Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 4
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 4
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
ثوبیہ اپنی جگہ پریشان تھی ۔۔۔۔ شمس نے منی کے ذریعے خط پر یہ پیغام بھیجا کہ وہ خود کو ذہنی طور پر تیار کر لے موقع ملتے ہی وہ اسے بھاگا لے جائے گا ۔۔۔
یہ پڑھ کر ثوبیہ کی جان ہوا ہوئی تھی ۔۔۔ باپ بھی سخت مزاج کا تھااور بھائی تو زندہ مار ڈالتا خط کے اس نے کئ ٹکڑے کر کے پھنک دیا کہ اگر کسی کے ہاتھ بھی لگ گیا تو وہ تو بن موت ہی ماری جائے گی ۔۔۔ بے بسی ہی۔ بے بسی تھی جانتی تھی کے گھر کی دہلیز پار کرتے ہی واپسی کے راستے بند ہیں ۔۔۔
اتنی بے بسی تھی کے وہ رونے لگی تھی ۔۔۔ بھاگنا نہیں چاہتی ۔۔۔ نا ہی باپ بھائی کی عزت سے کھیلنا چاہتی تھی لیکن یہ بھی سچ تھا کہ شمس کی محبت میں جس قدر آگے جا چکی تھی اس سے بھی بیوفائی نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ شش و پنچ میں مبتلہ تھی ۔۔۔ آنسوں ہی تھے جو آنکھوں کی راہ سے نکل کر دل کے بوجھ کو کم کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔مگر نا کام تھے
*****……
عبدالباسط کمرے داخل ہوا تب بھی آرء۔کا سانس بری طرح سے پھولا ہوا تھا ۔۔۔ وہ لمبے لمبے سانس لے کر خود کو اعتدال پر لانے کی کوشش کر رہی تھی چہرے پر کئ رنگ تھے خوشی کے چاہت کے امنگیں تھیں کہ دل میں مچل رہیں تھیں ۔۔۔ عبدالباسط متذبذب سا تھا کہ آرء نے اسے کیوں بلایا ۔۔۔ آج تو خالی جیب تھاوہ بس دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسکا رقص دیکھنے چلا آیا تھا ۔۔۔
“کھڑے کاہے ہو بابو آؤں نا یہاں بیٹھوں آرء کے پاس “عبدالباسط کو دروازے کے پاس کھڑے دیکھ کر اس نے کہا ۔۔۔ عبدالباسط خرامہ خرامہ چلتے ہوئے ہی اس کے پاس پہنچا تھا
“بیٹھوں نا بابو ۔۔۔۔ کاہے گھبرا رہے ہو “آرء اسکے چہرے کی پریشانی بھانپ کر بولی
“وہ جی ۔۔۔ آج صرف رقص دیکھنے آیا تھا ۔۔۔ پیسے نہیں ہیں جی میرے پاس ” عبدالباسط کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی ہنسی تھی کہ جلترنگ تھی۔۔۔ آج وہ آدھے گھوگھٹ میں نہیں تھی
“بیٹھ جاؤ بابو آرء کے مہمان ہو تم ۔۔۔ آج کے بعد پیسوں کی بات نا کرنا ۔۔۔ “عبدالباسط اسے حیرت سے دیکھتا ہوا اسکے سامنے بیٹھ گیا
“جی میں ۔۔۔۔ سمجھا نہیں ۔۔۔۔”
” بابو آج کے بعد تجھے اجازت ہے بنا روپیہ آنا دئیے تو میرے پاس آ سکتا ہے اماں سے کہہ دونگی میں تجھے کبھی ناہی روکے گی “
“لیکن مجھ پر یہ مہربانی کیوں کس وجہ سے ؟عبدالباسط کے چہرے پر حیرانگی کے سوا دوسرا کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔۔
” بس آرء کو اچھا جو لگا ہے تو ۔۔۔ اس لئے ” آرء کے منہ سے یہ سن کر عبدالباسط کے چہرے پر مسکان سی آ گئ ۔۔۔
“مجھ میں بھلا اچھا کیا تھا ۔۔۔۔ میں تو آپ کے حسن پر پیسے بھی وارنے کے قابل نہیں ۔۔۔ کہ حسن کا صدقہ ہی اتار دوں ۔۔۔ ” عبدالباسط نے تعجب سے کہا
” تجھے کیا خبر بابو کہ آرء کے لئے تو کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ پیسے لوٹانے والوں کے پاس تو صرف لال نوٹ ہیں جو وہ لٹاتے ہیں۔۔۔ تیرے پاس تو بڑا خوبصورت دل ہے ۔۔۔۔ بڑی پاکیزہ نظر ہے ۔۔۔ تو دیکھتا ہے تو لگتا ہے عجت دار ہوں میں ۔۔۔ تو بات کرتا ہے تو لگتا ہے بڑی معتبر ہو گئ ہے آرء ۔۔۔۔ یہاں رہنے والی عورت پر نوٹ تو سب لوٹاتے ہیں ۔۔۔ اور بدلے میں لوٹ کر چلے جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن تو ۔۔۔تو کچھ اور ہی ہے بابو ۔۔۔۔ تو تو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔”آرء سمجھ نہیں پارہی تھی کہ دل کی کیفت کو کیسے بیان کرے ۔۔۔۔
” میں کیا دے سکتا ہوں کسی کو ” عبدالباسط استزائیہ مسکرایا تھا خالی جیب انسان کی اوقات ہی کیا ہوتی ہے کچھ بھی تو نہیں
” اچھا چل یہ بتا۔۔۔ میں تجھے اچھی کیوں لگی چھوریاں تو اور بھی بوہت سی ہیں یہاں ۔۔۔ اور ساری ہی حسین ہیں ” بڑے اشتیاق اس نے پوچھا تھا آرء کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی
” میں نے آپکے علاؤہ کسی کو دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔ آپ پر نظر پڑی پھر پلٹنا بھول گئ کسی اور کی طرف اٹھی ہی نہیں ۔۔۔۔ ” عبدالباسط نے سچ کہا تھا آرء کی مسکان پر ڈمپل گہرا ہوا تھا عبدالباسط کی نظر ڈمپل پر تھی
” نام کا ہے تیرا ” دوسرا سوال اسے بھی ذیادہ بے تابی سے پوچھا گیا تھا
“عبدالباسط ” اس کے نام سن کر آرء دھیمہ سا مسکرائی تھی
” لمبا چوڑا نام ہے ۔۔۔ پکا مولویوں جیسا ۔۔۔۔ “آرء کی بات پر وہ مسکرایہ تھا
” مولوی کا بیٹا ہوں تو نام تو ایسا ہی ہو گا “
” میں نے کبھی مولوی نہیں دیکھے بابو ۔۔۔ یہاں نہیں آتے ایسے نیک لوگ ۔۔۔ بس کبھی کبھی ٹیلی وژن دیکھوں تو کسی ڈرامے میں نظر آ جاتے ہیں ۔۔۔۔ ” عبدالباسط کو لگا کہ اس نے آ کر غلطی کر دی ۔۔۔ یہ واقع نیک لوگوں کی جگہ تو نہیں تھی پھر سامنے بیٹھی لڑکی نے بھی جتا دیا تھا اس لئے اپنا آپ بے معنی سا لگا
” میں اب جاؤں “عبدالباسط نے اجازت مانگی آرء تو بڑی لمبی باتوں کے موڈ میں تھی ۔۔۔
” اگر میں کہو کہ نا ہی جاؤں تو کا رک جاؤں گئے آرء کے لئے ۔۔۔ ” آرء کی بات پر وہ متحیر ہوا تھا
” رک نہیں سکتا دیر ہو گئ تو ابا وجہ پوچھیں گئے ۔۔۔ اور جھوٹ ذیادہ بولنے کی عادت نہیں ہے۔۔۔زبان لڑکھڑا جاتی ہے جلدی ہی پکڑا جاتا ہوں ” عبدالباسط کی بات پر وہ ہنسی تھی
“ٹھیک ہے جا چلا جا بابو ۔۔۔ ” عبدالباسط کھڑا ہو گیا ۔۔۔
لیکن جب کر کمرے کے دروازے پر پہنچا تو آارء نے پھر سے پکارا
” سن ۔۔۔”
“جی “وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا
” کل آئے گا نا ۔۔۔” بڑی آس تھی اس مہ جبین کی آنکھوں میں عبدالباسط کا دل یکبارگی سے دھڑکا تھا
“پتہ نہیں ” دل کو سنبھال کر وہ نظریں چرا کر بولا تھا ۔۔۔آرء کا ہر انداز اسے حیران کر رہا تھا
“کل جرور (ضرور ) آنا ” ایک اور حیران کن خواہش اسکے کانوں نے سنی تھی
“وہ کیوں ” بڑے تعجب سے ماتھے کو سکیڑ کر اس نے پوچھا
“بس ایویں ۔۔۔آجانا ۔۔۔اور ہاں ۔۔۔شام کو آنا ۔۔۔ اپنے ہاتھوں کی چائے پلاؤں گی تجھے ۔۔۔۔بابو نیلو کہتی ہے آرء تیری چائے میں نشہ ہے جسے لگ جاووئے وہ روج پینے آووئے ۔۔۔ تو آئے گا نا بابو ۔۔۔۔”۔آرء انتظار کرے گی تیرا “آرء کی بات پر اس نے حیرت سے سر اثبات میں ہلایا اور کمرے سے نکل گیا ۔۔۔ آرء کارویہ اسکی باتیں عبدالباسط کے لئے انوکھی تھیں پوری رات وہ اسکی باتوں میں کھویا رہا ۔۔ ۔مسکراتا رہا ۔۔۔ وہ بری عورت تھی وہ جانتا تھا ۔۔۔۔ غیر مردوں سے تعلقات بھی تھے یہ بھی اسے معلوم تھا کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔لیکن پھر بھی معصوم تھی ۔۔۔اس کا قصور بس یہ تھا کہ اس ماحول میں پیدا ہو گئ تھی دل کی اچھی تھی آنکھوں میں پیسوں کی چمک نہیں تھی ۔۔۔۔پہلی بار جب عبدالباسط کے ہاتھ پکڑے کر اسکے ہاتھوں پر چھالے دیکھے تھے تو آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں تھیں بڑی لگاوٹ سے اسکے ہاتھ چھالوں پر اپنی نازک سی انگلیوں کے پوروں سے اسکی ہتھیلی کے چھالوں کو چھوا تھا عبدالباسط کو لگاکسی نے مرھم لگادی ہو کیا رشتہ تھا اس کا اسے کوئی بھی نہیں پھر بھی اسکے زخم دیکھ کر درد اسکی آنکھوں میں تھا ۔۔۔ پہلی ملاقات تھی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ محبت ہو گئ تھی چند لمحوں میں ۔۔۔ بس اس لڑکی کادل نرم تھا ۔۔۔۔۔۔جتنی دیر عبدالباسط نے وہاں گزاری وہ لمحہ بھر بھی ہلی نہیں تھی اپنی جگہ سے اگر وہ دیکھنے کا طالب بن کر آیا تھاتووہ مجسمہ مورت بنی بیٹھی رہی تھی ۔۔۔ اللہ کی خوبصورت تخلیق تھی وہ لڑکی دل کی بھی اچھی تھی بس قسمت سے مار کھا گئ تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔پھر اسے بری کیوں لگتی ۔۔۔۔۔
اگلے روز وہ کوٹھے پر نہیں گیا عشا کی نماز کے بعد بیان سننے لگا آج ابا کی جگہ کوئی اور مفتی صاحب بیٹھے تھے ۔۔۔ عشاسے پہلے ہی ایک رئیس نواب انہیں مسجد میں تحفے ہدیہ کر کے اپنے گناہوں کی بخشش کا کہہ کر گیا تھا ۔۔۔ اور ساتھ یہ بھی کہ اسکے کام میں خیرو برکت کی دعا کی جائے مفتی صاحب نے سینے پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔۔۔دعااس کاروبار کے لئے جو سراسر سود پر مبنی تھا ۔۔۔ اور گناہ وہ کے جس پر رجم کا حکم ثابت ہوتا ہو محلے میں رہنے والے اس رئیس کی حرکتوں سے سب ہی واقف تھے ۔۔۔کیسے ممکن تھا کہ مفتی صاحب انجان ہوں لیکن بس طوطا چشمی اختیار کیے ہوئے تھے ۔۔۔۔ مولوی صاحب کا بیان شروع ہوا ۔۔۔
” ہمارا دین ہمیں عورت کی عزت کرنے کی تلقین کرتا ہے ہمارے بنی نے آخری خطبے میں فرمایا کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔۔ ۔۔۔ چاہے وہ ماں ہو بیوی ہو بہن ہو یا بیٹی یا پھر کوئی غیر عورت بھی ہو ۔۔۔۔ عزت کی حقدار ہر عورت ہے۔۔۔۔ احترام کا حق رکھتی ہے۔۔۔ “
“مفتی صاحب ایک سوال پوچھوں ” عبدالباسط کی آواز پر مفتی صاحب نے اشارے سے اجازت دی وہ با ادب کھڑا ہو گیا
” میراسوال ماں بہن بیوی بیٹی کے علاؤہ غیر عورت کے بارے میں ہے ۔۔۔۔کیا عورت کی عزت کرنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ معاشرہ اسے عزت کے قابل سمجھتا ہے کہ نہیں ؟ “
“یہ کیسا سوال ہے میاں ۔۔۔ عورت ہر حال میں قابل عزت ہے ۔۔۔
“”تو کیا بازار حسن کے کوٹھے پر بیٹھنے والی عورت بھی ہمارے لئے قابل عزت ہے ؟ اس سوال پر وہاں بیٹھے سب نفوز کی نظریں بے ساختہ عبدالباسط پر اٹھی تھی ۔۔۔
“یہ کیساسوال ہے ” مفتی صاحب کے ماتھے پر کئ لکیریں پڑیں تھیں
“کیوں وہ بھی تو عورتیں ہی ہیں “
“دیکھوں میں شریف عورتوں کی بات کر رہا ہوں “
” کیوں مفتی صاحب جب اسلام ہر عورت کی عزت اعترام کا حکم دیتا ہے تو اس میں سب شامل ہیں ۔۔۔ شریف بھی اور بد کار بھی “
” دیکھوں میں ان خواتین کے متعلق بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا ہوں ۔۔۔ انکا نام لینا بھی مجھے گالی کے مترادف لگتا ہے زبان نا پاک سی لگنے لگتی ہے ۔۔ بہتر ہو گا کہ تم یہ بات ہی نا کرو ۔۔۔۔ “مفتی صاحب نے ناگواری سے کہا
” مفتی صاحب یہ جو صاحب کچھ دیر پہلے یہاں تشریف لائے تھے آپ کو ہدیہ میں کافی تحفے دے کر گئے ہیں ۔۔۔ پورا محلہ جانتا ہے کہ انکی کمائی سود پر ہے ۔۔۔ اور ایسی عورتوں کے پاس بھی جاتے رہتے ہیں جن کا ذکر بھی آپ کو گالی کے مترادف لگتا ہے یہ بات عام ہے سب کو معلوم ہے کہ وہ صاحب کیسے ہیں آپ سے بھی چھپا ہوا نہیں ہے “
“یہ انسان کا اپنا فعل ہے ہر انسان اپنے عمل۔کا جوابدہ ہے ۔۔۔ “مفتی صاحب نے نظریں چرائیں۔ تھیں
“جی بلکل بجا فرمایا آپ نے ہر انسان اپنے عمل کاجوابدہ ہے۔۔۔ لیکن کیاوہ شخص مسجد میں آنے کاحق رکھتا ہے یہ جگہ تو بہت پاک ہے ؟
“اللہ نے مسجد کے دروازے سب کے لئے کھول رکھے ہیں ۔۔۔ گناہگاروں کے لئے بھی ۔۔۔ کوئی بھی آ سکتا ہے یہاں “
” تو کیا یہ وسعت ہمارے اسلام میں صرف مردوں کے لئے دی ہے ۔۔۔ عورتوں کے لئے نہیں ہے ۔۔۔ سود خور شخص تحفتا کچھ دے جائے تو جائز ۔۔۔۔ وہ عورتوں کے ساتھ نا جائز تعلقات رکھتے ہوئے بھی مسجد میں آ جائے تو جائز اور عورت اگر وحشیا کے گھر میں جنم لے اور وحشیا بن جائے تو وہ ایسی گالی کہ زبان نا پاک ۔۔۔ یہ سلام نہیں ہے مفتی صاحب یہ معاشرہ ہے ۔۔۔ کیونکہ اللہ نے تو ایسی عورت کو بھی ایک خارشی کتے کو پانی پلانے پر بخش دیا تھا جو جسم فروش تھی ۔۔۔”
“وہ کائنات کا خالق ہے جسے چاہے بخش دے ۔۔۔۔ میرے رب نے تو کفن چوروں کو بھی بخشا ہے “
“جی ہاں ٹھیک کہا آپ نے وہ کائنات کا تخلیق کار ہے جو چاہے کر دے ۔۔۔۔ جسے چاہے بخش دے ۔۔۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی زنا کار عورتوں کے ساتھ حسن سلوک فرمایا ہے
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَى، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: «أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا»، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: تُصَلِّي عَلَيْهَا يَا نَبِيَّ اللهِ وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: «لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَعَالَى
ترجمہ:
ہشام نے مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوقلابہ نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابومہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ زنا سے حاملہ تھی، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں (شرعی) حد کی مستحق ہو گئی ہوں، آپ وہ حد مجھ پر نافذ فرمائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا اور فرمایا: “اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا۔” اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے کپڑے اس پر کس کر باندھ دیے گئے، پھر آپ نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی: اللہ کے نبی! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: “اس نے یقینا ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر گھروں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے بھی کافی ہو جائے گی۔ اور کیا تم نے اس سے بہتر (کوئی) توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اللہ (کو راضی کرنے) کے لیے اپنی جان قربان کر دی ہے
صحیح مسلم حدیث نمبر: 4433
مفتی صاحب سزا اس لئے دی گئ تا کہ باقی لوگ گناہ کا ارتکاب نا کریں ایسے گناہ سے باز رہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن اس عورت کے ساتھ بد سلوکی سے منع کیا گیا ہے ۔۔۔۔دیکھا جائے تو
بازار حسن کو آباد تو مردوں نے کیا ہے انکی ہوس نے کیا ہے پھر گندی گالی عورت کیوں ہے ؟ ۔۔۔۔اور مرد باعرت کیوں ہے ؟ اگر ہمارامعاشرہ ایسے مرد کو با عزت کہتا ہے جو سود خور ہو زنا کار ہو تو پھر وہ عورتیں بھی قابل اعترام ہی ہوئیں جنہیں ہم ذکر کے قابل بھی نہیں سمجھتے ۔۔۔ ہم انہیں عزت کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔۔کیوں مفتی صاحب میں نے کچھ غلط کہا کیا ؟” عبدالباسط کی بات پر مفتی صاحب نے پہلو بدلہ تھا ۔۔۔
“وقت بہت ذیادہ ہو گیا ہے مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے میں چلتا ہوں “مفتی صاحب اٹھ کر چلے گئے ۔۔۔۔ ( یہاں ذکر ان کا کیا گیا ہے جو چند سکوں کے لئے فتوں کو بدل دیتے ہیں ۔۔۔۔ اس میں ہر عالم دین شامل نہیں ۔۔۔ لہذا اعتراض نااٹھایا جائے )
*****……
لڑکوں نے حیا کو اکیلا دیکھ کر پہلے تو گاڑی کا ہارن دے کر اسے متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ جان بوجھ کر رخ موڑے بیٹھی رہی ۔۔ پھر وہ لڑکے گاڑی سے باہر نکل گئے اسکی گاڑی کو ناک کرنے لگے ۔۔۔ چہرے سے ہی اوباش قسم کے لگ رہے تھے حیا مزید خوفزدہ ہوئی تھی ۔۔۔
لیکن جب حیا مسلسل منہ موڑے بیٹھی رہی روان لڑکوں نے شیشے کو زور سے بجانا شروع کر دیا ۔۔۔حیا کی جان نکلی تھی وہاں اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ سکتا تھا ۔۔۔ لیکن وہ کرتی کیا ۔۔۔ اس وقت اکیلی تھی اب ان لڑکوں کی کوشش تھی کہ کھڑکی کا شیشہ ہی توڑ دیں حیا نے موبائل سے فون دوبارہ سے ڈائیور کو کیا لیکن گھبراہٹ اور خوف سے وہ فون نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔
اسکی سوج بوجھ جیسے گم سی ہو گئ تھی ۔۔۔ دوسرے دروازے سے وہ باہر نکل کر بھاگنے لگی ۔۔۔ وہ لڑکے اب اسکے پیچھے بھاگ رہے تھے لمبی میکسی کو دونوں ہاتھوں سے اونچا کیے بھاگ رہی تھی ۔۔۔ فل میک اپ اور فینسی لباس ہیل پہنے وہ رورہی تھی ۔۔۔ سامنے سے آنے والی گاڑی سے سامنے وہ کھڑی ہو کر ہاتھ ہلا کر روکنے لگی ۔۔۔۔۔ گاڑی اسکے پاس ا کر رک گئ تھی ۔۔۔
“وہ جلدی سے فرنٹ سیٹ کے پاس آگئ شیشہ نیچے ہوتے ہی سامنے ارتضی کو دیکھ کر وہ پھوٹ کر رونے لگی
“سر پلیز مجھے بچا لیں وہ لڑکےمجھے۔۔۔۔۔ “حیا نے روتے ہوئے کہا ۔۔ چہرے پر بدحواسی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔ ارتضی گاڑی سے نیچے اتر گیا فرنٹ سیٹ پر رومان بیٹھا تھا ۔۔ اب وہ لڑکے بھی ارتضی کی گاڑی کے پاس پہنچ گئے
” حیا آپ گاڑی میں بیٹھیں ” ارتضی کے کہنے پر حیا نے پچھلی نشست کادروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئ ۔۔۔
“اوہ انکل بیچ میں مت آؤں تو تمہارے لئے بہتر ہے ۔۔۔ “ایک لڑکے نے شراب میں جھومتے ہوئے ارتضی کے کندھے کو تھتھپاتے ہوئے بھرم دیکھانے کی کوشش کی ارتضی نے اس کا ہاتھ جھٹکا
” دوسرا لڑکا کچھ ہوش مندی میں تھا اس لئے آگے بڑھا ۔۔
” دیکھ لڑکی کو ہمارے حوالے کر دے ورنہ ” اس لڑکے نے جیب سے ٹی ٹی نکال لی حیا کی خوف سے چیخ نکلی تھی دوسری چیخ رومان کے منہ سے برآمد ہوئی تھی ۔۔۔ پسٹل اب ارتضی کے سینے پر رکھی گئ تھی ۔۔۔ گھبرا تو وہ بھی گیا تھا ۔۔۔ ایسا کوئی بدمعاش تو وہ نہیں تھا ۔۔۔ کہ ایسے لڑکوں سے نپٹنا جانتا مگر ۔۔۔ یوں کسی پریشان حال لڑکی کو بھی ان لڑکوں کے حوالے نہیں کر سکتا تھا ۔۔
“دیکھوں یہ لڑکی میری ۔۔۔۔” ارتضی کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کے اس لڑکے نے ایک لی
“تری بہن بیٹی بھی کے تو باہر نکال اسے اور چلتا بن ورنہ ۔۔۔ تیرے سامنے ہی اسے بے آبرو ۔۔۔۔۔۔” اس لڑکے نے جو لفظ ادا کیے شاید سننے کے قابل نہیں تھے ارتضی شاید ہوش مندی میں یہ سب نا کرتا جو انکے گھٹیا لفظوں کی وجہ سے طیش میں آ کر کر گیا تھا اس نے بنا آؤ تاؤ دیکھے انہیں مارنا شروع کر دیا ۔
” شرم نہیں آتی ایسی بہودہ بکواس کرتے ہوئے ۔۔۔ ” وہ لڑکے پہلے ہی نشے میں تھے اس لئے اچانک سے پڑنے والے مکوں کی تاب نہیں لا پائے ۔۔۔ پسٹل بھی ہاتھ سے گر چکا تھا ۔۔۔ جیسے ہی وہ لڑکے کچھ دور جا کر گرے ارتضی نے وقت ضائع کیے بنا گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا اور گاڑی میں۔ بیٹھتے ہی گاڑی اسٹاٹ کر کے اس کی اسپیڈ بڑھا دی گاڑی منٹوں میں چرچراتے ٹائر کی آواز سے آگے بڑھ گئ حیا کا رکا ہوا سانس بحال ہوا تھا ۔۔۔ رومان تو ابھی تک اسی وژن میں تھا ۔۔۔ کچھ پل کسی کو کسی بات کا ہوش نہیں رہا تھا لیکن پانچ دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ۔۔۔ ارتضی نے ہی خود کو سنبھالا تھا
” حیا کون تھے یہ لڑکے اور آپ اس وقت تہنا یہاں کیا کر رہی۔ تھیں “لہجے میں واضع سختی تھی۔۔۔ حیا کی تو اپنے اس سر کے سامنے پہلے خوف سے جان نکلتی تھی اور اس وقت تو وہ پہلے سے اچھی خاصی حواس باختگی میں تھی اس لئے بہت آسان کام تھا جو اس نے شروع کر دیا تھااور وہ تھا گلا پھاڑ کے رونا ۔۔۔ بھیں بھیں کرتے وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح رونے لگی تھی جس سے کسی نے چوکلیٹ چھینی ہو رومان بھی حیا کے رونے پر حواسوں میں آ چکا تھا ارتضی مزید گھبرایا تھا
” سر وہ میری گاڑی خراب ہو گئ تھی ۔۔۔۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ سب ہو جائے گا ۔۔۔ میں تو گھر جا رہی تھی “
“او کے حیا ناؤ پلیز کیپ کوائٹ۔۔۔ رونا بند کریں اپنا اور گھر کا ایڈریس بتائیں ” ارتضی پوچھ کر پچھتا رہا تھا پہلی بار یوں گلا پھاڑے کسی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ذرا سا سلجھا پن نہیں تھا اس لڑکی میں
“ایف ڈن۔۔۔۔۔ بینگوں نمبر 214 “روتے ہوئے حیا نے بڑی تیزی سے گھر کا پتہ بتایا تھا ۔۔۔۔ پوچھنا تو ارتضی اس سے بہت کچھ چاہتا تھا مگر ایک تو رومان کی موجودگی میں بات کرنا مناسب نہیں تھا پھر اسکا بچکانہ طریقے سے رونا اسے زچ کرنے لگا تھا ۔۔۔۔ کس مصبت میں وہ پھسنے جا رہی تھی شاید اس بات کی سنگینی کا اسے اندازہ نہیں تھا آج اتفاق سے وہ وہاں سے گزر رہا تھا۔۔۔ اگر یہ اتفاق نا ہوتا تو کیا ہوتا اسکے ساتھ ۔۔۔ نا جانے لڑکیوں کو اتنی آزادی دی ہی کیوں جاتی ہے کہ رات کے اس پہر منہ اٹھائے کہیں بھی چلی جائیں ۔۔۔ اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں رات کے دو بجے سناٹے کا راج ہوتا ہے پھر علاقہ بھی سنسان ۔۔۔۔ ارتضی نے دوبارہ حیا سے کوئی سوال نہیں کیا بس گاڑی اسکے گھر کے سامنے کھڑی کر دی ۔۔۔ حیا کو ڈر صرف تب تک ہی لگا تھا جب تک وہ لڑکے اس کا پیچھا کر رہے تھے لیکن جیسے ہی ارتضی نے انہیں مار دھاڑ کر گاڑی چلائی تھی ۔۔۔ حیا کا ڈر بھی جاتا رہا تھا پھر تو اسے یک دم یہ سب اچھا لگنے لگا تھا کسی فلمی سین کی طرح کی سچویشن کی طرح ۔۔۔ لڑکی عزت بچاتی ہوئی بھاگتی ہوئی ایک گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے ۔۔۔ ہیرو ولن کی دھلائی کرتا ہے اور ہیروئن کی جان بچاتا ہے ۔۔۔ پھر لو اسٹوری شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ یہ ہیروں تو نہیں تھا کاش کے ارسل آ جاتا تو بات بلکل فٹ لگتی میری کر اسٹوری بھلا یہ انکل ٹائپ ہیرو کہاں سے حیا کے ساتھ جچتا ہے ۔۔۔۔۔ ہیرو تو ارسل ہی ہونا چاہیے ۔۔۔ ابھی حیا اپنے ساتھ ہیروں کی ایڈنگ کے بارے میں ٹھیک سے سوچ بھی نہہں پائی تھی کہ جب ارتضی کا کرخت لہجے میں پوچھے جانے والے سوالوں پر وہ اپنے ٹرانس سے نکلی تھی ۔۔۔ اب کیا بتاتی کہ اپنی بیوقوفی کہ وجہ سے پھنس گئ تھی ۔۔۔اس لئےڈرامہ شروع ہو چکا تھا زوارو قطار با آوز بلند وہ رونے لگی تھی تا کہ سوالوں کا سلسلہ یہی رک جائے اور ہوا بھی وہی تھا ارتضی نے مزید سوال نہیں کیے تھے ۔۔۔ لیکن حیا یہ بھول بیٹھی تھی کہ وہ جتنی بھی چالاکی دیکھا لے تھی تو اسکی شاگردہ ۔۔۔ جیسے ہی اپنے بنگلے کے سامنے گاڑی رکی فوار سے نیچے اتر کر ارتضی کا شکریہ ادا کیا تا کہ وہ وہاں سے چلتا بنے اور حیا کے کارنامے کی کان وکان اسکے گھر والوں کو خبر نا ہو ۔۔۔
“سر بہت بہت شکریہ آپ کا میں آپ کو چائے کاضرور پوچھتی لیکن رات کے دو بجے تو آپ یقینا اپنے گھر ہی جانا چاہیں گئے او کے بائے ۔۔۔ تھنکس اگین” عجلت میں اس نے یہ جمعلے ادا کیے تھے ۔۔۔
لیکن ارتضی بھی گاڑی سے اتر چکا تھا ۔۔ سب سے پہلے تو اسے اپنی شال اتار کر حیا کو دی ۔۔۔
“پہنیں اسے ۔۔۔”حیا نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔ پھر مرواتا شال لیکر خود پر لپیٹی ۔۔۔
” بیل دیں دیں حیا مجھے آپ کے والد سے ملنا ہے ۔۔۔ “ارتضی کی بات پر حیا کی آنکھیں پھیلیں تھیں ہوش اڑے تھے ۔۔۔۔
******…….
رات کو دو بجے دبے پاؤں ثوبیہ چھت پر پہنچی تھی ۔۔۔ جہاں پہلے سے شمس اس کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ خوف کے مارے ثوبیہ کی آدھی جان نکلی ہوئی تھی شام کو منی کے ہاتھ سے رقعہ لیکر جب اس نے پڑھا تھا تھا تو شمس کا پیغام پڑھ کر ہوش اڑے تھے رات کے دو بجے اس نے ثوبیہ کو چھت پر بلایا تھا ۔۔۔ دیوار کے ساتھ دیوار ملی ہوئی تھی اس لئے مشکل نہیں تھا شمس کا دیوار پھلانگ کر ثوبیہ کی چھت پر آنا ۔۔۔
کالی بڑی سی چادر اوڑھے وہ خوف کے مارے اڑے ہوئے رنگ سے شمس کو خوفزدہ آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ڈر تھا کہ کہیں کمالا اوپر نا آ جائے ورنہ جان سے مار ڈالے گا اسے بھی اور شمس کو بھی ۔۔۔
” شمس اس وقت آدھی رات کو کیوں بلایا مجھے ۔۔۔ ” ڈری سہمی آواز سے وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی
“یاد ستا رہی تھی تمہارے ۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کرتے ہی تم نظر آنے لگتی ہو ۔۔۔ پھر کم بخت نیند نہیں آتی اس لئے سوچا جب رتجگا کرنا ہی ہے تو ثوبیہ کے ساتھ کیوں نا کروں ۔۔۔”اس وقت اس خوف کی حالت میں شمش کی مسکراہٹ اور اٹکیلیاں ثوبیہ کو زہر لگ رہی۔ تھیں مگر وہ بڑے موڈ میں تھا ۔۔۔
“میری جان نکلی پڑی ہے شمس ۔۔۔ تم ہنس رہے ہو ۔۔۔ جا رہی ہوں میں ” ثوبیہ جیسے جانے کے لئے پلٹی تھی اگلے لمحے شمس کی مضبوط گرفت میں جکڑی گئ تھی ۔۔۔ پل میں وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ایک سال میں یہ جرت پہلی بار اس نے دیکھائی تھی۔۔۔
ثوبیہ کی جان ہوا ہوئی تھی ۔۔۔
“جانے دیتا ہوں میں تمہیں ایسے ہی ۔۔۔ “اس کے کان کے قریب وہ دھرے سے بولا ۔۔۔
“شمس اگر کسی نے دیکھ لیا تو ۔۔مارے جائیں گئے دونوں “ثوبیہ نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی تھی مگر نا کام ہوئی تھی
” یہ تو محبت کرنے پہلے سوچنا تھا ۔۔۔ چلو نا ثوبی بھاگ چلتے ہیں ” اسکی مضبوط گرفت اس پر اسکی باتیں ثوبیہ رودینے کو تھی ۔۔۔ جب شمس نے اس اپنے حصار سے آذاد کیا ۔۔۔
“نہیں شمس میں بھاگ کر شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔”اب وہ سسکیوں کے ساتھ رونے لگی تھی شمس بھی سنجیدہ ہو گیا ۔۔۔
“مطلب کیا ہے ثوبی ۔۔۔ بے وفائی کروں گی مجھ سے ۔۔۔ ؟ جان سے مار دونگا تمہیں اگر ایک قدم بھی میری محبت سے پیچھے ہٹنے کا سوچا بھی تو “شمس کی آنکھوں میں غصہ تھا ۔۔۔ ثوبیہ نے نفی میں سر ہلایا
“بے وفائی کبھی نہیں کر سکتی لیکن گھر سے بھاگ جانے والی لڑکیوں کی کوئی عزت اور مقام نہیں ہے ہمارے معاشرے میں ۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے شمس کمالا میرا گلا گھونٹ دے گا تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا ” نا آنسوں رک رہے تھے اور اسکی سسکیاں
“کسی کو پتہ چلے گا تو کوئی کچھ کرے گا ۔۔۔ چپ کرو۔ رونا دھونا بند کرو اپنا ۔۔۔ اور میری بات سنوں
میں انتظام کر رہا ہوں میرا سیٹ مجھے لاہور بلا رہا ہے ۔۔۔ وہاں اس نے نیا گیراج کھولا ہے اس لئے چاہتا ہے کہ میں وہ گیراج چلاؤں تنخاعہ بھی ڈبل ہے ۔۔۔۔ اور رہائش بھی دے گا ۔۔۔
میں پہلے تمہیں وہاں لیکر جاؤں گا ۔۔۔ ہم کورٹ میرج کریں گئے ۔۔۔ پھر چند دن بعد میں اماں اور منی کو بھی لے آؤں گا ۔۔۔ بس کسی کو کان و کان خبر نہیں ہو گی ۔۔۔۔ “پان تو بہت عمدہ بنایا تھا شمس نے ۔۔۔ گو کہ پورا ہو جاتا ۔۔۔۔
*****…….
آرء شام سے ہی کچن میں گھسی ہوئی تھی ۔۔۔ شامی کباب ۔۔۔ نگٹس اور پاستا اس نے خود بنائے تھے ۔۔۔ باقی چیزیں کامے سے منگوائیں تھیں جہاں بیگم سمجھ نہیں پا رہیں تھیں کہ آنے والا کون تھا جس کے لئے لاڈو رانی نے کچن کا رخ کیا تھا ۔۔۔ کام نمٹا کر خوب دل سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔ مگر انتظار ۔۔۔ انتظار ہی رہا ۔۔۔۔ شام سے رات ہو چکی تھی وہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ کمالا دس بار آ کر پوچھ چکا تھا ۔۔۔
“آرء بی بی اگر مہمان نے نہیں آنا تو دو کباب میں چکھ لوں “آرء پہلے ہی انتظار کے عذاب سے گزر کر
دل برداشتہ ہو گئ تھی ۔۔۔ اس لئے قہر بھری نظر سے کامے کو دیکھا
“تو کھا لے سب کچھ اور بچ جائے اسے باہر گلی کے کتے کے آگے ڈال دیجیو۔۔۔ “یہ کہہ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ رقص کے لئے بھی باہر نہیں آئی رات کو جہان بیگم اسکے کمرے میں آئی تھیں
وہ اندھے منہ لیٹی تھی
“بٹو ۔۔۔۔او میری لاڈو کاہے موڈخراب تیرا ۔۔۔” جہان بیگم کو کبھی کبھی ہی پیار آتا تھا آرء پر ممتا کبھی کبھی ہی جوش مارتی تھی ۔۔۔۔
“کچھ ناہی اماں ۔۔۔ بس آج کا دن سمجھ چھٹی لی ہے آرء نے ۔۔۔۔ کل تجھے آتی پہلے جیسی ہی ملے گئ ۔۔۔ “اپنے بہتے آنسوں وہ تکیے پر گرا رہی تھی ۔۔۔اچھی طرح ۔جانتی ماں کو پیار آ کیوں رہا ہے ۔۔۔ یہاں سب مطلب کے رشتے تھے ۔۔۔ پیسہ کی چمک سے نظروں میں محبت ابھرتی تھی ۔۔۔ جہاں بیگم تو اس بات پر ہی خوش ہو گئیں تھیں بیٹی کل اسے ویسی ہی ملے گئ اس لئے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی
“میری چندا چل سو جا آرام کر لے ۔۔۔ کل اچھے سے تیار ہونا ۔۔۔ کل تجھے کسی پاس لیکر جانا ہے میں نے ” یہ کہہ کر جہان بیگم اسکے کمرے سے چلی گئیں
“میں پاگل تھی جو سارا دن اس کے لئے اپنی جان جائے رکھی ۔۔۔۔۔ بھول گئ کہ میں کیا ہوں ۔۔۔اور وہ کیا ہے ۔۔۔۔ پیر میں پہنے والی جوتی قیمتی اور نفیس بھی ہو تو سر پر کوئی نہیں رکھتا پہنتا تو پاؤں میں ہی ہے ۔۔۔ وہ بھلا کیوں آتا ۔۔۔۔ پیسے نہیں تھے تو دو گھڑی بات کرنا بھاری تھا اس پر بس جانے کی جلدی تھی ۔۔۔۔ کہ میرے وقت کی قیمت ادا نہیں تھی ۔۔۔ ایمان ہے اس کے دل میں جبھی تو جبھی بے ایمانی کے لئے روکا نہیں مجھے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ۔۔۔ پھر میں یہ کیسے سوچ لیا۔ کے میرے حرام کے پیسوں کی چائے پینے آئے گا ۔۔۔پوری رات وقفے وقفے سے روتی رہی ۔۔۔ لیکن صبح وہی آتی بن گئ جو پہلے تھی ۔۔۔۔ دل پر کان دھرنا موقوف کر کے اپنے کام میں جت گئ رات کو کسی کے بلاوئے پر جانا تھا خوف تیار ہو کر گئ تھی ۔۔۔ اس بار ساڑھی پہنی تھی بالوں کے جوڑے پڑ گجرے بھی لگائے تھے کاجل بھی آنکھوں سے کھنچ کے لمبا کیا تھا ۔۔۔ ماں نے سمجھا دیاتھا پیسے ذیادہ ملیں گئے صاحب سرکاری افسر ہے اگر خوش ہو گیا تو ہزاروں لٹا دے گا ۔۔۔۔۔ گاڑی سات بجے اسکے کوٹھے نچے کھڑی تھی ۔۔۔ جہان بیگم نے دونوں ہاتھوں سے بلائیں لیں تھی آج بیٹی کی ۔۔۔ حسین تووہ تھی مگر آج تیار بہت اچھا ہوئی تھی اس لئے آنکھ بھر کے دیکھ کر نظر ہٹا لی ۔۔۔
” ہائے آری آج تو تو قیامت ڈھا رہی ہے ۔۔۔ نظر نا لگے تھے اس افسر کی “جہان بیگم کی بات آتی ستزائیہ ہنسی تھی
“اماں اگر فسر کی نظر مجھے نا لگی تو تیری جیب کیسے بھرے گی ۔۔۔ یہ دعا مت دیا کر ۔۔۔ “یہ کہہ وہ سیڑیاں اتر گئ ۔۔۔۔۔
گاڑی لاہور کے ایک شاندار ہوٹل کے سامنے رکی تھی ۔۔۔۔ وہ خاموشی سے نیچے اتر گئ گاڑی کے ڈرائیور نے پورے راستے اسے دیکھتا رہا تھا ۔۔۔ یہ بھی عام سی بات تھی ۔۔۔ جہاں سے وہ آئی تھی وہاں کون نظروں کو جھکاتا ہے ۔۔۔ جہاں جارہی جس لئے جارہی تھی اسے ڈرائیور کون سا انجان تھا اس لئے اپنی ہمراہی میں ایک کمرے سامنے لے جا کر رک گیا ۔۔۔
“صاحب اندر ہیں “یہ کہہ کر چلا گیا ۔۔۔ دروازے پر دستک آرء نے خود دی تھی دروازہ کھولنے والا خاصی عمر کا تھا مگر تھا فٹ اور اسمارٹ اور خوش شکل آتی کو دیکھ کر کچھ پل دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔
آرء کے لئے یہ سب نیا نہیں تھا ۔۔۔
“باہر ہی کھڑے دیکھوں گئے بابو یا اندر بھی بلاؤں گئے “زبردستی کی مسکراہٹ سجائے آتی نے پوچھا وہ کچھ چونکا تھا پھر دروازے سے پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔ وہ اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔
******……
“کیوں بار بار وہاں جاتے ہو تم ” آج تو جازم کے والد کا صبر جواب دے گیا تھا ۔۔۔ اس لئے اسکے گھر آتے ہی پھٹ پڑے تھے
” میری منزل وہی ہے ۔۔۔۔ اس لئے قدم تو وہیں اٹھیں گئے ۔۔۔۔ “
“کیا سمجھوں اس بات کا مطب کہ تم باز نہیں آؤں گئے “
“جی ہاں میں باز میں آؤں ۔۔۔ جب تک نور جہاں کو یہاں نا لے آؤں ۔۔۔ میرے قدم نہیں رکیں گئے “
” یہ پاگل پن ہے جازم “
” مجھے یہ پاگل پن منظور ہے ۔۔۔۔ “
“پر مجھے منظور نہیں ہے ۔۔۔۔۔ تم اب وہاں نہیں جاؤں گئے ” باپ غصے سے ہانپ رہا تھا ۔۔۔ چہرے پر گہرے بیماری کے آثار تھے ۔۔۔ صحت دن با دن گرتی جارہی تھی ۔۔۔ اس پر بیٹے کے جنون نے اذیت دوہری کر دی تھی ۔۔۔
“پھر میرے مرنے کی دعا کریں ۔۔۔۔ “جازم یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ غصے کو ضبط کرتے کرتے اب وہ بری طرح سے ہانپنے لگے تھے ۔۔۔ کھانسی کا ایسادورہ اٹھا کہ جازم فوراسے کمرے نکلا تھا وہ صوفے پر دوہرے ہوئے بری طرح سے کھانس رہے تھے ۔۔۔ جا نے جلدی سے انہیں سنبھالا بھاگ کر انکے کمرے سے انکی دوا لیکر آیا انہیں خود دوا پلائی کافی دیر کمر سہلاتا رہا ۔۔۔ پھر انکی کچھ طعبیت سنبھلی تھی ۔۔۔۔ کھانسی کو ہٹ گئ لیکن نقاہت سے سانس ابھی بھی پھول رہا تھا ۔۔۔
“آپ نے صبح سے اپنی دو نہیں لی بابا ۔۔۔ کیوں ؟ جازم نے دوائیاں دیکھی کووہ صبح انہیں دے کر گیا تھا کہ وہ لگا لیں وہ جو۔ کی توں پڑیں تھیں “
“تمہیں کیا فکر ۔۔۔ میں مروں یا جیوں ۔۔۔۔ ” انکی بات پر جازم نے تاسف سے انہیں دیکھا تھا ۔۔۔
” مجھے فکر نہیں ہے ۔۔۔ میرے لئے آپ کے علاؤہ ہے کون جس کی فکر کروں گا ۔۔۔ کاش کے میری جان بھی آپکے جسم آ سکے تو پل نا لگاؤں دینے میں مگر کم بخت اس پر بھی میرا اختیار نہیں “وہ بے بسی سے غصہ پیتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔۔
” بس نور جہاں کو چھوڑ دوں جازم “وہ پھولے ہوئے سانس سے بولے
“بابا مجھ سے میری زندگی مانگ لیں میں انکار نہیں کروں گا ۔۔۔ مگر انہیں نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوں “
“بہت سخت جان عورت ہے نہیں مانے گی ” وہ دھیرے دھیرے پھولے سانس کے ساتھ بولے
“میں بھی بہت ضدی ہوں پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔۔۔۔اب چھوڑیں اس بات کو ۔۔ میں سوپ لاتا ہوں آپکے لئے اور آج کے بعد دوااپنے سامنے کھلاؤں گا ” یہ کہہ کر جازم وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلا گیا
باپ کینسر کی آخری اسٹیج پر تھا ۔۔۔ لیکن وہ بے بس تھااس کا بون میرو باپ سے میچ نہیں کرتا تھا تھا ورنہ انہیں اپنی آنکھوں سے سامنے یوں سسکتا ہوا نا دیکھتا ۔۔۔۔
******…..
چوتھے دن جازم پھر نور جہاں کے کوٹھے کے پاس موجود تھا مگر اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ملی ۔۔۔ جازم نے غصے سے کامے کی طرف دیکھا جو منہ میں پان چباتے ہوئے اسے اوپر جانے سے منع کر رہا تھا ۔۔۔ اسے نظر انداز کر کے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا تو کامے نے ہاتھ آگے بڑھا کر رستہ روک دیا ۔۔
“نور جہان بیگم نے منع کیا ہے چل پھٹ اب ادھر سے “کامے نے آنکھوں کے اشارے سے پیک سے بھرے منہ کو ذرا سا اٹھا کر کہا کہ کہیں بولنے پان کی بھرت باہر نا آ جائے
“یہ میرا اور نور جہاں بیگم کا مسلہ ہے میں جانو اور وہ جانے تم بیچ میں مت آؤں ۔۔۔ ورنہ اکھاڑ کے پھنک دونگا تمہیں “جازم کی آنکھوں میں قہر بھرا تھا
“دیکھ ببوا بڑے اونچے ہاتھ ہوتے ہیں ان عورتوں کے بڑی پہنچ ہے نور جہاں بیگم کی ایک فون گھما دیا نا تو جیل سے نکل نہیں پاؤ گئے ۔ کوئی تیری عمر کی چھوری ہوتی تو سمجھ بھی آتی کیوں مرنا چاہتے ہو اسکی بڈھی کھوسٹ کے پیچھے ۔۔”کامے منہ سے یہ سن کر جازم کی آنکھوں لہو رنگ ہوئیں تھیں پھر تو اس نے یہ نہیں دیکھا کہ جانے کے لگ کہاں رہی ہے اندھا دھن مارنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ بہت سے لوگ جمع ہو گئے شور شرابے کی آواز سے کوٹھے کے صحن پر لڑکیاں لکڑی کے جال سے نیچے جھانکنے لگیں ۔۔۔ نور جہاں پرانے گانوں ٹیپ ریکارڈر پر لگائے سننے میں مگن تھیں جب سدا بہار بھاگم بھاگ نور جہان کے پاس آئی تھی
“نوری بیگم ۔۔۔ اس چھورے نے کامے کو مار مار لہو لہان کر دیا ہے اللہ قسم ” نور جہاں جو آڑی تخت پر لیٹی تھیں اٹھ بیٹھی ۔۔
“کون چھورا ؟
“نوری بیگم وہی “سدا بہار ذراسا ہچکچائی”
“اری بخت منہ سے پھوٹ وہی وہی کیا لگا رکھا ہے تو نے “نور جہاں اٹھ کر اسی پر بھڑکنے لگی
“نوری وہ تیرا عاشق “سدا بہار نے نظریں جھکا کر کہا ۔۔۔
اگلے لمحے اسکی چٹیا نور جہاں کے ہاتھ میں تھی ۔۔۔
” جو منہ آتا ہے بس بک دیتی ہے جبان کاٹ ڈالو دوبارہ کہا تو ۔”یہ کہہ کر نور جہاں بیگم نیچے اتر گئیں چار پانچ مردوں نے بڑی مشکل سے جازم سے کامے کو چھڑوایا تھا ۔۔۔۔ مکوں کی وجہ سے آنکھ کے قریب نیل کا نشان پڑ چکا تھا ہونٹ سے خون پانی سب بہہ رہا تھا جازم کو دونوں ہاتھوں سے وہی۔ کے دوکانداروں نے جکڑ رکھا تھا ۔۔۔ نور جہاں قہر برساتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
“تو نے ہاتھ اٹھایا ہے کامے پے “
“ہاں اٹھایا ہے ہاتھ یہ بکواس کرے گا تو جان سے بھی مار دو گااسے ۔۔۔”وہ اونچے لہجے میں طیش سے بولا
” رک تیرا انتجام (انتظام) تو میں کرتی ہوں ۔۔۔ سنوں لڑکوں اتنا مارو اسے کے شکل نا پہچانے اپنی کم بخت نے جینا دوبھر کر رکھا اس عمر میں بھی “۔۔۔ نور جہاں کے کہنے کی دیر تھی لڑکوں نے جازم کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ نور جہاں بیگم اوپر آ گئیں ۔۔۔۔ اب کی بار چیخنے چلانے کی آوازیں جازم کی اوپر تک آ رہیں تھیں
