Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 11

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 11

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

ثوبیہ صبح سے رو رہی تھی ۔۔۔ شمس کی آنکھ بھی ثوبیہ کی سسکیوں پر کھلی تھی ۔۔۔ وہ برابر میں گھٹنوں پر بازو رکھے منہ چھپائے رو رہی تھی ۔شمس نے ناگوار سا منہ بنایا

” ثوبی بند کرو یہ رونا دھونا یار ۔۔۔ سونے دو سکون سے ۔۔ آج کر لوں تم سے نکاح ۔۔۔ اگر کوٹ میرج نہیں کر سکا تو کسی مولانا کو اٹھا لاؤں گا مگر یہ رونا دھونا بند کروں اب۔۔۔ سر میں درد لگا رکھی ہے تم نے ” وہ کروٹ بدل کر پھر سے آنکھ بند کر گیا ۔۔۔ مگر ثوبیہ کے آنسوں نہیں تھم رہے تھے ۔۔۔ محبت نے اب تک تو رسوائی ہی دی تھی ۔۔۔۔

شمس اسکی سوں سوں سے بیزار ہو کر اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔ غصے سے اسے دیکھنے لگا

” ناشتہ کر لو تو لے چلتا ہوں تمہیں کسی مولانا کے پاس پڑوا لینا دو بول نکاح کے تا کہ رونا تو بند ہو تمہارا ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ اٹھ کر واش روم میں چلا گیا دوپہر تک

نکاح بھی ہو چکا تھا مگر وہ خوش نہیں تھی ۔۔۔ محبت بھی مل گئ تھی لیکن بے کلی سی تھی ۔۔۔ لگتا تھا وہ سب بھی خالی ہاتھ ہے ۔۔۔۔ شمس کو پا کر بھی ہاتھ خالی ہیں ۔۔۔ لوگ محبت کھو کر تہی دامن رہ جاتے ہیں لیکن ثوبیہ کو لگا محبت پا کر سب کچھ کھو بیٹھی ہے ۔۔لیکن سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کھو بیٹھی تھی ۔۔۔ عزت ۔۔ ہاں عزت ہی کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔ پہلی بار یہ احساس ہوا کہ محبت کا پا لینا سب کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔ نکاح کے بعد شمس اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا جتاتی ہوئی نظروں سے جیسے کہہ رہا دیکھ لو نکاح کے نام پر تمہیں گزری ہوئی رات کی قمیت دے دی ہے۔۔۔۔ حق مہر میں صرف ایک ہزار لکھوایا تھا شمس نے ۔۔۔۔ ثوبیہ کچھ بھی بول نہیں پائی ۔۔۔ کیا کہتی وہ کون سی باپ بھائی کے گھر سے رخصت ہوئی تھی جو بہن کے حق میں کچھ زیادہ بھی کہتے تو شمس کو دینا پڑتا وہ کچھ نا بھی دیتا بے تب بھی وہ سوال نہیں اٹھا سکتی تھی ۔۔۔ شمس نے گھر سے نکلتے وقت موبائل آف کر دیا تھا جو رات کو آن کیا تھا اسکی والدہ کی کئ کال آئی ہوئی۔ تھیں ۔۔۔ ثوبیہ واش روم میں تھی اس نے کال کی تا کہ اپنی خیریت بتا دے مگر ماں نے ثوبیہ کے بھاگ جانے کے ساتھ ساتھ اسکی ماں کے مر جانے کی خبر سنا دی شمس اٹھ کر سیدھا ہو کر بیٹھا تھا

“یہ کیا کہہ رہیں آپ امی “

“ٹھیک کہہ رہی ہوں بیٹا نا جانے کس کے ساتھ منہ کالا کیا اس لڑکی نے ۔۔۔ ماں تو صدمہ برداشت ہی نہیں کر پائی ۔۔۔ خیر چھوڑو تم یہ بتاؤ۔ خیر سے پہنچ گئے تم لاہور “

“جی پہنچ گیا امی بعد میں بات کروں گا اور ہو سکتا ہے چند دن رابطہ نا کر سکوں ۔۔۔۔ “یہ کہہ کر شمس نے دوبارہ سے فون آف کر دیا اگر یہ خبر ثوبیہ سن لیتی تو ایک پل بھی یہاں نہیں رکتی واپس جانے کی ضد کرتی ۔۔۔ فون شمس نے فورا سے دراز میں ڈالا تھا ثوبیہ واش روم سے باہر آئی تو شمس کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر متذبذب سی ہوئی تھی

“کیا بات ہے شمس “

“ک۔۔کچھ نہیں ” شمس نے نظریں چرائیں۔ تھیں ۔۔۔

“کچھ پریشان لگ رہے ہو “ثوبیہ اس کے برابر ۔میں بیٹھ گئ

“وہ تو تم بھی ہو ثوبی ۔۔۔ ایسے ہی سوچ رہا تھا کہ محبت بھی انسان سے کتنی بڑی بڑی قربانیاں مانگ لیتی ہے ؟ “شمس ثوبیہ سے یہ بات چھپا تو نہیں سکتا تھا کہ اسکی ماں اس حرکت کی وجہ سے مر چکی ہے کتنے دن تک چھپاتا آخر تو سچ سامنے آنا ہی تھا اس لئے اس کا ذہن بنانے لگا کہ محبت میں جو کچھ کھو گیا وہ محبت کی قربانی تھی

” ہاں سچ کہہ رہے ہو ۔۔۔ عورت سے توشاید سب سے پہلے عزت کی قربانی ہی مانگتی ہے یہ محبت “ثوبیہ روہانسی ہوئی تھی

” تمہیں خود خود کو بہت مضبوط کرنا ہو گاثوبی ۔۔۔۔ ۔۔۔بہت کچھ سہنا پڑتا ہے ۔۔۔ جو تم نے قدم اٹھایا وہ چھوٹا تو ہے نہیں ناں “شمس ہر بات کاذمہ دار صرف اسے ہی ٹہرا رہا تھا جیسے سارا کیا دھرا ثوبیہ کا ہی ہو ۔۔ اور وہ بے قصور ہو ۔۔۔

” ایسی باتیں کر کے مجھے کیوں ڈرا رہے ہو ۔۔ میں پہلے ہی بہت بے چین ہوں شمس اماں کی فکر کھائے جا رہی ہے ۔۔۔ دو دن سے طعبیت بھی ٹھیک نہیں تھی اماں کی ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں دوا بھی لے رہیں ہیں یا نہیں ۔۔۔مجھے ہی رو رہی ہوں گی دو دن سے ۔۔۔ ذرا اپنے گھر فون کر کے اپنی امی سے کہوں کے اماں کی خیریت ہی پوچھ کر بتا دیں ۔۔ زیادہ رو تو نہیں رہیں ۔۔۔ باقی ابا اور کمالا تو بہت غصے میں ہوں گئے میں جانتی ہوں بس اماں ” نا جانے کون سی بی بی ی تھی جو ثوبیہ کو چین لینے نہیں دے رہی تھی ۔۔۔ شمس بڑبڑایا تھا ۔۔۔

“دیکھوں ابھی فون کرنا ٹھیک نہیں ہے چند دن گزرنے دو میں امی سے کہوں گا تمہاری اماں کی خیریت پوچھ کر بتا دیں گی ۔۔۔ “

” شمس پلیز میری بات سمجھوں مجھے نہیں چین آ رہا بس ایک بار پتہ چل جائے کہ اماں ٹھیک توہیں مجھے سکون مل جائے گا ” ثوبیہ نے التجا کی تھی

” اوہ ہو ثوبی آج ہی تو نکاح ہو ہے ہمارا ۔۔۔ کم از کم چند دن تو میرے نام کر دو پھر اپنے گھر والوں کی بھی فکر کر لیں گئے ۔۔۔ کل تو تمہیں گناہ ثواب کی ہی فکر لگی ہوئی تھی بہت بور کیا ہے تم نےججے ۔۔۔ “شمس نے موضوع بدلہ تھا ۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ثوبیہ کو اسکی والدہ کی اطلاع

ملے اور اسکا ہنی مون ٹرپ خراب ہو ۔۔۔۔

*****……

تانیہ سو رہی تھی جب وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں آ گیا تھا ۔۔۔ سنگل بیڈ پر بیٹھ کر اپنا سر دونوں ہاتھوں سے جکڑا تھا ۔۔۔۔

سچ کہہ رہی تھی وہ ۔۔۔ جو کچھ وہ اسکے بارے میں جانتا تھا وہ بہت مختصر اور کم تھا ۔۔ جو تانیہ پر بیتا تھا وہ کئ گناہ زیادہ تھا ۔۔۔۔ اسکے وجود پر بہت گہرے زخموں کے نشان تھے بربریت اور حوانیت کا منہ کھولتا ثبوت تھا ۔۔۔۔۔ تانیہ دوبارہ کچھ نہیں بولی تھی لیکن پھر بھی ہر جواب اسے مل چکا تھا ایک اذیت تھی جو اس نے نکاح کے حق کے طور پر وصول کی تھی ۔۔۔۔ جس ضبط اور محبت کے وہ دعوے کر رہا تھا لگ تھا سب کچھ ریت کی دیوار کی طرح سے ڈھے گیا ہے ۔۔۔۔

“ہر شخص زخم دینے والا نہیں ہوتا کچھ لوگ ہر زخم کا مداوا بھی کرنے والے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ہر شخص کو ترازو کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دینا تو غلط بات ہے ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے آزمائیں ضرور آزمائیں ۔۔۔ مجھے بھی پرکھ لیں ۔۔ یقینا آپکی سوچ بدل جائے گی ۔۔۔ ” بڑا دل کر کے اس نے تانیہ سے کہا تھا لیکن اب لگ رہا کہ ایک رات کی آزمائش ہی اسے تھکا چکی ہے ۔۔۔ تانیہ کا ایک ایک لفظ ٹھیک تھا

“میں بے بس ہوں ۔۔۔۔ میرے اختیار ۔میں نہیں ہے ۔۔۔ آپ کو سمجھا نہیں سکتی کہ مجھے کسی بھی مرد کی قربت نہیں چاہیے نا کسی برے کی نا کسی اچھے کی ۔۔ مجھے نفرت سی ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔ لفظ مرد سے ۔۔۔۔ ” اگر اسے نفرت تھی تو ٹھیک ہی تھی ۔۔۔۔ بہت آسان ہوتا ہے دوسروں کے زخموں کو پلکوں سے چننے کا دعوا کرنا اور بہت مشکل ہے ان زخموں پر مرہم لگانا ۔۔۔ یہ ظرف شاید اسکے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔۔

ایک ہی رات اسے جس اذیت ۔میں مبتلہ کر چکی تھی اس ک دل چاہا کہ وقت پیچھے کو کھسک جائے ۔۔۔ نکاح کے ایجاب وقبول پر وہ وہاں سے بھاگ جائے کہیں بہت دور ۔۔۔ کیسے گزار سکتا ہے اس کے ساتھ زندگی ۔۔۔ جسکے ساتھ ایک رات کسی اذیت کی طرح گزری تھی ۔۔۔

آنسوں آنکھوں سے بہنے لگے تھے ۔۔ اگر بے قصور بھی تھی تو وہ بھی تو قصوروار نہیں تھا ۔۔۔ نا جانے کیوں یہ سمجھا کہ وہ ایسی لڑکی کو سہارا دے سکتا ہے جس کے ساتھ ذیادتی کی گئ تھی ۔۔۔ غلط فیصلہ تھا اس کا ۔۔۔۔ تانیہ کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ گھر سے جا چکا تھا رات کو بھی دیر سے آیا تھا کھانا ھی خاموشی سے کھایا ۔۔۔ وہ بھی چپ تھی ۔۔۔ کھانا بہت مزے کا بنا تھا ۔۔۔ گھر بھی صاف تھا ۔۔۔ کھانا کھاتے ہی وہ لیپ ٹاپ لیکر دوسرے کمرے میں چلا گیا تا کہ تانی کو لگے کہ اسے آفس کا کوئی کام ہے ۔۔۔ بے مقصد ہی وہاں۔ بیٹھا رہا ۔۔۔۔

لیٹ نائٹ جب کمرے میں آیا وہ سو چکی تھی ۔۔۔ وہ بھی ایک سائیڈ پر لیٹ کر سو گیا ۔۔۔ دو دن سے اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ناہی دوبارہ اسکے پاس آنے کی ہمت کر پایا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ بھی چپ تھی ۔۔۔۔

چند دن یونہی گزر گئے تھے ۔۔۔ دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔

رات کو وہ اپنے لیپ ٹاپ پر مصروف تھا ۔۔ جب تانیہ کی چلانے کی آوازیں آئیں تھیں ۔۔۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ اسکے کمرے میں بھاگ کر پہنچا ۔۔۔ اسے دیکھ کر تانیہ ڈر کر اسکے ساتھ لگ گئ

” اسے بولیں یہاں سے چلا جائے یہ مجھے مار ڈالے گا “وہ سامنے کی طرف اشارہ کر رہی تھی جہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔ “

“وہ کون ہے تانیہ کوئی بھی نہیں ہے وہاں “

“وہ ہے ۔۔۔ وہ سامنے کھڑا ہنس رہا ہے مجھ پر “وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔۔ پورا وجود سرد تھا لرز رہا تھا ۔۔۔

“تانیہ کوئی نہیں ہے یہاں ” اسے لگا وہ کچھ زہنی بیمار بھی ہے

“آپ کو نظر کیوں نہیں آ رہا وہ سامنے کھڑا ہے ۔۔ مجھے مار ڈالے گا ۔۔۔ ” وہ بدحواس تھی رو رہی تھی ۔۔۔

” اچھا دیکھاو مجھے کون ہے یہاں ۔۔۔ میں اسے مار دیتا ہوں ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ” وہ تانیہ کو ساتھ لگائے اس جانب آ گیا جہاں وہ اشارے کر کے ڈر رہی تھی ۔۔۔

“دیکھوں یہاں کوئی نہیں ہے ۔۔۔ ” وہ اسے تسلی دیتا ہوا بیڈ تک لے آیا اسے بیٹھ پر بیٹھا دیا ۔۔۔

” میری بات سنو ۔۔۔۔ اس خوف سے تمہیں کوئی بھی نہیں نکال سکتا جب تک تم خود نکلنا نہیں چاہوں گی ۔۔۔۔ کون ڈراتا ہے تمہیں مجھے بتاؤں ۔۔۔ میں جان لے لوں گا اسکی ۔۔۔اگر کوئی تمہارے قریب بھی آیا تو ۔۔۔۔” اسکے خوفزدہ چہرے کو وہ اپنے دونوں ہاتھوں ۔میں لیکر بولا ۔۔۔ ترس آ رہا تھا اسے تانیہ کی حالت دیکھ کر ظلم صرف جسم پر نہیں ہوا تھا ذہن بھی بری طرح سے متاثر ہوا تھا

” آپ سچ کہہ رہے ہیں آپ مار ڈالیں گئے اسے ” بڑی آسسے تانیہ نے پوچھا تھا

“ہاں میں مار ڈالو کا اسے ۔۔۔ جو بھی تمہیں پریشان کرے گا ۔۔۔ ” تانیہ کے چہرے پر اب خوف ذرا کم ہوا تھا ۔۔۔

“آپ کچھ دیر میرے پاس بیٹھ جائیں ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے “

“ٹھیک ہے میں یہی ہوں تمہارے پاس ۔۔۔ لیٹوں یہاں ” اسکے کہنے پر وہ لیٹ گئ ۔۔۔ آنکھیں بھی بند کر لیں اس کا ہاتھ بہت زور سے اپنے دونوں ہاتھوں ۔میں لے لیا ۔۔۔۔

“اٹھ کے تو ۔نہیں جائیں گئے نا “بند آنکھوں سے تانیہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا

‘نہیں مجھے کہاں جانا ہے ۔۔۔ مجھے تمہارے پاس ہی رہنا ہے تانی ۔۔۔ کہیں نہیں جانا تم سو جاؤں ” یہ کہہ کر وہ اس کاسر سہلانے لگا کچھ دیر میں وہ سو گئی تھی اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔ خوف ڈر اذیت ہر تکلیف اسکے چہرے پر رقم تھی ۔۔۔ پتہ نہیں ذیادتی کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کے کہ اپنی ہوس کی خاطر وہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ہی نہیں اسکے ذہن کو بھی اذیت میں ۔مبتلہ کر دیتے ہیں ۔۔۔۔

ملتا کیا یہ سب کر کے سکون تو کبھی نہیں ملتا ہو گا۔۔۔۔ کیسے اس قسم کی ذیادتی کے بعد کوئی سکون جیسی نعمت پا سکتا ہے ۔۔۔۔ کسی کواتنی بڑی اذیت دے کر ۔۔

تانیہ سوئی ہوئی بھی اسکا ہاتھ سختی سے اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑے ہوئے تھی۔۔۔

اس۔ نے ایک گہری سانس بھری ۔۔۔ اسکے برابر میں لیٹ گیا

“جب طےہےکہ زندگی ساتھ ہی گزارنی ہے ۔۔۔۔ یہ کھٹن آزمائش ہے بھی تو بھاگ کر جاؤں گا کہاں ۔۔۔ کہیں بھی تو نہیں جا سکتا۔۔۔۔ کیسے اس لڑکی کو ایک نیا غم دے دوں جو پہلے سے زندگی کو کسی اذیت کی طرح گزار رہی ہے پھر تانیہ کے چہرے کو دیکھنے لگا

خوبصورت نقوش کی مالک وہ لڑکی بے حد خوبصورت تھی ۔۔۔ لیکن تکلیف میں۔ تھی اسکی پیشانی پر بوسہ دیدنے کے بعد اس نے بھی آنکھیں بند کر لیں

******…….

“سنیں ۔۔۔ وہ بابا کہہ رہیں کہ یہ آپ کے باپ کا گھر نہیں ہے ۔۔۔ اس لئے آپ باہر لانج کے صوفے پر جا کر سوئیں ۔۔۔ مجھے اپنے کمرے کے علاؤہ نیند نہیں آتی “رومان نے دستک دے کر دروازہ کھولا حیا نے اسے دیکھ کر جلدی سے اپنے آنسوں پونچے تھے ۔۔۔ پھر اسکی بات سن کر دیکھنے لگی

” پتہ ہے مجھے کہ یہ ۔میرے باپ کا گھر نہیں ہے ۔۔۔ تمہیں کمرہ نہیں دینا تھا تو مجھے صاف کہہ دیتے شکایت لگانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ عجیب لڑکے ہو “یہ کہہ کر حیا اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔ پھر بیڈ سے ایک تکیہ اٹھا لیا

“تکیہ لے سکتی ہوں تمہارا ۔۔۔ اگر جا کر اپنے بابا سے شکایت نا لگا دو تو ؟” حیا نے چڑ کر کہا

“ہاں تکیہ لے لیں ۔۔۔۔ وہ میرے پاس دو ہیں۔ اس لئے ایک تکیے سے میں ایڈجسٹ کر لوں گا ” رومان کی فراخدلی پر وہ زچ ہوئی تھی۔۔۔ کمرے سے نکلتے ہوئے کچھ دیر رومان کے پاس جا کر کھڑی ہو گئ

“سنو “

“جی “

“میں صبح سے بھوکی ہوں ۔۔۔ کچھ مل سکتا ہے کھانے کو “حیا نے جھکجھکتے ہوئے اس سے کہا

” جی میرے کمرے کے برابر میں کچن ہے ۔۔۔ فریج بھی وہیں ہے ۔۔۔ کھانا تو بابا نے بنایا نہیں تھا ۔۔۔ ہاں لیکن ۔۔۔ دودھ اور بریڈ ہے ۔۔ اس سے کام چل سکتا ہے تو کھا لیں “رومان نے کندھے اچکائے تھے ۔۔۔

“اس وقت کسی بھی چیز سے کام چل جائے گا ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئ

سامنے لاونج کے صوفے پر تکیہ رکھا پھر کچن میں آ گئ ۔۔ فریج سے دودھ کاڈبہ نکال کر گلاس میں ڈالا ۔۔۔ اور کھڑے کھڑے ہی دو گلاس بس دودھ ہی پیا اور واپس آ کر صوفے پر لیٹ گئ ۔۔۔

صبح شیشہ ٹوٹنے کی آواز جھناک سے آئی تھی کسی بیرونی کھڑکی سے پتھر مار کر شیشہ توڑا تھا ۔۔ حیا ڈر کر اٹھ بیٹھی تھی پھر گھر کا مین گیٹ دھڑدھڑایا تھا

“دروازہ کھولو پرفیسر کے بچے ۔۔۔ اور نکلو یہاں سے ۔۔۔ یہ شریفوں کا محلہ ہے ہم تمہیں یہاں رہنے نہیں دیں گئے ” کئ مردوں کی آوازیں بیک وقت آئیں تھیں حیا ڈر کر صوفے کے کونے سے جا لگی تھی تب تک رومان اور ارتضی بھی کمرے سے نکل چکے تھے ۔۔۔ دروازہ بری طرح سے پیٹا جا رہا تھا

“باہر نکل ۔۔۔ ہم تجھے یہاں نہیں رہنے دیں گئے ۔۔۔۔

تمہارے ہوتے ہوئے ہماری گھر کی عزتیں کہاں محفوظ ہو سکتی ہیں ” باہر چلانے والوں کی آوازیں صاف سنائی دے رہیں تھیں ارتضی نے ایک غصیلی نظر حیا ہر ڈالی جو بری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی ایک پتھر کھڑکی دوبارہ اندر آ کر گرا تھا ۔۔۔ رومان ڈر کے پیچھے ہٹا تھا

ارتضی غصے سے گیٹ کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔ لیکن رومان نے ہاتھ پکڑ لیا

“نہیں بابا آپ باہر نہیں جائیں گئے ۔۔۔ وہ لوگ مار ڈالیں گئے آپ کو “رومان رونے لگا تھا ۔۔۔۔ حیا کا رنگ فق ہوا تھا ایسا کب کہیں دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا اگر وہ اندر آ جاتے تو نا جانے کیا کچھ کر بیٹھتے ۔۔۔

” ہاں مار ڈالیں ۔۔ لیکن میں چھپ کر ۔ بیٹھ نہیں سکتا ” ارتضی پھر سے مین گیٹ کی طرف۔ بڑھا تھا

“بابا آپ کو میری قسم ہے ” رومان نے روتے ہوئے کہا

ارتضی کے قدم وہیں رکے تھے ۔۔۔ رومان میں تو جان بستی تھی اسکی ۔۔۔ وہ قہر برساتی نظروں سے حیا کو دیکھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا باہر کا مین گیٹ لوہے کا تھا اور اندر کا لکڑی کا اس لئے لوگوں نے شور تو بہت مچایا لیکن اندر داخل نہیں ہوئے دو گھنٹے کے شور شرابے کے بعد سب ہی جا چکے تھے رومان کا رو رو کے برا حال تھا حیا کو شرمندگی نے آن گھیرا تھا ۔۔۔۔ چپ چپ سی تھی ۔۔۔

ارتضی نے وہاج کو کال کر کے ساری صورت حال سے آگاہ کیا

” یہ تو بہت برا ہوا ہے ۔۔ تم فکر مت کروں میں فجر کے وقت آؤں گا تمہارے پاس بس اپنے اور رومان کے کپڑے پیک کر لینا ۔۔۔ “

“وہ کیوں “

“سمجھوں ارتضی فی الحال یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے تم پر حملہ آج نہیں ہوا تو کل ہو بھی سکتا ہے ۔۔۔ میں تمہارا انتظام کر چکا ہوں ۔۔۔ “

” تم چاہتے ہو میں چوروں کی طرح چھپ کر بیٹھ جاؤں ۔۔۔ کیوں وہاج جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو میں کیوں چھپوں “

“دیکھوں تمہیں ساری زندگی کے لئے روپوش ہونے کے لئے نہیں کہہ رہا اس وقت لوگ اشتعال۔میں ہیں تمہاری ایک نہیں سنے گئے بس مار پیٹ ہی کریں گئے ۔۔۔ ہم سچائی سامنے لائیں گئے مگر ابھی کوئی نہیں سنے گا ۔۔۔ ” وہاج اسے مسلسل سمجھا رہا تھا

کافی دیر اسے بات کر کے ارتضی نے فون بند کر دیا

کل سے کچھ نہیں کھایا تھا اور ابھی بھی لگ رہا تھا کہ بھوک مر چکی ہے لیکن رومان کی فکر تھی پتہ نہیں اس نے کل سے کیسے گزارا کیا ہو گا ۔۔۔ ارتضی کمرے سے نکل کر کچن میں آگیا ۔۔۔ اپنے اور رومان کے لئے ناشتہ بنا کر ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔ رومان چپ چاپ آ کر بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا بس ایک حیا سامنے بیٹھی دیکھ رہی تھی وہ دونوں ہی ایسے لا تعلق بیٹھے تھے جیسے حیا موجود ہی نا ہو ۔۔۔حیا اپنی جگہ پریشان تھی نا کبھی چائے بنائی تھی نا ہی کچھ بنانا آتا تھا ۔۔۔ کچن کی طرف تو کبھی رخ ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔ اور یہاں کوئی ملازم نہیں تھا جو اسکی خدمت گزاری کے کے لئے حاضر رہتا ۔۔ اس لئے خود ہی اٹھ کر کچن میں آ گئ ۔۔۔ کچھ بھی سمجھ کی کرے کیا نا کرے ۔۔۔ پہلے تو فریج سے دودھ کا پیک نکالا رات کو بھی دو گلاس دودھ کے ہی لیے تھے اس اسوقت دودھ پینے کا بلکل موڈ نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے واپس فریج میں رکھ دیا ۔۔۔ اپنی حالت پر رونا آ رہا تھا ۔۔۔ سب کچھ موجود تھا انڈے بریڈ دودھ لیکن بنانا کچھ نہیں آتا تھا ۔۔۔ اس لئے پانی کے دو گلاس پی کر رومان کے کمرے میں چلی گئ ارتضی کے چہرے پر جو خطرناک تاثرات تھے اسکی تاب نا لا پا رہی تھی کیا خبر اسے سچ میں مار نا ڈالے جتنے وہ غصے سے اسے گھور گھور کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ارتضی کچن میں دوپہر کے لنچ کے لئے کچھ بنانے میں مصروف ہو گیا تھا ۔۔ جب رومان اپنے کمرے ۔میں داخل ہوا حیا رونے میں مصروف تھی ۔۔ پہلے تو رومان نے سوچا کے اپنی کتابیں اٹھائے اور باہر چلا جائے لیکن پھر اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا

” آپ رو کیوں رہی ہیں “

” مجھے بھوک لگی ہے “

“تو اس میں رونے کی کیا بات ہے ۔۔ جو کھانا ہے کچن میں جا کر بنا لیں “

“کیا بناؤں مجھے کچھ بنانا نہیں آتا ۔۔۔ “

” کیا مطلب ۔۔۔ کیا چائے بھی بنانی نہیں آتی ؟” رومان نے حیرت سے پوچھا حیا نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا

” یہ تو سب کو آتی ہے ۔۔۔ میں گیارہ سال کا ہوں ۔مجھے بھی آتی ہے “

“میں نے کبھی نہیں بنائی ۔۔۔ گھر میں سب ملازم ہیں کام کے لئے ” حیا نے آنسوں صاف کر کے کہا

“بہت امیر ہیں آپ ؟”رومان نے تعجب سے پوچھا

“ہاں ۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔ دس تو نوکر ہیں گھر میں ۔۔۔ دو کک ہیں پھر آیا،الگ ہے جو صرف میرے ہی کام کرتی ہیں “”

” تو پھر بابا سے شادی کیوں کی ؟ یہاں تو ہم ایک نوکر رکھنا بھی افورڈ نہیں کر سکتے ۔۔۔؟

“پلیز مجھے ایک کپ چائے بنا دو ۔۔۔ بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے ” حیا نے موضوع بدلہ تھا

” ٹھیک ہے بنا دیتا ہوں ” رومان کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے

“تھینکس ” حیا نے جیسے بات ختم کی تھی

رومان کچن میں آیاتو ارتضی پیاز کاٹ رہا تھا

“رومان شام تک اپنے کپڑے اور کتابیں ایک لگیج میں ڈال لینا “

“کیوں بابا ؟ چائے کی کیتلی اسٹو پر رکھتے ہوئے رومان نے پوچھا

“کہیں جانا ہے ہم نے ۔۔۔ اور یہ تم کیا کر رہے ہو ” اسے کیتلی میں چائے کی پتی ڈالتے دیکھ کر پوچھا

“وہ جو وہ ہے نا حیا آنٹی ان کے لئے چائے بنا رہا ہوں ۔۔”

“کیوں تم کیوں بنا رہے رہو “ارتضی کے ہاتھ کٹنگ بورڈ پر رکے تھے

” اس لئے کہ انہیں چائے تک بنانی نہیں آتی ۔۔۔ حالانکہ سب سے سمپل ہوتی ہے مجھے لگا تھا نئ ممی آئیں۔ گئیں۔ تو میرے کاموں کی چھٹی ہو جائے گی لیکن یہاں تو لگ رہا ہے انہیں بھی خود ہی پالنا پڑے گا “رومان کی بات پر وہ ہتھے سے اکھڑ آ تھا

“رومان جسٹ کیپ کوائٹ۔۔۔ نہیں ہے وہ تمہاری کچھ بھی نا تمہیں ضرورت ہے اس سے ایسے کسی رشتے کو جوڑنے کی ” ارتضی کے سخت لہجے پر وہ چپ ہو گیا چائے بنا کر بسکٹ ٹرے میں رکھ کچن سے چلا گیا ۔۔۔۔

*****……

” آرء یہ کیا بک رہی ہے تو ہوش میں تو ہے ” جہان بیگم نے آنکھیں پھاڑے اسے گھوراتھا

” اماں وہ ۔۔۔ محبت کرتا ہے مجھ سے “آرء نے ہچکچاتے ہوئے کہا

” اس کنگلے کو میں نے دوبارہ اپنے کوٹھے پر دیکھا تو دیکھ کیا حاشر کرتی ہوں اس کا ۔۔۔ خالی جیب چار جمعلے بول کر موفت میں محبت کرنے کے جہان کو سمجھ نہیں آتے ” اپنا دان کھولے وہ بولی

“اماں وہ میرا گاہک ناہی ہے ۔۔۔ “

“تو کا ہے ” پان دان کو چھوڑے جہاں بیگم نے آرء کو گھورا

“وہ محبت کرتا ہے مجھ سے ۔۔ اور ۔میں۔ بھی “آرء نے نظریں جھکا کر اعتراف کیا تھاجہان بیگم کو حیرت نہیں ہوئی تھی

“دیکھ آرء تجھے آخری بار سمجھا رہی ہوں ۔۔۔ اب اگر وہ مولوی کا بچہ یہاں آیا تو تیری بھی چٹیا کھنچ لوں گی

” اماں میں نے بچن سے تیری کوئی بات نہیں ٹالی ۔۔۔ تو نے جو کہا میں نے وہی کیا ۔۔ جہاں کہا میں چلی گئ جیسے چاہا ویسا ہی کیا ۔۔ “

“تو نیا کیا تو نے ساری چھوریاں ایسا ہی کرتی ہیں “

“میری اپنی بھی تو کوئی جندگی ہے اماں ۔۔۔”

“ناہی ہے تیری کو جندگی یہاں رہنے والوں کی کوئی جندگی ناہی ہے ۔۔ “

“اماں بس تو ۔میری ایک بات مان لے ۔۔۔مجھے میری جندگی میں سے ایک مہینہ دیدے اماں ۔۔۔ تیری قسم اس کے بعد جیسا کہے گی کروں گی کبھی کچھ ناہی مانگوں گی

“مطلب کا ہے تیرا ٫” نور جہاں نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا تھا

“مجھے عبداالباسط سے نکاح کرنے دے ۔۔۔ ایک مہینہ میں اسکے ساتھ رہوں گی پھر لوٹ آؤں گی پھر کبھی نام نہیں لوں گی اس کا ۔۔۔ “

“کتنے پیسے دے گا وہ ایک مہینے کے ؟ جہان بیگم کو یہی فکر ستائی تھی

” کچھ ناہی ہے اس کے پاس بس عجت دے گا “

” موفت میں رہے گی اس کے ساتھ ” نور جہاں نے تاسف سے پوچھا بیٹی کی عقل پر ماتم کر ے کو جی چاہا تھا

“نہیں نکاح کرے گا مجھ سے ۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے اماں کہ ایک عام عورت کی جندگی کیسی ہوتی ہے ۔۔۔ بس ایک خوب سمجھ لے میرا ۔۔۔ اماں تیری قسم کچھ ناہی مانگوں گی تجھ سے اس کے بعد”

” اس بات کا کیا بھروسہ کہ تو واپس آ جائے گی”

“اماں تیری قسم کھائی ہے “آرء نے ہاتھ جہان کے سر پر رکھا جہان بیگم نے پیچھے جھٹک دیا

“میری قسم کاہے کھارہی ہے ۔۔ میرے مرنے پر تو ایک آنسوں ناہی بہائےگی تو۔۔ جانتی ہوں میں ۔۔۔ اس چھورے کی کھا اسکی محبت کی جوت تیری آنکھوں میں کب سے جلتی دیکھ رہی ہوں میں ۔۔۔۔ “

“اماں میں سچ کہہ رہی ہوں واپس آ جاؤں گی “

” چل ٹھیک ہے ۔۔۔ وہ مووا ڈاریکٹر بھی کم بخت مر کھپا گیا ہے کہیں ۔۔۔۔ مہینہ بھر گجر(گزر) گیا پلٹ کر ناہی آیا “جہاں بیگم کو علی ہمزہ کے نا آنے کا قلق تھا

“اماں عبداالباسط جمعے کو آئے گا مجھ سے نکاح کرنے “

“دیکھ آرء پہلے وعدہ لوں گی تجھ سے بھی اور اس سے بھی” جہان بیگم پان دان سے پان کا پتہ اٹھا کر اس پر کتھا چونا لگانے لگی ۔۔۔

“ٹھیک ہے اماں جو چاہے قسم لے لینا ۔۔ اماں تو بڑی اچھی ہے بڑی پیاری ہے ۔۔۔ ” آرء جہان کے گلے پر بازو پھیلا کر بولی

” اپنی بات پر قائم رہنا آرء واپس آ کر تووہی کرے گی جو میں کہوں گی “

“ٹھیک ہے اماں ” اس وقت تو آرء کو ہر بات منظور تھی دل میں بس ایک امنگ تھی عبداالباسط کے ساتھ عزت کے لمحات گزارنا یہ دیکھنا کہ عام سی زندگی ہوتی کیسی ہے ۔۔۔ نکاح کیا ہوتا ہے ۔۔۔ ایک عورت کے لئے یہ احساس کیسا ہوتا ہے ایک مرد کے ساتھ ایک میاں بیوی والا رشتہ کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

وہ خوش تھی بے انتہا خوش تھی ۔۔۔ لگ رہا کہ ایک مہینے کے بجائے جہان بیگم نے اسے ساری عمر کی آزادی دیدی ہو

*****……

علی ہمزہ کی آنکھ اس وقت کھلی جب اسے لگا کہ اسے کوئی بری طرح سے نوچ رہا ہے ۔۔۔ خون کی بو سونگھ کر چیل کوئے اسی کو گھیرے ہوئے تھے ۔۔ سمجھ رہے تھے کہ کوئی مرداد ہے ۔۔۔

علی ہمزہ کو ہائی پاور کے نشے ٹیکے لگائے گئے تھے اسے بہت دیر بعد ہوش آیا تھا عصر مغرب کے بیچ

عبداالباسط نے اسے اچھا خاصا زخمی کر دیا تھا اور رہی سہی کسر پرندوں نے کھانے کے چکر پوری کر دی تھی ۔۔۔ وہ اٹھ بیٹھا بڑی مشکل سے پرندوں سے آپ ی جسم چھڑائی ۔۔۔۔ تھی ۔۔۔ سرخاب بھی چکرا رہا تھا پیاسسے گلا خوش تھا ۔۔۔ یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کس راستے کو اپنائے تو ابادی کی طرف پہنچے گا ۔۔۔۔ پھر تم پر لباس بھی موجود نہیں تھا اس لئے کناروں پر گھنے درختوں کے رستے کو اپنایا تھا ایک گھنٹہ بھاگتا رہا سانس دم ایک ہو گیا تھا تب کچھ روشنیاں نظر آنی شروع ہوئیں ۔۔۔

سامنے مین روڈ پر پہنچ کر وہ گاڑی کے سامنے ہی آتے ہی گر کر بے ہوش ہو گیا کسی نے اٹھا کر ہوسپٹل منتقل کر دیا دو دن بعد اسے ہوش آیا اور تو اس نے اپنے گھر رابطہ کیا ۔۔۔ پندرہ دن تک وہ زیر علاج رہا ۔۔۔ لیکن فلم کے خیال کو پوس پون کر دیا ۔۔۔

******……

زوبیہ بیگم کا رو رو کر برا حال ہو چکا تھاسلیمان اپنی جگہ پریشان تھے ۔۔۔ ایسا قدم بیٹی اٹھا چکی تھی کی جگ رسوائی میں کوئی کسر ۔نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔ ارسل واپس امریکہ چلا گیا تھا حیا کو کسی طور قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا ۔۔۔۔

اس کا کہنا یہ تھا ایک ایسی لڑکی جس کا میڈیا میں اس قسم اسکینڈل بن گیا ہو وہ اسے اپنی بیوی کے طور پر سب سے متعارف نہیں کروائے گا ۔۔۔ بہت سے لوگوں کی چلتی زبانوں کو مزید موقع مل گیا تھا ۔۔۔۔ کہ عورتوں کی مہم چلانے والی زوبیہ سلیمان جو عورتوں کو شوہر سے ایک تھپڑ کھانے پر عدالت کی راہ دیکھتی ہے ۔۔۔ اسکی بیٹی نے اپنے لئے انصاف کے لئے ناعدالت کو زحمت دی تھی ۔۔۔ نا ہی کسی لیگل ادارے کو ۔۔۔بلکہ اسی سے نکاح کر کے چلتی بنی تھی جس پر ریپ کا الزام لگایا تھا ۔۔۔ انکے سرکل کے لوگوں کے لئے گرم موضوع آجکل حیا سلیمان تھا ۔۔۔

کہنے والوں نے یہ بھی کہا کہ لڑکی نے شاید شادی اسی سے کرنی تھی۔۔۔۔ ماں باپ شاید انکار کر دیتے اس لئے ڈرامہ رچا کر شادی کر لی ۔۔۔ ورنہ ایسے شخص کے ساتھ کون سی لڑکی رہ سکتی ہے جس نے ایسی گھنونی حرکت کی ہو ۔۔۔۔ سلیمان نے آفس جانا ترک کر دیا تھا اور زوبیہ بیگم کی سوشل ورکنگ بند ہو رہ گئ تھی عزت خاک میں مل گئ تھی۔۔۔۔ کسی ملاقاتی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی اپنے ہی گھر میں بند ہو کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔

حیا سے انہیں پرخاش تھی کیوں نکاح کیا اس نے ۔۔۔ کیس کرنے سے انکار کیوں کیا ۔۔۔ لیکن بے بس تھے ۔۔۔۔

*******…….

رات کے چار بجے وہاج پہنچ چکا تھا ۔۔۔ ارتضی اور رومی تیار تھے ۔۔۔ حیا سے رومان نے ہی کہا تھا وہ چار بجے تک تیار رہے ۔۔۔۔

رومان سے اس۔ نے بہت بار پوچھا کہ کیوں تیار رہے کہا۔ جانا ہے۔۔۔ لیکن جب اس نے کہا ارتضی نے کہا ہے تو چپ ہو گئ ۔۔۔

رات کے اندھیرے میں وہ گھر سے نکلے تھے ۔۔۔۔ گاڑی مری کی طرف گامزن تھی مگر مین مری سے ہٹ کر کسی دوسرے راستے کی طرف چل رہی تھی دو گھنٹے بعد ایک سنسان سی جگہ پر ایک کواٹج تھا ۔۔۔ جہاں وہاج نے گاڑی روکی تھی ۔۔۔۔

اور چابی ارتضی کو پکڑائی تھی ۔۔۔

فی الحال یہاں تم سیو رہوں گئے ۔۔۔ چند دن میں یہی کسی مقامی سے میں تمہیں گاڑی کا۔ تظذم بھی کروا دوں گا ۔۔۔۔۔ وہاں پہنچتے پہنچے دن کی روشنی شروع ہو چکی تھی رومان اور حیا پیچھے بیٹھے تھے ۔۔۔ گاڑی سے اترے ہی تھے وہاج واپس چلا گیا ۔۔۔ ارتضی نے پہاڑ کے بیچوں بیچ بنی سیڑیاں دیکھیں وہ کاٹج پہاڑ کو پر بنا کو کاٹ کر بنایا گیا تھا چند سیڑیاں اتر کر اس نے پیچھے آتے رومان کا ہاتھ پکڑا تھا کیوں بنا سہارے کے رومان سے اترنا مشکل تھا ۔۔۔۔ اور حیا اس سے بھی زیادہ نازک مزاج تھی۔۔۔ آخری سیڑھی پر کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ نیچے کیسے اترے ۔۔۔ آڑے پہاڑی راستے پر بنا سہارے چلنا دشوار تھا

” کیا کروں میں کیسے اترو ۔۔۔۔ کب سوچا کہ یہ سب بھی زندگی میں ہونا باقی ہے ۔۔۔۔

ارتضی کالج نما گھر کے پاس پہنچ کر دروازہ کھولنے لگا رومان نے پلٹ کر دیکھا تو حیا وہیں کھڑی تھی ۔۔۔

“آنٹی جلدی آئیں۔۔۔۔ یہیں کھڑی رہیں گی کیا ؟ رومان نے بلند آواز سے کہا

” کیسے آؤں بنا سہارے کیسے اترو یہاں سے “حیا رو دینے کو تھی ۔۔۔

لیکن ارتضی نے ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی گھر کے اندر داخل ہو گیا سارے جالے میںگیٹ سے ہی شروع ہوئے تھے ۔۔۔ کافی عرصے سے بند تھا شاید ہاتھ سے اس نے کالے پیچھے کیے۔۔۔۔ فرنیچر پر سفید چادریں ڈلی ہوئیں تھیں۔۔۔۔ پورا گھر مٹی سے اڑا ہوا تھا رومان تیز قدموں سے اندر بڑھا تھا ۔۔۔ ارتضی صوفوں پر ڈلی چادریں ہٹا رہا تھا

” بابا وہ آنٹی گھبرا رہیں ہیں انہیں نیچے تو اتار دیں “

“خود ہی آ جائے گی ۔۔۔۔ گرے گی تب ہی احساس ہو گا کہ صحیح کیسے چلنا ہے ۔۔۔ ۔۔ میں تو ہر گز سہارا نہیں دونگا اسے

“بابا سیدھا نیچے کھائی میں جائیں گئ ۔۔۔ “رومان پریشان ہوا تھا

” یہ تو اور بھی اچھا ہے ۔۔۔ جان چھٹے گی میری “وہ ساتھ ساتھ سامان پر بچھی چادریں ہٹا رہا تھا اور ساتھ ساتھ بڑے مطمئن انداز سے رومان سے کہہ رہا تھا

“ٹھیک پھر چلا جاتا ہوں ۔۔۔ ” رومان باہر کی طرف لپکا

“رومی ۔۔ واپس آؤں یہاں “

“بابا آپ نہیں جائیں گئے تو میں ضرور جاؤں گا “

“بڑی ہمدردی ہو رہی ہے تمہیں اس سے ۔۔۔ بیٹھوں یہاں ۔۔۔ جاتا ہوں میں ۔۔۔ رومان کو گھورے ہوئے وہ باہر نکل گیا حیا میڈیم وہیں آخری سیڑھی پر کھڑی رو رہی تھی ۔۔۔ ارتضی نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا ۔۔۔

جلدی سے حیا نے اس کا ہاتھ تھاما تھا بڑی احتیاط سے نیچے اتری تھی رستہ ہموار ہوتے ہی اس نے اپنا ہاتھ کھنچ کر حیا کے ہاتھ سے الگ کیا تھا ۔۔۔

مگر کاٹج میں داخل ہوتے ہی مٹی اس کی ناک پر پڑی تھی چھنکیں فورا سے شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔

اتنی دھول مٹی کی اسے عادت ہی کہاں تھی