Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 13

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 13

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

عبداالباسط آرء کو سیدھا بس کے اڈے پر لے کر گیا تھا باقی کے سب مزدور جا چکے تھے اس لئے عبداالباسط الگ سے جا رہا تھا ۔۔ وہیں سے وہ لوگ اس فارم ہاوس پہنچے تھے ۔۔۔

فارم ہاؤس ایک بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔۔ وسیع جگہ پر باغ تھا ۔۔ پھلوں سے لدے درخت تھے ۔۔۔ دور کہیں سامنے پول بھی نظر آ رہا تھا ۔۔۔

کواٹرز سیدھی جانب لائن سے بنے ہوئے تھے ۔۔۔

چوکیدار سے چابی لے کر عبداالباسط نے اپنا کواٹر کھولا ۔۔۔ کواٹر ایک کمرے پر مشتمل تھا لیکن کمرہ بڑا اور کشادہ تھا ۔۔۔ ایک سائیڈ پر چھوٹی سی شلف اور سنگل اسٹو والا چولہا رکھا تھا ۔۔۔ چند ضرورت کے برتن تھے بیڈ سنگل بیڈ سے کچھ بڑا اور ڈبل سے کچھ چھوٹا تھا دیوار گیر الماری تھی ۔۔۔ کواٹر صاف ستھرا تھا اندر داخل ہوتے ہی عبداالباسط نے آرء سے کہا

“آپ برقعہ اتار دیں ۔۔ یہاں میرے علاؤہ اور کوئی نہیں آئے گا ۔۔۔ ” کئی گھنٹوں سے وہ برقعے میں تھی ۔۔ آرء نے پہلے اپنا نقاب الٹا ۔۔۔ ایک نظر کمرے پر ڈالی ۔۔۔دوسری عبداالباسط کے چہرے پر ۔۔ پھر اپنا برقعہ اتار کر ڈوپٹہ اوڑھ لیا ۔۔۔

اب بھی وہ سجی سنوری ہی تھی بس نقاب پہنے سے چہرے پر پسینہ آنے کی وجہ سے کاجل کچھ پھیل گیا تھا ۔۔

“آپ منہ ہاتھ دھو لیں میں کھانے کا کچھ انتظام کر کے آتا ہوں ۔۔ “عبداالباسط یہ کہہ کر جانے لگا لیکن ہاتھ آرء نے پکڑ لیا تھا

” ایسے کیسے عبداالباسط ۔۔ ابھی تو تو نے میری تعریف بھی نہیں کی منہ کیسے دھو لوں ۔۔۔ ” آرء نے خفگی سے کہا عبد الباسط دوقدم پیچھے لئے اور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا

” تعریف کرنے کے لئے آپ کو ہار سنگھار کی ضرورت کب ہے “وہ مسکرا کر بولا

” لیکن میں تمہارے لئے خاص طور پر تیار ہوئی ہوں ۔۔۔ ایساپہلے کبھی کسی کے لئے نہیں ہوئی “

” یہ تو میری خوش نصیبی ہے پھر۔۔۔ کہ آپ میرے لئے خاص طور پر تیار ہوئی ہیں ۔۔۔ “

” پتہ ہے عبداالباسط میں نے ہاتھوں پر مہندی سے تمہارے نام کا پہلا حرف بھی لکھوایا ہے ۔۔ دیکھاوں تمہیں ” اس نےاپنی ہتھیلیاں اس کے سامنے کر دیں ۔۔۔ جہاں نقش ونگار کے ساتھ اسکے نام کا پہلا حرف بھی لکھا تھا ۔۔ عبد الباسط نے اسکی ہتھلیاں تھام کر ہونٹوں پر لگا لیں ۔۔۔

” مہندی آپکے ہاتھوں پیروں پر بہت جچتی ہے آرء ” عبداالباسط کی تعریف پر جیسے آرء کو کچھ یاد آیا تھا

” افف دیکھا ناں نیلو کی بچی نے بھلا دیا ۔۔ پیروں پرتو لگائی ہی نہیں مہندی۔۔۔ ” ۔

” کوئی بات نہیں ۔۔۔ آج نہیں لگائی تو کیا ہوا ۔۔۔ پہلی بار آپکے پاؤں کی مہندی ہی تو دیکھی میں نے ۔۔۔ کچھ دیر نظریں ہٹانا بھول گیا تھا دوسری نظر آپکے آدھے چہرے سے جھانکتا ہوا ڈمپل دیکھا تھا ۔۔۔ بس پھر کسی دوسری عورت کی طرف نظر اٹھانے کو دل ہی نہیں چاہا ۔۔۔۔ ” عبداالباسط کی بات سن وہ مسکرائی تھی

” سچ میں عبداالباسط؟” آرء بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا رہی تھی ۔۔۔

” جھوٹ بول سکتا ہوں آپ سے “وہ بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر رہا تھا

“ناہی جھوٹ نہیں بول سکتے تم ۔۔۔ “

“اب جاؤں بھوک لگی ہو گی آپ کو ” عبداالباسط نے پوچھا

“ہاں جاؤں میں نے کب روکا ہے تمہیں ” یہ کہہ کر وہ کھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔ وہ بھی مسکراتی ہوئے باہر چلا گیا

*******…..

صبح سے شمس کی والدہ شمس کو فون کر رہیں تھیں لیکن فون مسلسل بند تھا ۔۔۔ کئ دن سے بند تھا اور کسی کو وہ خاص جانتی بھی نہیں تھی پھر دوپہر میں ہی گھر سے نکل کر شمس کی ورک شاپ پر آگئیں اسکے مالک سے شمس کا پوچھنے لگیں لیکن انکا کہنا تھا کہ شمس نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا نا لاہور کی ورک شاپ پر کوئی رابطہ کیا ہے ۔۔۔ وہ بے حد پریشان ہو کر لوٹی تھیں ۔۔۔۔ شام تک ثوبیہ کا باپ بھائی پھر انکے گھر کے گیٹ پر موجود تھے ۔۔۔ اس بار تو محلے کے چند معزز لوگ بھی تھے ۔۔۔ وہ ایک خاتون تھیں ۔۔۔ اس لئے گھبرا گئیں تھیں

” کہاں ہے شمس ۔۔ ہوئی اس سے بات کب آئے گا وہ ” ثوبیہ کے والد نے سخت لہجے سے پوچھا

” بھائی صاحب اس کا فون بند ہے اور اسکے مالک کو بھی نہیں پتہ کہ وہ کہاں ہے “

“بہانے بنانے بند کروں بڈیا جلدی سے اسے بلاؤں ورنہ ہم کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا لیں گئے ۔۔۔ کمینہ میری بیٹی کو بہلا کر لے گیا ہے ” وہ غرا کر بولے

” ایسے کیسے لے جاسکتا ہے ۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں اس کا ثوبیہ سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا ” اسکی والدہ نے انکار کیا

“دیکھ بڈیا بیواقوف مت بنا ہمیں ۔۔۔ وہی لیکر کر گیا ہے اسے ۔۔۔۔ “کمالا چھنگار کر بولا

” صرف شمس بھائی کاقصور نہیں ہے ثوبی باجی بھی انہیں خط لکھتی تھیں”… صحن میں کھڑی منزا نے کہا ۔۔۔

ساری بات خود ہی سامنے آ گئ تھی کمالے نے شمس کی والدہ کو پیچھے کیا اور اندر آ کر غصے سے منزا کے سامنے کھڑا ہو گیا سر سے پیر تک اسے دیکھا کہ وہ اسکی نظروں سے ڈر کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔

“تمہیں کیسے پتہ کہ ثوبیہ اسے خط لکھتی تھی ۔۔۔ اس کا مطلب تم سب جانتی تھی ۔۔۔ ” شمس کی ماں فورا سے بیٹی کے پاس آئی تھی

“نہیں اسے کچھ نہیں پتہ ۔۔۔ منی تو چپ کر ” ماں کی جان لبوں تک آئی تھی ۔۔۔

“اسے سب پتہ ہے ۔۔ چل بتا کہاں گیا تیرا بھائی میری بہن کو لیکر ” کمالے نے غصے سے پھنکار کر پوچھا ۔۔۔

“نہیں یہ کچھ نہیں جانتی ۔۔۔ منی تو اندر جا”شمس کی والدہ رونے لگیں تھیں منزا کمرے میں چلی گئ

“دیکھوں بیٹا میں شمس کو فون کر رہی ہوں اس کا فون بند ہے جیسے ہی کھلے گا میں اسے یہاں بلاؤں گی اگر اس نے ایسا کچھ کیا ہو تو میں خود ثوبیہ کو عزت سے اپنے گھر لاؤں گی “

” ہر گز نہیں بڈیا ۔۔۔۔ ہماری عزت کو خاک میں ملا دیا اس نے ۔۔۔ اب وہ صرف مرے گا ۔۔۔ میری بہن کی عزت اچھالی ہے ۔۔۔ اب اتنا حق تو پھر میرا بھی ہے میں ھی اسکی عزت کی دھجیاں بکھیر دوں۔۔۔۔۔ جیسے جان کے بدلے جان تو بہن کے بدلے بہن ۔۔۔۔ جب اپنی بہن کے ساتھ ذیادتی ہو گی تو الٹے قدم واپس آئے گا ۔۔۔” کمالےکی بات پر شمس کی والدہ کے حواس باختہ ہوئے تھے ۔۔۔ چودہ پندرہ سالہ دبلی پتلی چھوٹی سی انکی بیٹی اور پینتیس سے چھتیس سال کا وہ کڑیل جوان جو بھری جسامت کا مسلک تھا ۔۔۔

” نہیں بیٹا میری بچی کا کیا قصور ہے وہ بہت چھوٹی ہے تم سے خدا کے لئے ایسا کچھ مت کرنا ۔۔۔ ” شمس کی ماں نے ملتجی لہجے میں روتے ہوئے منت کی تھی

” میں تمہارے بیٹے کی طرح بغیرت نہیں ہوں بڈیا نکاح کروں گا تمہاری بیٹی سے ۔۔۔ اور جب تک شمس واپس نا آ جائے تجھے تیری بیٹی کی شکل بھی دیکھنے کو نہیں ملے گی “کمالے کی سرخ آنکھوں سے شمس کہ ماں کا دل دہلا تھا ۔۔ کمرے میں کھڑی منزا کانپتے رونے لگی تھی ۔۔۔

“ہاں یہی ٹھیک ہے عزت کا بدلہ عزت بیٹی کا بیٹی ۔۔۔ ۔۔۔ سنو آپ لوگ کیا کہتے ہو “ثوبیہ کے والد نے وہاں موجود محلے داروں سے پوچھا جو احساس مند کم اور تماشائی ذیادہ تھے ۔۔۔ پہلے ثوبیہ کو لیکر کمالے اور ثوبیہ کے باپ کا تماشہ دیکھنے آتے رہے اور اب یہ ایک نیا موضوع گرم ہونے والا تھا محلے میں بھلا انہیں کیااعتراص ہوسکتا تھا

“سو فیصد درست بات ہے ۔۔۔ نکاح تو ابھی ہونا چاہیے” ان میں سے ایک شخص نے کہا ۔۔۔ آدھے گھنٹے کے اندر اندر زبردستی منزا کا نکاح ڈرا دھمکا کر کمالے سے کر دیا گیا تھا ۔۔۔ وہ بے دردی سے کھنچتے ہوئے اسے گھر سے باہر لیکر گیا تھا ۔۔۔ وہ بچی چلاتی ہوئی ماں کو پکارتی رہ گئ ماں بھی روتی بلکتی رہی ۔۔۔ لیکن پکار سننے والا صرف سات آسمانوں کا مالک ہی تھا ۔۔۔ باقی دنیا میں بسنے والے انسانی روپ میں جانور تھے ۔۔۔ شمس کی ماں دہائیاں دیتی رہ گئ ۔۔۔۔ لیکن بیٹی بھائی کے بدلے میں جا چکی تھی ۔۔۔ مجرم شمس ۔۔۔سزا کی حق دار پندرہ سالہ منزا ۔۔۔۔

جو آگ ثوبیہ کے بھاگ جانے پر ثوبیہ کے گھر لگی تھی اسکی چھنگاڑی نے شمس کا گھر بھی خاک کیا تھا ۔۔۔۔

پوری رات شمس کی ماں روتی رہی بیٹے کو بار بار فون کرتی رہی لیکن فون بند تھا ۔۔۔ وہاں شمس نے ثوبیہ کو اسکی ماں کی موت کا اس لئے نہیں بتایا تھا کہ اس کا یہ ہنی ٹرپ خراب نا ہو جائے اور ادھر اسکی معصوم چھوٹی سے بہن اسکے جرم میں بھنٹ چڑھ چکی تھی ۔۔۔

یہ تھی وہ محبت ۔۔۔ جس محبت کے لئے سب کچھ جائز تھا ۔۔۔ بھاگ جانا ۔۔۔ بھگا کر لے جانا ۔۔۔ گناہ ثواب سب برابر سمجھا جاتا تھا

اتنا آسان ہوتا ہے کیا یہ سب کچھ ۔۔۔ فلمی دنیا تو نہیں تھی نا کوئی ڈرامہ یا کہانی ۔۔۔ جہاں دو دل ملے دنیا نے اختلاف کیا گھر سے بھاگ کر شادی کر لی ۔۔۔ پھر گھر والے بھی غصے کے بعد مان گئے ۔۔۔ چلو جی ہو گئ ہیپی اینڈنگ ۔۔۔ حقیقت کچھ اور ہے ۔۔۔۔ بھاگ جانا ۔۔ مسلے کا حل نہیں ہوتا بلکہ مسائل کو مزید بڑھا دیتا ہے ۔۔۔ یہاں تک کے زندگیاں تباہ ہو کر رہ جاتی ہیں

جیسے ثوبیہ کی والدہ کی موت نے شوہر اور بیٹے کو اندھا کر دیا تھا ۔۔۔ شمس کو لگا کہ تباہی صرف ثوبیہ کے گھر کو برباد کرے گی اور اس کا گھر بچ جائے گا لیکن لپیٹ میں اسکی فیملی بھی آگئ ۔۔۔ برباد کون ہوئی ۔۔۔ چھوٹی سی منزا ۔۔۔

کمالے نے انسانیت سے ہٹ کر سلوک کیا تھا اس معصوم سی بچی کے ساتھ ۔۔۔ وہ صرف بدلے کے طور پر گئ تھی اس لئے صرف بدلہ ہی لیا گیا تھا وہ بھی بہت بے دردی سے ۔۔۔

*****……

حیا کی آنکھوں میں خوف اترا تھا

” خود کمرے جاؤں گئ یا زبردستی لیکر جاؤں تمہیں ۔۔۔۔ جیسے پہلے لیکر گیا تھا کالج کے روم میں “ارتضی نے اسکی آنکھوں میں غصے سے دیکھتے ہوئے دانت بینچ کر کہا وہ جھوٹ کہہ رہا تھا جس کا بڑی دلیری سے حیا نے سب کے سامنے جھوٹا اعتراف کیا تھا

“میں ۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے ۔۔۔ معا۔۔۔۔ ” حیا لفظوں کو ترتیب بھی نہیں دے پا رہی تھی جب ارتضی نے اسکے بازو کو دبوچ کر پکڑا اور اسے کھنچ کر کھڑا کیا ۔۔

“مجھے کہیں نہیں جانا میرا بازو چھوڑیں ۔۔۔ ورنہ میں چلا چلا کر سب کو اکھٹا کر لوں گی ۔۔۔۔ وہ بازو چھڑاتی رہ گئ لیکن وہ اسے کمرے میں لے جا چکا تھا ۔۔۔ اسے اندر دھکیل کر اس نے دروازہ بند کیا

حیا بری نہیں تھی ۔۔۔ کمرہ بند ہوتے ہی کمرے کے دروازے کے پاس آئی تھی لیکن وہ عین دروازے کے سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔۔

” چیخوں گی تم ۔۔۔ چلو چیخوں میں بھی تو سنو تمہاری چیخیں ۔۔۔ چلانا چاہتی ہو تو چلاؤ خوب چلاو۔۔۔ کالج نہیں ہے یہ نا ہی یہاں تمہارے باپ کے پیسوں سےخریدا ہوا میڈیا ہے نا ہی تمہیں مظلوم سمجھنے والے لوگ ۔۔۔ جہاں تم نا حیا۔۔۔ یہاں تمہاری چیخنے چلانے کی آواز صرف جانور سن سکتے ہیں ۔۔۔ اور کوئی نہیں ” وہ ساتھ کہہ رہا ساتھ ساتھ قدم اسکی طرف بڑھا رہا تھا حیا الٹے قدم لے رہی تھی رو رہی تھی

” یہاں کوئی نہیں ہے ۔۔۔ جس کے سامنے تم یہ مگر مچھ کے چار آنسوں بہاؤ گی اور سچی بن جاؤں گی ۔۔۔۔۔ “

“سر پلیز مجھے جانے دیں ” حیا نے روتے ہوئے کہا تھا یہ سن کر ارتضی چلا اٹھا تھا

“شٹ اپ ہو بلڈی ۔۔۔۔۔” با مشکل اس نے گالی منہ میں دبائی تھی ۔۔ جتنی بلند آواز سے وہ دھاڑا تھا حیا کانپ سی گئ تھی ۔۔۔ زور سے آنکھیں میچ گئ تھی

” آئندہ مجھے “سر” مت کہنا ۔۔۔۔ بہت قابل احترام لفظ ہے یہ بہت با ادب رشتہ تھا جسے تم نے بڑی گندی اور غلیظ گالی دی ہے ۔۔۔ ارتضی کہا کرو مجھے ۔۔۔ ” اسکے اس قدر خطرناک تیور دیکھ کر وہ اب ہچکیوں سے رونے لگی تھی

” جانتی ہو ریپ کیا ہوتا ہے ۔۔۔ کیسے کیا جاتا ہے ۔۔۔ جس لڑکی کے ساتھ ہو کیا حال ہوتا ہے اس کا ۔۔۔ ” وہ ایک ایک قدم بڑھا کر بول رہا تھا وہ اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی رو رہی تھی پیچھے ہٹ رہی تھی

” صبح تک جان جاؤ۔ گی” یہ کہہ اس نے حیا کو بیڈ پر دھکا دے کر گرایا تھا

” نہیں معاف کر دیں مجھے ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بے بسی سے بولی

” کیوں معاف کر دوں تم نے معاف کیا تھا مجھے ۔۔۔ میں نے تو پوری کلاس کے سامنے تم سے معافی مانگی تھی ۔۔لیکن پھر بھی تم نے نا جانے کس بات کا بدلہ لیا ہے ۔۔۔ پھر مجھ سے بھی ایسی کوئی کوئی امید مت رکھو کہ تمہیں ۔ معاف کر دو۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا حیا کی جان نکلی تھی فورا سے بیڈ سے کھڑی ہو گئ ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولی

” آپ کو خدا کا واسطہ ہے۔۔۔۔ اللہ کے لئے ہے ۔۔۔ مجھے معاف کر دیں ۔۔۔مجھے جانے دیں ۔۔۔ ” حیا بے بسی سے بولی تھی

” تم چاہتی ہو میں تمہیں جانے دوں ” ارتضی کا ہاتھ اپنی شرٹ کے تیسرے بٹن پر جا کر رکا تھا

” جی ” وہ اثبات سے سر ہلانے لگی چہرہ آنسوں سے تر بتر تھا ۔۔ چہرے پر صرف خوف

“سب کے سامنے گواہی دو کہ تم نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ہے ” ارتضی کی بات پر وہ کچھ پل اسے دیکھنے لگی

“میں کہہ بھی دوں تو کوئی یقین نہیں کرے گا ۔۔ سب یہی سمجھے گے کہ مجھے زبردستی مجبور کیا گیا ہے ایسی گواہی کے لئے ” حیا کی بات سچ تھی لیکن ارتضی کا اشتعال بڑھا تھا

“کیوں کیا تم نے میرے ساتھ یہ سب ۔۔۔ زندگی کو الجھا کے رکھ دیا برباد کر دیا ہے مجھے ۔۔۔ منہ سے پھوٹوں اب کیوں کیا یہ سب ” وہ غصے سے پوچھ رہا تھا

“شرط” حیا دھیرے سے نظریں جھکا کر بی تھی ارتضی کادماغ کھول کے رہ گیا تھا ایک شرط کے لئے برباد کر کے رکھ دیا تھا اس نے اسے ۔۔۔

” جی چاہتا ہے اٹھا کر پھنک دوں تمہیں کہیں یا گلا ہی دبا دوں تمہارا ” وہ غصے اپنے ہاتھوں کو اسکے گلے کے قریب لیکر کیا لیکن حیا دو قدم پیچھے ہٹی تھی

” تمہارے لئے کسی کی عزت کو برباد کرنا اتنا آسان ہے جتنا ٹرتھ اینڈ ڈیر کے لئے سکے کو گھومانا؟ ۔۔۔ میں تمہیں کبھی اپنے پاس نہیں رکھوں گا ۔۔ بس یہ خبر ذرا ختم ہو تو طلاق دے دوں گا تمہیں ” وہ غصے اور بے بسی سے بولا تھا

“ہاں تو دیدیں میں کون سا رہنا چاہتی ہوں یہاں ۔۔۔ پچھتا رہی بہت ۔۔۔ جتنا آپ کو اس خبر کو ختم ہونے کا انتظار ہے اس سے کئ ذیادہ مجھے ہے ۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی یہاں ۔۔۔ نا ہی وہ سب کھاسکتی ہوں جو آپ کھاتے ہیں ۔۔ مجھے اپنی لائف اور لگژریز کی عادت ہے ۔۔۔ میں وہ چھوڑ نہیں سکتی “روتے روتے وہ بہت کچھ کہہ گئ تھی ۔۔۔ شاید اس وقت جو اس سے ہوا وہ شرط کے چکر میں بنا سوچے سمجھے کر بیٹھی تھی اور اب پچھتا رہی تھی۔۔۔

” نکلو یہاں سے باہر ورنہ منہ توڑ دوں گا تمہارا ” ارتضی کو اس پر اور بھی غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔ امیر اور سر پھری لڑکی تھی ۔۔۔ ایک شرط کی خاطر دوسرے کی عزت کی دھجیاں اڑا گئ تھی ۔۔۔

حیا شاید ایسے ہی کسی جمعلے کی منتظر تھی فورا سے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ ارتضی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔

******…..

ہارون رشید بنا آواز کے رو رہے تھے ۔۔۔ آنسوں پر اختیار کھو بیٹھے تھے ۔۔ کافی دیر تک جا انکی بتائی ہوئی نظروں کو دیکھتا رہا ایک پل بھی انہوں نے جازم کی طرف نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ رو تو وہ بھی رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ اذیت تھی کے بے چین کیے ہوئے تھی پھر لیکن ہارون الرشید کی بیماری کا سوچ کر خود کو سنبھالنے لگا چوبیس سال کی عمر میں پہلی بار اس نے اپنے آنسوں کو ضبط کیا تھا ۔۔۔ پہلی بار خود کو خود سنبھالا تھا پہلی بار ایک ایسے صدمے کو سہنے کی کوشش کی تھی جو اس کے لئے نا قابل فہم اور نا قابل برداشت تھا

پہلے ہارون الرشید کے بہتے آنسوں کو صاف کیا ۔۔ یہ بھی پہلی بار ہوا تھاورنہ ہمیشہ جازم کے بہتے آنسوں ہارون الرشید نے ہی پونچے تھے۔۔۔ پھر انکے ماتھے کو چوما اسکے بعد دائیں رخسار کو

” کوئی بات نہیں بابا ۔۔۔ خون کا ایک ہونا ہی سب کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ آپ ہی میرے بابا ہیں نظریں کیوں چرا رہیں ہیں مجھ سے ۔۔۔ آپ نے کوئی غلط یا گناہ تھوڑی کیا ہے ۔۔۔ ایک لاوارث کو سہارا ہی تو دیا ہے ۔۔۔ ایک یتم بنا ماں باپ کے بچے کو اولاد کی طرح پالا ہے” جازم نے اسکی سبکی دور کرنی چاہی ۔۔۔

” بنا ماں باپ کے نہیں ہو تم ۔۔۔ ماں ہے تمہاری ” یہ ایک نیا انکشاف تھا ماں تھی تو کیوں اپنے لخت جگر کو کسی اور سونپ دیا ۔۔۔

” آپ جانتے ہیں میری ماں کو ۔۔۔ یتم خانے سے ایڈوپ نہیں کیا آپ نے مجھے ؟ “جازم کے لئے ہر بات امتحان تھی

“نہیں ۔۔۔ تمہاری ماں نے تمہیں مجھے دیا تھا ۔۔۔ کہ میں تمہیں لے جاؤں ۔۔۔ تمہاری پرورش کروں اور تمہیں کبھی نا بتاؤں کہ تمہاری ماں کون ہے ” ہارون الرشید نے دھیمے لہجے میں بتانا شروع کیا

“بابا ایسا کیوں کیا انہوں نے ۔۔۔۔ ساری زندگی میں ماں کی گود کو ترسا ہوں صبر بس اس لئے کرتا رہا کہ ماں ہے ہی نہیں ۔۔۔ لیکن وہ زندہ ہے تو مجھے کیوں اپنی محبت سے محروم کیا ۔۔۔ مجھے بتائیں کہاں ہیں وہ ۔۔۔ ایک بار ہی صحیح لیکن جا کر پوچھوں ان سے ایسی کیا مجبوری تھی کہ

مجھے اپنی محبت بھی نہیں دے سکتی تھیں وہ” جازم طیش میں بول رہا تھا

” جہاں وہ ہے وہاں تم نہیں جا سکتے ” ہارون الرشید نے نظریں چرائیں۔ تھیں

“کیوں نہیں جا سکتا ۔۔۔ میں ضرور جاؤں کس شہر میں ہیں وہ “

“اسی شہر میں ہے ۔۔۔۔ “ہارون الرشید کی بات پر وہ متحیر ہوا تھا

“وہ اسی شہر میں لیکن کبھی مجھ سے ملنے نہیں آئیں کیا دوسری شادی کر لی ہے انہوں نے ۔۔۔ انکا میاں منع کرتا تھا کہ وہ مجھ سے نا ملیں “

” نہیں بیٹا شادی ہی تو نہیں ہوتی ہے وہاں کسی لڑکی کی جہان وہ رہتی ہے ۔۔۔۔ ٫

“کیوں پہلیاں بھجوا رہے ہیں بابا بتائیں کہاں ہیں وہ”

“بازار حسن کے کوٹھے پر ” ہارون الرشید کے لفظوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا جازم کو بن موت ہی مار ڈالا تھا ۔۔۔ کنگ سا رہ گیا تھا ۔۔۔ کس کا بیٹا تھا ایک۔۔۔۔ ایک طوائف کا ۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ وہ ایسی کسی عورت کا بیٹا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اس نے تو کسی شریف لڑکی کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ ایسی جگہ سے تو کوسوں دور رہتا تھا ۔۔۔ نفرت کرتا تھا ایسے مردوں سے جو وہاں جاتے ہیں ۔۔۔ وہاں رہنے والیوں عورتوں کو برا سمجھتا تھا ۔۔۔۔

“جازم چل یار ۔۔ بڑا حسن جمال ہوتا ہے وہاں ۔۔۔ بڑی دلکش ادائیں ہیں انکی تو جو عورت کے نام سے اتنا گھبراتا ہے ۔۔۔۔ دو چار ملاقاتوں میں سدھر جائے گا “کالج کے دوستوں نے ایک بار اسے بھی اپنے ساتھ لے بازار حسن لے جانا چاہا

” وہاں جاؤں گا میں ۔۔۔ پتہ بھی کس کا بیٹا ہوں میں میرے بابا نے آج تک نا محرم عورت کی طرف آنکھ نہیں اٹھائی ۔۔۔۔ ساری زندگی میری ماں کے نام پر گزار دی دوسری عورت تک کو اپنی زندگی میں گوارا نہیں کیا ۔۔۔ایسے پاکیزہ شخص کا خون دوڑتا ہے میرے رگوں میں ۔۔۔ اور تمہیں لگتا کہ ایسی غلیظ جگہ جاؤں گا ۔۔۔۔۔ بہت نیک ماں باپ کی اولاد ہوں میں ۔۔۔ میرے اندر پاکیزہ خون شامل ہے ۔۔۔ میں گھر جا رہا ہوں ” اپنے کہے الفاظ جوش نے بڑے مان کے ساتھ کبھی کہے تھے ۔۔۔ اب بے معنی سے لگے تھے ۔۔۔۔ کون سی پاکیزگی شامل تھی اس کے خون میں ایک گند کی پیداوار تھا وہ ہوس کی پیدائش تھا ۔۔۔۔ دل کے ساتھ ساتھ روح تک کانپ گئ تھی جازم کی ۔۔۔ آنسوں تو پہلے بھی نہیں تھمے تھے اس لیکن یہ اذیت پچھلی ساری تکلیفوں کو مات دے گئ تھی ۔۔۔۔ کوئی سوال نہیں بچا تھا جو وہ ہارون رشید سے پوچھتا چپ چاپ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

بے جان سا ہو کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ گھنگروں کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی تھی ۔۔۔۔ تیز تیز کسی عورت کے ناچتے پیر آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگے ایک شرابی گرتا لڑکھڑاتا شخص ایک ہنستی دل لبھاتی عورت کے سہارے سے ایک کمرے میں داخل ہوا اور زور سے دروازہ بند ہوا ۔۔۔ جازم یک دم چونکا تھا دل کی دھڑکنیں منتشر ہی گئیں تھیں ۔۔۔

آنکھوں سے ٹپ ٹپ کئ آنسوں گرے تھے ۔۔۔ ایساتصوت ہی جان لے رہا تھا اسکی

کسی کی عیاشی اور ہوس کا نا جائز نتجہ ہوں میں ۔۔۔۔ ایک ایسی عورت جس کے پاس۔ بے شمار مرد اپنی صرف ہوس پوری کرنے آتے ہیں اسکی کے وجود کا حصہ ہوں ۔۔۔ مجھے تو

ناچ گانوں سے نفرت رہی ہے پھر کیسے ۔۔۔ کیسے میں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ میرے اللہ ۔۔۔ یہ کیسا امتحان ہے ۔۔۔ یہ کیسی آزمائش ہے ۔۔۔۔ میرا وجود ایک گناہ کا نتجہ ہے ۔۔۔ افف دماغ کی طنابیں کھنچیں تھیں۔۔۔۔۔ اپنے سر کی کنپٹیوں کو اسنے انگلیوں کے پوروں سے دبایا تھا ۔۔۔

جازم کو لگا زنا نا کر کے بھی وہ زانی ہو ۔۔۔

” اس سے بہتر کے میں پیدا ہوتے ہی مر چکا ہوتا ۔۔۔

زندگی بہت بڑی سزا لگنے لگی تھی

*****…….

تانیہ اسکے پیروں میں۔ بیٹھی رونے لگی تھی ۔۔ لیکن وہ چپ تھا ۔۔۔ کچھ نہیں کہہ رہا تھا اپنی کیفیت ہی کچھ کم اذیت میں نا تھی جو اس کے رونے کی وجہ پوچھتا

” مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ جانتی ہوں آپ کو مجھ سے کراہیت محسوس ہوتی ہو گئ ۔۔۔۔

تبھی آپ مجھ دور ہونے لگے ہیں ۔۔۔۔ ” ایک سچ تھا جو تانیہ کے منہ سے وہ سن رہا تھا ۔۔۔ یہ بات وہ اپنے لب سے کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا لیکن سچ یہی تھا انسان تھا ۔۔۔۔ فرشتہ تو نہیں تھا ۔۔۔ آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگلی جاتی اتنا کچھ جان کر وہ چاہتا تھا کہ تانیہ نظروں سے ہی کسی خواب کی طرح اوجھل ہو جائے ۔۔۔۔۔ سب کچھ جان کر اسے اپنانا نا ممکنات میں سے تھا ۔۔۔

“بس مجھے طلاق مت دیجیے گا ۔۔۔ اس کے علاؤہ کچھ نہیں چاہتی آپ سے ۔۔۔۔ ایک کونے میں پڑی رہوں گی فالتوں سامان کی طرح ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ لیکن باہر اکیلی کہاں جاؤں گئ ۔۔۔ کتوں اور بھیڑیوں سے بدتر لوگ ہیں باہر نوچ کھائیں گئے مجھے ” وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی اور وہ پتھر کی مورت بنا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ پھر بہت بڑا جگرا کر لے کانپتے ہاتھوں سے اسے دونوں بازوں سے پکڑا

“اٹھو۔ یہاں سے ” یہ وہ پہلا جمعلہ تھا جو اس نے دودن بعد منہ سے ادا کیا تھا ۔۔۔۔

وہ اٹھ گئ “

“ادھر بیٹھو۔ میرے پاس ” وہ روتے ہوئے اسکے برابر میں بیٹھ گئ

” روں مت نہیں چھوڑو گا تمہیں ۔۔۔ نا طلاق دوں گا ۔۔۔ بس ۔۔ انسان ہو یار ۔۔۔ کچھ چیزوں میں بے اختیار ہوں ۔۔۔۔۔ مرد خود چاہے دس جگہ بھی منہ مارتا ہو بیوی اسے پاکیزہ ہی چاہیے ہوتی ہے۔۔۔۔۔

میں نے کبھی ان مردوں کی طرح بننے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔ لیکن کچھ چیزیں فطری بھی ہوتی ہیں ۔۔۔۔ مرد کی غیرت ماں بہن بیوی بیٹی کے لئے ہمیشہ چوکنی رہتی ہے ۔۔۔۔ بڑے زاویوں سے وہ دیکھتا ہے ان لوگوں کو جو اسکی محرم کو دیکھ رہے ہوں ۔۔۔۔ اسکی نظروں کو فورا سے پہچان جاتا ہے اگر ذرا سا ثور کا بال کسی کی آنکھ دکھے تو آگ لگا جاتا ہے اسے ۔۔۔ پھر چاہے بازار ہو یا گلی یا کوئی دوست رشتے دار ۔۔۔۔ مرد اپنی آنکھوں سے ہی ایسے شخص کو بتا دیتا کہ میں ہوں اس محرم اس کا محافظ اسکی ایک گھوری سامنے والے کو اسکی اوقات یاد دلا دیتی ہے ۔۔۔۔ یہ بات فطری ہے سب مردوں میں یکساں پائی جاتی ہے لیکن صرف اپنی محرم تک ۔۔۔۔ جیسے کچھ باتیں عورت میں فطری ہیں ۔۔۔

اپنے اوپر اٹھنے والی ہر غلط نظر اسے انڈیکیٹ کر دیتی ہے کہ دیکھنے والا اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہا ۔۔۔۔ وہ اگر چھوٹی بچی بھی ہو تب بھی اسکی نظروں سے گھبرا جاتی ہے رونے لگتی ہے ۔۔ یہ اور بات ہے سمجھنے اور بتانے سے قاصر ہوتی ہے ۔۔۔ اور کچھ غلطی ماؤں کی یہ ہوتی ہے کہ انہیں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں انجان رکھتی ہیں بس ساس بہو کے روز کےجھگڑوں میں نظر انداز بچوں کی تربیت ہو جاتی ہے ہوش تب آتی ہے جب بہت کچھ برباد ہو چکا ہوتا ہے ۔۔۔۔ میں تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔ لیکن یہ ضرور سمجھ سکتا ہوں کہ تم شروع سے اسے ماحول کی نہیں ہو ۔۔۔ کسی اچھے گھر کی لگتی ہو ۔۔۔ جسے زبردستی استعمال کیا گیا ہو ۔۔۔۔۔ تم سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں میں ۔۔۔۔ اور اب شاید سننے کاحوصلہ بھی ۔۔۔۔ دو دن سے اپنے اندر وہی حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن تم پر زبردستی نہیں ہے تانیہ ۔۔۔ جب چاہے بتا دینا ۔۔۔ لیکن اب ہم تب ایک دوسرے کو اپنائے گئے جب ہم ہر بات ایک دوسرے کو ایمانداری سے بتا چکے ہوں ۔۔۔ یہ مت سمجھنا کہ سچ سن کر چھوڑ دوں گا تمہیں ۔۔۔ تحفظ دینے کے بعد دوبارہ جہنم میں پھنک دوں گا؟ ۔۔۔ لیکن مجھے وقت چاہیے اور حقیقت سے آشنائی بھی ۔۔۔۔” تانیہ ایک ٹک اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو واقع فرشتہ نہیں تھی لیکن اپنی صفت میں فرشتوں جیسا ہی تھا ۔۔۔۔

*******…….

رات کو عبداالباسط نے عشا کی نماز پڑھنے سے پہلے آرء سے بھی نماز کا کہا

“آرء وضو کیجیے اور عشا پڑھیے ۔۔۔ اس کے بعد دو نفل شکرانے کے بھی ۔۔۔ نئ زندگی کی شروعات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے “عبداالباسط کی بات وہ خاموشی سے سن رہی تھی

” عبداالباسط ۔۔۔ مجھے نماز ناہی آتی ۔۔۔ سیکھی تو تھی بچپن میں لیکن پڑھی ناہی ۔۔۔۔ اب تو بھول چکی ہوں “

“آپ اٹھیں وضو۔ کریں ۔۔۔ میرے پیچھے پڑھتی جائے گا “

“مجھے وضو بھی ناہی آتا ” آرء نے نظریں جھکائی۔ تھیں

“اچھا آئیں ۔میرے ساتھ میں سیکھاتا ہوں کیسے وضو کرتے ہیں ۔۔۔ وضو کا طریقہ عبداالباسط نے اسے بتایا تھا نماز بھی اس نے اسکے پیچھے ہی پڑھی تھی ۔۔۔۔ اسکی تلاوت سن کر آرء کی کیفیت کچھ عجیب ہوئی تھی اسکی آواز میں جیسے درد تھا ۔۔۔۔ اور لفظ بھی لفظ اللہ تھے کلام پاک خود دل کو۔ چھو جانے کی تاثیر رکھتا ہے ۔۔۔۔ پھر پڑھنے والے قاری کی آواز میں درد ہو تو متوجہ ہونا لازمی سی بات ہے روح کی غذا اللہ ذکر اور قرآن کی تلاوت میں ہے ۔۔۔۔ نماز کے بعد آرء کو لگا کہ روح کا کچھ بوجھ سرکا ہے ۔۔۔۔ یابے چین زندگی میں ذرا سا قرار ملا ہے ۔۔۔۔

کچھ تو ہوا ہے ۔۔۔ لیکن سمجھ میں آنے میں ابھی وقت در کار تھا ۔۔۔۔

صبح دونوں کے لئے ہی خوشگوار تھی ۔۔۔۔

فجر کے وقت عبداالباسط نے اسے جگایا نہیں تھا خود فجر پڑھ کر چائے بنائی ناشتہ کیا باقی کا ناشتہ اس کے لئے ڈھک دیا آرء کو پر سکون سوتے دیکھ کر ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی ۔۔۔

اسے صبح ہی صبح کام پر جانا تھا اس لئے اس کے جگنے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا اس لئے جانے سے پہلے اسکے قریب آ کر اسے لحاف ٹھیک سے اوڑایا ۔۔ ۔۔ اور چلا گیا ۔۔۔ آرء کی آنکھ دن چڑھے نو بجے کھلی تھی ۔۔۔ عبداالباسط کی جگہ خالی تھی ۔۔۔ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی واش روم بھی خالی تھا ۔۔۔ سامنے شلف پر ایک پلیٹ ڈھکی پڑی تھی ۔۔۔ اور کیتلی میں اسٹو پر ڈھکی رکھی ہوئی تھی اس نے ڈھکن ہٹا کر دیکھا تو ایک کپ چائے اس موجود تھی ۔۔۔ پلیٹ ہٹائی تو ایک پراٹھہ اور آملیٹ رکھا ہوا تھا ۔۔۔

“ارے یہ کیا بات ہوئی مجھے جگایا بھی نہیں ۔۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے میں بیوی اسکی صبح اسے میرے ہاتھ کا ناشتہ کر کے جانا چاہیے تھا ۔۔۔ ” دل کو افسوس سا لگا تھا ۔۔۔ پھر واش روم چلی گئ نہا دو کر ناشتہ کیا ۔۔۔ اسکے بعد کمرے کو صاف ستھرا کیا ۔۔۔ پھر دیکھنے لگی کہ شاید کچھ پکانے کے لئے چھوڑ گیا ہو ۔۔۔ لیکن کچھ نہیں تھا چھوٹی سی فریج کمرے میں موجود تھی لیکن دودھ کے علاؤہ صرف پھل تھے جو وہ رات کو اسکے لئے لایا تھا ۔۔۔۔ اپنے ہاتھ سے کاٹ کر اسے کھلائے بھی تھے

” عبداالباسط پہلی بار جب میں نے تمہارے پکڑے تھے ۔۔۔ تمہارے ہاتھوں پر زخم اور چھالے دیکھ رہی تھی اس وقت تمہارے ہاتھ لرز رہے تھے ۔۔۔۔ میں سمجھ نہیں پائی ایسا کیوں ہے اور جب تم نے مجھے چوڑیاں پہنائی تھی تب بھی تمہارے ہاتھ سرد تھے کپکپا رہے تھے ۔۔۔ مجھے لگا تم ڈر پوک سے ہو ۔۔۔

لیکن جب نکاح کے بعد میرا ہاتھ تھامے تم مجھے وہاں سے لیکر نکلے تب ایسا نہیں تھا ۔۔۔ بلکہ بڑی مضبوطی سے تم نے ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔ اور اب بھی ایسا نہیں ہے ۔۔۔ وہ کیوں “

“اس لئے آرء کیونکہ اسوقت آپ میرے لئے نا محرم تھیں ۔۔۔

اور نا محرم آگ ہوتی ہے ۔۔۔ آگ کو چھوتے ہوئے کسے ڈر نہیں لگتا ۔۔۔ مجھے تو بہت لگتا ہے ۔۔۔۔ اور اب آپ بیوی ہیں میری ۔۔۔۔ اس لئے گھبرانا کیسا۔۔۔ ایک بات میں بھی کہوں ؟ ” سیب کا آدھا ٹکڑا آرء کو کھلا کر باقی کا اس نے اپنے منہ میں ڈالا تھا ۔۔۔

“ہاں کہو ناں “

“آرء مجھے بہت اچھا لگے گا اگر آپ مجھے آپ کہیں گئیں تو !”

” وہ کیوں عبداالباسط۔۔۔۔۔ “

“اس لئے کہ کچھ تقاضے ادب کے بھی ہوتے ہیں ۔۔۔ جو اگر اپنائے جائیں تو اچھے لگتے ہیں “

“میں نے کہا سیکھا ہے یہ سب تم جانتے تو ہو “

” ٹھیک مت کہیں میں نے تو صرف اپنی خواہش بتائی ہے ۔۔۔ آپ کو مجبور ہر گز نہیں کیا “

” ٹھیک ہے کوشش کر لوں گی ۔۔۔ کہہ گی۔ تمہیں آپ ۔۔۔ اگر تمہیں پسند ہے تو ” آرء فورا سے اپنے موقف سے ہٹ تھی ۔۔۔۔ مان گئ تھی ۔۔۔ دونوں بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔۔۔ اس لئے آرء نے اپنا سر اسکے کندھے پر رکھ دیا ۔۔۔۔ اور بازو کو اسکے گلے کا ہار بنایا تھا ۔۔۔ اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔

“عبداالباسط کیا وقت بہت آہستہ آہستہ نہیں گزر سکتا ۔۔۔ لمحے صدیوں پر محیط نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ یہ چاند کی دس تاریخ کئی سالوں بعد نہیں آ سکتی ۔۔۔ ” آرء کے لئے وہ چند گھنٹے حسین گزرے تھے جو بھی تک عبداالباسط کی سنگت میں گزرے تھے ۔۔۔ دل کا یہ عالم تھا کہ ساری عمر یونہی گزرے