Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 18
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 18
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
نور جہاں اپنے آنسوں پونچتے ہوئے کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔ کچھ دیر تو روتی رہی ۔۔۔۔ پھر اٹھ کر اپنا بیگ پکڑا اور جوتا پہن کر لاونج میں آ گئ جازم وہیں صوفے پر نظری۔ جھکائے بیٹھا اپنے آنسوں صاف کر رہا نور جہاں کے ہاتھ میں بیگ دیکھ فورا سے کھڑا ہو گیا
” امی یہ بیگ کہاں جا رہیں ہیں آپ “
“جہاں سے آئی تھی ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے آگے قدم بڑھانے لگی جازم نے اسکے سامنے جا کر ہاتھ جوڑ دیتا
” مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ آپ کہیں نہیں جائیں گئیں”
“کاہے نا جاؤ ۔۔۔ تو میرا لگتا کیا ہے ۔۔۔ کتنے آرام سے تو نے کہہ دیا کہ تو ۔۔۔۔۔”نور جہاں پھر سے رونے لگی۔۔۔۔۔
“امی خدا کے لئے معاف کر دیں ۔۔۔ مجھے کیا پتہ کہ سچ کیا ہے ۔۔۔۔ بابا نے صرف آپ نام پتہ ہی تو بتایا تھا ۔۔۔ ہر بات سے انجان ہوں بہت سے سوال ہیں میرے پاس جو میرا چین کھو چکے میری نیند اڑا کے ہیں ۔۔۔۔۔
کس سے پوچھوں میں ۔۔۔۔ کس سے کروں سوال “جازم کے آنکھوں سے آنسوں جاری تھے چہرے پر بے بسی تھی ۔۔۔ نور جہاں نے بیگ وہیں چھوڑ دیا اور خود کمرے میں چلی گئ۔۔۔۔
جازم اس کے پیچھے لپکا تھا ۔۔۔۔ لیکن کمرے کا دروازہ بند ہو چکا تھا لوک ہو چکا تھا
” امی دروازہ کھولیں ۔۔۔ “
” ناہی ۔۔۔ پہلے وعدہ کر مجھ سے کچھ ناہی پوچھے گا “
” امی پلیز دروازہ کھولیں آپ کو نہیں پتہ کس کرب سے گزر رہا ہوں ۔۔۔ مجھے بتائیں میرا باپ کون ہے ۔۔۔ آپ کو نکاح کے بندھن میں باندھ کر یہاں کوٹھے پر کیوں چھوڑ گیا ۔۔۔۔ بتائیں مجھے “
جازم جازم کا لہجہ بلند تھا غصہ تھا اشتعال تھا ۔۔۔
اندر کمرے میں نور جہاں رو رہی تھی ۔۔۔
” ٹھیک ہے مت بتائیں کچھ ۔۔۔ بس یہ بتا دیں وہ زندہ بھی ہے یا مر گیا ” جازم کی بات سن کر نور جہاں کا ہاتھ سینے پر گیا تھا ۔۔۔
” امی ۔۔۔ امی دروازہ کھولیں ۔۔۔۔ ” نور جہاں نے دروازہ نہیں کھولا ۔۔۔ کوئی جواب نہیں دینا چاہتی تھی اسے ۔۔۔
******…….
رات کو اچانک سے بڑی زور سے بادل گرجے تھے ۔۔۔۔ حیا کی جھٹ سے آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ بادلوں کی گرج بجلی کی چمک اور تیز بارش سے وہ ہمیشہ ڈرتی تھی ۔۔۔ خوف سے جسم سے جان نکل جاتی تھی اسکی ۔۔۔ اب بھی یک دم سے صوفے سے اٹھ کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ لاونج میں اندھیرا تھا بس ایک زیرو کا بلب ہی روشن تھا ۔۔۔۔۔
سامنے کھڑی سے بادلوں کی کڑک کے ساتھ جب بجلی کی تیز کہہ نظر آئی تو وہ ڈر کر کھڑی ہو گئ آج رومی کا کمرہ بھی بند تھا ۔۔۔ حیا نے کمرہ نوک کیا
“رومی ۔۔۔ رومی ۔۔ دروزہ کھولو ۔۔۔” لیکن رومی گہری نیند سوتا تھا دروازہ نہیں کھلا ۔۔۔ بارش بھی بہت تیز شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ بار بار کی بالوں کی گرج اور بجلی کی چمک سے وہ رونے لگی تھی کئ بار رومی کا دروازہ کھٹکھٹا چکی تھی لیکن بے سود
مجبورا اسے ارتضی کا دروازہ نوک کرنا پڑا ۔۔۔۔ تیسری دستک پر دروازہ کھل گیا تھا ۔۔ وہ بھی نیند سے جاگا تھا ۔۔ موندی موندی آنکھوں سے اسے دیکھ کر بھنور اچکائے ۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا ہے کیوں اتنی رات دروازے بجا رہی ہو
” وہ ۔۔۔ وہ ۔۔ با۔۔۔رش ہو رہی ہے ” حیا نے گھبراتے اور آنسوں بہاتے ہوئے کہا
” یہ بتانے کے لئے رات کے تین بجے تم دروازے بجا رہی ہو ۔۔ مجھے پتہ ہے بارش ہو رہی ہے میرے کمرے میں بھی کھڑکی موجود ہے نظر آتا ہے مجھے
“مجھے بارش سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ میں لاونج میں نہیں سو سکتی ” اس سے پہلے کے ارتضی کمرے کا دروازہ بند کرتا وہ برجستہ بولی
“رومی کے کمرے میں لیٹ جاؤں “
” وہ دروازہ نہیں کھول رہا لوک کر کے سویا ہے “
” رومی ۔۔۔وہ کیوں ۔۔۔ ہٹو میں دیکھوں ” ارتضی نے کہنے پر وہ چند قدم دروازے سے پیچھے ہٹی ارتضی نے باہر نکل کر رومی کے کمرے کا ہینڈل گھمایا دروازہ لوک تھا ۔۔۔ اس نے بھی دروازہ بجایا مگر جانتا تھا کہ بڑی پکی نیند ہے اسکی ۔۔۔
“تم میرے کمرے میں سو جاؤں ۔۔۔ ” یہ کہنے کی دیر تھی حیا نے فٹافٹ سے اپنا تکیہ اور کنفرٹر اٹھایا اور اسکے کمرے میں جا کر لیٹ بھی گئ ۔۔۔ وہ بس حیرت سے اسے دیکھ ہی سکتا تھا ۔۔ اپنا تکیہ اور کنفرٹر اٹھا کر وہ باہر جانے لگا ۔۔۔
” آپ کہاں جا رہے ہیں ” حیا نے پریشان چہرے سے پوچھا
٫” باہر “
” نہیں پلیز باہر مت جائیں جب تک بارش نہیں رک جاتی ۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے میں اکیلے نہیں سو سکتی ۔۔۔ ” حیا بھی بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آگئ
” اور میں یہاں نہیں سو سکتا ۔۔۔دیکھوں بارش اندر نہیں آئے گی ناہی بجلی کھڑکی توڑ کر تم پر گرے گی ۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ سو جاؤں آرام سے اور مجھے بھی سونے دو مجھے صبح جلدی اٹھنا ہے ۔۔۔ ” وہ جی بھر کر بیزار ہو رہا تھا
” آپ اگر باہر چلے گئے تو میں بھی باہر آ جاؤں گی ۔۔۔ کیوں نہیں سمجھتے مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ میرے بس میں نہیں ہے ۔۔۔ ورنہ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ آپ کی منتیں کرتی پھرو ۔۔۔ “وہ روتے روتے کہہ رہی تھی ۔۔۔
” ٹھیک ہے پہلے چپ کروں ۔۔۔ ” ارتضی بری طرح سے زچ ہوا تھا ۔۔ لیکن وہ اب بھی رو رہی تھی ۔۔ پھر اسے پانی لا کر دیا
“پیو اسے ” حیانے پانی کے بس دو گھونٹ بھرے “
“اتنی بڑی ہو کر بارش سے ڈرتی ہوں ” ارضی نے اسے شرم دلانے کی کوشش کی کہ شاید اس۔ بات پر کو چیلنج کی طرح لیکر وہ اکیلے سونے پر آمادہ ہو جائے لیکن وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
“اپنے گھر پر کیا کرتی تھی ۔؟۔۔ تمہارے ہاں تو بچوں کو بچپن سے ہی الگ سلاتے ہیں “
” وہاں آیا تھیں جب ۔۔ بارش ہوتی تھی تو وہی میرے ساتھ سوتی تھیں ۔۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں بائے گاڈ مجھے بارش اور بادلوں کی گرج سے بہت ڈر لگتا ہے ” جیسے وہ رو رہی تھی چہرے کی ہوائیاں آڑی ہوئیں تھی بادل کے گرجنے پر کانپ رہی تھی یقینا سچ ہی بول رہی تھی ۔۔ کچھ دیر ارتضی کا کا خوفزدہ چہرہ دیکھتا رہا
” دیکھوں یہاں ایسا کوئی صوفہ نہیں ہے جہاں میں سو سکوں ٫
” ہاں تو اتنا بڑا تو بیڈ ہے میں تو بس ایک کونے میں سو جاؤں گی ہلو گی بھی نہیں ۔۔ بس
مجھے یہ تو تسلی ہو گی کہ میں اکیلی نہیں ہوں ” کچھ دیر تو اسے دیکھتا رہا سوچتا رہا کے کیا کرے کیا نا کرے پھر ایک سائیڈ پر مخالف سمت منہ کیے لیٹ گیا وہ بھی دوسری جانب کونے پر ہی لیٹی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں سو بھی گئ تھی ۔۔۔ آنکھ ارتضی کی بھی لگ گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن پھر اپنے بازو پر بوجھ سا محسوس ہوا ۔۔۔ اس نے آنکھ کھول کر دیکھا تو حیا اس کے بازو پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی وہ بری طرح گڑبڑا سا گیا تھا مگر وہ شاید گہری نیند میں تھی اپنا ہاتھ بھی اسکے سینے پر دھرا تھا اس پہلے تو اس کا ہاتھ پیچھے کیا ۔۔۔ پھر اپنا بازو اس کے سر کے نیچے سے کھنچا اور اٹھ کر بیٹھ گیا ایک پل اسے بے فکر سوتے ہوئے دیکھا بلا شبہ وہ خوبصورت تھی ۔۔۔ اور اس وقت اس لباس ۔میں تھی جو وہ اسکے لئے یونہی خرید لایا تھا کئ سال بعد اس نے کسی لڑکی کے لئے کپڑے خریدے تھے خریدتے ہوئے اپنی بیوی کا نقشہ ہی سامنے آیا لیکن یہ لباس اس پر بھی جچ رہا تھا ۔۔۔ اگلے لمحے اپنے ذہن کو جھٹک کر ۔۔۔ آہستہ سے اپنا تکیہ اٹھایا اور باہر نکل گیا ۔۔۔ باہر صوفے پر تکیہ پھنکا اور لیٹ گیا پوری رات کی نیند خراب ہو چکی تھی ۔۔۔ ابھی فجر میں وقت تھا اس لئے پہلی کوشش اس نے سونے کی ہی کی تھی ۔۔۔ لیکن آنکھیں بند کرتے ہی حیا کا سویا ہوا چہرہ سامنے آیا تھا ۔۔۔ جھٹ سے اسکی آنکھیں کھلیں تھیں ۔۔۔ پھر اس کا بے ساختہ سے گلے لگنا پریشان کرنے لگا تھا ۔۔۔ حد سے ذیاذہ بچکانہ حرکتیں تھیں اسکی ۔۔۔۔ اسے شاید احساس بھی نہیں تھا لیکن ارتضی کی نیندیں ضرور اڑنے لگیں تھیں ۔۔۔۔ خود کو جھٹک کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔ لیکن نا کام ہی رہا تھا۔۔۔ بارہ سال میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ اسے اپنی محرمہ بیوی کے علاؤہ کسی لڑکی کا۔ چہرہ نظر آیا ہو ۔۔۔۔ آج پہلی بار کسی اور کا خیال آیا تھا وہ بھی اس لڑکی کا جس نے اسے بدنام کیا تھا ۔۔۔ حیا کی کالج میں کہی باتیں ذہن میں گھومنے لگیں ۔۔۔۔
******…….
ثوبیہ کا رو رو کر برا حال تھا ۔۔۔ اپنا ماضی تو یاد نہیں آ رہا تھا کہ لیکن جو حال تھا وہ ناقابل برداشت تھا ۔۔۔۔ چند دن بس کھانے کے لئے اسے وہی ایک شخص کھانا دے جاتا تھا یا پھر اسے دوا لگانے آتا تھا ۔۔۔۔ ایک وہ لمحات اس کے باعث اذیت ناک ہوتے تھے ۔۔۔۔ چند دونوں میں کافی زخم بھر چکے تھے ۔۔۔ وہ عورت ایک دن اس کے پاس دوبارہ آئی تھی اس کے ساتھ اس ایک اور لڑکی تھی جو ثوبیہ کی ہم عمر تھی ۔۔۔
تانیہ ادھر آؤں اس عورت نے آج بھی پینٹ شرٹ ہی پہنی تھی ۔۔۔۔ ویسے ہی سگریٹ منہ میں ایسا ہی سخت لہجہ ۔۔۔ وہ اٹھ کر اسکے پاس آ گئ لیکن ڈری ڈری گھبرائی گھبرائی تھی ۔۔۔۔
“سنو روزی اس کے بال سیٹ کرو۔۔۔ اور چہرے کا حلیہ بھی درست کرو ۔۔۔ باس نے کہا ہے شام تک یہ انہیں تیار ملے ۔۔۔۔ “اس عورت نے اپنے ساتھ آئی ہوئی عورت سے کہا ۔۔۔
” جی میڈیم ۔۔۔ وہ عورت تو باہر نکل گئ لیکن روزی نامی لڑکی نے اسے شیشے کے سامنے ۔۔۔ کرسی پر بیٹھا دیا ۔۔۔ پھر اپنے بیگ سے مختلف چیزیں نکال کر پہلے اسکے بالوں کو تراشنے لگی لمبے گھنے بالوں کو اس لیرز میں کاٹ کر کندھوں سے تین انچ لمبا ہی رکھا تھا باقی سارے بال کاٹ چکی تھی ۔۔۔ چہرے کا فیشل کیا پھر ایک ساڑھی اسے پہنے کے لئے سامنے ورڈروب سے نکال کر دی ۔۔ جو انڈین اسٹائل سے سلی ہوئی تھی ۔۔۔
” اسے پہنوں “
” مجھے یہ نہیں پہننا ۔۔۔ “
” انکار کا انجام پتہ ہے تمہیں؟”
” پلیز مجھے بچا لو ان لوگوں سے ۔۔۔ میں کہاں سے آئی ہوں مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا ۔لیکن یہ پتہ ہے کہ میں ایک شریف گھر کی لڑکی ہوں ۔۔۔ ” ثوبیہ رونے لگی تھی
” مجھے اس بات سے سروکار نہیں ہے تم کون ہو کہاں سے آئی ہو جلدی اسے پہنوں یا میں پہناؤں ” وہ لڑکی تلخی سے بولی وہاں موجود ہر شخص احساس سے عاری تھا ۔۔۔ ثوبیہ نے وہ ساڑھی پہن تو لی جیسی اسے آتی تھی باقی کی اس لڑکی نے پہنا دی پھر بڑی۔ نفاست سے اس کا میک اپ کیا ۔۔۔ ائیر رنگ بھی نفیس اور چھوٹے سے پہنائے ۔۔۔ ثوبیہ کی جان صرف اس ساڑھی سے جا رہی تھی جو اسکے وجود کو چھپانے کے لئے نا کافی تھی ۔۔۔ساڑھی تھی بھی نیٹ کی ہیل پہنائے وہ لڑکی اسے باہر لے گی کتنے دنوں بعد اس نے اس کمرے کے علاؤہ کچھ دیکھا تھا۔۔۔ ایک کافی بڑا لاونج تھا جہاں چاروں اطراف صوفے لگے تھے ۔۔۔ وہاں چند غیر ملکی مرد حضرات بیٹھے تھے کچھ برٹش لگ رہے تھے اور کچھ سیاہ فارم تھے ۔۔۔ کچھ پاکستانی تھے ۔۔۔۔ رنگت سب کی الگ الگ تھی مگر نظریں سب کی ایک جیسی ۔۔۔۔۔ ہوس سے لبریز ۔۔۔۔ وہ پینٹ شرٹ والی عورت اٹھ کر اسکے پاس آئی
“تم جاؤ روزی ” اس عورت نے اسکی لڑکی سے کہا جو ثوبیہ کو تیار کر کے لائی تھی روزی کسی حکم کی غلام کی طرح ایک لمبی راہدری کی جانب چلی تھی اس عورت نے ثوبیہ کا ہاتھ پکڑا اور ان سب مردوں کے بیچ رکھی کرسی پر بیٹھا دیا چاروں طرف صوفوں پررد ہی موجود تھے اور وہ اکیلی کرسی پر بیٹھی تھی سب کی آر پار کرتی نظریں اسی پر تھی اسے لگ رہا تھا نظریں کوئی سانپ ہیں جو اسکے وجود پر رینگ رہے ہیں ۔۔۔ یک دم پورے وجود پر سنسنی سی گزری تھی ۔۔۔ دل یوں تھا کہ آج سینہ شگاف کر کے باہر آ جائے گا ۔۔۔۔ ہاتھ پاؤں برف کی مانند ٹھنڈے تھے ۔۔۔ ثوبیہ نے ایک نظر اٹھا کر کسی کی جانب نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ بس بار بار ساڑھی کے پلو ٹھیک کر رہی تھی ایسی کاٹ دار نظریں تھیں کہ اس کا جی چاہ پھوٹ پھوٹ کے رو دے کون کہتا ہے زنا صرف ایک ہی طریقے سے کی جاتی ۔۔۔ اس وقت ان سب کی کی زنا کا مرکز ہی تو بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔
ہاتھوں میں تری چہرے بد حواس پیشانی پر پیسنے کے قطرے جسم میں کپکپاہٹ ۔۔۔۔ وہاں موجود ذیادہ تر مرد غیر ملکی تھے اس لئے بولڈنس دیکھنے کے عادی تھی ۔۔۔۔ عورت کا گھبرانا سمٹنا انہیں اور بھی حظ دے رہا تھا۔۔۔
” One thousand dollars”
ایک انگریز نے ہاتھ اٹھا کر کہا
“Tow thousand dollars”
اسی طرح ہر شخص اسکی قیمت لگا رہا تھا
اسکی ہوش میں اسکی پہلی نیلامی لگ رہی تھی اس نے تو آج گھروں اور چیزوں کی نیلامی ہوتے نہیں دیکھی تھی ۔۔۔ ایک عورت کی نیلامی بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔
5000 thousand dollars”
ایک سیاہ فارم شخص نے اسکی آخری بولی لگائی تھی ۔۔۔۔ اس کے بعد کوئی نہیں بولا ۔۔۔
وہ عورت خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ۔۔۔ پیسے پکڑے ۔۔۔۔ پہلے اس سیاہ فارم شخص کے گلے لگی ۔۔۔ جو دیکھنے میں بے حد سیاہ تھا موٹا اور گنجا بھی تھا ۔۔۔ پھر اسکی غلیظ نظریں ثوبیہ سے جان نکلی تھی یہ تو نہیں پتہ کہ یہاں کس کی وجہ سے پہنچی ہے لیکن دل سے اس کے لئے بد دعا نکلی تھی ۔۔۔۔
******…….
نور جہاں نے بلا آخر کچھ دیر بعد دروازہ کھول دیا تھا جازم اب بھی وہیں کھڑا تھا دروازے کے پاس
” تجھے سچ جاننا ہے ۔۔۔ ٹھیک ہے آ میرے ساتھ ” جازم کا ہاتھ پکڑے وہ اسے کمرے میں لے گئ ۔۔۔ بیڈ پر بیٹھا دیا
” کسی نواب رئیس کی ناجائز اولاد ناہی ہے تو ۔۔۔۔ میرا نکاح ہوا تھا تیرے باپ سے ۔۔۔۔ “
” کون ہے وہ “
“پہلے وعدہ کر دوبارہ کچھ ناہی پوچھے گا ۔۔۔ کوئی سوال ناہی کرے گا مجھ سے “
” وعدہ نہیں کر سکتا ۔۔۔ ہاں اگر آپ مجھے ان کا پتہ بتا دیں تو انکے بارے میں دوسرا کوئی سوال آپ سے نہیں پوچھوں گا “
” ایک مولوی کا بیٹا ہے تو ۔۔ عبداالباسط نام ہے اس کا ۔۔۔ تجھے پتہ بتا دیتی ہوں پر وہ وہاں ناہی ہے اب چھوڑ کے جا چکا ہے ۔۔۔۔ ” نور جہاں نے اپنے آنسوں ضبط کر کے کہا
” آپ مجھے پتہ بتائیں “
” نور جہاں نے ایک پتہ اسے زبانی بتایا جیسے از بر یاد ہو۔۔۔۔ جازم نے دوسرا کوئی سوال نہیں پوچھا۔۔۔
دو دن وہ بس اس سے ہارون الرشید کی باتیں ہی کرتا رہا ۔۔۔ جب وہ نور جہاں کو واپس چھوڑنے جا رہا تھا باہر نکلتے ہیں چند مرد دروازے پر ہی کھڑے تھے ۔۔۔ وہ بھی تیوری چڑھائے ۔۔ جیسے اگر وہ دروازہ نا کھولتا تو وہ دستک دینے ہی والے تھے ۔۔۔
اس طرح جازم اور نور جہاں کا راستہ کا راستہ روکنا جازم کو برا سا لگا تھا ۔۔۔۔
” سنو لڑکے ۔۔۔ تم پروفیسر کے بیٹے ہو کر ایسے نکلو گئے ہم سوچ نہیں سکتے تھے باپ تو تمہارا نہایت شریف انسان تھا ۔۔۔ اس کے مرتے ہی تم نے گھر میں غیر عورت کو لانا شروع کر دیا وہ بھی اس قسم کی “
” مطلب کیا ہے آپ لوگوں کا کس قسم کی ہاں “
جازم اشتعال میں آ گیا ۔۔۔ نور جہاں نے اسے بازو سے پکڑا جوان جہان خون تھا کچھ جلدی ہی جوش مارتا ہے
“دیکھوں میاں ہم سب جانتے ہیں ۔۔۔ یہ خاتون بازار حسن میں خاصی مشہور ہیں کون نہیں جانتا اسے ۔۔۔یہ شریفوں کا محلہ ہے ۔۔۔۔ یہاں یہ سب نہیں چلے گا اپنے شوق وہیں پورے کیا کروں ” اس بات پر تو جازم نے اس شخص کا گریبان کی پکڑ لیا
” کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔ اتنے ہی شریف ہو تمہیں کیسے پتہ کہ یہ کہاں کی ہیں۔۔۔ تم بازار حسن میں جا کر بھی شریف ہو اور اگر وہاں کی کوئی عورت آ جائے تو تمہارا شریف محلہ بد نام ہوتا ہے۔۔۔۔ آئندہ میرے معاملات میں بولے تو منہ توڑ دونگا تمہارا ” یہ کہہ جازم نے اس کا گریبان چھوڑ دیا باقی کے لوگ بھی اسکے غصے سے گھبرا گئے پیچھے ہٹ گئے ۔۔ پورے راستے وہ چپ ہی رہا نور جہاں بھی کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔ لیکن کوٹھے کے سامنے ٹیکسی رکتے ہی اس نے جازم کی طرف دیکھا
” اس لئے میں تیرے ساتھ جانا ناہی چاہتی تھی ۔۔۔۔
دیکھ لیا تو نے ۔۔۔۔ “
” آپ کی وجہ چپ رہنا پڑا مجھے ورنہ مجھے کوئی شرم نہیں اس بات کو بتانے میں کہ آپ میری ماں ہیں ” خازم کا چہرہ اب بھی غصے سے سرخ تھا دانت بینچ کر بولا رہا تھا
” نا ببوا یہ غضب نا کرنا ۔۔۔ کبھی نا بتانا تجھے اللہ کا واسطہ ” یہ کہہ کر وہ ٹیکسی سے اتر کر کوٹھے کی سیڑیاں چڑھ گئ۔۔۔۔۔
جازم واپس گھر آ گیا پتہ وہ اچھی طرح سے یاد کر چکا تھا اس لئے اگلے ہی روز اسی پتے پر پہنچ گیا ۔۔۔ مگر وہاں کوئی بھی عبداالباسط کو نہیں جانتا تھا ۔۔۔
“بیٹا یہ گھر تو ہم نے انور مفتی صاحب سے ہی خریدا تھا انکے بیٹے کا غالبا یہی نام تھا ۔۔۔۔ لیکن ہم جانتے نہیں وہ کہاں گئے ہاں یہ محلے کی مسجد کے امام صاحب اسی وقت کے ہیں شاید وہ بتا سکیں ” اس شخص نے یہ کہہ کر دروازہ بند کر دیا ۔۔۔ جازم مسجد کے امام صاحب کے پاس حاضر ہو گیا ۔۔۔ ان سے مفتی انور اور عبد الباسط کا پوچھنے لگا
” وہ۔ تو عرصہ گزر گیا اپنے گاؤں چلے گئے تھے ۔۔۔ اب تو سنا ہے کافی بڑا مدرسہ بنا لیا ہے انکے بیٹے عبداالباسط نے وہاں ۔۔۔۔ البتہ باپ یہ خوشی نا دیکھ سکا ۔۔۔ اس سے پہلے ہی چل بسا ” وہ ٹھندی آپ بھر بولے “
” کون سے گاؤں “
” راجن پور “
“اور انکے علاقے اور مدرسے کا نام “
جازم پتہ معلوم کر کے اپنا رخت سفر باندھا اور بس میں راجن پور کی طرف روانہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
******……
ارتضی کی وہی روٹین تھی ۔۔۔ صبح اسکول باقی دن وہ گھر پر ہی ہوتا تھا حیا کی رومان سے اچھی دوستی لگ چکی تھی ایک مہینہ گزر چکا تھا۔۔۔۔وہ بات اب پرانی ہو چکی تھی جس کی وجہ ارتضی اور حیا اس رشتے میں مجبورا بندھے تھے ۔۔۔ لیکن ارتضی کا ارادہ بدل گیا تھا اب واپس سلام آباد جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ اس لئے رومان کا ٹرانسفر مری کے اسکول میں کروانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ اپنا اسلام آباد کا گھر بیچ کر مری میں رہائش کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ پھر حیا کو بھی آزاد کرنا تھا ۔۔۔۔ یہی سوچ رہا تھا کہ اسی ہفتے حیا کو اسلام آباد چھوڑ کر اپنا گھر سیل کر دے ۔۔۔ یہ خبر اس نے رومان سے چھپائی تھی کیونکہ وہ حیا سے کافی اٹیچ ہو چکا تھا ۔۔۔ لیکن حیا کو۔ بتانا ضروری تھا ۔۔۔
صبح جب وہ اسکول جانے کے لئے اٹھا تو رومان بہت پریشانی کے عالم میں اسکے کمرے میں داخل ہوا تھا تھا
” بابا جلدی آئیں دیکھیں ممی کو کیا ہوا ہے ۔۔۔ بے ہوش ہو گئ ہیں “
” کیا ۔۔۔ “ارتضی جلدی سے کمرے سے نکلا تھا لیکن وہ لانج میں نہیں تھی بلکہ رومان کے بیڈ پر اوندھی لیٹی تھی ۔۔
“اسے کیا ہوا ہے “ارتضی حیا کے قریب آ کر رومان سے پوچھنے لگا
“مجھے لگتا ہے فوڈ پوائزن ہو گیا ہے ۔۔۔ کافی دیر سے واش روم میں وومٹنگ کرتی رہیں ہیں میری آنکھ کھلی تو باہر آتے ہی میرے بیڈ پر گئ کر بے ہوش ہو گئیں۔۔۔میں نے بہت ہلایا جلایا لیکن وہ بات نہیں کر رہیں
” کھا لیا ہو گا کچھ الٹا سیدھا ۔۔۔ عجیب مصیبت ہے یہ لڑکی ۔۔۔ اب میں کہاں اسے ڈاکٹر پر لے کر جاؤں ۔۔۔ ہاسپٹل یہاں سے بہت دور ہے سواری بھی نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔ تم پہلے پانی لاؤں شاید پانی ڈالنے سے ہوش آ جائے ” ارتضی پریشان ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔ جلدی سے ایمبولنس کو کال کی تھی جہاں وہ تھا سواری ملنی مشکل تھی ۔۔۔۔
ارتضی نے پہلے تو اسے سیدھا کیا رومان جب تک پانی لے آ گیا تھا لیکن پانی پھکنے سے بھی اسے ہوش نہیں آیا تھا ۔رومان بھی اسے ہلانے لگا ۔۔ رونے بھی لگا ۔۔
” بابا کیا ہوا ہے ممی کو وہ بات کیوں نہیں کر رہیں “
“رومی پریشان مت کوصرف بے ہوش ہوئی ہے۔۔۔ شاید بی پی لو ہو گیا ہو گا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ایمبولنس پہنچ گئ تھی وہ اسے ہاسپٹل لے کر پہچا حیا کو ایمرجنسی وارڈ میں بھیجنے کے بعد
رسپشن پر کھڑی لڑکی سے سلپ بنانے کے لئے کہا اور جیب سے بٹوا نکال کر پیسے بھرنے لگا
” پیشنٹ نیم “
“حیا “
” اور فادر یا ہسبنڈ نیم “
” ہسبنڈ میں ارتضی لکھ دیں “
“او کے ” سلپ بناتے ہی وہ ایمرجنسی وارڈ میں پہنچا تھا ۔۔۔ نرس حیا کو ڈرپ لگا رہی تھی۔۔۔۔ ڈاکٹر نے ٹیسٹ کی رپورٹس بنا کر ارتضی کے ہاتھ میں تھما دی ۔۔
آپ یہ ہے کریں تا کہ ان کے ٹیسٹ لیے جا سکیں “
” اسکی کیا ضرورت ہے ایک معمولی ڈائیریا کیس ہے ۔۔۔ بی پی لو ہے اس کا ابھی کچھ انرجی ملے گی تو ہوش میں آ جائے گی “ارتضی کو خواہمخواہ خرچہ کھل رہا تھا آج ہی تو تنخواہ ملی تھی اورجیساوہ ہاسپٹل تھا ساری تنخواہ انہیں کے نظر ہوتی نظر آ رہی تھی
” دیکھیں ڈاکٹر ہم ہیں آپ نہیں ۔۔۔ جائیں آپ سلپ بنوائیں ” بادل ناخواستہ اسے جانا پڑا ۔۔۔ تین گھنٹے بعد ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ حیا کو ہوش آ گیا ہے “
دوائیں لیکر وہ واپس اسے گھر لے آیا ۔۔۔ لیکن چپ تھا پورے راستے بھی چپ ہی رہا ۔۔۔ بار بار اسکے چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔ وہ نقاہت کی وجہ سے چپ تھی ۔۔۔ ٹیکسی کی سیٹ پر سر ٹکائے آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی ۔۔۔
جب وہ گھر پہنچے رومان بے چینی سے انکا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ حیا کو صیحح سلامت دیکھ کر خوش ہوا تھا ۔۔۔
” آپ ٹھیک ہیں ممی ” رومان اس کے پاس آ کر بولا
” رومان اسے آرام کرنے دو ۔۔۔ تم بھی جاؤں سو جاؤں جا کر ۔۔ ” ارتضی نے اسے تقریبا تھام رکھا تھا ۔۔ وہ صوفے کی جانب جانے لگی تا کہ لیٹ سکے
” کمرے میں لیٹ جاؤں ۔۔۔۔ ” ارتضی اسے اپنے کمرے میں لے گیا بیڈ پر اسے بیٹھا دیا ۔۔۔ لیکن خود باہر جانے کے بجائے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا
” آپ باہر نہیں جائیں گئے ۔۔۔ ” حیا کچھ نیند کی خماری میں بھی تھی ٹھیک سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ بار بار آنکھیں بند ہو رہیں تھیں جیسے وہ زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی تھی
“آج کا دن تمہارے نام ہے ۔۔۔ “ارتضی کاچہرہ اسپاٹ تھا ۔۔۔ لیکن لہجہ دھیمہ تھا وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا کچھ دیر اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ جو نیند سے بے حال ہو رہی تھی ۔۔
” یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔ مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔ میں سونا چاہتی ہوں ۔۔ اگر آپ باہر نہیں جائیں گئے تو میں چلی جاتی ہوں ” حیا اٹھنے لگی لیکن ارتضی نے اس ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دیا
” اہم ہمم ۔۔ نا میں کہیں جاؤں گا اور نا تم جاؤ۔ گی ۔۔۔
اور آج تو میں تمہیں سونے بھی نہیں دونگا ۔۔۔ بہت ساری باتیں جو کرنی ہے تم سے ۔۔۔۔ ” ارتضی کی اس قسم کی باتوں سے وہ کچھ نروس سے ہونے لگی تھی
” لیکن مجھے نہیں کرنی۔۔۔ آپ دیکھ نہیں رہے حالت کیا ہے میری پوری رات میری طعبت خراب رہی ہے ۔۔۔ پلیز مجھے سونے دیں ” وہ ملتجی لہجے میں بولی تھی
” نہیں نا یار آج باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ اچھا چلو ٹرتھ اینڈ ڈیر کھلتے ہیں ۔۔ آج تو سکہ بھی میرے پاس ۔موجود ہے “
“لیکن مجھے نہیں کھلنا ” وہ رخ بدل گی تھی ہر وقت وہباےاکھڑے لہجے میں ہی بات کرتا تھا کوشش کرتا تھا کہ اسکے سامنے نا آئے کبھی بات کر بھی لیتا تو دل جلانے والی طنز سے ڈوبی ہوئی
“کھیلنا تو پڑے گا حیا ڈرالنگ ۔۔۔ بہت بہت بڑے کھیل کھیلنے آتے ہیں تمہیں میری سوچ جہاں ختم ہوتی ہے وہاں تمہارے کھیل شروع ہوتے ہیں ۔۔۔۔ آج جب تک تم کھیلو گی نہیں ممکن ہی نہیں کہ میں تمہیں سونے دوں ” ارتضی کا لہجہ دھیرے دھیرے سخت ہو رہا تھا حیا رو دینے کو تھی نیند کی شدت ایسی تھی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ بس لیٹے اور سو جائے ۔۔۔ ارتضی نے جیب سے سکہ نکالا اور اچھال کر بیڈ پر پھنک کر اس پر ہاتھ رکھ دیا
“چاند آیا تو ٹرتھ چھپہ آیا تو ڈیر “یہ کہہ کر ارتضی نے ہاتھ ہٹایا ہمیشہ کی طرح ڈیر ہی حیا کے لئے آتا تھا اس اب بھی ڈیر آیا تھا
“ڈیر ۔۔۔۔ شٹ ۔۔۔ میں تو چاہتا تھا کہ ٹرتھ آتا ۔۔۔میں سوچ رہا ہوں ڈیر تو تم نے خوب کر لیے ۔۔۔ کیوں نا آج ٹرتھ ہو جائے “پھر اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب کر کے سختی سے بولا
” سچ بولنا تو آتا ہے نا تمہیں ” حیا بیزاریت کی آخری حد پر تھی
“آپ کو جو پوچھنا ہے جلدی سے پوچھیں ۔۔ مجھے سونا ہے ” وہ زچ ہوئی تھی نیند سے آنکھیں بوجھل تھیں
” کالج میں ہونے والا ڈرامہ کیوں رچایا تھا تم نے میرے ساتھ ” وہ اب غصے سے بولا رہا تھا چہرہ آنکھیں آہستہ آہستہ سرخ ہو رہیں تھیں حیا پھر سے نظریں چرا کر بولی
” میں نے کہا تو تھا کہ شرط ۔۔۔۔”
“او شیٹ اپ حیا” وہ ایک دم سے دھاڑا تھا
” جسٹ ۔۔۔ شپ ۔۔ آپ” جتنی بلند آواز سے وہ چیخا تھا حیا کی نیند آڑی تھی
” مجھے سچ سننا ہے ۔۔۔ ناؤ ۔ٹل می آ ٹرتھ “
” م۔۔۔میں۔ سچ کہہ رہی ہوں میں نے وہ سب ایک شرط “
” کمال کی ادا کارہ ہو تم ۔۔۔ میری عقل دنگ ہے تمہاری اداکارہ ہے ۔۔۔۔ اپنی عمر دیکھوں اور اپنے کام دیکھوں ۔۔۔۔ اتنا آسان حدف تھا تمہارے لئے مجھے یوں پھسانا”
“آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آ رہا “ارتضی نے جیب سے نکال کر ایک رپورٹ اس کے منہ پر پھنکی تھی ۔۔
” پڑھوں اسے ۔۔۔ اور اسکے۔ بعد بھی تم نے جھوٹ بولا تو گلا دبا دوں گا تمہارا ۔۔۔ ” اسے ارتضی کی آنکھوں سے۔ خوف آیا تھا جو غصے سے سرخ ہو رہیں تھیں وہ رپوٹ کھول کر پڑھتے ہی حیا کے اپنے ہوش بھی آڑے تھے
