Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 25
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 25
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
آرء وہ لیکر کچن میں آ کر کرسی گھسٹ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ اور وہ رقعہ اس بچی کو پکڑا دیا
” اسے پڑھ دو میرے شوہر کا خط ہے مجھے پڑھنا ناہی آتا ۔۔ کیا لکھا ہے اس ۔میں “اس بچی نے خط کھولا پڑھ کر سنانے لگی
“آرء آپ میری بیوی ہیں اور ہمیشہ رہیں گئیں ۔۔۔ میں ابا کو منانے کی کوشش کروں گا وہ مان گئے تو آپ کو لینے آ جاؤں گا ۔۔۔ اور اگر وہ نا مانے تو ۔۔۔ آپ کے ساتھ ہونے والی مزید زیادتیوں کا قصوروار خود کو ٹہراو گا کہ میں نے محافظ ہوتے ہوئے بھی آپکی حفاظت نہیں کی ۔۔۔ کاش کے میری محبت میں اتنا صدق آ جائے میرے سچے جذبے میرے رب کو پسند آ جائیں اور وہ ہر بری نظر اور ہر غیر محرم سے آپ کو بچائے رکھے ۔۔۔۔ ورنہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں جواب دے آرء نہیں عبداالباسط ہو گا ۔۔۔ میں اپنا پتہ لکھ کر دے رہا ہوں ۔۔۔ جب آپ مجھے خط لکھیں گئ میں آپ کے پاس آ جاؤں گا “
خط کے آخر میں ایک پتہ بھی لکھا تھا ۔۔۔ آرء وہ خط روز اس بچی سے پڑھواتی تھی ۔۔۔۔ اتنا کہ اسے خود کو ازبر یاد ہو چکا تھا ۔۔۔۔ خط کا ایک ایک حرف بھی اور گھر کا پتہ بھی ۔۔۔۔ اب وہ باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگی تھی رات کے سجدے طویل ہونے لگے تھے ۔۔۔۔ اسے وہاں رہتے مہینہ بھر گزرا تھا کہ جب پہلی بار کچن میں کام کرتے ہوئے بے دھیانی سے اس بیگم صاحبہ کا شوہر اندر داخل ہوا تھا پھر وہی کہانی شروع ہو گئ تھی ماضی کب پیچھا چھوڑتا ہے ۔۔۔ وہ شخص بھی کوٹھے کا گاہک تھا ۔۔۔ آرء کا متمنی ۔۔۔۔وہ آرء کو دیکھ چکا تھا لیکن آرء نے اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ ابھی بھی وہ جہان بیگم کے کوٹھے سے آیا تھا جہاں موت سی خاموشی تھی جہان بیگم کا کاروبار تو آرء سے ہی چمکتا تھا ۔۔۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا اس نے آرء کو ۔۔۔ عبداالباسط کو وہ روز کوسنے دیتی تھی ۔۔۔ وہ شخص وہیں سے پلٹ گیا ۔۔۔ اپنی بیوی سے پوچھنے لگا کہ کھانے کے لئے نئ نوکرانی کون ہے
جب آرء کا نام سنا تو دوسرے روز ہی جہان بیگم کو اپنے ساتھ لے آیا آرء کچن میں مصروف تھی ۔۔۔ جب جہان بیگم نے پیچھے سے اسکی چٹیا کھنچی تھی ۔۔۔۔
” کیوں ری چھوری کیا لگا تھا تجھے ۔۔۔۔ تو جہان بیگم سے بچ نکلے گی ۔۔۔۔ ” وہ کرخت لہجے سے بولی آتی درد سے کراہنے لگی۔۔۔ اپنی قسمت پر رونا آیا تھا ۔۔۔
” اماں چھوڑ میرے بال ۔۔۔۔ ” آرء نے اپنے بال چھڑوانے چاہے لیکن جہان بیگم اسے چٹیا سے پکڑے ہی باہر تک لیکر گئ تھی اسے گھر لا کر بہت مارا تھا اتنا مارا کہ چہرہ نیلو نیل کر دیا تھا ۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر باقی کی لڑکیوں کا خون خشک ہوا تھا کہ جب اپنی سگی بیٹی کے بھاگ جانے پر یہ حشر کیا ہے تو انکا تو شاید قتل ہی کر دے ۔۔۔۔ “
” کمینہ قرآن اٹھا کر لے کر گیا تھا کہ واپس بھیج دوں گا جھوٹا منافق کہیں کا اور تو بھی دھوکے باز نکلی “
” قرآن پاک اس نے اٹھایا تھا میں نے ناہی ۔۔۔ اور خبردار اماں جو تو نے اسے جھوٹا منافق کہا۔۔۔۔اس نے چاند کی دس سے پہلے مجھے بھیج دیا لیکن میں نے رستہ الگ کر لیا ۔۔۔ مجھے نہیں بننا اب وحشیا ۔۔۔ ” آرء روتے ہوئے بولی
” ” تو کا مولانی بنے گی ۔۔۔ چار دن اس حرام جادے کے ساتھ کیا سو لیا تیری جبان کھل گئی میرے سامنے ۔۔۔ ” ایک تھپڑ اسکے سر پر مار کر جہان بیگم نے کہا
” بہت ہو گیا خبردار اماں جو تو نے اسے گالی دی تو ۔۔۔۔۔ ایک اسی کے ساتھ تو حلال کا رشتہ ہے میرا ۔۔۔۔ ” آرء کا بے خوف لہجہ جہان بیگم کا پارہ چڑھا رہا تھا
” دیکھ آرء اتنا میرے سامنے اکڑے گی تو خون پی جاؤں گی تیرا ۔۔۔۔ پندرہ دن سے وہ فلم کا ڈیکٹر چکر لگا رہا ہے ۔۔۔ تیار رہنا شام کو ملنے آئے گا تجھ سے ۔۔۔ “جہان بیگم کی بات سن کر وہ چنگھار کر بولی
” منع کر دے اسے ۔۔۔ میں ناہی جاؤں اس کیمنے کے ساتھ ” لفظ ابھی آرء کے منہ سے ادا ہی ہوئے تھے جب جہان بیگم نے پھر سے اسے تھپڑ سے نوازہ تھا
” اگر دوبارہ ایسی اکڑ دیکھائی تو دن رات تیرے کمرے سے مرد ناہی نکلیں گئے ۔۔۔ یہ جو تجھ پر بیوی کا اور عجت کا بخار چڑھا ہے دو دن میں اتر جائے گا ” آرء بے بسی سے روئی تھی
ہزار اختلاف بے معنی تھے ۔۔۔۔ بغاوت کرنے والیوں کی سزا بڑی سخت ہوتی ہے ۔۔۔۔
وہ ڈاریکٹر شام کو آیا تھا لیکن آرء کے چہرے کو بگڑا دیکھ کر جہان بیگم کو گھورنے لگا
” منہ بگاڑنے کی کیا ضرورت تھی زخم ہی دینا تھا تو جسم دیتی ۔۔۔ ایک اس کا چہرہ ہی تو قیامت ڈھاتا ہے اسے بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے ” علی ہمزہ کوفت بھرے لہجے سے بولا تھا ۔۔۔
” بس غصے میں کیا پتہ چلتا ہے کہ کہاں لگ رہی ہے ” جہان بیگم نے لہجہ متوازن رکھ کر کہا
“اگلے ہفتے آؤں گا میں اور کل سے ایک استاد کو بھیجوں گا اس کے پاس وہ اسے صاف بولنا اور لکھنا سیکھائے گا ۔۔۔
لاکھوں لگانے ہیں میں نے فلم میں مجھے وہ فلم ہٹ چاہیے ” وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا چلا گیا اگلے روز ایک نوجوان نہایت شریف اوصاف کا مالک ان کے کوٹھے پر آیا تھا چہرے سے ناگواری صاف ظاہر تھی ۔۔۔۔ کہ جگہ اسے سخت نا پسند ہے
” کون ہے تو بابو ” نیلو نے اس سے پوچھا تھا
” مجھے علی ہمزہ نے بھیجا ہے ۔۔۔ کسی لڑکی کواردو پڑھنی اور لکھنی سیکھانی ہے “ہارون الرشید نے نظریں جھکائے کہا
” اچھا تو آرء کا استاد ہے تو ۔۔۔ بیٹھ ناں یہاں۔۔۔ میں بلاتی ہوں اسے ” نیلو اسے تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے چلی گئ ۔۔۔ نیلو کمرے میں آئی تو آرء مسلے پر بیٹھی دعا مانگ رہی سفید ڈوپٹے میں بس اس کا چاند جیسا چہرہ ہی دکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
” آرہ وہ آیا تیرا استاد تجھے اردو سیکھانے “
ارء نے جائے نماز سائیڈ پر رکھا اور باہر آ گئ ۔۔۔ نہایت شریف سا نوجوان تھا نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔
اردو کا قاعدہ آرء نے دس دن میں از بر یاد کیا تھا ۔۔۔ بڑی دلجمی سے وہ ذیادہ تر لکھنے پر توجہ دیتی تھی بولنے پر اتنی نہیں دیتی تھی ۔۔
” میں دس دن سے آپ کو کہہ رہا ہوں “ناہی” نہیں ہوتا “نہیں “ہوتا ہے لیکن آپ ہیں کہ ذرا سی کوشش ہی نہیں کرتی ہیں ٹھیک بولنے کی “
” تجھے سمجھ آگیا نا ۔۔۔ کہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہےتو آرء کا مغج (مغز) کاہے کھا رہے ہو ” آرء نے گھورتے ہوئے کہا
“پھر وہی “مغج” ۔۔۔ بہن میری “مغج” نہیں ہوتا “مغز “ہوتا ہے ” ہارون رشید دس دن میں ہی زچ کی آخری حد پر آ چکا تھا
” کیا کہا تو نے “آرء نے مسکرا اسکی طرف دیکھا غصہ جیسے ختم ہوا تھا
“مغز۔۔۔ مغز ۔۔ نا کے ۔۔مغج” وہ چڑ کر بولا
” ناہی رے یہ ناہی ۔۔۔ تو نے مجھے بہن کہا ” آرء نے لفظ بہن جما کر کہا
” ہاں تو اور کیا کہو ” ہارون رشید متذبذب سا ہوا تھا
” پہلی بار کسی نے آرء کو بہن کہا ہے ۔۔ چل اسی خوشی آرء تجھے اپنے ہاتھ کی چائے پلاتی ہے ” وہ چٹکی بجا کر کھڑی ہوئی تھی
” کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹھیے ادھر ۔۔۔آپ بس اپنی بول چال کچھ درست کر لیں میرے لئے یہی بہت بڑا احسان ہو گا۔۔۔۔ لکھنے میں آپ ماسٹر ہیں فورا سے لکھ لیتی ہیں پڑھ بھی لیتی ہیں لیکن اپنی زبان کو درست کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتی حالانکہ مجھے یہاں سب سے زیادہ آپکی زبان درست کرانے کے لئے بھیجا جاتا ہے ۔۔۔ کیا جواب دونگا میں علی ہمزہ کو “
” کہہ دینا لڑکی باؤلی ہے ۔۔۔ اپنی اصل چھوڑنے کو تیار ناہی ہے ۔۔۔ تجھے پتہ اگر میں نے اپنی جبان ٹھیک کر لی تو وہ کمینہ دبئ لے جائے گا مجھے فلم بنوائے گا مجھ سے مجھے ناہی کرنا یہ کام ۔۔ اب تو نے بہن کہا ہے تو جلدی جلدی مجھے پڑھنا لکھنا سیکھا دے ۔۔ بس اتنا سیکھا دے کے میں خط لکھ سکوں ” ہارون الرشید اس لڑکی کو سمجھ نہیں پا رہا تھا
” تو آپ یہ سب نہیں کرنا چاہتیں ؟” ہارون الرشید متحیر بھی تھا
” ناہی ۔۔۔ مجھے نفرت ہے ان سب چیزوں سے ۔۔۔ پر اماں کو انکار کرتی ہوں تو بہت مارتی ہے
مجھے ” وہ ڈرتے ڈرتے بول رہی تھی
“اوہ توخط کس کو لکھنا چاہتی ہیں “
” تیرے جیجا جی کو ” یہ کہہ وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی ہارون الرشید بوکھلاہٹ کا شکار ہوا تھا یک دم ہی وہ بے تکلف ہوئی تھی
” تو نے بہن کہا نا مجھے تو میرا شوہر تیرا جیجا ہی لگا نا کاہے گھبرا رہا ہے ۔۔۔ بڑا نیک ہے میرا میاں ۔۔۔ ” عبداالباسط کا خیال آتے ہی آرء کا چہرہ گل نار کی طرح کھلا تھا
” آپ شادی شدہ ہیں ؟ ” ہارون الرشید نے گھبراتے ہوئے پوچھا پھر صحن میں دائیں۔ بائیں محتاط نظروں سے دیکھا کہ اگر کسی نے دیکھ لیا میں اس لڑکی کو پڑھانے کے۔ بجائے اس سے باتوں میں مصروف ہوں تو علی ہمزہ سے شکایت نا لگا دے
” ہاں ۔۔۔پتہ میرا نکاح ہوا ہے عبداالباسط سے ۔۔۔۔مولوی کا بیٹا ہے وہ بڑا نیک ہے ۔۔۔ جب مجھے دیکھتا تھا تو لگتا تھا ۔۔۔ پاک ہوں میں ۔۔۔ اپنا آپ معتبر سا لگتا تھا اس کے ساتھ گزارے دن مجھے لگتا ہے میں زندگی کو جیا ہے ۔۔۔ ورنہ ہم جیسی لڑکیوں کہاں زندگی کو جیتی ہیں ہمہیں تو ہماری زندگی سے اپنے لئے ایک دن بھی ناہی ملتا ۔۔۔۔ میں خوش نصیب ہوں پورے بیس دن ملے ہیں مجھے ۔۔۔۔ ” آرء کی آنکھوں سے رم جھم برسات بہی تھی
” تو اس نے چھوڑ کیوں دیا آ پ کو ساتھ دینا چاہیے اسے “۔ہارون الرشید کو دکھ سا ہوا تھا
“ناہی رے اس نے کہاں چھوڑا ۔۔۔ بس مجھے چھوڑنا پڑا اسے ۔۔۔ کہاں تو ہے تجھ سے مولوی کا بیٹا تھا وہ ۔۔۔۔ میں تو اس کے ابا کو دیکھ کر ہی سمجھ گئ تھی کہ اب اس کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی حالانکہ ایک جماعت ناہی پڑھی میں کوری ہوں بلکل ان پڑھ گوار ۔۔۔ ” بڑے درد اور افسردگی سے وہ یہ سب کہہ کر اس نے آنسوں پونچے پھر ہارون الرشید کو دیکھنے لگی جو نظریں جھکائے سن رہا تھا
” تو تو پڑھا لکھا ہے بابو ۔۔۔ اتناتو سمجھ سکتا ہے مولوی کا بیٹا تھا وہ تو پھر ۔۔۔ میرا کیسے ہو سکتا تھا ۔۔۔” سسکیاں اب آرء کے اختیار سے باہر ہوئیں تھیں وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئ ہارون الرشید دل پر ایک بوجھ لئے اپنے گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔ بیوی آٹھ سال بعد امید سے ہوئی تھی ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ تجویز کیا تھا۔۔۔۔ دوائیں اور کھائے پینے کا بھی خاص خیال رکھنے کا کہا تھا وہ ایک اسکول ٹیچر تھا۔۔۔۔ اسکول کے بعد شام کو ٹیوشن پڑھاتا تھا ۔۔۔ بس دوپہر کا کچھ وقت فراغت کا ملتا تھا ۔۔۔ انہی ٹیوشنز میں علی ہمزہ کے بچے بھی پڑھتے تھے ۔۔۔وہسں سے تنخواہ اچھی مل رہی تھی لیکن اس میں میاں بیوی کو آرام سے گزر بسر کر رہے تھے لیکن اب یہ نیا خرچہ ہارون رشید کی بساط سے باہر ہوا تھا اس لئے اس نے علی ہمزہ سے کہاکہ اگر کوئی اچھا سا گھر ہو تو ٹیوشن لگوا دے اس کی بیوی کی دوائیاں اور علاج ذرا مہنگا ہے علی ہمزہ نے آرء کو صرف اردو پڑھانے کی فیس اسے اتنی بتا دی کہ وہ انکار نہیں کر پایا پھر ضرورت بھی ایسی تھی کہ انکار کی گنجائش نہیں تھی جب پتہ چلا کہ بازارحسن جانا ہے تو متذبذب سا ہوا تھا۔۔۔
اور اب پریشان تھا ۔۔۔ وہاں رہنے والی ایسی لڑکی سے مل کر ا رہا تھا جو وہاں رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ مگر رہ رہی تھی ایک پاکیزہ زندگی کی۔ خواہشمند تھی لیکن جی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔
******……..
“لٹ گئ ۔۔ برباد ہو گئ میں ۔۔۔ کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہی اسی بات کا مجھے ڈر تھا ۔۔۔ میرا قصور کیا تھا ۔۔۔ ” حیا روتے ہوئے بولی رہی تھی
” کوئی تصویر وائرل نہیں ہوئی تمہاری یہ تم نے حمیرا کو بھیجیں تھیں اسی سے مجھے ملیں نہیں “ارتضی کی بات کر حیا نے نافہمی انداز سے سے دیکھا تھا
” میں کیوں حمیرا کو بھجنے لگی میں نے تو اپنے موبائل سے ڈلیٹ میں تھیں ۔۔۔ ” وہ پھر سے رونے لگی تھی
” پھر حمیرا کے پاس کیسے آئیں ” ارتضی نے سوال کیا
” وائرل ہی ہوئی ہوں گی ۔۔۔۔ میں اسے چھوڑو گی نہیں اس نے برباد کر دیا مجھے ۔۔۔ ۔میرا قصور کیا تھا ؟۔۔۔ حیا غصے اور کرب کے ملے جلے جذبات سے بول رہی تھی
” کون تھاوہ “
“آذر ہمدانی “انجانہ سا نام تھا یہ ارتضی کے لئے
” کون آذر”
“وہی جو اس دن میرے پیچھے پڑا تھا میں نے آپ سے مدد مانگی تھی جب میری گاڑی خراب ہوئی تھی ۔۔۔ آپ نے ۔مارا بھی تھا اسے ” حیا کے یاد دلانے پر اسے یاد آیا تھا یہ واقع ارتضی کے گمان ۔میں بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
” وہ آوارہ سے لڑکے جو اس دن تمہارا پیچھا کر رہے تھے ۔۔۔۔ وہ تمہیں کالج میں کہاں مل گئے ؟”ارتضی کو اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا
“فائنل ائیر میں پڑھتا ہے وہ اسکا باپ بہت بڑی سیاسی پارٹی کا ممبر ہے بہت نامی گرامی ہے ۔۔۔۔۔ آپ نے اسے مارا تھا ۔اسے۔۔۔ وہ تب سے اسی تاک میں تھا کہ شاید ۔۔۔ بس میں اور آپ ہی انجان تھے ہم بھول گئے لیکن وہ نہیں بھولا تھا ۔۔۔ بہت برا شخص ہے وہ کوئی اسے پکڑ نہیں سکتاکوئی اس پر کیس نہیں کر سکتا یہاں تک کے میرا باپ بھی نہیں ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
“حیا مجھے پوری بات بتاؤں ۔۔۔ کیا ہوا تھا ” حیا کی الجھی الجھی باتیں ارتضی کی سمجھ سے باہر تھیں حیا نے اپنے آنسوں صاف کیے پھر بتانا شروع کیا
” جیسے آپ وہ واقع بھول چکے تھے ۔میں بھی بھلا چکی تھی لیکن اسکی شکل نہیں بھولی تھی کچھ کچھ یاد تھی ۔۔۔ دوسری بار میں نے اسے اپنے ہی سرکل میں ہونے والی ایک پارٹی میں دیکھا جو اسی کے باپ نے آرگنائز کرائی تھی آغا جی بھی اسی پارٹی کے ایک ادنی سے ممبر ہیں لیکن خواہش انکی بھی یہی تھی کہ وہ ان سے تعلقات بڑھاسکیں تا کہ سیاست میں آغا جی کے پیر مضبوط ہو سکیں ۔۔۔۔ میں آغاجی اور ممی کے ساتھ ہی گئ تھی ۔۔۔ آغا جی کے ساتھ ہی کھڑی تھی ۔۔۔۔ بہت سے لوگ وہاں ڈانس کر رہے تھے ۔۔۔ یہ سب معمولی سی بات سمجھی جاتی ہے ایسی محفلوں میں ٹھیک ہے میں اسی سرکل کا حصہ ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نا میں نے کبھی شراب پی ہے نا کسی لڑکے ساتھ ڈانس کیا ہے ۔۔۔ بلکہ میری دوستی زیادہ تر لڑکیوں سے ہی رہی ہے ۔۔۔ مجھے زندگی انجوائے کرنے کا شوق تھا اسقسم کی عیاشیاں کرنے کا ہر گز نہیں ۔۔۔۔
مجھے اس وقت بہت غصہ آیا جب وہ لڑکا بڑی بے باکی سے مجھے آغا جی کے سامنے میرا ہاتھ پکڑے ۔مجھے گارڈن میں لے گیا جہاں دھیمے سروں پر سب ڈانس کر رہے تھے ۔۔۔اور میرے ساتھ زبردستی ڈانس کرنے کی کوشش کرنے لگا مجھے اسکا ساتھ برا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ میں جتنا اس سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی وہ اتنا ہی میرے قریب ہو رہا تھا ۔۔۔ اسے دیکھ مجھے لگا تھا کہ میں اسے پہلے دیکھ چکی ہوں لیکن میں ٹھیک سے پہچان نہیں پائی تھی ۔۔۔۔ پھر میں نے مدد طلب نظروں سے آغا جی کی طرف دیکھا لیکن وہ غصے کے بجائے مسکرا رہے تھے ۔۔۔ مجھے اور بھی غصہ آنے لگا آغا جی اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے یہ سب نہیں پسند پھر کیوں میرے پاس نہیں آئے مجھے اس لڑکے سے چھڑوانے ؟۔۔
” ہٹو پیچھے مجھے نہیں کرنا تمہارے ساتھ ڈانس” میں نے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرنا چاہا
” کیسے چھوڑ دوں تمہیں اس دن تو بھاگ نکلی تھی مجھ سے ۔۔۔ اب دیکھتا ہوں کیسے بچتی ہو ” وہ ترش لہجے سے مجھ سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ میں نے جب اسے پہچان لیا تو غصے سے اسے خود سے جدا کرنے لگی لیکن وہ مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں تھا اس لئے میں نے۔۔۔۔ میں نےاس کے منہ پر تھپڑ مار دیا ۔۔۔۔ تھپڑ پڑتے ہی اس نے مجھے چھوڑ دیا ۔۔لیکن۔ یہ تماشہ آس پاس کے کئ لوگ دیکھ چکے تھے وہ لڑکا غصے سے پاگل سا ہو گیا ۔۔۔
” اسٹاپ دا ۔میوزک ” آذر نے چلا کر کہا سب کچھ پل بھر میں بند ہوا تھا جو لوگ اپنے آپ میں مگن تھے وہ سب بھی اب ہماری طرف متوجہ تھے پھر وہ میرے پاس آیا میں بھی غصے سے بھری پڑی تھی
” ہمت کیسے ہوئی تمہاری مجھے تھپڑ مارنے کی “
“
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے زبردستی ڈانس کرنے کی آئندہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی تو ایسا ہی تھپڑ اور مارو گی “میں غصے سے بولی تھی آغا جی فورا سے میرے پاس آئے تھے ممی بھی میرے پاس پہنچ گئیں آذر کے والد بھی اشتعال میں آغا جی پر برس پڑے
“سلیمان تمہاری بیٹی نے انسلٹ کی ہے ہماری ۔۔۔۔ ” وہ بھبک کر بولے
” میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ معذرت خواہ ہوں بچی ہے ان چیزوں کی ابھی عادی نہیں ہے ۔۔۔۔ ” اپنے آغا جی کے منہ سے سن کر مجھے اور بھی طیش آ گیا ان کو کھری کھری سنانے کے بجائے آغا جی ان سے معذرت کر رہے تھے ۔۔۔۔
” سلیمان اس لڑکی کو بولو معافی مانگے میرے بیٹے سے ۔۔۔ سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ” آذر کے والد آنکھیں نکالے غصے سے بولے آغا جی میرے پاس آ گئے
” حیا یہ کیا بدتمیزی تھی چلو معافی مانگو آذر سے “
” میں معافی مانگوں اس سے ۔۔۔۔ اس ۔۔ اس گھٹیا انسان سے ۔۔۔۔ آپ کو پتہ چند دن پہلے میرے گاڑی خراب ہو گی تھی تو تب اسی نے میرے ساتھ بدتمیزی کرنی چاہی تھی وہ تو اچھا ہوا سر وہاں پہنچ گئے ۔۔۔ اچھا منہ توڑا تھا اس کا ” حیا کا سچ اس لڑکے کو اشتعال میں لے آیا تھا
” او یو شٹ اپ ہو ڈیمٹ دیکھ لوں گا تمہیں بھی اور تمہارے اس سر کو بھی ۔۔۔۔ اس تھپڑ کا جواب تو تم کو ایسا دوں گا ۔۔۔۔۔ دنیا دیکھے گی ” آذر نے غصے سے بھری لال آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔۔۔
” نہیں۔ بیٹا دیکھوں غصہ مت کرو حیا تم سے معافی مانگے ابھی “آغا جی نا جانے کیوں اسکے آگے بچھے جا رہے تھے ۔۔۔ میں بھلا اس سے معافی کیوں مانگتی
” او نو ۔۔۔ نو ۔معافی ۔۔۔ معافی کا تو کوئی لفظ ہی نہیں کے آذر ہمدانی کی ڈکشنری میں ۔۔۔ ” آغا جی کو یہ سب کہنے کے بعد وہ میرے سامنے کھڑا ہو گیا
” حیا ۔۔۔۔ اب دیکھوں کیسے میں تمہیں ساری دنیا کے سامنے بے حیا کرتا ہوں ” سب کے سامنے اس نے مجھے کھلی دھمکی دی ۔۔۔ کسی نے اسے کچھ نہیں کہا حالانکہ وہاں بہت سے کمشنرز اور پولیس آفیسر بھی شامل تھے ۔۔۔۔ بہت سے وکلا اور جج بھی لیکن سب کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔۔ آغا جی نے الٹا مجھے وہاں سب کے سامنے بہت ڈانٹا ۔۔۔ اور میں نے آغا جی سے بات چیت چھوڑ دی ۔۔۔ میں پہلے غصے میں تھی اس لئے کلاس کے لیکچرز ٹھیک سے سن اور سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ آپ نے پنش کیا تو ۔۔۔ مجھے اور بھی غصہ آنے لگا نا جانے میں نے غصے میں آپ کو کیا کیا کہہ دیا ۔۔۔۔ پھر آپکی شکایت آغا جی سے بھی کر دی ۔۔۔۔ آپ ایک عام سے ٹیچر تھے اس لئے میرے آغا جی نے مجھے یہ ڈانٹنے کے بجائے کہ ۔میں غلط ہوں الٹا آپ کو۔ برا بھلا کہا ۔۔۔لیکن جب آپ نے سب کے سامنے مجھ سے معافی مانگی مجھے خود پر افسوس سا ہونے لگاپوری کلاس نے مجھ سے بات چیت بند کر دی ۔۔۔
میں اکیلی کینٹین میں بیٹی تھی جب ایک لڑکی نے مجھ سے کہا مجھے آپ کلاس میں بلا رہے ہیں ۔۔۔ پہلے تو مجھے حیرت ہوئی ۔۔۔ لیکن پھر میں نے سوچا آپ سے سودی کہہ دوں گی کیونکہ غلطی میں نے کی تھی ۔۔۔ لیکن جیسے ہی میں اس کلاس میں داخل ہوئی کسی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ اس کے بعد میرے منہ پر پھٹی باندھ دی ۔۔۔
وہاں آذر اور اس کے چند آوارہ دوست بھی تھے اور وہ کیمرہ مین بھی جس نے اس تماشہ لگایا تھا ۔۔۔ پہلے اس آذر نے میرے منہ تھپڑ مارا اور اسکے بعد ” حیا رونے لگی تھی ۔۔۔
” اس نے اپنے دوستوں کے سامنے میرے ساتھ ریپ کیا اسکی ویڈیو بنائی ۔۔۔ پھر مجھ سے کہا کہ میں آپ کے پاس جاؤں ۔۔۔ اس چیز کا الزام آپ پر لگاؤں ورنہ وہ میری ویڈیو وائرل کر دے گا ۔۔۔۔۔ اس نے سب سے پہلے یہ پکس اور ویڈیو میرے نمبر ہر سینٹ کیں ۔۔۔ پھر کہنے لگا کہ اگر میں نے آپ کو بدنام نا کیا تو وہ میری شرمناک ویڈیو وائرل کر دے گا ۔۔۔
میں آپ کے پاس آئی تھی آپ کو بتانا چاہتی تھی لیکن اس سے پہلے وہ کیمرہ مین وہاں پہنچ گیا ۔۔۔ بات پھیل چکی تھی سب جمع ہو چکے تھے آذر سامنے کھڑا تماشہ دیکھ رہا تھا میرا جی چاہا اس کا قتل کر دوں بار بار وہ اپنا موبائل مجھے دیکھا رہا تھا اس لئے میں نے آپ کا نام لیا ۔۔۔۔ لیکن آپ بے قصور تھے میں آپ پر کیس نہیں کروانا چاہتی تھی ۔۔۔ آپ کو بچانے کے لئے میں نے آپ نے نکاح کیا تھا ۔۔۔۔ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا جس میں آپ کو بچا سکتی ۔۔۔۔ ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
“یہ سب تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا “
” آپ کیا کر لیتے ۔۔۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا ان لوگوں کا ایک ۔۔۔ ایک بال بھی بانکا نہیں کر سکتے ہم ان کا ۔۔۔ اپنی رسوائی ہے ۔۔۔۔ عزت بھی اس نے خراب کی اور اب ویڈیو بھی وائرل کر دی ۔۔ میں نے تو اپنے موبائل سے سب ڈلیٹ کر دیا تھا ۔۔۔۔
” موبائل کہاں ہے تمہارا “
” آپ کے پرانے گھر میں “
“اب میں نے آپ کو سب کچھ سچ سچ بتایا ہے کچھ جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔ پلیز مجھے اس اذیت سے آذاد کروا دیں میں اس شخص کے گناہ کو اپنے وجود میں نہیں پال سکتی ۔۔۔ ایک ایک لمحہ میرے لئے اذیت سے بھرا ہوا ہے۔۔۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے میری تکلیف کا ” وہ رو رہی تھی بے بسی سے کرب سے ۔۔۔ پہلی بار ارتضی نے ہمدری سے
اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔
” تم چپ ہو جاؤں ۔۔۔ حمیرا اس وقت مری میں ہی ہے میں کل ملو گا اس سے اور یہاں بھی لے آؤں گا ۔۔۔ “
” مجھے کسی سے نہیں ملنا ۔۔۔ “
“حیا اس وقت تمہیں آرام کی ضرورت سو جاؤں ۔۔۔
ہم صبح بات کریں گئے ” ارتضی کا لہجہ نرم تھا
” نہیں مجھے اب کوئی بات نہیں کرنی ۔۔ آپ صبح مجھے ہاسپٹل لے کر جائیں گئے ۔۔۔ مجھے اس اذیت سے رہائی دلوائی۔ گئے ۔۔ آئی پرومس میں آپ کی زندگی میں دوبارہ کبھی نہیں آؤں گی ۔۔۔ بے شک مجھے ڈائیواز دے دیجیے گا ۔۔۔ “ارتضی اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔ حیا روتے روتے سو گئ تھی۔۔۔
لیکن ارتضی رات بھر جاگتا رہا تھا ۔۔۔۔ ظالم ہر بار اپناوار چل کر نکل جاتا ہے ۔۔۔ ہر بار بچ جاتا ہے ۔۔۔ شاید حیا نے وہ ویڈیو دیکھی ہی نہیں ہے ۔۔۔ اس میں اس نے اپنے جرم کا خود اعتراف کیا ہے ۔۔۔۔ اگر یہ بچہ دنیا میں آ جائے تو ۔۔۔ پھر یہ آذر ہمدانی نہیں بچ سکتا ۔۔۔۔
ہر بار صبر ہی کیوں کیا جائے ۔۔۔ ظلم اور ذیاتی کو کیوں سہا جائے ۔۔۔ ان جیسوں کو منہ توڑ جواب کیوں نا دیا جائے ۔۔۔۔
بس ایک حیا اس بات راضی ہو جائے تو ۔۔۔ میں چھوڑو گا نہیں اس آذر ہمدانی کو ناکوں چنے چبوانےپر مجبور کر دوں گا ” ارتضی کا خون کھول رہا تھا ۔۔۔
*****…….
جازم نے جہاں آرء کے کہنے پر نکاح تو کر لیا تھا لیکن رخصتی نہیں کروائی تھی ۔۔۔
ساری حقیقت جہاں آراء سے جان کر وہ عبداالباسط کے پاس چلا گیا تھا ۔۔ اور پورے چار ماہ بعد لوٹا تھا لیکن واپس آتے ہی ماں۔ نے کہا ۔۔۔ ایک مجبور لڑکی ہے ۔۔۔ اسکے ساتھ کسی نے ذیادتی کی ہے اب یہاں آ گئ ہے ۔۔۔ اگر وہ اسے سہارا دیدے تو وہ اس گناہوں کے دلدل سے بچ جائے گی ۔۔۔۔
جازم نے کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔۔ نا تانیہ کے بارے کچھ پوچھا تھا
” امی اگر وہ آپ کو پسند ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ بے شک ابھی نکاح پڑھوا دیں لیکن رخصت کروا کے ابھی نہیں لے جاؤں گا ۔۔۔ بس ایک ضروری کام کے وہ کر لوں پھر لے جاؤں گا “۔جازم کی فرمابرداری پر کچھ دیر وہ بیٹے کو دیکھتی رہ گئ تھی پھر کچھ توقف کے بعد بولی
” ٹھیک ہے ۔مجھے کوئی جلدی نہیں بس وہ تیرے نکاح میں ہو گی تو اسے کوئی کچھ ناہی کہے گا ۔۔۔۔ وہ امانت ہو گی تیری ۔۔
نکاح کے بعد جہاں آراء نے بہت کہا کہ ایک بار وہ ثوبیہ سے مل لے بات کر لے دیکھ ہی لے لیکن جازم نہیں مانا تھا
” آپ کو پسند ہے بس کافی ہے ۔۔۔ وہ میرے لئے ہمیشہ قابل عزت اور میری پوری محبت کی حقدار ہو گی ۔۔۔ آپ کو کبھی مجھ سے شکایت نہیں ہو گی
بیڈ سے ٹیک لگائے وہ تانیہ کو سوتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بچے کی شاپنگ کرتے ہوئے کس کو دیکھا تھا اس نے ۔۔۔ پہلی بار سوتے ہوئے ہوئے اس نے کسی شمس کا نام لیا تھا ۔۔۔ ورنہ شادی کے شروع شروع میں ڈر کر اٹھتے ہی وہ دانیال کو پکارتی تھی ۔۔۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب اسے صرف جازم کا ہی خیال رہتا تھا ۔۔۔۔۔۔ بھول گئ تھی وہ اپنی گزشتہ زندگی کو ۔۔۔۔ جازم کی مسلسل توجہ اور محبت کا نتجہ تھا کہ ایک دن اس نے اپنی اور دانیال کی ہر بات اسے بتا دی تھی تانیہ کی جتنی کہانی اسے یاد تھی وہ سب اسے سنا چکی تھی ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے وہ کیا تھی ۔۔۔ وہ اب بھی انجان تھی لیکن اب جازم کے ساتھ خوش تھی ۔۔۔ اس کا ہر کام وہ خود کرتی تھی ۔۔۔ اسے کیا پسند ہے کیا نا پسند ہے ۔۔۔ اسے ہر چیز کا پتہ تھا ۔۔۔ ایک سال گزرنے کے بعد جب وہ تانیہ کو چیک اپ کے لئے لیکر گیا تو ڈاکٹر کی بات پر اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خوشخری بھی اس کی زندگی میں آ سکتی تھی ورنہ ڈاکٹرز کو امید نہیں تھی کہ جتنے تانیہ کے آبوشن ہو چکے ہیں وہ شاید ماں بن ہی نا پائے ۔۔۔ جازم بھی دل کو سمجھ چکا تھا کہ زندگی شاید اس نعمت سے محروم کی گزرے گی ۔۔۔لیکن تانیہ کو کبھی یہ احساس۔ بھی نہیں ہونے دیا تھا کہ اس خواہش کو بھی اس نے دل میں دبا دیا ہے
لیکن جب ڈاکٹر نے بتایا وہ بے یقین تھا ۔۔۔ تانیہ اس سے زیادہ خوش تھی ڈاکٹر نے رپورٹس اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
” لیکن آپ کو بہت خیال رکھنا پڑے گا ان کا ۔۔۔ ٹوٹلی بیڈ ریسٹ کروانا پڑے گا ۔۔۔۔۔
” آپ بیفکر رہیں میں اس کا پورا خیال رکھوں گا ۔۔۔”جازم کی مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
“اسکے بعد سے اس نے تانیہ سے پوچھ پوچھ کر کھانا بنانا سیکھا تھا ۔۔۔۔۔ پہلی بار چکن قورمہ بنا کر جب وہ کمرے میں کھانے کی ٹرے لیکر آیا تو پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔ کھانا تانیہ کے سامنے رکھ کر اسکے سامنے بیٹھ گیا
” افف مجھے نہیں پتہ تھا کہ کھانا بنا اتنا مشکل کام ہے ۔۔۔ توبہ حال دیکھوں کیا ہو گیا ہے میرا ۔۔۔ تم کیسے اتنا کچھ کر لیتی تھی تانی ” جازم نے اسے یوں دیکھا جیسے بہت مشکل کام تھا جو روز کرتی تھی ۔۔۔۔ اپنے بگڑے حلیے کی طرف اسے متوجہ کر کے بول رہا تھا
تانیہ نے اسکے چہرے پر بہنے والا پسینہ اپنے ڈوپٹے سے بڑی لگاوٹ سے صاف کیا تھا
” مجھے عادت ہے جازم ۔۔۔ اس لئے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا ۔۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتا ایک کھانا بنانے سے کیا ہو گا ۔۔۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ ڈاکٹر تو خواہمخواہ کا شور کرتے ہیں ۔۔۔ “
” مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔ تم صرف آرام کرو۔ اپنی میڈسن ٹائم سے لوں گی اور میرے ہاتھ کے بد مزہ کھانے کھاؤں گی ” جازم نے نوالہ تانیہ کے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا تانیہ جیسے جیسے چبا رہی تھی بڑی حیرت سے جازم کو دیکھ رہی تھی
” جازم بہت مزے کا بنا ہے” جازم نے تانیہ کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا
” سیریسلی دل تو نہیں رکھ رہی نا میرا ۔۔۔ “جازم نے بے یقنی سے پوچھا ۔۔ لیکن جب اپنا بنایا ہوا قورمہ کھا کر یکھا تو ذرا سا فرق نہیں تھا تانیہ اور اسکے ہاتھ کے ٹیسٹ میں پھر اس نے خوشی سے کہا
“واہ ۔۔۔کیا بات ہے میری ۔۔۔ پتہ ہے تمہیں بابا مجھے نکما بولتے تھے ۔۔۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو کبھی یقین نا کرتے کے کھانا میں نے بنایا ہے ۔۔۔ ” وہ ساتھ ساتھ تانیہ کو کھانا کھلا رہا تھا ساتھ ساتھ ہارون الرشید کی باتیں بتا رہا تھا
” تو کھانا آپ کے بابا بناتے تھے “
” بلکل ۔۔۔ تانی تم اگر انکے ہاتھ کی دال کھا لیتی نا تو اس قورمے کو بھول جاتی ۔۔۔ اسی طرح بریانی ۔۔۔ اچار گوشت ۔۔۔ بھنڈی کی سبزی سب ہی لاجواب بناتے تھے ۔۔۔ “
” اور دھنیہ گوشت وہ کیسا بناتے تھے “تانیہ نے اپنی پسند کی ڈش کاپوچھا تھا
” وہ تو امی نے ایک بار بنایا تھا اور کھلایابھی اپنے ہاتھ سے تھا ۔۔۔ آج تک اس کا ذائقہ مجھے بھولا نہیں ہے ” جازم کو جہاں آرء کی یاد آئی تھی ۔۔
” لیکن وہ تو آپ کے بچپن ہی انتقال کر گئیں تھیں پھر ؟ تانیہ یہی جانتی تھی کہ ہارون الرشید کی بیوی ہی جازم کہ ماں ہے ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔ تم یہ بتاؤں دھنیہ گوشت کیوں پوچھا تم نے ۔۔۔ تمہارا دل چاہ رہا ہے کھانے کو ” جازم نے موضوع بدلہ تھا جہاں آراء کی بات کو اب بھی چھپا کر رکھا تھا آج بھی دنیا کے سامنے جازم کی پہچان ہارون رشید ہی تھا عبداالباسط نہیں
