Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 8

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 8

Kya Karo Dard Nai Hota by Umme Hani

ارتضی نے سیکنڈ ائیر کی کلاس لینی چھوڑ دی تھی ۔۔۔۔ حیا کا سامنا بھی دوبارہ اس سے نہیں ہوا تھا ۔۔۔ فائنل ائیر کے کلاس لیکر وہ باہر نکل رہا تھا ۔۔۔۔ انہی دنوں شیکسپیئر کے ایک ڈرامے کی ریسل بھی چل رہی تھی۔۔۔ اسی سلسلے میں پریکٹس کے لئے اسٹوڈنٹ ہال نما کمرے میں ہی ریسل کر رہے تھے ۔۔۔ اور کئ بار ارتضی کو بھی وہاں جانا پڑ جاتا تھا ۔۔۔ لیکن اسوقت چھٹی ہو چکی تھی ۔۔۔ وہ گھر کے لئے نکلنے ہی والا تھا جب ایک اسٹوڈنٹ نے اسے اسی ہال نما کمرے میں جانے کے لئے کہا کہ کچھ اسٹوڈنٹ اسے وہاں بلا رہے ہیں ۔۔۔

لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو پورا ہال خالی تھا ۔۔۔ سامنے اسٹیج بنا ہوا تھا لیکن پورا اسٹیج پردے سے ڈھکا ہوا تھا ۔۔۔۔

اسے لگاشاید اسٹوڈنٹ پردے کے پیچھے ہیں ۔۔۔ ابھی وہ اسٹیج تک پہنچا ہی تھا کے کسی کے قدموں چاپ سنائی دی تھی سامنے کا دروازہ کھلا ہوا تھا جہاں سے ایک لڑکی بھاگتی ہوئی آ رہی تھی پورے ہال میں بس چند لائٹس ہی جل رہیں ایک بڑی لائٹ سامنے جل رہی تھی جو سیدھی اسکی آنکھوں پر پڑ رہی تھی ابھی تو وہ ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پایا تھا سمجھ بھی نہیں پایا تھا جب وہ لڑکی

اسکے سینے لگ کر رونے لگی ۔۔۔ وہ بری طرح سے بوکھلایا تھا جب دیکھا تو وہ حیا تھی ۔۔۔ لیکن بکھری اجڑی سی حالت میں ۔۔۔ خود سے اسے پیچھے کیا چہرے پر انگلیوں کی چھاپ ہونٹ کے قریب زخم بازو سے پھٹا یونیفارم ۔۔۔ گردن پر بازو پر ناخنوں کی کھرونچ کے نشان یک دم تو کوئی بھی اسے اس حال میں دیکھتا تو وہی کہتا جو بے اختیار ارتضی نے کہا تھا ۔۔۔ وہ بے تحاشہ روتے ہوئے سر سر ہی کہہ پائی تھی کہ ایک نیا ڈرامہ وہاں شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔ وہ سب جو ارتضی کے ذہن گمان ۔میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ حیرت اسے اسوقت ہوئی جب ایک مزید نیا روپ اس نے اس جھوٹی لڑکی کا دیکھا تھا ۔۔۔۔

سب نے سامنے اپنی لٹی ہوئی حالت کا ذمہ دار وہ اسے بنا گئ تھی۔۔۔ ارتضی کے ہوش اڑ کے رہ گئے تھے وہ سب کی پروا کیے بنا حیا کے قریب آیا تھا

“کیا بکواس کر رہی ہو تم ۔۔ ہاں ۔۔۔ یہ کون کھیل ہے تمہارا ۔۔۔ ” وہ دھاڑتے ہوئے بولا تھا دل تو چاہا سامنے کھڑی لڑکی کا گلا دبا ڈالے اس سے پہلے کہ وہ بے قابو ہو کر حیا کی طرف بڑھتا چند لڑکوں نے اسے پیچھے دھکیلا تھا

“ناظرین آپ دیکھ سکتے ہیں اس شخص کی دیدہ دلیری کوایک تو اس شخص نے اس ۔معصوم لڑکی کی زندگی برباد کر دی اس پر سب کے سامنے اسے مارنے کی کوشش کر رہا ہے ایسے شخص کوسر عام پھانسی دینی چاہیے ۔۔۔ “اس لڑکے کی زبان نہیں تیز دھار کی چھری تھی ۔۔۔

وہاج خود بوکھلاسا گیا تھا ۔۔۔

” حیا یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔ میں ارتضی کو اچھی طرح سے جانتا ہوں وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔ خدا کے لئے بند کروں یہ ڈارمہ اور سچ بتا دوں سب کو ۔۔۔ “وہاج نے حیا کی منت کی تھییکن وہ روئے جارہی تھی ۔۔۔۔

” میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔ ” وہ اپنی بات پر قائم تھی ۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں پرنسپل بھی وہاں پہنچ گیا ۔۔۔ اس بار آتے ہی پرنسپل نے ارتضی کے منہ پر تھپڑ مارا تھا اس کا چشمہ دور جا کر گرا تھا

“اپنی بے عزتی کا بدلہ تم یوں لے سکتے کو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا” وہ غصے سے غرا کر بولے

” سر ٫”ارتضی متحیر ہو تھا

“شٹ اپ ارتضی “

” میں نے کچھ نہیں کیا اس کے ساتھ یہ جھوٹ بول رہی ہے “ارتضی چلا کر بولا تھا ۔۔۔ پھر ایک فی میل ٹیچر کے ساتھ لگی حیا کی طرف لہو رنگ آنکھوں سے دیکھنے لگا

“چپ کیوں ہو تم ۔۔۔ بتاتی کیوں نہیں کہ تم جھوٹ بول رہی ہو بکواس کر رہی ہو ۔۔۔۔ ” وہ چلا کر حیا سے کہنے لگا وہ لڑکا ایک ایک چیز کو کیمرے میں مقید کر رہا تھا ۔۔۔

” کھلم کھلا بدمعاشی کا مظاہرہ یہ شخص سب کے سامنے کر رہا ہے ۔۔۔ سب دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔ “وہ لڑکا اپنے اس ڈرامے کے ریٹ بڑھ رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر ۔میں پولیس بھی پہنچ چکی تھی ارتضی کو حراست میں لے لیا گیا تھا

” ہماری وزیر عظم سے اپیل ہے کہ ایسے مجرم کو سخت سے سخت سزادی جائے تا کہ دوبارہ کوئی بھی ٹیچر اس طرح سے کسی بھی لڑکی کی عزت کو پامال نا کر سکے “

ارتضی چلا چلا کر کہتا رہا کہ اس نے کچھ نہیں کیا مگر کسی کواسکی بات پر بھروسہ نہیں تھا عورت مجرم ہو کر بھی اس وقت صرف مظلوم سمجھیں جاتی ہے جب دنیا کے سامنے اس حال میں نظر آئے جس حال میں حیا تھی ۔۔۔۔

” آپ لوگ کیوں میری بات یقین نہیں کر رہے ہیں یہ جھوٹ بول رہی ہے اسے عادت ایساسب شوقیہ کرنے کی ۔۔۔ شرطیں لگانے کی ۔۔۔ خدا کے لئے میری بات پر بھروسہ کریں میں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔۔۔ ” لیکن کوئی نہیں تھا جو اسکی بات پر یقین کرتا کوئی تھا بھی تو اس حالات کے پیش نظر منہ پر قفل باندھے ہی کھڑا تھا ۔۔۔ جو بولتاوہ بھی اس چکی میں ساتھ ہی پستا جس میں ارتضی کو ڈالا جارہا تھا

“مس حیا آپ کو ساتھ جانا پڑے گا انکے خلاف ایف آئی آر کٹے گی ۔۔۔کیس ہو گا اور سخت سے سخت سزا دی جائے گی ” ایک پولیس افسر نے حیا سے کہا

” کیا یہ سب کرنے سے میری عزت لوٹ آئے گی ۔۔۔ کون اپنائے گا مجھے ۔۔۔۔ اس حال میں کے جب دنیا میری سچائی جان چکی ہے مجھے انصاف چاہیے وہ بھی ابھی ۔۔۔ ان سے کہیں کہ یہ مجھ سے نکاح کریں ابھی اور اسی وقت ” یہ ایک اور دھمکا تھا جو ارتضی کے سر پر پھٹاتھا ۔۔۔

” ہر گز بھی نہیں ۔۔۔۔ میں مر جاؤں گا اس سے نکاح ہر گز بھی نہیں کروں گا چاہے مجھے بنا قصور پھانسی چڑھا دیا جائے ” ارتضی نے صاف انکار کیا تھا ۔۔۔

سلیمان کے ہوش تب آڑے تھے جب آفس میں بیٹھے وہ اہم میٹنگ کر رہے تھے اور انکافون مسلسل بج رہا تھا انکے دوستوں کی کال تھی کہ ٹی وی آن کریں ۔۔۔ یہی حال زوبیہ بیگم کا ہوا تھا عورتوں کے حق میں تقریر کرتے ہوئے ان کے ہواس اس وقت گم ہوئے جب سامعین میں سے ایک لڑکی نے نیٹ پر حیا کے ساتھ ہوئی زیاتی کی لائیو ویڈیو انہیں دیکھائی تھی ایک تماشہ تھا جو انکی لاڈلی کادنیا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ رنگ فق ہوا تھا دھوپ میں سر پر چھری آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے وہ تقریر میں ۔مصروف تھیں سب کچھ وہیں پھنک کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھیں تھیں ۔۔۔۔

******…….

“شمس “

ثوبیہ کی چلا کر اٹھی تھی خوف اور ڈر سے پسینے سے شرابور ہوئی تھی ۔۔۔ سامنے گھڑی کی طرف کی طرف دیکھا تو رات کا ایک بجا رہی تھی ۔۔۔

جس قدر بہانک خواب دیکھا تھا سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیت سلب ہوئی تھی یاد تھاصرف شمس ۔۔۔۔ اس کی باتیں اگر اسے کچھ ہو گیا تو کیا کرے ثوبیہ بھی جی کر ۔۔۔ وہ بھی مر جائے گی ۔۔۔ جذبات پھر سے نئے ہوئے تھے ۔۔۔ جلدی سے الماری کھولی اور اپنے کپڑے ایک چھوٹے سے بیگ میں ڈالنے لگی ۔۔۔۔ زیور بھی اسی کی الماری میں رکھا تھا لوکر کھول کر ڈبوں میں سے زیور نکال کر بیگ میں رکھا اور خالی ڈبے واپس لوکر میں رکھے ۔۔۔۔کالے رنک کی چادر سے خود کو خوب اچھے سے لپیٹا اور کمرے سے نکل گئ رات کا سناٹا تھا سب کمروں میں تھے بہت محتاط قدم اٹھاتی ہوئی وہ چھت پر پہنچی تھی وعدے کے مطابق شمس بھی موجود تھا ایک چھوٹا سا بیگ اسکے پاس بھی تھا ۔۔۔ ثوبیہ کو دیکھ کر اس نے سب سے پہلے بیگ اسکے ہاتھ سے لیا پھر گھر کی پچھلی جانب لے گیا ۔۔۔ پہلے خود نیچے کود کر اترا پھر دونوں ہاتھ بڑھا کر ثوبیہ کو اتارا پچھلی گلی سنسان تھی

“چہرہ چھپاؤں اپنا ثوبی”شمس نے دھیمے لہجے سے کہا ۔۔۔ پچھلے راستے سے نکل کر ہی وہ گلیوں گلیوں سے ہوتے ہوئے مین روڈ پر پہنچے تھے ۔۔۔۔ اس وقت اپنے گھر سے کافی دور تھے ۔۔۔ مین روڈ پر ٹریفک بہت کم تھا ۔۔۔ کافی دیر بعد انہیں رکشہ ملا تھا ۔۔۔ سیدھا بس کے اڈے پہنچے تھے ۔۔۔ ایک کرسی پر ثوبیہ کو بیٹھا کر شمس بس کی دو ٹکٹس لینے چلا گیا ۔۔۔ جیسے ہی پہلی بس وہاں پہنچی مسافر ابھی ٹھیک سے اتر بھی نہیں۔ ہائے تھے کہ انتظار میں کھڑے مسافر بس ہر چڑھنے لگے لوکل بس تھی جہاں سیٹیں کم اور مسافر ذیادہ ہوتے ہیں ۔۔۔ اس لئے اشی بھگڑ میں شمس بھی ثوبیہ کا ہاتھ پکڑے بس میں سوار ہوا تھا اتفاق تھا کہ دونوں کو سیٹ بھی ایک ساتھ مل گئ تھی ۔۔۔ لیکن وہاں سے اترتے ہوئے مسافروں میں سے ایک شخص شمس جو جانتا تھا ۔۔۔

“تم شمس ہو نا مکینک شاہ جی ورک شاپ پر کام کرتے ہو ؟” وہ شخص شمس کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا

“جی نہیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ٫شمس نے جھوٹ بولا اور چہرے کا رخ بھی بدل لیا وہ شخص کندھے اچکاتا ہوا بس سے اتر گیا ۔۔۔ ثوبیہ کی جان میں جان آئی تھی ۔۔۔ جانے اب کتنے امتحان تھے جو اسکے منتظر تھے ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں بس چل پڑی تھی ۔۔۔ دونوں نے گہری سکون کی سانس لی تھی جیسے مصبت ٹل گئ ہو ۔۔۔۔۔ اوراب بس راوی چین ہی چین سنائے گا ۔۔۔

لیکن آزمائشیں تواب شروع ہونے والی تھیں ۔۔۔ سکون کیسے کہتے ہیں چین کیا ہوتا ہے یہ چیزیں تو وہ گھر کی دیلیز پار کرتے ہی پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔۔۔۔

” شمس مجھے ڈر لگ رہا ہے ” ثوبیہ نے خوف سے کہا ۔۔۔ پہلی بار اتنا۔ تا قدم اٹھایا تھا

“ثوبی چپ رہو کوئی بات مت کروں ہو سکتا یہاں بس میں بھی کوئی مجھے جانتا پہچانتا ہو تمہاری اس قسم بات کسی کو شک میں ڈال سکتی ہے ۔۔۔۔ ” شمس نے دھیرے سے ثوبیہ کے کان میں سرگوی کی ۔۔۔ ثوبیہ چپ ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔

*****…….

بڑی مشکل سے تانیہ سوئی تھی ۔۔۔ سوتے ہوئے بھی سسک رہی تھی اپنے شوہر کا گریبان زور سے پکڑ رکھا تھا کہ جیسے وہ کہیں بھاگ جائے گا ۔۔۔ پوری رات وہ اس کاسر سہلاتا رہا اسے اپنے ساتھ لگائے رکھا ۔۔۔ لیکن وہ کانپتی ہی رہی تھی بار بار ذرا سی آہٹ پر اس کا پوراوجود جھٹکے کھا جاتا تھا ۔۔۔ وہ خوف سے پھر سے اسکے اندر سمٹنے لگتی تھی ۔۔ جیسے صرف ایک وہی اسکی جائے پناہ ہے وہ ذرا سا بھی دور ہوا تو کوئی وحشی آ کر اسے نوچ کھائے گا ۔۔۔

ایک مرد کے لئے یہ آزمایش بھی کم نہیں ہوتی ۔۔۔ کہ اسکی بیوی پہلے سے ریپ کا شکار ہو چکی ہو ۔۔۔ اور اسی خوف سے روز پل پل مرتی ہو ۔۔۔ ایسی عورت کو سہارا دینا سب سے زیادہ مشکل امر ہے ۔۔۔ اول تو کوئی اپناتا ہی نہیں ہے اور اگر کوئی اپنا لے تو اسکی اس قسم کی گفتگوں۔ اور خوف کو کبھی بھی تحفظ نہیں دے سکتا ۔۔۔ اور جو ظلم تانیہ کے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ بھلانا واقع مشکل تھا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر وہ اسے ساتھ لگائے بہلاتا رہاوہ سو چکی تھی اب بھی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی تھی اس لئے اسکی شرٹ کو زور سے جکڑ رکھا تھا ۔۔۔

“دیکھیں آپ مجھ سے دور رہیں ۔۔۔ میرے قریب مت آئیے گا ۔۔۔ میں آپکے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔ “شادی کے بعد جب وہ کمرے ۔میں داخل ہوا تو وہ اسے دیکھتے ہی بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئ تھی ۔۔۔ ڈر اور خوف سے ایک دیوار پر جا لگی تھی ۔۔۔ جیسے وہ کوئی انسان کے بجائے کوئی خوفناک درندہ ہو

” میں سمجھا نہیں کہنا کیا چاہتی ہیں آپ ” وہ اسکی بات اور اسکے خوف سے نافہم۔تھا ۔۔۔ چند قدم اسکی جانب بڑھا کر بولا

“درو رہیں۔۔۔۔ دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ خدا کے لئے مجھے چھونا بھی مت ” وہ مزید دیوار سے جا لگی تھی ۔۔۔۔ جیسے دیوار میں کوئی شگاف ہو جائے گا،اور وہ اندر چھپ جائے گی ۔۔۔

“تانیہ یہ آپ کیا کر رہیں ہیں پلیز آرام سے بیٹھیں ۔۔ مجھے بتائیں کیا بات ہے کس بات کا خوف ہے “

“ن۔نن۔نہیں ۔۔۔ مجھے مت چھونا ۔۔۔ مجھے ہاتھ مت لگانا ۔۔۔ میرے قریب مت آنا ۔۔۔۔ ورنہ میں ۔۔۔ میں مار ڈالوں گی تمہیں ۔۔۔ یا خود کو ختم کر لوں گی ” تانیہ بری طرح سے بدحواس تھی

“ٹھیک ہے میں کچھ نہیں کہوں گا آپ کو ۔۔۔لیکن ڈر کیوں رہیں ہیں ۔۔۔”

“جاؤں یہاں سے نفرت ہے مجھے مرد ذات سے “وہ دبی دبی سسکیوں سے روتے ہوئے بولی

“او کے ۔۔۔۔ میں جا رہا ہوں یہاں سے ۔۔۔ اب آپ ریلکس ہو جائیں “وہ اپنے قدم پیچھے کی جانب لینے لگا ۔۔۔ بلا شبہ وہ بے حد خوبصورت لڑکی تھی لیکن اس وقت بری طرح سے خوفزدہ تھی ۔۔۔۔ اس لئے اسے یہی ٹھیک لگا کہ اس وقت اسے تنہا چھوڑ دے صبح دن کے اجالے میں بات کرے “اس لئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ تانیہ اب بھی خوفزدہ تھی تیزی سے آگے بڑھ کر کمرہ لوک کیا کہ کہیں وہ دوبارہ اندر نا آ جائے ۔۔۔۔ پھر کانپتے ہاتھوں سے چٹکنی لگائی بند کمرے کے باوجود اسے لگا کہجب وہ سو جائے گی تو وہ کمرہ کھول کر اندر داخل ہو جائے گا اس لئے کمرے کے دروازے کے سامنے کرسیاں رکھ دیں ۔۔۔ اور کمرے کے سارے بلب روشن کر دیے اندھیرے سے خوف آنے لگا تھا ۔۔۔۔ بیڈ کے بجائے وہ کمرے کے کونے میں زمین پر جا کر لیٹ گئ ۔۔۔

*******………

جازم جب گھر پہنچا تو ہارون الرشید صوفے پر اوندھے لیٹے تھے بے ترتیب طریقے سے ۔۔۔۔

جازم بھاگتا ہوا انکے پاس پہنچا تھا

“بابا ” جازم نے انہیں سیدھا کیا لیکن وہ بے سود تھے ۔۔۔ جازم نے انہیں ہلانے جلانے کی کوشش کی لیکن وہ بے جان سے لگ رہے تھے وہ جلدی سے انہیں ہاسپٹل لے گیا ۔۔۔

لیکن اس وقت تک وہ زندگی کی بازی ہار چکے تھے ۔۔۔ جواب تو ڈاکٹر نے دومہنے پہلے ہی دے دیا تھا کہ وہ اب ذیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے۔۔۔۔ لیکن یوں اچانک اسے چھوڑ جائیں گئے جازم کے لئے یہ صدمہ بہت بڑا تھا تو ابھی تو بہت کچھ ان سے شیر کرنا تھا جازم کو ۔۔۔ لیکن زندگی کہاں مہلت دیتی ہے ۔۔۔ تین دن تک وہ روتا رہا گھر سے باہر بھی نہیں نکلا ۔۔۔ یہ صدمہ اسکے لئے کم تو نہیں تھا جنہوں نے ہمیشہ انگلی پکڑ کر چلایا تھا آج انہیں کندھوں پر اٹھائے انکے ابدی ٹھکانے تک لے جاتے ہوئے اس کے قدم ڈگمگائے تھے ۔۔۔

“٫سنبھل کر میری جان جازم سنبھل کر قدم رکھو “

“بابا ” وہ زور سے چلایا تھا ۔۔۔ اسے لگا پھر سے چھوٹا بچہ سا بن گیا ہو جو چلتے ہوئے ڈگمگا جائے تو ماں باپ پکڑ لیتے ہیں گرنے نہیں دیتے ۔۔۔

ہارون الرشید نے بھی ماں باپ بن کر اسے پالا تھا گرنے نہیں دیا تھا ۔۔۔ نا کسی کے قدموں میں نا کسی کی نظروں میں ۔۔۔۔ کہیں نا اسکی تعلیم میں کمی تھی نا تربیت میں ۔۔۔ اس عمر میں جب لڑکوں کی نظریں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر غیر محرم لڑکیوں پر اٹھتی ہیں جازم نے ہمیشہ جھکائیں تھیں ۔۔۔ نا کالج میں ایسی گیدرنگ اپنائی جہاں موضوع لڑکیوں کے گرد گھومتے ہوں ۔۔۔ اور نا کسی لڑکی کو ایسی بے باقی سے دیکھنے کی کوشش کی ۔۔ اس کی وجہ ہارون الرشید کی باتیں تھیں تربیت تھیں

” جب قیامت کے دن ساری دنیا میں نفسہ نفسی چھائی ہو گئ ۔۔۔ بس سات قسم کے لوگ ہی اس وقت اللہ کی رحمت سائے میں ہوں جازم ان میں سے ایک ایسے لوگ بھی ہوں گئے ۔۔۔ انہیں حسب نصب والی عورت اپنی طرف گناہ کے لئے راغب کرے تو وہ کہہ دے مجھے اللہ کا ڈر مانع ہے ۔۔۔ “ہارون رشید کی بات جازم سمجھا نہیں تھا

“اب اس کا مطلب کیا ہوا بابا”پندرہ سالہ جازم نے سوال کیا

“اس کا مطلب جو اللہ کے ڈر سے غیر عورت کے پاس نا جائے گناہ نا کرے اسے اللہ اپنی رحمت کے سائے اس وقت پناہ دیں گئے جب دنیا میں کہیں بھی اللہ کے علاؤہ جائے پناہ نہیں ہو گئ ۔۔۔

“لو میں بھلا کسی عورت کے پاس کیوں جاؤں گا “

“جازم تم اب بڑے ہورہے ہو میرافرض ہے کہ تمہیں بتاؤں کہ اس عمر میں جس میں تم قدم رکھ رہے ہو ۔۔۔ بلوغت کی ابتدائی عمر ہے ۔۔۔ اسلئے اپنی مخالف جنس میں بڑی کشش نظر آتی ہے ۔۔۔ جب چار دوست ملکر بیٹھ جائیں تو باتوں میں یہی بات چھڑ جاتی ہے کہ محلے میں رہنے والی فلاں لڑکی ذیادہ خوبصورت ہے ۔۔ فلاں کے بال زیادہ لمبے ہیں ۔۔۔ فلاں کی آواز خوبصورت ہے ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے ہمارے سامنے سے اگر وہ لڑکی گزر جائے تو نظر اسکے چہرے بالوں پر جا کر رک جاتی ہے کان اس کی آواز پر دھرنے لگتے ہیں ۔۔۔

اور وہ عذاب شروع ہوتا ہے کہ مت پوچھوں اس لئے تمہیں سمجھا رہا ہوں کے اللہ نے ایک فاصلہ مقرر کیا ہے ۔۔۔ جب تک ہم فاصلے پر رہتے ہیں دل کی اور نفس کی خواہش پر خود کو نہیں چھوڑتے خود سے جنگ کرتے ہی کہ برائی کی طرف نہیں جانا ۔۔۔ تو کیسے ہوسکتا ہے وہ ہمیں انعام سے نا نوازے ۔۔۔

میں چاہتا ہوں کہ تم نظروں کو جھکانا سیکھ جاؤں ۔۔۔ بس پھر تو شیطان کی ہار ہی ہار ہے اور تمہاری جیت “ہارون الرشید نے بڑے پیار سے بیٹے کو سمجھایااور اس عمر میں سمجھایا جس عمر میں اسے ان باتوں کا علم ہونا چاہیے تھا ۔۔۔ ہر روز ایسی ہی ایک بات اس کے کان سے گزرتی تھی ۔۔۔ اس لئے اسکی نظریں جھکناسیکھ گئیں تھیں ۔۔۔ اسکے باپ نے اس نازک عمر میں غفلت نہیں برتی تھی ۔۔۔ یہی عمر ماں باپ کے چوکنا رہنے کی ہوتی ہے ۔۔۔ وہ پوچھتے تھے کہ کن دوستوں میں بیٹھتے ہو ۔۔۔ دوست کس موضوع پر باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔

آہستہ آ ہستہ آہستہ وہ اسکے ذہن اور شخصیت کی تربیت کرتے رہے ۔۔۔ آج انکی ساری باتیں ذہن کے پردے پر صاف تھیں ۔۔۔

“تمہیں پتہ ہے جازم بیٹے اور بیٹی کی تربیت میں بیٹے کی تربیت سب سے زیادہ وقت مانگتی ہے ۔۔۔ اور مشکل بھی ہے ۔۔۔ بیٹیاں تو ایک گھوری پر سمجھ جاتی ہیں کہ ماں باپ کیا چاہ رہے ہیں لیکن بارہ سال کے بعد بیٹا گھوری کو سب سے پہلے غیر اہم سمجھتا ہے ۔۔۔

“لیکن بابا مجھے تو یاد نہیں کہ آپ نے مجھے گھور کر دیکھا ہو ” جازم نے باپ کے سامنے رکھا چائے کا کپ اٹھا کر اپنے لبوں پر لگایا تھا وہ ایسا ہی کرتا تھا ۔۔۔ چائے کا آدھا کپ جب ہارون الرشید پی لیتے وہ کپ اٹھا کر پینے لگتا تھا ۔۔۔

وہ پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے

“تم اکلوتے ہو اس لئے ۔۔ ورنہ میں غصے کا بڑا تیز ہوں “وہ مصنوعی تیوری چڑھا کر کہتے ۔۔۔ جازم ہسنے لگتا ۔۔۔

” اچھا مجھے تو کہیں سے نہیں۔ لگتے “

“تم ذرا میرے خلاف چل کر تو دیکھاوں پھر دیکھوں میراغصہ ” ہارون رشید نے جیسے پیار بھری تنبیہ کی تھی

“لیکن بابا مجھے کہاں چلناآتا ہے میں تواب بھی آپ کا ہاتھ تھام کر چلتا ہوں اور ہمیشہ آپ کا ہاتھ تھام کر ہی چلوں گا “

“اچھا کب تک ہاتھ تھام کر چلنے کاارادہ ہے “ہارون الرشید کی بات پر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا

“۔ جب میرے بچے میرے جتنے ہو جائیں گئے تو ایک ہاتھ وہ آپ کا تھامے گئے اور ایک میں ” جازم کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہسنے لگے

” یعنی تم میری جان نہیں چھوڑو گئے کبھی “

“بلکل بھی نہیں ۔۔ لیں ختم کر دی آپکی چائے آپ سے تو ہو نہیں رہی تھی ” خالی انکے ہاتھ میں تھما کر لاڈ سے کہتا

“بہت شریر ہوتے جا رہے ہو ۔۔۔ ” ہارون رشید کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا

آنسوں کی جھڑی تھی جو لگ چکی تھی ۔۔۔ جازم کے آنسوں خشک نہیں ہورہے تھے ۔۔۔ نا کوئی ہمدرد موجود تھا نا کوئی آنسوں پونچنے والا ایک ہی دوست تھا وجی وہ بھی دو دن اسے تسلی دے کر جا چکا تھا ۔۔۔ کون کب تک رہتا ہے پورا گھر کاٹ کھانے کو دوٹ رہا تھا ۔۔۔ ہر طرف بابا کی یادیں تھیں ۔۔۔ جہاں بھی جاتا لگتا تھا کہ وہ پیچھے سے آ جائیں گئے ۔۔۔

“تم نکلو کچن سے باہر ایک آملیٹ بنانے میں پورا کچن تم نے سر پر اٹھایا ہوا ہے ۔۔۔ شلف کا حال دیکھ رہے ہو تم ۔۔۔ ” کہیں پیاز کے چھلکے کہیں ٹماٹر کے اور ہری مرچیں چار پلیٹیں الگ سے گندی پڑی تھیں اور جازم ہاتھ میں چھری پکڑے اپنے انسوں پونچھ رہا تھا جب ہارون الرشید کچن کی حالت دیکھ کر اس پر بگڑے تھے

“بابا آپ کو کچن نظر آ گیا میں نظر نہیں آ رہا ۔۔۔ پیاز ہے کہ عذاب ہے ۔۔ جب کاٹوں سب سے پہلے آنکھوں میں جاگھستا ہے “۔۔ وہ چھری پھنک کر بولا

” ہمم ہٹو تم ۔۔۔ میں بنادیتا ہوں ۔۔۔ ” اسے پیچھے کرتے ہوئے وہ چھری پکڑے پیاز کاٹنے لگے

جازم گھر کا ایک ایک کونہ دیکھ رہا تھا ۔۔ کہ شاید کہیں سے اسکے بابا نظر آ جائیں مگر کہاں کوئی واپس آتا ہے یوں ڈھونڈنے سے ۔۔۔کیا کوئی لوٹتا،ایک بار جانے کے بعد ۔۔۔ نہیں لوٹتا لیکن ہم یہ جانتے ہوئے بھی پتہ نہیں کیوں اسے ہر سو ڈھونڈتے ہی کہ جیسے ہماری نظریں سے اسے ڈھونڈ ہی لیں گئیں اسے سامنے دیکھ ہی لیں گئیں ۔۔۔ جازم بھی اسی کیفیت سے گزر رہا تھا۔۔۔

آٹھ دن کے بعد وہ نور جہاں کے کوٹھے پر گیا تھا ۔۔۔ بکھری سی حالت تھی ۔۔۔ بال بھی بنے ہوئے نہیں تھے ۔۔۔ شیو بھی بڑھی ہوئی تھی شرٹ آدھی پینٹ کے اندر تھی اور آدھی باہر ۔۔۔ وہ سر شام گیا تھا،اس وقت کوئی بھی موجود نہیں نور جہاں شکر کر رہی تھی کہ وہ خبطی سا لڑکا یہاں کاراستہ تو بھولا کیا خبر تھی کہ وہ کیا کچھ کھو چکا ہے ۔۔۔ وہ جب اندر داخل ہوا وہ سامنے ہی کھڑی تھی اس کارویا ساچہرہ دیکھ کر نور جہاں کا دل کھینچا تھا ۔۔۔ خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی کہ نا جانے کیوں خود سے اسکے پاس چلی گئ

“تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔ روئے ہو کا ” بس اس کا پوچھنا تھا ۔۔۔۔جازم کو شاید کسی سہارے کی ہی ضرورت تھی نور جہاں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا ۔۔۔ نور جہاں ایک تو اسکی جسارت پر بوکھلائی تھی پھر ایک مرد کے یوں پھوٹ پھوٹ کے رونے پر ۔۔۔

“میرے بابا چلے گئے ہیں مجھے چھوڑ کر ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بولا نور جہاں کے ساتھ لگا وہ اس سے بھی قد میں اونچا تھا لیکن کسی چھوٹے بچے کی طرح بلک بلک رو رہا تھا

******…….

حیا کے اس مطالبے پر تو اس لڑکے کو بھی چپ سی لگ گئ تھی جسکی زبان اب تک کینچی کی طرح چل رہی تھی۔۔۔ مائیک پکڑے وہ سن کھڑا تھا ۔۔۔ حیا کا مطالبہ ہی کچھ ایسا تھا ۔۔۔۔ سب کے گمان سے الگ ۔۔۔۔

کسی کی سوچ میں یہ سب نہیں تھا یہاں تو وہ نیا نیاصحافت میں قدم رکھتا لڑکا اپنی خبر کی ریٹنگ بڑھانے کی کوشش میں تھا ۔۔۔ چند مہینے جب تک کیس چلتا رہتا خبروں کابازار گرم رہتا۔۔۔ لیکن ایک کے بعد ایک دھماکے خیز خبر تھی اس لڑکی کے پاس ۔۔۔ پہلے ریپ کا الزام اب اسی شخص سے نکاح کا مطالبہ ۔۔۔

وہاج کی عقل دنگ تھی اس لڑکی پر وہ حیا کے پاس آ گیا

“یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ کیا کرنا چاہتی ہو وہ استاد ہے تمہارا ۔۔۔ تم پاگل ہو کیا “وہاج اپنا طیش دباتے ہوئے بولا

” مجھے ان سے نکاح کرنا ہے یہ مجھے ابھی اپنائے گئے ورنہ میں جان دیدوں گی اپنی ذلت کی زندگی نہیں جی سکتی میں ۔۔۔ مجھے کیس نہیں۔ کرنا ۔۔۔ انکی پھانسی مجھے میری کھوئی ہوئی عزت نہیں لوٹاسکتی ۔۔۔ ” حیا کے آنسوں جاری تھے ارتضی غصے سے تلملایا تھا

” ہر گز بھی نہیں ۔۔۔ میں اس جھوٹی مکار لڑکی کواپنے ہاتھوں سے ہی مار دوں گا پھر چاہے پھانسی چڑ جاؤں کوئی افسوس نہیں ہوگا مجھے “ارتضی کابس نہیں چل رہا کہ اس کا گلا گھونٹ دے ۔۔۔

” اگر یہ مجھ سے نکاح نہیں کریں گئے تو میں خود کشی کر لوں گی اور اسکے ذمےدار یہ ہوں گئے “

حیا روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

دوسری جانب زوبیہ آپ ی گاڑی میں اور سلیمان اپنی گاڑی میں حیا کے کالج کی طرف روانہ تھے ۔۔۔ تماشہ سا لگ چکا تھا ۔۔۔

” دیکھیں نکاح تو تمہیں کرنا پڑے گا ۔۔۔ بہتر یہی ہے کہ تم ہی انہیں سہارا دو ۔۔۔ “

پولیس آفیسر بولا ۔۔۔

” مجھے پھانسی منظور ہے “ارتضی اپنی بات پر قائم تھا ۔۔۔

وہاج ہی ارتضی کے پاس پہنچا تھا

“ارتضی تم ۔۔ تم فی الحال وقت کی نزاکت کو سمجھوں “

“ایک لفظ اور نہیں وہاج ۔۔۔ میں نے جب کچھ کیا ہی نہیں کے تو کیوں سزاکاحقدار کہلاؤں “

” دیکھوں تم نے کچھ نہیں کیا پھر بھی مجرم بن جاؤں گئے ۔۔۔ اس کا باپ تمہیں۔ چھوڑے گا نہیں ایک بچہ ہے تمہارا۔۔۔۔ اور اگر اس لڑکی نے خود کو کچھ کر لیا تو ۔۔۔ رومی کا نا جانے کیاحشر کریں گئے یہ لوگ ۔۔۔ ” رومی کے نام پر ارتضی کادل تڑپا تھا ۔۔۔

نفرت سے حیا کی طرف دیکھا تھا

۔۔۔ پہلی بار گاڑی ٹریفک جام میں پھنس جانے کی بے چینی نے سلیمان صاحب کا بی پی آخری حد تک بڑھایا تھا۔۔۔ بے قراری کا یہ عالم تھا کہ اڑ کر حیا کے پاس پہنچ جائیں ۔۔۔ اورارتضی کا خون اپنے ہاتھ سے کر دیں ۔۔۔

“ڈرائیور گاڑی کاہارن بجاوں کچھ بھی کروں باہر نکل کر روڈ کھلواں ” سلیمان دھاڑ کر بولے ڈرائیور گاڑی سے نکل گیا ۔۔ فل ائیر کنڈشنر کار میں بیٹھے سلیمان پسینے سے شرابور تھے

دوسری طرف زوبیہ کی جان پر بنی تھی وہ پنڈی سے اسلام آباد پہنچ رہی تھی راستہ خاصا طویل دل دل ڈوبا جارہا تھا میڈیا کو کیا جواب دے گی ۔۔۔ دنیا کو کیا منہ دیکھائے گی ۔۔۔

ایک مولانا کا انتظام بھی ہو چکاتھا ۔۔۔ نکاح کے نام پر حیا نے اب بھی اپنی ضد منوائی تھی ۔۔۔ کیوں کیا تھا اس نے یہ سب ۔۔۔ کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔ اتنی ذلت اوراہانت والا نکاح شاید ہی کسی کا ہوا ہو ۔۔۔ سائن کرتے ہوئے ارتضی نے کئ بار نفرت سے اس لڑکی کو دیکھا تھا جو کم عمر تھی اسکی شاگردہ تھی لیکن چلباز تھی ۔۔۔ اسے کبھی اس حیثیت سے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا جس رشتے میں وہ زبردستی اس کے ساتھ جڑ چکی تھی ۔۔۔ وہ بھی اس الزام کے ساتھ ۔۔۔

مزے بھی لائیو دیکھایا گیا تھا ۔۔۔

زوبیہ کو دیکھ کر ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھی تھی لیکن سلیمان نکاح ہوتے ہی پہنچ چکے تھے اس بات سے بے خبر کے حیا اب حیاسلیمان کے بجائے حیاارتضی بن چکی ہے