Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 10

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 10

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

تانیہ کمرے میں آ کر کر بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔ لیکن چند منٹ بعد ہی وہ اس کے کمرے میں آیا تھا تانیہ نے آنسوں صاف کیے ۔۔۔ اور اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ اس بار وہ کافی سنجیدہ تھا ۔۔۔ سیدھا الماری کھولی ایک فینسی مہرون رنگ کا جوڑا نکال کر بیڈ پر تانیہ کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔

“میں کچھ دیر کے لئے باہر جارہا ہوں ۔۔۔۔۔ رات سے پہلے لوٹ آؤں گا ۔۔۔ بھوک لگے تو فریج میں کھانا موجود ہے گرم کر کے کھا لیجیے گا ۔۔۔ میرے آنے سے پہلے اسے پہن کر تیار رہیے گا ۔۔۔۔ مجھے رات کی طرح آج اپنا کمرہ لوک نہیں چاہیے ۔۔۔ نا ہی کوئی اتحجاج ” اسکی بات سن کر تانیہ یک دم ہی کھڑی ہوئی تھی اسکے سامنے جا کر بولی

“م۔۔میں پہلے کہہ چکی ہوں کے میرے پاس مت آنا ۔۔۔ آپ نہیں جانتے کیا ہوا ہے میرے ساتھ اگر جان جاؤں تو چھونا بھی پسند نا کروں مجھے ہاتھ بھی نہین لگاو گئے.. نفرت کرو مجھ سے ” وہ رو دینے کو تھی

“تو ٹھیک مجھے نہیں جاننا کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ۔۔۔ اس لئے کہ مجھے تو ہاتھ لگانا ہے اور نفرت بھی نہیں کرنی۔۔۔ بس محبت کرنی ہے ۔۔۔۔ جو حق میں رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔ مجھے اس میں دلچسپی ہے ۔۔۔۔ رات کو آپ کا انکار نہیں سنو گا ۔۔۔

تیار رہیے گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ جا چکا تھا تانیہ پریشان سی ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔ کیسا شخص ہے یہ کیوں نہیں سمجھتا میں کوئی عام سی لڑکی نہیں ہوں جو ایسی خواہشات رکھے ۔۔۔۔۔ کیوں مجھے اذیت دینے کے در پر ہے ۔۔۔۔ ” تانیہ رونے لگی تھی پورا دن وقفے وقفے سے روتی ہی رہی تھی نا دوپہر کو بھوک لگی نا کچھ کھایا ۔۔۔ نا ہی رات کو تیار ہوئی تھی اسے ہر بات بتانے کے لئے خود میں حوصلہ مجتمع کرتی رہی ۔۔۔ باہر ڈرو بیل پر کانپ سی گئ تھی ۔۔۔ با مشکل اپنے آنسوں صاف کیے اور باہر کا دروازہ کھولا ۔۔۔ اسکے ہاتھ میں چند شوہر تھے ۔۔ ایک نظر اس نے تانیہ پر ڈالی اسکے چہرے کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی تھی اسے صبح والے حلیے میں دیکھ کر ۔۔۔۔

اندر داخل ہو کر اس نے تمام شوہر سامنے ٹیبل پر رکھ دیے ۔۔۔ بس ایک شوہر کچن میں لے گیا ۔۔۔ دو منٹ میں کچن سے واپس آیا تھا مگر خالی ہاتھ ۔۔۔

” بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے۔۔۔ جلدی سے کھانا لگائیں ٹیبل پر ۔۔۔۔میں بس دو منٹ میں فریش ہو کر آ رہا ہوں ۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ تانیہ کچن میں چلی گئ شلف پر رکھے شوہر کو کھول کر دیکھا تو اس میں بریانی کے دو بکس تھے ساتھ رائتہ اور سلاد بھی تھا ۔۔۔ اس نے بریانی ایک ڈش میں ڈالی اور باہر ٹیبل پر رکھنے لگی جب تک اس نے ہر چیز ٹیبل پر رکھی تھی ۔۔۔ وہ نہا کر اپنے ٹرازر شرٹ میں ملبوس اپنے گیلے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتا ہوا ٹیبل پر بیٹھا تھا ۔۔

” کل مجھے راشن کی لسٹ بنا دیجیے گا ۔۔۔ میں آپ کو لا دوں گا ۔۔۔ ماں باپ میرے ہیں نہیں جو پندرہ دن آپ کو بیٹھا کر کھلائیں اور ایسی کوئی رسم نبھائیں ۔۔۔۔اور میں پندرہ دن کی بازار کی عیاشی بھی نہیں کروا سکتا ۔۔۔ اس لئے کل سے کچن سنبھالنے کی زمہ داری آپ کی ہے ۔۔۔ “اپنی پلیٹ میں بریانی ڈالتے ہوئے وہ بولا ۔۔۔ تانیہ ویسے ہی کرسی کے سامنے کھڑی تھی

“تانیہ بیٹھ جائیے ۔۔۔ ذمہ داری کل سے دی ہے آج سے نہیں ” اس نے اسے یوں کھڑے دیکھ کر کہا

“مجھے بھوک نہیں ہے ” وہ رخ بدل کر بولی اس کا چمچ منہ میں جاتے جاتے رکا تھا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا

” چپ چاپ بیٹھیے اور کھانا کھائیے ۔۔۔۔۔ اسکے علاؤہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتا ہوں میں ” اس بار وہ سنجیدگی سے بولا چہرہ بھی اسپاٹ تھا ۔۔۔ تانیہ چپ چاپ سے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ پلیٹ میں ذرا سی بریانی ڈالی اور کھانے لگی

” میں جتنا آپ سے محبت سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں آپ میرا ضبط آزما رہیں ہیں ۔۔۔

یہ بات میرے مزاج کے خلاف ہے کہ میں اونچی آواز میں چلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاؤں ۔۔۔۔ لیکن انسان ہوں ۔۔۔ اور کوشش یہی کی ہے کہ بہترین انسان ہی بنا رہوں ۔۔۔۔ آپ سے بھی یہی توقع ہے کہ آپ مجھے سختی کرنے پر

مجبور نہیں کریں گئیں ” وہ ساتھ ساتھ کھا رہا تھا اور ساتھ اسے بتا بھی رہا تانیہ کو اسکے ساتھ رہنا کیسے ہے لیکن بات نظریں جھکائے کر رہا تھا مگر لہجہ ذرا سخت تھا چہرے پر بھی گہری سنجیدگی تھی ۔۔۔۔۔ تانیہ کا کھانا کھانا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔ ابھی بامشکل تانیہ نے اپنی پلیٹ خالی کی تھی کہ اس نے دوبارہ سے اسکی پلیٹ بھری تھی ۔۔۔

“کم کھانے والے لوگ مجھے اچھے نہیں لگتے نا ہی اپنے ہی گھر میں تکلف برتنے والے ۔۔۔ یہ بات بھی میں آپ کو روز نہیں سمجھاؤں گا ۔۔۔ یہ گھر آپ کا ہے جو چاہیں جیسے چاہیں سجائیں سنواریں کھائیں پئیں جو چاہے کریں ۔۔۔ بس یہی چاہتا ہوں آپ سے ۔۔۔ ” پانی کا خالی گلاس بھر کر اسکے سامنے رکھا ۔۔۔ اور اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔۔ باقی کاوقت خاموشی سے ہی گزرا تھا ۔۔۔ تانیہ کھانے کے بعد برتن دھو کر کچن صاف کرنے لگی اتنا کام تو تھا بھی نہیں کے گھنٹوں لگتے ۔۔۔ اس لئے سب سمیٹ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ کمرہ خالی تھا صبح جو ڈریس اس نے تانیہ کے لئے نکالا تھا تانیہ واپس الماری میں رکھ چکی تھی ۔۔۔ لیکن وہ اب پھر بیڈ پر پڑا تھا ۔۔۔ سمجھ گئ تھی کہ اسی نے نے رکھا ہے ۔۔۔ اس بار چپ چاپ پہن کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔ قسمت نے پہلے کب اسکی سننی تھی جو اب کچھ اختلاف کرتی ۔۔۔ خود کو وقت کے حوالے کی کر دینے کا سوچ کر خاموش ہو گئ تھی ۔۔۔ آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ دروازہ بند کر کے اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔ وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔

” مجھے بیوی سجی سنوری اچھی لگتی ہے ۔۔۔ بے شک آپ سادگی میں بھی حسین ہیں لیکن اگر کچھ زحمت کر لیتی تو اور بھی پیاری لگتیں” ۔۔۔ یہ کہہ کر سامنے دراز میں سے ایک ڈبیہ نکال کر اس نے اس میں سے دو سونے کے کنگن نکالے ۔۔۔ تانیہ کا ہاتھ تھام کر اسے پہنائے ۔۔۔۔ وہ بڑے ضبط سے بیٹھی ہوئی تھی لیکن جیسے جیسے اسکی قربت کا سوچتی حالت غیر سی ہو رہی تھی

” تانیہ ادھر میری طرف دیکھیں ” تانیہ کو اس قدر بد حواس دیکھ کر وہ بولا لیکن وہ نفی میں سر ہلا نے لگی

“تانیہ میں آپ کا شوہر ہوں کوئی غیر نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ ادھر میری طرف دیکھیں ۔۔۔ ماضی میں آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے میں جانتا ہوں ۔۔۔ “اس بات بے ساختہ تانیہ نے اسکی طرف دیکھا تھا

” نہیں جانتے ۔۔۔ کچھ نہیں جانتے آپ ۔۔۔۔ آ۔۔۔ پ ۔۔ک۔۔کچھ بھی نہیں جانتے ” کئ آنسوں اسکی آنکھوں سے اذیت سے نکل کر رخسار پر آئے تھے ۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر اسکے آنسوں صاف کیے تھے

“ہر شخص زخم دینے والا نہیں ہوتا کچھ لوگ ہر زخم کا مداوا بھی کرنے والے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ہر شخص کو ترازو کے ایک ہی پلڑے میں ڈال دینا تو غلط بات ہے ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے آزمائیں ضرور آزمائیں ۔۔۔ مجھے بھی پرکھ لیں ۔۔ یقینا آپکی سوچ بدل جائے گی ۔۔۔ “

” میں نے کب کہا کہ آپ برے ہیں ۔۔۔ ” تانیہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا

“منہ سے نہیں کہاں لیکن انداز سے تو یہی احساس دلا رہیں ہیں کہ میں بہت برا ہوں آپ کے ساتھ زبردستی کر رہا ہوں ۔۔۔۔ اور ہمیشہ صرف تکلیف اور اذیت ہی دونگا ۔۔۔۔ “

“میں بے بس ہوں ۔۔۔۔ میرے اختیار ۔میں نہیں ہے ۔۔۔ آپ کو سمجھا نہیں سکتی کہ مجھے کسی بھی مرد کی قربت نہیں چاہیے نا کسی برے کی نا کسی اچھے کی ۔۔ مجھے نفرت سی ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔ لفظ مرد سے ۔۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی

” میں بھی آپ کو لفظوں میں شاید سمجھا ہی نہیں سکتا ہوں ۔۔۔ بس یہ چاہتا ہوں کہ اگر زندگی حال میں خوبصورتی سے گزارنے کا موقع دے رہی ہے تو وائے ناٹ ۔۔۔ کیا حرج ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے ” یہ کہتے ہوئے وہ اسکے ہاتھ تھامے اپنے ہونٹوں پر لگا چکا تھا

******…….

“عبداالباسط اپنے مالک سے کہہ چکا تھا کہ وہ بھی اسکے فارم ہاوس میں جائے گا ۔۔۔۔مالک کو بھلا کیااعتراص ہونا تھا ۔۔۔

اس لئے آج کل بہت خوش تھا ۔۔۔ اپنے ایک حافظ دوست کو اس نے یہ بتایا تھا کہ جمعے کو اسے ایک نکاح پڑھوانے لے جائے گا ۔۔۔ یہ نہیں بتایا تھا کہ اپنا نکاح پڑھوانا ہے ۔۔۔ وہ بھی تیار ہو گیا تھا ۔۔۔ اسے بھی خبر نہیں تھی کہ بازار حسن میں نکاح کی تقریب منعقد کی گئی ہے ۔۔۔۔

رات کو وہ جب گھر پہنچا گھر سے کھانا کھا چکے تھے ۔۔۔ ماں بہت خوش نظر آ رہی تھی

” عبداالباسط فاطمہ کے لئے بہت اچھے گھر سے رشتہ آیا ہے لڑکا عالم بھی ہے اور مفتی بھی “

“یہ تو اچھی بات ہے اماں زمین کے پیسوں میں سے اتنے کو بچ ہی گئے تھے کہ فاطمہ کی بارات کا کھانا ہو جائے باقی جہیز تو ابا نے پہلے بھی کبھی نہیں دیا جو اب دیں گئے ۔۔۔۔ ” عبداالباسط کھانا کھاتے ہوئے بولا

“اس لڑکے کی بہن بھی بڑی پیاری ہے حافظہ ہے نیک سیرت بچی ہے ۔۔۔۔ دس جماعتیں بھی پڑھی ہے اور خیر سے قرآن پاک کا ترجمہ تفسیر بھی پڑھ رکھا ہے “

” ظاہر ہی اماں جب بھائی عالم ہے باپ مولوی ہے تو بہن بھی ایسی ہو گی ” عبداالباسط نے لاپروائی سے کہا

“تمہاری ابا کاارادہ ہے فاطمہ کے ساتھ تمہارا نکاح بھی ام حبیبہ سے کر دیں ” ماں کی بات سن کر عبداالباسط کا کھانے پر ہاتھ رکا تھا

“کون ام حبیبہ “

“ارے اتنی دیر سے ام حبیبہ کا ہی تو بتا رہی ہوں تمہیں”

” نہیں اماں جہاں بہن بیٹی دینی ہے وہاں شادی ٹھیک نہیں رہتی ۔۔۔۔ بس فاطمہ کے بارے میں ہی سوچیں ” اب عبداالباسط کیا کہتا کہ دل کہاں لگا بیٹھا ہے ۔۔۔۔ آرء کے علاؤہ نظر کہیں ٹکتی نہیں ہے وہ مان جاتا اگر آتی سے ملنے سے پہلے باپ نے اس کے بارے میں سوچا ہوتا

ماں تو چپ ہو گئ مگر مفتی صاحب نے دوسرے ہی دن خود عبداالباسط سے بات کی

” ابا میں اماں کو وجہ بتا چکا ہوں “

“میرے نزدیک یہ وجہ غیر اہم ہے ۔۔۔ “

“کیوں غیر اہم ہے ابا وٹا سٹا کسی قیمت پر نہیں کروں گا ۔۔۔۔ “

“کیوں کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔ “

“ابا ایک کا گھر نا بسے تودوسرے کا بھی اجڑ جاتا ہے “

“یہ عموما وہاں ہوتا ہے جہاں جہالت ہو دین سے دوری ہو ۔۔۔ ماشااللہ ہماری بچیاں دین کو

سمجھتی ہیں۔ صوم صلات کی پابند ہیں ۔۔۔۔ گھر کو بسانا جانتیں ہیں اس لئے کچھ نہیں ہو گا

“ابا میں یہ شادی ہر گز نہیں کروں گا ۔۔۔ میری طرف سے معذرت ہے ” یہ کہہ عبداالباسط نے گویابات ہی ختم کر دی تھی ۔۔۔۔

“اور ویسے بھی میں ایک ماہ کے لئے فارم ہاؤس جا رہا ہوں تخواہ اچھی ملے گی مالک سے بات ہو گئ ہے میری ۔۔۔”

“تم جاؤں جب واپس آؤں گئے تو بات کروں گا تم سے “مفتی صاف کی پیشانی پر بل سیدھے نہیں ہوئے تھے ۔۔۔

******……

رومی جب اپنے کمرے میں داخل ہوا حیا اسی کے ٹروزر شرٹ میں ملبوس بیڈ پر بیٹھی تھی اسے دیکھ کر سیدھی ہو کر بیٹھ گئ

” تم یہاں کیا کر رہے ہو ” حیا نے ہوں پوچھا جیسے وہ اسکے کمرے میں آیا ہو

” یہ میرا کمرہ ہے ” رومی نے جتاتے ہوئے کہا

“پھر میرا کمرہ کہاں ہے “

وہ آپ کے گھر میں ہو گا ۔۔۔ آپ یہاں کیوں آئی ہیں ۔۔۔ ؟

” دیکھوں مجھے زیادہ سوال مت کروں بس یہ بتاؤں کہ مجھے کہاں رہنا ہے “

” اس گھر میں تو کوئی جگہ نہیں کے دو ہی کمرے ہیں یہ میرا ہے دوسرا میرے بابا کا ۔۔ تیسرا ڈرائیونگ روم کے وہاں صرف مہمان بیٹھنے کے لئے ہی آتے ہیں رات رہنے کے لئے نہیں “رومان نے ترکی با ترکی جواب دیا

” ٹھیک ہے پھر تم جا کر اپنے بابا کا کمرہ شیر کر لو مجھے اکیلے کمرے کی عادت ہے “حیا کی بات پر وہ متحیر ہوا تھا

” چلیں کر لیتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن آپ یہاں رہ کیوں رہی ہیں اپنے گھر کیوں نہیں جاتیں “

“اس لئے کہ ۔۔۔۔۔ ” حیا آدھی بات پر ہی چپ ہوئی تھی

“جی اس لئے کیا ” رومان اس اسے استفہامیہ انداز سے دیکھا

“تم۔۔۔ تمہارے بابا نے مجھ سے ۔۔۔ نکاح کیا ہے ۔۔۔ “حیا نے نظریں چرائیں تھی اور رومان دنگ رہ گیا تھا یہ سن کر

“کیا ۔۔۔۔ نکاح ۔۔۔ نکاح مطلب شادی ؟ ۔۔۔بابا نے ۔۔۔ آپ سے ؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ کر ہی سکتے ؟”

رومان جتنا حیران ہوتا۔ کم تھا ۔۔۔

” میں مان ہی نہیں سکتا ۔۔۔ آپ انکی اسٹوڈنٹ ہیں ۔۔ ہیں ناں ؟”

” ہاں “

“انکے لئے رشتے ڈھونڈنے کا بھی کہہ رہی اس دن ؟ یہ کیا بات ہوئی کہ بابا کے لئے رشتہ ڈھونڈنے کے بجائے خود ہی ان سے شادی کرنے سوچ لیا ۔۔ اور بابا نے مجھے بتایا بھی نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ۔۔۔ “رومان نفی میں سر ہلانے لگا ۔۔ اور کمرے سے نکل گیا ۔۔

*****…….

ثوبیہ صبح گھر میں کہیں نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں پورا گھر اسکے بھائی نے چھان مارا تھا ۔۔۔

بس ایک خط ملا تھا کہ اسکو ڈھونڈنے کی کوشش نا کی جائے ۔۔۔

کمال کا یہ حال تھا کہ ثوبیہ دکھ جائے تو جان لے لے اسکی ۔۔۔ ۔۔۔

اسکے والد الگ سر پکڑے بیٹھے تھے شک تک نہیں ہونے دیا تھا بیٹی نے۔۔۔ ماں سینہ پکڑے بیٹھی تھی ۔۔۔

ثوبیہ نے وہ زخم دیا تھا کہ سہن نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ دل میں میں درد کی لہریں سی اٹھ رہیں تھیں ۔۔۔ باپ بھائی کی غصے سے آنکھیں سرخ تھیں بدنامی کا الگ ڈر تھا ۔۔۔ یہ بات کب تک چھتی آخر کو سب جو پتہ چل ہی جانا تھا

“پتہ ہوتا کہ یہ کالک منہ پر ملے گی تو پیدا ہوتے ہی گلا دبا دیتا اس کا ” باپ نے غصے سے کہا

” ابا اگر مجھے کہیں نظر آگئ تو گردن اڑا دوں گا اسکی ۔۔۔ “کمال کا غصہ آخری حد کو چھو رہا تھا ۔۔۔

” بد بخت مر ہی جاتی تو اچھا تھا ۔۔۔ صبر کر لیتا مگر یہ تو بن موت مار گئ ہے سب کو ” باپ کے لہجے میں غصے کے ساتھ ساتھ اذیت بھی تھی ۔۔ ماں کب سے اپنا صبر آزما رہی تھی ایک لفظ نہیں بولی تھی تب سے ۔۔۔ لیکن شاید برداشت کی سکت بھی نہیں کر پائی چار پائی پر ڈھے گئ ۔۔۔ کمال اور اسکے والد انہیں دیکھنے لگے ۔۔۔ وہ ہلنا جلنا چھوڑ چکیں تھیں ۔۔۔ ایک غم ثوبیہ کا ابھی تازہ تھا کہ ماں بھی چل بسی تھی ۔۔۔۔

گھر میں ایک قہرام سا مچ گیا تھا ۔۔۔۔ ایک رات میں ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔

کاش کے بھاگنے والی ایک بار یہ بھی سوچ لیتی کے اسکے چلے جانے سے اسکے گھر پر گزرتی کیا ہے ۔۔۔ ہر رات ایک اذیت لیکر آتی ہے ہر دن نئے سوال اٹھاتا ہے میت پر جمع ہونے والی عورتوں میں شمس کی ماں بھی شامل تھی اس بات سے انجان کے ثوبیہ کے گھر میں صف ماتم بچھنے میں بہتا بھی برابر کا حصے دار تھا ۔۔۔

“ہائے ہائے اللہ بچائے ایسی بیٹی سے ۔۔۔ کیا ذلت دے کر گئ ہے ۔۔۔ گھر والوں کو ۔۔۔ماں تو سہن نہیں کر پائی مر گئ بیچاری ۔۔۔ چہرے سے کیسی معصوم لگتی تھی ۔۔۔ کوئی دیکھ کر کہہ نہیں سکتا تھا یہ حرکت بھی کر گزرے گئ “محلے کی ایک عورت ہاتھ میں سپارہ پکڑے بول رہی تھی

“ہاں بات تو سچ ہے بہن برابر کا گھر ہے ہمارا ۔۔ سوبار کا آنا جانا تھا سر سے دوپٹہ تک تو کبھی اترتے نہیں دیکھا تھا اس کا ۔۔۔ ہائے ہائے ۔۔۔ اتنا بڑا صدمہ دینے سے پہلے ایک پل تو سوچتی “شمس کی ماں نے بھی لقمہ دینا ضروری سمجھا

” اللہ بیٹی دے تو عزت رکھنے والی دے ورنہ نا ہی دے تو اچھا ہے “تیسری عورت نے کہا ۔۔۔

دوسری جانب شمس کی بے خودی عروج پر تھی

ثوبیہ نے با مشکل اپنا آپ اس سے آزاد کروایا تھا

” شمس پلیز نکاح سے پہلے میرے قریب مت آئیے گا ۔۔۔ ” ثوبیہ بگڑ کر بولی

“ٹھیک ہے چلتے ہیں ابھی کچہری کورٹ میرج کر لیں گئے ۔۔۔ اب تو خوش ہو ۔۔۔ ” شمس مسکرا کر بولا

لیکن ثوبیہ بے چین تھی

“پتہ نہیں کیوں شمس میرا دل بہت گھبرا رہا ہے لگتا ہے بہت غلط کچھ کر بیٹھی ہوں ۔۔۔ ” ثوبیہ وہیں بیڈ پر اسکے برابر بیٹھ گئ

“ثوبی کیوں پریشان کو رہی ہو بس چند مہینوں کی بات ہے ۔۔۔ میں خود ہاتھ کر منا لوں گا تمہارے گھر والوں کو ۔۔۔ سارا خود ہر لے لوں گا ۔۔۔ مان جائیں گئے وہ ابھی تو ساری طور پر غصہ ہوں گئے ۔۔۔ ” شمس کی تسلی بھی ثوبیہ کی بے چینی دور نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد وہ لوگ کورٹ گئے مگر وہاں پھتراو۔ کوریا تھا وکیلوں کی ہڑتال چل رہی تھی انکے کچھ مطالبے تھے جو حکومت پورے نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ جلسے جلوس دیکھ وہ لوگ واپس آ گئے ۔۔۔ رات کو ثوبیہ بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔

ایک کمرہ پھر شمس کی بے باک نظریں ۔۔۔

” تم کیوں شکل پر بارہ بجائے بیٹھی ہو ثوبی ۔۔۔ “شمس اسکے برابر میں صوفے پر بیٹھ گیا ثوبیہ ذرا سا پیچھے ہٹ گئ ۔۔

” شمس تم بیڈ پر لیٹ جاؤں میں صوفے پر سو جاؤں گی ۔۔۔ “ثوبیہ کی بات پر شمس کی ہنسی بے اختیار تھی ۔۔۔

” اچھا۔۔ کوئی ڈرامہ چل رہا ہے یا کوئی کہانی ۔۔۔ تم میرے سامنے ہو ۔۔۔ اور میں آرام سے بیڈ پر لیٹ کر سو بھی جاؤں ۔۔۔ کیسے ممکن ہے ثوبی جان ” اسکی آنکھیں بھی وہی خباثت برسارہیں تھیں جو لجہ اور باتیں بیان کر رہی۔ تھیں

” شمس میں نکاح سے پہلے ایسا کچھ نہیں چاہتی “

“میں تو گیا تھا تمہیں لیکر ۔۔۔ اب اگر نہیں ہو سکا تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔۔۔

دیکھوں مجھے شادی تمہیں سے کرنی ہے ثوبی اور تمہیں مجھ سے ۔۔۔ پھر کیا فرق پڑتا ہے کسی کو کون سی خبر ہونی ہے ۔۔۔ “شمس نے آنکھ دبا کر کہا

“لیکن ہمیں تو پتہ ہے نا یہ گناہ ہے ۔۔غلط ہے ” ثوبیہ کا لہجہ سخت ہوا تھا مگر شمس کی ہنسی بے ساختہ تھی

” اتنی گناہ کی فکر تھی تو محبت کیوں کی تھی ۔۔۔ ہم نے اب تک ثواب کیا ہی کیا کے ثوبی ۔۔۔ پہلی بار میری مسکراہٹ کا جواب تم نے مسکراہٹ سے دیا ۔۔۔ کیا وہ ثواب تھا۔۔۔۔

میرے خط کسی لحاظ سے پڑھنے کے قابل نہیں تھے نا وہ باتیں جو ۔میں تمہیں۔ لکھ کر دیتا تھا ۔۔ لیکن پڑھتی تھی کیاوہ غلط نہیں تھا ؟۔۔ میرے ساتھ کئ بار تم پارکوں میں ۔۔ ہوٹلوں میں گئ ہو کیا یہ ٹھیک تھا ؟ یا یہ ٹھیک ہے یہ کہ تم بھاگ کر ۔میرے ساتھ یہاں لاہور میں اس ہوٹل کے کمرے ۔میں موجود ہو ۔۔۔ ؟ جہاں اتنا غلط اور گناہ کر لیا تو تھوڑا اور کرنے میں حرج ہی کیا ہے ۔۔۔”

” شمس یہ سب میں نے تمہاری محبت ۔میں کیا ہے ورنہ تم جانتی ہو میں ایسی نہیں ہوں ۔۔۔”ثوبیہ اسے نا جانے کیوں اپنے کردار کی گواہی دے رہی تھی

“ہاں تو ۔میری میں نے کب انکار کیا ہے ۔۔۔ محبت میں سب ۔۔۔کچھ۔۔۔۔ جائز ہے ثوبی ۔۔ وہ بھی جو میں آج کروں گا ۔۔۔ ” شمس اسکے کان کے قریب ہو کر بولا

“شمس ۔۔ پلیز ۔۔۔ ” ثوبیہ اٹھ کر کھڑی ہوئی ہائی تھی

” بہت ڈرامے کر لئے تم نے ۔۔ بس ذیادہ نخرے مت دیکھاوں مجھے کہا ہے کل نکاح کر لو۔ گا ۔۔۔ ” شمس نے کھڑے ہو کر سختی سے ثوبیہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا پھر ثوبیہ کی ایک نہیں سنی تھی

******…….

جازم کی باتیں اور یوں روز روز آنا نور جہاں بیگم کو پریشان کرنے لگا تھا ۔۔۔ ایک بار وہ رات کو آیا تھا رقص جاری تھا بڑی بے تکلفی سے وہ نور جہاں کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ سب کی نظریں اس نوجوان پر تھیں ۔۔۔ رقص کے دوران کسی کی مجال نہیں تھی کہ نور جہاں کے تخت پر اس کے ساتھ بیٹھے ۔۔۔

لوگ بس آ کر قیمت ہی ادا کرتے تھے ۔۔۔ نور جہاں نے نا گوارہ سے اسے دیکھا ۔۔۔ لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔ رقص ختم ہوتے ہی ایک ڈھیڑ عمر کا شخص نور جہاں کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔ اور رقص کرنے والی لڑکی کی قیمت پوچھنے لگا ۔۔۔ سودا ہوتے ہی اس نے پیسوں کا بنڈل نور جہاں کے سامنے پھنکا ۔۔۔ ساتھ ہی نور جہاں کی آوارہ لڑ جو چہرے پر ہوا سے بار بار آ رہی تھی اسے پیچھے کرنے لگا

“تمہارا حسن تو اب بھی ۔۔۔ بے چین کرنے کے لئے کافی نوری “

جازم کاغصے سے برا حال ہوا تھا اس نے اس شخص کا ہاتھ زور سے پیچھے کو جھٹکا ۔۔۔

وہ آدمی غصے سے جازم کو دیکھنے لگا

” ہاتھ کیسے لگایا تم نے انہیں ۔۔۔ ہمت کیسے ہوئی تمہاری انہیں چھونے کی ” جازم نے اس شخص کا گریبان پکڑ لیا خونخوار آنکھیں اسکی نشے سے چور آنکھوں میں ڈال کر غرا کر بولا

“ارے چھورے چھوڑ اسے ” نور جہاں بری طرح گھبرائی تھی ۔۔۔ وہ امیر نواب تھا بہت پیسے والا تھا ۔۔۔ کافی مرد ادھر ہی جمع ہو گئے

” اے لڑکے میرا گریبان چھوٹ ورنہ “

“ورنہ کیا کروں گئے ۔۔۔ اپنی حد ۔میں رہناسیکھوں سمجھے ۔۔۔ جس کی قیمت بھری ہے اسی کے پاس جاؤں دوبارہ اگر انہیں چھونے کی کوشش کی تو مار ڈالوں گا تمہیں ” جازم نے نور جہاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا نور جہاں کاتو رنگ ہی اڑچکر تہ گیا تھا

“تجھے کیا تکلیف ہے میری مرضی جو چاہے کروں ۔۔۔ تو کون ہوتا ہے بولنے والا “وہ شخص بھی غصے سے بولا جازم نے اسکے منہ پر مکا مارا ناک سے خون نکلنے لگا تھا باقی کے لوگ اسے جازم سے چھڑوانے لگے نور جہاں نے جازم سے اس کا گریبان چھڑوانے کی کوشش کی

“پاگل ہو گیا ہے تو ۔۔۔ چھوڑ اسے کمبخت مار ڈالے گا کیا ” نور جہاں نے بڑی مشکل سے جازم سے اس شخص کا گریبان چھڑایا ۔۔

اچھا خاصا تماشہ سا لگ گیا تھا ۔۔۔ تمام رقص کرتی لڑکیاں ایک کونے ڈر کر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔

“سب لوگ جاؤں یہاں سے کوئی سوداناہی ہو گا۔۔ آج “نور جہاں کے سخت لہجے پر سب واپس جانے لگے نور جہاں پیسوں کا بنڈل اس شخص کو واپس کر کے چلتا کیا سب کے جانے بعد جازم کے سامنے بڑے غصے سے کھڑی ہو گئ غصے میں وہ بھی بہت تھا

” دفع ہو جا یہاں سے دوبارہ آیا تو چھوڑو گی ناہی تجھے “

” میں یہاں تب تک آتارہوں گا جب تک آپ میرے ساتھ جائیں گئیں ۔۔۔ ” جازم کی وہی ہر بار کی بات سن کر ایک زور دار تھپڑ تھا جو نور جہاں نے اس کے منہ پر مارا تھا۔۔۔

” تیری ذرخیرید ہوں میں جو مالک بنا پھرتا ہے مجھ پر ۔۔۔ کوئی مجھے ہاتھ لگائے یا جو مرجی کرے تو کون ہوتا ہے ہنگامہ کرنے والا ۔۔ کیا تو اس واسطے نہیں آتا یہاں ۔۔۔میرے ساتھ وقت ناہی بیتاتا ۔۔۔ گلے ناہی لگتا ۔۔۔ کیا ناہی کرتا فرق کا ہے تجھ میں اور اس ۔میں ” نور جہاں غصے سے جو شروع ہوئیں جازم انہیں پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا انہیں کیوں اسکی محبت میں واقع فرق نہیں آیا تھا

” بہت فرق ہے ۔۔ مجھ میں اور ان کمینوں میں ۔۔۔

میں ایسی نظروں سے نہیں دیکھتا آپ کو ناہی دیکھ سکتا ہوں ۔۔۔کیا میری قربت سے بس یہی احساس ہوا ہے آپ کو ۔۔۔ میری محبت میں۔ بہت فرق ہے ۔۔۔۔ غلاظت نہیں ہے اس میں ۔۔۔ نا ہو بھی سکتی “

” یہاں سب ایک طرح کی محبت کرنے آتے ہیں چھورے ۔۔۔ صرف ایک ہی رشتہ ہوتا ایک مرد اور ایک عورت کا بس ۔۔۔ تو کون سی پٹی پڑھانے آیا ہے مجھ کو ۔۔۔۔۔ تجھے شرم آتی ہے ماں جتنی عمر کی عورت سے عشق لڑاتے ہوئے “

” ماں جیسی نہیں آپ ۔۔۔ “وہ چلا کر بولا

” میری ماں ہیں آپ ۔۔۔۔ “جازم نے بے بسی سے کہا کئ آنسوں آنکھ سے بہے تھے ۔۔۔ نور جہاں ششدد سی اسے دیکھتی رہ گئ تھی

******……

رومان سیدھا ارتضی کے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔۔

بنادستک دیے داخل ہوا تھا آنکھوں میں آنسوں تھے

ارتضی راکنگ چیر پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا پورا کمرہ سگریٹ کے دھوئیں سے بھرا ہوا تھا ۔۔۔ وہ سیدھا آ کر ارتضی کے سامنے کھڑا ہو گیا

“بابا آپ نے شادی کر کی ہے آپ ی اسٹوڈنٹ سے ؟”

آنکھوں میں جھلملاتے آنسوں لئے رومان نے پوچھا تھا ارتضی نے برجستہ اسے دیکھا

“کس نے کہا تم سے “

“اسی نے ۔۔ وہی حیا ۔۔۔ بابا کیوں کی آپ نے اسے شادی مجھے وہ ذراپسند نہیں ہے ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے ابھی حارث کا فون آیا تھا کہہ رہا تھا تمہارا باپ اچھا انسان نہیں ہے ۔۔۔ اس نے ایک لڑکی کے ساتھ ریپ کیا ہے ۔۔۔ یہ ریپ کیا ہوتا ہے بابا “”رومان کے منہ سے یہ لفظ سن کر ارتضی کے رہے سکے اوسان بھی خطا ہوئے تھے ۔۔۔

” بکواس کر رہا ہے حارث تم سے کچھ نہیں کیا میں نے ۔۔۔ سنو اپنا موبائل مجھے دو ۔۔۔” ارتضی نے ہاتھ آگے بڑھایا رومان نے جیب سے موبائل نکال کر اسے پکڑا دیا

” فی الحال میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے رومی میں تمہیں کسی جواب نہیں دے سکتا لیکن کل دے دیدوں گا ۔۔۔ تم اپنے کمرے میں جاؤں “

“بابا وہ میرے کمرے میں ہے کہہ رہیں ہیں کہ ۔۔۔ میں آپکے ساتھ ایڈجسٹ کر لوں انہیں اکیلے کمرے

میں رہنے کی عادت ہے ” حیا پر توارتضی کو ویسے ہی غصہ کم نہیں ہوتا تھا بڑی مشکل سے خود کو قابو کیے ہوا تھا رومان کی بات سن کر آگ سی لگ گئ تھی اسے

“اس کے باپ کا گھر نہیں ہے یہ ۔۔۔ اسے کہو نکلے تمہارے کمرے سے باہر ۔۔۔ لاونج میں سوئے جا کر ۔۔۔ اگر میں باہر آگیا تو شاید گلا دبا دوں اس کا مار ڈالوں سے بہتر یہ ہے کہ مجھے باہر نکلنے پر ۔مجبور نا کرے ” وہ چلا کر بولا تھا رومان خود بھی گھبرا س گیا باپ کے غصے کو دیکھ کر اس لئے الٹے قدم باہر نکلا تھا

******……

آرء دو دن سے موقع ڈھونڈ رہی تھی جہان بیگم سے بات کرنے کا ۔مگر مل نہیں رہا تھا ۔۔۔ رات کو جہان بیگم پیسے گن رہی تھی جب آرء اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔

“اماں مجھے کچھ کہنا ہے تجھ سے “

“ہاں بول ” پیسے گنتے ہوئے جہان بیگم نے کہا

“وہ جو آتا ہے نا مجھ سے ملنے ۔۔۔ ” آرء نے جھجکتے ہوئے کہا

“کون “جہان بیگم کا دھیان پیسوں گی گنتی میں تھا

“اماں ۔۔۔ وہی ۔۔ مولوی ۔۔۔۔ مو۔۔۔لوی کا ۔۔۔بی۔۔۔ٹا” لفظ آرء کے حلق میں اٹکے تھے

“ہاں وہ چھورا ۔۔۔ کا ہوا اسے “

“اماں ۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔۔ شادی کرنا چاہتا ہے ” یہ کہہ کر آرء ذراسا پیچھے ہٹیں تھی پتہ تھا جہان بیگم چھوٹتے تھپڑ مرادیں گئیں ۔۔۔

جہان بیگم کی نوٹوں سے گرفت چھٹی تھی سارے گنے ہوئے نوٹ دوبارہ سے ان گنے نوٹوںسے برابر ہوئے تھے جہان بیگم کی گھورتی نظر سے آرء کی جان لبوں پر آئی تھی