Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 29 (Part 1)

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 29 (Part 1)

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

وقت تیزی سے گزر رہا تھا چار ماہ گزر گئے تھے ارتضی نے ایک بڑی سے شال حیا کو لا دی تھی ۔۔۔ ویسے بھی اسے ڈوپٹے کی پروا نہیں ہوتی تھی ۔ اب اسے تواس بات کااحساس تک نہیں تھا کہ اٹھنا بیٹھنا کیسے ہے ۔۔

” یہ کیا ہے” اچھی خاصی بڑی سی گرم شال دیکھ کر حیا کے چہرے کے زاویے بگڑے تھے ۔۔۔

“اسے شال کہتے ہیں ۔۔ “ارتضی کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی

” وہ مجھے بھی پتہ ہے ۔۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھ سے ڈوپٹہ بڑی مشکل سے سنبھلتا ہے اور یہ تو ڈوپٹے کا بھی باپ ہے ۔۔۔ ” پوری شال کھول کر اس نے دوبارہ دیکھا ۔۔۔۔ ارتضی کی سمجھ سے باہر تھا کہ اتنی لا ابالی سی کیوں ہے یہ لڑکی کچھ باتیں تو اسے خود بھی سمجھنی چاہیے ۔۔۔ اب ہر بات وہ تو نہیں سمجھا سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے ایک گہری سانس بھر کر کھڑا ہو گیاشال اسکے ہاتھ سے لے کر اسے اچھی طرح سے اوڑھا دی ۔۔۔

” اسے یوں لیتے ہیں ۔۔ تم بچی تو نہیں ہو ۔۔۔ کہ ہربات میں تمہیں سمجھاؤں ۔۔۔ اگر خود سے نہیں سمجھ سکتی تو بس جیسا کہہ رہا ہوں ویسا ہی کیا کرو۔۔۔۔ عورت کا مطلب ہی ڈھانپ لینا ہے ۔۔۔ چھپا لینا ہے ۔۔۔ ادھر بیٹھوں میرے پاس ” ارتضی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے صوفے پر بیٹھا دیا خود بھی اس کے پاس بیٹھ گیا حیا کی جانب وہ دیکھنے گریز ہی کرتا تھا لیکن وہ اسے کی طرف دیکھ رہی تھی

” سب سے بڑا مسلہ پتہ کیا ہے ۔۔ کہ یہاں کوئی بھی ایسی خاتون نہیں ہے جو تمہیں گائیڈ کر سکے اور میں ۔۔۔ میں تمہارا صرف وقتی شوہر ہوں ۔۔۔ تم سے بے تکلف نہیں ہو سکتا جو باتیں تمہیں تمہاری ماں کو سمجھانی چاہیے تھیں ۔۔ وہ میں چاہ کر بھی سمجھا نہیں سکتا ہوں حیا ۔۔ ۔۔۔ رومان چھوٹا بچہ نہیں ہے تمہیں اپنا آپ اس سے بھی چھپانا چاہیے تم اگر یونہی اس کے سامنے گھوموں پھروں گی تو سو سوال کرے گا تم سے جو تم پر ناگوار گزریں گئے ۔۔۔ ۔۔۔ جب تک تم میری حفاظت میں ہو میری ذمے داری ہو ۔۔۔ اس لئے میں تمہیں کسی کے سامنے عیاں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔ کسی کے سامنے بھی نہیں ۔۔۔ عورت کاحسن اسوقت اور بھی پر کشش ہو جاتا ہے جب وہ صرف اپنے شوہر تک ہی محدود رہے ۔۔۔ اگر تم کوشش کروں گی تو عادت ہو جائے تمہیں خود کو ڈھانپنے کی ۔۔۔ جیسے بہت سے کام جو تم پہلے نہیں کرتی تھی اب آرام سے کر لیتی ہو اسی طرح یہ بھی کر سکتی ہو ۔۔۔ کبھی اپنے نام پر غور کیا ہے تم نے ۔۔۔ کتنا پاکیزہ ہے تمہارا نام ۔۔۔ نام لیتے ہی ایک چھپی ہوئی چیز کا احساس ہوتا ہے ۔۔۔ لگتا کوئی قیمتی چیز ہے جسے چھپایا گیا ہے ۔۔۔

” حیا ۔۔۔ حیا میں ہی رہے تو بہت اچھی لگے گی سب سے ذیادہ خوبصورت اور حسین ۔۔۔ میرے خیال اس سے ذیادہ میں تمہیں سمجھا نہیں سکتا ” یہ کہہ کر وہ اٹھ کر رومان کے کمرے میں چلا گیا تھا اور حیا ۔۔۔ وہ چپ چاپ بیٹھی اس کی باتوں میں الجھی ہوئی تھی ۔۔۔

” یہ باتیں کب اس نے پہلے سنی تھیں ۔۔۔ کب کسی نے یہ سمجھایا تھا کہ اسے بھی اپنا آپ چھپانا ہے

” ممی یہ سکرٹ بہت چھوٹی ہے اسکی شرٹ اٹس ٹو شارٹ۔۔۔ میں ہاتھ اوپر کرتی ہوں تو میری کمر نظر آتی ہے ۔۔۔ ” بارہ سالہ حیا نے وہ سکرٹ شرٹ ناگواری سے پرے پھنکی تھی

” حیا ڈارلنگ یہ اس کااسٹائل ہے ۔۔فیشن ہے میری جان ۔۔۔ تمہاری سب فرینڈز ایسے ہی سکرٹ پہنتی ہیں ۔۔

” بٹ ممی آئی ڈونٹ فیل کنفرٹیبل ۔۔۔۔سب دکھتا ہے تو برا لگتا ہے ” ففتھ کلاس میں اسکی برتھ ڈے کی سلیبریشن کے لئے زوبیہ نے فیری فراک کے بجائے شارٹ اسکرٹ خریدہ تھی ۔۔۔

” دونٹ بی ربش حیا ۔۔۔ ابھی سے پہنوں گی تو یوز ٹو ہو جاؤں گی جانی ” حیا نے وہ پہن تو لی مگر پورے فنگشن میں حیا نروس سی رہی تھی پاڑی کے بعد ارسل کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے جب بھی اس کا ہاتھ حیا کی کمر پر لگتا اسے برا سا لگتا تھا ۔۔ وہ بار بار اس کا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن سامنے بیھٹی اسکی ماں اسکی کیفت سے انجان تھی ۔۔۔ حیا نے ایک گانے بعد ہی ڈانس کرنے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔

کئ بار پارٹی میں جاتے ہوئے اسکے گہرے گلے کے کپڑوں میں جب سب کی نظریں اس پر پڑتیں تو وہ عجیب سی الجھن کا شکار ہونے لگتی تھی ۔۔۔۔ ایسی تیز اور آر پار کرتی نظریں کہ پورے وجود میں سنسنی سی ہونے لگتی اس کا پوراوجود کانپ سا جاتا کبھی بلاوجہ وہ رونے لگتی ۔۔۔۔۔۔ وجہ کہاں کسی نے سمجھائی تھی ۔۔۔ بس ایک فطری سی بات تھی جس کا احساس تو ہوتا تھا لیکن آج تک وہ لفظ نہیں دے پائی تھی آذر نے بھی یہی کہا تھا کہ گاڑی میں اسکے حسن کو دیکھ کر وہ پاگل ہو گیا تھااس لئے حیا کو وہ چھوڑ دے اسکا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔

اور یہی ہوا تھا کہیں کا بھی نہیں چھوڑا تھا آذر نے اسے ۔۔۔۔۔ لیکن آج جیسے اسکی کیفت کو لفظ ملے تھے ۔۔۔ شال میں اچھی طرح سے لپٹی ہوئی اسے لگا وہ محفوظ ہے سب کی آر پار کرتی نظروں سے محفوظ ہے ۔۔۔ اکیس سال میں جو باتیں وہ صرف محسوس کرتی تھی لیکن بیان کرنے کے لئے لفظ سمجھ نہیں آتے تھے اکیس سکینڈ میں ارتضی اسے سمجھا گیا تھا ۔۔ رومان کی نظریں اسکے باپ کی طرح بے ضرر تھیں ۔۔۔ ماں ہی سمجھتا تھا اسے ۔۔۔ پیار بھی بھی بہت کرتا تھا ۔۔۔ لیکن اس شخص کی آنکھوں کی پاکیزی کچھ ایسی تھی کہ وہ اسے سب سے چھپانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ پہلی بار اسے اس شال میں اپنا آپ پر سکون سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔ اس نے شال مزید خود پر لپیٹ لی تھی

” ارسل دیکھوں نا کب سے یہ شخص مجھے گھور رہا ہے ۔۔جیسے کھا جائے گا ” آئسکریم پارلر پر ارسل کے ساتھ بیٹھے آئسکریم کھاتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھا شخص اسے مسلسل گھور رہا تھا حیا نے ارسل سے کہا ۔۔۔ ارسل کی اس شخص کی طرف پشت تھی ارسل نے پیچھے پلٹ کر دیکھا اور لاپرائی دیکھائی

” تو کیا ہوا حیا ۔۔۔ دیکھ رہا ہے تو دیکھنے دو تم ہو ہی دیکھنے کی چیز ۔۔۔ اگر بیچارہ اپنی آنکھوں ٹھنڈا کر رہا ہے تو کرنے دو ۔۔۔ ” ارسل کی بات حیا کو بری سی لگی تھی

“ارسل وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔۔ تم ایک بار اگر اسے گھور دو تو وہ باز آ جائے گا “

” کم آن حیا ۔۔۔ میں دقیانوسی مردوں کی طرح اسے گھورو اس جہالانہ طریقے سے جا کر اس کا گریبان پکڑو کہ تم میری منگتر کو کیوں دیکھ رہے ہو ۔۔۔ یو کے میں سب ایسے ہی دیکھتے ہیں بے بی ۔۔۔ ہم سب فرینڈز ایک دوسرے کی وائف اور گرل گرینڈ کے ساتھ ڈانس تک کرتے ہیں ۔۔۔ یہ سب عام ہے حیا تم ان نظروں۔ سے گھبرانا چھوڑ دو “

” اس بات کا کیا مطلب ہے ارسل ۔۔۔ کل تم بھی مجھے اپنے دوست کی بانہوں میں چھوڑ دو گئے “

” آف کورس حیا ۔۔۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے “وہ مزے سے آئسکریم کھاتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔۔ لیکن حیا نے ناگواری سے اپنا کچھ پیچھے کر دیا اور ارسل سے دو ٹوک انداز سے بولی

” تم جس کے ساتھ چاہوں ڈانس کرو لیکن اگر ۔مجھے تمہارے کسی بھی فرینڈ نے چھونے کی بھی کوشش کی تو میں اس کے ساتھ ساتھ تمہارا بھی سر پھاڑ دوں گی ” حیا کی بات کو ارسل نے مزاق میں لیا تھا

” ایک بار شادی تو ہونے تو دو بے بی ۔۔۔ میرے ساتھ یو کے تو چلو ۔۔۔ دیکھوں کیسا تمہیں اپنے رنگ میں رنگتا ہوں ۔۔۔۔۔ شرم و حیا بھول جاؤں گی مجھے بولڈنس پسند ہے حیا جان ۔۔۔ تمہیں بھی بولڈ بنا دوں گا ۔۔۔ “

حیا نے گہری سانس بھری تھی شال کو کچھ اور اپنے ساتھ لپیٹ لیا ۔۔۔۔

“ارسل ۔۔۔۔ ارتضی ۔۔۔ دو مرد دونوں کی سوچ کتنی مختلف ہے ۔۔۔ ایک کو حیا حیا میں چھپی ہوئی پسند ہے ۔۔۔ اور دوسرے کو۔۔۔ حیا کی حیا سے مسلہ ہے ۔۔۔۔ اور میں ۔۔۔ میں کیا ہوں ۔۔۔۔ ماڈرن فیملی کی بیٹی ۔۔۔ جسے فیشن کے نام پر بے حیائی کا عادی بنا دیا گیا ۔۔۔۔ جسے یہ سمجھایا گیا کہ امیر عورت کاپہنا اوڑھنا الگ ہوتا ہے ۔۔۔ اور ایک۔۔ ایک عام عورت کاپہنا اوڑھنا الگ ۔۔۔

تا کہ پہلی نظر دیکھنے سے لوگ سمجھ جائیں کہ ہم۔رچ فیملی سے بیلونگ کرتے ہیں ۔۔۔ عورت کا مطلب اگر چھپ جانے والی چیز ہے تو پھر اپرسوسائٹی میں یہ مطلب کیوں نہیں سمجھایاجاتا ۔۔۔۔ یہ کیوں کہا جاتا ہے دور بدل چکا ہے ۔۔۔ اب ڈوپٹے کا رواج نہیں رہا ۔۔۔۔ لڑکیوں کو خود اعتمادی ہونا چاہیے مرد کے شانہ با شانہ چلنا چاہیے ۔۔۔ چادر میں لپٹی لڑکیاں ہمیشہ عدم اعتمادی کا شکار رہتی ہیں ۔۔۔۔۔

اگر فطرت یہ ہے کہ عورت اپنے اوپر اٹھنے والی ہر نظر کو جاننے کی حس رکھتی ہے تو عورت کے لئے دور کیسے بدل سکتا ہے ۔۔۔ سکاف اور چادر ۔۔۔اتار کر وہ کون سااعتماد ہے جو وہ ڈولپ کر رہی ہے ۔۔۔

۔۔۔ اگر عورت مطلب پردہ ہے تو اسے تو چھپنا ہی چاہیے ۔۔۔۔۔ تاکہ یہ نظریں اسے پریشان نا کریں ۔۔۔

کافی دیر تک وہ صوفے پر بیھٹی یہی سوچتی رہی

******……

عبداالباسط اپنے کمرے میں آ گئے کمرہ بند کیا بے چینی ایسی تھی کہ تنفس بگڑنے لگا تھا ۔۔۔

“جازم ۔۔۔۔ میرا بیٹا ۔۔۔ میرا ۔۔۔ میری آرء کا ۔۔۔ کیا میں صاحب اولاد بھی ہوں ۔۔۔۔ ” آنسوں آنکھوں ٹپ ٹپ گر رہے تھے ۔۔۔ یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خوشی کے ہیں کہ دکھ کے ۔۔۔۔۔

” عبداالباسط میں نے فاطمہ کی نند سے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے ۔۔۔۔ فاطمہ کے ولیمے کی رسم پر تمہارا نکاح ہے ام حبیبہ سے “۔مفتی انور نے دوسرے دن ہی سب کچھ آنا فانا طے کیا تھا

” فاطمہ کی شادی آپ نے طے کر دی اچھا کیا ابا ۔۔۔۔ لیکن مجھ سے پوچھے بنا آپ نے فاطمہ کی نند سے میری بات طے کر کے غلط کیا ہے ۔۔۔ میں کوئی نکاح نہیں کروں گا ۔۔۔ اور اگر اس وجہ سے فاطمہ کی شادی ٹوٹ گئ تو الزام مجھے ۔مت دیجیے گا ” یہ کہہ کر عبداالباسط گھر سے ہی نکل گیا تھا ۔۔۔ رات بھی مسجد میں گزاری تھی ۔۔ رات کے تین بجے وضو کر کے جائے نماز پر بہت دیر تک نوافل پڑھتا رہا۔۔۔۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اللہ رب عزت سے دعا کرنے لگا

” میری محبت میں وہ تاثیر ڈال دے میرے اللہ کہ میری بیوی کو کوئی میلی آنکھ سے نا دیکھ سکے ۔۔۔۔ میری آرء کی حفاظت فرما ۔۔۔۔”

صبح فجر پڑھ کر وہ اپنے کام پر۔ چلا گیا تھا رات کو گھر کے۔ بجائے ۔مسجد میں ہی رات بتائی ۔۔۔۔ دوسرے روز مفی انور اسے لینے پہنچ گئے

” گھر چلو عبداالباسط ” مزاج انکا ابھی بھی برہم تھا

” پہلے آپ وعدہ کریں کے مزید زبردستی میرے ساتھ ہر گز نہیں کریں گئے “

” ٹھیک کے مجھے منظور ہے فاطمہ کی شادی کے بعد جب تم چاہوں میں تب تمہاری شادی کر دوں گا ام حبیبہ کے بجائے کہیں اور کروا دوں گا لیکن لڑکی کا دیندار ہونا شرط ہے ” مفتی انور کا لہجہ بے لچک تھا

” نہیں ابا یہ مت کہیں ۔۔۔ کیونکہ دیندار تو کوئی طوائف بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔ پھر اپنی بات سے پھرنا پڑے گا آپ کو۔۔۔۔ کہیں کے لڑکی کا دنیا کے سامنے دینی خاندان سے ہونا شرط ہے ۔۔۔۔” عبداالباسط کی بات پر وہ ہتھے سے اکھڑ تھے

“عبداالباسط زبان کو سنبھال کر بات کرو ۔۔۔۔ تمہیں ایک طوائف اور ایک دیندار لڑکی میں فرق نظر نہیں آتا ارے ہم نے ساری زندگی پاکیزگی سے گزاری ہے تمہاری بہنوں نے آج تک کسی غیر محرم کی شکل تک نہیں دیکھی یہ ہوتی ہے پاکیزگی “

” وہ میرے ساتھ رہتی تو وہ بھی کسی غیر محرم کی شکل نا دیکھتی ۔۔۔ آپ کے نزدیک پاکیزگی کاطلب اور مفہوم اور اسکی وسعت محدود ہے ابا ۔۔۔ حالانکہ حقیقت اس سے برعکس ہے ۔۔۔ ہم گناہگاروں پر جہنم کے فتوے لگانے میں دیر نہیں کرتے سمجھتے ہیں بس اس نے گناہ کر دیا ہے تو بس اب یہ جہنمی ہے ۔۔۔۔ اللہ نے کب یہ اختیار دیا ہے کہ ہم یہ دعوے کریں ۔۔۔۔اگر کوئی توبہ کر لے اسے تو ۔میرا رب بھی معاف کر دیتا ہے۔۔۔۔پھر اسکے بندے ایسا حوصلہ کیوں نہیں رکھتے۔۔۔۔۔اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے دوبارہ اسی جہنم میں پھنک دیتے ہیں صرف اپنی دنیاوی عزت وناموس کی خاطر ۔۔۔۔ میں بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں ابا اگر آرء میرے ساتھ رہتی تو خدا کی قسم فاطمہ سے بڑھ کر پردہ کرتی اتنی محبت کرتی تھی وہ مجھ سے ہر چیز کو چھوڑ دیتی میرے لئے ۔۔۔ وہ وہاں رہنا نہیں چاہتی تھی ابا ۔۔۔وہ ویسی زندگی بھی گزارنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ مجھے بتائیں ابا جو طوائفیں وہاں رہنا نہیں چاہتیں ویسی زندگی بھی جینا نہیں چاہتی انہیں آزادی کیوں نہیں ملتی انہیں عزت سے زندگی گزارنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا ۔۔۔۔” عبداالباسط ےببسی سے پوچھ رہا تھا

” میں نے ساری دنیا کا بیڑا۔ نہیں اٹھا رکھا عبداالباسط میں بس یہ جانتا ہوں کہ میرا خاندان سات پشتوں سے دین کی خدمت پر معمور ہے پاکیزگی ہمارے رگوں میں دوڑتی ہے اس لئے میری نسل بھی آگے ایسی ہی پاکدامن لڑکی ہی لے کر چلے گی کوئی کوٹھے پر ناچنے والی طوائف نہیں ” عبداالباسط نے باپ کی بات سن کر تاسف سے کہا

” پاک دامن لڑکی ۔۔۔ ایسا کریں میری شادی ام حبیبہ سے کر دیں وہ نیک ہے پاکدامن۔ ہے ۔۔۔ اسے میں خود کوٹھے پر چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔۔۔ دو سال وہیں رہنے دیتا ہوں پھر اسے واپس لے آؤں گا ۔۔۔ اسکے بعد اسے اپناوں گا ۔۔۔ “

“یہ کیا بکواس کر رہے ہو عبداالباسط”

” کیوں ابا ام حبیبہ کے خاندان کے دیندار ہونے کی گواہی تو آپ کی خود کی ہے ۔۔۔۔ کیا دوسال کوٹھے پر گزار لینے سے اس کی رگوں میں دوڑنے والا خاندانی دیندار خون میلہ ہو جائے گا ۔۔۔۔ یا وہ اپنی مرضی سے بد کردار ہو جائے گی ۔۔۔ “

” کم بخت تو گناہگار ہو گا جو اپنی عزت کو ایسی جگہ چھوڑ آئے گا جہاں وہ محفوظ نا رہ سکے “

” یہی تو کروایا ہے آپ نے مجھ سے اپنی شہ رگ پر بلیٹ رکھ کر مجھے مجبور کیا ہے کہ اپنی عزت کو اس کوٹھے پر چھوڑ آؤں گناہگار کر دیا آپ نے مجھے ابا۔۔۔۔ قیامت کے دن آرء کے ہاتھ میں میرا گریبان ہو گا ۔۔۔ پوچھے گی مجھ سے کہ کیا قصور تھا اس کا ۔۔۔ اس وقت اللہ کے سامنے جوابدہ آپ ہوں گئے ابا ۔۔۔ کیونکہ میں تو اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے کہنے پر آپ کے ساتھ آ گیا ۔۔۔۔ آج کے بعد بھول جائیں کے عبداالباسط کسی سے شادی کرے گا یااپناگھر بسائے گا ۔۔۔ بھول جائیں کے آپ کی نسل آگے بڑھے گی سات پشتیں پوری ہو چکیں آٹھویں آگے نہیں چلے گی ۔۔۔ کم از کم مجھ سے یہ امید مت رکھیے گا آرء نہیں تو کوئی اور بھی کبھی نہیں ” اپنی ہی آواز عبداالباسط کے کانوں میں گونج رہی تھی ۔۔۔ آنسوں تواتر سے بہہ رہے تھے

نسل تو آگے بڑھ چکی تھی اس کا بیٹا آج اسکے سامنے کھڑا تھا ان گنت سوال لئے ۔۔۔۔ جی تو چاہا کہ باپ کی قبر پے جا کر کہے اٹھیں اور جواب دیں اپنے پوتے کو ۔۔۔۔ جس کی نظر میں راہ بدل جانے والا میں ہوں۔۔۔ میں عبداالباسط اس ۔مدرسے میں موجود ایک ہزارسے زائد شاگرودں کو اولاد کی طرح پالنے والا انکی حفاظت کرنے والا اپنے ہی بیٹے کو در در کی ٹھوکروں کے لئے چھوڑ بیٹھا ۔۔۔ انجانے میں ہی سہی لیکن غلطی تو میں کر بیٹھا آرء نے کیوں مجھ سے یہ چھپایا اپنا پتہ تو دے کر آیا تھااسے ایک بار تو مجھ سے رابطہ رکھنے کی کوشش کرتی ۔۔۔۔ ایک بار تو مجھے پکاراہوتا ” آنسوں سے چہرہ داڑھی تر ہو چکی تھی ۔۔۔۔

آنکھیں بند کی تھی جازم کا مسکراتا ہوا چہرہ سامنے آ گیا

پہلی بار اسے دیکھ کر دل کو وہ بھلا سا لگا تھا ۔۔۔ ذرا سا مسکراتا تھا تو ڈمپل گال پر نمایاں ہوتا تھا ۔۔۔ بلکل آرء کی طرح ۔۔۔۔۔ پہلی بار اسکے ادھ چھپے چہرے سے نمایاں ہونے والے اس ڈمپل نے ہی عبداالباسط کے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔

دل بیٹے کو دیکھ کر بے۔ چین سا ہوا تھا ۔۔۔

رات بڑی مشکل سے کٹی تھی ۔۔۔۔

رات تو جازم کی۔ جی جاگتے ہوئے گزری تھی ۔۔۔ صبح فجر کی نماز عبداالباسط ہی پڑھاتے تھے ۔۔۔ روز کی ہی انکی تلاوت دل کو چھو سی جاتی تھی لیکن آج آج آواز میں واقع نمی تھی ۔۔۔ لہجے سے لگ رہا تھا کہ آنسوں کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔ ایک تو یہ ضبط بھی بڑی آزمائش والا ہوتا ہے ۔۔۔ اپنے آنسوں کو رکنا ۔۔۔۔ نماز کے بعد بیان کی زمہ داری عبدالغنی کو دے کر عبداالباسط اٹھ گئے تھے

” میری طعبت کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ اس لئے آج کا بیان عبدالغنی کروائے گا ” یہ کہہ کر وہ جازم کے سامنے کھڑے ہوئے تھے وہ سر جھکائے وہیں بیٹھا تھا

” جازم تم میرے ساتھ آؤں کچھ کام ہے تم سے ” عبدالباسط کے کہنے پر وہ کھڑا ہو گیا انکی متورم آنکھیں دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ رات اسکی طرح انہوں نے بھی جاگ کر گزاری ہے

پہلی بار انہوں اس کا ہاتھ پکڑا تھا اور اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لیکر گئے تھے ۔۔۔ دروازہ بند کیا

اسے سینے سے بینچ لیا تھا ۔۔۔۔ بے اختیار تو جازم بھی ہو چکا تھا ۔۔۔۔ باپ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا ۔۔۔۔ گلے تو وہ کئ بار ہارون الرشید کے بھی لگا تھا ۔۔۔ لیکن آج کی تشنگی الگ تھی ۔۔۔۔ لگتا تھا اسکا آدھا وجود جیسے مکمل سا ہو گیا ہو ۔۔۔۔۔ ہچکیوں سے کانپتا وجود تھا عبداالباسط کا جازم کا دل تڑپا تھا جتنے بھی شکوے تھے جازم کے پاس مگر اس وقت تو لگ رہا کہ سب بے معنی ہیں با مشکل ہی عبداالباسط نے خود پر قابو پایا تھا ۔۔۔۔

اس سے الگ ہو کر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا بڑی فرحت محبت سے اسکا ماتھا چوما تھا جازم کے بھی آنسوں بہہ رہے تھے اپنے باپ کے دونوں ہاتھ پکڑ اس نے اپنے ہونٹوں پر لگائے تھے ۔۔۔۔

” مجھے معاف کر دینا بیٹا ۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری کوئی اولاد بھی ہے ۔۔ ورنہ سینے سے لگا کر رکھتا تمہیں ۔۔۔ ” آ نکھوں اور لہجے میں ایسی ندامت تھی کہ جیسے جازم کا مجرم ہو لہجہ ایسا عاجزانہ کے جازم کا شکوہ دل میں رہ گیا جازم کچھ نہیں بولا عبداالباسط نے کپکپاتے ہونٹوں سے پوچھا

” آرء کیسی ہے ۔۔۔۔ “

” جیسے آپ ہیں دنیا کے سامنے خوش اور تنہائی میں اکیلی۔۔۔۔ “

” اسکے پاس تو تم ہو ۔۔۔”

” نہیں میں بھی نہیں تھا ۔۔۔ مجھے تو انہوں کسی اور کے سپرد کر دیا تھا ۔۔۔ کہ کوٹھے پر پرورش پا کر کہیں اپنی ماں کا دلال نا بن جاؤں ” کڑوا سچ تھا جازم کی زبان پر ۔۔۔ سن کر عبدالباسط کے سینے درد کی لہر اٹھی تھی

” کہاں ہے وہ اب ” دل کا درد بڑی مشکل سے سہتے ہوئے پوچھا تھا

“زندہ ہیں ” جازم کا لہجہ ذرا ترش ہوا تھا

“یہ تو جانتا ہوں کہ وہ زندہ ہے ۔۔۔۔ جب جب میری دھڑکن چلتی ہے اس کے جینے کی نوید سناتی ہے جب جب سانس لیتا ہوں اسکی سانسوں کی خوشبو آتی ہے ۔۔۔ اس لئے اس بات کا یقین ہے کہ وہ زندہ ہے ۔۔۔ رہتی کہاں یہ پوچھا ہے تم سے

” وہیں جہاں بھیجا تھا آپ نے کئ سال پہلے پھر ایک بار بھی پلٹ کر نہیں پوچھا “

” میں نے پلٹ کر نہیں پوچھا ؟ میں تو گیا تھا اسے لینے ۔۔۔۔ جب اسکی تصاویر چپھی تھیں رسالوں میں۔۔۔ پوسٹر دیواروں پر لگائے گئے تھے ۔۔۔ میری آرء کو نا جانے کس کس نے دیکھا تھا آگ سی لگ گئ تھی مجھے

کیسے کیسے واہیات لفظ نہیں سنے میں نے اس کے بارے میں جہاں جہاں سے مجھ سے ہو سکا میں نے دیواروں سے پوسٹر پھاڑنے شروع کر دیے ۔۔۔۔ سوچ لیا تھا کہ اب کچھ بھی ہو جائے اپنے ساتھ ہی رکھوں گا اسے ۔۔۔۔۔ جہان کے کوٹھے پر میں اسے لینے گیا

لیکن وہ جا چکی تھی ۔۔۔ جہان بیگم نے کہا کہ اسے علی ہمزہ دبئ لے گیا ہے اب وہ مجھے کبھی نہیں ملے گی ۔۔۔ ” مجھے پھر بھی ان کی باتوں پر یقین نہیں آیا اس لئے میں نے پورے کھوٹھے کو دیکھا تھا ایک ایک کمرہ دیکھا بار بار اسے پکارتا رہا لیکن نہیں وہ تھی ۔۔۔۔ مجھے لگا شاید میں “وہ” محبت نہیں کر پایا۔۔۔ یا میری عبادت میں ابھی بھی بہت کمی ہے جو میری یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔میری آرء ۔۔۔ میری نہیں رہی تھی ۔۔۔ پھرمجھ سے لاہور رہا نہیں گیا اس لئے یہاں راجن پور شفٹ ہو گیا ۔۔۔۔۔ دبئ تو جانا میرے لئے ممکن نہیں تھا ۔۔۔

اس لئے اسکی محبت کو دل میں۔ بسائے اپنے کام میں لگ گیا ۔۔۔اس گھر کو تڑوا کر مدرسیہ بنوایا

عالم بنا مفتی اور امام مسجد بھی بن گیا گو کے جو سکا وہ کیا۔۔۔ بس شادی نہیں کی ” عبدالباسط کی باتیں سن جازم کو لگا کہ قصور وار شاید کوئی بھی نہیں ہے ۔۔ بس قسمت نے کچھ چالیں چلی ہیں