Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 29 (Part 2)
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 29 (Part 2)
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
اسکول سے آتے ہی رومان نے بیگ ایک طرف پھنکا اور کمرے میں چلا گیا ارتضی اسے گھر چھوڑ کر باہر سے چلا گیا تھا ۔۔۔ حیا نے جب کھانا گرم کر کے ٹیبل پر رکھا رومان تب بھی باہر نہیں آیا ۔۔۔
حیا نے اسے کمرے کادروازہ کھولا تو وہ یونیفارم میں ہی اوندھا لیٹا ہوا تھا ۔۔۔ حیا نے اسے دو تین بار پکارا بھی لیکن اس نے جواب نہیں دیا ۔۔۔
وہ اسکے پاس آ کر بیٹھ گئ
” رومی ۔۔۔ کیا بات ہے کھانا نہیں کھاؤں گئے رومی ” حیا نے اسے ہلا کر پوچھا
“ممی بھوک نہیں ہے سر میں درد ہے ” وہ با مشکل بولا تھا حیا نے اسے سر ہاتھ پھیرا پیشانی بخار سے تپ رہی تھی ۔۔۔
” رومان تمہیں تو فیور ہو رہا ہے ۔۔۔۔ “حیا فکرمند ہوئی تھی ۔۔۔
” پتہ نہیں ممی بس سر درد ہے ” اس کا چہرہ بھی بخار سے تمتما رہا تھا ۔۔۔
” رومی تم پہلے کچھ کھا لو ۔۔۔ پھر میں تمہیں میڈسن دے دیتی ہوں “
” مجھے چائے بنا دیں ممی میں کھانا نہیں کھاؤں گا ” حیا نے اسے چائے بنا کر دی زبرستی سنڈویچ بھی کھلایا بخار کی ٹبلٹ دے کر سلا بھی دیا ۔۔۔۔ لیکن شام تک وہ پھر سے تیز بخار میں تھا ارتضی بھی آتے ہی اسے دیکھ کر پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر پر بھی لے گیا تھا رات دیر تک دونوں ہی رومان کے کمرے میں اسے پاس بیٹھے رہے ۔۔۔ حیا اسکے سر پر پانی کی پٹیاں کر رہی تھی ۔۔۔ اس وقت بہت سنجیدہ لگ تھی اور فکرمند بھی ۔۔۔
” حیا بارہ بج رہے ہیں تم جاؤں جا کر سو جاؤں رومان کو میں دیکھ لوں گا ” ارتضی گھڑی دیکھ کر کہا کب سے وہ رومان کے پاس ہی بیٹھی تھی کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا تھا
” نہیں ارتضی مجھے نہیں جانا اسے چھوڑ کر کہیں بھی آپ دیکھ نہیں رہے کتنا تیز بخار ہے اسے ۔۔۔۔” بار بار رومان کا گرم ہاتھ پکڑ کر بخار کی شدت کا اندازہ کر رہی تھی
” تمہیں بھی آرام کی ضرورت ہے دن بھر سے تم اسے سنبھال رہی ہو ۔۔۔ میں ہوں اسکے پاس میں دیکھ لوں اسے تم جاؤ۔ جا کر آرام کرو ” ارتضی کی بات پر وہ خفگی سے بولی
” آپ کو مسلہ کیا ہے ۔۔۔ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔ میں احسان کر رہی ہوں آپ پر ۔۔۔ یا پھر رومان صرف آپ ہی بیٹا ہے میرا کچھ نہیں لگتا ۔۔۔ ” حیا ترش لہجے سے بولی تھی سچ بات بھی یہی تھی ارتضی یہی سوچ رہا تھا
” میں صرف یہ کہہ رہا ہوں تم اب آرام کر لو تمہیں بھی آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔میں ہوں اسکے پاس “
” نہیں آپ مجھ پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ میں اسکی کچھ نہیں لگتی ۔۔۔ میں نہیں جانتی ایسا کیوں ہے لیکن یہ سچ ہے ۔۔۔ مجھے دل سے محبت ہو گئ ہے رومی سے ۔۔۔ میں یہاں اس لئے نہیں بیٹھی کہ آپ پر اپنا کوئی احسان جتا سکو ۔۔۔ مجھے نیند نہیں آئے گی ۔۔۔ بار بار وہ ممی کہہ کر مجھے ہی پکار رہا ہے ۔۔۔ اس نے میرا تھام رکھا ۔۔۔ کیسے چھوڑ جاؤں اسے ۔۔۔ میں تو کہیں نہیں جاؤں گی اسے چھوڑ کر ہاں آپ جا سکتے ہیں یہاں سے ۔۔۔ سنبھال لوں گی میں اسے ” یہ کہہ کر حیا نے رومان کا ہاتھ چوم لیا ۔۔۔۔
“ایک دن کیسے چہرہ اتر سا گیا ہے اس کا ۔۔ مرجھا گیا ہے بلکل ” حیا کی آواز میں نمی تھی آنکھوں میں آنسوں تھے ۔۔۔ ارتضی متعجب سااسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اسوقت وہ لاپروا لا ابالی سی حیا کہیں سے نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔ بہت پریشان تھی فکرمند تھی جب جب بخار کی غنودگی میں رومان اسے ۔ممی کہتا ہر بار وہ اسے جواب دے رہی تھی ۔۔۔
” رومی میں ہوں تمہارے پاس ” رومان کے سر پر وہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگتی
جیسے وہ سچ مچ اسی کا بیٹا ہو ۔۔۔ ایک پل تو ارتضی کا جی چاہا کہ وہ واقع ہمیشہ کے لئے رومان کے پاس رہ جائے کہیں نا جائے ۔۔۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے یہ بات اسے
اپنی خود غرضی سی لگی ۔۔۔۔ اپنے بیٹے کی خاطر وہ حیا کو فراموش نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ اسکی اپنی ایک لائف تھی منگتر تھا ۔۔۔۔
ایک عیش اور محبت سے بھری زندگی اسکی منتظر تھی ۔۔۔ پھر کیوں وہ یہ چاہے کہ حیا سب کچھ چھوڑ کر ایک ادنی سے ٹیچر کی بیوی بن کر رہے جو عمر ۔میں اس سے چودہ سال بڑا ہے اور ایک بارہ سالہ بچے کا باپ بھی ہے ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر لاونج ۔میں آ گیا ۔۔۔لیکن اب سنجیدگی سے سوچنے لگا تھا ۔۔۔ رومان کی حیاسے اٹیچمنٹ بہت حد تک بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔
پہلے جب بھی وہ بیمار ہوتا تھا بابا کی رٹ لگائے رکھتا تھا اور اب ایک بار بھی اس نے بابا نہیں کہا تھا ۔۔۔ بس ممی ہی کہہ رہا تھا ۔۔۔ پہلے ضد کر کے تانیہ کی تصویریں گھنٹوں دیکھتا رہتا تھا لیکن اب اسے پروا تک نہیں تھی ۔۔ بس جہاں حیا ہوتی وہیں رومان ۔۔۔۔ اسکی ہر بات میں حیا تھی ۔۔۔۔۔حیا کے تین مہنے اب بھی باقی تھے ۔۔۔ اس کے بعد ہی وہ کچھ کر سکتا تھا ۔۔۔ اپنا اسلام آباد کا فلیٹ وہ بیچ چکا تھا ۔۔۔ پیسے اس کے اکاؤنٹ میں تھے جس کاٹج میں رہ رہا تھا وہ وہاج کے چچا کاتھا جو کے اٹلی میں رہائش پذیر تھے اس لئے خالی پڑا تھا۔۔۔
ارتضی کاارادہ تھااسی کو خرید لے ۔۔۔ آدھی رقم ادا کر کے باقی کے پیسے اپنے پاس رکھ لے ۔۔۔ حیا کے کیس کواسٹورنگ بنانے کے لئے ایک اچھے وکیل کی ضرورت تھی ۔۔۔پیسہ کی کمی کی وجہ سے وہ ہارنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ اس لئے اپناسب کچھ لگانے کو تیار تھا ۔۔۔تا کہ آذر جیسے لڑکے کو سخت سے سخت سزادلوا سکے ۔۔۔ جب ایک ایسے اثر رسوخ رکھنے والے شخص کو سزا ملے گی تو دس ایسے امیر زادے ایسا کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گئے ۔۔۔
صبح تک رومان کا بخار کافی حد تک ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔
حیا اس کے پاس بیھٹے بیٹھے کراؤن سے ٹیک لگائے سو رہی تھی ۔۔۔ ارتضی تیار ہو کر اسکول جانے سے پہلے رومان کا بخار چیک کر رہا تھا ۔۔ اب صرف معمولی سی حرارت تھی ۔۔ اب بھی رومان نے حیا کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔۔۔ کچھ دیر وہ حیا کے تھکے تھکے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔ جانے رات کو کب سوئی تھی ٹھیک سے سو بھی پائی تھی کہ نہیں ۔۔۔ پہلے تو دل چاہا اسے جگا کر کہے کے اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤ۔ لیکن جانتا تھا وہ مانے گی نہیں اس لئے وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔ جب اس نے گھر کا مین گیٹ چابی سے کھولا تو سامنے رومان پر نظر پڑی ۔۔۔رومان کافی حد تک فریش تھا ۔۔ حیا اسے سیب کاٹ کر خود اپنے ہاتھ سے کھلا رہی تھی اور وہ منہ بگاڑے کھارہا تھا
” ممی کڑوا۔ سا لگ رہا ہے “
” ہاں تو بخار میں سب کچھ کڑوا ہی لگتا ہے چلو کھاوں اسے جلدی سے نخرے مت دیکھایا کروں مجھے ۔۔۔ ورنہ ایک لگاؤں گی تمہیں ” پیار سے اسے گھورتے ہوئے سیب کا کتلا اسکے منہ ڈال دیا ۔۔
“صبح سے کھلا کھلا کر پاگل کر دیا ہے آپ نے مجھے ” رومان نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا
” شکل دیکھی ہے تم نے اپنی ایک دن میں کتنے کمزور لگ رہے ہو ۔۔جلدی سے اسے ختم کروں اسکے بعد تمہیں دودھ کا گلاس بھی پینا ہے ” حیا کی اگلی فرمائش سن وہ ہتھے سے اکھڑاتھا
” وہ میں ہر گز نہیں پیوں گا ۔۔۔ ” وہ زچ سا ہو گیا تھا
” دیکھوں تو کیسے پلاتی ہوں تمہیں ” حیا نے اسے آنکھیں دیکھائیں تھیں ارتضی مین گیٹ پر کھڑا یہ نظارہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ہر بات جانتے ہوئے بھی دل انجانی سی خواہش کرنے لگا تھا ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اپنا گھر مکمل سا لگ رہا تھا ایک حقیقت تھی جو بہت جلد ایک خواب میں بدلنے والی تھی ۔۔۔۔۔چند مہنے بعد واپس وہی ایک روٹین لائف وہ اور رومان بس ۔۔۔ ایک ٹھنڈی سرد آہ بھر کر اسے خود کو جھٹکا اور اندر آ گیا ۔۔۔
رات کو رومان سو چکا تھا حیا کچن میں تھی ارتضی لاونج میں تانیہ کے زیور کا بکس نکالے اسکازیور دیکھ رہا کر اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کتنے تک کا بک سکتا ہے ۔۔ جب سامنے ٹیبل پر کافی کا کپ رکھنے سے اس کا دھیان بٹا تھا ۔۔ اس نے سامنے دیکھا تو حیا کھڑی مسکرا رہی تھی
” آپکے لئے کافی ” یہ کہہ وہ اپنا کپ پکڑے بڑے بے تکلفانہ انداز سے اسے ساتھ بیٹھ گئ ۔۔ تھی ارتضی ہی کچھ پیچھے ہٹا تھا ۔۔ پھر کافی کا ایک سپ پی کر کپ ٹیبل پر رکھا اور بکس میں سے تانیہ کازیور نکال کر دیکھنے لگی ارتضی بس سے حیرت سے دیکھ ہی سکتا تھا ۔۔۔ عجیب لڑکی تھی ۔۔۔ یوں رہتی تھی جیسے اپنا ہی گھر ہو ۔۔۔ تکلف نام چیز نہیں تھی اس میں ۔۔
” یہ سب آپکی بیوی کا ہے ؟”
” ہاں ” ارتضی نے مختصر سا جواب دیا حیا نے ایک چین اس میں نکالی ۔۔۔ جس پر لو لکھا تھا
” ہاؤ رومنٹک ۔۔۔ یقینا یہ آپ نے ہی تانیہ کو دیا ہو گا ۔۔۔ ” وہ بڑے خوشگوار موڈ میں پوچھ رہی تھی
” ہمم اسکی برتھ ڈے دیا تھا ۔۔۔ ” ارتضی کو جیسے وہ حسین لمحے یاد آئے تھے جب اس نے خود تانیہ کو وہ چین پہنائی تھی ۔۔۔ دیکھ وہ حیا کو رہا تھا سوچ تانیہ کو رہا تھا
” مجھے بھی ارسل نے ایک بار چین دی تھی اور لاکٹ پر ایسا ہی لو لکھا ہوا تھا ۔۔۔ ” یہ سن کر ارتضی نے حیا کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں تھیں
” یہ زیور دیکھ کر بھی تانیہ کو یاد کر رہے تھے “
” اسے میں بھولتا ہی کب ہوں ۔۔۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہے ایک خوبصورت یاد بنکر ۔۔۔۔ تمہیں اندازہ ہی کہاں ہے کتنی محبت کرتا ہوں اس سے ” ارتضی نے یونہی ایک بات کہہ دی تھی اور اپنا کپ اٹھا کر کافی پینے لگا لیکن جو جواب حیاسے سننےکو ملا وہ اس کے سارے طبق روشن کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔۔
” اب ایسی بھی بات نہیں ہے اندازہ تو مجھے بہت اچھے طریقے سے ہو گیا تھااس دن ۔۔۔ افف پتہ ہے جب آپ نے مجھے گلے لگایاتھا ۔۔ میرا دم گھٹ کے رہ گیا تھا ۔۔۔ ” ارتضی کی کافی سیدھی حلق ۔میں جا کر لگی تھی ۔۔۔ اس قسم کی بات کی حیا سے توقع نہیں تھی اسے ۔۔۔ کہ وہ یہ بھی جتاسکتی ہے ۔۔ بری طرح سے وہ کھانسنے لگا تھا ۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔ پانی لاؤ۔ آپ کے لئے ” حیا فورا سے اٹھ کر کھڑی ہوئی ہوئی با مشکل ہی وہ سنبھلا تھا
“ن۔۔نہیں ۔۔ میں ٹھیک ہوں ” ارتضی نے گلا صاف کر کے کہا ۔۔
ندامت کے مارے چہرہ سرخ ہونے لگا تھا ۔۔ اگر بھولے سے تانیہ سمجھ کر وہ ایک غلطی کر ہی بیٹھا تھا تو کیا ضروری تھا اسے جتایا جائے ۔۔۔ ارتضی نے
زیور کا بکس بند کیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا
” ارے یہ آپ کہاں۔ جا رہے ہیں کافی تو ختم کریں اپنی ” وہ اسے لاپروا تھی کہ جیسے کچھ کہا ہی نا ہو ۔۔ پچھلی رات رومان کی فکرمندی سے ارتضی کو لگا تھا کہ شاید حیا کچھ میچور ہونے لگی ہے لیکن نہیں وہ وہی تھی نا معقول اور بے عقل ۔۔۔
” مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔ صبح بہت سے کام ہیں مجھے ” اسے غصے سے دیکھتا ہوا وہ کمرے میں چلا گیا وہ کندھے اچکا کر اپنی کافی پینے لگی
******…….
“آپ کو ۔۔۔۔ ابو کہہ سکتا ہوں ” نم آنکھوں سے جازم نے اجازت مانگی تھی
” یہ حق ہے تمہارا ۔۔۔ اجازت مانگ کر ۔مجھے شرمندہ مت کرو پہلے تم سے نظریں ملانے کے قابل نہیں ہوں ۔۔ تمہیں وہ کچھ نہیں دے سکا جس کاتم حق رکھتے تھے “
” ابو کیا مجھے اپنا نام دیں گئے ۔۔ مجھے میری پہچان چاہیے ۔۔۔ “
” کیوں نہیں دوں گا ۔۔۔ میں نے کوئی جرم تو نہیں کیا نکاح کیا تھا آرء سے تم میرے بیٹے ہو ۔۔۔ دنیا سے اس بات کو چھپاؤں کیوں ۔۔۔ چلو میرے ساتھ سچ سے پہلے اسی مدرسے سے شروع کرتا ہوں ۔۔۔
سب سے کہہ دیتا ہوں کہ میرا بیٹا ہے ۔۔۔ ” عبد الباسط نے جازم کا ہاتھ پکڑ کر کہا
” اور امی ۔۔۔ امی اپنانے گئے آپ “
” تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔ میں ڈرتا ہوں اس اقرار سے ۔۔۔ نہیں جازم ۔۔۔ نا مجھے کل انکار تھا نا آج انکار ہے ۔۔۔ ” جازم کو لگا ساری آزمائشیں ختم ہو گئیں ہیں وہ بہت خوش ہو گیا تھا ۔۔۔
” ابھی نہیں میں ۔۔ میں لاہور جاتا ہوں امی کو اپنے ساتھ لے کر آؤں گا ۔۔۔ پھر آپ سب کے سامنے اقرار کر دیجیے گا ۔۔۔ ” جازم چاہتا تھا نور جہاں کو بھی اپنے ساتھ یہاں کے آئے ۔۔۔
” کیوں نہیں تم لے آؤں اسے یہاں ہمیشہ کے لئے ” عبد الباسط نے جواب دیا اگلے ہی روز جازم لاہور اترتے ہی سیدھا نور جہاں کے پاس گیا تھا ۔۔۔
لیکن وہاں جاتے ہی تانیہ سے نکاح کرنا پڑ گیا ۔۔۔۔ رخصتی وہ ایسے نہیں چاہتا ۔۔۔ وہ چاہتا تھا پہلے اسکے ماں باپ مل جائیں اس کا بھی اپنا ایک گھر ہو ۔۔۔ پھر وہ بھی نئ زندگی کا آغاز کرے
رات کو کافی دیر نور جہاں سے باتیں کرتا رہا اس نے سب تک اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ عبد الباسط سے مل چکا ہے بس کہ کہا تھااس کی نوکری کسی اور شہر میں لگ گئ ہے
“امی کل صبح تیار رہیے گا ۔۔۔ آپ کو میرے ساتھ کہیں جانا ہے “
” کل کہاں جانا ہے ۔۔۔ “
” جہاں ۔میں نوکری کرتا ہوں وہ جگہ آپ کو دیکھاوں گا ۔۔۔ یہ میری خواہش ہے بس آپ انکار نہیں کریں گی میری بات مان لیں گی جیسے میں نے بنا سوال کے آپکی بات مانی ہے ۔۔۔” جازم کی بات سن نور جہاں مسکرانے لگی ۔۔
” ٹھیک ہے لے مجھے ۔۔۔ تم نے بہت بڑی نیکی کا کام کیا ہے جازم ۔۔۔ کسی لڑکی کو برائی کی راہ سے بچایا ہے ۔۔۔ یہ سب یا تو عبداالباسط کے خون کااثر ہے یا ہارون الرشید کی تربیت کا
۔۔۔ اور تیری ماں ان دونوں چیزوں سے خالی ہے ۔۔۔ ” نور جہاں رشک بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
” امی ایسا کیوں کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔ میرا دل آپ کے دل جیسا ہے ۔۔۔ آئنے کی طرح صاف اور شفاف “
“یہ تو میری محبت میں کہتا ہے ورنہ میرے پاس کوئی عمل نہیں جو تجھ جیسی اولاد میرے نصیب میں جاتی ۔۔۔ ویسے تو بخشش کا کوئی سامان نہیں ہے میرے پاس لیکن شاید تجھ جیسی اولاد میرے لئے صدقہ جاریہ بن جائے ۔۔۔ “
” ایسا کیوں کہہ رہیں ہیں امی ۔۔۔ بس اب آپ ایسا کچھ نہیں کہیں گی ۔۔۔ صبح تیار رہیے گا
دوسرے دن نور جہاں تیار تھی جازم بھی وقت مقررہ پر پہنچ گیا تھا وہی سرخ رنگ کی چادر آج بھی نورجہاں کا پردہ تھی ۔۔۔۔ سادہ سا جوڑا پہنے سادگی میں وہ صرف سرخ چادر سے خود کو لپیٹے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔ سارے سفر پر جازم ہی اس سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔۔۔ راجن پور پہنچتے انہیں رات ہو گئ تھی ۔۔۔۔ مدرسے تک پہنچتے عشا ہو چکی تھی سامنے مدرسے کے سامنے ٹانگا رکتے دیکھ کر نورجہاں نے حیرت سے جازم کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
“جازم تو یہاں نوکری کرتا ہے “
” جی امی حافظ بچوں کو اردو اور انگریزی پڑھاتا ہوں آئیے نا ” جازم نے ٹانگے سے اتر کر نور جہاں کا ہاتھ تھام کر اسے نیچے اتارا ۔۔۔ مدرسے کے سامنے جاتے نور جہاں کے قدم رک گئے تھے
” مجھے تو نے پہلے کیوں ناہی بتایا کہ تو مدرسے میں پڑھاتا ہے ” نا جانے کیوں وہ پریشان اور گھبرائی ہوئی تھی
” اس سے کیا فرق پڑتا ہے امی اندر چلیں “
” ناہی جازم یہ جگہ پاک ہے مقدس ہے ۔۔۔ میں اس قابل ناہی کہ اس مقدس جگہ پر جاسکو تو مجھے واپس لے چل یہاں سے ۔۔۔ “
” امی اللہ کا گھر ہے یہ اور وہ اپنا در کسی کے لئے
نہیں بند نہیں کرتا۔۔۔۔ آپ چلیں میرے ساتھ ” نور جہاں کا ہاتھ پکڑے وہ اسے مدرسے کی سیڑیوں کے پاس لے گیا وہاں چپل اتار کر وہ دونوں اوپر کی سیڑیاں چڑھنے لگے ۔۔۔۔ اسوقت عشا کی جماعت کاوقت تھا ۔۔۔ اس لئے اوپر کا سارا پورشن خالی تھا سب با جماعت نماز کے لئے نیچے مسجد میں جا چکے تھے جازم اسے اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔ اسے وہاں بیٹھا کر خود نماز ادا کرنے چلا گیا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں جماعت شروع ہوئی تھی ۔۔۔۔ اسپیکر پر امام صاحب کی تلاوت نے نور جہاں کو حیران کن کیا تھاوہی آواز تھی وہی درد تھا تلاوت میں کیسے بھول سکتی تھی اس آواز کو جس کے پیچھے اس نے کئ بار نمازیں ادا کیں تھیں ۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے تھے ۔۔۔۔ وضو کر کے اس نے نماز کمرے میں ادا کی آج پہلی بار یہ دعا کی کہ جس کی آواز وہ سن رہی ہے وہ عبداالباسط نا ہو ۔۔۔۔
آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے ۔۔۔ وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔ اپنے آنے پر قلق سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔
جماعت ختم ہو چکی تھی ۔۔۔ تقریبا آدھے گھنٹے بعد دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔۔ سامنے کھڑا شخص عبداالباسط تھا ۔۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیاں آ چکیں تھیں ۔۔۔ چہرے پر ریش دار ڈارھی تھی ہلکی سی جھریاں چہرہ پر نظر آنے لگیں تھیں ۔۔۔۔چہرہ کچھ اور پر نور سا ہو گیا تھا ۔۔۔ سجدے کا نشان بہت ذیادہ گہرا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ لیکن آنکھیں ۔۔۔۔ آنکھیں ویسی ہی تھیں ۔۔۔ وہی بے تابی لئے ۔۔۔ نور جہاں جیسے پتھر کی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ پہلی ملاقات کی طرح کسی مجسمے کی طرح کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ لگتا تھا بیچ کا ساراعرصہ جیسے غائب ہو چکا ہو ۔۔۔
عبداالباسط آج بھی جیسے صرف اسے دیکھنے کامتمنی بنکر آیا ہو ۔۔۔۔
*******……….
ڈاکٹر نے جب حیا سے آپریشن کا کیا تو وہ بری طرح سے گھبرائی تھی پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔ وہیں ڈاکٹر کے سامنے رونا دھونا شروع کر دیا
” نہیں مجھے تو انجکشن لگانے سے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔ پھر آپریشن ؟ نہیں نہیں مجھے نہیں کروانا کوئی آپریشن ۔۔۔”
” مسز ارتضی آپ کیوں اتنا گھبرا رہی ہیں ۔۔۔ اب تو یہ عام سی بات کچھ نہیں ہو گا آپ کو “
” میں نے کہہ جو دیا کہ مجھے نہیں کروانا ۔۔۔ ” جب وہ ڈاکٹر کے بس سے باہر ہوئی ڈاکٹر نے ارتضی کو اندر بلایا تھا ۔۔۔ وہ اسکے سامنے بھی رو رہی تھی انکار کر رہی تھی ۔۔
” سمجھائیں انہیں یہ کیوں واویلا مچا رہیں ہیں “
ڈاکٹر پریشان ہوئی تھی
“میں سمجھا دوں گا انہیں ۔۔۔ ” ارتضی خود اسکی بچکانہ حرکتوں سے پریشان تھا ۔۔۔
اسے اپنے ساتھ گاڑی میں لاتے ہوئے وہ چپ ہی رہا وہ مسلسل رو رہی تھی انکار بھی کر رہی تھی
گاڑی میں بیٹھتے اس کا اپنا صبر بھی جواب دے گیا تھا
” تم پاگل ہو شاید ۔۔۔۔ تم سے کہا تھا نا
میں نے کہ ڈاکٹر کے سامنے تماشہ مت کرنا “
” آپ بھی مجھے ڈانٹ رہے ہیں ۔۔۔ سنا نہیں وہ کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے آپ سے کہا بھی تھا کہ مجھے یہ سب نہیں کرنا ۔۔۔ دیکھ لیجے گاوہ پھر بھی بے قصور ثابت ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ مجھے آپ نے بہت بڑی اذیت میں ڈال دیا ہے ۔۔۔ اگر میں مر گئی تو ؟ “
چلتی ہوئی گاڑی کو یک دم بریک لگی تھی ۔۔۔
ارتضی نے اس کے روتے ہوئے چہرے کو دیکھا
” کچھ نہیں ہو گا تمہیں ۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کی قربانی رائگاں نہیں کرتے۔۔۔۔ کیس انشاء اللہ ہم ہی جیتے گئے ۔۔۔ ” گھر آ کر بھی وہ روتی رہی تھی ۔۔۔۔
رومان اس سے وجہ پوچھ پوچھ کر تھک گیا تھا بار بار اسکے آنسوں پونچ رہا تھا ۔۔۔ اگلے روز ایک تیس سال کی عمر کی خاتون ارتضی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھی ۔۔۔
” حیا یہ آج سے سارا کام کریں گئیں تمہیں۔ جو پروبلم ہو تم ان سے کہہ سکتی ہو ۔۔۔ شام تک تمہارے پاس رہیں گی جب تک میں گھر نا آ جاؤں ۔۔۔ یہ تمہارا خیال رکھے گئیں ” ارتضی یہ کہہ کر جا چکا تھا ۔۔۔ وہ عورت روز صبح ا جاتی تھی
بہت کم گو سی تھی ۔۔۔ بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی ذیادہ بات نہیں کرتی تھی ۔۔۔
حیا کا خیال بھی بہت رکھتی تھی ۔۔۔
” آپ بور نہیں ہوتیں چپ رہ رہ کر ۔۔۔ “
“میں کیا بولوں بیگم صاحبہ ۔۔چپ رہنے کی عادت ہے مجھے “
” پھر بھی کچھ تو بولا کروں کتنے بچے ہیں تمہارے ۔۔ شوہر کیسا ہے “
” بیگم صاحبہ کیا بتاؤں آپ کو ۔۔۔۔ زندگی پھولوں کی سیج کی طرح تو گزری نہیں ۔۔۔ جس کا ذکر کیاجائے ۔۔۔ “
” کیا مطلب ۔۔ ۔۔ کیا میاں ظالم ہے ۔۔۔ مارتا ہے “
“یہ تو عام بات ہے ۔۔۔ “
“تم لوگ سہتی کیوں ہو ۔۔۔۔۔ اپنے باپ سے کہو کہ تمہارے میاں سے بات کرے ” حیا کی بات پر وہ استزائیہ مسکرائی ۔۔۔
” باپ ۔۔۔۔۔ ؟ ۔۔۔ میرا باپ ہی میرا شوہر ہے بیگم صاحبہ ۔۔۔ ” حیا یہ سن کر ششدد سی رہ گئ تھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
” ت۔۔تم ہوش میں تو ہو ” حیاکو لگاوہ غلط بول گئ ہے
” ہوش میں ہی ہوں بیگم صاحبہ ۔۔۔۔ جب میری ماں کا انتقال ہوا میں میں پندرہ برس کی تھی ۔۔۔ اور کوئی بہن بھائی بھی نہیں تھا ۔۔۔
بس باپ کی نظر بدلنے لگی تھی۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔ “وہ عورت رونے لگی تھی ۔۔۔
میں بے بس اور مجبور تھی ۔۔۔ اس لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ میرے باپ نے مجھ نکاح پڑھوا لیا ۔۔۔ یہ اذیت ہی کم نا تھی کہ میری چھوٹی سی بچی کے ساتھ کسی نے ذیادتی کر کے مار کر نہر کے کنارے پھنک دیا ۔۔۔
سب نے کہا باپ کے ظلم کی سزاملی ہے سزا تو جیسے مجھے ملی تھی ۔۔۔ زنا کاری کسی آگ کی طرح پھیل چکی ہے بیگم صاحبہ انسانوں اور جانوروں ۔میں ذیادہ فرق نہیں رہ گیا ۔۔۔ زمین پر آنے والے پے در پے زلزلے طوفاں وبائی بیماریاں ۔۔۔ یہ سب اسی گناہ کا نتجہ ہیں ۔۔۔ بیگم صاحبہ ۔۔۔۔ چھوٹی سی عمر کی بچیوں کو جوئے میں ہارا جاتا ہے ۔۔۔ سامنے والا اسکے دادا کی عمر کا کیوں نا ہو ۔۔۔ وہ اسکی نکاح میں دے دی جاتی ہے ۔۔۔۔
ظلم ہے لیکن دیکھنے والا کوئی نہیں عورت کی زیادتیوں کے لئے کوئی قانون نہیں بنا اس پر نا کبھی آواز اٹھائی گئ ۔۔۔
فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی امیر عورتیں آتی ہیں چند ہزار کے نوٹ تھما کر ہمارے ساتھ تصویریں بناتی ہیں ۔۔۔ اپنی نیک نامی ثابت کر کے چلی جاتی ہیں ۔۔۔ لیکن ہوتا ہے کیا ۔۔۔ ہمدردی سب کرتے ہیں ساتھ کوئی نہیں دیتا آواز کوئی نہیں اٹھاتا ہم غریب ہیں بیگم صاحبہ اس لئے ہماری آواز دبا دی جاتی ہے ۔۔۔ ہوس ہی ہوس ہے اس دنیا میں ۔۔۔ نا باپ بیٹی کا رشتہ مقدس رہا ہے نا بہن بھائیوں کے رشتوں میں تقدس بچا ہے ۔۔۔۔
اگر اس نفسا نفسی کے دور میں کسی کو کوئی انسان میسر آ جائے تو وہ خوشی نصیب ہے بیگم صاحبہ ۔۔۔ آپکے کے میاں کی نظر بہت صاف ہے ۔۔۔ آج تک انہوں نے کبھی مجھے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا ۔۔۔ جب میں کچن میں کام کرتی ہوں وہاں آتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔ بہت خوش نصیب ہو تم بیگم صاحبہ جو ایسا شرم وحیاء والا شوہر تمہیں ملا ہے ۔۔۔۔ ” حیا خاموشی سے اسکی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔
سامنے بیٹھی عورت کتنے سالوں سے ایک ایسی اذیت سے دو چار تھی جس کا تصور ہی سوہان روح تھا ۔۔۔ مضرب رساں تھا ۔۔۔ حیا کے لئے سننا دشوار تھا اور وہ عورت سہہ رہی تھی
کچھ دیر میں وہ عورت کا چکی تھی حیا ابھی اسی ٹرانس میں تھی پہلی بار ایسا کچھ سنا تھا
چھوٹی بچیوں کے ساتھ ذیادتی کے واقعات تو وہ بہت دفع سن چکی تھی لیکن کوئی باپ اس حد تک بھی سفاکی کا مظاہرہ کر سکتا ہے حیا کے لئے ناقابل یقین تھا ۔۔۔۔
آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے ۔۔۔۔
عورت غریب ہو یا امیر عزت تو ایک جیسی ہی رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ خود پر بیتی ہو تو درد کااحساس ضرور دلا جاتی ہے پہلی بار حیا کسی اور کی تکلیف پر آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔ رو رہی تھی ۔۔۔ جب ارتضی گھر میں داخل ہوا تو اسے بے تحاشہ روتے دیکھ کر پریشان ہوا تھا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا
” اب کیا ہوا تمہیں کیوں رو رہی ہو ” ارتضی کے بس پوچھنے کی دیر تھی اس نے روتے روتے اس عورت کی داستان اسے سنائی تھی ۔۔۔ “
” ایسا تو کبھی نہیں ہوتا ارتضی ۔۔ کوئی بھی باپ ایسا تو نہیں کر سکتا ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بولا رہی تھی
” بہت کچھ ہوتا ہے ۔۔۔۔ ہو رہا ہے ۔۔۔ اور نا جانے کب تک ہوتارہے گا ۔۔۔ تم کیا یونہی روتی رہو گی ۔۔۔ اگر اتنا حوصلہ نہیں رکھتی تو کیوں کسی کا غم سنتی ہو ۔۔۔ یا تو سننا چھوڑ دو یا پھر دل مضبوط کر لو ۔۔۔۔ ” سامنے رکھے ٹشو بک سے دو تین ٹشو اس نے نکال کر حیا کو پکڑائے ۔۔۔ حیا نے پکڑ کر آ سوں صاف کیے
” میں نے سوچ لیا ہے میں بڑی ہو کر جج بنو گی عورت کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔ گی انہیں انصاف دلاؤں گی ” ایک نیا جذبہ تھا جو سر اٹھا رہا تھا ۔۔۔
” ابھی بڑی ہونا ہے تم نے ۔۔۔۔” ارتضی نے تعجب سے اسے دیکھ کر پوچھا وہ کچھ جھنپ سی گئ
“تمہیں پتہ ہے جج بننے کے لئے کتنا پڑھنا پڑتا ہے ؟ کتنی موٹی موٹی کتابیں پڑھنی پڑتی ہیں ۔۔۔ پڑھ لو گی تم ؟” ارتضی نے حیرت سے اس سے پوچھا تھا
” مطلب کیا ہے آپ کا ۔۔۔” وہ نافہمی انداز سے بولی
” سیدھا صاف سا مطلب ہے ۔۔۔ ایک لیٹویچر تو تم سے پڑھی نہیں جاتی اور لاء پڑھوں گی ۔۔۔اٹس امیزنگ ” ارتضی استزائیہ ہنسی ہسنے لگا تھا
” میں پڑھ سکتی ہوں ” حیا نے تیوری چڑھا غصے سے کہا
” ڈینگیں مارنا بہت آسان ہے حیا میڈیم ۔۔ کر کے دیکھاوں تو مانو ۔۔۔۔ “
” آپ مجھے چیلنج کر رہے ہیں ” حیا نے جیسے خود کو نئے چیلنج کے لئے تیار کیا تھا
“چلو چیلنج ہی سمجھ لو ۔۔۔ ایک مہینہ ہے تمہارے پاس اس کے بعد ۔میں آذر پر کیس کر دوں گا۔۔۔
اگر تم نے کیس جیت لیا حیا تو میں مان جاؤں گا کے حیا کچھ بھی کر سکتی ہے ۔۔۔ جج بھی بن سکتی ہے ۔۔۔ بیچ راستے میں راہ بدلنے کی کوشش مت کرنا ہے رکاوٹیں آئیں گئیں میراساتھ دینا آخری پیشی تک ” ارتضی نے اسکی انا پر چوٹ کر کے اسے ذہنی طور پر کیس کے لئے تیار کیا تھا۔۔جانتا تھا کہ چیلنج وہ ہرخغورت ضرور قبول کرے گی ۔۔۔ اور ہوا بھی وہی تھا ۔۔۔
وہ اسے بھی ایک چیلنج سمجھ رہی تھی چند دن بعد وہ ہوسپٹل میں ایڈمن ہو چکی تھی ۔۔۔ اپنے اندر حوصلہ مجتمع کرتی رہی ہے آپریشن سے ڈرے گی نہیں ۔۔ لیکن آپریشن تھیٹر جانے پہلے رونے لگی تھی ۔۔۔
آپریشن تھیٹر سے باہر ارتضی پریشان تھا ۔۔۔ تانیہ کاوقت جیسے نئے سرے سے شروع ہوا تھا ۔۔۔
جتنی سورتیں دعائیں زبانی یاد تھیں وہ مسلسل اسی ک ورد کر رہا تھا ۔۔ جب نرس نے آ کر اسے یہ بیٹے کی خبر سنائی تھی تو بے چینی سے سب سے پہلے اسکے منہ یہی جمعلہ ادا ہوا تھا
” میری بیوی تو ٹھیک ہے نا “
” جی وہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔ ” ارتضی کو لگا جیسے رکاہواسانس بحال ہوا ہو ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ایک بہت چھوٹا سا بچہ اسکی گود میں دے دیا گیا تھا ۔۔ جو بے تحاشہ رو رہا تھا ۔۔۔ عجیب بات تھی وہ بلکل حیا جیسانہیں تھا ۔۔۔۔ نا رنگت میں نا چہرے کے نقوش میں ۔۔۔ پہلی بار اسے پکڑتے ہوئے ارتضی کے ہاتھ بری طرح کپکپاتے تھے ۔۔۔۔ پوراوقت وہ حیاکو تسلی دیتا رہا تھا ۔۔۔۔۔ یہ بھی سوچ چکا تھا تھا اس بچے کی پرورش کی ذمہ داری خود لے گا خود کو ذہنی طور پر تیار بھی کر چکا تھا لیکن اب حالت غیر ہو رہی تھی ۔۔۔۔
سمجھ آ رہا تھا کہ جو قدم وہ اٹھانے کی سوچ رہا تھا وہ اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔۔۔۔
اسے سینے سے لگاتے ہوئے پوراجسم پسینے سے شرابور ہوا تھا واضع لرزہ تھا اسے وجود میں ۔۔۔ سمجھ آ رہا تھا کہ کتنا مشکل ہے کسی کی ناجائز اولاد کو اپنا نام اور پہچان دینا ۔۔۔۔
لیکن پھر بھی اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔ اس کے ماتھے کو کپکپاتے ہونٹوں سے چوما ۔۔۔ اسکے کان میں آذان دی آذان دیتے ہوئے آواز میں واضع لرزش تھی ۔۔۔۔ آنسوں جاری تھے
کچھ دیر میں حمیرا رومان کو اپنے ساتھ لیکر ہوسپٹل پہنچی تھی ۔۔۔
” رومان چھوٹے سے بچے کو دیکھ کر چہکا تھا ۔۔۔”
” بابا یہ میرا بھائی ہے ؟”
” ہاں ” ارتضی بڑے ضبط سے گزر رہا تھا ۔۔۔ رومان نے اسے گود میں بھر لیا ۔۔۔ اسے پیار کرنے لگا ۔۔۔ حمیرا ارتضی سے حیا کے بارے میں پوچھنے لگی ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں حیا کمرے میں شفٹ ہو چکی تھی ۔۔۔ ہوش میں بھی آچکی تھی لیکن چپ تھی ۔۔۔ حمیرا حیا کی خیریت پوچھ کر جا چکی
تھی ۔۔
حیا نے ایک نظر بھی برابر میں پڑی کاٹ میں لیٹے وجود کی طرف نہیں ڈالی تھی ۔۔۔ ۔۔۔
ارتضی نے بھی اسے ایک بار اس آزمائش میں گزرنے کے لئے نہیں کہا تھا ۔۔۔
جس مشکل سے وہ گزر چکا تھا حیا کا سہہ جانا مشکل تھا ۔۔ رومان دوسرے بیڈ پر لیٹ کر سو چکا تھا ۔۔۔
ارتضی حیا کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
پہلی بار اس کا ہاتھ بڑی اپنایت سے اپنے ہاتھ میں لیا تھا ۔۔۔ وہ چہرے کا رخ بدلے لیٹی تھی ویسے ہی لیٹی رہی ۔۔۔
” حیا ۔۔۔ ” ارتضی کے پکارنے پر بھی اس نے اسکی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔
” مجھے معلوم ہے بہت بڑی اذیت سے گزر رہی ہو تم ۔۔۔ “
” نہیں آپ نہیں جانتے۔۔۔ آپ نہیں جان سکتے ۔۔۔ یہ میری تکلیف ہے ۔۔۔ میں جس کرب سے گزر رہی ہوں وہ میں جانتی ہوں ۔۔۔ بس ایک احسان کر دیں مجھ پر جلد از جلد ایف آئی کٹوائیں مجھے یہ اذیت ذیادہ دیر برداشت نہیں کرنی ہے ۔۔۔
” آنسوں آنکھوں کے کنارے سے بہنے لگے تھے ۔۔۔
ارتضی نے ہی اس کے آنسوں صاف کیے ۔۔۔
” بے فکر رہوں تمہیں فورس نہیں کروں گا کہ تم اسے دیکھوں ۔۔۔ تمہارے پاس بھی اسے نہیں لاؤں گا ۔۔۔۔ تمہیں یوں روتے دیکھنا بھی مشکل ہے میرے لئے ۔۔۔ ایم سوری حیا ۔ میرے پاس دوسرا راستہ نہیں تھا تمہیں بے قصور ثابت کرنے کے لئے ۔۔۔ ورنہ تمہیں کبھی اس اذیت سے نا گزارتا ۔۔۔ ” اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر بولا ۔۔۔ حیا سسکیوں سے رونے لگی تھی
