Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 12
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 12
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
جمعے کا دن جتنا آرء کے لئے خاص تھا اتنا ہی آس سے کئ ذیادہ عبداالباسط کے لئے اہم تھا ۔۔۔۔ آرء نے ہاتھ پر نیلو سے مہندی لگوائی تھی ۔۔۔
“نیلو سادے سے ٹکے نا لگا دینا ۔۔ میرے ہاتھوں پے ۔۔اچھا سا ڈائزن لگا دے ۔۔ اور ہاں A جرور لکھنا ۔۔۔۔ عبداالباسط کے نام کا پہلا حرف ہے ۔۔۔ “
اچھا آرء لکھ دوں گی کائے باؤلی ہوئے جا رہی ہو ۔۔۔ ” نیلو پیالی میں مہندی ڈالے ماچس کے تنکے سے اسکے گورے ہاتھوں پر مہندی کے نقش و نگار بنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
نصیبوں کی بچی ادھر آ کہاں ہے تو “آرء نے دوسری لڑکی کو آواز دی
” کا بات ہے آرء “۔ نصیبوں اس کوستے کمرے سے نکل کر اسکے پاس آ گئ
اپنا جوڑا میں نے پلنگ پر رکھا ہے دھیان سے استری کرنا اسے جل گیا تو تیرا ہاتھ جلا دوں گی ۔۔۔ نیلا رنگ بڑا پسند ہے عبداالباسط کو “آرء مسکراتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
چہرہ گلاب کی مانند کھل رہا تھا ۔۔۔ پہلی بار اس کی سجاوٹ اپنے شوہر کے لئے تھی وہ بھی من پسند شوہر کے لئے اس لئے کوئی بھی کمی نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ دوسری جانب عبداالباسط سے وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا ۔۔۔۔ سفید شلوار قمیض سفید ٹولی پہنے مسکراہٹ اسکے چہرے پر بھی سجی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
محبت کو ایک جائز نام دے کر اپنانا تھا ۔۔۔ گو یہ سب مختصر وقت کے لئے تھا لیکن یہ اس وقت کون سوچنا چاہ رہا تھا ۔۔۔۔ نا آرء کو پروا تھی نا عبداالباسط کو فکر تھی اس وقت تو دل ہواوں کا مسافر تھا ۔۔۔۔ ملن کے لئے دونوں ہی بے تاب تھے ۔۔۔
شام کو عبداالباسط ایک نکاح خواں اور دوست اور دو گواہوں کے طور پر ہمراہ لئے جہان کے کوٹھے پر پہنچا تھا ہاتھ میں آرء کے لئے ایک انمول تحفہ بھی تھا ۔۔۔ بازار حسن سےاس گواہ دوست تو واقف تھے لیکن نکاح کرنے والے لڑکے کی حالت خراب ہو رہی تھی ۔۔۔ بار بار شاکی نظروں سے عبداالباسط کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جہان کے صحن میں جہان کے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔ سوائے ایک ہارمونیم والے کے ۔۔۔
عبداالباسط کا استقبال کسی نے نہیں کیا تھا ۔۔۔ جہان کے تخت کے سامنے چند کرسیاں رکھی گئیں تھی ۔۔۔ منہ میں پان دبائے جہان بیگم کی نظر میں ذرا بھی اپنایت نہیں تھی۔۔۔ عبداالباسط وہاں بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” آرء” عبداالباسط نے خالی صحن دیکھ کر پوچھا
“نکاح کے بعد باہر آئے گی “
“ٹھیک ہے ۔۔۔۔ چلو شارق نکاح شروع کرو ” عبداالباسط نے اس حافظ لڑکے سے کہا
” کس کا عبداالباسط ؟”
“میرا ” شارق ک رنگ فق ہوا تھا
“تم۔۔۔تمہارا ۔۔۔ یہاں ۔۔ اس جگہ “وہ ہکلایا تھا
“ہاں جلدی کروں ” وہ لڑکا متذبذب سا ہوا تھا ۔۔۔ نکاح نامہ بھرنے لگا ۔۔۔
نکاح ہوتے ہی وہ لڑکا اور باقی کے دوست واپسی کو پر تولنے لگے سب ہی عبداالباسط کے منصوبے سے بے خبر تھے ۔۔۔
“ٹھیک ہے جاؤں لیکن ابا سے کچھ مت کہنا میں خود بتا دوں گا اگر تم لوگوں کوئی بھی بات بتائی تو یاد رکھنا ۔۔۔ میرے پاس بھی بہت کچھ ہے تمہارے باپوں کو بتانے کے لئے ” کھلی دھمکی عبداالباسط نے دی تھی
وہ لوگ چلے گئے ۔۔۔۔ آرء شلوار قمیض میں ملبوس تھی ڈوپٹہ سر رکھا تھا تیار تھی ۔۔۔ ہاتھوں میں وہی لال سادی چوڑیاں پہنی تھیں۔۔۔
عبداالباسط کچھ دیر تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔
وہ بھی مسکراتی ہوئی اسکے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔۔ جہان بیگم کے چہرے پر سنجیدگی تھی منہ سے پان کی پیک اس نے اگلدان میں پھینکی پھر بولی
“دیکھ چھورے تیرا نکاح میں نے آرء کے کہنے پر کیا ہے ۔۔۔ آج چاند کی دسویں تاریخ ہے اگلے چاند کی دسویں تاریخ کو آرء مجھے یہیں جہان کے کوٹھے پر چاہیے “
“جی “عبداالباسط نے مختصر جواب دیا ۔۔۔
” اری اور نیلو کمرے کی الماری سے قرآن تو اٹھا کے لا جرا ۔۔۔۔ آرء اور عبداالباسط نے نافہمی سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر جہان بیگم کو ۔۔۔نیلو مٹی سے بھرا غلاف میں لپٹا قرآن پاک لے آئی ۔۔
“چل چھورے ہاتھ رکھ اور قسم کھا کے اگلے مہینے چاند کی دس تاریخ کو تو آرء کو واپس چھوڑ کے جائے گا ” نور جہاں نے عبداالباسط سے کہا
” اماں میری بات کا یقین ناہی ہے تجھے ۔۔۔ قرآن کو بیچ میں کیوں کا رہی ہے “آرء بولی تھی
” تو چپ کر ۔۔۔ تو پہلے بھاگنے کو پھرتی ہے یہاں سے ۔۔۔ دیکھ ببوا ۔۔ میں نے سالوں سے قرآن پڑھا ناہی ۔۔۔ لیکن تو تواس کی اہمیت کو جانے ہے ۔۔۔
یا تو قرآن اٹھا یا پھر طلاق دے آرء کو اور نکل یہاں سے ۔۔۔” نور جہاں نے سخت لہجے سے عبداالباسط سے کہا ۔۔۔
” میں قرآن نہیں اٹھا سکتا لیکن ۔میری بات پر یقین کریں میں چھوڑ جاؤں گا آرء کو واپس “
” دیکھ جہان بیگم نے دھوپ میں بال سفید ناہی کیے ۔۔۔ تیری آنکھوں سے خوف آوے ہے ۔مجھے ۔۔۔ایک بار تو میری چھوری کو لے گیا پھر ناہی چھوڑے گا ۔۔۔ اور یہ۔۔۔ یہ کمبخت کو آندھی تیرے پیار میں ۔۔۔ ورنہ موفت میں تیرے ساتھ نا چلنے کو تیار ہو جاتی ۔۔۔ دیکھ تو گاہک بن کے ناہی آیا ہے ۔۔۔ جو جب تک چاہے یہاں آتا رہے ۔۔۔ تو نے نکاح کیا ہے ۔۔۔ ایک مہینے بعد آرء کے ساتھ طلاق نامہ بھی ساتھ بھیجوں ۔۔۔ تا کے دوبارہ تیرا آرء سے کوئی واسطہ نا رہے ۔۔۔۔ طلاق کا مطلب تو تو جانتا ہے اچھے سے تعلق ختم کر دینا بلکل آرء سے ۔۔۔ “جہان بیگم اسے عجیب امتحان میں ڈال گئیں تھیں
” میں آرء کو چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔ ” عبداالباسط کی آواز میں دم نہیں تھا
” رکھ ہاتھ قرآن ہے ۔۔۔ کہ طلاق کے ساتھ اسے چھوڑ جائے گااور پلٹ کر واپس نہیں آئے گا ۔۔۔ دیکھ بنا ہاتھ رکھ کر قسم کھائے بنا آرء ناہی جائے گی “
عبداالباسط کے ہاتھ بری طرح سے کپکپائے تھے ۔۔ اس نے قرآن پر ہاتھ رکھا
” میں آرء کو ایک مہینے بعد یہاں چھوڑ جاؤں گا “یہ کہہ کر عبداالباسط نے ہاتھ اٹھا لیا۔۔۔۔
آرء کا جی چاہا سامنے بیھٹی اپنی ماں کو گندی سی گالی دیدے ۔۔۔
مائیں بیٹیوں کے گھر بساتی۔ ہیں یہ کیسی ہے جو طلاق کی باتیں کر رہی ہے ۔۔۔
صرف پیسے کی پجارن ہے سالی ۔۔۔ آرء نے تاسف سے سوچا
“چلو عبداالباسط” آرء کرسی سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
“ارء اس میں ایک برقعہ ہے اسے پہن لیجیے ۔۔۔ ” عبداالباسط نے ایک شوہر آرء کی طرف بڑھایا ۔۔۔ جہان بیگم کے چہرے پر استزائیہ مسکراہٹ تھی
******…….
جازم غصے سے گھر میں داخل ہوا تھا اپنابیگ ایک طرف پھینکا۔۔۔۔ ہارون رشید نے بیٹے کو غصے سے لال بھبوکا چہرہ دیکھا ۔۔
“کیا بات ہے بیٹا کسی نے کچھ کہہ دیا ۔۔۔
“بابا آپ کہتے ہیں نظریں جھکانا بہادری ہے ۔۔۔ غیر عورت کو غور سے دیکھنا غلط ہے ۔۔۔ لیکن پتہ ہے میرے کلاس کے لڑکے کیا کہتے ہیں ” پندرہ سالہ جازم نے تاسف سے ہارون الرشید کو دیکھا
“کیا کہتے ہیں “
“کہتے ہیں تم تو پوری عورت ہو تم میں میں مردوں والی کوئی بات نہیں ہے لڑکیوں کے سامنے اعتماد سے بات نہیں کرنی آتی تمہیں ۔۔۔ “
“تو اس بات سے کاغصہ آ رہا ہے آج کل تو بے حیائی کو اعتماد نام ہی تو دیا جارہا ہے “
” آپکو پتہ ہے کیا کہا آج مجھے لڑکوں نے “
“آج کیا کہہ دیا “
” کہہ رہے تھے سچ سچ بتا تو مرد بھی ہے ہو یا ۔۔۔۔۔ ” وہ غصے سے بات ادھوری چھوڑ گیا
” ” میری بات سنو پہلے تو ٹھنڈا پانی پیوں اتنے غصے میں کہاں کوئی بات سمجھ آئے گی ۔۔۔۔ “ہارون الرشید نے اس پانی بھر کے دیا جازم نے ٹھنڈا پانی پیا ۔۔۔ ہارون الرشید اسکے برابر میں بیٹھ گئے
” تمہیں کیا لگتا ہے بیٹا دین پر چلنا آسان ہے ۔۔۔ اللہ نے یونہی تو اتنے بڑے درجے نہیں رکھ دیے پرہیز گاروں کے لیے ۔۔۔ اپنے نفس کی لڑائی یہی تو ہے ۔۔۔ لوگوں کو کہنے دو سب۔۔۔۔ تم بس سیدھے راستے پر گامزن رہوں ۔۔۔ دوسروں کی سن کر کیا ہم راستہ بدل لیں ؟ حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کر لیں ۔۔۔ عورت کے ساتھ بدتمیزی کرنا بے باکی سے دیکھنا کیا یہ ہے بہادری ؟ یہ تو کوئی بھی کر سکتا ہے اور کتنے ہی لوگ کرتے ہیں ۔۔۔ بلکہ اسی فیصد سے زیادہ ایسے ہی ہیں ۔۔۔
بس عورت کو دیکھ کر نظریں جھکانا مشکل ہے ۔۔۔ اسے احترام سے بات کرنا دشوار ہے ۔۔۔ اسی لئے تو بہت کم لوگ یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔ میں نے کبھی تمہاری ماں کو” تم “کہہ کے مخاطب نہیں کیا تھا ۔۔۔بیٹا میں نے ہمیشہ اسے “آپ” کہا ۔۔۔۔ اسکے علاؤہ کسی دوسری عورت کو دیکھا تک نہیں ۔۔۔۔ محبت بھی اسی سے کی ۔۔۔ اسکی موت کے بعد کسی کو اپنانا تو دور کی بات ۔۔۔سوچا تک نہیں اس بعد دل میں کسی کی خواہش بھی نہیں ہوئی ۔۔۔ تمہیں اکیلے ہی پالا ہے “ہارون الرشید نے بیٹے کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
باپ کی بات سمجھتے ہی جازم کا غصہ ختم ہو چکا تھا بس یاد تھا تو یہ کہ خود کو اچھا انسان بنانا ہے تو لوگوں کی سننی اور ا
سہنی پڑیں گی ۔۔۔
” کسی کو دیکھ کر اسی کے رنگ کیوں اپنائے جائیں ۔۔۔ خود پر وہ رنگ کیوں نا چڑھایا جائے جس میں اللہ ہمیں دیکھنا چاہتا ہے ۔۔۔ ” ہارون الرشید نے محبت سے یہ رنگ خود پر چڑھائے تھے
جازم کی پرورش ایسی ہی ہوئی تھی عورت سے نظریں جھکائے بات کرتا تھا ۔۔۔ کئ بار فرمائش کر کے اپنی ماں کے قصے سنتا تھا جو اسکی پیدائش ہوتے کی دنیا فانی سے کوچ کر چکی تھی ۔۔۔۔
اسکی تصویر دیکھتے ہوئے اپنے نقوش ان سے ملانے کی کوشش کرنے لگتا تھا ۔۔۔وقت اسی طرح تیزی گزرا تھا ۔۔ پہلی بار جازم آسمان سے زمین پر اس وقت گرا جب ہارون الرشید کے کینسر کی تشخیص ہوئی جازم نے اپنا بون میرو اپنے والد کو دینا چاہا ۔۔۔ لیکن وہ میچ نہیں ہوا ۔۔۔۔ بات یہی پر ختم نہیں ہوئی تھی دل اسوقت ظلمت کے اندھیروں میں آیا جب ڈاکٹر نے اسے اکیلے کو اپنے کیبن میں بلایا
” آپ ہارون الرشید کے کیا لگتے ہیں ” جازم کے سامنے کرسی پر بیٹھتے ہی پوچھا
“بیٹا ہوں انکا “
“کوئی بھیتجا یا بھانجا ۔۔۔ یا لے پالک ہیں “
“جی ۔۔۔ یہ کیساسوال ہے “جازم متعجب ہوا تھا
“میں انکی سگی اولاد ہوں ” جازم کو ڈاکٹر کی باتیں عجیب لگ رہیں تھیں
“لیکن رپورٹس تو کچھ اور ہی کہتی ہیں ۔۔۔ آپ کاصرف بون میرو ہی ان سے نہیں ملتا بلکہ ڈی این اے کی رپورٹ سے بھی یہی ثابت ہے کہ آپ انکے سگے بیٹے نہیں ہیں ۔۔۔ ” جازم کے لئے یہ بات نا قابل فہم تھی ۔۔۔۔
” یہ کیسے ممکن ہے ۔۔۔ میں ہی انکا سگا بیٹا ہوں ۔۔۔۔ آ۔۔آپکو غلط فہمی ہوئی ہے ڈاکٹر ۔۔۔ ہو سکتا ہے رپورٹ کسی اور کے ساتھ چینج ہو گئ ہوں ” وہ بے یقین تھا ۔۔۔ ایسا کیسے ممکن تھا وہ انہیں کا بیٹا تھا ہوش سنبھالتے جازم نےانہیں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ اور نا ایساہوتا ہے ۔۔۔ “ڈاکٹر کے جواب پر بھی اسے تسلی نہیں ہوئی تھی
گھر آ کر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ ہارون رشید کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ وہ ان سے پوچھتا ۔۔۔ چند دن خاموشی سے گزارے تھے ۔۔۔۔ جب کافی بہتر ہو ہو گئے گھر آگئے تب جازم ان کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔ وہ اپنے بیڈ پر لیٹے تھے
“اب کیسی طعبت ہے آپکی “
” میں ٹھیک ہوں اب تم میری فکر مت کیا کرو۔ ۔۔۔۔”ہارون رشید نے مسکرا کر کہا سانس انکا اب بھی پھول رہا تھا مگر جازم پریشان ناہو اس لئے مسکرا رہے تھے اسکی روئی روئی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے وہ انکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا اسے چومنے لگا
” بابا میں آپ کے بغیر چلنا نہیں جانتا ۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں نا۔۔۔ کیا کروں گا میں ” ٹپ ٹپ آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے
” میری جان ۔۔۔ ہر انسان کو ایسا کی لگتا ہے ۔۔۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ میرا بیٹا ۔۔۔۔ میری باتوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی بہت کامیاب گزارے گا ۔۔۔ بہت صابر ہے میرا بیٹا ۔۔۔ کہیں نہیں ڈگمگا سکتا “ہارون رشید نے بڑے لاڈ سے اسکے دنوں ہاتھوں پر اپنا دوسرا ہاتھ رکھا ۔۔۔
” یہی سچ ہے نا بابا ۔۔۔ کہ میں آپ کا بیٹا ہوں ۔۔ ۔ ٫” جازم نے بڑی آس بھری نظروں سے ہارون الرشید کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
“یہ کیوں کہا تم نے ۔۔۔۔”ہارون الرشید نے اسکی طرف جانچتی نظروں سے دیکھ کر پوچھا
“یہ جو ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ہے نا یہ پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔۔” وہ ضبط کیے ہوئے تھا لیکن آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے گلے میں اتنی گراہیں تھیں کہ وہ بات بامشکل رہا تھا ۔۔۔۔ پھر۔ بے یقنی کی حالت میں تھا چار دن سے سو نہیں پایا بیسیوں بار اپنی اور ہارون رشید کی رپورٹس چیک کریں تھیں ۔۔۔۔
جو کچھ اور خبر سنا رہیں تھیں لیکن وہ پھر بھی یقین کرنے کو تیار نہیں تھا
“پاگل ہو گیا ہے ڈاکٹر۔۔۔۔۔ “اب وہ آنسوں بےدردی صاف کر کے بولا
” میں بھی یہی کہہ رہا ہوں ڈاکٹر سے کہ یہ میرے بابا ہے ۔۔۔ کہتا ہے ۔۔۔۔ کہتا ہے ۔۔۔۔ کہ میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں ” بار بار وہ آنسوں پونچ رہا تھا بار بار آنسوں آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔ تھم نہیں رہے تھے ہارون الرشید اب چپ سے ہو گئے
“م۔۔میں ۔۔۔نے ۔۔۔۔ کہا ۔۔۔ میں نے ۔۔۔کہا بابا اس ڈاکٹر سے کہ ڈی این اے کی رپورٹ غلط ہو گئ ہو گئیں ۔۔۔۔ بدل گئ ہو گئیں ۔۔۔ ۔۔۔ ” جازم بہتے آنسوں کے ساتھ ہارون الرشید کو دیکھ رہا تھا لیکن وہ رخ بدل گئے ۔۔۔۔ جازم کا دل تھم سا گیا تھا اسے تو لگا تھا کہ اسکے بابا غصہ کریں گئے ڈاکٹر کی بات سن کر
کہ ڈاکٹر پاگل ہو گیا ۔۔۔ تم میرے ہی بیٹے ہو ۔۔۔۔ لیکن انکی چپ نے جیسے اس کے اندر اتنی گھٹن سی کر دی کے جیسے دم نہیں نکلے گا ۔۔۔ یک دم ہی اسکے دونوں ہاتھوں سے ہارون الرشید کے ہاتھ چھٹ گئے تھے جازم کو لگا بے جان سا ہو گیا ہے ۔۔۔۔
ہارون رشید کی آنکھوں کے کناروں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔ جازم کی بے چینی بڑھی تھی۔۔۔۔۔ یہ کون سا سچ تھا جس سے وہ اب تک انجان تھا ۔۔۔ اسکی سیدھی سے چلتی زندگی میں آزمائشیں اب شروع ہوئیں تھیں ۔۔۔
*******……
پورا دن ارتضی اور رومان گھر کی صفائی میں لگے رہے ۔۔۔ حیا کی چھنکیں مار مار کے بری حالت ہو گئ تھی اتنی ڈسٹ اس نے کبھی زندگی میں نہیں دیکھی تھی جتنی اس گھر میں داخل ہوتے اسکے ناک اور حلق پر لگی تھی ۔۔۔۔
اپنا شیشے جیسا صاف چمکتا محل یاد آنے لگا تھا ۔۔۔۔ کانچ جیسے شفاف فرش تھے ۔۔۔ اس پر بھی کبھی وہ اگر ننگے پاؤں نہیں چلی تھی لیکن اگر چل لیتی تب بھی پاؤں پر مٹی کبھی نہیں لگی تھی۔۔۔۔ اور یہاں مٹی کے علاؤہ کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔ رات تک ہی رومان اور ارتضی پورے گھر کو صاف کے گھر کی شکل نکال پائے تھے نہانے کے بعد ۔۔۔ رومان تو نڈھال ہو چکا تھا ۔۔۔ لیکن ارتضی کھانا لانے باہر نکل گیا وہ جگہ بھی آبادی سے خاصی دور تھی ۔۔۔۔ ایک تھکا دینے والا دن تھا۔۔۔۔
قریب میں بس ایک ہی ڈھابہ تھا جہاں پکوڑے اور چائے ہی ملتی تھی اس لئے اس نے پکوڑے اور روٹیاں لیں اور واپس آگیا ۔۔۔۔
لیکن اسوقت تک رومان سو چکا تھا ۔۔۔۔
ارتضی نے کھانا اکیلے ہی کھایا تھا ۔۔۔ کھانے کے بعد وہ اپنے لئے چائے بنا رہا تھا جب لال آنکھوں اور سرخ ناک کے ساتھ حیا چھنکیں مارتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔ ارتضی کو دیکھ کر وہی رک گئ ۔۔۔ ارتصی نے ایک نظر پلٹ کر اسے دیکھا پھر ناگواری سے دوبارہ کیتلی کی طرف متوجہ ہو گیا
“وہ ۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ بھوک لگی ہے “حیا نے جھجکتے ہوئے کہا
” یہ سامنے شوہر میں کھانا ہے ۔۔۔ ” ارتضی نے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے کہا ۔۔
حیا نے شوہر کھول کر دیکھا تو صرف پکوڑے اور تندوری روٹی دیکھ کر حیران ہوئی تھی
“یہ کیا ہے ۔۔۔ اس ۔میں کھانا کہاں ہے ۔۔۔ میں یہ سب نہیں کھا سکتی تندور کی روٹی مجھے پسند نہیں ہے ۔۔۔ مجھے آپ کچھ اور آڈر کر کے منگوا دیں “حیا نے ناگواری سے دیکھ کر کہا اسکی بات پر ارتضی نے اپنا کپ شلف پر پٹخ کر رکھا اور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا وہ کچھ گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی
“میرا بس چلے تو تمہیں زہر کھلا دوں ۔۔۔۔ یہی کھانا ہے ۔۔۔ کھانا ہے تو کھاؤں ورنہ بھوکی مروں ۔۔۔ ” اسے غصے سے گھورے ہوئے کہہ کر اپناکپ پکڑ کر باہر چلا گیا ۔۔۔
حیا ۔نے دوبارہ سے شوپر پکڑا ۔۔۔ بھوک سے حالت خراب ہو رہی تھی اس لئے تندور کی روٹی نکالی
چند پکوڑے نکالے ایک پلیٹ میں رکھے چٹنی ڈالی اور وہیں رکھے ٹیبل پر بیٹھ کر کھانے لگی ۔۔۔ زندگی میں اس قسم کا کھانا وہ پہلی بار کھا رہی تھی ۔۔۔ موٹی تندور کی روٹی حلق میں جا کر پھنسی تھی فٹافٹ سے پانی سے اسے اندر نگلا ۔۔۔
آدھی روٹی با مشکل اس نے پانی پی پی کر کھائی تھی ۔۔۔
اس کے بعد پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی ۔۔۔۔
” حیا بٹیاں ساری ڈیشیں آپکی پسند کی ہی تو میں نے بنوائیں ہیں ۔۔۔ ” آیا نے با ادب کھڑے ہو کر کہا تھا
“کہہ دیا نا بوا مجھے یہ سب نہیں کھانا اور کتنی بار کہاں ہے کے تازہ روٹی دیا کریں پہلے سے پکی روٹی مجھ سے نہیں کھائی جاتی
“میں بس دو منٹ ۔میں بنا دیتی ہوں ۔۔ تم یوں اٹھ کر تو مت جاؤں بیٹا کھانے کی بے حرمتی ہوتی ہے “
۔۔۔” بس بھی کریں آیا ۔۔ آپ میرے لئے پیزا آرڈر کر دیں ۔۔۔۔ “حیا نے پسندیدہ ڈشوں سے بھری ٹیبل کو ناگواری سے دیکھا ۔۔۔ اور اٹھ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
اب وہ بھرا ہوا ٹیبل اسے یاد آ رہا تھا ۔۔۔۔
باقی کی آدھی روٹی اس نے واپس رکھ دی ۔۔۔۔ بس پکوڑے روکھے کھانے لگی ۔۔۔۔
ساتھ ساتھ آنسوبھی بہا رہی تھی۔۔۔۔ سلیمان انڈسٹریل کی اکلوتی وارث یہاں مری کے ایک گم نام اور سنسان سے پہاڑ پر بنے چھوٹے سے کوٹج میں تندور کی سوکھی روٹی اور پکوڑے پانی سے ساتھ اندر نگل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ کتنی بے وقعت اور بے نام سے گزرے تھے یہ دو دن جیسے حیا کچھ تھی ہی نہیں ۔۔۔ میڈیا پر اٹھنے والی دھوااں دار خبر کتنی جلدی دم توڑ گئ تھی ۔۔۔ کسی کو خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں ہے نا کسی کی اسے خبر تھی پھر اپنے موبائل کی یاد آئی ۔۔۔دو دن پہلے اسنے موبائل بند کر کے پرس میں رکھ دیا تھا اور اب پتہ نہیں کہاں تھا ۔۔۔ شاید ارتضی کے پرانے گھر میں ۔۔۔
“اوہ شٹ ۔۔۔ “وہ موبائل وہاں سے شاید نہیں لائی تھی ۔۔ رومان کے کمرے کے دراز میں ہی رکھارہ گیا تھا ۔۔۔
رکے ہوئے آنسوں پھر سے بہے تھے ۔۔۔۔ اس کوٹج میں بھی دو ہی کمرے تھے ۔۔۔ مطلب اسکے لئے اب بھی لاونج کا صوفہ ہی بچا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ کچن سے نکل کر صوفے پر جا کر لیٹ گئ ۔۔ روتے روتے سو چکی تھی
” یہ کیا کہہ رہے ہو تم ” وہاج کی بات سن کر ارتضی ہتھے سے اکھڑا تھا ۔۔۔
“ٹھیک کہہ رہا ہوں اچھے وقت پر تم وہاں سے نکل گئے ہو حیا کے باپ اپنے کرائے غنڈے بھیجے تھے تمہارے گھر پر بہت توڑ پھوڑ کر کے گئے ہیں وہ ۔۔۔ “
” سارا سامان برباد کر چکے ہوں گئے میرا “ارتضی کو گھر کی ایک ایک چیز یاد آئی تھی ۔۔۔ جو اس نے اپنی محنت سے کمائے پیسوں سے بنائی تھی ۔۔۔
“ہاں کوئی چیز سلامت نہیں چھوڑی ہے ۔۔ “
” میں صبح ہی واپس آ رہا ہوں چھوڑو گا نہیں انہیں ۔۔۔ مجھے انکی بیٹی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔۔ صبح ہی طلاق دے دوں گا اسے ۔۔ میری طرف سے جائے اپنے باپ کے پاس “وہ مشتعل ہوا تھا
” ارتضی دماغ سے کام لو ۔۔۔ بات ابھی تازہ ہے ۔۔۔ سارا الزام تم پر آئے گا ۔۔۔ ابھی تو کوئی تمہاری سنے گا بھی نہیں ۔۔۔ وہاں سے نکلنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔ ” وہاج نے یہ کہہ کرفون رکھ دیا ارتضی کو گھر کی ہر چیز جیسے آنکھوں کے سامنے آنے لگی تھی کتنی محنت سے بنائے جاتے ہیں گھر ۔۔۔ اور یہ دولت مند لوگ ۔۔۔ ان کے لئے برباد کرنا کتنا آسان کے ۔۔۔
مجھے سمجھ یہ نہیں آتا کہ میں نے اس لڑکی کا بگاڑا کیا تھا ۔۔۔ اب یہ بھی دو دن سے چپ ہے ۔۔۔ ایسے جیسے بہت معصوم ہو ۔۔۔۔۔ کتنا بڑا کھیل کھلا ہے اس نے میرے ساتھ ۔۔۔ کتنا بڑا الزام لگا کر میرے گھر میں رہ رہی ہے ۔۔۔میرا کھارہی ہے ۔۔۔ اور میں وہاج کی بات پر بس بے بسی سے اسکی شکل دیکھ رہا ہوں لیکن اب نہیں ” اپنے غصے پر وہ بے قابو سا ہوا تھا ۔۔ اپنے کمرے کادروازہ کھولا تو وہ سامنے صوفے پر رومان کے اسی ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس سو رہی تھی جو دو دن پہلے پہنا تھا ۔۔ وہ تیز قدم اٹھاتا ہوا اسکے پاس گیا ۔۔۔
دل چاہاصوفے پر رکھا کشن اسکے منہ پر رکھے وہ جان لے لے اسکی۔۔۔۔ اسے بازو سے ہلایا وہ یک دم اٹھی تھی
“آ۔۔۔آپ ۔۔۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں “حیا بری طرح سے گھبرائی تھی۔۔۔ آدھی رات وہ کیوں اسکے سر پر کھڑاتھا
“اٹھو یہاں سے ۔۔ “ارتضی کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوئیں تھیں
” مگر ۔۔۔ ک۔۔۔کیوں؟ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ
“چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔ میرے کمرے میں “
” ک۔۔ کم۔۔۔رے ۔۔۔ میں۔۔۔ کیوں ” حیا کا خون خشک ہوا تھا ۔۔۔ ارتضی جھک کر اسکے قریب ہوا تھا
” کیوں ۔۔۔۔ کے ۔۔۔ میں نے ریپ کیا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ اور آج دوبارہ بھی کرنے کا ارادہ ہے ” سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر اس نے حیا سےکہا ۔۔۔ حیا کا اوپر کا سانس اوپر ہی اٹک گیا تھا
*****…….
ثوبیہ کے گھر سے سوگ ختم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ لوگوں کا تانتا سا بندھا ہوا تھا افسوس کے لئے ۔۔۔ بہانہ ثوبیہ کی ماں کی وفات کا تھا لیکن بات گھوم پھر کر ثوبیہ پر آ جاتی تھی
” بڑا افسوس ہوا آپکی بیوی کا سن کر ” ایک شخص ثوبیہ کے والد سے افسوس کر رہا تھا گھر کے صحن میں ہی بیٹھا تھا ۔۔۔
“بس اللہ کا حکم “
“ویسے آپکی بیٹی کا سن کر دکھ ہوا ۔۔ ” اسشخص نے سنجیدگی سے کہا
“برائے کرم آپ اس کا نام مت لیں مر گئ وہ ہمارے لئے “ثوبیہ کے والد کے چہرے پر نفرت ہی نفرت تھی اس شخص نے گہری سانس لی صحن کے اندرونی حصے میں سامنے فریم پر لگی تصویر پر نظر پڑتے ہی وہ چونکا تھا یونیفارم میں دو چڑیاں باندھے یہ وہی لڑکی تھی
“یہ ۔۔۔ یہ بچی کون ہے ” اس شخص نے سامنے ثوبیہ کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
“یہی ہے وہ بد بخت ” اس کے والد نے کہا
“یہ ۔۔۔ یہ لڑکی تو اس دن رات کے وقت شمس کے ساتھ بس ۔میں بیٹھی تھی
میں نے خود دیکھا تھا اسے لاہور جانے والی بس پر سوار ہوئے تھے دونوں ۔۔ ہاں یہ وہی ہے ۔۔۔ سو فیصد وہی لڑکی ہے ” وہ آدمی پورے وثوق سے بولا
“کب دیکھا تھا تم نے ” اس کے والد اشتعال میں آ گئے تھے
“اتوار کی رات کو ۔۔۔ ” کوئی شک نہیں رہا تھا ۔۔۔ انہوں نے غور کرنے کی کوشش کی نہیں کی تھی کہ شمس بھی اتوار والے دن سے غائب تھا ۔۔۔ ان کا تو اب خون کھول کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ برابر میں بچھوں رہتا تھا ۔۔۔ جیسے وہ نظر انداز کر گئے تھے جس نے۔ ٹی عیاری سے انہیں ڈنگ مارا تھا ۔۔۔ شرم نہیں آئی تھی اسے
دوسری طرف شمس ثوبیہ کاسارا زیور بیچ کر جیب میں ڈال چکا تھا ۔۔۔ اور بے دریغ خرچ بھی کر رہا تھا ۔۔۔ رات کو بھی ثوبیہ کا ایک اچھے ریسورنٹ میں ڈنر کے لئے لے گیا ۔۔۔ لیکن وہ جب سے لاہور آئی نروس سی تھی جیسے ہر دیکھ ے والی نظر اسے پہچان رہی ہے اس پر ہنس رہی کہ دیکھوں یہ لڑکی گھر سے بھاگی ہے ۔۔۔۔ ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھا پارہی تھی
“کیا بات ہے ثوبی ۔۔۔ چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔ ٹھیک سے کھا بھی نہیں رہی “شمس نے اسے سنجیدگی سے بیٹھے دیکھ کر پوچھا
“کچھ نہیں بس ۔۔۔ دل بہت اداس ساہے ۔۔۔ پتہ کب سب کچھ ٹھیک ہو گا
“ہو جائے گا ثوبیہ ۔۔۔ میں ہوں نا ۔۔۔۔ ” شمس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر تسلی دی ۔۔۔
دوسری جانب جب یہ بات کمالے کو پتہ چلی اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا ۔۔۔ دونوں باپ بیٹے غصے سے بپھرے ہوئے شمس کے گھر پہنچے تھے ۔۔۔۔
دروازہ اتنی زور سے بجایا کہ جیسے توڑ ہی دیں گئے اسکی والدہ گھبرا گئیں تھیں دروازہ کھول سامنے ان دونوں کو غصے میں دیکھ کر پوچھنے لگیں
” جی بھائی خیر تو ہے “
“شمس کہاں ہے “کمالا چلا کر بولا تھا ۔۔۔
“لاہور گیا ہے ۔۔۔ خیر تو ہے نا بھائی صاحب “
” میری بیٹی کو بھاگا کر لے کر گیا ہے لاہور وہ کمینہ ۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑو گااسے جان سےمار ڈالوں گا ” ثوبیہ کے والد کاغم وغصے سے برا حال تھا منزا بھی خوف سے ایک کونے
میں کھڑی تھی ایک واحد وہی توتھی وہ پر بات سے واقف تھی جب سے وہ دونوں غائب ہوئے تھے سمجھ گئ تھی ثوبیہ شمس کے ساتھ ہی گئ ہے ۔۔۔
” آپ کوغلط فہمی ہوئی ہے بھائی صاحب میرا یثاایسی نیچ حرکت کیوں کرے گا ۔۔۔ وہ تو کام سے لاہور گیا ہے “
” کسی کام سے نہیں گیا میرے ایک جاننے والے نے خود دیکھا ہے اسے ثوبیہ کو لاہور کی بس میں لے جاتے ہوئے ۔۔۔”یہ سن کر شمس کہ والدہ کے چہرے پر پسینے سے آنے لگے
“میں فون کرتی ہوں اسے ۔۔۔ ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔”
“ایسا ہی کیا ہے اس نے ۔۔۔ مجھے یہ بتائیں کہ لاہور میں کس جگہ گیا ہے ۔۔۔ ٹکرے کر دوں گا اس کے میں “کمالا کے بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں اگر سامنے نظر آ جائیں تو جان سے مار ڈالے انہیں ۔۔۔۔
” بیٹا مجھے سچ میں نہیں پتہ کہ وہ لاہور میں کہاں ہے ” وہ سچ میں انجان تھیں ۔۔۔۔
“اسے بولو کہ ثوبیہ کو لیکر کل یہاں پہنچے ورنہ میں ڈھونڈ لوں گا اسے اور جہاں نظر آیا مار ڈالوں گا اسے ۔۔۔۔” کمالے نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی شمس کی والدہ کا رنگ اڑا تھا
******…….
تانیہ اب پہلے۔سے کچھ ٹھیک ہونے لگی تھی گھر کے کام بھی دلچسپی سے کرتی تھی ۔۔۔
اپنے شوہر کا خیال بھی رکھنے لگی تھی وہ بھی اس کے کھانے کی بہت تعریف کرتا تھا
” تانیہ آپ کے ہاتھ میں جادو ہے سچ میں ۔۔۔ اتنا ذائقے دار کھانا میں نے پہلے کبھی نہیں کھایا ” تانیہ اب ذرا سا مسکرا دیتی تھی ۔۔۔
گھر کی بھی رودوبدل کر کے اس نے چنج کر دیا تھا ۔۔۔ لیکن وہ ضرور پریشان تھا۔۔۔۔ جب بھی اسکے قریب جاتا اسے وجود پر زخم دیکھتے ہی ایک اذیت میں مبتلہ ہونے لگتا
ایک دن وہ اسے ڈاکٹر پر لے گیا ۔۔۔ اس کے جسم پر بہت گہرے زخم تھے ۔۔۔ جیسے جلتا سگریٹ بجھایا گیا ہو یا جانے ایسا کیا جلتا ہوا لگایا ہو کہ جلد کے ساتھ گوشت تک جل چکا تھا ۔۔۔۔۔ زخم کافی بھر۔ چکے تھے لیکن مکمل ٹھیک نہیں ہوئے تھے ۔۔۔ اس کے لئے ہر بار تانیہ کے زخموں دیکھنا اذیت میں ڈال دیتا تھا ۔۔ تانیہ اس بات سے انجان تھی کہ وہ اسے ڈاکٹر پر لایا کیوں کے وہ ایک گائناکالوجسٹ عمر رسیدہ ڈاکٹر تھی ۔۔۔
تانیہ کو اپنے ساتھ اندر لے گئ تانیہ بری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔
ہاسپٹل کے گاؤن پہانے اس ڈاکٹر نے جب اس نے اسکے جسم پر جارحیت کے نشانات دیکھے تو یک دم آنکھیں میچ گئ تھی۔۔۔
” کس نے کیا یہ سب ۔۔۔ میں آپکی ڈاکٹر ہوں بتائیے مجھے” تانیہ کی اڑی رنگت اور بد حواسی دیکھ کر اس نے پیار سے پوچھا
” میں ۔۔۔ میں کچھ نہیں بتاسکتی مجھے باہر جانا ہے اپنے ہسبنڈ کے کا پاس “
“وہی تمہیں میرے پاس لائیں ہیں ۔۔۔۔ دیکھیں میں آپکی ڈاکٹر ہوں مجھ سے کچھ مت چھپائیں ۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کے ساتھ “
“ری۔۔۔پ” وہ با مشکل بولی تھی
“اوہ ۔۔۔ وری بیڈ ۔۔۔ کب۔۔ شادی کے بعد “
“نہیں۔۔۔ پہلے ۔۔۔۔ “
” بہت غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے آپ کے ساتھ ۔۔۔ ” لیڈی ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد کہا اسے تانیہ کی حالت دیکھ سا ترس آرہا تھا اسکے اٹھنے کا کہہ کر وہ باہر اپنی کرسی پر بیٹھ گئ
“میں کچھ میڈسن اور ٹیوب لکھ کر دے رہی ہوں ۔۔ آپکے زخموں میں اب بھی انفکشن باقی ہے اسلئے وہ اب تک ٹھیک نہیں ہو رہے ۔۔۔ لیکن دوا پروپر سے لیجیے گا جلد ٹھیک ہو جائیں گئیں ۔۔ “وہ ایک سلپ پر تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی۔۔۔
“آپ باہر جائیں اور اپنے ہسبنڈ کو اندر بھیجیں “ڈاکٹر نے وہ سلپ اپنے پاس رکھ لی تانیہ باہر چلی گئ کچھ دیر بعد وہ ڈاکٹر کے سامنے بیٹھا تھا
” دیکھیں آپ کی مسز کے ساتھ یہ حارثہ ایک بار نہیں ہوا ہے ۔۔۔۔ کئ بار ہوا ہے ۔۔۔ اور بہت بے دردی سے تشدد اسکے ساتھ کیا گیا ہے ۔۔۔ میں نے چالیس سال کی اپنی اس لائف میں ایسے بہت سے کیس دیکھے ہیں اور جہاں تک میرا تجربہ کہتا ہے ۔۔ کئ بار انکا آبوشن بھی ہو چکا ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ایسی حالت اکثر ان خواتین کی ہوتی ہے ۔۔۔ جو ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر ڈاکٹر چپ سی ہو گئ تھی
“جو کیا ڈاکٹر “
” دیکھیں میں کہنا نہیں چاہتی مگر ۔۔۔ “
“آپ کہیں “
” ان سے ایک عرصے تک جسم فروشی کا کام لیا گیا ہے ۔۔۔۔ ” یہ سن کر جیسے وہ کنگ رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔
میں نے کچھ ٹیسٹ لکھ دیے ہیں آپ یہ بھی کروا لیجیے گا ۔۔۔
باقی وہ میڈسن پروپر کھائیں گئیں تو۔ زخم جلد ٹھیک ہو جائیں گئے لیکن ذہنی طور پر انہیں نارمل ہونے میں وقت لگے گا ۔۔۔ ” وہ سلپ ڈاکٹر کے ہاتھ سے لیکر باہر آ گیا ۔۔۔۔
تانیہ اسے دیکھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ واپسی تک کاسفر۔ خاموشی سے گزرا تھا ۔۔۔ لگ رہا تھا کہ کہنے کو کچھ بچا نہیں تھا ۔۔۔
گھر آ کر بھی اس نے تانیہ سے بات نہیں کی تھی
سیدھا دوسرے کمرے میں چلا گیا تھا
“اتنا بڑا ظرف کہاں سے لاسکتا تھا ۔۔۔۔ کسی کے ساتھ حادثہ ہو جانا اور بات اور جو وہ ڈاکٹر سے سن کر آ رہا تھا وہ بات اور تھی ۔۔۔۔
اسے لگا تانیہ کو تو پتہ نہیں وہ نارمل کر پائے گا کہ نہیں لیکن خود ضرور پاگل ہو جائے گا۔۔۔۔
پہلے تو جی میں آیا کہ کیوں خود کو اتنی بڑی آزمائش میں ڈالے ۔۔۔ طلاق کا کاغذ پکڑا کر خود کو روز روز کی اذیت سے بچا لے ۔۔۔ لیکن پھر تانیہ کا چہرہ سامنے آنے لگا اسکی تکلیف اس کااس سے دور ہونا ڈرنا ۔۔۔ مرد سے نفرت کا اظہار کرنا ۔۔۔ اسکی ذہنی حالت اس کا پاگل پن اسے لگا کہ ایک ایسی لڑکی کو سہارا دینے کے بعد دوبارہ سے انہیں اندھیروں میں پھینک دینا تو اس پر اور بھی بڑا ظلم ہے ۔۔۔ پوری رات وہ خود سے جنگ کرتا رہا ۔۔۔ دل کہتا تھا ۔۔۔ مظلوم ہے بیچاری ۔۔۔ خود پر جبر کر لو ۔۔۔۔ اپنا ہی لیا ہے تو ساتھ بھی نبھاؤں۔۔۔۔۔
دماغ کہتا کیسے اسے چھو سکتے ہو جو لڑکی بازاری ہو ۔۔۔جہاں بھی اسے لیکر جاؤں کے اس کا کوئی نا کوئی گاہک ٹکرا جائے گا ۔۔۔۔ کیسے ان نظروں کو فیس کروں گئے ۔۔۔۔
انجانے میں خود بہت بڑی مشکل میں ڈال چکا تھا ۔۔۔ اسے تو بس یہ بتایا گیا تھا کہ حادثہ ہوا ہے ۔۔۔
لیکن یہ تو کچھ اور تھا ۔۔۔ اتنا بھی وہ پارسا نہیں تھا کہ ایسی آزمائش سے گزرے ۔۔۔۔ صبح آفس جانے وقت تک وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پایا تھا ۔۔۔ آفس میں بھی ہوتا دن۔۔۔ بس یونہی گزرا ۔۔۔ رات کو جب وہ گھر پہنچا ۔۔۔ تانیہ کچھ روئی روئی سی لگ رہی لیکن اس نے اس بار وجہ نہیں پوچھیں تھی کھانا بھی چپ چاپ کھایا تھا نا اس کے منہ ۔میں پہلا نوالہ ڈالا نا اسکے کھانے کی تعریف کی نا کوئی بات کی رات پھر سے دوسرے کمرے میں بیٹھ گیا ۔۔۔ پھر سوچو کا سلسلہ وہیں جڑ چکا تھا ۔۔۔ رات تین بجے اسکے کمرے کادروازہ کھلا تھا تانیہ روتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھا تھا ۔پریشسن تھا جب ۔۔ وہ اسکے پیروں کے پاس بیٹھ کر اسکے پیر پکڑ کر رونے لگی
