Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 15
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 15
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
ارتضی نے اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا تو حیا نے جلدی سے اپنا ہاتھ رومان کے منہ سے ہٹایا رومان بھی سیدھا کھڑا ہو گیا ارتضی چلتا ہوا اس کے پاس آیا
” یہ تم کیا کر رہی تھی رومی کے ساتھ “
“ک ۔۔ک۔۔چھ نہیں بس ایسے ہی “حیا گھبرا کر بولی
” بابا وہ ممی مجھے گدگدی کر رہیں۔ تھیں میری ہنسی بند نہیں ہو رہی تھی اس لئے ۔میں نے آپ کو آواز دے دی تو مزاق سے انہوں نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا تھا اور کوئی بات نہیں ہے ” رومان نے حیا کو بچانے کے لئے بہانہ جڑا تھا ۔۔حیا نےپہلے حیرت سے رومان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ لیکن اسکے بہانے سے کچھ پر سکون ہوا تھا
” ہاتھ میں کیا ہے تمہارے ؟”ارتضی نے رومان کے کپڑے حیا کے ہاتھ دیکھ کر پوچھا
“وہ میں دیکھ رہی کیسے ہیں ۔۔ یہ لو رومی پکڑو ” حیا نے کپڑے رومان کو دیے اور۔ سیدھا کچن میں آگئ
” پتہ نہیں کس جلاد کے خاندان سے تعلق ہے ان کا ہر وقت غصے سے گھورتے ہی رہتے ہیں ۔۔۔ کیا بے بسی ہے اپنی مرضی کے کپڑے میں نہیں پہن سکتی ۔۔۔ میرا ورڈروب بھرا پڑا ہے کپڑوں سے اور یہاں مجھے اس رومی کے بچے کی منتیں کرنی پڑ رہی۔ ہیں ۔۔” دل جلاتے ہوئے وہ کیتلی میں پانی ڈال رہی تھی ۔۔۔ ساتھ ساتھ اونچی آواز میں اپنے دکھڑے بھی رو رہی تھی۔۔۔ رومان پیچھے کھڑا سن رہا تھا ۔۔۔ اس کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ حیا نے ایک غصیلی نظر اس پر ڈال کر ہٹا لی
” آنٹی “
” دیکھوں آنٹی مت کہنا مجھے ۔۔ہنہ آنٹی ” حیا نے منہ ٹہرا کر کے آنٹی دوہرایا “اور چائے کہ پتی ڈالنے لگی
” پھر ممی کہہ دوں ” رومان کی استفہامیہ نظروں پر حیا نے اپنی فہماشی نظریں گاڑھی تھیں
“جی نہیں “
“تو پھر کیا کہوں ” اس نے معصومیت سے پوچھا
” میرا نام حیا ہے ۔۔۔ اس لئے حیا ہی کہا کروں “
“یہ کافی بدتمیزی ہو جائے گی ۔۔۔ میں کافی چھوٹا ہوں آپ سے “
“پر لگتے تو نہیں ہو میرے ساتھ کھڑے ہو تو بس چند انچ کا فرق ہے “
“وہ تو آپ کی ہائٹ چھوٹی ہے اس لئے ” رومان کا یوں اسکی ہائٹ پر چوٹ کرنا اسے برا لگا تھا
” جی نہیں پانچ فٹ دو انچ ہائٹ ہے میری اور یہ بلکل ٹھیک ہوتی ہے ۔۔۔ تم ہی عمر سے کچھ بڑے لگتے ہو “
” پھر بھی میں آپ کو نام لیکر نہیں پکار سکتا ۔۔۔ “
” تم مجھے کچھ بھی کہہ کر مت پکارو بس چند دنوں کی بات ہے میں اپنی گھر تم اپنے گھر ” یہ کہہ کر حیا فریج سے دودھ نکالنے لگی
” کیا مطلب آپ کی تو میرے بابا سے شادی ہوئی ہے “
“جیسے شادی ہوئی کے نا ویسے طلاق بھی ہو جائے گی ۔۔۔” ملک پیک سے کیتلی میں دودھ ڈالتے ہوئے بڑے مدافعانہ انداز سے حیا نے کہا
” یہ طلاق کیا ہوتی ہے ” رومی نے نا فہم انداز سے ہوچھا
” یار تم کیوں میرا دماغ کھا رہے ہو ۔۔۔ جاؤں باہر ۔۔۔ اب ۔میں تمہیں بیٹھ کر یہ سمجھاؤں کے طلاق کیا ہوتی ہے ۔۔۔ “حیا نے چڑ کر کہا
” آپ کہیں مت جائیں بے شک رکھ لیں میرے سارے ٹراوزر بھی شرٹ بھی ۔۔۔۔ لیکن آپ یہیں رہیں ہمارے ساتھ ” رومان کی آنکھوں میں نمی اتری تھی بے شک وہ جیسی بھی تھی لیکن اسے ایک اچھی کمپنی مل گئ تھی ۔۔۔۔ حیا نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے
” یہ دیکھوں معاف کروں ۔مجھے ۔۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی یہاں اتنی پابندیوں میں ۔۔۔ پتہ نہیں یہ دن کیسے کاٹ رہی ہوں۔۔۔۔ ” چڑ کر اسے جواب دینے کے بعد وہ چائے کپ میں ڈالنے لگی ۔۔۔ بڑی مشکل سے بھاپ اٹھتی کیتلی کو پکڑے اس نے چائے کپ میں ڈالی ۔۔۔ اور پلیٹ میں کپ رکھا ۔۔۔ اور کچن سے نکل گئ ۔۔۔۔ارتضی کا
دروازہ نوک کیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئ وہ کمرے ۔میں نہیں تھا واش روم تھا حیا نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا وہیں اس کا موبائل رکھا تھا ۔۔۔۔
حیا کچھ دیر موبائل دیکھتی رہی ۔۔۔ پھر اس کا موبائل اٹھا لیا ۔۔۔ اپنا موبائل ویسے ہی بھول گی تھی رومان کے موبائل میں سوائے نیٹ کے اور کچھ نہیں چلتا تھا اور انٹر نیٹ بھی وہ ارتضی کے موبائل کے پیکج سے یوز کرتا تھا ۔۔۔ دن میں بھی وہ رومان کا موبائل لیے اپنے گھر رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ایک تو جہاں وہ تھی وہاں سروس کم آتی تھیں پھر اس کے موبائل میں بیلنس بھی نہیں تھا ۔۔۔۔اس لئے بس کارٹون ہی دیکھ سکتی تھی جو اس نے پہلے سے سیو کر رکھے تھے ۔۔۔۔ لیکن ارتضی کے فون سے وہ بات کر سکتی تھی ۔۔۔ اس نے فون آن کیا لیکن وہ لاک تھا ۔۔۔۔ وہ بری طرح سے مایوس کوئی تھی ۔۔۔ لیکن ہمت نہیں ہاری
” ارتضی کے اسپیلنگ ملا کر دیکھتی ہوں ذیادہ تر لوگ اپنے نام کا ہی کوڈ رکھتے ہیں ” خود ہی سوچ کر اس نے کوڈ ملایا لیکن ناکام رہی پھر رومی لکھا لیکن موبائل پھر بھی نہیں کھلا
” یہ کیا کر رہی تم ” ارتضی کی آواز اپنے عقب
یں سن کر وہ بری طرح سے کانپی اور چونکی تھی موبائل بھی گرتے گرتے بچا تھا
سب سے پہلے ارتضی نے اس ہاتھ سے موبائل چھینا تھا ۔۔۔ پھر سے غصے سے دیکھنے لگا
“کسے فون کرنا چاہتی ہو اپنے باپ کو ۔۔۔۔ تم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی جب تک میں نا چاہو” وہ غصے سے بولا
“آپ سمجھتے کیوں نہیں مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔ “
” یہیں رہو گی تم ہمیشہ میری بیوی بنکر ۔۔۔ ” ارتضی نے گھورتے ہوئے کہا
“ہر گز بھی نہیں ۔۔۔ آپ کے ساتھ رہنے سے بہتر میں مر جانا پسند کروں گی “
” شوق سے مرو ۔۔۔۔ یہی ایک واحد طریقہ ہے مجھ سے جان چھڑانے کا تمہارے پاس ۔۔۔ ” ارتضی نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا وہ غصے سے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ چپ چاپ صوفے پر جا کر لیٹ گئ ویسے دن بھر کی تھکی ہوئی تھی اس لئے کچھ دیر میں سو بھی گئ ۔۔۔
ارتضی چائے پینے کے بعد کچن میں آ گیا ۔۔۔ رات کے لئے دال بنائی ۔۔۔ روٹی بازار سے لے آیا تھا ۔۔ رومان کے کمرے میں اسے ڈنر کے لئے بلانے گیا تو وہ رو رہا تھا ۔۔۔
” رومی کیا ہوا ہے تمہیں ” ارتضی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا
“بابا وہ کہہ رہیں تھیں کہ وہ چلی جائیں گئیں “
“ہاں تو جانے دو اسے ۔۔۔ “
“نہیں بابا انہیں مت جانے دیں ۔۔۔۔
“کیوں “
“اتنی بھی بری نہیں ہیں وہ میرے ساتھ ملکر کاٹون بھی دیکھ رہیں تھیں باتیں کر رہی تھیں “
” ابھی کہیں نہیں جا رہی وہ لیکن یہ سچ ہے رومی کے مجھے اسے یہاں نہیں رکھنا ۔۔۔۔ ہمارے ساتھ نا وہ کبھی رہ سکتی ہے نا میں اسے زیادہ برداشت کر سکتا ہوں ۔۔۔ “
” بابا ۔۔۔۔ “وہ ملتجی ہوا تھا
” نو رومان ۔۔۔ اب بند کروں یہ رونا ۔۔۔ اٹھو منہ دھو جا کر۔۔۔ مل کر کھانا کھائیں ” ارتضی نے بڑے پیار سے اسکے گال تھپتھپائے
رومان اٹھ کر واش روم میں چلا گیا ۔۔۔
*******……
تانیہ کو اس کا شوہر سیدھا ڈاکٹر پر لے کر گیا تھا ۔۔۔۔
دو تین نیند کے انجکشن کے بعد اسکی کیفیت بدلی تھی ۔۔۔ وہ اب نیم بے ہوشی میں جا چکی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر نے اسکے شوہر کو اپنے کیبن میں بلایا ۔۔
” آج تو ان کی حالت دیکھ کر میں خود ڈر گئ تھی ۔۔۔ لگتا ہے مینٹلی ٹوچرز دیے گئے ہیں انہیں ۔۔۔
اور نیند کے انجکشنز کی یہ عادی ہیں جبھی دو انجکشن انہیں نشہ نہیں دے پا رہے تھے ۔۔۔۔ میرا مشورہ یہ ہے آپ انہیں کسی سائیکٹریس کو دیکھائیں ۔۔۔۔۔ ابھی تو وہ بے ہوش ہیں صبح ہی ہوش میں آئیں گئیں آپ ویٹنگ روم میں ویٹ کر لیں ۔۔۔۔ ” وہ اٹھ کر چلا گیا صبح تک ویٹنگ روم تانیہ کے ہوش میں آنے کا انتظار کرتا رہا ۔۔۔۔ جیسے ہی وہ کچھ ہوش میں آئی ۔۔۔۔ اسے گھر لے آیا لیکن اس وقت بہت غصے میں تھا ۔۔۔ اس کے اس پاگل پن سے پریشان ہو کر رہ گیا تھا
” مسلہ کیا تمہارے ساتھ بتاتی کیوں نہیں ہو ۔۔۔ “کمرے میں لا کر اس نے سختی سے اسے کہا اس بار آپ جناب کا تکلف وہ ختم کر چکا تھا تنگ آ چکااسکی چپ سے اسکی روز بدلتی حالت سے جتنا خود کو سمجھا کر اسکی طرف مائل ہونے کی کوشش کرتا تھا ایک نیا رنگ روپ لئے وہ اسے نئ آزمائش میں ڈال جاتی تھی ۔۔۔۔۔ اب بھی چپ تھی
“دیکھوں تانیہ مجھے مزید غصہ مت دلاؤں بتاؤں مجھے کون تھا وہ شخص جسے دیکھ کر تم پاگل ہونے لگی تھی ۔۔۔۔ ” وہ پہلی بار غصے سے بے قابو ہو کر اس سے پوچھ رہا تھا تانیہ کا رنگ پھر سے فق ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ وہ دیوار کے ساتھ لگ گئ ۔۔۔
“مت چھونا مجھے خدا کے لئے مجھے ہاتھ مت لگاؤں ۔۔۔۔ “وہ دیوار سے لگ کر پھر چلانے لگی تھی وہ سر پکڑ کر کھڑا تھا لگ رہا تھا خود بھی پاگل ہو جائے گا ۔۔۔۔ اس لئے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔ کافی دیر سوچتا رہا لیکن کسی مسلے کا کوئی سرا اسکے ہاتھ میں نہیں تھا اگلے روز تانیہ ایک سائیکٹریس کے سامنے خاموش بت بنی بیٹھی تھی
” آپ یہاں لیٹ جائیں ۔۔۔۔ “ڈاکٹر نے اسے ایک آرام دہ صوفے کی طرف اشارہ کیا وہ وہاں لیٹ گئ ۔۔۔۔
پھر سے اپنی آنکھوں کی جانب دیکھنے کو کہا چند منٹ میں ہی وہ اسے ہپنا ٹائز کر چکا تھا ۔۔۔
“اب آپ اپنی آنکھیں بند کریں “ڈاکٹر کے کہنے پر وہ آنکھیں بند کر چکی تھی
“تانیہ اب آپ مجھے وہ بتائیں گی جو میں آپ سے پوچھوں گا ۔۔۔۔۔ “
اس شوہر بھی وہیں موجود تھا ۔۔۔۔۔
” آپ کا نام کیا ہے “
” تانیہ ۔۔۔”
“کون ہیں آپ “
” ایک جسم فروش عورت “اس جواب پر ڈاکٹر کچھ متذبذب سا ہوا تھا ایک نظر اسکے شوہر پر ڈالی ۔۔ پھر دوبارہ سے تانیہ کی طرف متوجہ ہوا
” کب سے کر رہیں یہ سب
“ا۔۔۔۔۔یک ۔۔۔۔۔سال۔۔۔۔ یا ۔۔۔ ش۔۔۔شاید ۔۔۔۔ذیادہ ۔۔۔۔۔یاد نہیں ۔۔۔۔۔ آرہا “چہرے سے وہ اب بھی بے چین تھی
” کون کرواتا ہے یہ سب “
“وہ ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔ بہت مارتا ہے مجھے ۔۔۔۔۔ “
“وہ کون “
“”وہ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ آدمی نہیں ہے ۔۔۔۔وح۔۔۔۔۔وحشی ہے پورا۔۔۔۔ “
“کیا کرتا ہے وہ “
“وہ ۔۔۔۔ مجھے انجکشن لگاتا ۔۔۔ہے ۔۔۔نشے کا ۔۔۔۔۔ ” تانیہ کی آواز اب کپکپانے لگی تھی آنکھوں کے کنارے سے آنسوں بہنے لگے تھے
“پھر “
“پھر مجھے یاد نہیں لیکن کمرہ ہے ہلکی روشنی ہے ۔۔۔۔ نیلے رنگ کی روشنی کوئی کیمرہ لیکر کھڑا ہے ۔۔۔۔۔ کوئی ۔۔۔۔۔ کوئی میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ میراسر چکرا رہا ہے مجھے یاد نہیں آ رہا لیکن مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔ لگ رہا ہے کوئی جلتا سگریٹ ہے ۔۔۔جو میرے بازو پر لگا ہے ۔۔۔۔۔ اففف میرا بازو جل رہا ہے ۔۔۔ مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔ ” اب پھر سے چلانے لگی تھی ۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے ۔۔۔ مجھے چھوڑ دو میرے پاس ۔۔۔۔مت آؤں ۔۔۔ خدا کے لئے مجھے جان سے مار ڈالو ۔۔۔۔۔ مجھے زندہ نہیں رہنا ” وہ روتے ہوئے کہہ رہی اپنے ہاتھ ایسے چلا رہی تھی جیسے کسی کو خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔۔
” کوئی میرے بالوں کو کھنچ رہا ہے ۔۔۔۔میرے بال مت کھنچوں کیوں مجھے مار رہے ہو …. میرا گلا کوئی گھونٹ رہا ہے بہت تکلیف کو رہی ہے ۔۔۔۔ میرا دم گھٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔ “یہ کہتے کہتے وہ پھر سے بے ہوش ہو گئ تھی ” ڈاکٹر کے ساتھ اس کا شوہر بھی گم صم سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔
کافی دیر بعد ڈاکٹر نے ایک گہری سانس بھری
” افف کیا کہوں ۔۔ لفظ نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ آئی تھنکس انکی ویڈیوز بنائی گئیں ہیں ۔۔۔۔۔ “
یہ ایک اور نئ اذیت تھی اس کے شوہر کے لئے ۔۔۔۔
” لڑکیوں کو نشہ آور دوائیں اور انجکشن لگا کر گھٹیا قسم کی ویڈویو بنائی جاتی ہے ۔۔۔۔ یہ بات اب پھیلتی جا رہی ہے۔۔۔ اب تو گرلز کالجز میں بھی لڑکیوں کو پہلے نشے کے پوڈرز کا عادی کیا جاتا ہے اور پھر یہ سب کام لیا جاتا ہے ۔۔۔۔ بہت سی ،شریف گھرانوں کی لڑکیاں بلیک میلنگ کے ڈر کی وجہ سے یہ سب بار بار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں پھر جب یہ ویڈیوز عام ہو جاتیں ہیں اور ہر شخص انہیں جاننے پہچاننے لگتا ہے ان پر گھٹیا فقرے کسنے لگتے ہیں ۔۔۔ انکی ویڈیوز کے حوالے دینے لگتے ہیں تو ۔۔۔۔ ان لڑکیوں کی حالت ایسی ہی ہو جاتی ہے ۔۔۔تانیہ جیسی ۔۔۔۔ انہیں سڑک پر چلتا ہوا ہر دوسرا شخص جو انہیں سر سری سا بھی دیکھے انہیں لگتا ہے کہ انہیں گھور رہا ہے یا انہیں جانتا ہے یا انکی ویڈیو دیکھ چکا ہے بہت سی لڑکیاں تو خود کشی کر لیتی ہیں اور بہت جگہ یہ بھی دیکھا گیا ہے اگر کوئی اسکی لڑکی کا جاننے والا وہ ویڈیو دیکھ کر اسکی فیملی کو انفارم کر دے تو ۔۔۔ ماں باپ صدمے سے ہی مر جاتے کبھی لوگ اپنی ان بہن بیٹیوں کو گھر سے نکال دیتے ہیں ۔۔۔ جب ان لڑکیوں کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہوتا تو مجبورا ان کا رخ پھر یا تو کوٹھے کی جانب اٹھتا ہے یا پھر اسے ہی کسی گرو کی جانب پھر وہ انکی مستقل گاہک بن جاتی ہیں ۔۔۔ نئ لڑکیوں کو کیسے گھیرنا ہے وہ سارے گن جان جاتی ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ ” ڈاکٹر کی بات وہ خاموشی سے سن رہا تھا
“اور یقینا کوئی قائدہ قانون نہیں ہو گا اسکی روک تھام کا ۔۔۔۔ معصوم بچیوں کے ساتھ کھیلے جانے والے اس نئے کھیل کے لئے پولیس بس چھاپے مار کر طرف اپنی جیبیں ہی بھرتی ہو گئ ” اس۔ نے غصے اور تاسف سے کہا
” نہیں یہ بات نہیں ہے جو ایمانداری سے کام کرتے ہیں انکے ہاتھ روک دیے جاتے ہیں ۔۔۔۔ یہ سب کرنے والوں کی پہنچ بہت اوپر تک ہے ۔۔۔ رسائی نا ممکن ہے ۔۔۔۔ ہم اور آپ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں سکتے ہیں “
“یہ ٹھیک کیسے ہوں گئ” تانیہ کے شوہر نے تانیہ کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
“فی الحال تو آپ انہیں ذیادہ تر گھر رکھیں ۔۔۔۔ باہر مت لیکر جائیں اگلے ہفتے انہیں پھر لیکر آئیے گا ۔۔۔۔ دو تین مہینے کے علاج سے مجھے امید ہے کافی بہتر ہو جائیں گی ۔۔۔ لیکن آپ کو بہت پیشن سے کام لینا ہو گا ۔۔۔۔ ٫
“جی اتنا تو سمجھ چکا ہوں “
“ویسے ایک بات میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔ عموما ایسی لڑکیوں کو کوئی سہارا دیتا نہیں ہے ۔۔۔ آپ اچھے خاصے خوش شکل ہیں ۔۔۔۔ پھر پڑھے لکھے اچھی پوسٹ پر۔ بھی فائز ہیں پھر ان سے شادی ۔۔۔۔ ؟” ڈاکٹر کی بات سن کر اس نے گہری سانس بھری
” پہلے تو انجان تھا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں کیسے اسے اس جہنم میں پھنک دوں جہاں اسکی روح تک کو جھلسا کے رکھ دیا ہے ۔۔۔ ” ایک دکھ تھا جو اسکی آنکھوں سے آنسوں بن کر نکل رہا تھا
” بہت بڑا ظرف ہے آپ کا ۔۔۔۔ ورنہ ہمارے معاشرے میں کسی لڑکی کے ساتھ ایک بار بھی ریپ ہو جائے اور اس کے شوہر کو علم ہو جائے تو گھر سے دھکے دے کر نکال دیتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔کوئی نہیں اپناتا ۔۔۔ اور اگر اپنا بھی لے تو زندگی دوبھر کر کے رکھ دیتا ہے ۔۔۔ شاید مرد کی غیرت اسی بات پر جاگتی ہے ۔۔۔۔ یہ کیوں نہیں سوچتے کے یہ سب کرنے والے بھی تو مرد ہی تھے اس میں عورت کا کیا قصور ۔۔۔۔۔
“یہ کوئی نہیں سوچتا ۔۔۔۔ ایکچلی ماں باپ کی بچیوں سے لاپروہی کا نتجہ بھی ہے دیکھنا چاہیے کہ کالج میں ان کا اٹھنا بیٹھنا کیسی لڑکیوں کے ساتھ ہے ۔۔۔ کس دوستوں سے باتیں کرتی ہیں کن سے ملتی ہیں ۔۔۔ آذادی کے نام پر کھلی۔ چھٹی نہیں دینی چاہیے ۔۔۔ نا ہی بے جا سختی کے بچیاں اپنے ماحول سے باہر نکلنے کا سوچیں ۔۔۔۔ اور ایسے بھیڑیوں کے ہاتھ لگیں جو اسی تاک میں گھات لگائیں بیٹھے ہوتے ہیں “
“میں آپ کی بات سے متفق ہو ۔۔۔۔ کیونکہ حکومت نے تو کچھ نہیں کرنا ۔۔۔ اس لئے اپنے بچوں کی حفاظت کی زمہ داری خود ہی اٹھا لی جائے تو بہتر ہے ۔۔۔انہیں کچھ دیر میں ہوش آ جائے گا ۔۔۔۔۔ ایک بار پھر کہوں گا ۔۔۔ بہت پیشن کی ضرورت ہے آپ کو “ڈاکٹر نے ایک بار پھر تاکید کی تھی
******……
جازم اب بار بار وہاں جانے لگا تھا نظریں صرف نور جہاں پر ہوتیں تھیں کئ بار نور جہاں نے بھی اسے دیکھا تھا دومنٹ تک اس کا جائزہ بھی لیا تھا پچھلے ایک مہینے سے آنے والا یہ لڑکا اب تک کسی لڑکی کا گاہک نہیں بنا تھا ۔۔۔۔ بس مفت کا رقص دیکھتا اور چلتا بنتا ۔۔۔۔ لیکن جب سودے کے لئے بیٹھا تو نور جہاں کے ہوش اڑا کے رکھ دیے تھے ۔۔۔۔
“ماں جیسی نہیں میری ماں ہیں آپ ” نور جہاں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں ۔۔۔۔ کنگ سی رہ گئ تھی کیا بول گیا تھا وہ ۔۔۔۔۔ کچھ پل لگاسوچنے سمجھنے سے قاصر ہوئی ہو ۔۔۔۔ وہ سامنے کھڑا رو رہا تھا ۔۔۔۔ جب ذہن نے کچھ کام کرنا شروع کیا تو کچھ نہیں سوج رہا تھا ۔۔۔ تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئ دروازہ بند کر کے کنڈی لگا لی دروازہ بڑی زور سے دھڑدھڑایا تھا
“دروازہ کھولیں ۔۔۔۔ “جازم کی آواز تھی نور جہاں کی پتھر آنکھوں سے کئ سال بعد آنسوں نکلے تھے
“دروازہ کیوں بند کیا ہے آپ نے ۔۔۔ آپ مجھ سے یوں چپ نہیں رہ سکتی ہیں دروازہ کھولیں ” وہ چلا رہا تھا دروازہ پیٹ رہا تھا آواز سے لگ رہا تھا کہ رو بھی رہا ہے نور جہاں کے آنسوں اب دبی دبی سسکیوں سے نکل رہے تھے ۔۔۔ تین دن کے بیٹے کا چہرا آنکھوں کے سامنے آیا تھا ۔۔۔۔ جسے کانپتے ہاتھوں سے کسی کی گود میں ڈالا تھا ۔۔۔۔ کتنا روئی تھی اس دن تین دن تک روتی رہی تھی سوتے ہوئے چھوٹے بچے کے رونے آوازیں آنے لگتی تھیں تو اٹھ بیٹھتی تھی۔۔۔ خالی بیڈ دیکھ کر بلکتی تھی تڑپتی تھی پھر آہستہ آہستہ خود کو پتھر کا بنا لیا تھا اس کے بعد کسی نے بھی نور جہاں کی آنکھوں کو برستے ہوئے نہیں دیکھا ۔۔۔ تب بھی نہیں جب اسکی اپنی ماں مری تھی ۔۔۔۔ سب روئے تھے لیکن ایک بوند نور جہاں کی آنکھ سے نہیں نکلی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن آج رو رہی تھی سسک رہی رو وہ بھی رہا تھا دل دونوں کا بیک وقت تڑپ رہا تھا بیچ میں ایک دروازے کی آڑ تھی ۔۔۔ نور جہاں کا دل چاہا سینے سے لگا لے اسکو ۔۔۔۔ اپنے ساتھ بینچ لے شاید برسوں سے تڑپتی ممتا کو قرار آ جائے ہاتھ سینے تک گیا تھا ۔۔۔۔ باہر جازم کھڑا رو رہا تھا کہ ماں اب صبر کا اور امتحان نا لے اور اسے اسکاحق ادا کردے ۔۔۔۔۔ لیکن دروازہ نہیں کھلا تھا جازم نے غصے سے پاؤں سے زور کی ٹھوکر دروازے کو ماری تھی
” آپ نہیں کھولیں گیں مت کھولیں میں بھی دیکھتا ہوں کب تک نہیں کھولیں گئیں نور جہاں بیگم جازم تب تک نہیں جائے گا جب تک آپ اسے اپنے ہر سوال کا جواب نا لے لے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ سامنے تخت پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“جازم ۔۔۔۔۔۔ “زیر لب نور جہاں نے اس کا نام دہرایا تھا کہ آنسوں یکایک آنسوں سے ٹپکے تھے کئ سال پیچھے کی یاد آئی تھی جب چند دن کا تھا
” نام کیا رکھوں اس کا “
“میں نے تو جازم رکھا ہے ۔۔۔ پر تجھے اختیار ہے ماسڑ کچھ بھی رکھ دینا ۔۔۔۔ بس کبھی اسے یہاں کا رستہ مت دیکھانا کہہ دینا کہ تیرا ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔ ماں جنم دیتے ہی مر گئ تھی ۔۔۔۔ ” روتے ہوئے اس نے آخری بار جازم کو دیکھا تھا جو ہارون الرشید کی گود میں سویا ہوا تھا پھر رخ بدل گی
“اب اسے لے جا ۔۔۔ ورنہ نور جہاں کمزور پڑ جائے گی “یہ کہہ کر وہ رکی نہیں تھی اپنے کمرے
میں جا کر دروازہ بند کر کے خوب روئی تھی ۔۔۔۔ جیسے آج رو رہی
“ایک وعدہ تو وفا کرتے ماسٹر بڑے مان سے لے کر گئے تھے پھر کاہے اسے میرا پتہ بتا دیا ۔۔۔۔ ایک وعدہ تو وفا کر دیتے ۔۔۔۔ ” وہ پھر سے سسکنے لگی تھی وہیں دروازے سے لگ کر وہیں بیٹھ کر رونے لگی جیسے اگر دروازے سے ہٹی تو وہ اندر آ جائے گا ۔۔۔۔
رات کے تین بجے تک روتی رہی سردی بڑھ گئ تھی نور جہاں کو سردی سی محسوس کوئی تو پہلا خیال جازم کا آیا “رات کو صحن کافی ٹھنڈا ہوتا ہے اس وقت کہیں ٹھنڈ ہی نا لگ جائے اسے ۔۔۔۔ “پہلی بار طوائف کے بجائے ماں بن کر دل نے سوچا تھا دروازہ ذراسا کھول کر دیکھا تو وہ تخت پر دونوں زانے پیٹ سے جوڑے سو رہا تھا سردی واقع بڑھ گئ اس لئے سمٹا پڑا تھا ۔۔۔ نور جہاں نے اپنے بیڈ سے موٹا لحاف اٹھایا اور باہر آ گئ ۔۔۔
جلدی سے لحاف اسکے اوپر دیا سویا ہوا پہلی بار سے اتنا اپنا سا لگا تھا ۔۔۔ ماتھے پر بکھرے بال دیکھ کر رہا نہیں گیا اسکے پاس بیٹھ گئ آگے بڑھ کر اسکے بال پیچھے کیے ڈرتے ڈرتے اسکے چہرے کو چھو رہی تھی کہ کہیں اسکی آنکھ نا کھل جائے لیکن دل کے ہاتھوں مجبور تھی چند دن کا تھا جب بے تحاشہ اس کا چہرہ چوما تھا ۔۔۔ سوچا تھا عمر بھر کے پیار کا حق ادا کر دیا ۔۔۔۔ تب بھی رو رہی اب بھی آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔ کئ سالوں بعد اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ماں ہونے کا حق ادا کیا ۔۔۔ پھر اٹھ کر جانے لگی لیکن وہ اسکی گود میں سر رکھ چکا تھا پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا نور جہاں نے برجستہ نظریں ہٹائیں تھیں
” بڑی دیر انتظار کروایا ہے امی ۔۔۔۔ مجھے تو لگا تھا کہ کچھ دیر میں باہر آ جائیں گئیں ۔۔۔ مجھے اپنے سینے سے لگائیں گئیں ۔۔۔ ” وہ ایسے۔ مسکرا کر بات کر رہا تھا جیسے۔۔۔۔ کچھ ہوا ہی نا ہو ۔۔۔ امی سن کر لگا طوائف کے علاؤہ کچھ بھی ہے نور جہاں ۔۔۔ اجنبی سا لفظ تھا جو کانوں نے سنا تھا ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھال کر بولی
“دیکھ چلا جا یہاں سے بھول جا کے میں تیری کچھ لگتی ہوں “روتے ہوئے اپنا چہرہ صاف کر کے نور جہاں نے کہا
” بہت سخت نیند آ رہی ہے ذرا سر پے ہاتھ پھیر دیں تو سو جاؤں ” وہ آنکھیں بند کر کے بولا
” تو سمجھتا کیوں ناہی ہے کیوں ضد کر رہا ہے “
” ٹھیک ہے چلا جاتا ہوں ” جازم اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
لیکن گیا نور جہاں کے کمرے میں نور جہاں اس کے پیچھے لپکی تھی کمرے میں داخل ہو کر دیکھا تو
جازم اسکی الماری کھولے اس کے کپڑے نکال رہا تھا ۔۔۔
” یہ کاہے نکال رہا ہے “
” آپ میرے ساتھ جائیں گئیں “
“میں ناہی جا سکتی کاہے ناہی سمجھتا ہے تو ” نور جہاں نے بے بسی سے کہا
” کیوں نہیں جا سکتیں ۔۔۔۔ اب تو آپ کے سر پر ایسی کوئی نہیں جو آپ کو روک سے “
“لیکن میں تو ہوں نا میرے چھوریوں کا کیا ہو گا ۔۔۔۔ انہیں کون سنبھالے گا ۔۔۔ ‘”
” وہ میں نہیں جانتا ۔۔۔ لیکن آپ میری ماں ہیں اس لئے میرے ساتھ جائیں گئیں ۔۔۔ “
“ناہی جاؤں گی کہیں بھی ۔۔۔۔” وہ حتمی انداز سے بولی
“تو آپ نہیں جائیں گئیں ” جازم نے اسکی آنکھوں دیکھ کر پوچھا
“ناہی “
“ٹھیک ہے میں بھی نہیں جاؤں گا کہیں ۔۔۔ جب میری ماں اس کوٹھے پر رہ سکتی ہے تو میں کیوں نہیں “
“تو یہاں ناہی رہے گا ۔۔۔۔ تجھے اگر اس ماسٹر سے جرا بھی پیار ہے تو تو چلا جائے گا “
“کون ماسٹر “
“ہارون الرشید ” یہ سن کر جازم چپ ہوا تھا ۔۔۔۔
“اتنا تو میں جانتی ہوں کہ تجھے اس سے بہت پیار ہے “
جازم نے کوئی جواب نہیں دیا چپ چاپ کمرے سے نکلنے لگا لیکن دروازے پر جا کر رک گیا ۔۔۔۔
پھر پلٹ نور جہاں کو دیکھا بے اختیار تیزی سے اس کے پاس آکر اسکے سینے سے لگ کر رونے لگا وہ بے اختیار سی ہو گئ تھی ۔۔۔ سارے باندھے بند جیسے پل میں ٹوٹ گئے برسوں کی خواہش پر بے بس ہوئی تھی اسے سینے سے بینچ لیا تھا ۔۔۔۔
” میرا بچہ ۔۔۔۔ میرا جازم ۔۔۔۔۔ “روتے ہوئے اس نے پہلی بار اس کا نام پکارا تھا پھر اسے ذرا سا پیچھے کر کے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیکر اسکے رخسار چومنے لگی ۔۔۔۔ خود بھی رو رہی تھی ۔۔۔ اسے لگا جازم پھر سے چند دن کا ہو گیا ہے ۔۔۔۔
جازم بس اپنی ماں کی بے قراری دیکھ رہا تھا اس کا بے ساختہ امٹنے والا پیار دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس کے بے بسی سے بہتے آنسوں دیکھ رہا تھا
” کتنا پیارا ہے تو ۔۔۔۔ آج تک تیرے جتنے تصور میں نے باندھے تھے کہ اب میرا جازم ایسا لگتا ہو گا ۔۔۔ اب ایسا لگتا ہو گا ۔۔۔ وہ سب جھوٹے نکلے ۔۔۔ تو ان سب تصورات کو مانند کرتا ہے ۔۔۔۔ تجھے پہلی بار دیکھ کر دل چاہ تھا تجھے پلٹ کر دیکھوں۔۔۔۔ تو کونے میں بیٹھا تھا اس دن نیلے رنگ کے بوشٹ پہنے ۔۔۔ نیلا رنگ بڑا جچ رہا تھا تجھ پر ۔۔۔۔۔ لیکن تو مجھے دیکھ رہا تھا اس لئے میں نے تجھے دیکھا ناہی ۔۔۔۔ لیکن کئ بار چور آنکھوں سے دیکھا تھا تجھے دیکھ کر دل بے اختیار س ہونے لگتا تھا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں میری آنکھوں کے سامنے چند دن کا جازم نظر آنے لگا تھا ۔۔۔ پھر وہاں رک ناہی پائی تھی اندر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ ایک مہینے بعد جب تو نے میرے قیمت لگائی تو تجھے تھیڑ مارا تھا میں نے تو رونے لگا تھا تیرے آنسوں نے ہلچل سی مچا دی تھی میرے اندر ۔۔۔۔ تو تو چلا لیکن بے مجھے چین ناہی آیا ۔۔۔۔ پھر جب نیچے تجھے مارا جا رہا تھا تب بھی میرا دل تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔ جب تجھے بخار تھا تب مجھے چین ناہی آیا پھر بھی دیکھ نا جازم تیری ماں ناہی سمجھی کہ وہ کیا چیج(چیز) تھی جو بے چین کیے ہوئے تھی وہ میری ممتا تھی تیرے لئے ۔۔۔ لیکن میں عقل کی اندھی ۔۔۔۔کبھی غور ہی ناہی کیا ” وہ روتے ہوئے آج ہر بات کا اعتراف کر رہی تھی
“ایسا تو مت کہیں امی ۔۔۔۔” وہ نور جہاں کے دونوں ہاتھ پکڑے چومنے لگا اپنی آنکھوں پر لگانے لگا ۔۔۔۔ پھر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔
” امی بہت تڑپا ہوں ماں کی محبت کے لئے ۔۔۔۔ اب تو میرے ساتھ چلیں ۔۔۔۔ نا اب آپ کو یہاں چین آئے گا نا مجھے اپنے گھر پر ۔۔۔۔ بس ایک بار میرے ساتھ چلیں “
“اگر ابھی تیرے ساتھ چلی جاؤں تو کیا میری بات مانے گا “
“ہاں ساری باتیں مانو گا
“ٹھیک ہے پھر چل چلتی ہوں تیرے ساتھ ‘” جازم کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ مسکرانے لگا تھا ۔۔۔۔ نور جہاں نے چند سدہ سے جوڑے اپنے چھوٹے سے بیگ میں ڈالے ۔۔۔ پھر سدا بہار کے کمرے میں جا کر اسے جگا کر کہاں کہ وہ چند دن کے لئے کہیں جس رہی ہے پھر لوٹ آئے گی ۔۔۔۔یہ کہہ کر جازم کے ساتھ اسکے گھر چلی گئ
******…..
شمس نے پورے ایک ہفتے بعد اپنا فون آن کیا تھا بے شمار بار گھر سے فون آئے تھے
اس فون کیا لیکن کسی نے اٹھایا نہیں کئ بار کیا لیکن فون نہیں اٹھایا گیا کون اٹھاتا ماں پاگل دیوانی سی ہو گئ تھی کبھی منی کی قبر پر بیٹھی رہتی کبھی گلی محلوں
یں گومتی رہتی ایک ایک کو پکڑ بس یہی کہتی رہتی کہ تم آئی تھی میری منی کی گڑیا کہ شادی پے
کبھی ہنستی رہتی تھی کبھی رونے لگتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اپنے گھر نہیں گئ تھی
شمس پریشان سا ہوا تھا ۔۔۔۔ اسوالدہ گھر سے کم ہی کہیں نکلتی تھیں ۔۔۔ پھر اس نے ورک شاپ پر کام کرنے والے ایک ملازم جو کے اس کا دوست بھی تھا اسے فون کیا ۔۔۔۔ لیکن جو کچھ اس سے سنا تھا وہ نا قابل فہم تھا ۔۔۔۔۔ منی کے بارے سن کر اسے لگا جھوٹ ہے
“کیا بکواس کر رہے ہو تم کمالا کیسے یہ سب کر سکتا ہے ۔۔۔۔ زندہ نہیں چھوڑو گا اسے ۔۔۔ اس کتے کے بچے کی ہمت کیسے ہوئی میری چھوٹی بہن کے ساتھ یہ سب کرنے کی ۔۔۔۔ میری میری منی ” بے اختیار رویا تھا ساتھ سوئی ہوئی ثوبیہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ شمس کے ہاتھوں سے فون بیڈ پر گرا تھا ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے شمس ۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے ” ثوبیہ نے بڑی فکرمندی سے پوچھا تھا منی کا نام وہ سن چکی تھی اور کمالے کو دی جانے والی گالی تھی پہلی بات شمس نے بڑی نفرت سے ثوبیہ کو دیکھا تھا
“تمہارے اس کمینے بھائی نے مار ڈالا میری منی کو ” وہ چلا کر بولا بے اختیار ثوبیہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا
” کمالے نے ۔۔ مگر کیوں ۔۔۔ “
” اس نے۔۔۔۔ اس نے ذیادتی کی ہے میری بہن کے ساتھ ۔۔۔ مار ڈالو گا ۔۔اسے زندہ نہیں چھوڑو گا ۔۔۔ ٹکڑے کر دوں گا اس کے ” ثوبیہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے شمس کی باتیں سن رہی تھی
” تمہیں کس نے بتایا شمس ۔۔۔ جھوٹ بولا ہو گا اس نے ۔۔۔ میں نہیں مانتی ۔۔۔ ٹھیک ہے وہ غصے کا تیز ہے پر ۔۔۔ منی کے ساتھ ۔۔۔ نہیں پھر اماں اسے کرنے ہی نہیں دے سکتیں “
“تیری ماں زندہ ہوتی تو روکتی ۔۔۔ وہ تو اسی دن مر گئ جس دن ہم لاہور پہنچے تھے ” جلد بازی ایک نیا انکشاف شمس نے ثوبیہ پر کیا تھا ۔۔۔۔۔ ثوبیہ کے دماغ میں دھماکے سے ہوئے تھی
” اماں ۔۔۔ اماں مع چکیں ہیں ۔۔۔۔ شمس میری اماں مر چکیں ہیں اور ۔۔۔۔ اور تم نے
مجھے بتایا بھی نہیں کتنے دن گزر گئے تم نے ایک بار بھی ذکر نہیں کیا کیوں ” اب رونے تڑپنے اور چلا کر استفسار کرنے کی باری ثوبیہ کی تھی
“بکواس بند کرو اپنی ثوبی ۔۔۔۔ میں واپس جا رہا ہوں ۔۔۔ ” وہ بیڈ سے کھڑا ہو گیا ۔۔
” میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گئ میری اماں مر گی ہے ۔۔۔۔”
” تمہارے بھائی نے میری بہن کے ساتھ ذیادتی کر کے اسے مار ڈالا تمہیں اس بات کا دکھ نہیں ہے۔۔۔ بس اپنی بوڑھی اماں کا افسوس ہے ” شمس نے غصے سے غرا کر کہا
” کیوں دکھ نہیں ہے کمالے نے اچھا نہیں کیا بہت برا کیا ہے ۔۔۔لیکن شمس اچھا تو تم نے بھی نہیں کیا ۔۔ میری ماں گئ تھی تو مجھے کیوں نہیں بتایا ” وہ روتے ہوئے چلائی تھی
” آواز نیچی کرو اپنی ۔۔۔۔۔ میرا بس چلے تو تمہارا گلا گھونٹ کر اپنے اندر آگ ٹھنڈی کروں جو منی کے بے گناہ خون سے میرے اندر بھڑک رہی ہے ۔۔۔ ” شمس اسکے بال بے دردی سے پکڑ کر بولا
” شمس چھوڑو مجھے ۔۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔ “
“تم نے کیا کیا ہے ۔۔۔ تم نے میرا ساتھ دیا ہے ۔۔ میرے بڑھتے ہوئے قدموں کو نہیں روکا ۔۔۔۔ یہ کیا ہے تم نے ۔۔۔ میری بہن کی اصل قاتل تم ہو ثوبی ۔۔۔ سزا کی تو میں تمہیں بھی دوں گا ۔۔۔۔ ایسی سزادوں گا کہ جیتے جی روز مرا کرے گا گا کمالا ۔۔۔۔۔ آپ ے مرنے کی دعا مانگے گا حرام زادہ ” یہ کہہ کر ثوبیہ کو دھکا دے کر وہ کمرے سے نکل گیا ثوبیہ رونے لگی تھی اپنی ماں کا غم بھی ابھی ٹھیک سے سہن نہیں کر پائی تھی ۔۔۔ کب چند مروں کے ساتھ شمس داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ ثوبیہ نے فورا سے بیڈ پر رکھا ڈوپٹہ اوڑھا تھا ۔۔۔ شمس پر غصہ بھی آیا کہ کیسے یوں غیر مردوں کو اندر لے کر آ۔ گیا
” یہ لڑکی ہے وہ ” شمس کے لہجے اور انداز میں بیگانگی سی تھی ان تین مردوں میں سے ایک نے بڑی آر پار کرتی نظروں سے ثوبیہ کو دیکھا تھا چہرے پر خباثت تھی ۔۔۔۔
” مال تو بڑا اچھا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن دیکھ پانچ لاکھ سے اوپر کچھ نہیں دونگا ” اس آدمی نے ثوبیہ کے قریب آ کر کہا
” مجھے منظور ہے بس ۔۔۔ ” شمس نے بے لچک لہجے سے کہا ثوبیہ ابھی بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ اس شخص نے جیب سے چیک بک نکال کر ایک چیک بنایا اور شمس کو دے دیا ۔۔۔
” دیکھ اگر کچھ بھی گڑ بڑ ہوئی تو تم جانتے ہو میں کیا کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ ہماری پہنچ سے باہر نہیں ہے تو “
” جانتا ہوں کوئی نہیں ہے اس کا ۔۔۔ بس ایک منٹ کچھ کہنا ہے اس سے ” یہ کہہ کر شمس ثوبیہ کے قریب آ گیا
” شمس یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ کیا ہے یہ سب “
” ثوبیہ میں اپنے پورے ہوش و ہواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” شمس کے لفظوں نے ثوبیہ کو چلتا کے رکھ دیا تھا ۔۔۔ شاید قیامت کا ہی دن تھا ثوبیہ پر ۔۔۔۔ تین بار طلاق دے کر وہ چلا گیا ۔۔۔۔ ثوبیہ ابھی انہیں صدموں کی زد میں تھی جب ان میں سے ایک مرد نے اسے بازو سے پکڑا وہ یک دم چونکہ تھی ۔۔۔
” کون ہو تم لوگ ہاتھ چھوڑو میرا “ثوبیہ کی بات سن کر وہ کمینگی ہنسی ہسنے لگا
” کسے ہاتھ چھوڑ دیں لڑکی تیری قیمت ادا کی ہے تیرے یار کو “
” میں ۔۔۔ میں بکاؤں چیز نہیں ہوں ۔۔۔ چھوڑو مجھے ورنہ شور مچا دوں گی ” ثوبیہ چلا کر بی تھی لیکن بے سود تھا اگلے لمحے تیز کلوروفارم کی خوشبوں سے بھگا رومال اس کے ناک پر لگتے ہی اسے ہوش کی دنیا سے بے خبر کر چکا تھا ۔۔۔
******…….
عبداالباسط اب روز آرء کو نماز سیکھانے لگا تھا ۔۔۔ دس دن ہی گزرے تھے کہ وہ نماز سیکھ گئ تھی ۔۔۔ عبداالباسط اس کا بہت خیال رکھتا تھا بہت محبت بھی کرتا تھا ۔۔۔ آرء کو یہ دنیا ہی جنت لگنے لگی تھی ۔۔۔ ایک بار اس کے گلے میں باہیں ڈالے اسکے سینے لگ کر بولی
” عبداالباسط سچ بتا ۔۔۔۔ اتنا پیار کیوں کرتا ہے مجھ سے ۔۔۔۔ “
” یہ سوال تو میں بھی کر سکتا ہوں ” اس بات پر وہ پیچھے ہٹی تھی
” اس لئے کہ تو ہے ہی اتنا اچھا میرے علاؤہ کوئی اور ہوتی تو دھونی ہو جاتی تیری ” وہ محبت سے اسکے بال بکھیر کر بولی
” کیوں ایسی کیا خوبی ہے مجھ میں عام سا انسان ہوں ۔۔ پھر مولوی بھی ہوں ۔۔ مولویوں کو کہاں کوئی پسند کرتا ہے ۔۔۔” عبداالباسط کی مسکراہٹ پر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی
” اگر مولوی تیرے جیسے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ تو کوئی مجھ سے پوچھے میں کہوں گی مجھ سے میرا سب کچھ لے لو بس مجھے عبداالباسط دے دو۔۔۔ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ اداس سی ہو گئ تھی
” تمہارا ہی تو ہوں ۔۔۔ “
” بس پچیس دن کے لئے ۔۔۔ پانچ دن کیسے جلدی سے گزرے ہیں عبداالباسط۔۔۔۔ حالانکہ میں نے ان پانچ دونوں میں ہر وہ لمحہ تمہارے ساتھ گزرا چاہا کے بڑی سست روی سے گزرے ۔۔۔ لیکن دیکھ ناں وقت کو جلن ہے شاید مجھ سے ۔۔۔چاہتا ہے جلدی اگلے مہنے کی دس تاریخ آ جائے “
” کس نے کہا کہ دس تاریخ کو چھوٹ دوں گا آپ کو ۔۔۔۔ “آرء عبد الباسط کی بات پر متحیر ہوئی تھی
“تو نے قرآن اٹھایا تھا عبداالباسط”
“ہاں لیکن میں دل سے آمادہ نہیں تھا ۔۔۔ مجبورا اٹھایا تھا ۔۔۔ پھر اس کا کفارہ ہے ہمارے دین میں ۔۔۔ اتنی سختی اللہ نے اپنے احکامات میں نہیں دی جتنی ہم بندوں نے خود پر مسلط کر لیں ہیں۔۔۔۔
یہ دین تو بڑی گنجائشیں نکال دیتا ہے ۔۔۔ اللہ بڑی محبت کرتا ہے اپنے بندوں سے ۔۔۔ “
” سمجھی ناہی ہوں تیری بات “
” میں کفارہ ادا کر دوں گا لیکن آپ کو نہیں چھوڑو گا ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۸۹)
ترجمہ: کنزالایمان
اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یااِنہیں کپڑے دینا یاایک بردہ(غلام) آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اوراپنی قسموںکی حفاظت کرو اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو
تفسیر: صراط الجنان
اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت نے کھانے پینے کی چند حلال چیزیں اور کچھ لباس اپنے اوپر حرام کر لئے اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی، مزید یہ کہ اس پر انہوں نے قسمیں بھی کھا لیں۔جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے منع کیا تو انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اب ہم اپنی قسموں کا کیا کریں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں قسم کے احکام بیان کئے گئے۔( تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۴ / ۴۱۸-۴۱۹)
قسم کی اقسام:
قسم کی تین قسمیں ہیں :
(1)…یمینِ لَغْو یعنی غلط فہمی کی قسم، یہ وہ قسم ہے کہ آدمی کسی واقعہ کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھالے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو، ایسی قسم پر کفارہ نہیں۔
(2)…یمینِ غَموس یعنی جھوٹی قسم ،کسی گزشتہ واقعے کے متعلق جان بوجھ کرجھوٹی قسم کھانا، یہ حرام ہے۔
(3)… یمینِ مُنعقدہ، جو کسی آئندہ کے معاملے پر اسے پورا کرنے یا پورا نہ کرنے کیلئے کھائی جائے، کسی صحیح معاملے پر کھائی گئی ایسی قسم توڑنا منع بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی لازم ہے۔ قسم کی تیسری صورت پر ہی کفارہ لازم آتا ہے ۔
قسم کا کفارہ:
یہاں آیت ِ مبارکہ میں قسم کا کفارہ بیان کیا گیا ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ اگر کوئی قسم توڑے تو ایک غلام آزاد کرے یا دس مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر درمیانے درجے کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ۔ ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کی اجازت ہے اور اگر تینوں میں سے کسی کی بھی طاقت نہ ہو تو مسلسل تین روزے رکھنا کفارہ ہے۔
قسم کے کفارے کے چند مسائل:
قسم کے کفارے سے متعلق چند مسائل یاد رکھیں :
(1)…مسکینوں کو کھانا کھلانے کی بجائے انہیں صدقہ فطر کی مقدار بھی دے سکتا ہے۔
(2)…یہ بھی جائز ہے کہ ایک مسکین کو دس روز دیدے یا کھلادیا کرے۔
(3)…بہت گھٹیا قسم کا کھانا کھلانے کی اجازت نہیں ، درمیانے درجے کا ہونا چاہیے۔
(4)…مسکینوں کو کپڑے پہنائے تو وہ بھی درمیانے درجے کے ہونے چاہئیں اور درمیانے درجے کے وہ ہیں جن سے اکثر بدن ڈھک سکے اور درمیانے درجے کے لوگ پہنتے ہوں یعنی سوٹ بہت گھٹیا نہ ہو اور تین مہینے تک چل سکتا ہو۔
(5)… روزہ سے کفارہ جب ہی اداہو سکتا ہے جب کہ کھانا کھلانے، کپڑا دینے اور غلام آزاد کرنے کی قدرت نہ ہو۔
(6)…روزے رکھنے کی صورت میں ضروری ہے کہ یہ روزے مسلسل رکھے جائیں۔
(7)… کفارہ قسم توڑنے سے پہلے دینا درست نہیں۔
مشورہ:قسم کے بارے میں کچھ کلام سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 224 اور 225 کے تحت تفسیر میں گزر چکا ہے وہاں سے اس کا مطالعہ فرمائیں ، نیز قسم اور اس کے کفارے کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کیلئے بہارِ شریعت حصہ9 سے ’’قسم کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔
قسم کی حفاظت کا حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ انہیں پورا کرو اگر اس میں شرعاً کوئی حرج نہ ہو اور یہ بھی حفاظت ہے کہ قسم کھانے کی عادت ترک کی جائے۔(تفسیر بغوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲ / ۵۱)[1]
******……
صبح فجر کے بعد حیا کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ وہ بھی بھوک کی شدت کی وجہ سے کل صبح کا ناشتہ ہی ڈٹ کے کیا تھا دوپہر کو کھانے کو کچھ تھا نہیں اس لئے رومان کے ساتھ ملکر فرائز بنا کر کھا لئے تھے اس کے ایسا سوئی تھی کہ اب اٹھی تھی ۔۔۔ پہلے تو کچن میں آکر فریج کھول کر پانی نکال کر پیا ۔۔۔ پھر دیکھا تو دال فریج میں رکھی تھی ۔۔۔ اس نے ناگواری سے فریج بند کیا پھر ہاٹ پاٹ میں دیکھا تو وہی تندور کی روٹیاں رکھیں تھیں جو اسوقت اکڑی ہوئی۔ تھیں ۔۔۔
کیسا فریج ہے یہ جس میں کچھ بھی ڈھنگ کا نہیں ہے ۔۔۔۔ دال ۔۔۔ دال بھی کیا کوئی کھانے کی چیز ہے ۔۔۔۔ کہاں پھنس گئ ہوں میں پھر خیال آیا کہ اس وقت سب سو رہے ہیں ۔۔ اگر وہ گھر سے بھاگ جائے تو جب تک ارتضی اٹھے گا وہ اسلام آباد کی بس میں بیٹھ چکی ہو گی “
بس یہ خیال آتے ہی اس نے اپنے چھوٹی ہیل والے سینڈل پہنے ۔۔۔ اور مین دروازہ کھولا اور باہر نکل گئ
