Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 19
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 19
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
دو گھنٹے ویٹنگ روم میں بیٹھنے کے بعد ڈاکٹر نے اسے اپنے کی ن میں بلایا تھا
” مے آئی کم ان “ارتضی نے پہلے اجازت طلب کی
” او یس مسٹر ارتضی کم ان ” ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولی وہ اندر آگیا “
“پلیز بیٹھے ” ڈاکٹر نے بیٹھنے کا اشارہ دیا تو وہ بیٹھ گئ
” آپ کی وائف کا بی پی ہی لو تھا “
” میں نے پہلے ہی آپ سے کہا تھا کہ ڈائیریا کی وجہ سے بی پی لو ہو گیا ہو گا لیکن آپ نے ۔۔۔” ارتضی نے بات منہ میں دبا لی ۔۔۔۔ خوامخواہ میں اسکے دو ہزار لگوا دیے تھے
” او نو مسٹر ارتضی ڈائیریا نہیں ۔۔ شی از expactive ۔۔۔”
“واٹ ” ارتضی سن کر دنگ ہوا تھا غیر متوقع سی بات تھی ۔۔۔ بے یقینی سے وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا
” آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے ” برجستہ ارتضی کے منہ سے نکلا تھا
” کیوں مسٹر ارتضی ۔۔۔ غلط فہمی کیسی یہ کوئی انہونی بات۔تو نہیں ہے ۔۔۔ یہ ان کی رپورٹس ہیں ہوش انہیں آ چکا ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ڈرپ ختم ہو جائے گی آپ انہیں اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں ۔۔۔میں یہ کچھ میڈسن لکھ کر دے رہی ہوں ۔۔۔ یہ انہیں باقاعدگی سے کھلائے گا ” ڈاکٹر نے ایک سلپ اسکی طرف بڑھا دی ارتضی نے رپورٹس اورسلپ ڈاکٹر کے ہاتھ سے لی
ارتضی نے رپورٹس کھول کر دیکھیں ۔۔۔۔ جو لگ رہا تھا کہ اس کا مزاق اڑا رہیں ہیں ۔۔ ہنس رہیں ہے اس پر کہ دیکھوں ارتضی کیسا آلو بنایا ہے تمہیں اس لڑکی نے ۔۔۔۔۔ ارتضی جا کر واپس ویٹنگ روم میں بیٹھ گیا ۔۔۔
حیا کا مجھ پر الزام لگانا یہ معمولی سی شرط نہیں تھی ۔۔یہ بات میں نے پہلے کیوں نہیں سوچیں کوئی لڑکی کتنی۔ بھی بیوقوف ہو ایک شرط یا بدلے کے لئے ایسا گھٹیا الزام لگانے کے لئے خود اس طرح سے بد نام نہیں کر سکتی ۔۔۔ کسی اور کا گناہ میرے نام کرنا چاہتی تھی وہ ۔۔۔۔ پھر یک دم سے ارسل کا چہرہ اسکی آنکھوں میں گھومنے لگا ہوٹل کے کمرے سے حیا کا نکلنا ارسل کا اسکے پیچھے بھاگنا ۔۔ کچھ تو ہوا ہو گا ۔۔۔ بلکہ یقینا ۔۔۔ ایسا ہی ہوا تھا اس دن ۔۔۔ اگر ایسا کوئی گناہ کیا بھی تھا تو اسکے منگتر نے اسے کیوں نہیں اپنایا ۔۔۔۔ شاید انکار کر دیا ہو گا صرف اپنا مطلب پورا کرنا چاہ رہا ہو گا جو وہ کر چکا تھا ۔۔ حیا اسکے بعد سے کلاس میں چپ چپ سی رہنے لگی تھی اور اسکے۔ بعد ہی میری ذرا سی پنش پر تماشہ بنانا ۔۔۔ یہ بھی شاید اسی کھیل کا حصہ تھا تا کہ کالج میں سب کو یہ لگے کہ حیا نے اپنے اثرو رسوخ کے ذریعے مجھ معافی منگوائی ہے اس لئے میں نے یہ سب اسکے ساتھ کیا ۔۔۔ اففف” کرسی پر۔ بیٹھاے دونوں ہاتھوں سے اس نے اپنے سر کو تھاما ۔۔۔ کئ آنسوں اسکے رخسار پر گرے تھے ۔۔۔۔ ذرا سی لڑکی نے کس چالاکی سے سارا کھیل کھیلا ہے میرے ساتھ ۔۔۔ میں ہی ملا تھا اسے ۔۔۔۔ لیکن اب نہیں چھوڑو گا اسے۔۔۔ وہ حال کروں گا کہ پناہ مانگے گی مجھ سے ۔۔۔۔
” ارتضی آپ کا نام ہے ” ایک نرس نے ویٹنگ روم میں آکر اس سے پوچھا
“جی “
” حیا آپ ہی کی وائف ہیں ” نرس کے اس سوال پر اسے تاؤ سا آنے لگا
” جی کہیے “
“انکی ڈرپ ختم ہوچکی ہے اب وہ ٹھیک ہیں آپ انہیں لے جا سکتے ہیں ” نرس یہ کہہ کر۔ چلی گئ ۔۔ وہ مرے مرے قدم اٹھاتا ایمرجنسی وارڈ میں پہنچا تھا جہاں وہ اٹھ کر بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ لیکن چہرہ ستا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔ مجبورا ہی سہی لیکن اسے سہارا ارتضی کو ہی دینا پڑا ۔۔۔۔ پورے راستے اپنا ضبط آزماتا رہا لیکن کمرے میں جا کر سارے ضبط ٹوٹ چکے تھے ۔۔۔۔
******…….
جازم بس میں بیٹھا سو چکا تھا
” راجن پور آگیا جو مسافر اترنا۔چاہتے ہی۔ وہ اتر سکتے ہیں بس صرف پانچ منٹ رکے گئ ” کنڈیکٹر نے بلند آواز سے ہانک لگائی راجن پور کے نام سے جازم چونک کر اٹھا تھا ۔۔۔۔ جلدی سے اپنا بیگ کندھے پر لٹکایا اور بس سے نیچے اتر گیا ۔۔۔ ٹانگے پر بیٹھ کر سیدھا مدرسے کے سامنے جا کر رکا تھا ۔۔۔
” اترو جی باشاہوں آگیا تہاڑا مدرسہ ۔۔۔۔ میں تاں اکھایا سی کے پورے راجن پور چے ایہو مدرسہ مشور اے ” ٹانگے والے نے خوش ہو کر بتایا جازم نیچے اتر گیا ۔۔۔
” میرے دو منڈے وی ایس مدرسے چے حفظ کردے پی ایں” جازم نے اسے پیسے دیئے مدرسہ کافی اچھا بنا ہوا تھا کافی بڑی جگہ تھی ۔۔۔ اوپر سامنے بڑا سا مدینہ مسجد اور مدرسہ لکھا ہوا تھا تین منزلہ عمارت تھی گراؤنڈ پر صرف مسجد تھی اور نمازی صرف نماز پڑھنے ہی آتے تھے ۔۔۔ لیکن باقی کی تین منزلہ عمارت صرف مدرسے کے لئے مخصوص تھی۔۔۔۔ باہر بیٹھے چوکیدار سے جازم نے پوچھا
” مجھے عبداالباسط سے ملنا ہے “
” اچھا اچھا مولوی صاحب سے ملنا ہے ۔۔۔ اس وقت تو ناظرے کی کلاس ہے آپ یہاں سے اوپر چلے جائیں اوپر سیڑیاں چڑھتے ہی سامنے انکا دفتر ہے ۔۔۔ باؤ جی جوتے پہن کر اوپر جانے کی اجازت نہیں ہے ادھر ہی اتار دو ” جازم نے جوتے اتار دیںے سائیڈ سے سیڑیاں چڑھ کر اوپر پہنچا
ایک شخص کی تلاوت کی آواز سن کر جیسے قدم رکے تھے ۔۔۔ بڑی خوش الحانی سے قرآن پاک کی تلاوت کی جا رہی تھی آواز میں جیسے کچھ ایسا لطف تھا کہ بندہ سنتا رہے ۔۔۔ قدم دفتر کے بجائے اس طرف اٹھنے لگے جہاں سے آواز آ رہی تھی لمبی سی راہداری تھی اطراف میں کمرے بنے ہوئے تھے۔۔۔
تیسرے کمرے میں وہ شخص جو کوئی تھی اپنی تلاوت سے وجد کر دینےکی طاقت رکھتا تھا۔۔۔ وہ بزرگ آنکھیں بند کیے سورت الرحمن تلاوت فرما رہے رہے تھے ۔۔۔ اور سامنے بیٹھے چودہ سالہ بہت سے لڑکے آنکھیں بند کیے ان آیات میں جیسے کھوئے ہوئے تھے آواز تھی کہ دل کو تڑپا رہی تھی ایک اضطراری سی کیفیت جازم پر بھی طاری سی ہونے لگی تھی ۔۔۔ وہ اندر داخل ہو چلتا ہوا آکر انکے سامنے دو زانے بیٹھ گیا جیسے وہ بیٹھے تھے ۔۔۔ پہلے ان کے صبیح اور پرنور چہرے کو دیکھنے لگا حالانکہ رنگت سرخ و سفید نہیں تھی بس رنگ صاف رنگ تھا پیشانی پر سجدے کا بڑا گہرا نشان تھا ۔۔۔ چہرے پر داڑھی تھی لیکن بلکل سفید نہیں تھی کہیں کہیں سفید اور کہیں کالے بال اور باقی گرے رنگ کے لگ رہے تھے عمر پچاس سے کچھ اوپر تھی۔۔۔ چہرہ مطمئین تھا لیکن لگتا تھا کہ درد ہے آواز میں ۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں جاری تھے ۔۔۔۔ سفید شلوار قمیض پہنی تھی لیکن کلف شدہ نہیں تھی سر پر سادی ٹوپی تھی انداز عاجزانہ تھا سر جھکا ہوا تھا
سورت الرحمن کی شروع کی آیات تھیں ۔۔۔۔ جیسے جیسے وہ اگلی آیت پڑھتے آواز میں نمی کا اثر بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ آنسوں تیزی سے گر رہے تھے ۔۔
“فبای آلا ربکما تکذبان “
پر ہر دفعہ انکے ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔۔۔ جازم اپنی کیفیت سنبھال نہیں پا رہا تھا دل کی دھڑکنیں تیزی سے چلنے لگیں تھیں ۔۔۔ آنسوں آنکھوں سے بہنے لگے تھے جب تک سورت ختم ہوئی تھی وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔۔۔۔ وہاں بیٹھے تمام شاگردوں کا یہی حال تھا ۔۔۔۔
سامنے بزرگ نے پہلے بند آنکھوں سے ہاتھ اٹھا کر دعا کی
” اے اللہ میں تیرا گناہگار بندہ ہوں ایک ایسی خاک سے بنا ہوا جسے خاک میں ہی مل کر خاک بن جانا ہے میرا وجود صرف مٹی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔ نا میں اپنی پیدائش پر قدرت رکھتا تھا نا موت پر کوئی اختیار ہے
تو جسے چاہے اس کے سینے کو اپنے کلام کے لئے چن لے جسے چاہے اسکی آواز کو پسند کر لے ۔۔۔
بس میرے بچوں کے سینوں کو کھول دے میرے مالک ۔۔۔ اپنے کلام کو انکی زبانوں پر جاری کرنے کے ساتھ ساتھ انکے سینوں میں بھی محفوظ کر ر دے
اپنے کلام کے نور سے انکی اعمال اور انکی زندگیوں کو منور کر دے صراطِ مستقیم پر چلا دے یہ سیدھا راستہ ہے لیکن ہماری بد اعمالیوں نے اسے بے حد مشکل کر دیا ہے میرے اللہ ہماری سیاہ کاریوں کی کوئی حد نہیں لیکن تو رحمان ہے اپنی رحمانت میں یکتا ہے ۔۔۔ اپنے فضل سے ہمیں قبول کر لے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین” روتے ہوئے دعا مکمل کر کے جب اس نے بزرگ کے اپنے آنسوں پونچتے ہوئے آنکھیں کھولیں
سامنے ایک اجنبی کو سیاہ رنگ کی پینٹ شرٹ میں دیکھ کر تیوری چڑھائی تھی لیکن وہ بڑے ادب سے دو زانے بیٹھا ۔آنسوں بہا رہا ہچکیوں سے رو رہا تھا بزرگ نے گلا کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ۔۔۔۔ جازم کی کیفیت بدلی تھی جیسے اپنے وژن سے باہر نکلا تھا آنکھیں کھولیں تو ڈبڈبائی آنکھوں سے سامنے بیٹھے بزرگ کو اپنی طرف متوجہ پا کر آنسوں صاف کیے
” کون ہو تم “
“مجھے عبداالباسط سے ملنا تھا لیکن آپکی تلاوت سنی تو دل کی بے اختیاری ادھر لے آئی ماشا اللہ سے آواز بہت اچھی ہے آپکی تلاوت سیدھی دل پر اثر کرتی ہے ” جازم نے صاف گوئی سے کہا
” اللہ کا کلام ہی ایسا ہے کے دلوں کو پلٹ دیتا ہے ورنہ میری حیثیت اور اوقات بہت معمولی سی ہے ۔۔۔ چلو میرے ساتھ یہاں بچوں کا دھان بٹے گا ” انکا بڑا بے تکلفانہ انداز تھا ۔۔۔ جازم اٹھ کر کھڑا ہو گیا پھر بچوں کی طرف دیکھا
“بچوں میں قاری صاحب کو بھیج رہا ہوں روز روز میں نہیں آؤں گا تم لوگوں کو پڑھانے ۔۔۔ آج تو تم لوگوں نے فرمائش کی تو مان لی ۔۔ اب اپنے قاری صاحب تو تنگ بلکل مت کرنا ۔۔۔ سمجھے !بچوں کو پیار بھری سرزش کی سارے بچے یک زبان ہو کر بولے
” جی استاد صاحب “
” چلوں میاں دفتر میں جا کر بات کرتے ہیں “بچوں کے بعد وہ جازم کی طرف متوجہ ہو کر بولے
دونوں ہی باہر نکل کر چند قدم کے فاصلے پر بنے مین آفس میں پہنچ گئے ۔۔۔ وہ بزرگ خود سامنے کی کرسی پر بیٹھ گئے اور جازم کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بھی سامنے بیٹھ گیا
“جی تو اب فرمائیے کیا کام ہے آپ کو مجھ سے ” انکی بات پر جازم نے تردید کی
” جی نہیں مجھے آپ سے نہیں عبداالباسط سے ملنا ہے ” جازم نے دوبارہ نام دہرایا تو وہ بزرگ مبہم سا مسکرائے تھے
“میں ہی مولوی عبد الباسط ہوں کہیے بیٹا کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ” یہ سن کر جازم انہیں بس دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔۔۔ جیسے لفظ ختم تھے ۔۔۔ وہ تو بڑے سوال سینے میں لئے آیا تھا ۔۔۔
کہ پوچھے گا اپنے باپ سے کہ میرا کیا قصور تھا مجھے جب پال یا سنبھال نہیں سکتے تھے تو دنیا میں لانے کا سبب کیوں بنے لڑنے آیاجواب طلبی لینے آیا مگر اب چپ تھا خاموش تھا
” مجھے لگتا ہے ہارون الرشید نے بھیجا ہے تمہیں “عبداالباسط نے اسے یوں چپ دیکھ کر پوچھا جازم حیرت زدہ ہوا تھا وہ ہارون الرشید کو بھی جانتے تھے
” آپ جانتے ہیں انہیں “
” ہاں بھئ میں نے اسی سے کہا تھا کہ ایک اردو انگریزی پڑھانے کے لئے کسی استاد کا انتظام کر دے
ابھی کچھ دیر پہلے ہی فون پر اس نے کہا کہ بس پہنچتا ہی ہو گا ۔۔۔ ” وہ کسی اور ہارون الرشید کی بات کر رہے تھے
“نہیں مجھے انہوں نے نہیں بھیجا ۔۔۔ لیکن آپکے مدرسے میں پڑھانا چاہوں گا ” وہاں رکنے کا ایک بہانہ جازم کو مل گیا تھا وہ انہیں سچ بتانے سے پہلے انہیں سمجھنا چاہتا تھا ۔۔۔ یہاں آنے پہلے کی خواہش صرف اپنے ساتھ کی گئ ذیادتی کی باز پرست تھی لیکن آنے کے بعد جیسے دل کی دنیا بدلی تھی سوچ کا رخ بدلہ تھا ۔۔۔۔
ایک ایسا شخص جو قرآن کریم کی تلاوت سے دل کی تاروں کو ہلا کے رکھ دے روح تک کو معطر کر دے کیسے کسی کوٹھے کی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے
جس کا کردار کھلے عام پر برائی کو دعوت دیتا ہے ۔۔۔ ابھی ان کی بات چل رہی تھی عبداالباسط کا موبائل بجنا شروع ہوا تھا
” اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ۔۔۔۔ بولیں ہارون الرشید کہاں رہ گئے وہ استاد ۔۔۔۔ اوہ اچھا ۔۔۔ چلیں کوئی بات نہیں اللہ بڑا کارساز ہے ۔۔۔ میرے پاس ایک استاد آئے تو ہیں ۔۔۔ میں انہی سے بات کر لیتا ہوں اگر معاملہ نا طے نا ہو پایا تو آپ کو زحمت دوں گا ۔۔۔ بہت شکریہ جزاکِ اللہ خیرا” یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا
” جی بیٹا ہارون الرشید کے بھیجے ہوئے استاد نے تو منع کر دیا ۔۔ اب آپ اپنی تعلیم بتائیں تو ہم بات کر لیتے ہیں “
” انگلش میں ایم سے کیا ہے اس کے علاؤہ کمیوٹر کے بہت سے کورسز بھی کر رکھیں ہیں ۔۔۔
” یہ بہت زیادہ ہے بیٹا میں اتنی تنخواہ شاید نا دے سکوں جو آپ کسی اور جگہ سے کما سکتے ہیں “عبداالباسط نے صاف گوئی سے کہا
” اور جو چیز میں یہاں حاصل کر سکتا ہوں وہ شاید انمول ہے کہیں سے نا ملے ” جازم بس انکے۔ چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا
” کیا مطلب میں سمجھا نہیں “
” مجھے تنخواہ کی فکر نہیں ہے ۔۔۔ جتنی آپ مناسب سمجھیں دے دیجیے گا ۔۔۔ ویسے تو قرآن مجید میں نے پڑھا ہے تلاوت بھی کرتا ہوں ہاں لیکن باقاعدگی سے نہیں۔۔۔ جو بات آپکی تلاوت میں ہے یہ بہت کم کہیں سنی ہے ۔۔۔ مجھے بس ایسا پڑھنا سیکھا دیں ” جازم کی فرمائش پر وہ مبہم سا۔مسکرا دیے
” جب اللہ کی محبت میں سیکھوں گئے اور اس کا تصور باندھ کر پڑھوں گئے کہ اللہ میرے سامنے ہے اور میری تلاوت کو سن رہا ہے اثر خود با خود پیدا ہو جائے گا یہ چیز کسی کے سیکھانے سے نہیں ملتی بیٹا ۔۔۔ میں تمہیں قواعد اور تجوید سیکھا سکتا ہوں دل میں اسکی محبت پیدا ہو جائے اس کے لئے دعا کر سکتا ہوں لیکن باقی کام تمہارا ہے ۔۔۔۔
نفس پر پاؤں رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن جب ایک بار کوئی رکھ جائے تو اگلے سارے قدم آسان ہوتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔ تنخواہ میں تمہیں دس ہزار سے اوپر نہیں دے سکتا کیوں کے میں تمام بچوں سے ہدیہ وصول نہیں کرتا ۔۔۔ نا مانگتا ہوں بس جو جتنا دینا چاہے وہ دے جاتا ہے ۔۔۔۔ ورنہ فی سبیل اللہ ہی سمجھ لو” عبداالباسط نے بات کے دوران ہی ایک فارم اس کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔
“اسے پڑھ کر حل کر دو تو تمہاری نوکری پکی ہے ” وہ فارم جازم نے پکڑ لیا
” لیکن میں اپنی سی وی نہیں لا پایا ۔۔۔ میرے ڈاکومنٹس لاہور میں ہیں ” وہ کون سا نوکری کے ارادے سے آیا تھا
” تم یہاں کے مقامی نہیں ہو ؟ ” عبداالباسط نے حیرت سے پوچھا
“نہیں لاہور سے آیا ہوں “
” کیوں ! لاہور میں نوکریوں کی کمی تھی جو شہر۔ چھوڑ کر راجن پور کا رخ کر لیا “
“آیا تو یونہی تھا لیکن آپ کے مدرسے کا بڑا نام سنا تھا سوچا ایک دن رہ کر دیکھ لوں ۔۔۔۔ لیکن یہاں آ کر لگتا ہے دل کی دنیا کی۔ بدل گئ ۔۔۔ اس لئے کچھ عرصہ آپکی سر پرستی میں رہنا چاہتا ہوں “
“مطلب تمہاری رہائش کا بندو بست بھی کرنا پڑے گا ۔۔۔۔ “
“جی بلکل “
“ٹھیک ہے تم فارم ساتھ لے جاؤں اچھی طرح پڑھ کر سوچ سمجھ لو ۔۔۔۔ دل مانے تو آ جانا ۔۔۔ جو اصول اس پر درج ہیں اسکی خلاف عرضی میں قطعاً۔ برداشت نہیں کروں گا “
“وہ میں پڑھ لوں گا لیکن ایک سوال ہے میرے دل میں ۔۔۔ یہ ایک مدرسہ ہے جہاں حفظ کی تعلیم دی جاتی ہے ناظرہ پڑھایا جاتا ہے ۔۔۔ پھر اردو اور انگریزی کی کتابیں کیوں پڑھانا چاہتے ہیں آپ
” کیونکہ یہاں پر آنے والے بچے سفید پوش گھرانوں سے ہیں اس علاقے میں زیادہ تر طبقہ غریب غربہ کارہائش پزیر ہے ۔۔۔ بچوں کو اسکول کی تعلیم دلوانے کی حیثیت نہیں رکھتے بس چاہیے ہیں بچہ قرآن پاک پڑھنا سیکھ جائے ۔۔۔ یا حفظ کر لے ۔۔۔
لیکن میرے خیال سے انہیں تعلیم کی بھی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔ چلو کچھ لکھنا پڑھنا سیکھ جائیں گئے تو دعائیں ہی دیں گئے مجھے ۔۔۔۔” عبداالباسط کی بات سن کر وہ اٹھ گیا ۔۔۔۔
“میں سفر سے تھک چکا ہوں ۔۔ اگر آپ کو برا نا لگے تو ایک رات یہیں قیام کر لوں کل صبح ہی چلا جاؤں گا “
“کیوں نہیں تم مہمان ہو میرے ۔۔۔ آؤں میں تمہیں کمرہ دیکھا دیکھتا ہوں تم پہلے نہا دھو لو پھر اکٹھے کھانا کھائیں گئے ” یہ کہہ کر عبداالباسط اسے اپنے ساتھ لے گیا دوسری منزل پر رہائش کا انتظام تھا ۔۔۔ سامنے سے جازم کی عمر ایک نوجوان سفید شلوار قمیض پہنے آ رہا تھا شاید بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا حلیہ مولویوں والا ہی تھا
” حافظ عبد غنی “عبداالباسط نے اس نو جوان لڑکے کو پکارا وہ انکی آواز سنتے ہی جلدی سے عبد الباسط کے پاس آ گیا
” جی ابو جی ” حافظ عبد الغنی کے منہ سے عبداالباسط کے لئے یہ لفظ سن کر جازم کو یک دم
تو جھٹکا لگا
“بیٹا یہ محترم لاہور سے آئیں ہیں ۔۔۔۔ انہیں ایک کمرے میں لے جاؤں ۔۔۔۔ ہمارے مہمان ہیں ۔۔۔ کھانا بھی ہمارے ساتھ کھائیں گئے بہت خیال رکھنا ان کا ” عبد الغنی بس نظریں جھکائے فرمابرداری میں سر اثبات میں ہلا رہا تھا ۔۔۔۔۔
“ابو جی ” جازم نے زیر لب تاسف سے دہرایا ایک حسرت بھری سانس کھنچ کے خارج کی
ان لفظوں کا حق تو اسے بھی حاصل تھا ۔۔۔
*******……=
دودن اس حبشی کی درندگی کے ساتھ گزار کر ثوبیہ کر اسے اپنے ہوش میں آ جانے کا قلق ہوا تھا کہ کاش کہ نیم بے ہوش ہی رہتی کاش کے ذہن سوچنے سمجھنے کے قابل کبھی ہوتا ہی نا ۔۔۔۔ وہاں وہی کمرہ وہی زخموں کے نشان وہی اذیت اور وہی شخص جسے اسکے زخموں کی دوا کے لئے معمور کر رکھا تھا ۔۔۔۔
دوا لگانے کے بعد وہ شخص کمرے سے جانے لگا لیکن ثوبیہ کی پکار پر رک گیا
“سنو ” اس شخص کے قدم رکے تھے لیکن منہ سے بولا کچھ نہیں
” ادھر آؤں میرے پاس ” وہ پلٹ کر اس کے پاس آ گیا
” یہاں بیٹھوں ” ثوبیہ نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا وہ چپ چاپ بیٹھ بھی گیا
” کیا تمہیں پتہ ہے میں کون ہوں ” ثوبیہ اپنے ماضی کے بارے میں سوچ سوچ کر تھک سی گئ تھی
” جان کر کیا کروں گی ۔۔۔ چلو سمجھ لو کہ تم ایک شریف گھرانے کی بھی تھی ۔۔۔ تو کیا کروں گی ۔۔۔ یہاں تم باہر نہیں نکل سکتی ۔۔۔ کبھی بھی ۔۔۔ یہاں آنے کے تو کئ راستے ہیں جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے اگر کوئی چلی بھی جائے تو گھر والے اسے قبول نہیں کرتے ۔۔۔ اس لئے سوچنا چھوڑ دو کہ تم کون ہو ۔۔۔
میں کھانا لاتا ہوں تمہارے لئے ” وہ شخص دوبارہ سے کھڑا ہو گیا ثوبیہ نے بے بسی اور لاچارگی سے کہا
” نہیں کھانا رہنے دو بس زہر لا کر دے دو ۔۔۔۔ کم از کم اس اذیت سے نکلنے کا یہ راستہ تو ہے میرے پاس ” ثوبیہ کے آنسوں بہنے لگے تھے وہ شخص مسکرانے لگا ۔۔۔ بس چند ماہ رک جاؤں پھر تو زہر بھی اثر نہیں کرے گا تم پر ۔۔ جتنا نشہ تمہارے اندر ڈالا جا رہا ہے ۔۔۔۔ ہر چیز سے بے اثر ہو جاؤں گی۔۔۔ “
یہ کہہ کر وہ شخص باہر نکل گیا ثوبیہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ اپنی قسمت پر ۔۔۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا کس جرم کی سزا کاٹ رہی ہے ۔۔۔ دن رات ایسے ہی گزرنے لگے ۔۔۔۔اسے کچھ پتہ نہیں تھا بس ایک قید تھی ۔۔۔ اب تک باہر کی روشنی نہیں دیکھی تھی اس دو تین مہینے رونے دھونے کے بعد اب تو آنسوں بھی خشک ہو چکے تھے ۔۔۔۔
اب خود تیار ہونے لگی تھی ۔۔۔۔ پتہ تھا کہ زندگی یہی ہے ۔۔۔۔ پانچ ماہ بعد اسے ایک ہوٹل میں لے جایا گیا پانچ ماہ بعد اس نے سورج کی روشنی دیکھی تھی ۔۔۔۔ سڑکیں اور راستے دیکھے تھے لوگوں کو دیکھا تھا ایسا لگ رہا کسی نئ دنیا میں آئی ہے ۔۔۔۔
کبھی انہیں سڑکوں میں پہلے گزری ہو گئی لیکن جو پہنچان میری آج ہے میں سب کے لئے صرف گالی بن گئیں ہوں ۔۔۔۔
جس حال میں لوگوں نے مجھے دیکھ رکھا ہے ۔۔۔ میرے برابر ہے ۔۔۔ ہر مرد کی نظر ۔۔۔ کاش کے جیسے مجھے اپنا ماضی بھول گیا حال کا بھی ایک ایک لمحہ بھول جائے ۔۔۔۔۔
ایک خوبصورت ہوٹل میں ایک کلب ایریا تھا ۔۔۔۔ شراب شباب سب کچھ موجود تھا ۔۔۔۔ جہاں وہ گئ تھی
“سنو تمہیں بھی اسی ڈانس فلور پر ڈانس کرنا ہے ۔۔۔ لوگوں کو اپنی جانب متاثر کرنا ہے اور اگر تم نے ذرا بھی بھاگنے کی کوشش کی تو دو سال دوبارہ دن کی روشنی نہیں دیکھو گی ” وہی عورت ایک عذاب کی طرح اس پر نازل تھی اس نے سراثبات میں ہلایا ۔۔۔۔ اور ڈانس فلور پر چلی گئ ۔۔۔۔
اب کسی چیز سے اعتراض نہیں کرتی تھی پتہ تھا کہ انکار اعتراض کے باوجود ہو گا وہی جو یہ لوگ چاہیں گئے ۔۔۔ لیکن اس کے بال کھنچے جائیں گئے سگریٹ سے جلایا جائے گا ۔۔۔ کئ قسم کے مرد کسی بھوکتوں کی طرح اس پر چھوڑے جائیں گئے ۔۔۔ اس لئے بنا اختلاف کے وہ کسی بے جان کٹ پےلی طرح وہی کرتی تھی جو وہ کہتے تھے ۔۔۔اس لئے ان لوگوں کااعتماد جیت چکی تھی۔۔۔ اب اسے کمرے میں لوک نہیں کیا جاتا تھا ۔۔۔ اس گھر میں اور بھی ایسے بہت سے کمرے تھے ہر کمرے ایک لڑکی موجود تھی ۔۔۔۔ جنہیں ثوبیہ کی طرح تب تک لوک میں رکھا جاتا رہا تھا جب تک کہ وہ ذہنی طور پر اس بات پر تیار ہو جائے کہ بس وہی ان کا ٹھانا ہے ۔۔۔
اب وہ دوسری لڑکیوں سے بات چیت بھی کر لیا کرتی تھی لیکن سب ہی اپنے ماضی سے بے خبر تھیں بس حال کا پتہ تھا جو کے بے حال تھا ۔۔۔۔۔ وہ پینٹ شرٹ والی عورت ان پر نگران تھی ۔۔۔۔
اس کا نام نوشین تھا لیکن سب اسے میڈم کہہ کر ہی پکارتی تھیں
میڈیم نے ثوبیہ اور دو تین لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا خود صوفے پر بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی پاؤں سامنے رکھی کرسی رکھے تھے چہرے پر وہی سختی تھی ۔۔۔۔ اور انہیں کالج یونیفارم پکڑا دیے ۔۔۔
کل صبح سات بجے یہ پہن کر تیار رہنا تمہیں کالج میں چھوڑ دیا جائے گا ۔۔۔۔
تم لوگوں کے نام گیارویں باریں جماعت میں لکھے جا چکے ہیں وہ نام بھی تمہیں صبح ڈرائیور بتا دے گا ۔۔۔۔۔ کوئی تم لوگوں سے داخلے کا نہیں پوچھے گا بس ایک ہفتہ تم تینوں کو کالج کی لڑکیوں سے دوستی بڑھانی ہے ۔۔۔۔ اور یہ ظاہر کرنا ہے تم لوگ ایک اچھے اور امیر گھرانے کی لڑکیاں ہو ۔۔۔
اور ہاں کوشش کرنا ان لڑکیوں سے مراسم بڑھاؤں جو خوبصورت ہوں ۔۔۔۔ یہ مت سمجھنا کہ تم تینوں ہی وہاں موجود ہو ۔۔۔
تمہارے نگرانی کے لئے وہاں بہت سے لوگ ہیں اس لئے ہوشیاری دیکھانے کی کوشش بھی مت کرنا ۔۔۔ اب جاؤں ” سگریٹ کا دھواں اڑاتی ہوئی وہ بولی ۔۔۔۔
******………
حیا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بہنے شروع ہوئے تھے ۔۔۔۔ سر نفی میں ہلاتے اس نے رپوٹ دور پھنکی تھی
” نہیں ۔۔۔۔ یہ غلط ہے ۔۔۔۔ جھوٹ ہے ۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ” وہ رونے لگی تھی
” ہاں یہ سب غلط ہے سب جھوٹ بس تم ٹھیک ہو… ہاں ” وہ چلا کر بولا بھر اس کا بازو دبوچ کر بولا
” اب بتاؤ۔ مجھے کیوں کیا تم نے یہ سب ۔۔۔۔ اپنا گناہ چھپانے کے لئے تمہیں میں ہی ملا تھا ۔۔۔ “
” پلیز مجھے واپس ڈاکٹر پر لیکر جائیں ۔۔۔۔ مجھے ابھی اسی وقت یہ سب ختم کروانا ہے ۔۔۔ ” حیا ہزیانی سی ہو گئ تھی ۔۔۔ ایک تھپڑ تھا جو اسے منہ پر پڑا تھا ارتضی کا پہلے غصے سے برا حال تھا اس پر حیا کی بات نے تو جیسے اس کے حواس گم کیے تھے بے اختیار اس کا ہاتھ حیا پر اٹھا تھا ۔۔۔ حیا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا
” تمہیں آلو کا پٹھا نظر آتا ہوں میں ۔۔۔۔ گناہ تم کروں اور الزام مجھ پر لگا دو ۔۔۔ اور اب اس گناہ کو چھپانے کے لئے بھی میں تمہارا ساتھ دونگا ۔۔۔۔ ” حیا اس وقت تھپڑ کی پروا نہیں تھی
” ارتضی پلیز مجھے ڈاکٹر کے۔ جائیں ۔۔۔ مجھے ۔۔۔
مجھے یہ سب ختم کروانا ہے آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں ” وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی ۔۔۔ ہاتھوں سے منہ چھپائے ” ارتضی نے جیب سے فون نکالا حیا کے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹائے اور فون اسکے ہاتھ ۔میں تھما دیا
” کروں اپنے اس یار کو فون جس کی نشانی ہے اسے بولو کہ آ کر لے کر جائے تمہیں اور میڈیا کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرے ۔۔۔۔کروں اپنے منگتر کو فون ” حیا نے فون نہیں پکڑا تھا ۔۔۔
“مجھے نہیں کرنا کسی کو فون واپس جانا ہے اسلام آباد ۔۔۔۔ مجھے بس یہاں سے جانے دیں ” وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ عجیب بے چینی تھی اس میں میں
” ضرور جاؤں لیکن میری بے گناہی کا میڈیا کے سامنے اعتراف کروں پہلے ۔۔۔ کہوں کہ تم غلط تھی ۔۔۔۔ ” ارتضی بھی کھڑا ہو کر بولا
“مجھے کچھ نہیں کہنا ۔۔۔ لوگ بھول چکے ہیں اس بات کو ۔۔۔ بس مجھے ہر صورت اپنا آبوشن کروانا ہے ۔۔۔۔ ” جس طرح سے وہ بے چین تھی ارتضی کو اس کا یو بے کل ہونا عجیب لگا تھا ۔۔۔
” بنا مجھے بے قصور ثابت کیے تو ایسا ممکن نہیں ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔ “
” آپ سمجھتے کیوں۔ نہیں ہے ۔۔۔ ” وہ بے بسی سے بولی
“سب سمجھتا ہوں میں ڈارمے بازیوں کو ۔۔۔۔ تمہیں تمہارے منگتر کے ساتھ میں نے ہوٹل کے کمرے سے نکلتا ہوا دیکھا تھا تم کسی بات خفا ہو کرجا رہی تھی اور وہ تمہارے پیچھے اپنے کیے گئے گناہ کی صفائیاں دے رہا تھا ۔۔۔۔ اسکے بعد سے تم نے میرے ساتھ ڈرامہ رچانا شروع کیا ۔۔۔ میری ذرا سی سزا کو تماشہ بنا کر رکھ دیا تا سب تمہاری مظلومیت پر یقین کریں ۔۔۔۔ کہ مجھے سوری بلوانے پر میں نے تمہارے ساتھ یہ کیا ۔۔۔۔۔ مجھے سزادلوانے کے بجائے
مجھ سے نکاح کر لیا ۔۔۔۔ اب سمجھ آ رہا ہے کہ کیوں تم میرے قریب آنے کی کوشش کر رہی تھی اس دن رومی کا دروازہ بھی تم ہی لوک کیا تا کہ بہانے میرے کمرے میں آ سکو ۔۔۔۔ بارش سے خوف کا ڈر کا ڈرامہ رچا کر تم اپنے گناہ پر پردہ ڈالنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ “
” نہیں ایسا نہیں ہے ” وہ روتے ہوئے بولی
” ایسا ہی ہے ” وہ چلا کر بولا
” ایسا ہی ہے ۔۔۔تمہیں لگا تم میرے قریب آؤں گی تو شاید میں بہک جاؤں گا اور تمہارے کیے گئے گناہ پر پردہ ڈل جائے گا ۔۔۔۔
لیکن اتنا کمزور نفس کا پجاری نہیں ہوں میں ۔۔۔۔ جب اپنی بیوی کے بغیر بارہ سال گزار سکتا ہوں تو تمہارے ہتھکنڈوں سے بھی بچ سکتا ہوں “
” میں نے ایسا کچھ نہیں کیا آپ کو غلط لگ رہا ہے ۔۔۔۔ “
” مجھ سے جھوٹ مت ہی بولو تو بہتر ہے ۔۔۔۔
مجھے لگا تھا تم ضدی ۔۔خود سر اور باپ کی دولت کی وجہ سے بگڑی ہوئی لڑکی ہو ۔۔۔ لیکن اس قسم کی بھی ہو سکتی ہو میں نے سوچا نہیں تھا ۔۔۔۔ میں چند دنوں میں تمہیں اسلام آباد چھوڑنے جا رہا تھا اور طلاق بھی دے رہا تھا ۔۔۔۔ مجھے تمہارے ساتھ زندگی تو پر گز گزارنی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
لیکن اب تمہیں تب تک اپنے پاس رکھوں گا جب تک یہ بچہ دنیا میں نہیں آ جاتا کیونکہ میرے بے گناہ ہونے کی گواہی اب یہ دے گا ” ارتضی کی بات پر وہ ہتھے سے اکھڑی تھی
” ہر گز نہیں ۔۔۔۔ مجھے ہر قیمت پر اپنا آبوشن کروانا ہے ۔۔۔ میں جا رہی ہوں یہاں سے ۔۔۔ ” حیا کمرے سے نکلنے لگی لیکن اگلے لمحے بازو ارتضی کے ہاتھ کی گرفت میں تھا اس نے کھنچ کے اسے اپنے مقابل کھڑا کیا
” اب ممکن نہیں ہے تمہارے لئے یہاں سے جانا ۔۔۔۔ “یہ کہہ کر ارتضی نے اسے بیڈ پر دھکیلا اور خود باہر نکل کر دروازہ لوک کر دیا ۔۔۔۔۔” وہ بری طرح سے دروازہ پیٹ رہی تھی ۔۔۔
” دروازہ کھولیں مجھے نہیں رہنا ہے یہاں ۔۔۔۔ “
ارتضی نے دروازہ لوک کیا اور خود لانج کے صوفے پر بیٹھ گیا اپنا سر پکڑ کر دبانے لگا
ایک مصیبت کی طرح یہ لڑکی اسکی زندگی میں شامل ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس بار وہ اسکی چال کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا تھا ۔۔۔
دروازہ وہ اب بھی پیٹ رہی تھی ۔۔۔۔ رومان اس شور سے اٹھ کر کمرے سے نکل کر باہر آ گیا ۔۔۔۔
ارتضی کا کمرہ بند تھا حیا اندر سے چلا رہی تھی دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی ارتضی باہر سر پکڑے بیٹھا تھا رومان چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا
” بابا یہ ممی کو کیا ہوا ہے ” اس بات پر ارتضی نے غصے سے رومان کی طرف دیکھا
” نہیں ہے وہ تمہاری ممی ۔۔۔۔ اب اگر اسے ممی کہا تو ایک تھپڑ لگا دوں گا تمہارے منہ پر ” باپ کو اس قدر غصے میں دیکھ چپ سا ہو گیا
” اور سنو میں ایک گھنٹے کے لئے باہر جا رہا ہوں اگر تم نے دروازہ کھولنے کی غلطی کی تو دیکھوں کیا حشر کرتا ہوں تمہارا ۔۔۔ ” جس غصے سے وہ بول کر گیا تھا رومان کی کہاں ہمت تھی کہ باپ کی مخالفت کا سوچتا بھی لیکن دل حیا کے رونے بلکنے پر تڑپ رہا تھا
” ارتضی پلیز دروازہ کھولیں مجھے جانے دیں میں نہیں رہنا چاہتی ہوں یہاں ” وہ اندر سے چلا رہی تھی رو رہی تھی رومان ہر بات سے انجان تھا ۔۔۔ لیکن ایک دم سے حیا کا یوں جانے کے لئے منتیں کرنا سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ اور یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ کہیں دور جائے ۔۔۔۔
شاید لڑائی ہوئی ہے دونوں میں اس لئے ممی غصے سے یوں بول رہیں ہیں ۔۔۔۔ ” وہ اپنی سوچ کے مطابق خود کو مطمئن کرنے لگا
******……
ثوبیہ سمیت تینوں لڑکیوں نے اپنا کام بخوبی نبھایا تھا کافی لڑکیوں سے وہ بے تکلف سی ہو چکیں تھیں تینوں الگ الگ سال کی طلبہ بنکر گیارویں بارویں اور تیرویں جماعت میں جاتی تھیں لیکن اپنا تعارف بہنوں کا کہہ کر کروایا تھا کالج لینے اور چھوڑنے انہیں ایک کرولا کار ڈرائیور کے ساتھ آتی تھی ۔۔۔۔ لیکن واپسی انکی اسی قید خانے میں ہوتی تھی
اور ہر رات ثوبیہ اور چند لڑکیاں کو کلب میں چھوڑا جاتا تھا ۔۔۔ وہی بے باک سے لباس دل لبھانے والے انداز ۔۔۔ڈانس فلور پر ڈانس کرتے ہوئے ایک نوجوان نے اسے جوائن کیا تھا ۔۔۔۔ خوش شکل تھا ۔۔۔۔۔ ثوبیہ کی کمر پر ہاتھ رکھے اسکی نظر صرف اسکے چہرے اور آنکھوں کی طرف تھی ۔۔۔ ثوبیہ کو اسکی آنکھوں میں نشہ نہیں لگا تھا لیکن چال لڑکھڑائی ہوئی تھی ۔۔۔ جسے شراب پی ہو انداز بھی بہکے بہکے سے تھے ۔۔۔ سات ماہ ہو گئے تھے ثوبیہ کووہاں مگر اب بھی کسی کا چھونا اسے ناگور ہی گزرتا تھا ۔۔۔ چہرے پر بھی کوفت اور بے بسی سی ہوتی تھی ۔۔۔ ایک قبیح سا احساس تھا جو اسے گھیرے رہتا تھا ۔۔۔۔۔
چار دن وہی ایک شخص کلب میں ثوبیہ کے ساتھ ڈانس کرتا رہا لیکن بات ابھی تک نہیں کی تھی اسکی تعریف بھی آج کر رہا تھا
” بہت خوبصورت ہو تم ” اسکے رخسار کو انگلی لگا کر چھو کر کہا
“جانتی ہوں ” ثوبیہ نے چہرے کا رخ بدلہ تو برجستہ اس نے انگلی اسکے چہرے سے ہٹا لی
” بال بھی بہت حسین ہے ” پھر اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
” یہ بھی معلوم ہے “
” تمہارا نام جان سکتا ہوں “
” تانیہ “
“واہ نام بھی بہت کیوٹ ہے تمہاری طرح ۔۔۔ ” کمر پر ہاتھ رکھے وہ بہت دھیرے دھیرے بات کر رہا تانیہ کے دونوں بازو اس شخص کے کندھوں پر تھے ۔۔۔ اس کے جواب میں وہ کچھ نہیں بولی
“میں نے فیل کیا کہ میرا چھونا تمہیں اچھا نہیں لگتا ” ان سات ماہ میں پہلی بار کسی مرد نے اسکی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ ورنہ اسکے پاس آنے والوں کے لئے یہ اہم ہی نہیں تھا کہ وہ کس اذیت میں مبتلہ ہے
” میں نے آپ کے ہاتھوں کو روکا تو نہیں ہے “
“ہاں شاید کوئی مجبوری ہے ورنہ چہرے سے تو یہی لگتا ہے کہ کہہ دو گی کہ دفع ہو جاؤں یہاں ۔۔۔ مجھے ہاتھ لگانے کی ہمت کیسے کی ” تانیہ اسکی بات سن کر برجستہ ہنسی تھی ۔۔۔۔ کافی دیر تک ہنستی رہی سات ماہ میں پہلی بار بے ساختہ ہنسی تھی ورنہ تو ہنسا مسکرانا بھی دوسری مرضی کا محتاج تھا
” افف ہنستی ہو جلترنگ سا بجتا ہے ۔۔۔ سچ میں ” اب وہ اسکے کان کے قریب ہو کر بولا
” فلرٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے اتنی ۔۔۔ ان باتوں کی یہاں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔ بس پیسہ پھنک اور تماشہ دیکھ والی مثال ہے ۔۔۔” ثوبیہ نے کے چہرے پر پھر سے بے بسی سی چھائی تھی
” میرا ایسا ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔ ” وہ لاپرائی سے بولا
” وہ کیوں ” ثوبیہ متحیر سی ہوئی تھی
” کیوں کے تمہیں میرا چھونا پسند نہیں ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے تانیہ کو چھوڑ دیا تھا پھر ویسے ہی لڑکھڑاتا ہوا پیچھے کو قدم لینے لگا چند قدم بعد وہ پلٹ کر اس کلب کے گلاس ڈور تک پہنچ کر پلٹا تھا تانیہ وہیں کھڑی اسے دیکھ رہی اس نے بھی پلٹ کر تانیہ کو ہی دیکھا تھا ۔۔۔ اپنی ایک آنکھ دبا کر اسے فلائنگ کس کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔ ڈانس فلور کے بے ہنگم میوزک ۔۔۔۔ رنگ برنگی لائٹیں شراب ڈانس وہ جیسے ان سب چیزوں سے بیگانی ہوئی تھی جانے والے کی بات پر ذہن جیسے اٹک سا گیا تھا
