Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 24
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 24
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
تمام لڑکیوں کو ارتضی نے ایک نظر ہی دیکھا تھا ۔۔۔۔
حیاتقربیا چھپی ہوئی تھی ۔۔۔۔ بس ایک نظر ہی ارتضی کی اس کی آنکھوں پر پڑی تھی ۔۔۔ وہ چلتا ہوا ان دو لڑکیوں کے پاس آیا جس کے پیچھے وہ چھپی کھڑی تھی
” پیچھے ہٹو ” ارتضی نے ترش لہجے سے کہا ۔۔۔
وہ دونوں پیچھے ہٹ گئیں سی گرین کلر کے انار کلی فراک چوڑی دار پاجامہ ہاتھوں میں۔ ہم رنگ چوڑیاں میک اب اور لیپ اسٹک سے رنگے سرخ ہونٹ دیکھ کر ایک آگ سی تھی جو ارتضی کو اسے اس حلیے میں دیکھ کر لگی تھی ۔۔۔ حیا آدھے چھپے چہرے سے بھی جان چکی تھی کہ پکڑی جا چکی ہے ارتضی نے اس ہاتھ پکڑ اپنی جانب کھینچا وہ ایک پل میں سب سے الگ ہوئی تھی ارتضی نے سخت نظروں سے اسے دیکھا تھا اس کا ہاتھ چھوڑ کر ۔۔۔ ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تھا کہ وہاں موجود سب لوگ اپنی جگہ سے ہل کر رہ گئے تھے ۔۔۔ حیا دور جا کر گری تھی ۔۔۔۔ اس قدر زور کا تھپڑ تھا کہ نازک سے گال پر انگلیاں چھپ گئیں تھیں اور ہلکا سا خون رسنے لگا تھا حیا کو لگا کسی نے رخسار پر آگ سی لگا دی ہو ۔۔۔ ابھی ٹھیک سے سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ ارتضی اس کا بازو دبوچ کر پکڑ کر کھڑا کیا ۔۔۔
” کیوں گئ تھی گھر سے باہر ۔۔۔۔ بہت شوق تھا تمہیں یہاں آنے کا ۔۔۔۔ ” اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ قہر۔ برسا رہا تھا
” ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔۔۔۔ میری مرضی میں جہاں مرضی جاؤں ” وہ چلا کر بولی اور رونے لگی
“ششش۔۔۔۔ ایک لفظ تمہاری زبان سے نکلا تو دوسرا گال بھی لال کر دوں گا ۔۔۔ ” اسے بازو سے پکڑے وہ نیچے اتر گیا تھا ۔۔۔ وہ عورت تو دل پکڑے بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔ سونے کی چڑیا ہاتھ سے نکل گئ تھی ۔۔۔۔
وہاج اور اسکے ساتھ موجود انسپکٹر بھی نیچے اتر گئے گاڑی کی چابی ارتضی کے پاس ہی تھی اس نے زبردستی حیا کو گاڑی میں بیٹھایا تھا ۔۔۔ دوسری جانب خود بیٹھ گیا ۔۔
” وہاج میں تمہاری گاڑی لے جا رہا ہوں رومی کو تم صبح مری چھوڑ دینا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے گاڑی اسٹاٹ کی ۔۔۔ اور تیز رفتار سے وہاں سے نکال کر لے گیا ۔۔۔
” مری تک حیا ہچکیوں سے روتی رہی ۔۔۔ ارتضی نے ایک بار بھی اسکی جانب نہیں دیکھا تیوری چڑھائے بس تیز رفتار سے گاڑی چلاتا رہا واپس کاٹج میں لے جا کر ارتضی نے اسے ۔۔۔ کمرے میں بیڈ پر دھکیلا تھا ۔۔۔
” ظالم ہیں آپ ۔۔۔۔انسان نہیں ہیں ۔۔۔ اتنی زور سے کون تھپڑ مارتا ہے” ۔۔۔ اپنے گال پر ہاتھ رکھے وہ بے تحاشہ رو رہی تھی اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔وہ اس کے قریب آ کر درشتگی سے بولا
” ایک تھپڑ تم سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ جہاں سے میں تمہیں واپس لایا ہوں وہاں جو گھاوں عورتوں کو لگائے جاتے ہیں اس کا اندازہ ہے تمہیں” وہ چلا کر بولا
” آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر حق جمانے والے ۔۔ طلاق دیں مجھے اور آذاد کریں مجھے ۔۔۔ نہیں رہنا مجھے یہاں ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی
” کیا کہا تم نے ” وہ غرا کر بولا تو سہم کر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئ
حیا کو چپ رہنا ہی مسلے کا حل لگ رہا تھا
” اس وقت تو میں خود اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تم سے کچھ پوچھ سکوں بہتر ہو گا کہ چپ ہو جاوں۔۔۔ ورنہ پتہ نہیں کیا کر بیٹھوں گا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ “غصے سے وہ بے قابو ہونے کو تھااپنا ایک قدم آگے بڑھایا حیا خوف سے پیچھے ہٹ کر بیڈ کے کراؤن سے جا لگی کہ کہیں مار پیٹ ہی شروع نا کر دے ۔۔۔ “
ارتضی بھی کمرے سے باہر جانے لگا لیکن پھر پلٹ کر کھڑی کے پاس گیا ۔۔ اسے اچھی طرح سے بند کیا اسکی چٹکنی زنگ آلود تھی بس مشکل ہی لگی تھی اس طرح کھولنا بھی آسان نہیں تھا
” میں ہر تھوڑی دیر بعد تمہیں دیکھنے آؤں گا اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو حشر بگاڑ دوں گا تمہارا ” غصے سے پھنکار کر اس نے حیا سے کہا ڈر تو وہ اچھی خاصی گئ تھی ۔۔۔ اس لئے چپکی بیٹھی رہئ ۔۔۔
ارتضی دروازہ بند اور لوک کر کے رومی کے کمرے میں چلا گیا پورا دن تھکا دینے والا گزرا تھا ۔۔۔ پھر رومان کی الگ فکر ستا رہی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر یونہی اپنا دل جلاتا رہا حیا کی حماقت پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔ دارلامان تک تو ٹھیک تھا لیکن وہاں کرنے کیا گئ تھی ۔۔۔۔ کافی دیر بعد جا کر آنکھ لگی تھی صبح ہی صبح رومان کے دروازہ پیٹنے پر وہ اٹھا تھا ۔۔۔ رومان کو جب پتہ چلا کہ حیا واپس آ گئ ہے اسے کہاں چین آنا تھا صبح ہی وہاج سے ضد کر کے فجر کے بعد ہی اسلام آباد سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔
ارتضی نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔ نا باپ کو سلام نا اپنی طعبیت کی پروا
رومان جلدی سے اندر داخل ہوا صوفہ خالی تھا
” بابا ممی کہاں ہیں ” “
” یہیں ہے ۔۔۔ تم پہلے ادھر آؤں دیکھوں بخار اترا کہ نہیں ” ارتضی نے اسکی پیشانی چھونا چاہی لیکن وہ پیچھے ہٹ گیا
” ہاں اتر گیا ہے ممی کہاں ہیں آپ کے کمرے میں ہیں ؟ ” رومان کی بے چینی دیکھ کر وہ بے بس سا ہوا تھا نہیں چاہتا تھا کہ وہ حیاسے ملے ۔۔۔ اس کے اس قدر قریب ہو لیکن اسکی محبت عجیب تھی دن بس دن حیا سے بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔ اس وقت تو وہ اسے روک ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا کمرے کا لوک کھول کر اندر گیا تھا حیا بھی سوئی نہیں تھی رات بھر روتی رہی تھی ۔۔۔ ابھی ایک دن بھی اس نے وہاں نہیں گزارا تھا کہ اسے انتظار تھا کہ کب اس اذیت سے نجات پائے گی ۔۔۔ لیکن سب الٹ ہو گیا تھا ۔۔۔ یہ بات ہی دل جلانے کے لئے کافی تھی۔۔۔ اوپر سے تھپڑ ۔۔۔۔۔وہ بھی اتنے زور کا ۔۔۔۔ رومان سیدھا اندر آ کر حیا کے گلے لگ کر رونے لگا تھا ۔۔۔۔ حیا پہلے سے ہی رو رہی تھی اس کے رونے میں بھی تیزی آ گئ ۔۔۔
” کہاں گئیں تھیں آپ ۔۔۔ کیوں گئیں تھیں مجھے چھوڑ کے ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے کتنا مس کیا ہے میں نے آپ کو ۔۔۔۔ ” وہ اس سے پیچھے ہٹ کر اس کے ہاتھ پکڑ کر بولا پھر حیا کے رخسار پر چھپی انگلیوں کے نشان جو رات گزرنے کے بعد کچھ ابھر سی گئے تھے اور اس ۔میں سے ہلکا سارستا ہوا خون دیکھ کر دل پسیج سا گیا تھا
“ممی یہ سب۔۔۔۔ کسی نے نے مارا ہے آپ کو “رومان کے پوچھنے کی دیر تھی حیا کی سسکیاں تیز ہوئیں تھیں
” تمہارے بابا نے مارا ہے ” وہ پھر سے رومان کے گلے لگ کر رونے لگی اس وقت تو وہی اسے اپنا سب سے بڑا ہمدرد لگ رہا تھا ۔۔۔
“بابا نے اتنی بے دردی سے مارا ہے آپ کو ” رومان کو دکھ سا ہوا تھا یہ سب وہ کم از کم اپنے باپ سے ایکسپکٹ نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔
“ہاں رومی بہت مارا ہے ۔مجھے ” رومان کے ساتھ لگے وہ روتے ہوئے بتا رہی تھی
باہر وہاج رومی کی حیا میں انولمنٹ دیکھ کر ارتضی کو ۔معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگا
” ۔مجھے تو لگتا ہے رومی اب اسے کسی بھی قیمت پر کہیں بھی جانے نہیں دے گا۔۔۔۔ بہت پیار ہے ماشاءاللہ سے ماں بیٹے میں ۔۔۔ میں تو کہتا ہوں تم ایک بار سوچ لو ارتضی کوئی حرج نہیں ہے” وہ جس طرح سے مسکرایا تھا ارتضی کی گھوری تیز ہوئی تھی
“شٹ اپ وجی۔۔۔۔ یہ لو اپنی گاڑی کی چابی ” ارتضی اور وہاج کمرے کے کھلے دروازے سے حیا اور رومان کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ پھر سائیڈ پر رکھی چابی ارتضی نے وہاج کی طرف۔ بڑھائی
“ارے یہ اپنے پاس رکھوں گھر میں تین تین گاڑیاں ہیں یہ تو اتنی یوز بھی نہیں ہوتی تم رکھ لو تمہارے کام آئے گی ۔۔۔۔۔ میں اب چلتا ۔۔۔”وہاج نے ہاتھ چابی پیچھے کر دی
“رکو چائے پی کر جانا میں بناتا ہوں “
“”نہیں ارتضی بلکل ۔موڈ نہیں ہے” یہ کہہ کر ارتضی سے ہاتھ ملا کر وہاج وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ارتضی اپنے اسکول جانے کے لئے تیار ہونے لگا دو دن کی چھٹی وہ پہلے ہی حیا کے چکر میں کر چکا تھا ۔۔۔۔ مزید نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔
” اندر رومان بیٹھا حیا کے آنسوں صاف کر رہا تھا پھر اس کے چہرے پر لوشن لگانے لگا
” بابا نے اچھا نہیں کیا۔۔۔ میں بات بھی نہیں کروں گا ان سے ۔۔۔ ” رومان کو برا لگ رہا تھا غصہ بھی آ رہا تھا ۔۔۔ حیا رومان کے منہ سے یہ سن کر خوش ہوئی تھی ۔۔۔
” تم میرے لئے اپنے بابا سے بات کرنا چھوڑ دو گئے؟ “
” ممی انہوں غلط کیا ہے ۔۔۔ وہ ہوتے کون ہیں آپ پر ہاتھ اٹھانے والے ” رومان نے جوش سے کہا حیا کو اس پر جی بھر پیار آ رہا تھا ۔۔۔
“اوہ سوری۔۔۔ حیا ۔۔۔ میں بھول گیا تھا آپ کو ممی سننا پسند نہیں ہے ” رومان کو اب خیال آیا تھا لیکن چونکہ وہ حیا کے ساتھ ہمدردی جتا رہا تھا اس لئے ۔۔۔۔۔ اس نے بھی فراخدلی دیکھائی
” کوئی بات نہیں تم مجھے ممی کہہ دیا کرو “
” سچ میں ۔۔۔۔ میں آپ کو ممی کہہ دیا کروں ” وہ خوش ہوا تھا ۔۔۔ جیسے درینہ خواہش پوری ہوئی ہو
“ہاں کہہ دیا کروں ۔۔۔ رومی تم اچھے ہو ۔۔۔ بہت سوئٹ۔۔۔۔ اپنے بابا جیسے ظالم کبھی مت بننا ۔۔۔ ” حیا نے منہ بنا کر کہا
” نہیں بنو گا۔۔۔۔ میں آپ جیسا بن جاؤں گا آپ بھی بہت سوئٹ ہیں ۔۔۔ “
“تمہیں میں اتنی اچھی لگتی ہوں؟ “حیا کو رومان کی بے لوث محبت پر رشک سا آیا تھا
“اور نہیں تو کیا آپ کو پتہ ہے جب سے آپ گئیں ہیں میں تب سے بیمار ہوں ۔۔۔۔ “
” کیوں ” وہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ پہلے سے ویک ہے
” مجھے آپ کے بغیر کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ہے ۔۔ ممی آپ اب تو نہیں جائیں گئیں نا ؟ ” بڑی لگاوٹ تھی اس کے انداز میں
” پتہ نہیں رومی ۔۔۔ میں نہیں جانتی میری قسمت میں کیا ہے ۔۔۔ پتہ ہے تم بہت اچھے ہو مجھ سے محبت تو کرتے ہو ۔۔۔ مجھے لگتا تھا۔ میں بہت لکی ہوں اکلوتی جو ہوں ۔۔۔۔ سب مجھ سے محبت کرتے ہیں میری دوستیں مجھ پر جان نچھاور کرتے ہیں میرے آغا جی انکی تو جان ہوں ۔۔۔ لیکن نہیں رومان مجھ سے کوئی محبت نہیں کرتا ۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں ۔۔۔ میری ممی کو دنیا جہاں کی عورتوں اور بچیوں کو دینے کے لئے وقت تھا ۔۔۔ پر میرے لئے کبھی وقت نہیں ملا ۔۔۔۔ کہ چند گھنٹے میرے پاس بیٹھ جائیں آغا جی بظاہر مجھ سے بہت محبت کرتے تھے لیکن اب پتہ چلا انہیں صرف اپنے اسٹیٹس اور اپنے سرکل میں واہ واہ سننے سے پیار ہے ۔۔۔۔۔ میری دوستیں۔۔۔ وہ بھی مطلبی نکلیں ۔۔۔ حیا پر جب برا وقت آیا تو سب ہی بدل گئے ۔۔۔۔ تمہارے بابا نے تھپڑ مارنے سے پہلے اتنا نہیں سوچا کہ کتنا بڑا احسان کیا ہے میں۔ نے ان کے ” ارتضی باہر کھڑا سب سن رہا تھا ۔۔۔ وہ روتے ہوئے رومان سے اپنے دل کی باتیں کر رہی تھی اور وہ اس کے آنسوں پونچ رہا تھا ۔۔۔
” ایک بار نہیں سوچا کہ کتنی درد ہو رہی ہے مجھے ۔۔۔ کوئی اتنی بے دردی سے بھی مارتا ہے کیا ؟ “
حیا کی باتیں سن کر وہ کاٹج سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
دل میں اب ہلکی سی پشیمانی ہوئی تھی۔۔۔ لیکن اس وقت غصہ اس قدر تھا کہ کوئی ہوش نہیں تھی ۔۔۔ پھر یہ بھی جاننے کا تجسس تھا کہ کون سا احسان کیا ہے حیا نے اس پر ۔۔۔
اور جو کچھ ہوا ہے اس کے ساتھ وہ کیوں بیچ میں کھینچ کر لایا گیا تھا ۔۔۔
شام کو واپسی پر رومان اور حیا کچن میں فرائز فرائی کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔ وہ ان دونوں کے لئے پیزا لیکر آیا تھا ۔۔۔ ان دونوں کی ارتضی کی جانب پشت تھی ارتضی نے پیزے کا بکس شلف پر رکھ دیا ۔۔۔۔
“رومی یہ پیزا لایا ہوں تمہارے لئے اسے کھا لینا ” یہ کہہ وہ اپنے کمرے میں چلا گیا رات ہونے کا انتظار تھا تو رات ہوئے کا ۔۔۔۔ جو بات وہ حیا سے کرنا۔ سکتا تھا رومی کے سامنے تو کر نہیں سکتا تھا ۔۔۔ رومی کے سونے کے بعد ہی ہو سکتی تھی
******…….
لاہور کے بس اڈے پر بس رکی تھی ۔۔۔۔ آرء نیچے اتر کر رکشہ لینے لگی ۔۔۔
” جی بی بی کدھر جانا ہے ؟”رکشے والے نے سوال کیا “
آرء چپ تھی واپس نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔۔ اس لئے لاہور کے ایک پوش علاقے کا نام لیا وہاں پہنچ کر نیچے اتر گئ رکشے والے کو کرایہ دیا ۔۔۔ سامنے بنے بنگلے کو دیکھنے لگی
” چل آرہ دنیا کو بھی آجما لے (آزمالے ) “یہ کہہ کر سامنے بنے بنگلے کی گھنٹی بجائی
ایک چوکیدار باہر نکل کر آیا ۔۔۔۔
” بیگم صاحبہ ہیں مجھے نوکری چاہیے ۔۔۔ “
” کیا انہوں نے بلایا تھا “
” ناہی ۔۔۔ بلایا تو ناہی ہے مگر میں بہت مجبور ہوں گھر کا کام کاج کر دیا کروں گی ۔۔۔ پوچھ لو اپنی بیگم صاحبہ سے شاید کسی ملازمہ کی جرورت ہو “
وہ چوکیدار دروازہ بند کر کے پھر سے چلا گیا کچھ دیر بعد ہی وہ دوبارہ باہر آیا اسے اندر لے گیا ۔۔۔ وہاں بڑے سے لاونج میں ایک عورت ساڑھی میں ملبوس بیٹھی اپنے برابر میں بیٹھی پالتوں بلی کو کچھ کھلا رہی تھی ۔۔۔۔
“اسلام جی” آرء نے اس خاتون کو اسلام کیا تو وہ متوجہ ہوئی
“واعلیکم السلام دیکھوں کام کاج کے لئے تو نوکر موجود ہیں میرے گھر میں۔۔۔۔ لیکن آج کل کھانا بنانے والی آپاں اپنے گاؤں گئیں ہیں تین چار ماہ کی چھٹی لیکر اگر تم کچن سنبھالنا جانتی ہو تو میں رکھ لیتی ہوں تمہیں ” اس نے بلی کو گود میں لیکر اسے سہلاتے ہوئے کہا
” جی بہت بنانا آتا ہے مجھے باقی بھی سیکھ لوں گی ۔۔۔ “
” دوسری بات یہ ہے کہ میں نوکر دن رات کے لئے رکھتی ہوں ۔۔۔ “
” مجھے کوئی اعتراض نہیں میرے پاس رہنے کا ٹھیکانہ بھی نہیں ہے “
” تنخواہ تین ہزار ماہموار دوں گی ۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں ہو نگے “
” ٹھیک ہے جی ۔۔۔ “
” جاؤں چوکیدار کو بولو کہ تمہیں بنگلے کے پیچھے
بنے سرونٹ کواٹرز میں سے ایک کھول کر دیدے ۔۔۔۔ وہاں بیل پہلے سے موجود ہے جب بیل بجے تم کچن میں آ جانا کچن کا راستہ پیچھے سے بھی آتا ہے ۔۔۔ “
” جی ٹھیک ہے “
” اب جاؤں ” بیگم صاحبہ شاید سخت مزاج تھی جتنا پیار وہ گود میں بیٹھی بلی سے کر رہی اتنا ہی سخت اور کرخت لہجہ جیتے جاگتے انسانوں سے برت رہی تھی ۔۔۔ آرء کے لئے یہی بہت تھا کہ عزت کی روٹی مل جائے گی ۔۔۔۔
عبد الباسط کے درد بھرے بے بسی سے کہے لفظوں کااثر تھا ۔۔ جو التجا تواس نے اللہ سے کی تھی ۔۔۔
وہ آرء کے دل کی دنیا بدل گئ تھی ۔۔۔ اسی کی ہو کر رہنا چاہتی تھی ۔۔۔ بس اڈے پر کھڑے ہوئے عبدالباسط نے ایک رقعہ اس کے ہاتھ میں خاموشی سے دیا تھا ۔۔۔ لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتی ۔۔۔۔ سرونٹ کواٹر میں جا کر اس نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اسکی جیب سے وہ رقعہ نکالا اسے کھول کر پڑھنے کی کوشش کرنے لگی ایک اپنا نام ہی لکھنا پڑھنا جانتی تھی ۔۔۔ بس وہی پڑھ کر رونے لگی ۔۔۔۔ عبداالباسط کے لکھے الفاظوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔
” کاش کے اتنا پڑھی لکھی ہوتی کہ اردو پڑھ لیتی ۔۔۔ تو کم از کم اس خط کو بار بار پڑھ کر عبد الباسط کی تحریر کو حفظ تو کر لیتی ۔۔۔۔
“پتہ ناہی کیا لکھا ہے اس نے ۔۔ کیا کہنا چاہتا تھامجھ سے ” بے بسی ہی بے بسی تھی ۔۔۔
ایک گھنٹے بعد ہی کمرے میں لگی بیل بجی تھی ۔۔۔ اپنے آنسوں پونچ کر وہ کواٹر سے نکل کر پیچھے کی لمبی راہدری سے ہی کچن کاایک بیرونی دروازہ تھا آرء کو وہیں سے کچن میں آنے جانے کا حکم تھا بنگلے کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔ وجہ اسکی خوبصورتی تھی ۔۔۔۔ جو دیکھنے والے کو دنگ کر دے ۔۔۔ وہ کچن میں پہنچی تو وہاں چالیس کے لگ بھگ ایک عورت کھڑی تھی سادہ سا پرانہ سا جوڑا زیب تن کیے ۔۔
” تم ہو نئ نوکرانی “
” جی ” آرء نے مختصر جواب دیا وہ بڑے غور سے اسے سر سے پیر تک دیکھنے لگی
” دیکھنے سے نوکرانی لگتی نہیں ہو کپڑے بھی بڑے اچھے پہن رکھے ہیں ۔۔۔۔ “آرء کے انار کلی فراک کو دیکھ کر بولی
” کسی شادی پر کام کرنے گئ تھی تو اسی نے دے دیے تھے ۔۔۔ ” آرء نے جھوٹ بولا
” لیکن بی بی یہاں یہ کپڑے نہیں چلیں گئے ایک تو تمہارا منہ بولتا حسن اس پر ایسے کپڑے ۔۔۔ میں تمہیں اپنے دو جوڑے فی الحال دے دوں گی تمہیں تو بہت کھلے ہوں۔ گئے لیکن کچھ دنوں تک بیگم صاحبہ جب سلوا دیں گئیں تو وہ پہن لینا ۔۔۔
” ٹھیک ہے جی ۔۔۔”۔
” اور سنو بیگم صاحبہ نے بولا ہے کہ تم کچن سے باہر مت نکلنا ۔۔ کھانا باہر لے جانے کی ذمہ داری میری ہے ۔۔۔۔۔ اور صاحب کے سامنے تو بلکل مت جانا ۔۔ بیگم صاحبہ بہت شکی مزاج کی ہیں ۔۔۔ ذرا سا شک ہو جائے تو مار مار کر گھر سے نکال دیتی ہیں “
” مجھے کیا ضرورت ہے ایسا کچھ کرنے کی ۔۔ میں کچن میں۔ ہی رہوں گی ۔۔۔ ” آرء نے جواب دیا اگلے روز سے وہ سادے لباس میں سر پر دوپٹہ لئے کرتی رہی ۔۔۔ اسی بیگم صاحبہ کی دو بیٹیاں بھی تھیں ایک دس سال کی تھی دوسری ٹھ سال کی بہت جلدی آرء سے گھل مل بھی گئ تھیں ۔۔۔
اپنی فرمائش پر چیزیں بنواتی تھیں ایک دن دس سالہ بچی اپنی کتاب سے کچھ یاد کرتی ہوئی کچن
میں۔ آئی
” آرء آپی ۔مجھے سینڈوچ بنا دیں “
” اچھا بس دو منٹ رکو ابھی بنا دیتی ہوں ۔۔۔
آرء نے جلدی سے فریج سے مائیرنیز نکالی اور بوائل چکن نکال کر کٹنگ بورڈ پر بوائل چکن کے کو سے باریک باریک کاٹنے لگی اس میں نمک کالی مرچ مکس کی اور بریڈ کے سلائس پر مایونیز لگا کر چکن اس میں پھیلا کر اسکے سینڈوچ بنانے لگی ۔۔۔
وہ بچی اپنی اردو کی کتاب سے کچھ یاد رہی تھی سینڈوچ اسے دیتے ہوئے آرء کو خط کا خیال آیا
” سنو تمہیں۔ اردو پڑھنی آتی ہے ۔۔ ؟
” جی ہاں آتی ہے یہ اردو ہی یاد کر رہی ہوں “
” کیا تم میرا خط پڑھ دو گی “
” ہاں کیوں نہیں آپی ” آرء خوش ہو گئ تھی کچن کافی کشادہ اور بڑا تھااسی میں ایک گول میز بھی رکھا تھا ۔۔
“تم یہی بیٹھ کر سینڈوچ کھاؤں میں دو منٹ میں لیکر آئی ” آرء نے پلیٹ اسکے سامنے رکھی اور خود اپنے کواٹر میں چلی گئ
******…….
ثوبیہ کے پاس کھڑی گاڑی میں سے ایک ڈرائیور نیچے اترا تھا ۔۔ اور پیچھے سے ایک عورت ۔۔ ثوبیہ ہوش ہواس سے بے خبر تھی ۔۔
” چوٹ تو نہیں آگئ کہیں اسکو “
” نہیں ۔۔بچ گئ ہے ۔۔ ۔ “
“ایسا کرو اٹھاو اسے اور گاڑی میں ڈالوں ہوسپٹل لے چلیں ۔۔۔ “,ڈرائیور نے اسے گاڑی ممکی پچھلی نشت پر لیٹا دیا ثوبیہ کو جب ہوش آیا تو وہ دانیال کا نام لے کر اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔ لیکن نا جنگل تھا نا دانیال ہوسپٹل کا کمرہ تھا۔۔۔ اور وہ تھی ۔۔۔ نرس آس پاس آ گئ اس کے بارے میں پوچھنے لگی
” کون ہو تم ۔۔ اپنا پتہ بتاؤں ۔۔۔ “
” وہ میرا ۔۔ میرا شوہر ۔۔ اسے گولیاں لگیں تھیں تھیں۔ ۔۔۔ وہ کہاں ہے “
” جی نہیں آپ کو تو ایک عورت یہاں چھوڑ کر چلی گئ تھی کہ آپ اسے سڑک پر گری ملی۔ تھیں شاید کچھ دیر میں تم سے ملنے آئے ۔۔۔ “نرس کی بات سن کر وہ سر پکڑ کر رونے لگی ۔۔۔
” کیا آپ بتا سکتی ہیں کچھ دن پہلے ایک بہت بڑا گروپ پکڑاا گیا تھا جو کالج میں ڈرگ سپلائے کرتا تھااور لڑکیوں کو یرغمال بنا کر رکھے ہوئے تھا ۔۔
” ہاں یہ خبر تو ابھی تک نیوز پر چل رہی ہے ۔۔۔ لیکن ایک افسوس ناک خبر بھی ہے جس آئی سی آئی آفیسر واجد خان نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا ۔۔
اسے کل رات گولیوں سے مار ڈالا ہے ” جو سوال ابھی ثوبیہ کرنے والی تھی اس کا جواب اسے نرس سے مل چکا تھا ۔۔ آنکھیں جیسی پتھر کی ہو گئیں تھیں ۔۔۔
آنسوں جیسے ٹہر گئے تھے سانس تھما تھا میں چند لمحوں کے لئے ۔۔۔وہ کسی اور ہی وژن میں بولنے لگی
” کیسے جا سکتے ہو تم ۔۔۔ مجھے۔ چھوڑ کر ۔۔۔۔ تم نے کہاں تھا کہ تم میرا سہارا بنو گئے ۔۔۔ مجھے تحفظ دو گئے ۔۔ پھر کیوں مجھے تہنا چھوٹ گئے ۔۔۔ کیوں چلے گئے ۔۔۔ اب بتاؤ۔ مجھے کے میں کہاں جاؤں ۔۔۔ دانیال ۔۔۔ واپس آ جاؤں ۔۔۔ خدا کے لئے واپس آ جاؤں ۔۔۔ میں کہاں جاؤں گی ۔۔۔” ثوبیہ کا بلک بلک کر رونا نرس کو سمجھ نہیں آ رہا۔۔۔۔ کچھ دیر میں وہ عورت اسکے پاس آ گئ رات میں تو ٹھیک سے اسے دیکھ نہیں۔ پائی تھی لیکن دن کی روشنی میں اسے دیکھ کر دیکھتی ہی رہ گئ تھی ۔۔۔۔
وہ عورت کوٹھہ چلاتی تھی رات کو بھی چند لڑکیوں کو کسی بنگلے میں ناچنے گانے کے لئے ہی لیکر گئ تھی ۔۔۔ اور اتفاق ایسا تھا اسکی تینوں لڑکیوں کو روک لیا گیا تھا ۔۔۔ بنگلے والے نے اس خاتون کو اپنے ڈرائیور کے ساتھ روانہ کر دیا تھا اور وہ گاڑی ثوبیہ سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی ۔۔۔۔
قسمت ثوبیہ کو واپس وہی لے آئی تھی ۔۔۔۔
وہ عورت اس سے ہمدردی جتاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئ ۔۔۔۔ ثوبیہ کے پاس دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں تھا اس لئے وہ چلی گئ یہ وہاں جا کر اس پر کھلا تھا کہ وہ پہنچ کہاں گئ ہے ۔۔۔ پہلے ہی واجد خان کاصدمہ کم نہیں ہوا تھا پچھلے زخم نہیں بھرے تھے ۔۔۔۔ اور اب یہ نئ اذیت تھی ۔۔۔۔ وہ نیم پاگل سی ہو گئ تھی ۔۔۔ حالانکہ اس عورت نے اس کی کوئی سودے بازی نہیں کی تھی اب تک نا اس پر سختی کی گئ تھی ۔۔۔لیکن وہ سوتے ہوئے ڈر کر اٹھ بیٹھتی تھی کبھی چلانے لگتی دانیال دانیال چیخنے لگتی ۔۔۔ کبھی وہی دیوار کے ساتھ لگ کر چلانے لگتی کہ مجھے چھونا نہیں ۔۔۔ میں اس قابل نہیں ہوں ۔۔۔ “
ایک دن اس خاتون نے اس سے پوچھا بھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن وہ کچھ نہیں بولی بس روتے ہوئے یہ کہنے لگی کہ اس سے زہر دیدے لیکن اس سے یہ کام نا کروائے ۔۔۔۔
چار پانچ ماہ بعد وہ کمرے کے اندر ہی رہی تھی ۔۔۔ ایک دن وہی خاتون اسکے کمرے میں آئی اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔
“دیکھ مجھے لگتا ہے کہ تیرے ساتھ کسی ذیادتی کی ہے ۔۔۔ اتنا تو میں بھی سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔ تو کسی شریف گھرانے کی لڑکی لگتی ہے ۔۔۔ شاید اس وقت تجھ سے کوئی زیاتی کر کے تجھے سڑک کے کنارے پھنک گیا تھا ۔۔۔ لیکن ہمارا دھندا کچھ ایسا ہے کہ میں تجھے یہاں عجت سے ناہی رکھ سکتی لیکن تجھے ایک موقع دے سکتی ہوں ۔۔۔۔ تیرا نکاح کر دیتی ہوں ۔۔۔۔ایک نیک لڑکے سے “
” نہیں مجھے نہیں کرنا کسی سے نکاح ۔۔۔ وہ نیک ہے بھی تو میں نیک نہیں ہوں ۔۔۔۔ ” ثوبیہ نے صاف انکار کیا تھا
” تیرا قصور ناہی ہے اس لئے کہہ رہی ہوں ۔۔۔ تجھے ابھی کوئی ناہی جانتا ۔۔۔ انجان ہے سب تجھ سے دیکھ میری جندگی کا بھروسہ ناہی ہے ۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو ۔۔۔ پھر تجھے اس دلدل سے کوئی ناہی نکال سکتا ۔۔۔ سوچ لے کل صبح بتا دینا مجھے ۔۔۔ ٫
پوری رات آنکھوں میں گزری تھی ۔۔۔۔ ثوبیہ کے پاس دو راستے تھے ۔۔۔ موت سے پہلے مرنے کی تمنا کرنے سے کہاں موت آتی ہے دانیال جینا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن مر گیا ۔۔۔ وہ مرنا چاہتی تھی لیکن سانسیں لے رہی تھی ۔۔۔
کسی اور مرد کواپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اس سے بہتر کوئی اور راستہ اس کے پاس بچا نہیں تھا اس لئے صبح نکاح کے لئے رضا مندی دے دی تھی ۔۔۔۔ شام کو ایک ہلکے فینسی جوڑے ۔۔۔ میں وہ ملبوس تھی دلہن بن کر بھی دلہن نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔ کمرے میں ایک مولوی صاحب داخل ہوئے ۔۔۔۔
” بیٹا اپنے والد کا نام بتاؤں “
” مجھے نہیں یاد ” وہ بے تاثر بیٹھی رہی
” باپ کا نام نہیں یاد ؟”
” نہیں صرف یہ پتہ ہے میرا نام تانیہ ہے ۔۔ بس باقی کچھ نہیں پتہ “
” قاری صاحب ۔۔۔ سڑک پر گری ملی تھی ہو سکتا ہے سر پر چوٹ لگنے سے بھول گئ ہو ۔۔۔ ” اس خاتون نے اپنا اندیشہ سامنے رکھا
” باپ کے نام کی جگہ کیا لکھو؟ ” قاری صاحب کے اس سوال سب ہی چپ تھے
ثوبیہ نے روتے ہوئے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ کہا
” بنت آدم لکھ دیں ۔۔۔ میرے پاس اس نام کی پہنچان کے سوا اور کوئی پہچان نہیں ہے ” کچھ پل تو قاری صاحب۔ بھی کچھ بول نہیں سکے۔۔۔۔
پھر گہری سانس لے کر بولا
” تانیہ بنت آدم ۔۔۔ آپ کا نکاح جازم عبدالباسط سے کیا جاتا ہے آپ کو قبول ہے “
” جی قبول ہے “
ایسا شخص جسے نا کبھی دیکھا تھا نا دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ صرف ایک محفوظ ٹھکانے کی خاطر اس نے نکاح کیا تھا ۔۔۔۔ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ جب وہ شخص جب سب کچھ جان جائے گا تو اسے قبول بھی کرے گا یادھتکار دے گا ۔۔۔۔
******………
پیزا رومان نے حیا کو اپنے ہاتھ سے کھلایا تھا ۔۔۔ حیا کو اس پر حیرت ہوتی تھی کہ کیسے وہ اسے اتنی محبت کرتا ہے جیسا وہ اسکی سگی ماں ہو ۔۔۔ پہلی بار حیا نے نے پیزا کے ایک ٹکڑا رومان کے منہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔ کچھ دیر وہ دیکھتا رہا پھر اس ہاتھ پکڑ کر نوالہ اپنے منہ ڈالا اور اس کا ہاتھ چومنے لگا ۔۔۔
“تھنک یو ممی ۔۔۔ آئی لو یو سو مچ ” حیا نے پیار سے اس کے سر کے بال بے ترتیب کیے تھے
” آئی لو یو ٹو ۔۔۔ تم بہت اچھے ہو رومی ۔۔۔ “
“پھر وعدہ کریں مجھے کبھی چھوڑ نہیں جائیں گئیں ” رومان کے دل میں نا جانے کیا خدشات تھے حیا نے س کے ہاتھ ہاتھ رکھ کر کہا
” میں تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔۔ جہاں بھی گئ بس اب خوش “
” اہم ہم ۔۔۔ میں بابا کے بغیر بھی نہیں رہ سکتا ۔۔۔ ہم ساتھ رہیں گئے ممی “
” مجھے تمہارے بابا کے ساتھ نہیں رہنا ہے ۔۔۔۔ اچھے نہیں ہے وہ ” وہ خفگی سے منہ بنا کر بولی پھر سے اپنا گال سلگتا ہوا محسوس ہوا تھا
” میں ان سے بات کروں گا آئندہ نہیں ماریں گئے آپ کو ۔۔۔ لیکن آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گئیں “
” مجھے پھر بھی تمہارے بابا کے پاس نہیں رہنا ۔۔۔ ” وہ روہانسی ہوئی تھی
” او کے بابا کے طرف سے میں معافی مانگ لیتا ہوں
ایم سوری ممی ” رومان نے ہاتھ جوڑ کر کہا
” تم کیوں معافی مانگ رہے ہو ۔۔۔۔ دیکھوں مجھے ایموشنل بلیک میل مت کروں ۔۔۔ میں ان کے ساتھ بلکل بات نہیں کروں گی ۔۔۔ نا رہوں گی ۔۔۔۔۔ جب دیکھوں منہ پر تھپڑ مار دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ” رومان وہاں سے اٹھ کر غصے سے اپنے کمرے میں گیا تھا ارتضی نائیٹ سوٹ پہنے رومان کے بیڈ پر بٹھا اپنا چشمہ اتار کر بکس میں رکھ رہا تھا جب رومان کمرے
میں داخل ہوا غصے سے اس کے سامنے بیٹھ گیا
” بابا دس از ناٹ فیر ” ارتضی جانتا تھا کہ رومان کیا کہنا چاہتا ہے اس لئے نظریں چرا گیا ۔۔۔ ندامت تواپنے اندر بھی محسوس ہو رہی تھی
” رومی چلو اب سو جاؤ۔ صبح اسکول ہے تمہارا ” ارتضی نے موضوع بدلنا چاہا
” بابا بات کو بدلیں مت کیوں مارا آپ نے ممی کو ؟”
” تم ابھی بہت چھوٹے ہو اس لئے تمہیں سمجھا نہیں سکتا ۔۔۔ اس لئے کوئی سوال نہیں سننا چاہتا ۔۔ لیٹو ادھر ” ارتضی نے بیڈ کی دوسری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
” بابا آپ ہی نے کہا تھا کہ عورت پر ہاتھ اٹھانا مردانگی نہیں بلکہ بزدلی کی علامت ہے ۔۔۔
یعنی میں یہ سمجھوں کے میرے بابا بہادر نہیں ہے ۔۔ ٹھیک ممی کے اچانک سے چلے جانے پر ۔مجھے بھی غصہ آیا تھا لیکن غصے میں بہادر لوگ ہی خود کو قابو میں رکھتے ہیں ۔۔ آپ ہی نے یہ سب مجھے بتایا ہے بابا پھر ۔۔۔ پھر آپ نے بہادری کیوں نہیں دیکھائی “رومان کے پاس ساری دلیلیں موجود تھیں
” او کے میرے باپ ہو گئ غلطی ایم سوری آئندہ ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا ” ارتضی نے بات کو رفع دفع کرنا چاہا ۔۔ لیکن سامنے اسی کا بیٹا بیٹھا تھا ۔۔۔
” مجھ سے نہیں ممی سے جا کر معافی مانگیں ۔۔۔ “
” رومی یہ میں نہیں کروں خواہمخواہ میں سر پر نہیں چڑھاسکتا اسے “
” بابا اگر آپ نے ان سے ایکسکیوز نہیں کیا تو میں بھی آپ سے بات نہیں کروں گا ۔۔ ” ارتضی گہری سانس خارج کی تھی جیسے اس کے سامنے ہار سا گیا تھا
” ٹھیک ہے کر لیتا ہوں ایکسکیوز تم لیٹوں اور اب سو جاؤ۔ صبح اسکول جاتے وقت بہت تنگ کرتے ہو ۔مجھے ” یہ کہہ کر ارتضی اٹھ کھڑا ہوا تھا سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور کمرے سے نکل گیا بات تو اسے ویسے بھی حیا سے کرنی ہی تھی ۔۔
اپنے کمرے کا دروازہ ناک کر کے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔ وہ سونے کے لئے لیٹ چکی تھی لیکن ارتضی کو سامنے دیکھ یکلخت اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ ارتضی نے دروازہ بند کیاتووہ بری طرح سے گھبرائی تھی ۔۔۔ کہ پتہ نہیں رومان نے شکایت نا لگادی ہو ۔۔۔ اور وہ اسے پھر سے مارنے آیا ہے ۔۔
” آآپ۔۔۔ جائیں یہاں سے “
” کمال کرتی ہو تم بھئ ۔۔ خود ہی تو رومان کو بھیجا ہے تم نے میرے پاس کہ ۔۔۔ تمہارے بابا بہت ظالم ہیں ۔۔۔ بہت مارتے ہیں تمہیں۔۔۔ظلم کرتے ہیں تم پر ۔۔۔ “وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
“م۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔۔ ” وہ کچھ خوفزدہ ہوئی تھی
” ایم سوری ” خلاف توقع بات ارتضی کے منہ سے سن کر وہ دنگ ہوئی تھی
” اس وقت میں واقع بہت غصے ۔میں تھا اور تمہیں وہاں دیکھ کر تو ۔۔۔۔۔ ” وہ بات ادھوری چھوڑ گیا مزید اس جگہ کی بات کرنا اپنا خون کھولانے والی بات تھی ۔۔۔۔
” خیر چھوڑو اس بات کو ۔۔۔ دیکھوں اگر تم مجھ سے سچ بول دیتی تو نوبت یہاں تک کبھی نا آتی ۔۔۔ تمہارے جھوٹ کی وجہ سے تمہیں نہیں پتہ تم کس عذاب میں پھسنے جا رہی تھی “
“عذاب میں پھسنے نہیں عذاب سے نکلنے جا رہی تھی ۔۔۔ وہ عورت میرا آبوشن کروانے کو تیار تھی وہ بھی فری ۔میں ۔۔۔ آپ نے تو میرے پاس کچھ چھوڑا ہی نہیں تھا جو میں بیچ کر اس اذیت سے نکل سکتی ۔۔۔ دارلامان کی ہیڈ سے بھی میں نے بات کی اس نے بھی منع کر دیا ۔۔۔ اور اب آپ پھر سے قید کر دیں گئے مجھے۔۔۔ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں آپ نہیں سمجھتے “
” تم آبوشن چاہتی ہو ۔۔ میں کروا دونگا ۔۔۔ لیکن پہلے مجھے سچ جاننا ہے ۔۔۔ پہلے یہ دیکھوں “ارتضی نے اپنے موبائل آن کر کے اسے پکڑا دیا ۔۔
” اس کی گیلری میں جاؤں اس میں فرنٹ پر ہی کچھ پکس ہیں دیکھوں انہیں ” حیا نے گیلری آن کی پہلی تصویر پر اس کارنگ اڑا تھا اس نے موبائل آف کر کے بیڈ پر پھنکا تھا ۔۔۔
” اس نے میری پکس وائرل کر دیں اس نے تو کہا تھا اگر میں آپ پر ہر بات کا الزام لگا دونگی تو وہ ایسا نہیں کرے گا ۔۔۔ پھر کیوں اس نے ۔۔ اففف ۔۔۔ کیوں کیا یہ سب ۔۔۔میں کیا کروں گی برباد کر دیا اس نے مجھے “
