کے کپڑے ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔ اسی چکر میں کافی شرٹوں کی تہہ خراب ہو چکیں تھیں جب وہ نہا کر اپنا ٹروزر شرٹ پہنے باہر نکلا کافی شرٹیں اور پینٹیں زمیں پر بکھری پڑیں تھیں اور حیااسکی الماری میں گھسی ہوئی تھی وہ تیزی سے اسکے پاس آیا

“یہ آپ کیا کر رہیں ممی ” ممی سن کر اس نے پھرتی اپنا منہ اسکی الماری سے باہر نکال

“خبردار جو مجھے ممی کہا تم نے ۔۔۔۔۔ کہاں سے ممی لگتی ہوں تمہیں میں ۔۔۔مشکل سے بس دس سال ہی تم سے بڑی ہوں گی “

” رشتے کے حساب سے میرے بابا کی دوسری بیوی میری ممی ہی لگے گی چاہے وہ مجھ سے چھوٹی ہی کیوں نا ہو آپ تو پھر ماشاللہ سے مجھ سے دس سال بڑی ہیں خیر چھوڑیں ۔۔۔ یہ میری الماری کا کیا حشر کیا ہے آپ نے

” مجھے کپڑے بدلنے ہیں لیکن ایک بھی ٹروزر شرٹ نہیں مل رہا مجھے ۔۔۔۔صرف پینٹ شرٹ ہی ہیں “

” میرے پاس بس دو ہی ٹروزر شرٹ ہیں ایک جو میں نے پہنا ہے دوسراوہ جو آپ نے پہنا ہے ۔۔۔ “حیا نے نا گواری سے ایک ٹی شرٹ اور پینٹ نکالی اور واش روم میں گھس گئ

******…….

کئ دن تک جازم ذہنی طور پر ڈسٹرب ہی رہا تھا ۔۔۔

اپنے ہوئے پر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔ کبھی اس عورت پر جواسکی ماں تھی ۔۔۔ لیکن اس سے ملنا بھی چاہتا تھا ۔۔۔ کون تھی کیسی تھی ایک بار دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ اسلئے نظریں جھکائے اس نے ہارون الرشید سے اپنی ماں کا نام اور پتہ پوچھا تھا انہوں نے پہلے تو اسے غور سے دیکھا رو رو کر آنکھیں بلکل سوجی ہوئیں تھیں پھر اسے نام بتا دیا ۔۔

“میری مانو تو مت جاؤں وہاں ۔۔۔ بہت دکھ ہو گا تمہیں ” ہارون الرشید کی بات سن کر وہ استزائیہ مسکرایا تھا

” اب کون سا سکون میں ہوں پل پل مر ہی تو رہا ہوں ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ گھر سے نکل گیا تھا سیدھا بازار حسن پر جا کر بائیک روکی تھی ۔۔۔ گانوں کی آوازیں گھنگھروں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی ۔۔۔ کہیں پان سگریٹ کی دوکانیں کہیں مشک عطر کی ۔۔ کہیں کلیاں گلاب ۔۔۔ اور کہیں شراب کی باس ۔۔۔ وہ ایک دوکان پر جا کر کھڑا ہوا

” یہ نور جہاں کا کوٹھہ کون سا ہے ” جازم نے آنکھوں میں جمع شدہ پانی رگڑ کر پوچھا

دو گلیاں چھوڑ کے تیسرا کوٹھہ اسی کا ہے ” دوکاندار نے اشارے سے بتایا ۔۔ جازم وہاں پہنچ کر سیڑیاں چڑھنے لگا اوپر کی آخری سیڑھی پر کاما کھڑا تھا

“بابو جوتے یہیں اتارے جاتے ہیں ۔۔۔” جازم نے ایک سائیڈ پر جوتے اتار دئیے ۔۔۔ اندر رقص چل رہا تھا

لوگ گاؤں تکیے سنبھالے آڑے سے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔ وہ بے دلی سے پورے صحن کا جائزہ لے رہا تھا سامنے تخت رکھا تھا جس پر لال چادر بچھی ہوئی تھی لیکن خالی تھا ۔۔۔ ایک کونے میں ایک شخص منہ میں پان دبائے ہارمونیم بجا رہا تھا ۔۔۔

وہ بھی ایک سائیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ کامے نے پان کی پلیٹ س کے سامنے کی

” یہ میٹھا ہے اور یہ سادہ خوشبوں کون کا کھاؤں گئے بابو” منہ پان لئے وہ با مشکل بول پا رہا تھا

” کوئی بھی نہیں ” جازم نے مدافعانہ انداز اپنایا کاما اسکے کچھ قریب ہوا

” شراب کا انتظام بھی ہے ۔۔ ویسے تو اجازت ناہی ہے پر آپ کہو تو اسٹیل کے گلاس میں بھر کے لا دوں ” کامے نے سرگوشی میں آنکھ دباتے ہوئے کہا

” نہیں ” کاما کندھے اچکاتا ہوا وہاں سے چلا گیا

جازم کو نا وہاں کی رقاصہ کو دیکھنے میں دلچسپی تھی نا وہاں کا ماحول پسند تھا اس کی نظریں تو کسی اور کی طلب گار تھیں ۔۔۔

ایک عورت سفید گرارا نیلی چست قمیض چہرے پر گہرا میک اپ سرخ لپ اسٹک ہاتھوں پیروں کے ناخنوں پر ناخن پالش ہاتھوں میں مہندی کلائیوں میں ڈھیر ساری چوڑیاں ۔۔۔ کانوں میں سونے کے۔ آویزے ۔۔۔پہنے لہلاتے انداز سے آکر تخت پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اسکی اپنی رنگ بھی کچھ کم گو وری نہیں تھی اس پر ایسا تیز میک اپ ۔۔۔ جازم نے ناگواری سے نظریں پھیریں تھیں

پہلا خیال نوجہاں کا ہی آیا لیکن پھر خود سے تردید کی کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی اور ہو اپنے ساتھ بیٹھے شخص کو جازم نے پکارا جو پوری طرح رقاصہ میں گم تھا

“سنیے “

“ہاں “

” یہ نور جہاں بیگم کون ہے “

“یہ سامنے تخت پر بیٹھی ہیں “

اب تو ذرا سا بھی تردد نہیں رہا تھا ۔۔۔

منہ پان ڈالے وہ گانے کی دھنوں پر پاؤں ہلا رہی تھی کبھی ہاتھ نچا رہی تھی ۔۔۔۔ جازم نے اپنی آنکھیں سختی سے میچ لیں۔۔۔۔

وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔ گھر آ کر سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔

نور جہاں کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے جیسے ٹہر س گیا تھا ۔۔۔ پہلے تو اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کے رویا پھر جانے کیاسوجی کے آئنے کے سامنے کھڑا ہو گیا

اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے غور سے دیکھ ے لگا نور جہاں کے نقوش اپنے چہرے ہو ڈھونڈنے لگا ۔۔۔ اسے لگا اس کا پورا۔ پتہ ہی نور جہاں جیسا ہے ویسی آنکھیں ویسا ہی گال پر ڈمپل ویسے ہی کھڑی ناک ۔۔۔۔ بس نور جہاں کی رنگت بہت زیادہ سفید تھی اور جازت کا رنگ سفید تو تھا لیکن اتنا نہیں تھا ۔۔۔

******……..

دوپہر کو جب عبداالباسط آیا اسکے ہاتھ میں کھانے کے بکس تھے

” عبداالباسط مجھے جگایا کیوں نہیں آپ نے ۔۔ میں ناشتہ بنا کر دیتی آپ کو” آرء نے اسکے ہاتھ سے بکس لیکر کہاں

“اب میں صرف ایک ناشتے کے لئے آپکی نیند تو خراب نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ “سامنے لگے سنک سے ہی اس نے ہاتھ دھوئے تب تک آرء کھانا پلیٹوں میں نکال چکی تھی کھانے کے بعد برتن اٹھاتے ہوئے آرء نے کہا

” کل سے مجھے پلانے کے لئے کچھ دے کر جانا ۔۔۔ میں اپنے ہاتھوں سے بناؤں گی آپ کے لئے “

” اچھا کیا بناؤ۔ گی “

” جو بھی آپ کو پسند ہو ۔۔۔ “

چلو ٹھیک ہے “یہ کہہ کر عبداالباسط دوبارہ باہر جانے لگا

“اب کہاں جا رہے ہو “

” کام پر میں بس کھانے کی چھٹی پر آیاتھا کام سے چھٹی تو سات بجے ہو گی “

“تو میں یہاں بیٹھی بیٹھی کیا کروں گی “

” آج بور ہو جاؤ کل سے تمہاری مصروفیت کا انتظام کر دو گا “یہ کہہ وہ باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔ رات کو کھانے کے بعد وہ اسے کواٹر سے۔ باہر لے گیا بہت وسعی رقبے پر ایک خوبصورت باغ بنا ہوا تھا ۔۔ آرء نے وہی سرخ چادر سر پر اوٹھ رکھی تھی ۔۔۔ کافی دیر باغ میں گھومتے رہے ۔۔۔ باتیں کرتے رہے پھر ایک بینچ پر بیٹھ گئے ۔۔۔

” آرء یہ جہان بیگم اتنی سخت کیوں ہیں ذرا نرمی نہیں ہے انکے اندر۔۔۔۔ “

” بس یہاں رہنے والی عورت اس عمر میں آکر ایسی ہی ہو جاتی سخت اور بے لچک سی ۔۔۔ پوری جوانی سختیاں جھیل کر اس عمر میں عورت کا ہر احساس جیسے مر سا جاتا ہے ۔۔۔ اماں کا بھی یہی حال ہوا ہے ۔۔۔ پتہ ہے اماں پہلے بہت اچھی تھی عبداالباسط۔۔۔۔ اور شروع سے طوائف بھی نہیں تھی ۔۔۔ ” آرء اب رنجیدہ سی ہونے لگی تھی

“پھر کیوں یہاں آ گئیں ” عبداالباسط متعجب ہوا تھا

” اماں تیرا سال کی تھی جب پاکستان آزاد ہوا ۔۔۔ بڑی قربانیاں دے کر یہ ملک ملا ہے ہمیں ۔۔۔ اسکی آذادی کی خاطر مردوں نے تو صرف جانوں کے نذرانے دیے ہیں لیکن عورتوں نے ۔۔ عورتوں نے دوگنی چوگنی قربانی دی ہے

عورت کی گردنوں پر چھری اور تلوار نہیں چلائی گئ

اسکی عصمتوں کو تار تار کیا گیا ۔۔۔ کرنے والے ہندو اور سکھ تھے ۔۔۔ نا انہوں نے پچھتر (75)سال کی عورتوں کو چھوڑا نا کم عمر بچیوں کو۔۔۔ ساتھ ساتھ پڑوس کے گھروں میں رہنے والے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے تھے ۔۔۔ اس وقت اماں کے ساتھ بھی ذیادتی ہوئی ۔۔۔ “

“افف “عبداالباسط کو دکھ ہوا تھا

“پتہ ہے عبداالباسط اماں کیا کہتی ہے “آرء کسی سوچ میں تھی کسی اور ہی احساس میں بول رہی تھی “

“کیا “

“اماں کہتی ہے اس وقت مردوں کی قربانی پر ان کے نام فخر سے پکارے گئے مرنے والوں کے اہل وعیال کووظیفے دیے گئے رہائشیں دیں گئیں ۔۔۔ فوجیوں کو تمغہ شہادت سے نوازہ گیا ۔۔۔ اور ایسی عورتوں کو جنہوں نے اپنی عصمتوں کی قربانی دی تھی پاکستان میں آنے بعد جانتے ہو انہیں کس چیز سے نوازہ گیا “

” کس چیز سے “

“بازار حسن سے ۔۔۔ پاکستان پاک تھا شاید اس لئے پاک عورتوں کو ہی عزت اور سہارا ملا میری ماں جیسیوں کو ناہی ۔۔۔ مجھے بتاؤ مرد اگر ملک اور دین کی خاطر جان دیدے تو شہادت کا درجہ پا لیتا ہے اسکے گھر والوں کے لئے وظیفے بندھ جاتے ہیں جو عورت عصمت کی قربانی دے اس کا کون سا درجہ ہے ۔۔۔ اور مقام کہاں ہے ۔۔۔ کیاوہ وظیفے کے طور پر بازار حسن کا حق رکھتی تھیں؟ ۔۔۔ ہندؤں سے لٹ کر آنے والی یہاں آ کر نواب اور رئیسوں کی محفلیں سجانے لگیں کیونکہ عورت کو موفت کی روٹی کھلانے کو کوئی تیار ناہی تھا ۔۔۔۔ پاکستان بنا نئے قانون بنے ۔۔۔۔ انصاف کو بنیاد بنایا گیا ۔۔۔ سب کی سنوائی ہوئی لیکن ایسی عورتوں کے لئے کوئی قانون نہیں بنا ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے اماں بتاتی ہے مجھے

بعض عورتوں نے بازار حسن کو آباد کرنے کے بجائے خودکشی کر لی تھی ۔۔۔ وہ بھی تو حرام موت ہے نا عبداالباسط۔۔۔ لیکن تم بتاؤ۔ کیا حرام کی زندگی گزارنا ذیادہ غلط ہے یا حرام کی موت مر جانا ۔۔۔۔” آرء کے سوال کا جواب عبداالباسط کے پاس نہیں تھا وہ اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا اور وہ یوں بات کر رہی تھی جیسے خود اس اذیت سے گزری ہو ۔۔ چہرہ یوں تھا کہ ابھی رو دے گی وہ پھر سے بولنے لگی

“اور بعض کو انکے گھر والوں نے چھتوں سے پھنک کر مار ڈالا کہ اس داغ کے ساتھ انہیں کہاں پاکستان میں لے جائیں گئے کہیں راستے میں لوٹنے والے اسے اور نا لوٹ لیں ۔۔۔۔۔اور اب تک عورت اسی ظلم میں مبتلہ ہے صدیوں سے ہے میں نے ایک بار ٹیلی وژن پر سنا تھا کہ اسلام سے پہلے جہالیت کے دور میں ایک عورت کو کئ مرد استعمال کرتے تھے ۔۔۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے زندہ دفن کر دیتے تھے ۔۔۔

اسلام نے عورت کو عزت دی احترام دیارشتے دیے ۔۔۔۔

بیٹی بنی تو باپ کے لئے دعا بن گئ ۔۔۔ بہن بنی تو احساس۔۔۔ بیوی بنی تو دکھ سکھ کی ساتھی۔۔۔ ماں بنی تو جنت کی حقدار ۔۔۔دادی بنی تو بزرگی کے درجے پر بیٹھ گئ ۔۔۔ لیکن ہم عبداالباسط؟ ۔۔۔۔ ہم اب بھی وہیں ہیں ۔۔۔۔ وحشیا کی وحشیا ۔۔۔ کوئی بہن بیٹی ماں ناہی سمجھتا ہمیں ۔۔۔ ” ٹپ ٹپ آرء کے آنسوں بہہ رہے تھے عبداالباسط نے اسے کندھے سے ہاتھ پھیلاتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا

“۔ چپ ہو جائیں ۔۔۔ میں اور آپ کیا کر سکتے ہیں “وہ عبداالباسط کے کندھے پر سر رکھ کر اب بھی آنسوں بہا رہی تھی

” عبداالباسط میری ماں کی رگوں میں کسی طوائف کا خون ناہی تھا ۔۔۔ نا اس کا کوئی قصور لیکن دیکھوں نا پھر بھی طوائف بن گئ اور میں طوائف کی بیٹی ۔۔۔”

” آرء بس بھی کریں کیوں میرا ضبط آزما رہیں ہیں ” یہ سب سننا عبداالباسط کے لئے بھی کہاں آسان تھا

” ناہی مجھے چپ ناہی کرنا ۔۔۔مجھے آپ سے سب کچھ کہنا ہے اپنا ہر غم ہر دکھ ۔۔ پتہ ہے ہماری سننے والا ساتھی ہمدرد ناہی ہوتا لوگ اپنی سنانے آتے ہیں بیوی بچوں سے اکتائے ہوئے ہمارا غم ناہی سننا چاہتے بس ہم سے دل لگی چاہتے ہیں ۔۔۔ پر آپ توشوہر ہو ۔۔۔ ساتھی ہو تو آپ سے کیوں نا اپنا ہر درد کہہ دوں ۔۔۔ سنو گئے ناں عبداالباسط؟” اسکے کندھے پر سر رکھے آرء نے ذرا سا اونچا ہو کر اسے دیکھا ایک آس تھی آنکھوں میں ایک مان تھا لہجے میں کہاں ہمت تھی عبداالباسط کی کے انکار کر جائے

” ہاں سب کچھ سنوں گا ۔۔۔ اپنا ہر غم مجھے سنادیجیے گا ۔۔۔ میں اسے اپنے دامن میں سمیٹ لوں گا ۔۔۔ ” عبداالباسط کی آنکھوں میں نمی سی تھی دکھ آتی تھا درد اسے سینے میں اٹھ رہا تھا

“آپ بھی مجھے اپنا ہر غم بتاسکتے ہو ۔۔۔ یہ جو رشتہ ہم غم کے ساتھ کسی سے جوڑتے ہیں یہ کبھی بھی پرانہ ناہی ہوتا وقت کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا رہتا ہے ۔۔۔ “

” میں بھی کہہ دوں گا جو کہنا ہے ۔۔۔ اب کواٹر میں چلتے ہیں یہاں ٹھنڈ بڑھ رہی ہے ” عبداالباسط کے کہنے پر وہ کھڑی ہو گئ ۔۔۔ سرد ٹھنڈی ہوا بے شک سرد لگ رہی تھی لیکن اسے اچھا لگ رہا تھا ۔۔

******….

صبح کمالے نے کمرے سے نکل کر دروازہ بند کر دیا باہر سے کنڈی بھی لگا دی

بہت گھبرایا ہوا تھا سیدھا باپ کے کمرے کادروازہ پیٹنا شروع کر دیا ۔۔ اسکے والد نے دروازہ کھولا وہ بدحواس سا کھڑا تھا

” کیا مصیبت آن پڑی ہے تم پر ” اسکے والد نے سخت لہجے سے کہا

” ابا وہ ۔۔۔ وہ لڑکی “

“کیا ہوا اسے “

” وہ مر گئ ہے”یہ سن کر اسکے والد کارنگ اڑا تھا

“ابے کیا بک رہا ہے تو “

“سچ کہہ رہا ہوں ابا ۔۔۔۔ وہ مر چکی ہے ۔۔۔ ” دونوں باپ بیٹا پریشان ہوئے تھے ۔۔۔۔ بدلہ لینا بہت مہنگا پڑ گیا تھا ۔۔۔ معصوم بچی کہاں ہوس کا بدلہ اتار سکتی تھی ۔۔۔۔

دونوں باپ بیٹا منہ چھپائے وہاں سے رو پوش ہو چکے تھے ۔۔۔ شمس کی ماں کی پوری رات رو رو کے گزری تھی ۔۔۔ شمس کا فون بند جا رہا تھا ۔۔۔۔

دوسری طرف اس بار شمس بے چین تھا باہر مارکیٹ کی شاپنگ کرتے ہوئے اسے ایک بہت خوبصوت سا جوڑا پسند آیا ۔۔۔ اس فینسی جوڑے کو دیکھ کر آنکھوں کے سامنے منزا کاچہرا نظر آیا تھا اسنے فورا سے وہ خرید لیا

“شمس یہ میں نہیں پہنوں گی ۔۔۔ ” ثوبیہ۔ ے جوڑا دیکھ کر کہا

“تمہارے لئے نہیں کے منی کے لئے خریدا ہے ۔۔ پتہ ہے تمہیں میری شادی پر نیا جوڑا پہنے کے لئے اپنے غلے میں پیسے جوڑ رہی ہے وہ ۔۔۔ بس پندرہ دن اور گزر جائیں تو اماں اور منی کو یہی لے آؤں گا ۔۔۔” شمس کو بہن کی یاد شدت سے ستائی تھی

دودن سے منی بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔ ہر بات پر شمس بس منی منی ہی کر رہا تھا

۔دوسری جانب ماں بیٹی کے لئے رو رو کر بے حال ہو رہی تھی ۔۔۔ااسکی والدہ نے منڈیر سے دوسری جانب دیکھا

برابر والے گھر پر سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔ اسکی والدہ نے جھانک کر دیکھا صحن خالی تھا ۔۔۔ مٹی سے بھرا ہوا اسے دو لگا تھا شاید منزا صحن ۔میں کہیں چلتی پھرتی ہی نظر آ جائے ۔۔۔ پھر یہ خوف آیا کہ کمالا اسے کہیں لے کر نا چلا گیا ہو ۔۔۔۔ وہ گھبرائی بری طرح سے دل دھڑکا تھا ۔۔۔ جن محلے داروں نے زبردستی نکاح کروایا تھا شمس کی ماں کے پاس گئ ان سے کہا وہ اپنی بیٹی سے ملنا چاہتی ہے ۔۔۔ لوگوں نے ہے دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی ہوتا تو کھولتا ۔۔۔

لوگوں نے دروازے کو دھکا دے کر اس کر کھولا تھا صحن خالی تھا شمس کی ماں نے گھر کے سارے کمرے دیکھے سب خالی تھے ایک کمرے کے باہر کنڈی لگی تھی ۔۔۔ جب اسکی کنڈی کھولی تو سامنے منزا کا مردہ وجود بیڈ پر پڑا تھا دو دن گزر چکے تھے اس لئے بو سی اٹھ رہی تھی شمس کی ماں نے بیٹی کی حالت دیکھتی تو چیخنے چلانے لگی سب لوگ وہاں جمع ہو گئے ۔۔۔ جو لوگ اس دن کمالے کاساتھ دے رہے تھے وہی آج اسے گالیاں بک رہی تھے ۔۔۔۔ لیکن ہو کیا سکتا تھا ۔۔۔ ظلم تو ہو چکا تھا ۔۔۔ ظلم کسی رواج کی طرح سے نبھایا جاتا ہے اور سزا کی حقدار عورت ہی ہوتی ہے ۔۔۔

اسکی ماں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی کبھی ہنس رہی تھی کبھی رو رہی تھی کبھی اپنے بالوں کو نوچ رہی تھی کبھی کمالے کو بدعائیں دیتی کبھی شمس کو ۔۔۔۔

” مار ڈالا میری چھوٹی سی بچی کو ۔۔۔۔ ارے کیوں مار ڈالا ۔۔۔ اس کا کیا قصور تھا ۔۔۔ شمس کاش تو برباد ہو جائے ۔۔۔ میری بیٹی کو جیتے جی مار دیاتو نے ۔۔۔ تو موت مانگے تو تجھے موت بھی نا آئے ۔۔۔۔ تیری وجہ سے میری بچی مر گئ ۔۔۔ کیسے ۔۔۔ کیسے واری صدقے جاتی تھی تجھ پر بھائی بھائی کہتی بھاگ بھاگ کے تیرے کام کرتی تھی شمس ۔۔۔ مار ڈالا کمالے نے اسے کاش وہ بھی یوں تڑپ تڑپ کے مرے ۔۔۔ ارے میری بچی پر کسی کو رحم نا آیا ۔۔۔ ظالموں کا ساتھ دیا آپ لوگوں نے ” شمس کی ماں بے قابو ہونے لگی تھی وہاں موجود مرد نظریں جھکا گئے تھے

” ہمیں کیا پتہ کہ وہ وحشیانہ سلوک پر اتر آئے گا ۔۔۔حوصلہ کروں بہن ” ایک شخص نے تسلی دینا چاہی

“حوصلہ کروں کیسے کروں حوصلہ ۔۔۔ میری پھول جیسی بچی مر گئ ۔۔۔۔ برباد ہو گئ ۔۔۔ آپ لوگ کہتے ہو حوصلہ کروں ۔۔۔ “پھر وہ ہسنے لگی ۔۔۔ کھلکھلا کر ہنسنے لگی

“میری بچی نے ابھی چند دن پہلے ہی تو اپنی گڑیا کی شادی کی تھی ۔۔۔ ضد کر کے مجھ سے زردہ اور پلاؤ بنوایا تھا محلے بھر کی بچیوں کو بلایا تھا دعوت پر

بھائی صاحب آپکی بیٹی بھی آئی تھی ۔۔۔ آئی تھی ناں”شمس کی ماں وہاں موجود سب مردوں کو باری باری پوچھنے لگی سب کی آنکھیں آشکبار تھیں سب اثبات میں سر ہلا رہے تھے

” بڑی خوش تھی میری منزا ۔۔۔ ہنس رہی تھی عید والی چوڑیاں پہنی تھی اس نے ۔۔۔ مہرون اور گولڈن رنگ کی ۔۔۔عید والا جوڑا بھی تو پہنا تھا کیسی پری لگ رہی تھی ۔۔ ہاں ناخن پالش بھی لگائی تھی ۔۔۔ منزا۔۔۔ منزا ۔۔۔۔ کہاں ہو تم ۔۔۔ چلوآوں تمہیں تمہاری گڑیاسے ملوا کر لاؤں چندا ۔۔۔ “اسکی ماں اسے پکارنے لگی جیسے وہ ہنستی مسکراتی سامنے آ جائے گی

” پتہ ہے بھائی صاحب گڑیا کو رخصت کرتے ہوئے بڑا روئی تھی میری بیٹی کہہ رہی امی دو دن بعد اس سے ملوانے لے جانا مجھے ۔۔۔ اور اب دیکھوں کب سے بلا رہی ہوں سن نہیں رہی ہے ۔۔منزا منزا چندا باہر آؤں ۔۔۔ دیکھو اگر اب تم باہر نہیں آئی تو ۔۔۔میں ناراض ہو جاؤں گی ” یہ کہہ کر ہسنے لگیں ۔۔ کچھ دیر بعد پھر سے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں ۔۔۔ گھر سے باہر نکل گئیں لوگوں نے ہی منزا کو دفنایا تھا ماں تو ذہنی طور پر حاضر ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ یہ بات آگ کی طرح سے محلے میں پھیلی تھی ورک شاپ کے مالک نے کئ فون شمس کو کئے تھے ۔۔۔ لیکن فون آف تھا

گھر ویران ہو چکے تھے ۔۔۔۔ بھاگنے سے پہلے کون یہ سب سوچتا ہے ۔۔ کہ نتجہ یہ بھی نکلے گا اگر ایک بار محبت کی پٹی اتار کر سوچا جائے تو شاید بہت کچھ برباد ہونے سے بچ جائے

******…….

تانیہ اب خاموش سی رہنے لگی تھی۔۔۔۔ اسکے شوہر نے بھی دوبارہ اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا ۔۔۔

لیکن اس کا خیال ویسے ہی رکھتا تھا ۔۔۔ بات وہ بھی نہیں کر رہا تھا ۔۔۔ تانیہ روز اپنے اندر ہمت مجتمع کرتی کہ اسے سب کچھ بتا دے لیکن روز ہمت ہار جاتی ۔۔۔ بتانا کہاں آسان ہوتا ہے دوبارہ سے اسی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔

ایک رات جب وہ گھر آیا کافی خوشگوار موڈ میں تھا ۔۔

” کھانے میں کیا بنا ہے “کافی دن بعد اس نے تانیہ سے یہ سوال کیا تھا

” بھنڈی کی سبزی بنائی ہے “

“آج وہ نہیں کھائیں گئے ۔۔۔ آپ جلدی سے تیار ہو جائیں باہر جائیں گئے۔۔ آج باس نے میری پرموشن کر دی ہے تنخواہ بھی بڑھا دی ہے ۔۔ اب جلدی کریں ” تانیہ بھی یہ سن کر خوش ہوئی تھی کئ دن بعد آج وہ خوش نظر آ رہا تھا ۔۔ اسلئے جلدی سے تیار ہو گئ باہر نکلنے سے پہلے چادر اوڑھ کر اسی سے چہرہ بھی چھپا لیا ۔۔۔

کھانا انہوں نے ایک ریسٹورنٹ میں کھایا تھا ۔۔۔اس کے بعد آئسکریم پارلر چلے گئے آئسکریم کھاتے ہوئے تانیہ کی نظر سامنے بیٹھے شخص پر پڑی اس کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔ سانس جسے سینے میں اٹکا تھا ۔۔۔۔ آئسکریم کےکپ والا ہاتھ اس نے دبوچ لیا تھا پل میں آئسکریم اسکے ہاتھ اور ٹیبل پر گرنے لگی تھی ۔۔۔

“تانیہ یہ آپ کیا کر رہی ہیں ” اسے تانیہ کی حرکت کچھ عجیب سی لگی ۔۔۔ لیکن وہ وہ کسی اور ہی خیال میں گم تھی۔۔۔ اس نے تانیہ کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے جب پیچھے دیکھا تو ایک کپل بیٹھا آئسکریم کھا رہا تھا ۔۔۔ آپس میں ہنس ہنس کے باتیں بھی کر رہے تھے ۔۔۔بظاہر ایسا تو کچھ نظر نہیں آیا کہ تانیہ اسے یوں بے حس وحرکت ایک ٹک دیکھتی رہے ۔۔۔

“تانیہ آر یو آل رائٹ ” اس نے دوبارہ تانیہ سے پوچھا وہ اب بھی سن تھی

“تانیہ” وہ کچھ بلند لہجے سے بولا وہ۔ بری طرح چونکی تھی۔۔۔ پھر زور زور سے۔ چلانے لگی۔۔۔ چیخنے لگی وہاں موجود سب ہی تانیہ کو دیکھنے لگے اس کا شوہر بری طرح سے گھبرا گیا تھا وہ انگلی سے اسی جانب اشارے کرنے لگی لیکن کوئی بھی لفظ نہیں بول پا رہی تھی ۔۔۔ بس چیخ رہی تھی پوری قوت سے چیخ رہی تھی جب دوبارہ اس کے شوہر نے پیچھے دیکھا تو وہ کپل وہاں موجود نہیں تھا جا چکا تھا ۔۔

*****……..

ارتضی جس شام کو واپس آیا تھا وہ دونوں صوفے پر بیٹھے رومی کے موبائل پر کارٹون دیکھ رہے تھے ۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ پلیٹ گود میں رکھے فرائز کھائے جا رہے تھے جو دونوں نے مل کر بنائے تھے ۔۔۔ ارتضی نے ایک نظر انہیں دیکھا ۔۔۔

“رومی بھی نا ۔۔۔۔اسے بس کوئی مل جائے صحیح دوستی لگانے کے لئے “ارتضی نے دل میں سوچا ۔۔۔ پھر انکے

قریب جا کھڑا ہو گیا اسے سامنے دیکھ کر رومی نے فٹافٹ سے کارٹون بند کیے تھے ۔۔۔ ارتضی نے ہاتھ میں پکڑے دو شاپر میں سے ایک رومی کی گود میں رکھا دوسرا حیا کے برابر میں

” اس میں تمہارے لئے کپڑے ہیں ۔۔۔ کل سے مجھے تم انسانوں والے حلیے میں نظر آؤں ” حیا نے شوپر میں جھانک کر دیکھا پھر باہر نکال کر دیکھا تو وہ سلے ہوئے تھری پیس سوٹ تھے شلوار قمیض اور دوپٹہ ۔۔۔۔۔ حیا کے منہ کے زاویے بگڑے تھے ۔۔۔ اسے کہاں عادت تھی ایسے کپڑوں کی پھر تھے بھی فل سلیو۔۔۔۔ حیا کی نظر رومان پر تھی جو شوپر سے اپنے ٹروزر اور شرٹس نکال رہا تھا ۔۔۔۔۔

“سنو ایک کپ چائے بنا کر دو مجھے اور کچھ دیر پکا لینا اسے صبح کی طرح بد ذائقہ نا ہو “

” اگر میرے ہاتھ کی چائے اتنی ہی بد ذائقہ لگتی ہے تو خود بنا لیں ویسے بھی میں کام کر کر کے تھک گئ ہوں ” حیا نے تیوری چڑھا کر کہا اس سے کہاں برداشت تھا کہ کوئی اسکی چیزوں میں نقص نکالے ۔۔ ارتضی نے گھورتے ہوئے اسے دیکھا

“” کیا کہاں تم نے “لہجہ سخت کیا تھا

“کچھ نہیں ۔۔۔ بنا رہی ہوں ” حیا نے بے بسی سے کہا ۔۔

“گڈ۔۔۔ جلدی سے ” یہ کہہ وہ اپنے کمرے ۔یں چلا گیا

حیا کی ا بس ارتضی پر تو چل نہیں سکتا تھا ۔۔۔ صوفے پر بیٹھے رومان کو ٹرواز شرٹ دیکھتے دیکھ کر اس سے دو شرٹیں اور ایک ٹراوزر کھنچ لیں

” یہ میں پہنوں گی ۔۔۔ “

“ارے واپس کریں ۔۔ یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔ آپ کے بھی تو نئے کپڑے آئیں ہیں ” رومان تن کر بولا

” ہاں تو وہ تم پہن لو ۔۔ ایسے کپڑے مجھ سے نہیں پہنے جاتے “

“دیکھیں مجھے میری شرٹس واپس کریں “رومان کھڑا ہو گیا حیا نے شرٹس والا ہاتھ پیچھے کر لیا

” نہیں دو ٹراوزر شرٹ تو میں رکھوں گی کم از کم رات کو ان کپڑوں میں نہیں سو سکتی جو تمہارے بابا لائیں ہیں “

“بابا “رومان نے بلند آواز میں پکارا ہی تھا حیا نے جھٹ سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔

” تم چپ نہیں ہو سکتے ایک لگاؤں گی تمہارے اگر اب چیخے تو “حیا نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا اسکا ہاتھ ابھی بھی رومان کے منہ پر تھا لیکن اسکی آواز ارتضی تک پہنچ چکی تھی