Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Last Episode (Part 1)

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Last Episode (Part 1)

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

” بابا منا دس دن کا ہو گیا ہے اس کا نام تو کچھ رکھیں ۔۔۔ ” رومان کے احساس دلانے پر ارتضی کو بھی ہوش آیا تھا حیا تو ویسے اس سے لا تعلق تھی ۔۔۔ وہ صرف ارتضی کی ذمہ داری تھا

” ہاں ۔۔۔ مجھے تو خیال ہی نہیں رہا ۔۔۔اس نام ۔۔ ۔۔ سبحان رکھ دیتے ہیں رومان اور سبحان ۔۔۔ مطلب بھی بہت اچھا ہے اس کا اللہ کی پاکی اور حمدو ثناء کرنا “

” بابا یہ ممی کے پاس کیوں نہیں رہتا ۔۔ یا وہ آنٹی اسے سنبھالتی ہیں یا آپ ” رومان نے کام کرنے والی خاتون کا ذکر کیا

” تمہاری ممی کی طعبت ٹھیک نہیں ہے ۔۔ خود بھی بیمار ہیں اس لئے ۔۔۔ ” ارتضی نے بات کو بدلہ تھا ۔۔۔

سبحان کو فیڈر پلا کر اسے سلا کر رومان کے کمرے میں ہی لیٹادیا رومان بھی سبحان کے ساتھ لیٹ کر سو گیا تھا ۔۔۔ رات کووہ لاونج میں بیٹھا وہاج سے بات کر رہا تھا جب حیا کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔۔ ارتضی کی آواز پر۔۔۔ اس نے گھڑی کی جانب دیکھا تو رات کاایک بج رہا تھا ۔۔۔ اسے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید حمیراسے بات کر رہا ہے اپنی تکلیف بھولے وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ دھیرے سے دیور کا سہارا لیکر کمرے کے دروازے تک پہنچی ۔۔ ذرا سا دروازہ کھولا آواز اب صاف طور پر سنائی دے رہی تھی ۔۔ ارتضی کی اسکی جانب پشت تھی

” وہاج میں دس دن کے اندر آذر کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دوں گا ۔۔۔ اب مزید وقت ضائع نہیں کر سکتا۔۔۔۔ پیسوں کی فکر مت کرو تانی کا سارا زیور بیچ دیا ہے میں نے ۔۔۔۔ پھر فلیٹ سیل کیاتھاوہ پیسے بھی میرے اکاونٹ میں ہیں بس ۔۔ مجھے وکیل اچھا کروانا ہے ۔۔۔ جتنا پیسہ لگ جائے آذر بری نہیں ہونا چاہیے بس ۔۔۔ “

” ارتضی تمہاری ساری زندگی کی جمع پونجی ہے کیوں لٹا رہے ہو اس پر ۔۔ وہ تو کیس ختم ہوتے ہی چلی جائے گی

” وہاج جو قربانی حیا نے دی ہے وہ ان پیسوں سے بڑھ کر ہے ۔۔۔ مجھے جان کی بازی بھی لگانی پڑی تو پیچھے نہیں ہٹوں گا بس ایک کام تم میرا کرود “

” وہ کیا “

” یار مجھے رومی اور سبحان کی فکر ہے ۔۔ تم جانتے ہو رومی میرے لئے کیا ۔۔۔آذر ایک سیاست دان کا بیٹا ہے ۔۔۔ میں ایک ادنی سا پروفیسر ۔۔۔ وہ میری کمزوری پر ہاتھ ضرور ڈالنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔ اسے پہلے کہ وہ رومی کو کچھ کرے میں چاہتا ہوں سب سے پہلے رومی اور سبحان کو نظروں سے اوجھل کر دوں ۔۔۔ کوئی ایسا محفوظ مقام ہو جہاں آذر کے باپ کی سوچ نا پہنچ سکے “

” تم میرے گھر پر چھوڑ دو دونوں کو مریم خیال رکھ لے گی “

” نہیں وہاج تم فوراسے پکڑ میں آؤں گئے تم نہیں کوئی ایسا ہو جہاں تک انکی رسائی نا ہو سکے تا کہ میں کمزور نا پڑ جاؤں ۔۔۔۔ ” ارتضی بے حد پریشان تھا ہر پہلو پر سوچ رہا تھا ۔۔

ٹھیک ہے میں چند دن تک رومان کا ایک ایسی جگہ انتظام کروا دوں گا کہ آذر ہمدانی کی پہنچ وہاں تک نہیں ہو گی ۔۔۔ “

” بس ایک بار سب کچھ سیٹل ہو جائے تو اس شخص کو میں اٹھنے نہیں دونگا ۔۔۔ “

” انشاللہ ایسا ہی ہو گا “

” او کے اللہ حافظ ۔۔۔ ” فون بند کر کے ارتضی نے پلٹ کر رومان کے کمرے میں جانے لگا لیکن اسکے پیچھے ہی حیا کھڑی تھی ۔۔۔

” تم ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔ کس نے کہا تھا تمہیں بیڈ سے نیچے اترنے کو تمہاری طعبیت ٹھیک نہیں ہے آرام کرو تم ۔۔۔ ” ارتضی نے اسے بازو سے پکڑا

” چھوڑیں ۔ مجھے ۔۔۔ ” حیا نے جھنجھلا کر اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا

” مجھے کوئی کیس نہیں لڑنا” وہ چلا کر بولی

“حیا یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔ اب منزل کے قریب پہنچ کر تم یہ کر رہی ہو “

” میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ کیس کرنے کی وجہ سے رومی خطرے میں آ سکتا ہے ۔۔ نہیں ۔۔۔ میں نہیں لڑو گی ۔۔ ” وہ نفی میں سر ہلانے لگی

” حیا رومان کا انتظام میں کر رہا ہوں ۔۔۔ ” ارتضی نے اسے رسانت سے سمجھانا چاہا

” میری خاطر کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب ۔۔۔ اپنی دل عزیز بیوی کا زیور تک بیچ دیا آپ نے ۔۔۔ کتنی یادیں جڑی تھیں آپکی ان سب چیزوں سے ۔۔۔۔ “

” بیجا نہیں گروی رکھوایا ہے ۔۔۔ بعد میں پیسے دے کر واپس کے لوں گا اور یادوں کا کیا ہے ۔۔ زیور کے بنا بھی وہ میری یادوں میں شامل ہے چیزیں شرط نہیں ہوتی کسی کو یاد رکھنے کے لئے ۔۔۔ “

” پھر بھی میرے لئے کیوں “

” تمہارے لئے نہیں اپنے لئے ۔۔۔مجھے بھی میری کھوئی عزت واپس چاہیے ۔۔۔ ‘

” جھوٹ بول رہے ہیں آپ ۔۔۔ مرد کو زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ “

” عزتدار مرد کو فرق پڑتا ہے ۔۔۔ چلو اب جا کر آرام کرو اپنی صحت کا خیال رکھو بہت جلد ہمہیں آذر کو اس کے کئے کی سزا دلوانی ہے ” ارتضی اسے واپس کمرے میں لے گیا

چند دن تک

رومان اور سبحان کو وہاج نے اپنے رشتےدار کے گھر بھیجوا دیا تھا ۔۔۔ سبحان کا بلڈ سیمپل وہ لے چکے تھے ۔۔۔ ویڈیو ارتضی کے پاس موجود تھی ۔۔۔

جس میں آذر نے اپنے جرم کا اقرار کیا تھا ۔۔۔ ایف آئی آر کٹوانے سے پہلے ارتضی اس اخباری رپوٹر کے پاس پہنچ گیا تھا ۔۔۔ اس کے کیبن میں اسکے سامنے جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔ اس لڑکے نے اپنا چشمہ ٹھیک کر کے ارتضی کو دیکھا لیکن بات خاصی پرانی ہو چکی تھی اس لئے پہچان نہیں پایا

” جی فرمائیے کون ہیں آپ “

” ایک دھماکے دار خبر ” ارتضی نے مسکراکر کہا

” کیا مطلب کیسی خبر “وہ نافہمی سا ہو کر بولا

” ایک ریپ کیس کی ۔۔۔ بہت شہرت ملے گی تمہیں

نامور صحافی بن جاؤں گئے اس بات کی گارنٹی میں دیتا ہوں تمہیں ” ارتضی کی بات پر وہ ہسنے لگا تھا

“ایسا کون سا انوکھا ریپ کیس ہے کہ میں مشہور ہو جاؤں گا ۔۔۔ایسے کیس ڈئیلی بیسڈ پر کئ سو کی تعداد میں ہمہیں موصول ہوتے ہیں ۔۔۔

” آذر ہمدانی کا نام سنا ہے ” ارتضی کے منہ سے یہ نام سن کر اس لڑکے نے اپنا چشمہ دوبارہ ٹھیک کیا تھا ۔۔۔ وہ ٹیک لگائے بیٹھا تھا لیکن یہ نام سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔

” م۔۔طلب ۔۔ م۔۔میں سمجھا نہیں ” وہ یک دم گھبرایا تھا ۔۔۔

” نہیں سنا ۔۔۔ حیرت ہے یار اتنے بڑے باپ کا بیٹا ہے ۔۔۔ تم صحافی ہو کر نا انجان ہو ۔۔۔ دلاور ہمدانی کا اکلوتا بیٹا ۔۔۔ آذر ہمدانی۔۔۔ “

” آپ کھل کر بات کریں ۔۔۔” وہ لڑکا خود کو بااعتماد ظاہر کرنے کوشش کر رہا تھا لیکن نا کام ہو رہا تھا ۔۔۔

” آج سے دس ماہ پہلے اسلام کے کالج میں ایک واقع پیش آیا تھا ۔۔۔ یاد ہو گا تمہیں ۔۔۔ بڑی شہرت ملی تھی تمہیں اس میں ۔۔۔ واقع کچھ یوں تھا ایک مشہور انڈسٹریل سلیمان کی اکلوتی بیٹی کا ریپ ہوا تھا ۔۔۔۔ تم نے ہی عین موقع پر پہنچ کر اپنے کیمرے کی مہارت دیکھائی تھی ۔۔۔ کیا فلم بنائی گئ تھی تم نے بھی واہ ۔۔۔ لگ رہا تھا کہ حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا ہو ۔۔ ” ارتضی نے داد دینےبوالے انداز سے کہا

” وہ ۔۔۔ تو ۔۔ ایک پروفیسر نے ریپ کیا تھا ۔۔۔ اور اس لڑکی نے اسی وقت ان سے نکاح کر کے کیس وہی ختم کر دیا تھا ۔۔۔

” یہ تو سر آئینہ تھا میرے یار جو تم نے دیکھایا تھا ۔۔۔ پس آئینہ کچھ اور تھا ۔۔۔ ” ارتضی کی بات پر وہ نروس ہوا تھا

” میں آپ کی بات نہیں سمجھا ۔۔۔ ” اسکے چہرے پر اب بدحوسی سی چھانے لگی

” حیا کا ریپ ضرور ہوا تھا لیکن کرنے والاآذر ہمدانی تھا ۔۔۔ اور اس کے کہنے پر مجھے پھسانے والے تم تھے ۔۔ یاد آیا کچھ ” ارتضی نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کر کے کہا وہ لڑکا کب سے اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن۔ اب پہچان چکا تھا ۔۔

” آپ وہ ۔۔۔ پروفیسر ہیں ؟

” ہمم میں ہی وہ پرفیسر ہوں ۔۔۔ جسے تم نے ایک جھوٹے ڈرامے کا حصہ بنا کر بد نام کر کے رکھ دیا۔۔۔ ایک لڑکی کی عزت سے کھیل کر اسے بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مجھ پر الزام لگوا دیا ۔۔۔ “

“کیا ثبوت ہے آپ کے پاس ۔۔۔” اس لڑکے کی زبان لڑکھڑائی

” ثبوت ہے تو بات کر رہا ہوں ۔۔۔ تمہاری وہ ویڈیو میرے پاس ہے جس میں تم نے آذر کے ساتھ مجھے پھسانے کا پلان بنایا تھا ۔۔۔ آواز کے ساتھ تمہاری تصویر بھی موجود ہے ۔۔۔ کہوں تو میڈیا میں دے دوں ۔۔۔ آذر کے ساتھ تم بھی مشہور ہو جاؤں گئے ” یہ سن کر وہ حواس باختہ ہوا تھا

“نہیں ایسا کچھ مت کریں وہ تو بڑے باپ کا بیٹا ہے بچ جائے گا لیکن میں مفت میں مارا جاؤں گا ۔۔۔

” کیوں کیا تھا تم نے میرے ساتھ یہ سب ۔۔ “عرصہ نے سخت لہجے سے پوچھا

” آذر کے کہنے پر ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ اسکی آپ کے ساتھ کیادشمنی تھی ۔۔۔ میں تو ایک دن کالج میں انٹر ویو کے لئے آیا تھا ۔۔۔۔۔ تقریری مقابلے کے حصہ لینے والے لڑکے لڑکیوں کے انٹر ویو لے رہا تھا جب میں نے پہلی بار حیا کو دیکھا ۔۔ امیر باپ کی بیٹی تھی کچھ مغرور بھی تھی ۔۔۔ مجھ سے اپنے انٹر ویو کا کہنے لگی میں نے بات مزاق میں اڑا دی وہ تو وہاں سے چلی گئ لیکن دو لڑکے مجھے پکڑ کر کینٹین کی بیک سائیڈ پر لے گئے ۔۔ وہاں پہلی بار ۔میری آذر سے ملاقات ہوئی ۔۔۔

اس نے مجھے اپنا پلان بتایا ۔۔ لیکن میں نے انکار کر دیا ۔۔۔ اس نے ایک بھاری رقم میرے سامنے رکھ دی ۔۔ پھر میں نے نئ نئ صحافت جوائن کی تھی خبر تو مجھے ایسی چاہیے تھی جو میرے لئے شہرت کا سبب بنے بس میں لالچ میں آگیا ۔۔۔ اس دن میں نے جو کچھ کیا آذر کے کہنے پر کیا تھا ۔۔۔ آذر کا مقصد آپ کو جیل پہچانا تھا لیکن حیا نے نکاح کا شوشا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔ میں بہت غریب ماں باپ کا بیٹا ہوں مجھے مت پھسایے “

” تم جانتے ہو کس کرسی پر بیٹھے ہو تم ۔۔۔ ایک صحافی کی ذمہ داری جانتے ہو کیا ہے ۔۔۔ سچ کی تلاش کرنا مظلوموں کی آواز بننا ۔۔۔ تم نے اپنی صحافت کا سودا حق اور سچ کو چھوڑ کر چند سکوں پر کر لیا ۔۔۔ ” وہ ارتضی کی بات پر کچھ نہیں بولا

“انسپکٹر ” ارتضی کی پکار پر سیول لباس میں ملبوس پولیس آفیسر سامنے آکر کھڑا ہو گیا

” آپ نے مجرم سے جرم کا اقرار سن لیا ہے وہ آ۔ اور ریکارڈ بھی ہو چکا ہے ۔۔۔۔ اریسٹ ہم ” وہ لڑکا ہکا بکا رہ گیا تھا ارتضی پوری تیاری سے آیاتھا ۔۔۔ مریم کا کزن جو پولیس انسپکٹر تھاوہی اس کے ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔ وہاج کے ساتھ مل کر اسی انسپکٹر نے یہ پلان بنایا تھا ۔۔۔ وہ لڑکا گرفتار ہو چکا تھا اور اسکے چند گھنٹے بعد آذر ہمدانی بھی ۔۔۔

******…….

عبداالباسط نے چند قدموں کا فاصلہ بڑی مشکل سے طے کیا تھا ۔۔۔۔ بڑی لمبی مسافت تنہا طے کی تھی دونوں نے

ایک عمر گزر چکی تھی بیس دن کی محبت کی رفاقت چھبیس سالوں کی جدائی پر محیط ہوئی تھی ۔۔۔ جوانی بڑھاپے میں بدل چکی تھی ۔۔۔۔

پہلی ملاقات میں آنکھوں میں آنے والی نمی نے چھبیس سال خوب رلایا تھا ۔۔۔۔ آرء اب بھی مجسمہ بنی کھڑی تھی ۔۔۔ وہی سرخ چادر اوڑھے عبدالباسط کو کوئی خواب سا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اب اسے وہ وہی آرء لگ رہی تھی۔۔۔ لگتا وقت جیسے وہیں ٹہر گیا اس آخری ملاقات پر اور وہ جمود جیسے ٹوٹا تھا

اس کے پاس آ کر کسی مجرم کی سر جھکا گیا تھا کپکپاتے ہاتھ جوڑ کر اسے معذرت کرنے لگا

” مجھے معاف ۔۔۔۔ کر دو آرء میں تمہاراحق نہیں ادا کر سکا ” آرء نے برجستہ اسکے ہاتھ تھامے تھے نفی میں سر ہلانے لگی

” کاہے گناہگار کرتے ہو آرء کو ۔۔۔ میں نے تو تجھ سے کوئی شکایت کی ہی ناہی ۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا جازم تجھے ڈھونڈ لے گا تو کبھی تیرا پتہ بھی نا بتاتی ” آرء کو افسوس سا ہوا تھا

” کیوں “

” بہت بڑا مولوی ہو گیا ہے تو ۔۔۔ عجت اور رتبہ دونوں بڑھ گئے ہیں ۔۔۔ تیرا نام تو کافی آگے بڑھ گیا عبداالباسط ۔۔۔ لیکن آرء ۔۔۔ آرء اب بھی وہی جہان بیگم کے کوٹھے کی باسی ہے۔۔۔۔ طوائفوں کی قسمت اور ٹھکانہ کبھی ناہی بدلتا ۔۔۔ چاہے دل کتنا ہی کیوں نا بدل جائے ۔۔۔ جگہ ناہی بدلتی ۔۔۔ آرء نے اپنی جندگی میں یہی جانا ہے ” جہاں آراء بنا آنکھ چھپکائے اسے دیکھ رہی تھی جیسے چھبیس سال پہلے دیکھا تھا پوری رات جاگ کر ۔۔۔ ایک لمحہ نہیں سوئی بس اسے آنکھوں میں بھر لینا چاہتی تھی اب بھی ایسے ہی دیکھ رہی جیسے دوبارہ دیکھ نہیں پائے گی ۔۔

” اب تو کوئی جہان بیگم نہیں ہے آرء نا۔ کوئی مفتی انور ۔۔۔ اب صرف عبداالباسط ہے اور آرء ہے ۔۔۔۔ میں سب کے سامنے اعتراف کرنا چاہتا کہ تم بیوی ہو میری ۔۔۔ جازم میرا بیٹا ہے ۔۔۔ ” عبداالباسط نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تھا

” ناہی عبداالباسط ۔۔۔۔ اب تو اور بھی مشکل ہے ۔۔۔

یہ تیرا مدرسہ ہے ۔۔۔ ہزرواں بچے تیری دل سے عجت کرتے ہیں تجھ جیسا بننا چاہیے ہیں ۔۔۔ اگر کسی کو خبر بھی ہو گئ کہ میں تیری بیوی ہوں ایک طوائف ہوں ۔۔۔ تو ساری جندگی کی کمائی ہوئی عجت ایک پل میں ختم ہو جائے گی ۔۔۔ میں نے تو جازم کو بھی اجازت ناہی دی کے دنیا کے سامنے مجھے ماں کہے تجھے بھی ناہی دے سکتی ۔۔۔۔۔ میں تو جاہل گوار ہی رہی عبداالباسط پر تیرے بیٹے کو پڑھا لکھا ایک نیک انسان بنا دیا ہے ۔۔۔۔۔ شکر ہے میرے رب کا ایک نیک انسان سے ملوا دیا اس نے ۔۔۔ اپنے قول کا پکا نکلا وہ بہن کہا تھا اس نے مجھے ۔۔۔ وہ میرا سگا تو ناہی تھا پر بھائی ہونے ک حق پورا ادا کر گیا بڑی اچھی تربیت کی ہے اس نے جازم کی ۔۔۔ میرا بیٹا شرم وحیاء والا ہے بلکل تیری طرح۔۔۔ ہارون الرشید کی طرح ۔۔۔۔۔”

” آرء میں تمہیں اب نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ ایک عمر کی مسافت تہنا کاٹی ہے ۔۔۔ دل کا مریض ہو گیا ہوں

مزید آزمائشوں کے قابل نہیں رہا ۔۔۔دنیا کی پروا نہیں ہے مجھے ۔۔۔ ” عبداالباسط جسے تھک چکا تھا

” پر مجھے تیری عجت کی پروا ہے ۔۔۔۔ اصل وجہ کوئی جاننے کی کوشش ناہی کرے گا عبداالباسط۔۔۔ نا تیری سچائی ہے یقین کرے گا نا میری پاکدامنی پر ۔۔۔ بس سب یہ سن کر کے عبداالباسط نے ایک طوائف سے شادی کی تھی ۔۔۔ تیری دینداری کو گندی گالی دینے میں دیر ناہی لگائیں گئے ۔۔۔ تجھے بدکردار کہہ کر پکاریں گئے ۔۔۔ تجھے ہوس کا پجاری سمجھیں گئے ۔۔۔ یہ دنیا ہمارے ناہی ہے عبداالباسط ۔۔۔۔

ہماری دنیا وہاں ہے ۔۔۔ اس جہان میں”آرء نے آسمان کی طرف اشارہ کیا

” ۔۔۔ میرا اللہ نیتوں پر بھی بخش دیتا ۔۔۔ صفائیاں اور دلیلیں اور ثبوت ناہی مانگتا ۔۔۔۔ پر دنیا مانگتی ہے

مجھے تیری محبت اور سچائی پر شک ناہی ہے ۔۔۔ تیری محبت کا صدق ہے کہ تیرے بعد کسی نے ارء کو چھوا تک ناہی ۔۔۔ ” آتی کے منہ سے یہ سن وہ متعجب ہوا تھا

” تو پھر وہ پوسٹر اور رسالوں میں تمہاری تصاویر ؟

” میں امید سے تھی اس لئے فلم تو بنا ۔ناہی سکتی تھی اماں علی ہمزہ سے پیسے لے چکی تھی اس لئے دلہن کے لباس میں تصاویر بنانی پڑیں لیکن اسکے بعد سب کچھ چھوڑ بیٹھی تھی میں ۔۔ “

” آرء میں آیا تھا جہان بیگم کے کوٹھے پر لیکن تم نہیں تھیں ۔۔۔ جہان بیگم نے کہا کہ تم علی ہمزہ کے ساتھ دبئ جا چکی ہو ہمیشہ کے لئے ” عبداالباسط حیران ہوا تھا سن کر

” جھوٹ بولا ہو گا اماں نے ۔۔۔ ہو سکتا جس وقت تو آیا ہو ،اس وقت میں وہاں موجود نا ہوں ۔۔۔ جیسے خط تو میں نے بھی تجھے لکھا تھا پوسٹ بھی کروایا تھا جب ڈاکٹرنی نے اماں کو یہ بتایا کہ میں ایک بچی کی ماں بننے والی ہوں وہ خوشیاں منا رہی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن میں تیری بیٹی کو چکلے پر ناہی بیٹھاسکتی تھی اس لئے تجھے خط لکھ کر بھیجا تھا کہ اگر بیٹی ہوئی تو اسے اپنے ساتھ لے جانا ۔۔ بہت پریشان تھی میں ۔۔۔ پر نا تو آیا نا تیرے خط کا جواب ۔۔۔ بس اس وقت اللہ تھا اور اسکا آسرا تھا میرے پاس ۔۔۔ اس نے میرا مان رکھ لیا عبداالباسط۔۔۔۔ “

” مجھے تمہارا کوئی خط نہیں ملا ۔۔۔ملا ہوتا تو کیوں نا آتا ۔۔۔۔ ” عبدالباسط بے چین ہوا تھا

” بس قسمت کا کھیل ہے عبداالباسط ۔۔۔۔۔ اللہ نے اپنی قدرت دیکھانی تھی کہ وہ اللہ ہے جنس کو بدلنے پر قادر ہے ۔۔ اور بنا عبداالباسط کے بھی وہ اسکی اولاد کو نیک ہاتھوں سے پرورش کرواسکتا ہے ۔۔ جب تو غیر کے بچوں کو شرم حیا کا درس دے کر نیک بنائے گا تو ۔۔وہ رب تیرے بیٹے کو کیسے بے آسرا چھوڑ دے گا ۔۔۔ شکر ہے میراسایہ ناہی پڑا اس پر ۔۔۔ “

” یہ مت کہو ۔۔۔ اگر جازم نیک ہے تو آدھی پاکیزگی تمہاری ہے ۔۔۔ ” عبدالباسط نے ضبط سے کہا

” عبداالباسط آج اگر تجھ سے کچھ مانگوں توانکار تو ناہی کروں گئے ۔۔ ” بڑی آس سے وہ پھر اس سے نئ آزمائش مانگ رہی تھی

” مانگ لو جو مانگنا ہے ۔۔۔ بس جدائی مت مانگ لینا ۔۔۔ دل اب اس قابل نہیں کہ یہ غم پھر سے سہ سکے ناہی زندگی اتنی کہ انتظار کر سکے ۔۔۔ ” عبداالباسط کی آنکھیں آنسوں سے ڈبڈبا گئیں تھیں ۔۔۔ مشکل میں تو آرء بھی آ چکی تھی ۔۔۔ آج بھی وہ اسکی آنکھوں دل کی باتیں پڑھ رہا تھااس لئے نظریں جھکا گئ

” مجھے میرے شوہر کی عجت دیدے ۔۔۔۔۔ مجھے اپنی پہچان مت بناؤں لوگ تیرے مدرسے سے دور بھاگیں گئے ۔۔۔۔” ہاتھوں جوڑے وہ روتے ہوئے منت کر رہی تھی ۔۔۔۔ “

آج بھی بات وہیں کی وہیں تھی جیسے چھبیس سال پہلے تھی ۔۔۔۔۔ معاشرے کی سوچ نہیں بدلی تھی ۔۔۔۔ وہی دیوار حائل تھی ۔۔۔۔ عبداالباسط چپ ہو گیا ۔۔۔۔ آرء کی ہر بات سچی تھی ۔۔۔ زمانہوہی سوچ رکھتا تھا جو مفتی انور اور ایسے کئ لوگ رکھتے ہیں ۔۔۔ جیسے جہان بیگم رکھتی تھی صرف وجود ختم ہو کے قبروں میں مٹی ہوئے تھے سوچ اپنی قائم تھی ۔۔۔ قائم ہے ۔۔

چھبیس سال پہلے بھی اس نے منت کی تھی ۔۔۔ اور اسے امتحان میں ڈال دیا تھا ۔۔ آج بھی منت کر کے اسے ایک نئ آزمائش میں ڈال چکی تھی ۔۔۔ محبت کی انتہا تھی نا تب عبداالباسط سے انکار ہوا اور نا وہ آج انکار کر سکا ۔۔۔ بس ایک ٹک اسے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں لئے تھے ۔۔۔ روتے ہوئے وہ اسکے ساتھ لگ گئ تھی ۔۔۔۔ جھبیس سال بعد پھر سے ایک آخری ملاقات تھی ۔۔۔۔ اب بھی

آنسوں تھے دونوں کی آنکھوں میں ۔۔۔۔

جازم باہر اس انتظار میں تھا کہ کب اسکی آزمائش ختم ہو گی ۔۔۔۔ ماں باپ کی کے ساتھ وہ کب ایک مکمل زندگی گزارے گا ۔۔۔لیکن دروازہ کھولنے پر عبداالباسط آنسوں پونچتا ہواباہر آیا تھا ہاتھ سے سینہ بار بار سہلا رہا تھا ۔۔۔ جازم اسکے پاس آکر کھڑا ہو گیا

” ابو ۔۔۔”

” تمہاری ماں نہیں مانی بیٹا ۔۔۔ وعدے کا پابند بنا گئ ہے مجھے ۔۔۔ ” وہ بامشکل بول رہا تھا جیسے ضبط سے گزر رہا ہو

” لیکن کیوں “

” جا کر پوچھ لو اس سے ۔۔۔”

یہ کہہ عبداالباسط رکا نہیں وہاں سے تیز قدم بڑھاتا ہوا چلا گیا ۔۔۔۔

جازم کمرے میں آیاتو آرء بیڈ پر بیٹھی بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔ جازم اسکے برابر میں بیٹھ گیا

” امی ۔۔ آپ نے کیوں منع ہے ابو کو۔۔۔ جب انہیں اعتراض نہیں ہے تو آپ کیوں منع کر رہی ہیں ” ۔بےببسی سے وہ پوچھ رہا تھا “

” تو کیا چاہتا جازم ۔۔ لوگ تیرے بات کی برسوں کی محنت کو ایک گالی بنا دیں ۔۔۔

عام انسان ناہی ہے وہ باؤلے۔۔۔۔ مولوی ہے۔ دیندار ہے ۔۔۔ ایسے لوگوں کو دنیاالگ نظر سے دیکھتی ہے ۔۔۔ ان میں صحابہ والیوں والے اوصاف ڈھونڈتی ہے ۔۔۔ انہیں بڑااحترام دیتی ہے ۔۔۔۔۔ انکی۔ بس ایک غلطی ۔۔۔۔ پر انکی عمر بھر کی ریاضت خاک میں مل جاتی ہے ۔۔۔ میں بھی وہی کر رہی ہوں جو ہر عورت کرتی ہے اپنے شوہر کی عزت کی حفاظت ۔۔۔ خدا کے لئے جازم اپنے ابو کی سفید داڑھی پر کیچڑ مت اچھال ۔۔۔

مجھے صبح واپس چھوڑ آ ۔۔۔۔ وہ مولوی عبد الباسط ہے اسے مولوی عبدالباسط ہی رہنے دے ایک طوائف کا شوہر مت بنا ” جازم چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔

جازم کے کمرے میں دوسنگل بیڈ تھے ایک پر جازم لیٹ گیا دوسرے پر آرء ۔۔۔ پوری رات طوفانی بارش برستی رہی ۔۔۔۔۔ ایک لمحہ بھی نا گرج رکی نا چمک۔۔۔۔ نا ہی بارش کازور ٹوٹا اور اس رات کی صبح بھی عجیب تھی ۔۔۔

فجر سے پہلے ایک ہلچل سی مچ گئی تھی مدرسے میں رونے کی آوازوں پر جازم کی آنکھ کھلی تھی آرء اب بھی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔

جازم جلدی سے باہر نکلا ۔۔۔ سارے شاگروں میں گہما گہمی کا عالم تھا شاگرد اور استاتذہ سب بہت رو رہے تھے عبدالغنی صبر کی تلقین کر رہا تھا ۔۔ جازم کا دل جیسے بے قابو سا ہوا تھا ۔۔۔

وہ تیزی سے عبدالغنی کے پاس پہنچا عبدالغنی نے اسے ساتھ لگایا ۔۔

” جازم ابو انتقال کر گئے ہیں ۔۔۔ ” جازم کو لگا جیسے سانس رک گیاہو ۔۔۔ دل دھڑکنا بھول گیا ہو وہ جھٹ سے پیچھے ہٹا تھا

” کیوں جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے ۔۔ رات تک ٹھیک تکے وہ ۔۔۔ ۔۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔

کہاں ہیں وہ مجھے ان کے پاس جانا ہے “وہ دیوانہ وار عبداالباسط کے کمرے کی طرف تھا تھا وہاں وہ جائے نماز پر وہ اساتذہ کی گود میں سر رکھے آنکھیں بند کیے لگ رہا تھا کہ سو رہے ہیں چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔ چہرہ مطمئن تھا ۔۔۔ جازم ان کے پاس پہنچ کر جیسے ڈھے گیا تھا ۔۔۔

” ابو ۔۔۔۔ اسے ہلانے جلانے لگا رونے لگا ۔۔۔ مگر وہ ابدی نیند سو چکے تھے ۔۔۔ ایک استاد نے بتایا کہ وہ ان سے فجر کی اذان کون دے گا یہ پوچھنے کے لئے یہاں پہنچا تھاوہ وہ جائے نماز پر سجدے کی حالت میں تھے وہ کافی دیر انکے آٹھ ے کا انتظار کرتا رہا لیکن جب سجدہ طویل تر ہوتا چلا گیاتواس نے قریب آ کر انہیں سیدھا کیا تو وہ انتقال کر چکے تھے ۔۔۔۔

” بہت سے استاتذہ اور شاگر انہیں ابو کہہ کر پکارتے تھے اس لئے جازم کے ابو کہنے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی تھی جازم اب یہ سوچ رہا تھا کہ خبر ماں کبو کیسے سنائے گا۔۔۔ با مشکل خود پر ضبط باندھے اپنے کمرے میں پہنچا تھا ۔۔ آتی اب بھی سو رہی تھی جازم آنسوں پونچتا ہوا اس کے پاس بیٹھ گیا

” امی ۔۔۔ امی ۔۔۔ ابو ۔۔۔۔ ” وہ بے بسی سے رونے لگا ۔۔۔مگر آرء کے وجود میں ذرا سی بھی جنبش نہیں ہوئی تھی ۔۔۔

” امی ۔۔۔ امی ” جازم نے جب اسے سیدھا کیا تھا وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھی ۔۔۔

زندگی میں ملنا ممکن نہیں تھا ۔۔۔ لیکن موت شاید دوام ملاقات بن جائے ۔۔۔

آرء جب تک عبداالباسط کی ہمراہی میں رہی تھی

اس کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی اور اب پہلے عبداالباسط کا جنازہ پڑھاگیااور اسکے پیچھے آتی کا ۔۔۔ جنازے پر لگتاتھا پورا راجن پور اٹھ کر آ گیا ہو ۔۔۔ اتفاق ایساتھا کہ قبریں بھی ساتھ ساتھ تھیں ۔۔۔۔۔

” تمہاری والدہ کے آگے تختی پر کیا لکھوں ” عبدالغنی نے جازم سے پوچھا

” آرء عبداالباسط ” یہ بتا کر وہ پھوٹ کر رونے لگا

” تمہارے ابو کا نام بھی ابو جی کا ہم نام ہے ؟”

جازم نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔

تین دن وہیں گزار کر وہ لوٹ آیاتھا ۔۔۔ ایک امانت اسکی اب بھی جہان کے کوٹھے پر موجود تھی ۔۔۔ اسے جلد ازجلد وہاں سے نکالنا تھا ۔۔۔

آرء کے انتقال کی خبر جیسے وہاں کی لڑکیوں پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی ۔۔۔۔۔

رات کو ہی وہ سادی سے تانیہ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔۔۔ چادر میں۔ لپٹا وجود ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔۔۔ اس کا بازو تھامے وہ اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا

*****……..

حیا اس وقت مری کے کاٹج میں اکیلی تھی ۔۔۔ رومان اور سبحان کو ارتضی محفوظ مقام پر شفٹ کر چکا تھا ۔۔۔ اب حیا کو اسلام آباد لانا تھا ۔۔۔

کیونکہ آذر کے گرفتار ہوتے ہی اس کا باپ سب سے پہلے حیا کو ہی ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ۔۔۔

گھر پہنچ کر ارتضی نے حیا سے تیار ہونے کے لئے کہا ۔۔۔جلدی سے خود ہی تھوڑی بہت پیکنگ کی تھی ۔۔۔ رومان کا کمرہ لوک کرنے سے پہلے اس کی آدھ کھلی الماری بند کرنے لگا تو اسکے کپڑوں کی سائیڈ پر ایک موبائل نظر آیا ۔۔۔ ارتضی نے پکڑ کر دیکھا تو وہ رومان کا نہیں تھا ایپل کا موبائل تھا اور تھا کافی مہنگا ۔۔۔اس نے الماری لوک کی ۔۔۔ کمرے سے باہر آیا تو حیا بلکل تیار کھڑی تھی ۔۔۔ ارتضی کے ہاتھ میں اپنا موبائل دیکھ بے ساختہ بول اٹھی

” یہ تو میرا موبائل ہے جو آپ کے اسلام آباد کے فلیٹ میں رہ گیا تھا ۔۔۔

” مجھے یہ رومان کے کپڑوں سے ملا ہے ہو سکتا ہے۔۔ وہ لے آیا ہو اور پھر رکھ کر بھول گیا ہو ۔۔ فی الحال اسے میرے پاس رہنے دو ہو سکتا ہے ہمارے کیس میں اس سے کچھ مدد مل سکے ۔۔

گاڑی میں پہلے سے وہاج اور انسپکٹر موجود تھے اس لئے حیااور ارتضی پیچھے کی نشستوں پر بیٹھے تھے ۔۔۔

” ارتضی میں نے وکیل سے بات کر لی ہے کل حیا کو سب سے پہلے وکیل سے ہی ملوانا ہے ۔۔۔ ۔۔ اور حیا پلیز اس بار ہر بات بلکل سچ سچ بتانا ۔۔۔ تمہاراایک بھی غلط جمعلہ ہمیں پھسنا سکتا ہے ” وہاج نے ڈارکٹ حیا سے کہا تھا

” آپ بے فکر رہیں میں سب کچھ سچ ہی بتاؤں گی ۔۔۔ ” حیا کو وہاج نے اپنے گھر پر ہی رکھا تھا ۔۔۔ مریم بھی اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی اگلے روز ۔۔

وکیل کے سامنے ویڈیو رکھ دی گئ ۔۔۔

” میں چاہتا ہو کہ ویڈیو غیر ضروری طور پر نا دیکھی جائے ۔۔۔

اگر کیس کے لئے یہ ضروری نا ہوتی تو میں آپ کے سامنے بھی نا رکھتا ۔۔۔۔ ” ارتضی بے حد فکرمند سا تھا جیسے مجبورا وہ ویڈیو رکھ رہا ہو

” دیکھیں مسٹر ارتضی ۔۔۔ ریپ کیس میں تو بڑی بے باقیاں سامنے لانی پڑتی ہیں اور آپ ایک ویڈیو دیتے ہوئے اتنا گھبرا رہے ہیں۔۔۔ آپ کی بیوی سے مخالف وکیل جو سوالات کرے گا۔۔۔ وہ بہت ضبط آزما ہوں گئے انکے لئے بھی اور آپ کے لئے بھی ۔۔۔ ” وکیل نے حیا کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔ حیا نے شال دوبارہ سے درست کی تھی ۔۔۔

” جی تو مسز ارتضی پہلے تو آپ مجھے پوراواقع سنائیں ۔۔ “وکیل نے براہ راست حیا کو مخاطب کیا

حیا نے گاڑی کی خرابی سے لیکر کالج تک کاسارا قصہ بیان کیا بس آخر میں بول نہیں پائی ۔۔۔ رسنے لگی تھی ۔۔۔۔ وکیل نے گہری سانس بھری

اسکے بعد وکیل نے وہ ویڈیو دیکھنی شروع کی ۔۔۔ ان چار لوگوں میں ایک آذر تھا اور تین اس کے دوست وہ اخباری رپوٹر شامل نہیں تھا حیا کی ویڈیو آذر کے ایک دوست نے بنائی تھی لیکن کیمرہ آف کرنا بھول گیا تھا ۔۔۔ کیونکہ باقی کی ویڈیو آتی ٹہری سی بنی تھی بس آوازیں صاف طور پر آ رہیں تھیں

” بہت گھمنڈ تھا تمہیں خود پر ۔۔۔ بہت اکڑر رہی تھی اس دن میرے سامنے ۔۔۔ اب بتاؤں کہاں گئ ۔۔

تمہاری اکڑ تمہیں نے میں نے اپنے تین دوستوں کے سامنے کہیں کا نہیں چھوڑا کیا بگاڑ لیا تم نے میرا میں چاہتا تو انہیں باہر بھی نکال دیتا لیکن تمہیں تمہاری اصل اوقات یاد کرونی تھی اس لئے یہ سب کیا ۔۔۔۔ ” آذر کا لہجہ غرور اور گھمنڈ میں ڈوبا ہوا تھا

” تمہیں میں چھوڑو گی نہیں ۔۔۔ آغاجی کو بتاؤں گی ۔۔۔ وہ نہیں چھوڑیں گئے تمہیں” حیا نے چلاتے ہوئے کہا تھا وہ ہسنے لگا

” تم اور تمہارے آغا جی ۔۔ ہنہ ۔۔۔ تمہیں تو جب چاہوں اپنے کمرے میں بلا سکتا ہوں ۔۔۔ ایسی دکھتی رگ ہے میرے پاس تمہاری ۔۔۔ یہ ویڈیو ۔۔۔

بلاؤ اس لڑکے کو اندر ۔۔ پھر وہ رپوٹر اندر داخل ہوا ۔۔۔

“اب سنو میری بات غور سے ۔۔۔ تم اب اپنے اس سر کے پاس جاؤں گی وہ تمہیں ہال میں ملے گا جہاں ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی ہے ۔۔۔ اور ریپ کا الزام اس پر لگاؤں گی ۔۔۔ بہت شوق ہے اسے ہاتھ اٹھانے کا ۔۔ مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا اس نے ۔۔۔ مجھ پر آذر پر

وہ بھی تمہاری وجہ سے۔۔ اب تم ہی اسے سزا دلواں گی اور اگر تم نے ذراسی بھی بکواس کرنے کی کوشش کی تو ساری دنیا تمہاری یہ ویڈیو دیکھے گی ۔۔۔

اب آئے گااسپروفیسر کو مزا ۔۔۔ جب میرے گناہ کی کاپھانسی کا پھندا اسکے گلے میں ڈالے گا۔۔

تم اپنا کیمرہ ان رکھنا سمجھے ۔۔۔ اچھی طرح جانتے ہو نا کیا کرنا ہے تمہیں۔ “آذر نے رپوٹر سے کہا

” ہاں ہاں میں ریڈی ہوں “رپوٹر نے جواب دیا

“اشعر یہ ویڈیو اس لڑکی کے نمبر پر سینٹ کروں گا کہ یہ یاد رکھے کہ اسے کرنا کیا ہے “

اس کے ساتھ ویڈیو بند ہوئی تھی ۔۔۔ ویڈیو حیا کے نمبر ہر آ چکی تھی ۔۔۔ جو اس لڑکے نے اپنی طرف سے صرف حیا کو بلیک میل کرنے کے لئے بنائی تھی ۔۔۔ تا کہ آذر جب چاہے حیا کو دھمکاسکے لیکن وہ ویڈیو ضرورت سے زیادہ ہی بن چکی تھی ۔۔۔ حیا اس وقت توبری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی اس لئے ارتضی کے پاس جاتے اسکے ساتھ لگ کر رونے اسے سب کچھ بتانا چاہتی لیکن وہ کیمرہ مین وہاں پہنچ گیا ۔۔۔ نکاح کے ہنگامے کے بعد جب وہ رومی کے کمرے میں تو سب سے پہلے بد حواسی میں وہ پکس اورویڈیو ڈیلیٹ کرنی چاہیں تا کہ اس واقع کو ہی بھول جائے ۔۔۔ لیکن جس قدر وہ بد حواس تھی وہ ڈلیٹ کرنے کے بجائے حمیرہ کو سینٹ کر چکی تھی ۔۔۔ پھر ارسل کی کال سن کر وہ اتنی دلبرداشتہ ہوئی کہ فون آف کر کے رومی کے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھ دیا

” اس ویڈیو میں تو آذر صاف اپنا جرم قبول کر چکا ہے ۔۔۔ ‘ وکیل نے ویڈیو دیکھنے کے بعد کہا

“یہی تو میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ جب سارے ثبوت موجود ہیں تو میری بیوی سے بے باک قسم کے سوالات نا کیے جائیں جو اس کی عزت نفس کو مجروع کریں ۔۔۔ “ارتضی نے پھر سے وہی بات سامنے رکھی

” چلیں ابھی پہلی پیشی تو ہونے دیں ۔۔۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ” وکیل نے بات اپنی طرف سے مکمل کر دی ۔۔۔

یہ بات میڈیا میں آگ کی طرح پھیلی تھی ۔۔۔ کہ سلیمان کی بیٹی حیا نے آذر پر ریپ کا الزام لگایا ہے ۔۔۔

دلاور ہمدانی کی بے چینی اور اضطراری قابل دید تھی