Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 9

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 9

Kya Kam Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

“مجھے علی ہمزہ سے ملنا ہے “اسٹوڈیو پہنچ کر عبداالباسط نے اندر بیٹھے ریسپنشنل سے کہا

“صاحب تو ابھی نہیں آئے بس پہنچنے والے ہی ہوں گئے آپ ویٹ کریں ۔۔۔ “عبداالباسط وہاں بیٹھا نہیں باہر نکل کر اس کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔ سامنے ایک گاڑی کھڑی ہوئی ۔۔۔ عبداالباسط آگے بڑھا ۔۔۔ فرنٹ ڈور کھلا ہی تھا اس سے پہلے کے بیٹھا شخص باہر نکلتا عبداالباسط اسکے پاس پہنچ گیا تھا ۔۔۔

“آپ علی ہمزہ ہیں “بڑے ادب سے اس نے پوچھا تھا

“ہاں ۔۔ لیکن تم کون ہو ” علی ہمزہ کے لئے وہ چہرہ اجنبی تھا اسی اثناء عبداالباسط جیب سے پسٹل نکال کر اس کے سر پر تان چکا تھا عبداالباسط کے ہاتھوں پر کالے رنگ کے دستانے چڑھے ہوئے تھے ۔۔ علی ہمزہ کے برابر بیٹھا اس کا ڈرائیور بھی گھبرا گیا تھا ۔۔۔

اور علی ہمزہ تو سانس لینا ہی بھول گیا تھا

” اے تم اترو گاڑی سے اور اگر شور مچایا تو تمہارے ساتھ اسے بھی بھون دوں گا ” عبد الباسط نے ڈرائیور سے کہا ۔۔۔ وہ جلدی سے گاڑی سے اتر گیا ۔۔۔

” چلو ۔۔۔ تم ڈرائیونگ سیٹ سنبھالو جلدی “عبداالباسط نے علی ہمزہ سے کہا وہ برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا اور فرنٹ سیٹ پر عبداالباسط بیٹھ گیا اب پسٹل اسکی کمر پر رکھ دی چلو چپ چاپ گاڑی چلاؤ “۔۔۔ گاڑی علی ہمزہ چلانے لگا

“کون ہو تم ۔۔۔ ” علی ہمزہ نے گھبراتے ہوئے پوچھا پسینہ چہرے سے بہہ رہا تھا

“بتا دوں گا اتنی جلدی کیا ہے یہاں سے بائیں جانب موڑو ” راستہ عبداالباسط بتا رہا تھا ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد جہاں عبداالباسط نے گاڑی رکوائی وہ سنسان بیابان سی جگہ تھی ۔۔۔۔۔

“نیچے اترو “عبداالباسط نے اسے نیچے اترنے کے لئے کہا جب وہ نیچے اتر گیا تو پہلے گاڑی لوک کی تا کہ وہ دوبارہ بیٹھ نا سکے اور خود بھی باہر نکل گیا ۔۔۔ علی ہمزہ اب بھی اسے غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔ عبداالباسط نے کندھے پر رکھا رومال سرپر باندھ کر اسکے ایک کنارے سے اپنا۔ چہرہ ڈھانپا ۔۔۔ تا کہ اسکا چہرہ زیادہ پہچانا نا جا سکے ۔۔۔

” اب تو بتا دو کون ہو تم ۔۔ اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو پیسہ چاہیے تمہیں ؟”علی ہمزہ نے پوچھا

” بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔ اتنی بھی جلدی کیا ہے ۔۔۔ “عبد الباسط نے پستول کا رخ دوبارہ سے علی ہمزہ کی جانب کیا

” اب لباس اتارو اپنا؟” عبداالباسط کی بات سن کر علی ہمزہ اچھنمبے میں آیا تھا

“کیا بکواس کر رہے ہو تم “

” جلدی سے کپڑے اتارو ورنہ گولی چل جائے گی” عبداالباسط نے سخت لہجے میں کہا علی ہمزہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا ۔۔۔ کچھ ہی پل میں وہ شرٹ اتار چکا تھا

“پتلون بھی ” عبداالباسط کی اگلی بات پر وہ متحیر ہوا تھا

“کیا پاگل ہو تم “

“جلدی کرو ۔۔۔ وقت ضائع مت کروں میرا “عبداالباسط غصے سے غرایا علی ہمزہ نے وہ بھی اتار دی

“بہت شوق ہے تمہیں نشہ آوار ٹیکے لگا کر مجبور عورتوں کو بے حجاب کرنے کا ۔۔۔۔۔ اب دیکھوں تمہارا حشر کیا کرتا ہوں میں

” یہ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔” علی ہمزہ گھبرا گیا تھا عبداالباسط نے جیب سے دوانجکشن نکالے جو سرینج میں بھرے ہوئے تھے ۔۔۔

“پھر یکے بعد دیگرے دونوں اس کے بازؤں پر گھونپ دیے

کچھ ہی دیر میں نشہ اس پر چڑھانے لگا تھاعلی ہمزہ کاسر چکرانے لگا

عبد الباسط نے گاڑی میں اسکے کپڑے رکھے

پھر جیب سے ایک بلیٹ نکال کر اسکے بازو اور ٹانگوں کو زخمی کیا وہ درد سے کراہ رہا تھا لیکن نشے کی وجہ سے بہت جلد ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہونے لگا

“جب چرند پرند تمہارے وجود کو نوچ نوچ کر کھائیں گئے تو پتہ لے گا تمہیں ۔۔۔وہ تکلیف کیا ہوتی ہے اور کیسے سہی جاتی ہے جو تم ایک کمزور عورت کو دیتے ہو ۔۔۔ “

یہ کہہ کر عبداالباسط اسکی گاڑی کی طرف بڑھ گیا

علی ہمزہ چکرا کر گر چکا تھا

“مجھے چھوڑ کے مت جاؤں ۔۔ مجھے ” وہ تکلیف سے بول رہا تھا لیکن ذیادہ وقت نہیں لگا تھا اسے بے ہوش ہونے میں

عبداالباسط اس کی گاڑی لیکر چلا گیا لیکن جیسے ہی میں روڈ پر ٹریفک رواں دواں نظر آئی اس نے گاڑی وہیں روک دی ۔۔۔ گاڑی ایک سائیڈ پر لگا کر وہ گاڑی سے اتر چکا تھا چابی اس ۔ے گاڑی میں لگی رہنے دی اور گاڑی کا لوک کر دیا ۔۔۔ گاڑی ی ہمزہ کی پہنچ سے بہت دور تھی ۔۔۔۔ وہ سامنے سے آنے والی بس پر سوار ہو چکا تھا ۔۔۔

عبد الباسط کے ایک دوست کے پاس پسٹل موجود تھی نئے سال کی خوشی میں یا چودہ اگست کے موقع پر اپنی چھت پر وہ فائرنگ ضرور کرتا تھا ۔۔۔ شوقیہ شوقیہ پسٹل چلانا عبداالباسط نے اسی سے سیکھا تھا اور صبح اسی سے پسٹل مانگ لایا تھا ۔۔۔ دوست نے بھی زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی ۔۔۔ ہاتھ پر دستانے اس لئے چڑھا لئے تا کہ اسکے ہاتھوں کے نشانات سےکوئی اسکی نشاندہی ناسکے ۔۔۔ جو کچھ آرء کے ساتھ کیا گیا تھا ۔۔۔ عبد الباسط کابس چلتا تو ٹکڑے کر دیتا اس شخص کے ۔۔۔

******……..

سلیمان بھاگتے ہوئے کالج پہنچے تھے ۔۔۔ سامنے حیا پر نظر پڑی اسکی حالت دیکھ کر پاگل سے ہونے لگے ۔۔ ۔۔حیا کے پاس پہنچ کر اسے اپنے ساتھ بینچ لیا

“تم فکر مت کروں میری جان۔۔۔۔ میں اسے مار ڈالو گا اسے زندہ نہیں چھوڑو گا ” سلیمان کاغصہ آخری حد پر تھا ۔۔۔

کچھ ہی دیر سے کمرے سے ارتضی کو نکلتے دیکھ کر سلیمان بے قابو ہوئے تھے حیا کو چھوڑ کر ارتضی کی طرف بڑھے اس کا گریبان پکڑ لیا

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کے ساتھ یہ سب کرنے کی ۔۔۔میں تمہارے ٹکرے کر دوں گا “وہ شیر کی طرح دھاڑے تھے ارتضی بھی غصے میں تھا ایک جھٹکے سے اپنا گریبان ان سے چھڑایا

” ہٹو پیچھے ۔۔۔ ختم کروں اپنی ڈرامے بازی ۔۔۔۔ “اسوقت تک حیا اپنے باپ کے پاس پہنچ چکی تھی

” آغا جی پیچھے ہٹیں یہاں سے “

” میں اسے زندہ نہیں چھوڑو گا “سلیمان ارتضی کی طرف لپکے تھے لیکن حیا یچ میں آ گئ

” شوہر ہے یہ اب میرا ۔۔۔ ” حیا کے لفظوں نے سلیمان کے رہے سکے ہوش اڑائے تھے

“حیا ہوش میں تو ہو تم کیا کہہ رہی ہو “

” ٹھیک کہہ رہی ہے آپکی بیٹی ۔۔۔اسی نے اپنے لئے یہ انصاف خود چنا ہے “اس بار پرنسپل صاحب نے تصدیق کی تھی ۔۔

“حیا یہ سب کیا سن رہا ہوں میں ۔۔ کیوں کیا تم نے یہ سب ۔۔۔میتا انتظار کیوں نہیں کیا ۔۔۔ میں اسے پھانسی پر لٹکوا دیتا ۔۔ تم ۔۔۔ “حیا کو غصے سے دیکھتے ہوئے وہ ارتضی کے پاس گئے

“طلاق دو میری بیٹی کو “

” مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اپنی بیٹی سے پوچھ لیں جس نے زبردستی مجھ سے شادی کی ہے ” ارتضی نے سلیمان کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا ۔۔۔

“حیا ۔۔۔ تم ۔۔۔ تم طلاق “

” آغا جی مجھے کوئی کیس نہیں کرنا ان پر ۔۔۔ اور یہ بات میں کھلے عام سب کے سامنے کہہ رہی ہوں انہوں نے غلطی ہے تو یہی مجھے عزت بھی دیں گئے ” حیا کی بات پر برجستہ ارتضی نے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔

” تم حیا ۔۔ اگر تم نے اس سے طلاق نا لی تو سمجھ لینا مر گیا تمہارا باپ تمہارے لئے ۔۔۔ میرے گھر کے دروازے بند ہیں تم پر ۔۔ میرا،ساتھ دواسے پھانسی کے تختے پر میں لٹکتا ہوادیکھنا چاہتا ہوں “سلیمان کا بس چلتا تو ارتضی کو ابھی پھانسی دیتے

“پھر بھی مجھے کوئی نہیں اپناتا ۔۔۔ میں نے جو کیا ٹھیک کیا “

یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئ تھی ۔۔۔ وہاج ارتضی کو اپنی گاڑی تک لے گیا ۔۔۔ حیا پچھلا دروازہ کھول کر خود بیٹھ گئ ۔۔۔۔

*****……

رومان ہر بات سے بے خبر تھا ۔۔۔ کھانا کھا کر سو چکا تھا لیکن ڈور بیل پر جیسے کسی نے ہاتھ رکھ دیا تھا،وہ ہڑبڑا کر اٹھا جلدی سے کمرے سے نکل کر دروازہ کھولا سامنے وہاج کے ساتھ ارتضی کواندر داخل ہوتے دیکھا ۔۔۔ اور ان سے پیچھے انکی اسٹوڈنٹ کو جو دیکھنے سے عجیب حالت میں تھیں ۔۔۔

ارتضی آتے ہی صوفے پر ڈھے گیا ۔۔

وہاج اسکے برابرمیں بیٹھ گیا

حیا اندر آ کر کھڑی ہو گئ تھی۔۔۔

” حیا تم اندر کمرے میں جاؤ۔ ” وہاج نے حیا کو منظر سے غائب کرنا چاہا

“ہر گز بھی نہیں ۔۔۔ یہ یہاں نہیں رہے گی وہاج اس لڑکی کو بولو دفع ہو جائے یہاں سے ورنہ مر جائے گی میرے ہاتھوں ۔۔۔ _ “وہ چلا کر بولا تھا حیا یک دم ڈر پیچھے ہٹیں تھی اس وقت وہ جتنے غصے میں تھا واقع اسے جان سے مار دیتا

” دیکھوں میں تمہیں یہ نہیں کہہ رہا کہ تم اس سے ایسا کوئی رشتہ نبھاؤں ۔۔۔ لیکن ابھی تمہارا ایسا کوئی بھی قدم تمہارے لئے مصیبت بن سکتا ہے ۔۔۔ پلیز فی الحال چپ ہو جاؤں ۔۔ “ارتضی کو سمجھا کر وہ رومان کی طرف متوجہ ہوا

“رومی انہیں اپنے کمرے میں لے جاؤں ۔۔۔ ” وہاج کے کہنے پر رومان چپ چاپ اسے چلنے کا اشارہ دے کر خود اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ ارتضی نے اپنا سر پکڑ لیا تھا ۔۔۔

” مجھے لگتا ہے جیتے جی موت کی سزا سن لی ہے میں نے ۔۔۔۔ ساری دنیا کے سامنے ذلیل ہو کر رہ گیا ہوں ۔۔۔ کیا جواب دوں گا سب کو ۔۔ مجھے دیکھ ہر عورت مجھے زانی سمجھ کر چھپتی پھرے گی ۔۔۔

کسے باہر جاؤں کیسے فیس کروں گا دنیا کو اور رومی ۔۔۔ رومی کا بھی جینا حرام کر دیں گئے سب اس۔۔۔ اس گھٹیا لڑکی کی وجہ سے”حیا کا نام بھی اسے لینا گوارا نہیں تھا وہاج خود پریشان تھا ۔۔۔ ہر بات سچ تھی لیکن حل کچھ نہیں تھا ۔۔۔

کمرے میں جا حیا خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئ رومان کمرے سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہا تھا کہ ماجرا کیا ہے ۔۔۔۔ آدھا گھنٹہ وہاج ارتضی کو سمجھاتا رہا کہ وہ خود کو قابو میں رکھے اس کے ہر قدم پر فی الحال پولیس اور ۔میڈیا کی کڑی نظر ہو گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیسے ہی بات لوگوں کے ذہن سے محور ہو گئ وہ حیا کو چھوڑ بھی دے تو بات اتنی نہیں بڑھے گی ۔۔۔۔۔

ابھی تو اسکی کوشش تھی کہ ارتضی اسلام آباد ہی نا رہے ۔۔۔ کچھ وقت کے لئے سب کی نظروں سے غائب ہو جانا ہی مسلے کا حل تھاورنہ لوگ تو جینے نہیں دیتے انہیں

” میں اب گھر جاؤں گاارتضی لیکن پلیز تم پیشن سے کام لینا حیا کو فی الحال اسکے حال پر چھوڑ دو “

وہاج کی بات پر اس ارتضی نے اثبات میں سر ہلا دیا ابھی تو وہ خود بھی اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ اس کی شکل بھی دیکھے ۔۔۔ آج تک اس نے کبھی کسی عورت سے نفرت محسوس نہیں کی تھی لیکن حیا سے ہو گئ تھی ۔۔۔ اتنی کی اگر اس پر ایک قتل بھی معاف ہوتا تو حیا کا کر دیتا ۔۔۔۔۔

******…..

“میرے بابا مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔۔۔ اب کبھی واپس نہیں آئیں گئے ۔۔۔ “جازم روتے ہوئے کہہ رہا تھا نور سمجھ نہیں پارہی تھی اسے تسلی دے یا پیچھے دھتکار دے ۔۔۔ اس وقت اس پر ترس بھی آ رہا تھا لیکن۔ اس کا یوں ساتھ لگ کر رونا نور جہاں کو پریشان کیے ہوا تھا

بس مشکل ہی اسے خود سے جدا کر پائی تھی ۔۔

“اچھا اب چپ کر جا ۔۔۔ تیرے رونے سے کا واپس آجائے گا تیرا باپ ۔۔۔ ناہی نا تو رو کاہے رہا ہے ۔۔۔ ” نور جہاں نے بے ساختہ اسکے آنسوں پونچے

“چل ادھر آ “اس کا بازو پکڑا اور اسے تخت پر بیٹھا دیا خود بھی اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔

“کلی او کلی جا پانی لا کر دے چھورے کو رو رو کے دیوانہ ہو گیا ہے ” نور جہاں کی آواز پر ایک دبلی پتکی نازک سی لڑکی شیشے کے گلاس میں پانی لے آئی جازم کے سامنے گلاس بڑھا کر اسے مسکرا کر دیکھنے لگی جازم نے ایک اچٹتی نظر ڈال کر ہٹا لی اس کے ہاتھ سے گلاس نہیں لیا

“یہاں رکھ دو “اس نے تخت کی طرف اشارہ کیا لڑکی نے گلاس رکھا اور واپس چلی گئ ۔۔

جازم نے گلاس پکڑ کر پانی کے دو گھونٹ بھرے اور واپس رکھ دیا

“چل اب بتا کیا ہوا تھا تیرے باپ کو ۔۔۔ بیمار تھا کا “

“ہاں کینسر تھاانہیں ۔۔۔ “وہ سنجیدگی سے بولا

“او ہو ۔۔۔ دکھ ہوا سن کے ۔۔۔ “

“اکیلا رہ گیا ہوں میں “جازم پھر سے رونے لگا “

” اب کاہے رونے لگا پھر سے ۔۔۔ کا گھر پر کوئی ناہی ہے تمہارے “نور جہاں کی بات پر جازم نے نفی میں سر ہلایا

“کوئی نہیں ہے میں اکیلا ہوں “

” دیکھ یہ دنیا ایسے ہی چلی آ رہی ہے ۔۔۔ کسی کے چلے جانے سے تیری جندگی نا ہی رک جائے گی ۔۔۔ حوصلہ توتجھے خود ہی کرنا پڑے کاببوا ۔۔۔”

“میں آٹھ دن سے سویا نہیں ہوں رو کر ہی گزرے ہیں ۔۔ اب سر پھٹ رہا ہے پر نیند نہیں آ رہی “

“کچھ کھایا ہے تم نے “

“نہیں “

“رک میں کھانا لاتی ہوں تیرے لئے ۔۔۔ ” نور جہاں اٹھ کر چلی گئ اسکے سامنے کھانا رکھ کر بیٹھ گئ

“پہلے کچھ کھا لے چہرہ دیکھ کیسے مرجھا گیا آٹھ دن میں ۔۔۔ “نور جہاں جازم کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر بولی جازم اسکی فکر مندی پر مسکرا بھی نہیں سکا

” اپنے ہاتھ سے کھلا دیں ۔۔ بابا مجھے اپنے ہاتھ سے کھلاتے تھے ” جازم کی فرمائش پر وہ پھر سے مشکل میں پڑی تھی ۔۔۔

“پر نور جہاں نے کسی کو ناہی کھلایا ۔۔۔ “

“تو آج کھلا دیں ۔۔۔ ورنہ اٹھا لیں یہاں سے جہاں تین دن بنا کھائے گزار لیے وہاں اور بھی گزر جائیں گئے ۔۔” جازم نے رخ بدل کر کہا

” اچھا چل منہ ادھر کر ۔۔۔ تو بھوکا ہے اس لئے لحاج کر رہی ہوں تیرا ورنہ نور جہاں کو پروا ناہی ہے کسی کی ” نوالہ بنا کر جازم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔ وہ اس کے ہاتھ سے کھانا کھانے لگا ۔۔۔

آخری نوالے پر اس نے نور جہاں کا ہاتھ پکڑ کر کھایا ۔۔ پھر اسکے ہاتھ کو چوم کر چھوڑ دیا

“بہت شکریہ ” برا تو نور جہاں کو لگا مگر کچھ بولی نہیں ۔۔۔ کہ باپ کاصدمہ ہے جازم اٹھ کر نور جہاں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا

“ارے چھورے ادھر کہاں جا رہا ہے ” نور جہاں برجستہ بولی

“نیند آ رہی ہے مجھے سونے جا رہا ہوں پلیز جب تک میں خود نا اٹھ جاؤں مجھے جگائے گا مت ” یہ کہہ جازم اسکے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

“عجیب ہے یہ ایسے گھر میں گھومتا ہے جیسے اس کے باپ کا ہو ۔۔۔ ” نور جہاں تپ کر بولی تھی ۔۔۔ رات کاایک بج گیا تھا مگر وہ کمرے سے نہیں نکلا نور جہاں کئ بار آ کر اسے دیکھ چکی تھی لیکن وہ سورہا تھا ۔۔۔

نور جہاں نے سوچا کہ اسے جگا دے لیکن جیسے ہی ہاتھ اسکی پیشانی پر لگا وہ بخار سے تپ رہا تھا ۔۔۔ نور جہاں پریشان ہوئی تھی ۔۔۔ پہلے تو باہر جا کر تخت پر بیٹھ گئ ۔۔ گاؤ تکیہ درست کیے وہیں لیٹ گئ مگر نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ جازم کا ماتھا تیز بخار سے تپ رہا تھا ۔۔۔

” پتہ ناہی کاہے اتنا دل پر لگا بیٹھا ہے باپ کے غم کو۔۔۔ کیسا تپ رہا ہے بخار سے”۔۔۔۔ نور جہاں بے چین سی تھی نا جانے کیوں جازم سے ہمدردی سی ہو رہی تھی ۔۔ اپنی کیفیت سمجھ نہیں پا رہی تھی… دوبارہ سے اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ دوبارہ کمرے میں جا کر دیکھا تو وہ اب بھی بخار میں بے سود سو رہا تھا ۔۔۔ پھر پانی کا باؤل لا کر رومال سے اسکے سر پر پانی کی پٹیاں کرنے لگی ۔۔۔ تا کہ بخار کا کچھ زور ٹوٹے ۔۔۔ رات دیر تک اس کے سرہائے ہی بیٹھی رہی ۔۔۔۔

“بابا ۔۔۔۔ میرے سر میں درد ہے “جازم بخار میں بڑبڑا رہا تھا اس کاسر دکھ رہا تھا شاید ۔۔ نور جہاں نے پٹی ماتھے سے ہٹائی تو بخار کچھ کم تھا ۔۔۔ اس کا،سر دبانے لگی ۔۔۔ پوری رات اسکے پاس بیٹھی اس کا خیال رکھتی رہی ۔۔۔ کون سا جذبہ تھا دل کیوں اسکی طرف کھنچنے لگا تھا یہ بات اسے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن اپنے قدم اسکی جانب بڑھنے سے روک نہیں پاتی تھی ۔۔۔

اس کی بچکانہ حرکتوں پر اسکے سامنے جتنا غصہ آتا تھا تنہائی میں وہی باتیں یاد آتیں تو چہرے پر ۔مسکان سی آ جاتی اسکی محبت الگ تھی ۔۔۔ چھوٹے بچوں جیسی بڑااحترام ساتھا اس کے لہجے میں اسکی آنکھوں میں ۔۔۔ وہ اسے آپ کہتا تھا ۔۔۔ بے باقی بھرے جمعلے نہیں بولتا تھا ۔۔۔ اسکے ہاتھوں کو بڑی عقیدت سے ہونٹوں پر لگاتا تھا جیسے وہ کسی بڑے مرتبے پر فائز ہو ۔۔۔۔ دن چڑھنے لگا تھا

سورج کی روشنی سیدھی جازم کی آنکھوں پر پڑی تھی ۔۔۔ کھڑکی سے پردے ہٹے ہوئے تھے ۔۔ وہ آنکھوں کو میچ رہا تھا اسے پہلے کے اسکی آنکھ کھلتی نور جہاں نے اٹھ کر پردے برابر کر دیے ۔۔۔۔ لیکن وہ اٹھ چکا تھا ۔۔۔ جب وہ واپس آ کر بیٹھی ۔۔۔

جازم نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔۔۔

” بہت شکریہ ‘” جازم نے ذراسامسکرا کر کہا

” کا ہے کا “

“مجھ سے محبت کرنے کا “

“یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے ۔۔ “

” زبان سے کہنا ضروری تو نہیں ۔۔۔ پوری رات میری فکر میں جاگتی رہیں ہیں ۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا کہ بخار پر آپ کے ہاتھوں میری اتنی سیوا ہو گی تو دعا کرتا کہ ایک عمر بخار میں گزر جائے ” جازم نے مسکرا کر کہا

” دیکھ تیرا باپ مر گیا تھا اس لئے تیراجرا سادھیان رکھ لیا ۔۔۔لیکن تو تو کچھ اور ہی دماغ کا ہے شاید ” نور جہاں متذبذب سی ہوئی تھی

” نہیں میں بھی یہی سمجھا ہوں ۔۔۔لیکن ایسا وہی کرتا ہے ۔۔۔ جس کے دل میں احساس اور محبت ہوتی ہے ورنہ ہمدردی ۔۔میں رات بھر جاگا نہیں جاتا ۔۔۔۔”وہ اٹھ کر بیٹھ گیا

” میرے ساتھ چلیں نا آپ ۔۔۔ اکیلے گھر جاؤں جا تو پھر سے بیمار پڑ جاؤں گا وہاں میرا کون خیال رکھے گا ” جازم کی آنکھوں اور لہجے میں التجا تھی

” میں کاہے جاؤں تمہارے گھر ۔۔۔ لگتی کیا ہوں تیری “

” آپ میری سب کچھ لگتی ہیں ۔۔۔ اپنے دل سے پوچھ کر دیکھیں ایک بار ۔۔۔ وہ بتا دے گا کہ دل کے کس قدر قریب ہوں میں ” یہ کہہ کر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ نور جہاں اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” اب چلتا ہوں پھر آؤں گا ” یہ کہہ کر وہ اسے قدم اٹھاتا ہوا وہاں سے چلا گیا

******……

“آرء شادی کریں گئیں گی مجھ سے “عبداالباسط کی بات پر وہ پلکیں جھپکانا بھول گئ تھی ۔۔۔ بس اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی

“ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں بہت آسان سا سوال کیا ہے آپ سے ” عبداالباسط نے کہا آرء پھر بھی اسے دیکھتی رہی ۔۔۔۔پھر ہسنے لگی

” باؤلے ہو کا ۔۔۔۔ شادی کہاں ہوتی ہے ہماری ۔۔۔۔”

” میں کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ اور آپ سے سنجیدگی سے پوچھ رہا ہوں “

” چلو پھر مولوی صاحب سے کہہ دو رشتے کا پیغام خود لیکر آئیے جہان کے کوٹھے پے ۔۔۔ آرء اپنے ہاتھ کی چائے پلائے گی انہیں” آرء نے مسکرا کر کہا

“میری محبت کا مزاق اڑا رہیں ہیں ” عبداالباسط اسے طنز کو س

جب کر بولا

“ناہی رے ۔۔۔۔ تجھے حقیقت بتا رہی ہوں ۔۔۔ تمہارے ابا کبھی نہیں مانے گئیں ۔۔۔ نا میری اماں ایسا کرے گی ۔۔۔ پھر کیوں جی جلاتے ہو آرء کا ” آرء سنجیدہ ہوئی تھی

” آرء کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ عرصے کے لئے ہم دور چلے جائیں ۔۔۔ اپنی اپنی ان زندگیوں سے نکل کر خواب کی دنیا میں جہاں نا کوئی مفتی انور ہو نا کوئی جہان بیگم ۔۔۔ بس عبداالباسط ہو اور آرء ہو ۔۔۔۔۔اور ہمارا ۔۔۔۔۔۔” عبداالباسط کہ بات آرء نے اچک لی تھی

“چھوٹا سا گھر ہو ۔۔۔۔ بس ایک کمرے کا بھی ہو تو آرء رہ لے گی تمہارے ساتھ ۔۔۔ تم دن بھر پتھر اٹھا کر پیسے کماکر لانا ۔۔ میں سادہ سا کھانا بنا کر تمہیں اپنے ہاتھوں کھا دیا کروں گی ۔۔۔ تمہارے محنت سے بہنے والے پیسنے کو اپنے آنچل سے صاف کیا کروں گی ۔۔۔

تمہاری لائی ہوئی کانچ کی چوڑیاں میری کلائی پر ہمیشہ سجا کریں گئ۔۔۔۔ تمہاری لال چادر سے خود چھپا لیا کروں گی ۔۔۔ میرا سجناسنورنا میرا ہار سنگھار تمہارے لئے ہی ہو گا ۔۔۔ تم جب تھکے ماندے گھر آؤں مجھے مسکراتا دیکھ کر دن کی تھکن بھول جاؤں گئے ۔۔۔۔۔ اچھا خواب ہے نا عبداالباسط ” آرء جس خواب کو آنکھوں میں سجائے بتا رہی عبداالباسط وہ دیکھ رہا تھا

“چپ کیوں ہو گئ آرء کہتی رہیں ۔۔۔ اچھا لگ رہا ہے یہ سب سن کر “

” ہوش میں آ جاو میرے باولئے سیاں حقیقت بہت تلخ ہے ۔۔۔” آرء نے اسکی پیشانی پر چھت لگائی

” میرے مالک نے کہا کہ اسے اپنے فارم ہاؤس میں کمرے بنوانے ہیں مزدوں کی ضرورت ہے مہینے بھر کا کام ہے شہر سے بہت دور بھی ہے ۔۔۔ کافی لڑکے جارہے ہیں ۔۔۔ سب کوالگ الگ کواٹر ملیں گئے ۔۔ ان میں سے کچھ کی نئ شادی بھی ہوئی ہے اپنی بیویوں کو ساتھ بھی لے جارہے ہیں مالک کو اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ آرء بس ایک مہینہ میرے نام کر دو سارے خواب بس ایک مہینے کے لئے سچ کر دو ۔۔ اور کبھی کچھ نہیں مانگو۔ گا تم سے ۔۔۔ کیا جہان بیگم تمہیں تمہاری زندگی میں سے ایک مہینہ نہیں دے سکتی ۔۔۔ میں بھی ایک مہینے کے لئے بھول جاؤں گا کہ کسی مولوی کا بیٹا ہوں ۔۔۔ بس آرء اور عبد الباسط ہوں گئے بغیر کسی حوالے اور پہچان کے ۔۔۔ ۔۔۔۔ ؟ عبداالباسط کی آنکھوں میں نمی تھی اور لہجے میں التجا ۔۔۔ کب عبداالباسط کی آنکھوں میں آنے والی نمی آرء کی آنکھوں سے بہنے لگی آرء کو خبر نہیں ہوئی تھی

“میرے پاس پیسے نہیں ہیں آرء جہان بیگم کو دینے کے لئے ۔۔۔ میں جھوٹا دلاسہ آپ کو نہیں دے سکتا “

” تم اپنے کو ہاں کر دو جہاں بیگم سے بات میں کر لوں گی ۔۔۔ لیکن نکاح یہیں سے کروا کر تمہارے ساتھ جاؤں ۔۔۔ چلو یہ بھی زندگی کاایک الگ رنگ ہو گا جو آرء تمہاری پاکیزہ آنکھوں سے دیکھے گی ۔۔۔۔ ” آرء کے آنسوں بہہ رہے تھے پر چہرے پر مسکان تھی ۔۔۔

” وہ مان جائیں گئ ” عبداالباسط کو جہان بیگم کی لالچ کااندازہ تھا

“آرء سو جوتے کھا کر بھی منا لے گی ۔۔۔ تم سے جبان کی ہے میں مکرو گی ناہی “

“ٹھیک ہے میں اب جمعے کو نکاح خواں کے ساتھ ہی آؤں گا آپ کو اپنے ساتھ لے جانے کے لئے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر عبداالباسط چلا گیا

آرء کے لئے ایک نیا امتحان تھا جہان بیگم کو منانا

******……,

صبح دروازے کی دستک پر تانیہ کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ دیکھا تو وہ زمین پر لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔ اٹھ کر فورا سے بیٹھ گئ ۔۔۔ رات کی ہر بات کمرہ دیکھتے ہی یاد آنے لگی ۔۔۔ جلدی سے سائیڈ پر رکھاڈوپٹہ خود پر اچھی طرح سے اوڑھا ۔۔۔ پھر کھڑی ہو کر دروازے کے پاس سے کرسیاں ہٹائیں پھر دروازے کے قریب ہو کر بولی

” ک۔۔۔کو۔۔۔۔ن ” وہ اب بھی گھبرائی ہوئی تھی

“تانیہ دروازہ کھولیں میں ہوں “

” میں کون ” بے اختیار ہی تانیہ کے منہ سے پھسلا

وہ مسکرانے لگا

“آپ کا شوہر ۔۔۔۔ دروازہ کھولیں ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لئے کھڑا ہوں ۔۔۔ کب سے ۔۔۔۔ اب تو چائے بھی ٹھنڈی ہو چکی ہے ” تانیہ متذبذب سی تھی پھر دروازہ کھول دیا وہ واقع ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لئے کھڑا تھا ۔۔ تانیہ پیچھے ہٹ گئ وہ اندر داخل ہوا ناشتہ سامنے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا

اور خود بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ تانیہ وہیں کھڑی رہی

“اب آپ یہیں کھڑی رہیں گئیں ۔۔۔؟ آئیے نا ناشتہ کجیے ؟ ایک پلیٹ میں دو فرائی انڈے تھے دوسری پلیٹ میں بریڈ کے سلائس تھے اور چائے کے دو کپ ۔۔ بھوک تو تانیہ کو بھی لگ رہی تھی

“آپ ناشتہ کر لیجیے ۔۔۔ میں بعد میں کھا لوں گی ” یہ کہہ کر وہ واش روم میں چلی گئ لیکن جب منہ دھو کر کمرے میں آئی وہ ویسے ہی بیٹھا ہواتھااس کاانتظار کر رہا تھا

” بیٹھے ناشتہ کریں “لہجہ اب بھی متوازن تھا ۔۔۔ تانیہجبورااس کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔ پہلا نوالہ اس نے تانیہ کے منہ ڈالا ۔۔۔

“میں خود کھا لوں گی “

“مجھے معلوم ہے آپ کھاسکتی ہیں لیکن میرافل چاہا کہ اپنی پیاری سی بیوی کو خود کھلاؤ ۔۔۔ “وہ مسکرا کر بولا تانیہ نظریں جھکا گئ ۔۔۔ ایسی کوئی امنگ اسکے دل میں نہیں تھی ۔۔۔نا خواہش نا آرزو جیسی سامنے بیٹھا شخص دیکھا رہا تھا ۔۔۔

وہ چپ چاپ وہ ناشتہ کرنے لگی ۔۔۔ لیکن کسی کی نظروں کی تپش اسے مسلسل خود پر ۔محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ با مشکل ہیںوہ ناشتہ ختم پر پائی تھی

” گھر میں میرے اور آپ کے علاؤہ کوئی دوسرا نہیں ہے ۔۔۔ اور میں کام کرنے کا بہت چور ہوں ۔۔۔ ٹھنڈی چائے پینے کی عادت نہیں کے مجھے پلیز کمرے سے نکلتے ہی سام ے کچن ہے ذرا چائے گرم کر کے لا دیں ۔۔۔

تانیہ اس دیکھے بنا کھڑی ہو گئ ٹرے اٹھا کر کمرے سے نکل گئ سامنے واقع کچن ہی تھا رات ےواقع ہوش نہیں تھی بے تحاشہ روتے ہوئے آئی تھی ۔۔۔ غور پی نہیں کیا تھا کہ کہاں کیا ہے ۔۔۔ ایک کیتلی اسٹو پر ہی موجود تھی ۔۔۔ لیکن نہایت ابتر حالت میں ۔۔۔ شاید چائے بنائی کم اور جلائی ذیادہ گئ تھی ۔۔۔ کچن کی شلف پر انڈوں کے چھلکے پڑے تھے بریڈ بھی کھلی رکھی تھی ۔۔۔ سنک میں برتن دھونے والے تھے ۔۔۔ پہلے تو تانیہ نے نا پسندیدگی سے کچن کا جائزہ لیا پھر پہلے کیتلی کو اچھی طرح دھویا پھر چائے گرم کرنے رکھی جب تک چائے گرم ہوئی وہ دو چار برتن جو سنک میں تھے وہ دھو چکی تھی انڈوں کے چھلکے بھی کچرے کے ڈبے میں ڈالے بریڈ کوشانپر میں ڈال کر ربڑ چڑھائی ۔۔۔ شلف بھی صاف کی ۔۔ چائے کپ میں ڈال کر جب پلٹ کر کچن سے نکلنے لگی تو وہ سامنے کھڑا تھا

“ارے واہ دو منٹ میں آپ نے کچن کی شکل نکسل کے رکھ دی ہے ۔۔۔ ویری گڈ ۔۔۔ کپ اس نے بڑی بے تکلفی سے اسکے ہاتھ سے لیا تھا ۔۔۔

” مجھے لگا آپ مجھے چار چھ باتیں سنائیں گئیں

“بڑے ہی نکمے شوہر ہو گھر کی حالت کیا کر رکھی ہے کچن کیا کوئی یوں رکھتا ہے ۔۔۔لیکن آپ نے تو کہا ہی نہیں ۔۔۔ ” بڑا بے تکلف سا شخص تھا جتنا تانیہ کے لئے وہ اجنبی تھا اتنا تانیہ بھی اس کے لئے تھی پہلی ملاقات نکاح کے بعد رات کو ہی تو ہوئی تھی وہ بڑی مختصر ۔۔۔ تانیہ کچن سے نکل کر باہر نکلنے لگی تا کہ کمرے میں چلی جائے مگر وہ سامنے کھڑا ہو گیا تانیہ کا راستہ بند ہوا تھا

” م۔۔مج۔۔مجھے ۔۔ باہر جانا ہے “وہ نروس ہوئی تھی

” مجھے ہکلاتی ہوئی زبان سمجھ نہیں آتی ۔۔۔ ذرا صاف بول کر دیکھائیں ۔۔ صاف بولنا آتا بھی یا دھوکا ہو گیا میرے ساتھ ” اسکی بات تانیہ نے بے ساختہ اسکی طرف دیکھا وہ مسکراتے ہوئے کپ لبوں پر لگا گیا تانیہ پھر سے نظریں جھکا گئ

” اگر دھوکا بھی ہوا ہے توقسم سے بہت حیسن دھوکا ہے ۔۔۔ “ایک قدم وہ اسکی طرف بڑھا کر بولا تھا تانیہ پیچھے ہٹیں تھی ۔۔۔

” پوری رات بڑی مشکل سے کٹی ہے میری ۔۔۔۔۔ بس یہ سوچتا رہا کہ میں صبر کا امتحان دے کس خوشی رہا ہوں ۔۔۔ “

اسکے بڑھتے ہوئے قدم اور محبت بھری باتیں وارفتگی بھری نظریں تانیہ کو اذیت ہی دے رہے تھے ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ ایک قدم مزید اسکی طرف بڑھاتا تانیہ اسے دھکا دیا تھا گرم چائے چھلک کر اسکے ہاتھ میں گری تھی ایسی توقع نہیں تھی اسے تانیہ سے

” جانے دو مجھے ۔۔۔ ” چلا کر روتے ہوئے وہ باہر نکل گئ ۔۔۔ وہ متحیر سااسے دیکھنے لگا ۔۔ چائے شلف پر رکھی گرم چائے نے ہاتھ سرخ کر دیا تھا ۔۔۔

******……

صبح لاہور پہنچ کر شمس نے ایک ہوٹل بک کروایا تھا مناسب سا ہوٹل تھا ۔۔۔ کمرے میں آتے ہی وہ بیڈ پر دراز ہوا تھا ۔۔۔

“افف تھکادینےبوالا سفر تھا ۔۔۔ ” شمس نے آنکھیں بند کیں تھیں ۔۔۔ ثوبیہ پریشان تھی ۔۔۔ اب تک تو سارا گھر جاگ چکا ہو گا ۔۔ جان چکا ہو گا کہ میں گھر پر نہیں ہوں ۔۔۔ اماں کا تو رو رو کر برا حال ہو گیا ہو گا ۔۔۔ “ثوبیہ کا دل میٹھی میں جکڑا تھا ۔۔۔ شمس نے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا وہ کسی سوچ میں کھڑی تھی اس نے اٹھ کر ثوبیہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنی جانب کھینچا وہ پل میں اسکے پہلو میں آ گری تھی ۔۔۔

“شمس “ثوبیہ اس افتاد کے لئے تیار نہیں تھی ناایسی کسی جرت کی ۔۔۔ لیکن وہ اسے اپنے حصار میں جکڑ چکا تھا

“بولو میری جان ۔۔۔ “شمس کی شوخی پر وہ زچ ہوئی تھی