Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Last Episode (Last Part)
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Last Episode (Last Part)
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
“دلاور صاحب میں خود گیا تھا حیا کو لینے ۔۔۔ آپ سمجھ نہیں رہے ہیں اس شخص نے میری بیٹی کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔۔۔ برین واش کر دیا دس مہینے میں اس کا ۔۔ “آغاسلیمان دلاور کاغصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
” سلیمان میں کچھ نہیں جانتااس کے پاس سادے ثبوت موجود ہیں اگر میرے بیٹے کو سزاہو گئ تو تمہیں بھی کہیں کا۔ نہیں چھوڑو گا “
” دیکھیں وکیل کس لئے ہے اس کا کام ہی سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنا ہے ۔۔۔ دلائل دے کر اپنے کلائنٹ کو بے قصور ثابت کرنا ہے ۔۔۔ آپ بے فکر رہیں میں حیا سے بات کروں گا دوبارہ سے ۔۔ سمجھانے کی کوشش بھی کروں گا ۔۔۔ “
“۔ سمجھاؤں اپنی بیٹی کوایک بار اگروہ کیس واپس لے لے تو میں سیاست میں تمہیں وہاں تک پہنچا دوں جہاں کے تم نے کبھی خواب دیکھے تھے ۔۔۔ ” اور نے سلیمان کی آنکھوں پر وہ پٹی باندھی انہیں وہ خواب دیکھائے جس کے وہ متمنی تھے ۔۔۔۔
” آپ بے فکر رہیں ۔۔۔ ایساہی ہو گا جیسا آپ چاہتے ہیں ۔۔۔” سلیمان نے دلاسے دے کر فون بند کر دیا ۔۔۔ حیا کے نمبر پر فون کرتا تھا لیکن فون بند تھا ۔۔۔ پریشان ہو کر رہ گیا تھا دوسری طرف جیل میں آذر کی خوب آؤں بھگت جاری۔ تھی ۔۔۔ لیکن قید اگر سونے کے پنجرے میں ہو تو قید ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔آذر جیسے عیاش اور آذاد پنچھی کہاں چین پاتے ہیں ۔۔۔ جتنے ثبوت اس کے خلاف تھے پھر ویڈیو میں وہ اپنے ہرجرم کا اعتراف کر چکا تھا ۔۔۔ یہ کیس ایک کمزور ریت کی دیوار ثابت ہورہا تھا ۔۔۔۔ وکیل پر امید نہیں تھا بس یہ کر سکتا تھا کہ اپنی باتوں سے حیا کو حراساں کرے۔۔۔
اگلی پیشی پر اس نے یہی کیا حیا وہی بڑی سی شال لئے بلکل سادگی میں کٹہرے میں کھڑی تھی ۔۔۔
آذر کے وکیل نے حیا کو سر سے پیر تک بڑی تنقیدی نظر سے دیکھا ۔۔۔ حیا نے شال درست کی ۔۔۔ سامنے بیٹھے ارتضی نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں ۔۔۔
” مسز حیا ارتضی چال تو بہت اچھی چلی ہے آپ نے ۔۔۔ دس ماہ میں کافی کچھ اکھٹا کر لیا لیکن سب جھوٹ اور بے بنیاد ایسی بہت سی ویڈیو میں مختلف لوگوں کے ساتھ آپکی بنا کر پیش کر سکتا ہوں ۔۔۔ اور رہ گئ ڈی این اے کی رپوٹ تو اٹس یور چوائس جس بھی سیاستدان کو آپ بد نام کرنا چاہیں ہیں مجھے بتا دیں میں اسی کے نام کی جعلی رپوٹ بنا دوں گا ۔۔۔ “
” کوئی نئ بات کریں وکیل صاحب بہت بڑے اور نامور وکیل ہیں آپ اور کام وہی چھوٹے کم قیمت لینے والے وکیلوں جیسے سچ کو جھوٹ میں بدلنا ۔۔۔ رپورٹس کی ہیر پھیر یہ تو کوئی معمولی سا وکیل بھی کر سکتا ہے “
” مطلب کیا ہے آپ کا ” حیا کی بات پر وکیل کے ماتھے پر کئ بل پڑے تھے
” جناب والا اگر اجازت دیں تو میں بات کی کچھ وضاحت کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ ” حیا نے وکیل کو نظر انداز کر کے براہ راست جج سے درخواست کی
” جی کہیے ۔۔ ” جج نے چشمے کے اندر سے اس لڑکی کو بڑے غور سے دیکھا
” شکریہ ۔۔۔۔۔ کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہی ہمارے سامنے ایک مقدس کلام پاک کو پیش کیا جاتا ہے یا حلف اٹھایا جاتا ہے اور ہمہیں سچ بولنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔۔۔ کیونکہ یہ اصول ہے ۔۔۔ لیکن یہ حلف سب سے پہلے وکیل صاحبان کو کیوں نہیں اٹھوایا جاتا کہ وہ بھی سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کریں ؟ یا جج کی کرسی پر بیٹھے انصاف کرنے والے جج سے ایسی قسم کیوں نہیں لی جاتی کے وہ حق اور سچ کا فیصلہ کریں ۔۔۔
اسوقت اس ہال میں سامنے نشستوں پر بیٹھے ۔۔۔ لوگ یہاں اس لئے نہیں بیٹھے کہ سچ اور انصاف کو دیکھ سکیں یہ اس لئے بیٹھے ہی۔ کہ وکیل صاحب کے ریپ کے متعلق پوچھے جانے سے سوالوں سے حظ اٹھا سکیں ۔۔۔ ” حیا کی آواز دھیمی ہوئی تھی لوگوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں
“آڈر آڈر “جج نے سب کو خاموش کروایا حیا نے اپنی بات کو جاری رکھا
” عورت ہی کیوں بار بار ریپ ہونے کی اذیت کو سہے ۔۔۔ پہلے اس سامنے کھڑے شخص کے ہاتھوں ” حیا نے آذر کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
” اس کے بعد وہاں اسوقت موجود اسکے دوستوں کے تماشہ دیکھتیں ۔ نظروں سے ۔۔۔آج وکیل صاحب کے سامنے اسی قصے کو کئ زاویوں سے پوچھے جانے والے سوالوں سے ۔۔۔ سامنے بیٹھے ان تمام لوگوں کی نظروں سے ۔۔۔ کیا ریپ ایک طرح سے ہوتا ۔۔ جی نہیں جناب والا ۔۔۔۔ آنکھوں کا زنا ہے جو یہاں بیٹھے لوگ میرے ساتھ کریں گئے ۔۔۔ باتوں کا زنا ہے جو یہ وکیل صاحب بے صبری سے کرنے لئے منتظر ہیں ۔۔۔ حالانکہ کہ جانتے ہیں کہ قصور وار کون ہے
اس دن پارٹی میں میرے ساتھ اس شخص نے سب کے سامنے بدتمیزی کی تھی ۔۔۔ جب میں نے اسے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔ اتفاق ہے کہ یہ وکیل صاحب بھی وہیں موجود تھے کھلے عام اس شخص نے مجھے برباد کرنے کی دھمکی دی ۔۔۔ کوئی نہیں بولا۔۔۔ بڑے بڑے پولیس افسران وہاں موجود تھے کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا کسی نے گریبان پکڑ کر یہ نہیں کہا کہ ۔۔۔ سر عام تم ایک کمزور سی لڑکی کو برباد کرنے دھمکی دے رہے ہو ۔۔۔
وہاں اس وقت بظاہر نظر آنے ہزاروں تعداد میں مرد موجود تھے ۔۔۔لیکن در حقیقت کوئی ایک بھی ان میں مرد مومن نہیں تھا جو یہ کہتا کہ عورت پر مردانگی جتا کر تم اگر خود کو مرد کہتے ہو تو کہاں کے مرد ہو تم ۔۔۔۔ آپ مجھے بتائیے جج صاحب ۔۔۔ ہزاروں کی تعداد سے ریپ کیس ہوتے ۔۔ لوگ کیوں عدالت کادروازہ کھٹکھٹانے سے گھبراتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے یہاں انصاف تو ملے گا نہیں لیکن اسکی بیٹی معاشرے میں منہ دیکھانے کے بھی قابل نہیں رہے گی ۔۔۔
کیسا نظام ہے ہمارے معاشرے کا تعلیم گاہیں تک محفوظ نہیں کالج میں چار لڑکے دھوکے سے ایک لڑکی کو روم میں بلاتے ہیں ۔۔ اسے ہوس کا نشانہ بتاتے ہیں میڈیا آتا اسے دنیا کے سامنے ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے ۔۔۔ اور پرنسپل کے کام میں جوں تک نہیں رینگتی ۔۔۔ اسکولوں میں کوچنگ میں ہسپتالوں ۔۔۔ جیلوں میں ۔۔۔۔ درلامانوں میں ۔۔۔ ہر جگہ عورت ہوس کا نشانہ بن رہی ہے اور انتظامیہ سوئی پڑی ہے ۔۔۔ ۔۔
کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔۔ لاقانونیت کی انتہا ہے ۔۔۔ اور اگر کوئی عورت انصاف کے لئے یہاں اس کٹہرے میں کھڑی ہو کر مقدس کلام پاک کی قسم کھا کر سچ بھی کہہ دے تووکیل صاحبان پھر بھی اس کی عزت اور ناموس کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔ ہمارا اسلام عورتوں پر پردہ ڈالنے کا حکم دیتا ہے تو آپ لوگ کیسے انکی چادروں کو نوچ پھینکتے ہیں ۔۔۔ سب کے سامنے
کاش کے جج صاحب میں آپکی کرسی پر بیٹھی ہوتی تو اس شخص کو سرے عام چوراہے پر برہنہ لٹکا دینے سزادیتی ۔۔۔ جب اسے چرند پرند نوچ نوچ کر کھاتے تو اسے پتہ چلتا کہ کسی عورت کے ساتھ ریپ کیا کیسے جاتا ہے ۔۔۔ لیکن مجھے پتہ پے یہاں ایسا کچھ نہیں ہو گا ہر سچائی کو جھوٹ میں بدل دیا جائے گااس لئے کہ دولتمند عزت دار ایک مشہور سیاستدان کا بیٹا ہے ہمیشہ قابل عزت ہی رہتا ہے ۔۔۔۔۔ بس مجھے اور کچھ نہیں کہنا جی وکیل صاحب شروع کیجیے اپنے سوالات ” حیا،ساتھ ساتھ رورہی تھی ساتھ ساتھ بول رہی تھی پورے ہال میں سناٹا تھا ۔۔۔ وکیل کی تو زبان ہی بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔
جج کی وقتی طور پر آنکھیں کھلی تھیں۔۔ ۔
“مزید تشویش کی ضرورت نہیں ہے جو ثبوت اب تک پیش کیے گئے ہیں ۔۔۔ انہیں مد نظر رکھتے ہوئے عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ آذر ہمدانی نے ہی حیا کے ساتھ ذیادتی کی ہے ۔۔۔ اور الزام ایک باعزت پروفیسر پر لگانے کے جرم کا بھی اتکاب کیا ہے ۔۔۔ اس لئے عدالت اسے سزائے موت کے سزاسناتی ہے ۔۔۔۔ ” پورے ہال میں تالیوں کی گونج تھی ۔۔۔۔ حیا کی نظر سامنے بیٹھے ارتضی پر تھی جو مسکراتے ہوئے اسے انگوٹھا دیکھاتے ہوئے داد دے رہا تھا ۔۔۔۔
آذر کا رونا واویلا مچنا سب بے کار تھا ۔۔۔ دلاور ہمدانی اپناسینہ پکڑے بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔ حیا نے اپنے آنسوں ۔ پونچتے ہوئے کٹہرے سے نکل کر ارتضی کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔
” یور آر سچ گریٹ وومن ۔۔۔ جو آج تم نے کیا ۔۔۔ میرے سارے شکوے دور ہو گئے ہیں ۔۔۔ چلو آؤں تمہیں ایک سرپرائز دوں ” اس کا ہاتھ تھامے وہ اسے باہر لے گیا تھا جہاں صرف حیا کے نام کے نعرے لگ رہے تھے ۔۔۔ جسے آج کھوئی عزت مل چکی تھی ۔۔۔ زوبیہ بیگم بڑے فخر سے بتا رہیں تھیں کہ یہ ۔میری بیٹی ہے ۔۔۔ بس آغا سلیمان چپ چپ سا تھا ۔۔۔ میڈیا کے وہی سوال وہی باتیں کل تک آذر انکی نظر ٹھیک تھااور حیا ۔۔۔۔۔
ارتضی اس کا ہاتھ تھامے آغا سلیمان کے پاس لے آیا۔۔۔ حیا آگے بڑھ بڑھ کر باپ کے گلے لگ گئ تھی رونے لگی تھی ۔۔۔ وہ بھی ساتھ لگائے وقتی طور پر جذباتی ہوئے تھے پھر وہ زوبیہ کے گلے ملی ۔۔۔
“حیا میں نے اپناوعدہ نبھا دیا ہے ” ارتضی کی بات سن کر وہ اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی
ارتضی نے جیب سے اسکی چین ٹاپس اور رنگ نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھی ۔۔۔
“یہ تمہاری امانت ۔۔۔ سلیمان صاحب میں زبردستی کے رشتے نبھانے کاقائل نہیں ہوں ۔۔۔ حیا اپنے منگتر سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔ مجھے نہیں لگتااب ارسل کو کوئی اعتراض ہونا چاہیے ۔۔۔ میں چند دنوں تک ڈائیواز پیپر بھیج دوں گا حیا کو ۔۔۔ میرا مقصد صرف اسے انصاف دلانا تھا جو میں دلواچکا۔۔۔ خداحافظ ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ رکا نہیں تھا چلا گیا تھا آغا سلیمان کی بانچھیں کھل گئیں تھیں حیا بے تاثر کھڑی اسے جاتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ کل تک تو وہ بھی یہی چاہتی تھی لیکن آج لگ رہاتھادل کی دنیا لٹ چکی ہے ۔۔۔۔
” چلو شکر ہے ۔۔سب کچھ آرام سے ہی ہو رہا ہے ۔۔۔ ‘ چلو حیا ” سلیمان حیا کو ساتھ لگائے گاڑی تک لے گئے ۔۔۔۔ رات ڈنر پر ٹیبل پر اسکی پسند کی ہر۔ چیز موجود تھی ۔۔۔مگرچسب کچھ بے معنی لگ رہا تھا۔۔۔۔ زوبیہ اس کے پاس بیٹھی تھی ۔۔۔ اس کی پلیٹ میں خود سے ہر چیز ڈال رہی تھی ۔۔۔
لیکن حیا سے ایک لقمہ میں لگایا نہیں گیا ۔۔۔
” بیٹا کل ایک بہت سے چینل کے نیوز کاسٹر تمہاراانٹر ویو لینا چاہتے ہیں میں نے تو بلوا بھی لیا ہے انہیں ۔۔۔تم نے انکے سامنے بھی ایسا ہی سب کچھ کہنا ہے ۔۔۔
صبح سے اتنی کال آ رہیں ہیں سب کی کہ میں کیا بتاؤں تمہیں ۔۔۔ “زوبیہ کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔
“زوبیہ ابھی کسی کو بلانے کی ضرورت۔ نہیں ہے جب تک کے وہ کمینہ اسے ڈائیواز نا دیدے میری ارسل سے بھی بات ہو گی ہے وہ اگلے ہفتے آ رہا ہے ۔۔۔ بہت جلد میں اپنی بیٹی کی شادی ارسل سے کر دوں گا”سلیمان نے کھانا کھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ لیکن حیا نپکن سے منہ صاف کرتے ہوئے ٹیبل سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ اسکے فون پر ارسل کی کئ کالز آئیں تھیں ۔۔۔ لیکن اسے پرواتک نہیں تھی ۔۔۔ اس نے حمیرا کو فون کیا ۔۔۔
” ہیلو حیابہت بہت مبارک ہو تمہیں ۔۔۔ تم جیت گئ حیا ” حمیرہ نے خوشی سے کہا
” حمیرہ مجھے ارتضی کا نمبر چاہیے “
“کیوں تمہارے پاس نہیں ہے “
” ہوتا توتم سے پوچھتی جلدی سے نمبر دو ” حیا کے بے لچک لہجے پر حمیرہ نے مزید بات نہیں کی
ارتضی کا نمبر بتا کر فون رکھ دیا ۔۔
” حیا نے اسے کال کی کئ بیل بجنے کے بعد اس نے فون اٹھایا ۔۔
” ہیلو ۔۔۔ “آوز سن کر حیا کو بے تحاشہ رونا آیاتھا ۔۔
” کون ہے ” ارتضی نے ایک ان نون نمبر دیکھ کر پوچھا مگر آگے سے خاموشی تھی
” ہیلو “
” مجھے کل ہی طلاق چاہیے ” اپنا رونا ضبط کر کے وہ بولی لیکن سامنے والا چپ سا ہو گیا تھا کچھ دیر بول نہیں پایا
” تو تم حیا ہو ۔۔۔ میری پوری کوشش کروں گا کہ جلد از جلد یہ کام کر لوں لیکن کل تو ممکن نہیں ہے ۔۔ “
” آپ مجھے ڈرائیوز پیپر نہیں بھیجیں گئے ۔۔۔ میں خود وکیل کے پاس آؤں گی پہلے آپ ڈرائیوز پیپر پر سائن کریں گئے پھر میں ۔۔۔ اس سے وقت ذرا کم ضائع ہو گا کام بھی جلدی ہو جائے گا ۔۔۔ “
” ٹھیک ہے ۔۔ میں ۔۔۔۔ میں وکیل سے بات کر کے تمہارے آغا جی کو بتا دوں گا “
” جی نہیں آپ مجھے بتائیں گئے ۔۔۔ میرا نکاح آپ سے آغا جی نے نہیں کروایا تھا میں نے خود کیا طلاق دینے کے لئے بھی انہیں زحمت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میں خود آؤں گی ۔۔۔ ” وہ تلخ لہجے سے بولی
“او کے ۔۔۔ میں تمہیں بتا دوں گا ۔۔۔ اور کچھ “
” نہیں اور کچھ نہیں مجھے رومی سے بات کرنی ہے “
” ایم سوری ۔۔۔ بھول جاؤں رومی کو ” ارتضی بھی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
” کیوں بھول جاؤں آپ میری بات کروائیں رومی سے “
” نہیں حیا ۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا بیٹا مزید تکلیف برداشت کرے ۔۔۔ اسے سنبھالنا ہی میرے لئے بہت مشکل ہے ۔۔۔ بہتر ہے کہ تم اپنی لائف پر توجہ دو ۔۔۔ پیپر تیار ہوتے ہی میں تمہیں بتا دوں گا ۔۔۔ ” یہ کہتے ہی فون بند ہو گیا تھا
” میرا بیٹا ۔۔۔ کتنے آرام سے کہہ دیا میرا بیٹا جیسے ۔ہن تو کچھ ہوں ہی نہیں ۔۔۔۔رومی تکلیف میں ہے ۔۔۔ کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔ ” وہ بیڈ پر بیڈ گئ رومی کی فکر ستانے لگی
ارتضی عدالت سے فارغ ہو کر واپسی پر رومان اور سبحان کو مری لے آیاتھا ۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہی رومان نے سب سے پہلے حیا کو ڈھونڈا تھا ۔۔۔
” بابا ممی کہاں ہیں ” جب پورے گھر میں اسے حیا کہیں بھی نظر نہیں آئی تو رومان نے پوچھا ارتضی نے سبحان کو کاٹ میں لیٹایا اور رومان کا ہاتھ پکڑے اسے صوفے پر لیکر بیٹھ گیا
” رومی تمہاری ممی تانیہ ہے حیا نہیں ” ارتضی رومان کو پیار سے سمجھانا چاہ رہا تھا لیکن وہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا ایک ہفتہ اس نے بڑی مشکل سے کاٹا تھا حیا کے بغیر
” بابا حیا کہاں ہیں “
“اپنے گھر چلی گئ ہے اپنی ممی اور بابا کے پاس ” یہ سن کر رومان کا چہرہ بجھ سا گیا تھا
” آپ نے پھر سے ان سے لڑائی کے ہے ۔۔۔ تھپڑ مارا ہے بابا “رومان کو وہ ناراض ہو کر گئ ہے
” نہیں رومان میں نے کچھ نہیں کہا لیکن وہ بس کچھ مہنے ہی یہں رہنے آئی تھی ۔۔۔ “
” ممی نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نے نکاح کیا تھا ان سے اور نکاح کا مطلب شادی ہوتا ہے بابا اور شادی کا مطلب وہ میری ممی ہیں ۔۔۔ چلیں میرے ساتھ مجھے انہیں ابھی واپس لانا ہے ” رومان صوفے سے کھڑا ہو گیا
” رومی میری بات سمجھنے کی کوشش کروں “
” نہیں مجھے کچھ نہیں سمجھنا مجھے ممی کے پاس جانا ہے بابا مجھے ممی چاہیے ہے ” وہ چلا کر بولنے لگا
” رومی ضد مت کرو مجھ سے “
“بابا اگر آپ نہیں جائیں گئے تو میں اکیلا چلا جاؤں گا ” وہ تیز قدموں سے باہر کی طرف لپکا تھا ارتضی نے فوراسے اسے پکڑ لیا
” کیا پاگل پن کے رومان ۔۔۔ “۔
” چھوڑیں۔ مجھے بابا آپ اچھے نہیں ہیں بہت برے ہیں میری ممی کو نا جانے کہاں چھوڑ آئے ہیں ۔۔۔ مجھے نہیں رہنا آپ کے پاس ۔۔۔ مجھے ممی کے پاس جانا ہے ۔۔۔ ” وہ اپنا آپ اس سے چھڑوا رہا تھا ۔۔۔۔
ایک تھپڑ تھا جو رومان کے منہ پر پڑا تھا ۔۔۔ وہ بے تحاشہ رونے لگا ۔۔۔
” آج کے بعد تمہارے منہ سے میں حیا کا نام نا سنو ” ارتضی کی تنبیہ پررومان روتے ہوئے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔
ارتضی کو افسوس سا ہونے لگااج تک اس نے کبھی رومان ہر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا نا ہی آج تک رومان نے کبھی اتنی ضد کی تھی ۔۔۔
رات بھر وہ جاگتا رہا ۔۔۔ صبح وکیل سے ڈائیواز پیپر۔ بنانے کے لئے کہا ۔۔۔
تین چار دن میں پیپر تیار ہو چکے تھے ۔۔۔ حیا کو اس نے وکیل کا نام بتایا تھا،اور وقت بھی اچھا تھا کہ یہ معاملہ جلد از جلد طے ہو جاتا ۔۔ رومان نے ارتضی سے بات چیت بلکل ترک کردی تھی ۔۔۔
ارسل نے واپس آنے کی خبر بڑی خوشی سے حیا کو سنائی تھی
“سچ میں حیا تم نے جو کارنامہ انجام دیا ہے میرے دوست تو مجھ پر رشک کر رہے ہیں کہ تمہاری ہونے سی بیوی اتنی بریو ہے “
“ارسل میرے سر ۔میں درد ہے میں پھر بات کروں گی ۔۔” حیا نے اسکی بات ٹھیک سے سنی بھی نہیں اور فون بند کر دیا ۔۔۔ رات کو نیند نہیں آ رہی تھی بار بار رومان کا چہرہ آنکھوں سے سامنے آ رہا تھا ۔۔۔ اسکی شرارتیں اس کا پیار اس کا خیال رکھنا ۔۔ حیا کو کافی کی طلب ہوئی تو خود ہی کافی بنانے کے غرض سے کمرے سے نکل کرلاونج میں آ گئ آغا سلیمان لانج میں بیٹھے دلاور سے بات کر رہے تھے
” دلاور صاحب آپ فکر ہی مت کریں بس ایک بار حیا کو طلاق ہو جائے میں اسکی شادی آذر سے کروا دوں گا ۔۔۔ آپکی کھوئی ہوئی عزت بھی واپس مل جائے گی اور حیا کیس بھی واپس لے لے گی ۔۔۔ لیکن اپنا،وعدہ یاد رکھیے گا ۔۔۔ اپنے حلقے میں آپ نے مجھے ہی جتوانا ہے ” حیا یہ سن تاسف میں آئی تھی
وہی کھیل پھر سے شروع ہونے والا تھا وہ وہیں سے پلٹ کر اپنے کمرے
میں ۔ آ گئ ۔۔۔ اس کے آنے سے یہاں کسی کو کوئی خاص فرق۔ نہیں پڑا تھا سب ویسے ہی تو تھے زوبیہ کی بھی وہی روٹین تھی اور سلیمان کی بھی۔۔۔ لیکن وہاں رومان ضرور ڈسٹرب ہو گیا تھا ۔۔۔
“ارتضی کو تو فرق نہیں پڑتا انکے پاس انکی تانی کی یادیں جو ہیں لیکن رومان ۔۔۔ رومان کے پاس ماں نہیں ہے ۔۔۔۔ میرے پاس میرے ماں باپ ہوتے ہوئے نہیں ہیں جو توجہ مجھے نہیں مل سکی اس سے رومان کیو محروم رہے ۔۔ میں ارتضی سے بات تک نہیں کروں گی ۔۔ نا انکی کوئی بات سنو گی ۔۔ لیکن رومان ۔۔۔ رومان کاکیاقصور ہے وہ کیوں ماں کی محبت سے دور رہے ۔۔۔ ” نا جانے آنسوں کس بات پر آ رہے تھے تکلیف کہاں سے اٹھ رہی تھی ۔۔۔ صبح وہ یہ کہہ کر کوٹ چلی گئ کہ وہ ارتضی سے ڈائیواز لیکر واپس آ جائے گی ۔۔۔ زوبیہ نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔۔۔ کوٹ میں ۔ پہنچ کر جب وہ وکیل کے کیبن میں داخل ہوئی توارتضی پہلے سے موجود تھا ۔۔ شیو کافی بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔ چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ رتجگے کے تاثرات بھی عیاں تھے ۔۔۔ حیاکوایک نظر دیکھ اس نے نظریں ہٹائیں۔ تھیں مگر اسکے ساتھ آنے والے کو دیکھ بے ساختہ دوبارہ غور سے دیکھا تھاوہ ایک ساٹھ سے پینسٹھ سالہ بوڑھاساشخص تھا پینٹ کوٹ پہنے ۔۔۔ کافی کمزور اور لاغر سا تھا ۔۔۔۔ چلنے سے ذراسالنگرارہا تھا۔۔۔ منہ میں دانت بھی پورے نہیں تھے ۔۔۔
” ہیلووکیل صاحب “حیا نے ارتضی کو یکسر نظر انداز کیا تھا ۔۔۔
“ہائے مس حیا تشریف رکھیے “
” نہیں بس مجھے ذرا جلدی ہے ۔۔ آپ بتائیں کہاں سائن کرنا ہے ۔۔ ” وہ کافی عجلت میں تھیں
” کیوں مس حیا اتنی جلدی کس بات کی کے میں تو چاہتا تھا آپ دونوں ایک بار دوبارہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیں ۔۔” وکیل نے دونوں کی جانب دیکھ کر کہا
” نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ایسے شخص کے ساتھ کیا زندگی گزارنی جو اپنی محرمہ بیوی کی یادوں سے نا نکلے ۔۔ ایکچلی میں ان سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور یہاں سائن کرنے بعد ان سے کورٹ میرج بھی کرنی ہے ۔۔ اور آپ کو تو پتہ ہے ان کاموں کتنا وقت لگ جاتا ہے ۔۔ “حیا نے اس بوڑھے شخص کی طرف اشارہ کیا
” اس سے ” وکیل اور ارتضی دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا وہ شخص اس کے دادا کی عمر کا ہو گا ۔۔ ارتضی کے حواس معطل ہوئے تھے
” جی ہاں ان سے “
” حیا یہ سب کیا ہے ۔۔ کیاارسل نے شادی سے انکار کیا ہے ” ارتضی نے سنجیدگی سے پوچھا
” آپ کواس سے مطلب ۔۔۔ میری لائف ہے ۔۔۔ آپ کو کیا لگے کے کس کے ساتھ گزرے گی کیسی گزرے گی ۔۔۔ آپ پیپر پر سائن کریں ۔۔۔ ” حیا کے دو ٹوک انداز پر وہ پریشان ہوا تھا
” حیا ہم کچھ دیر بات کر سکتے ہیں؟ ” ارتضی اسے سمجھانا چاہتا تھا
” جی نہیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔ آپ سائن کریں ۔۔۔ “
” تم ارسل سے محبت کرتی ہو ۔۔تو پھر یہ سب “
” نہیں کرتی ۔۔۔ بھاڑ میں جائے ارسل ۔۔۔ آغا جی میری شادی آذر سے کروانا چاہتے ہیں لیکن آپ کو کیا فرق پڑتا ہے میں جیو یا مر جاؤں ۔۔۔ چونکہ یہ میری لائف ہے آپ کو اس سے کیا غرض اس لئے آذر سے بہتر کے کہ میں ان سے شادی کر لوں آپ سائن کریں۔ ” حیا نے اپنے ساتھ کھڑے شخص کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ ارتضی نے پیپر پکڑے اور کئ ٹکڑوں میں پھاڑ کر دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیے ۔۔۔
” چلو میرے ساتھ “
” مجھے نہیں جانا ” صاف انکار ہوا
” حیا کیا چاہتی ہو تم زبردستی لے کر جاؤں تمہیں ” وہ زچ ہوتے ہوئے بولا
” ارے بیٹا اب تو تیرے میاں نے پرچہ بھی پھاڑ دیا ہے اگر ڈرامہ ختم ہو گیاہو تو میرے دو ہزار
مجھے دیدے ۔۔۔ بچوں کے لئے راشن لے جاوں گادعائیں دیں گئے تمہیں ۔۔۔ ” اس شخص کی بات سن کر حیا نے گھور کر اس شخص کو دیکھا تھا ارتضی سمجھ گیا تھا یہ سب حیا کا رچایا گیا ڈرامہ تھا ۔۔۔ اپنی جیب سے تین ہزار نکال اس شخص کے ہاتھ میں رکھے ۔۔ اور حیا کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گیا اپنی پول کھلنے پر حیا کو ذراسی شرمندگی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ چپ چاپ سے اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔ گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ارتضی حیا کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جو لا تعلق بنی بیٹھی تھی ۔۔۔ پورے راستے کچھ نہیں بولی ۔۔۔
گھر پہنچ کر سب سے پہلے بھاگ کر رومان کے پاس گئ تھی ۔۔۔
وہ اسے دیکھ رومان بھی خوش ہوا تھا اس کے گلے لگ کر رونے لگا ” ممی آپ واپس آ گئیں
آپ کو پتہ بابا نے مجھے تھپڑ مارا ہے ۔۔۔ میں ان سے کبھی بات بھی نہیں کروں گا “
” ہاں تمہارے بابا ہیں ہی ایسے میں سن سے بات نہیں کرونگی ۔۔۔ میں صرف تمہارے لئے آئی ہوں ۔۔ ” دونوں کے گلے شکوے آنسوں کے ساتھ جاری تھے ۔۔۔۔
ارتضی سبحان کو گود میں لیا ۔۔۔۔ بھوک کے مارے وہ اپنے ہاتھوں کو چوسنے میں مگن تھا ۔۔۔ ارتضی نے اسے گود میں لئے لئے اس کافیڈر بنایا فیڈر پیتے ہی وہ سو گیا تھا ۔۔۔ رومان اور حیا کی آوازیں کچن تک آ رہی تھیں ۔۔ اتنی باتیں تھیں انکے پاس کے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں تھیں ۔۔
“آپ کو پتہ میں نے کتنا مس کیا آپ کو وہاں اور جب گھر آیا تو آپ نہیں تھیں “
” میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا تھا ۔۔۔ رومی ۔۔۔ میں نے تمہارے بابا سے کہا بھی میں نے رومی سے بات کرنی ہے لیکن نہیں ۔۔ انہوں نے میری بات تک نہیں کروائی تم سے “
” ہاں وہ ہیں ہی ایسے ۔۔۔ میں نے چار دن سے ان سے بات نہیں کی ۔۔۔ آپ بھی مت کیجیے گا ” کچن میں کھانا بناتے ہوئے وہ ان کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ رات ڈنر پر کھانا لگا کر ارتضی نے ان دونوں کو آواز دی تھی بھوک تو دونوں کو شدت سے لگی ہوئی تھی ۔۔۔ اس لئے ڈنر کے لئے دونوں خفگی سے منہ پھلائے آئے تھے ۔۔ حیا کے لئے کرسی ارتضی اپنے برابر والی کھسکائی لیکن وہ رومان کے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔ کھانا دونوں ماں بیٹا نے ایک دوسرے کے ہاتھ سے کھایا تھا ۔۔۔ رات کو دیر تک وہ رومان کے ساتھ لانج میں بیٹھی کارٹون دیکھتی رہی ۔۔۔ اب تو رومان کی آنکھیں بھی نیند سے بند ہو رہیں تھیں سبحان کو پمپر پہنا کر سلا کر جب وہ کمرے سے نکل کر لاونج میں آیا تو رومان نیند میں تھا حیا نے ایک نظر ارتضی پر ڈال کر ہٹا لی ۔۔۔ ارتضی رومان کے پاس آیا کر اسے گود میں لینے لگا
” چلو سو جاؤں اب بہت رات ہو گئ ہے ۔۔۔ اسے گود میں بھر کر اسے بیڈ پر لیٹایا ۔۔۔ اسکے رخسار پر پیار کیا اسے لحاف اوڑھا کر باہر نکل آیا وہ اب بھی باہر بیٹھی تھی ۔۔۔
وہ اسکے برابر میں بیٹھ گیا حیا کھسک کر ذرا سا پیچھے ہٹ گئ
” آپ یہ نا سمجھیں کہ میں آپ کے لئے واپس آئی ہوں ۔۔۔ میں صرف رومی کے لئے آئی ہوں ۔۔۔ ” خفا خفا سی بولی
” رومی تمہیں ایسے نہیں مل سکتا ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھ سے صلح کرنی ہوگی ۔۔۔ ” وہ اسے دیکھ بولا
” جی نہیں ۔۔۔ ” وہی نخرہ وہی ناراضگی
” اب ختم بھی کرو اس بات کو ۔۔۔ چلو پہلے ہاتھ تمہاری طرف میں بڑھا لیتا ہوں ” ارتضی نے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا
” میں نے کہہ جو دیا مجھے آپ سے بات نہیں کرنی “
” حیا پلیز “ارتضی نے صلح جوئی میں پہل۔کی
“نو ” وہ دو ٹوک انداز سے بولی
” او کے ۔۔۔ مرضی ہے تمہاری ۔۔ کمرے کا دروازہ لاک نہیں ہے جب چاہو آ سکتی ہو ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے میں چلا گیا حیا نے حیرت اور غصے سے اسے جاتے ہوئے دیکھا ۔۔۔
“یہ کیا بات ہوئی چلے بھی گئے ۔۔۔ تانیہ ہوتی تو اسے نہیں مناتے ۔۔ اس کی تو بہت منتیں کرتے ہوں گئے ۔۔۔ ہاں میری کیوں کریں گئے ۔۔۔ “اپنادل جلائے
پہلے توصوفے پر لیٹ گئ ۔۔ لیکن جب چین نہیں آیاتو اس کے کمرے میں آ گئ وہ سوئے ہوئے سبحان کو کاٹ میں ڈال رہا تھا ۔۔۔ جب وہ اسکے سامنے آ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔
” کتنے سنگ دل ہیں آپ ۔۔۔ کیا تھا کو مجھے تھوڑاسا منا لیتے ۔۔۔۔ میں نے کون سا ساری زندگی ناراض رہنا تھا لیکن نہیں آپ کو مجھ سے محبت جو نہیں ہے ۔۔ بس صرف تانیہ سے ہے ۔۔
” میں باہر تمہیں منا ہی رہا تھا اگر تمہیں یاد ہو تو “
” لیکن پیار سے تو نہیں کہا تھا نا اگر تانیہ ہوتی تو ” ارتضی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
” تم تانیہ سے جیلس ہو رہی ہو حیا میری ایسی بیوی سے جو یہاں ہے ہی نہیں نا ہی واپس آ سکتی ہے ۔۔۔ ” حیا نے اس کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا
” جھوٹ وہی ہے آپکی زندگی میں ۔۔۔ آپکی ہر بات میں ۔۔۔ اس گھر میں اس کمرے میں اور آپکی آنکھوں میں اور تو اور آپکے دل میں بھی بس حیا کہیں نہیں ہے ” وہ رونے لگی تھی ۔۔
“اسوقت تو میری زندگی میں تم ہو۔۔۔ میرے گھر میں بھی تم ہو ۔۔۔ اس کمرے میں ۔۔ میری آنکھوں میں دیکھوں وہاں بھی تمہیں اپنا چہرہ نظر آئے اور اب تو ۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ چپ ہو گیا
” اور اب تو ۔۔ کیا ” حیا مزید سننا چاہتی تھی ۔۔۔۔ ارتضی نے اگلے لمحے اسے اپنے حصار میں لیا تھا
” یہاں میرے دل میں بھی ۔۔۔ پچھے چار دنوں میں رومان کے ساتھ ساتھ میں نے بھی بہت مس کیا ہے تمہیں ۔۔ ” ارتضی کے ساتھ لگے ہوئے بھی اسکے شکوے جاری تھے
“جھوٹ بول رہے ہیں آپ اتنا میرا خیال ہوتا تو وہاں چھوڑ کر نہیں آتے ‘
” تم نے بھی نہیں بتایا کہ ارسل تمہارے لئے غیر اہم ہے ۔۔۔ ایک بار کہہ دیتی تو کبھی چھوڑ نہیں آتا ۔۔۔ “
” مجھے ۔۔۔ آپ اچھے لگنے لگے تھے ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں ” بڑا عجیب اظہار تھا ۔۔ ارتضی مسکرانے لگا
” مجھے بھی تم بہت اچھی لگنے لگی ہو حالانکہ ایسی کوئی بھی بات تم میں ایسی نہیں ہے جو مجھے پسند ہو ۔۔۔ تم تانیہ جیسی بلکل نہیں ہو وہ کسی خوشبوں طرح دھیرے دھیرے سے ۔میری زندگی میں شامل ہوئی تھی اور تم ۔۔۔ تم تو آنا فانا سے ۔۔۔ زبرستی سے آگئ میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک اسپوپٹ سی لڑکی ۔۔ بے دھڑک میرے سامنے بیٹھ کر زبردستی مجھ سے چائے پینے والی ۔۔۔ زبردستی مجھ سے نکاح کرنے والی ۔۔۔ میرے گھر پر میرے بیٹے پر حق جمانے والی ۔۔۔ کب زبردستی میرے دل میں آ کر بیٹھ جائے گی ۔۔۔مجھے خبر تک نہیں ہوئی کب تم میرے لئے اتنی اہم ہو گئ ۔۔۔ ” ارتضی کے منہ سے اپنے لئے اتنا کچھ سن کر اسے کچھ تسلی ہوئی تھی ۔۔
سبحان کے بے ساختہ رونے پر ارتضی نے اسے اپنے حصار سے الگ کیا تھا۔۔
“۔میں تو بھول ہی گیا تھا کہ دو بچوں کے ماں باپ ہیں ہم” یہ کہہ کر اس نے سبحان کو گود لیا تھا ۔۔۔ حیا نے ناگواری سے اپنا رخ بدلہ تھا۔۔۔
ارتضی اسے گود میں لیکر بہلانے لگا لیکن جب حیا پر نظر پڑی تو ناگواری صاف دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔ وہ سبحان کو گود میں لئے حیا کے پاس لے آیا ۔۔
” ایک بار دیکھوں تو صحیح اسے حیا ۔۔۔ اس کا تو کوئی قصور نہیں ہے تمہاری طرح بلکل بے قصور ہے یہ بھی ۔۔۔۔” ارتضی کی یہ کہنے کی دیر تھی حیا رونے لگی تھی ۔۔۔
” اسے یہاں مت رکھیں ارتضی مجھے مزید آزمائشیں نہیں دینی ۔۔۔ اس کے رونے کی آواز میں مجھے اپنی سسکیاں سنائی دیتی ہیں ۔۔ یہ بے قصور ہے بھی تب بھی جس کی اولاد مجھے اس سے اتنی نفرت ہے میں اسکی بھی شکل دیکھنا نہیں چاہتی ۔۔ ” حیا نے روتے ہوئے کہا
” اسے اسی کو لوٹادیں جس کا یہ گناہ ہے ۔۔ ہم کیوں پالیں ” حیا نے تلخی سے کہا تھا
” اول تواسے اپنائے گا نہیں ۔۔۔ اور بائے چانس رکھ بھی لے تو اپنے جیسا بنا دے گا ۔۔۔ کیوں نا ہم اسکی پرورش کر کے اسے ایک اچھا انسان بنائیں ۔۔۔ “وہ بڑی رسانت سے سمجھا رہا تھا ۔۔
” میں یہ نہیں کر سکتی “
” میں اسے آذر کا سمجھ کر نہیں دیکھتا حیا ۔۔ صرف یہ سمجھتا ہوں کہ یہ میری حیا کا بیٹا ہے سچ پوچھوں تو بہت پیار آتا ہے اس پر ۔۔۔ تم اسے میری نظر سے دیکھاں گی تو بہت اچھا لگے گا تمہیں ۔۔۔”ارتضی کے کہنے پر
پہلی بار حیا سبحان کی طرف دیکھا تھا ۔۔ جو آنکھیں کھولے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ دیکھ مسکرا رہا تھا پھر اسکی طرف لپکنے لگا بے اختیار اسے پکڑ کے اپنے سینے سے لگا کر رونے لگی ۔۔۔ اسے بے اختیار چومنے لگی ۔۔۔
مشکل کام تھا لیکن ذراسا دل بڑا کرنے سے اگر کسی معصوم کا مستقبل سنوار جائے تو کیا برا ہے
