Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 3

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 3

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

“منی جلدی سے ٹھنڈا پانی کا بھائی کے لئے ۔۔۔ پورا دن خون پسینہ ایک کر کے کما کے لاتا ہے ” شمس گھر میں داخل ہوا تو ماں کو بیٹے کی فکر ستانے لگی منی فٹافٹ سے ٹھنڈے پانی میں ۔۔۔ روح افزاء ڈال کر لے آئی شمس کو پیاس تو شدت سے لگی تھی گلاس اسٹیل کا تھا اس لئے توجہ نہیں دی لیکن پہلا گھونٹ بھرتے ہی منی کو دیکھنے لگا

“ٹھنڈا پانی لانے کو بولا تھا منی کتنی بار کہا ہے ۔۔۔ شربت بس مہمانوں کے لئے رکھا کر ۔۔ “

“کچھ نہیں ہوتا بھائی سمجھ لے تو بھی آج مہمان بن کے آیا ہے منی کے گھر ” منزا ہنستے ہوئے بولی شمس بھی مسکرا پڑا

” اماں اسکا ہنستاا چہرہ دیکھ کر ساری تھکن بھول جاتا ہوں ۔۔۔ یہ لے منی دس روپے ۔۔۔ جا رکھ لے “شمس نے دس کا نوٹ نکال کر منزا کو دیا وہ خوشی سے نوٹ پکڑے سامنے رکھے گولک میں ڈالنے لگی

“منی یہ تجھے خرچنے کے لئے دیے ہیں ۔۔۔ “شمس نے لاڈ سے کہا

“بھائی مجھے جمع کرنے دے جب تیری شادی ہو گئ تو ایک جوڑا تو میرا اسی پیسوں میں سے بن جائے گا “۔ شمس اسے دیکھ کر بس مسکرا ہی سکتا تھا ۔۔۔ اپنے حالات کے ساتھ سمجھوتا کرنا کیسے اتنی سی عمر بھی عورت کو آجاتا ہے ۔۔۔ منی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرے وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔

شمس کے والد تھے نہیں بس ایک ماں اور ایک چھوٹی بہن تھی بچپن میں اسکول کو پانچویں جماعت کے بعد ہی خیرباد کہہ چکا تھا والد نے گیراج میں اپنے کسی جان پہچان والے سے کہہ کر لگوادیا تھا ۔۔۔گیراج میں کام کرنے والا وہ سب سے کم عمر لڑکا تھا ۔۔۔ باقی سب لڑکے انیس بیس کے تھے ۔۔۔ اس لئے جب آپس میں بیٹھتے تو لڑکیوں کے بارے میں بے باک سی گفتگوں کرتے تھے ۔۔۔ شمس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی تھی کہ چھوٹا ہے اور ایسی گفتگوں کچے ذہن پر کیا اثر کرے گی۔۔۔

شمس کے ذہن میں وہ باتیں جلد ہی اثر کرنے لگیں پھر گناہ کی کشش اپنی طرف کھنچتی ہے اور ایسی گفتگوں پر کشش لگنے لگی ۔۔۔ نتجہ یہ نکلا کہ جب بھی وہ کسی لڑکی کو دیکھتا ۔۔۔ نظروں میں شرم وحیا نہیں رہتی تھی ۔۔۔ خواتین کو سر سے پاؤں تک وہ بڑے غور سے دیکھنے لگا۔۔۔ پھر تو

آہستہ آہستہ ان باتوں کی عادت سی ہونے لگی ۔۔۔

بڑھتی عمر کے ساتھ یہ سوچنے لگا لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں شرم کا کام تو صرف عورت کا ہے ۔۔۔ یہی وجہ تھی ۔۔۔ لڑکوں کے ساتھ ملکر قابل اعتراض فلمیں اور ویڈوز بھی دیکھی جانے لگیں ۔۔۔۔

باپ کو صرف مہنے بھر کی تنخواہ سے غرض تھا ۔۔۔ بیٹا پندرہ سال کی عمر میں گھر کا آدھے سے زیادہ خرچ اٹھا رہا تھا وہ اس بات پر راضی تھے ۔۔۔

یہ کبھی دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ بیٹے کا اٹھنا بیٹھنا کن لڑکوں کے ساتھ ہے ۔۔۔

پہلے پہل تو پھر باپ کا کچھ ڈر تھا لیکن والد کی حادثاتی موت پر گھر کا سارا بوجھ شمس پر آن پڑا۔۔ اور ماں کی بھر پور حمایت اور محبت بھی ۔۔۔ پوچھنا کس نے تھا کہ ماں کا لال کمانے کے ساتھ ساتھ اور کیسے شوق رکھنے لگا ہے ۔زندگی کی ڈگر یونہی چلنے لگی ۔۔ ایک سال پہلے ہی پڑوس میں نئے لوگ آباد ہوئے ۔تھے۔۔ منزا اسکول میں تھی اسکی والدہ نے نئے پڑوسیوں کے لئے کھانا بنا کر شمس کو ہی بھیجا کہ جا کر دے آئے ۔۔۔

“اماں بہت فضول کے پیسے آئے ہیں جو پکا پکا کر دوسروں کے گھر بھیج رہی ہو ۔۔۔ رہنے دو ۔۔۔ اتناسر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔

“بری بات ہے شمس گھر کی خواتین دوسرے کاموں میں لگی ہوں گی کھانا بنانے کی کہاں فرصت ملی ہو گئ۔۔۔ جاؤں دے آؤں پڑوسیوں کے بھی بہت حقوق ہوتے ہیں بیٹا “

“اس مہنگائی میں اپنے فرائض ہی پورے ہو جائیں تو بڑی بات ہے لائیں دیں دے آؤں پڑوسیوں کو کھانا۔۔۔ لیکن یہ پہلی اور آخری بار ہے۔۔۔۔۔ اس کے بعد یہ نہیں چلے گا “شمس نے کھانے کا باول پکڑا اور برابر والے گھر پہنچ گیا ۔۔۔

بڑی بیزاریت سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔ لیکن جس دوشیزا نے دروازہ کھولا وہ عام سے لباس میں بھی مہویت کر گئ تھی ۔۔۔

“جی کون ” ثوبیہ سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ جواسے سر سے پیر تک ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ اسے پورے وجود میں سنساہٹ سی ہوئی تھی وہ جھٹ سے دروازے کی اوٹ میں چلی گئ ۔۔۔۔

“کون جی ” ثوبیہ کے سامنے سے ہٹتے ہی شمس چونکا تھا

“جی میں برابر والے گھر سے آیا ہوں ۔۔۔ امی نے کھانا بھیجا ہے آپ لوگوں کے لئے ۔۔۔ یہ رکھ لیں “

شمس اب بھی نظروں کو حد الامکان اندر کی طرف کرنے کوشش کر رہا تھا جس سے اسے ثوبیہ نظر آ سکے۔۔۔

“کون ہے ثوبی “اندر سے مردانہ آواز آئی

“کمال بھائی پڑوس سے کھانا آیا ہے ۔۔ ” ثوبیہ یہ کہہ کر اندر چلی گئ ۔۔۔ ایک بھرے جسم کا نوجوان جس کی تون تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی تھی ۔۔۔ چہرہ بھی بھرا ہوا تھا اور اسپر موچھیں ایسی ہی تھیں شمس یک دم ہی شریفوں کی طرح نظریں جھکا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اس لڑکے نے ہاتھ وہ باول لیاشکریہ ادا کیا اور دھڑ سے دروازہ بند ۔۔ شمس یک دم دروازے سے پیچھے ہٹا

“بڑا ہی احسان فرمائش ہے ۔۔۔ دروازہ ہی منہ پرمار دیا ۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔ شمس نے ناگواری سے سوچا

“ہائے لیکن لڑکی بڑی ٹائٹ تھی ۔۔۔ “چہرے پر مسکراہٹ لئے وہ گھر چلا گیا یہ سلسلہ جاری ہی رہا تھا ۔۔ چند دن بعد ثوبیہ بھی کچھ کھانے کے لئے انکے گھر دینے آ پہنچی تھی وقت تو دن کا تھا مگر دن اتوار کا تھا ۔۔۔ شمس کمرے میں تھا لیکن منزا کے علاؤہ کسی اور لڑکی کی چہکتی آواز پر باہر آیاتھا سامنے ثوبیہ کودیکھ کر مسکرایا تھا ۔۔۔ ثوبیہ کی بھی جب اس پر نظر پڑی تو جواب میں وہ بھی مسکا دی۔۔۔ بس جی لو اسٹوری شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ پھر خطوں کا تبادلہ شروع ہونے لگا ۔۔۔ اور یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل تھا

******……..

“ثوبیہ “

“جی ابا ” باپ کی پکار پر وہ سر ڈھانپے کچن سے نکلی تھی

” ایک کپ چائے لیکر آ ۔۔۔ اور ہاں دودھ پتی لے کر آنا ۔۔۔ “

“جی ابا “ثوبیہ وہیں سے پلٹ کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔

جب چائے بنا کر لائی تو اماں ابا کی باتوں پر کان کھڑے ہو گئے

” کمالے کے ابا میں کہتی ہوں کہ بارہ جماعتیں پوری ہونے والی ہیں اپنی ثوبی کی ۔۔۔ رشتہ دیکھنا شروع کر اب جتنی جلدی ہو اسکی شادی کر دے ۔۔۔ “

“کہہ تو تو ٹھیک ہی رہی ہے ۔۔۔ بارویں کے پرچے دیدے تو میں گھر بٹھا دونگا اسے ۔۔۔ رشتے بھی دیکھتا ہوں بات کرتا ہوں کسی سے ” باپ کی بات سن کر ثوبیہ کی جان پر بنی تھی فائنل ایگزائم میں دو ماہ ہی تو۔ بچے تھے۔۔۔۔ پھر تو شمس سے ملاقات کا کوئی بہانہ بھی نہیں مل سکتا تھا ۔۔۔ چائے دے کر اپنے کمرے میں آگئ پریشان ہونے لگی ۔۔۔۔ شمس کورٹ میرج کا کہہ رہا تھااور ابا اسے یہ مہلت بھی شاید نا دیتے ۔۔۔

“کیا کروں میں ۔۔۔ کورٹ میرج ۔۔۔ کورٹ میرج سے بدنامی کتنی ہو گی لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ لڑکی بدکردار تھی جو اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئ ۔۔۔ نہیں یہ ٹھیک نہیں ہے شمس سے کہتی ہوں رشتہ لے آئے ۔۔۔ اماں سے کہہ دوں گی کہ شمس کے علاؤہ کسی سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔ ہو سکتا ہے اماں کی بات ابا مان جائے ۔۔۔ سب کچھ عزت سے ہو جائے “ثوبیہ شش و پنج۔ میں مبتلہ ہونے لگی تھی

******…….

جازم شکستہ پا ہو کر وہاں سے نکلا تھا ۔۔۔ بے جان قدموں سے بازار حسن سے مرے مرے قدم اٹھائے مین روڈ پر پہنچا ۔۔۔ ہاتھ میں پیسوں سے بھرا بیگ بھی موجود تھا ۔۔۔ ستر لاکھ میں سودا نہیں کر پایا تھا ۔۔۔ شاید محبت کی قیمت اس سے کئ ذیادہ تھی ۔۔۔۔ جو وہ ادا نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔

آنسوں رخساروں سے گر رہے تھے ٹوٹ ٹوٹ کر ۔۔۔ لیکن اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ صاف کر لے ۔۔۔ دائیں گال پر انگلیوں کے واضع ۔نشان تھے ۔۔۔

گھر پہنچا ۔۔۔ تو والد غصے سے چھوٹے سے لاؤنج کے چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔ جازم کو دیکھ کر بھڑک اٹھے

“کہاں سے آ رہے ہو جازم ” مگر کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ پیسوں کا بیگ انہیں تھما دیا۔۔۔۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگے ۔۔۔ آنسوں سے بھیگا چہرہ تھا ۔۔۔ چہرے پر واضع شکست تھی

۔۔۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ دروازہ بھی بند کر لیا ۔۔۔ بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔۔۔

کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی

“جازم دروازہ کھولو “اسکے والد نے دروازہ کھٹکھٹایا مگر جازم جیسے ٹوٹ چکا تھا بڑی آس سے وہاں گیا تھا کہ با مراد ہو کر لوٹے گا ۔۔۔ لیکن نہیں مرادیں کہا اتنی آسانی سے مل جاتی ہیں پھر جس راہ میں وہ جا نکلا تھا وہاں منزلیں نہیں ملتی ۔۔۔۔ بس مسافت ہی مسافت ہوتی ہے

“جازم دروازہ کھولو بیٹا ” مسلسل دروازے پر دستک تھی مگر جازم دھاڑیں مارے رو رہا تھا ۔۔۔

“خدا کے لئے بیٹا دروازہ کھولو “باہر اسکے والد اسکی سسکیوں پر تڑپ سے گئے تھے۔۔۔

بیٹے کی حالت زار پر دل خون کے آنسوں بہا رہا تھا ۔۔۔۔

مگر بے بس تھے جانتے تھے کہ شکست کھا کر آیا ہے ۔۔۔ اب گھنٹوں نہیں سنبھلے گا

*****…….

“تانیہ یہ کیا کررہی ہو تم ۔۔۔ ڈاکٹر نے تمہیں بیڈ ریسٹ کا بولا ہے چلو لیٹوں جا کر ” اسنے تانیہ کا ہاتھ پکڑا اور کچن سے کمرے میں لے آیا

” لیکن جی بیٹھے بیٹھے تو تھک جاؤں گی میں بس ذرا سا تو کام ہے بھلا کھانا بنانے سے کچھ تھوڑی ہو گا ” تانیہ نے سمجھانے کی کوشش کی

“بلکل بھی نہیں چلو جا کر بیٹھوں بیڈ پر ناشتہ میں بنا کر لارہا ہوں تمہارے لئے ” تانیہ کو واپس کمرے میں بھیج کر وہ جلدی سے ناشتہ بنانے لگا پندرہ منٹ میں سب تیار کر کے ٹرے میں سجائے وہ کمرے میں ناشتہ لے آیا تھا ۔۔۔۔ بیڈ کے بیچ میں ناشتے کی ٹرے رکھے بریڈ کے سلائس کا ٹکڑا توڑ کر آملیٹ سے لگا کر تانیہ کے منہ میں ڈالنے لگا ۔۔۔

وہ چپ چاپ اسے دیکھتے ہوئے کھانے لگی ۔۔۔ گرمی کی وجہ سے پیشانی عرق آلود تھی ۔۔۔ مگر اسکے لئے متفکر تھا ۔۔۔ناشتے کے بعد اپنے ہاتھوں سے میڈسن کھلائی ۔۔۔

“فریج میں کھانا موجود ہے ۔۔۔ وقت پر کھا لینا میں فون کر کے پوچھوں گا تم سے ۔۔۔ جوس ۔۔۔ پھل ہر چیز موجود ہے جو ڈاکٹر نے کھانے کو کہی تھی ۔۔۔ تانی مجھے لاپروائی نہیں چاہیے ۔۔۔ ” بڑی سنجیدگی سے کہا گیا تھا وہ ہلکا سا مسکرائی تھی

” آپ بے فکر رہیں میں سب وقت کر کھا لوں گی ۔۔۔ بس کھانا بنانے کی اجازت دیدیں ۔۔۔ رات کو تھکے ماندے آئیں گئے پھر سے چکن میں لگ جائیں گئے ۔مجھے یہ دیکھ کر شرم آتی ہے ” تانیہ بڑی لگاوٹ اور محبت سے کہا تھا

” بس چند مہینوں کی بات ہے میری جان ۔۔۔ ایک ننھا منا سا تحفہ اللہ ہمہیں دیدے گا ۔۔۔ تو پھر یہ سب تمہیں ہی تو کرنا ہے ۔۔ ابھی تو مواقع ہے تمہارے پاس ۔۔۔ جتنی چاہوں خدمت کروا لوں ۔۔۔ بعد میں ۔۔۔میں کروا لوں گا “۔۔۔ وہ شرارت سے اسکے گال کو دبا کر بولا

لیکن کیا خبر تھی کہ ایک ننھا منا تحفہ دیتے ہی وہ اس جہان سے ہی کوچ کر جائے گی ۔۔۔ آنکھیں پھر سے آشکبار ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ کئ سال گزرنے کے بعد بھی غم ابھی تک سینے میں تازہ تھا ۔۔۔ ہراتھا جیسے چند لمحوں پہلے ہی وہ زندہ تھی درد سے کراہ رہی تھی ۔۔۔ ابھی ڈاکٹر اسے لیبر روم میں لیکر گئ تھی ۔۔۔ بس آدھا گھنٹہ ہی گزراتھا ۔۔۔۔ آدھے گھنٹے میں وہ سے ایک نئ آزمائش میں ڈال کر جا چکی تھی ۔۔۔۔

“تانی ۔۔۔۔ کپکپاتے لبوں پر پھر اسی کا نام آیاتھا آنسوں کی جھڑی تھی جو پھر لگی تھی ۔۔۔۔ باہر کی بارش اسے ہر بار ایک ہی واقع یاد دلاتی تھی ۔۔۔ لگتا تھا اسکی بے بسی پر آسمان بھی آنسوں بہا رہا ہے ۔۔۔۔ تانی کے جانے۔ بعد کبھی ایسا نہیں ہوا کہ برسات کے دنوں میں وہ رویا نا ہو ۔۔۔ اپنے کمرے کی راکنگ چیر پر بیٹھا لمپ کی مدھم روشنی میں تواتر سے بہتے آنسوں اس بات کے گواہ تھے ۔۔۔ کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی وہ اسکے دل میں اب بھی اسی مقام پر تھی ۔۔۔۔ محبت میں ذرا سی کمی نہیں کر پایا تھا نا ہی زندگی میں کسی شامل کر سکا تھا ۔۔۔۔

*******……..

رات کے گیارہ بجے حیا کے گھر پر خاموشی کا راج ہوتا تھا ۔۔۔ آغا جی کو صبح جلدی آفس جانا ہوتا تھا اور روبینہ (حیا کی والدہ )کو اپنی سوشل ایکٹیوٹی سے فرصت نہیں ہوتی تھی اس لئے رات کو جلدی سو جاتے تھے حیا بھی عام دنوں میں جلدی ہی سو جاتی تھی لیکن اگلے روز سنڈے تھا چھٹی تھی ۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ حیا جاگ رہی تھی ۔۔۔۔ اپنی دوستوں سے موبائل پر کانفرنس کال پر بات کر رہی تھی ۔۔۔۔

” حیا اب اقرء کی ٹرن ہے ۔۔۔ ٹرتھ اینڈ ڈیر کی لیکن دیکھوں نا یہ کرنے کو تیار نہیں ہے ” رامین نے کہا

“حیا تم خود بتاؤ یہ بھی کیا کوئی ڈیر ہوا کہ ہم لوگ شادی کی اوکیجن کے لئے تیار ہو کر رات کو کسی کی شادی کے فنکشن میں چکے جائیں ۔۔۔۔ غیروں کی شادی میں عبداللہ دیوانہ بند کر ” اقرء نے وضاحت کی ۔۔۔ حیا تو پہلے ہی ایسے کسی ایڈونچر کے لئے تیار تھی ۔۔

“ونڈفل آئیڈیا اقرء ۔۔۔۔ بڑا مزا آئے گا ابھی صرف گیاہ بجے ہیں اور شادی کے فنگشن لیٹ نائٹ ہی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ میں بس دس منٹ تیار ہو کر تم لوگوں کو پک کرنے آ رہی ہوں “

“حیا آر یو میڈ ۔۔۔۔ اگر پکڑے گئے تو کتنی انسلٹ ہو گی یار “رامین گھبرائی تھی

“میں کس لئے ہوں میری جان جب حیا ہے تو تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے او کے دیٹس فائنل میں آ رہی ہوں تم لوگ تیار رہنا ۔۔۔ ” یہ کہہ حیا نے فون رکھا اور شادی کی کے حساب سے ایک خوبصورت سی میکسی پہن کر تیار بھی ہو گئ ۔۔۔ جس کا گلہ آگے پیچھے سے خاصا گہرا تھا ڈوپٹہ لینے کی وہ عادی نہیں تھی ۔۔۔ اس لئے بنا ڈوپٹے کے ہی وہ پورچ میں آئی چوکیدار سے مین گیٹ کھولنے کو کہا

“بی بی جی اس وقت آپ کہاں جا رہیں ہیں “چوکیدار نے اسے تیار شیار دیکھ کر پوچھا

“تمہیں نظر آ رہا کہ شادی پر جا رہی ہوں ۔۔۔ دروازہ کھولوں جلدی سے ” حیا کا لہجہ سخت تھا ملازمین سے وہ ایسے ہی سختی سے پیش آتی تھی

“لیکن بی بی جی صاحب اور بیگم صاحبہ ؟”

“ذیادہ سوال مت کیا کرو مجھ سے ظاہر میں میں ان سے اجازت لے چکی ہوں تبھی جا رہی ہوں ۔۔۔ اس وقت وہ سو رہے ہیں خبردار جو انہیں کال کر کے ڈسٹرب کیا تو ۔۔۔ دروازہ کھولو “

“بی بی میں ڈرائیور سے کہتا ہوں وہ آپ کو لے جائے یوں اکیلے جانا ٹھیک نہیں ہے “چوکیدار کو مناسب نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اس پہر اکیلی جائے اتنا وہ بھی سمجھ چکا کہ اسکے والدین اس بات سے انجان ہیں

” اپنی اوقات میں رہناسکھوں سمجھے ۔۔ کیا ٹھیک ہے ۔۔کیاٹھیک نہیں یہ تم مجھے سکھاؤں گئے۔۔۔ ؟ دروازہ کھولو ! ” حیا غصے سے با رعب لہجے سے بولی چوکیدار نے دروازہ کھول دیا حیا سپنہگاڑی میں بیٹھی اور زوم سے تیزی سے باہر نکل گئ ۔۔۔

******…….

“رومی کم آن بیٹا جلدی کرو ۔۔۔ کتنا ٹائم لگے گا تمہیں ” ارتضی سفید شلوار قمیض میں ملبوس کندھے پر لائٹ براؤن کی شال پہنے بلکل تیار کھڑا تھااور رومی صاحب کی تیاری مکمل نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔

“بابا بس بیس منٹ ” بالوں کو خوف سارا جیل لگا کر آگے کے بالوں کو اگے سے کھڑا کر رہاتھا جب ارتضی اسکے کمرے میں آ کر اسے گھورنے لگا

“لڑکیوں کو مات دیتی ہے تمہاری تیاری بھی ۔۔۔ اب بالوں کا کیا حشر کر رہے ہو رومی “

” مائے سوئٹ بابا یہ حشر نہیں ہے اسے spiky hair style۔ کہتے ہیں آج کل بہت ان ہے ۔۔۔ آپ کو کیا پتہ ۔۔۔ “رومان بالوں سے مطمئن ہو کر اب بلیک موزے جلدی سے پاؤں میں چڑھا رہا تھا پینٹ شرٹ بھی بلیک ہی پہنی تھی

” تمہارے چکر میں شادی گزر جائے گی ۔۔۔گیارہ بج چکے ہیں ” ارتضی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں تو آپ گاڑی اسٹاٹ کریں میں بس آ رہا ہوں ” رومان جلدی سے شوز پہنتے ہوئے بولا

“جی نہیں میرے ساتھ اترا گھر کو ٹھیک سے لوک میں خود کروں گا ۔۔۔ “ارتضی یہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا ۔۔۔

*****…….

آرء کوسر شام ہی اب اس نوجوان کاانتظار رہنے لگا تھا ۔۔۔ آٹھ دن بیت گئے تھے لیکن وہ دوبارہ نہیں آیا تھا ۔۔۔ رقص کرتے ہوئے ڈوپٹے کی اوٹ سے وہ ایک ایک شخص کو دیکھتی ۔۔۔ وہی لوگ تھے ۔۔۔ ویسی ہی راتیں اور دن ۔۔۔ لیکن نا جانے آرء کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے کس انتظار کی سولی پر وہ چڑھا گیا تھا کہ وہ بے چین سے رہنے لگی تھی ۔۔۔ کئ بار اسکی شکایت لگ چکی تھی کہ وہ اب بے دلی کا مظاہرہ کرنے لگی ہے ۔۔۔ ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتی ۔۔۔

آج پھر سے اپنی اماں کی ڈانٹ پھٹکار سن رہی تھی

“ہو کا گیا تجھے چھوری ۔۔۔۔ گاہک کو ٹھیک سے پوچھے گی ناہی تو وہ تجھے کہاں منہ لگائے گا “

” تو نا لگائے اماں میں بھی تنگ آ چکی ہوں ۔۔۔ دل اداس بھی ہووئے تو بھی میں ہنس کے بات کرو ۔۔۔ کاہے اماں ۔۔۔ میرا اپنا کوئی دل نا ہووے ۔۔۔ بس کٹ پتلی کی طرح مردوں کے اشاروں پر ناچوں ساری زندگی ۔۔۔۔ ” آرء کی بات پر سامنے بیٹھی جہاں بیگم آگ بھگولاہو گئں

“اری چھوری ۔۔۔ جبان کو لگام دے ورنہ چٹیا پکڑ کے دو لگاؤں گی منہ پے ۔۔۔ ہمارے دھندے میں یہ دل ول کچھ ناہی ہووے ہے ۔۔۔ سب جسم ہوئے ہے ۔۔۔ادائیں ہوئے ہیں ۔۔۔ دو انچ کے اس ٹکڑے کو سینے میں دبا کے رکھ ۔۔۔۔ پانچ فٹ چھ انچ کے کے وجود پر بادشاہ نا بنا ۔۔۔۔ پیٹ کا دوجگک(دوزخ) ناہی بھرتا یہ دو انچ کا ٹکڑا ۔۔۔ چل جا اب تیری شکایت نا ملے ہم کو “….آرء چپ چاپ وہاں سے اٹھ کر واپس کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔

“کم بخت یہ دوانچ کے ٹکڑے نے تو دہائی ڈالی رکھی ہے آرء کے اندر ۔۔۔۔ جانے کون تھا ۔۔۔ کاہے آیا۔۔۔ آنکھوں میں کون سی پیاس تھی اسکے جو خود توسراب جو کر چلا گیا پر آرء کو کاہے تشنگی دے گیا ۔۔۔۔ نام تک تو پوچھا ناہی اس کا ۔۔۔۔ جانے کب آئے گا دوبارہ ” آرء کی بے چینی دن با دن بڑھتی جا رہی تھی

******……..

“میں پوچھتا ہوں عبدالباسط دھیان کہاں تھا تمہارا

پورے دو ہزار کسی نے جیب سے نکال لئے اور تمہیں ہوش ہی نہیں رہی ۔۔۔ “

“ابا مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ سب ہو گا ” عبدالباسط نظریں چرا گیا جھوٹ بولنے کی عادت نہیں تھی اس لئے ہچکچاہٹ بھی طاری تھی

مفتی صاحب پریشانی کے عالم میں صحن کے چکر کاٹ رہے تھے بیٹے کی لاپروائی پر جی کڑ کے رہ گیا تھا

” تمہیں مشورہ کس نے دیا تھا کہ اتنی بڑی رقم جیب میں ڈالے گھومتے پھرو جہاں پانچ ہزار ماں کو دیے تھے وہاں دو بھی دے دیتے “

٫”غلطی ہو گئ ابا ۔۔۔ میں نے مہنے بھر کا کرایہ اور اپنا خرچہ الگ کر لیا تھا کہ روز ماں سے کیا مانگوں گا ۔۔۔ “

“خیر جو ہواسو ہوا ۔۔۔ اگلی تخواہ ساری کی ساری اپنی اماں کے ہاتھ میں رکھنا “

“جی ابا ” عبدالباسط نے فرمابرداری سے سر جھکایا

“ماں بہنیں ہروقت ڈوپٹہ سر پر رکھتی تھیں ۔۔۔

بہنیں حافظ القرآن تھیں دن بھر بچوں کا تانتا سا لگا رہتا تھا تجویز سے قرآن پڑھاتی۔ تھیں ۔۔۔ اسی ہدیے سے اپنی ضرورتیں پوری کر رہیں تھیں ۔۔۔۔۔

پندرہ دن تو دل پر جبر کر کے عبدالباسط نے گزار لئے مگر ۔ سولہویں دن عشا کی نماز پر بھی طعبت پر بھاری پن تھا اس لئے عشا پڑھتے ہی ۔۔ نا چاہتے ہوئے قدم ۔۔۔ خود با خود ہی جہان بیگم کے کوٹھے پر اٹھنے لگے تھے ۔۔۔ گھنگروں کی جھنکار اور واہ واہ کی آوازوں کے ساتھ

“سلام عشق میری جان ذراقبول کر لو “کے گانے کے بولوں پر عبدالباسط کوٹھے کے صحن میں پہنچا تھا آرء اس وقت مہندی رنگ کا انار کلی فراک پہنے وہی آدھا چہرہ چھپائے گھول گھومتی ہوئی شاید اپنا توازن کھو بیٹھی تھی اس لئے لڑکھڑائی تھی اس سے پہلے کے گرتی عبدالباسط کی بانہوں میں سمٹی تھی وہ ابھی بیٹھا نہیں تھا بس بیٹھنے کے لئے جگہ ڈھونڈ رہا تھا جب بے اختیار آرء اس سے لڑکھڑا کر ٹکرائی تھی بے ساختہ وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔ ۔۔

“سنبھل کر ۔۔۔چوٹ تو نہیں آئی آپکو آرء “عبدالباسط نے دھیرے سے کہا ۔۔۔ آرء نے اسکی آواز سنتے ہی تڑپ کر اپنا گھونٹ پلٹا تھا ۔۔۔

بے تابی ہی بے تابی تھی ہوش سے بے خبر ہوئی تھی ۔۔۔ نہیں یاد تھا کہ کس گانے پر رقص کر رہی تھی نہیں یاد تھا کہ ہارمونیم کی کون سے دھن بج رہی تھی ۔۔۔ نا یہ کہ اسکے مداح واہ واہ کر رہے تھے ۔۔۔ بس عبدالباسط کی آنکھیں اس کا چہرہ اور کی پناہ ۔۔۔۔بس دل نے کہا کہ سمٹ جائے اسکے حصار میں مگر وہ اسے آذاد کر کے پیچھے ہو چکا تھا ۔۔۔۔

چند مرد اور آگے بڑھے تھے ۔۔۔

“آرء جی کیا ہوا آپ کو “

“کچھ ناہی ٹھیک ہے آرء” ۔۔۔ آرء کسی کو بھی اپنے قریب بڑھنے نہیں دیا تھا ۔۔۔منہ پر دوبارہ سے آدھا نقاب ڈالے ۔۔۔۔ وہ پھر سے رقص کرنے لگی لیکن اس بار رقص کچھ اور لہہ پر تھا لگ تھا کہ آزاد پنچھی کی طرح جھوم رہی ہے پاؤں میں ہاتھوں میں کمر میں جیسے ترنگ سی آ گئ تھی ۔۔۔ ڈھول کی تھام پر پاؤں پوری تیزی سے چل رہے تھے ۔۔۔ جس طرح سے وہ بے خود سی ہو کر ناچنے لگی تھی سب ہی حیران تھے ۔۔۔ گھنگھروں کی جھنکار ڈھول سے ذیادہ تیز ہوئی تھی ۔۔۔ آج تو آرء کا رنگ ڈھنگ الگ تھا ۔۔۔ دل میں شادیانے بج رہے تھے محبوب سامنے تھا آرء کو لگا کہ چاروں طرف خوشی کاسما ہے بتیاں کی روشنی کئ گناہ بڑھ گئ ہے ۔۔۔ ہر چیز گارہی ہے جھوم رہی ہے ناچ رہی ہے ۔۔۔۔ اسے لگا کہ اسے بھی پنکھ لگ چکے ہیں ہواؤں میں اڑ رہی ہے اپنی خوشی میں وہ اسقدم مگن تھی کہ پاؤں میں پہنے گھنگروں ٹوٹ کر پھرے جا گرے تھے ۔۔۔ سب اسوقت چپ چاپ حیران آنکھوں سے اسے پورے جوبن سے ناچتے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ گھنگھروں کے ٹوٹ کر گرنے پر آرء کارقص رکا تھا دل کی رفتار سانسوں کا پھولنا ۔۔۔۔ چہرے پر پسینے کے قطرے بہہ رہے تھے ۔۔۔ مگر اسے لگا جتنیںوہ خوش ہے اس کا اظہار ابھی بھی کم کیا ہے

تالیوں کی گونج آرء کو ہوش میں لائی تھی ۔۔۔ آج کارقص دل کی شادمانی پر تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ رات کا سودا گر آگے بڑھتا آرء پہلی بار با آواز بلند بولی

“آج آرء کسی کو وقت ناہی دے سکتی اس لئے میری طرف سے ماجرت (معذرت ) ہے “سامنے بیٹھی جہاں بیگم نے تیوری چڑھائی تھی ۔۔۔۔ لوگ جانے لگے تھے ۔۔۔۔ آرء کمرے میں نہیں گئ تھی وہیں کھڑی عبدالباسط کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ بھی اسی کو دیکھ رہا پھر اٹھ کر جانے لگا

“ٹہر جا بابو تجھے جانے کا نہیں کیا ۔۔۔ میرے کمرے میں آ ۔۔۔۔۔کچھ بات کرنی ہے تجھ سے “عبدالباسط کے قدم رکے تھے۔۔ جہاں بیگم نے اب غور سے اس لڑکے کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔ آرء کا ہم عمر ہی تھا ۔۔۔ یاشاید سال دو سال بڑا ہو ۔۔۔ مگر ذیادہ عمر نہیں تھی نوجوان کی۔۔۔ لیکن حلیہ عجیب تھا سفید شلوار ٹخنوں سے اونچی سفید قمیض پر کئ شکینیں تھیں جھکی نظریں سر پر سفید ٹوپی باقاعدہ داڑھی تو نہیں تھی لیکن چہرے پر شیو بڑھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اور اس کم عمری میں سجدے کے مقام پر نشان ۔۔۔۔

لڑکا آرء کے کہنے پر اس کے ساتھ کمرے میں چلا گیا جہاں بیگم کے حواس کھونے کو تھے ۔۔۔ جو تیور وہ پچھلے کئ دن سے اپنی بیٹی کے دیکھ رہی تھی دل میں کھٹکا سا تو ہو گیا تھا کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے ۔۔مگر شک اسے امیر زادوں پر تھا اس لئے کچھ بے فکر تھی کہ بدلے میں نوٹوں کے ڈھیر ملیں گئے ۔۔۔ مگر اس لڑکے کی چال شاہانہ نہیں تھی نا آنکھوں میں دولت کی چمک وہ تو ایک عام سا انسان تھا منہ اٹھائے خالی ہاتھ آرء کے ساتھ چل بھی پڑا تھا ۔۔۔۔ جہاں بیگم کو اب پریشانی لاحق ہوئی تھی ۔۔۔

*****……****

“تو پھر آگیا یہاں ۔۔۔ایک تھپڑ کافی ناہی تھا تمہارے لئے ۔۔۔۔ نکل یہاں چھورے ورنہ نور جہاں دوسرا تھپڑ بھی مارنے میں لحاج (لحاظ) نا کرے گی ۔۔۔ ” جازم کو دیکھ کر نور جہاں کے چہرے پر خطرناک تیور ابھرے تھے ۔۔۔ لہجے میں سختی آئی تھی ۔۔ جازم اپنی بے بسی کی آخری حد میں تھا ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل نور جہاں کے سامنے بیٹھ گیا

“مار لیں تھپڑ مگر انکار مت کریں میں مر جاؤں گا ۔۔۔ اگر آپ میرے ساتھ نہیں گئی تو ۔۔۔ ” متورم سوجی آنکھوں سے اب بھی آنسوں۔ بہہ رہے تھے

“کم بخت کس مٹی کا بنا ہے تو ۔۔۔ دنیا تھو تھو کرے گی تجھ پر بھی اور اس عمر میں مجھ پر بھی ۔۔۔۔ جا یہاں سے ورنہ کامے دلال سے کہہ کر سو جوتیاں پڑوں گی تجھے “نور جہاں بیگم کے لہجے میں سختی ہنوز تھی ۔۔۔

“جب تک آپ مان نہیں جاتیں میں نہیں جاؤں گا ۔۔۔ ” چاہے جتنی مرضی جوتیاں پڑوا دیں

“دیکھ ببوا جو تو چاہتا ہے وہ ہونے سے رہا ۔۔۔ کیوں اپنی جوانی برباد کر رہا ہے ۔۔۔ جا یہاں سے “

“ٹھیک ہے چلا جاتا ہوں ۔۔۔ جو میں چاہتا ہوں اگر وہ ممکن نہیں بھی ہے تو ۔۔۔ کیا ایک رات بھی مجھے نہیں مل سکتی میں اسی کو متاع زندگی سمجھ لوں گا ۔۔۔۔میں آپ کو ایک رات کے ایک لاکھ دینے کو تیار ہوں ۔۔۔؟ جازم کی بات پر نور جہاں کا چہرہ تمتمایا تھا کانوں کی لو تک سرخ ہوئی تھی ۔۔۔ بھبک کر بلند آواز سے کامے کو بلانے لگی

“کامے ارے اوہ کومے کے بچے مر گیا ہے کا ۔۔۔ ادھر کو آ ” دبلا پتلا منہ میں پان دبائے تیس سال کا کاما نور جہاں کے سامنے با ادب کھڑا ہو گیا

“اس حرام جادے۔۔۔ کو دوبارہ میں نے یہاں دیکھا تو تجھے گنجا کر دوں گی چل لے جا اسے یہاں سے ۔۔۔ ” غصے سے پھنکار کر نور جہاں نے کہا جازم نے پہلی بار اپنے لئے ایسی غلیظ گالی سنی تھی۔۔۔ ایک ٹک نور جہاں کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا ۔۔۔ پھر خود سے اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔

“بات سن میری یہ کمینہ کوٹھے کے آس پاس نجر(نظر) آئے تو وہیں سے دفان کر دینا اسے ۔۔۔ میرے کوٹھے کی سیڑیاں نا چڑھ پائے یہ”

“جیسا آپ کا حکم” یہ کہہ کر کامے نے اگالدان میں پیک پھنکی نور جہاں پہلے ہی غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی کامے کی حرکت پر تلملا کر بولیں

“کمبخت کتنی بار کہا ہے میرا اگلدان نا استعمال کیا کر ۔۔۔ نکل یہاں یا میں جوتا اتارو اپنا “” نور جہاں کے خطرناک تیور دیکھ کر وہ الٹے قدم بھاگا تھا ۔۔۔

*****……

سامنے سے رومان اور ارتضی کو دیکھ کر وہاج بانہیں پھیلائے اسکی طرف تھا تھا اس سے گلے ملا ۔۔ رومان کے سر پر ہاتھ پھیرا

“کیسے ہو رومی “رومان بدک کر پیچھے ہٹا

“وہاج انکل میرے بال ” رومان فورا سے اپنے بالوں کو دوبارہ سے سیٹ کیا ۔۔۔ وہاج کے ساتھ ارتضی بھی ہسنے لگا

” اوہ ہو چھوٹے میاں ۔۔۔ تم تو بڑے شوقین مزاج نکلے بھئ کیا لک ہے بالوں کا ڈیشنگ لگ رہے ہو “وہاج نے جھک کر رومان سے کہا

” بس کبھی خود پر غرور نہیں کیا ” رومان نے اترا کر کہا تووہاج کی ہنسی بے اختیار تھی

” اچھا بھئ اب اندر چلو ۔۔۔ ارتضی مجھے تو لگا تھا تم آؤ۔ گئے ہی نہیں “

” کیسے نہیں آتا تمہارے بھائی شادی تھی ۔۔۔ میں تو کب سے تیار تھا بس یہ تمہارا بھتجا نخرے باز ہے “

“اچھا ہے تم پر نہیں گیا رومی وہ سامنے شہروز تمہارا ہی انتظار کر رہا ہے “وہاج نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا رومی نے دور سے ہاتھ ہلا کر شہروز کو متوجہ کیا ۔۔۔ اور اسکی طرف بڑھ گیا

چلو تم میرے ساتھ “وہاج اسے اپنے ساتھ کے گیا ۔۔۔

*****……

لائن سے بنے کئ شادی ہال میں سے تینوں سہلیاں یہ نہیں ڈسائیڈ کر پارہیں۔ تھیں کہ جائیں کس ہال میں ۔۔۔ تینوں ہی بہت اچھے سے تیار تھیں ۔۔۔ جیسے واقع کسی فنگشن میں مدعو ہیں ۔۔۔ پھر بلا آخر حیا نے ہی اقرء اور رامین کا ہاتھ پکڑا اور ایک ہال کے اندر داخل ہو گئ ۔۔۔ سامنے استقبالیہ پر کھڑی خوتین کے گلے لگی

“کیسی ہیں آنٹی آپ ” حیا یوں ملی جیسے برسوں کی شناسائی ہو ۔۔

“وہ خاتون اسے غور سے دیکھنے لگی ۔ ۔ “

“میں تو ٹھیک ہوں لیکن بیٹا میں نے آپ کو نہیں پہچانا “

” ارے مجھے نہیں پہچانا آپ نے ۔۔ میں پہلے ذرا عائشہ سے مل لوں پھر آپ کو بھی اپنا تعارف کروا دوں گی “ہال کے باہر وہ دلہا دلہن کا نام پڑھ چکی تھی ۔۔۔ اس سے پہلے کے خاتوں سمجھے کی کوشش کرتی۔ وہ اندر چلی گئ ۔۔۔ رخ اس کا دلہن کی طرف تھا ۔۔۔اقرء اور رامین بھی حیا کی تقلید میں چلنے لگیں ۔۔۔۔

خاتون کی نظر انہیں پر تھی ۔۔۔۔

شادی ہال ایک ہی تھااور مکس گیدرنگ تھی جب تک حیا دلہن کے پاس پہنچی ارتضی بھی وہاج کے ساتھ وہیں اسٹیج پر اسکے چھوٹے بھائی سے بغل گیر ہوتے ہوئے مبارک باد دے رہا تھا ۔۔۔

“ہائے کیسی ہو دلہن ۔۔۔ پتہ مجھے کتنا شوق ہے دلہن دیکھنے کا ۔۔۔۔ دور سے تو تم ٹھیک سے نظر ہی نہیں آ رہیں تھیں ۔۔۔”حیا کی کراری آواز پر دلہن کے ساتھ ساتھ دولہا اور وہاج کے ساتھ ارتضی بھی اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔۔۔ سلور اور گرے میکسی پہنے ڈوپٹے سے بے نیاز سلیو لیس اور ڈپٹ گلے

میں وہ سب میں نمایاں سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ کھلے بال ہلکی سے جیولری پر وہی بلا کا اعتماد جو اسکی شخصیت کا حصہ تھا ۔۔۔۔ حیا کی نظر ابھی ارتضی پر گئ نہیں تھی اس لئے اس کا ڈرامہ فل کلامکس پر تھا

“کیا میں آپ کے پاس کچھ دیر کے لئے بیٹھ سکتی ہوں ۔۔۔۔ “حیا نے بڑی معصومیت سے پوچھا

“جی بیٹھ جائیے “دلہن نے دھیرے سے کہا ۔۔۔ جیسے ہی حیا اسکے ساتھ بیٹھی سامنے کھڑے ارتضی کو دیکھ کر سانس لینا بھول گئ تھی ۔۔۔۔ ارتضی بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن دوبارہ سے نظر انداز کر کے نیچے اتر گیا وہ سمجھا کی دلہن کی دوست ہو گئ ۔۔۔ اور وہ کلاس میں تو ہے نہیں کہ وہ اسے کچھ کہے اسکی ذاتی زندگی ہے جو چاہے کرے ۔۔۔ حیا کے انداز سے وہ یہ تو سمجھ گیا تھا کہ وہ رچ فیملی سے بلونگ کرتی ہے لیکن اسکا پہنا اوڑھنا اسے غیر مناسب سا لگا تھا ۔۔۔۔ لیکن بہرحال یہ سب کااپناذاتی معاملا تھا وہ بھلا کون تھا اعتراض کرنے والا ۔۔۔۔ جیسے ہی ارتضی اسٹیج سے نیچے اترا حیاکے ساتھ ساتھ اقرء اور رامین کا بھی رکاہوا سانس بحال ہوا تھا ۔۔۔ تینوں ہی وہاں سے اٹھ گئیں کھانا لگ چکا تھا اس لئے جلدی سے کھانا پلیٹوں میں ڈال کر ایک ٹیبل پر بیٹھ گئیں اتفاق ایسا تھا کہ رومان اور ارتضی قریب کی ٹیبل پر۔ بیٹھے تھے ۔۔۔

“حیا ویسے ڈرامہ تو ختم ہے تم پر کیسے دو منٹ میں تم سامنے والے کو بیوقوف بنا دیتی ہو اور بننے والے کو خبر تک نہیں ہوتی ۔۔۔۔ نا کسی کو شک ہوا کہ ہم یہاں بن بلائے مہمان بن کر آئیں ہیں صرف اپنا ڈیر پوراکرنے “اقرء نے کباب کھاتے ہوئے کہا

“ابھی تم نے حیا کو دیکھا کی کہاں ہے یہ تو کچھ بھی نہیں جس دن میں نے صیحیح معنوں میں ڈرامہ کیااس دن پوری دنیا دیکھے گی کہ حیا کیسے کسی کو بھی انگلیوں پر نچا سکتی ہے ٫”رعونیت تھی کہ حیا کے ہر انداز سے چھلک رہی تھی آنکھویں غرور سے چور تھیں کچھ پیسوں کا نشہ کچھ حسن کا اور کچھ اپنی کم عمری پر بھی ایسی حرکتوں کو اپنی بہت بڑی خوبی سمجھ رہی تھی ۔۔۔

رومان تو کھانے میں مصروف تھا مگر ارتضی کو حیا کی باتیں سن کر افسوس ہواتھا ۔۔۔ چہرے سے معصوم سی لگتی تھی۔۔۔ عمر بھی اتنی نہیں تھی لیکن حرکتیں ۔۔۔ عقل سے بلا تر تھیں ۔۔۔۔

ارتضی تو خاموش رہا لیکن وہاں سے گزرتی ہوئی وہاج کی بیوی نے انکی باتیں سن لیں اور سمجھ بھی گئ کہ یہ لڑکیاں کس مقصد سے آئیں ہیں

اس لئے سیدھا حیا کے پاس جا کر رک گئ

” سنیے ۔۔۔ آپ کس کی مہمان ہیں ؟۔۔۔”

اقرء اور رامین کاتو رنگ اڑ گیا تھا مگر حیا نارمل تھی

“کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔۔ کیا مہمانوں کے ٹیبل پر جا کر ایک ایک سے آپ یہ پوچھتی کہ وہ اپنا تعارف کرویں ۔۔ ہمارے ہاں تو کھانے کے دوران صرف یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے ٹھیک سے سب کچھ لیا ہے نا کچھ چاہیے تو نہیں ۔۔۔میں لا دوں “بڑی ادا سے حیا نے بات کور کرنے کی کوشش کی تھی

“جی ہاں ہمارے ہاں یہی پوچھا جاتا ہے۔۔۔۔ کیا ہے ناں کہ باقی سب کو میں جانتی ہوں بس آپ کو پہلی بار دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔ ” وہ خاتون جب ٹلنے کو تیار نہیں ہوئی تو حیا کچھ نروس سی ہوگئ

“آپ کون ہیں لڑکی والوں کی طرف سے یا لڑکے والوں کی طرف سے “حیا نے الٹااسی سے سوال کیا تا کہ وہ جس کا بھی نام لے حیا اسکی مخالف پارٹی کا بول کر جان چھڑوا لے

“آپ دونوں طرف سے سمجھ لیں کیونکہ دلہن میری بہن ہے اور دولہا میرا دیور ۔۔۔۔ اب آپ بتائیں آپ کو انویٹیشن کس کی طرف سے ملا تھا ۔۔۔ “.”حیا اب صحیح معنوں میں پریشان ہوئی تھی

” جی وہ ہم ۔۔۔۔ ہم وہ “حیاسمجھ نہیں پارہی تھی اب کیا کہے

“آپ شاید بن بلائی مہمان ہیں ۔۔۔ “

“حیا نے کھاناوہیں۔ چھوڑ دیا اقرء اور رامین بھی پریشان ہوئیں تھیں

“جی اب بتائیں کون ہیں آپ لوگ اور کس کے کہنے پر آئی ہیں بلاؤں میں سکیورٹی گارڈ کو ” مریم کے تشویشی انداز پر

کافی لوگ انکی طرف متوجہ ہونے لگے تھے وہاج بھی وہاں پہنچ گیا بادل نخواستہ ارتضی کو ہی اٹھنا پڑا ۔۔۔

“کیا بات ہے مریم ۔۔ کون ہیں یہ “وہاج اب ان تینوں کی جانب دیکھ کر بولا پھر کچھ پہچاننے کی کوشش کرنے لگا

“تم تینوں تو سکینڈ ائیر کی اسٹوڈنٹ ہو شاید ۔۔۔ “وہاج سکینڈ ائیر کو پڑھاتا تو نہیں تھا لیکن انہیں کالج میں دیکھ چکا تھا ۔۔۔

“نن نہیں “حیا بری طرح گھبرائی تھی

“ہاں میری اسٹوڈنٹ ہیں ۔۔۔ بھابی سمجھ لیں کے میرے بلوائے پر آئیں ہیں ۔۔۔۔ انہیں شادیاں اٹینٹ کرنے کا خاصا کریز ہوتا ہے تو میں نے سوچا دعوت دے دوں “

“ارتضی آپ نے بلایا تھا ۔۔۔ ارے بیھٹیں آپ لوگ پلیز ارتضی کی مہمان ہیں ۔۔۔ پہلے بتانا چاہیے تھا “مریم بھابی کا لہجہ فورا بدلہ تھا ۔۔۔ لیکن وہ تینوں اپنی جگہ شرمندہ کھڑی تھیں مریم اور وہاج تو چلے گئے ۔۔۔ مگر ارتضی وہیں کھڑا رہا

“ایم سوری سر وہ ہم ” اقراء نے ہی معذرت خواہ انداز سے بات شروع کی

” جی میں جانتا ہوں آپ لوگ ڈیر کو پورا کرنے یہاں آئیں ہیں ۔۔۔ سو پلیز کیری آن ڈنر انجوائے کریں ۔۔اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو سامنے ویٹر سے کہہ دیجیے گا وہ آپ لوگوں سرو کروادے گا ۔۔۔ “ارتضی نے انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی تھی پھر پلٹنے لگا لیکن کچھ یاد آنے پر پھر سے حیا کے سامنے کھڑا ہو گیا

“کل آپ تینوں کلاس ختم ہونے کے بعد مجھے اسٹاف روم میں ضرور ملیں گئیں ۔۔۔ “یہ کہہ ارتضی اپنے ٹیبل پر چلا گیا ۔۔۔ وہ تینوں کچھ دیر تو کھڑی رہیں پھر وہاں سے چلی گئیں گاڑی کا سفر خاموشی سے گزرا تھا ۔۔۔ اقرء اور رامین کو انکے گھر ڈراپ کرتے حیا کو رات کے ڈیر بج گئے تھے اور اپنا گھر بھی کافی دور تھا ۔۔۔ وہ مارگلہ کے پہاڑوں کے سامنے بنے بنگلوں میں سے کسی ایک میں رہتی تھی ایف ڈن کا ایریا تھا لیکن راستہ بہت سنسان تھا ۔۔۔ اور رات کے اس پہر سنسان راستے میں اسکی گاڑی خراب ہو گئ تھی ۔۔۔ اسوقت وہاں سڑک پر کوئی گاڑی موجود نہیں تھی نا ہی کسی مدد گار کی امید تھی ۔۔۔ حیا نے ڈرائیور کو فون کیا اور لوکیشن بتا کر کہا کہ اسکی گاڑی خراب ہو گئ ہے اسلئے دوسری گاڑی لیکر پہنچے لیکن آتے آتے بھی ڈرائیور کو بیس سے پچیس منٹ کو لگتے ۔۔۔۔ حیا گاڑی کے اندر جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ دور دور سے کتوں کے بھوکنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔ سناٹے میں آواز گونج رہی تھی اس لئے وہ پریشان اور خوفزدہ سی ہونے لگی ۔۔۔

گاڑی کو اچھی طرح سے لوک کر کے بیٹھ گئ ۔۔۔ پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ وہاں سے ایک گاڑی گزری اس میں تین لڑکے بیٹھے تھے ۔۔۔ گاڑی تیزی سے گزری لیکن آگے جا کر رک گئ ۔۔۔ حیا کی جان پر بنی تھی اسی تیزی سے گاڑی واپس بیک ہوئی تھی ۔۔۔ اور اس کی گاڑی کے عین برابر کھڑی ہو گئ