Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 5

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 5

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

حیا متذبذب سی ہوئی تھی

“سر آپ کیوں ملنا چاہتے ہیں آغا جی سے “

“حیا آپ اپنے والد کو بلائیے کیونکہ ان سے ملے بغیر میں نہیں جاوں گا ۔۔۔۔ “ارتضی کے دو ٹوک انداز پر حیا کا معصومیت بھرا ڈرامہ شروع ہو چکا تھا

“مجھے بھلا کیااعتراض ہوسکتا ہے لیکن وہ ہارٹ پیشنٹ ہیں دواؤں کے زیر ثر سو رہے ہیں ۔۔۔ یوں اچانک انہیں اٹھانا مناسب تو نہیں لیکن۔ ۔۔۔۔ چلیں کوئی بات آپ کو ملنا ہے ۔۔۔ اٹس او کے “حیا کی ڈرامے بازی پھر سے شروع تھی چہرے پر زمانے بھر کی فکرمندی لائے وہ یوں بول رہی تھی جیسے واقع اس کے آغا جی اس مرض میں مبتلہ ہیں ۔۔۔۔

“نہیں رہنے دیں حیا آپ اندر جائیں آپکے والد سے میں پھر کبھی بات کر لوں گا ۔۔۔ “ارتضی نے خود ہی منع کر دیا اتنی رات کو وہ ایک ہارٹ پیشنٹ کو تو ڈسٹرب کرنے سے رہا تھا ۔۔۔ حیا پر سکون ہو گئ تھی اندھیرے میں چلایا گیا تیر فکس نشانے پر لگا تھا

حیا نے دروازہ بجایا تو چوکیدار نے سے دیکھ کر دروازہ کھول دیا ۔۔۔ جیسے ہی حیا گھر کے اندر گئ ارتضی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔ گاڑی اسٹاٹ کی اور آگے بڑھا دی

“بابا کون تھی یہ لڑکی “

“اسٹوڈنٹ ہی میری “

“مجھے تو کچھ کھسکی ہوئی لگتی۔ ہیں یہ ۔۔۔ شادی ہال میں یہی تھیں نا جو بنا بلائے آگئیں تھیں “رومان کو حیا کچھ خاص اچھی نہیں لگی تھی

“ہاں امیر لوگوں کے چونچلے ہیں بیٹا ۔۔۔۔ شرطیں لگانا اور الٹی سیدھی حرکتیں کرنا ” ارتضی نے مدافعانہ انداز سے کہا رومان نے تعجب سے ابرو اچکائے تھے ۔۔۔۔

******……

صبح کلاس میں حیا بینچ پر بیٹھی اقراء اور باقی اپنے گروپ کی لڑکیوں کو اپنی کارستانی بہت ڈرامائی انداز سے بتا رہی تھی جیسے کسی فلم کا سین ہو ۔۔۔ سب ہی بڑی دلچسپی سے سن رہیں تھیں جیسے جو کچھ ہوا کسی ڈرامے کاسین ہو سوائے حمیرا کے پوراواقع سن کر سب حیا کو یوں داد دے رہے تھے جیسے کیا خوب کارنامہ انجام دیا ہو

” حیا تم نے یہ سوچا ہے کہ اگر سر رات کو تمہاری مدد کو نا پہنچتے تو کیا ہوتا ۔۔۔۔ وہ لڑکے کیا کر سکتے تھے تمہارے ساتھ ۔۔۔ ” حمیرا کو افسوس کے ساتھ ساتھ حیا پر غصہ بھی آ رہاتھا اتنے سنگین مسلے کو وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی

” ہاں تو سر نا آتے تو کوئی اور لڑکا ہیرو بن کر آ جاتا ۔۔۔ ہائے کاش میرا ارسل ہی پہنچ جاتا ۔۔۔ کیا رومنٹک سین ہوتا اسوقت ۔۔۔ “حیا اب بھی غیر سنجیدہ تھی

” جانے کب سدھروں گی تم “حمیرا یہ کہہ اپنی سیٹ پر بیٹھ گئ ۔۔۔

“کبھی بھی نہیں “حیا نے اترا کر کہا

*****…….

۔

“ثوبیہ شام کو تیار رہنا کچھ لوگ تمہیں دیکھنے آ رہے ہیں ۔۔۔ ” ثوبیہ تو ماں کی بات سن کر حیران ہوئی تھی

“ا۔۔اماں ۔۔۔ ک۔۔ کون آ رہا ہے شام کو ٫” ثوبیہ کی آنکھیں پھیلیں تھیں

“آ رہے ہیں تمہارے ابا کے کچھ جاننے والے ۔۔۔ لڑکے کی اپنی کراینے کی تین دوکانیں ہیں ۔۔۔ گھر بھی اپنا ہے ۔۔۔ بس میری تودعا ہے یہی بات جم جائے ۔۔۔ “ماں خوشی سے کہتی کوئی باہر چلی گئ مگر ثوبیہ کاسانس ابھی سے سینے میں گھٹنے لگا تھا ۔۔۔

شام کو وہ سادگی میں ہی ان کے سامنے آئی تھی تا کہ وہ ان لوگوں کو پسند نا آ سکے ۔۔۔ لیکن سادگی میں بھی وہ پیاری لگتی تھی انہیں دیکھتے ہی ثوبیہ پسند آ گئ تھی ۔۔۔۔ لڑکے کو اسکے والد اور بھائی اچھے سے جانتے تھے ۔۔۔۔ اس لئے دو دن میں ہی لڑکے کے گھر والے ثوبیہ کو منگنی کی انگوٹھی پہنا گئے تھے۔۔۔۔ یہ خبر ۔میٹھائی کے ساتھ شمس تک پہنچی تھی ۔۔۔ منی چپ تھی کیونکہ بھائی رازداں تھی لیکن اسکی والدہ خوشی سے بتارہیں تھیں شمس کا یہ حال تھا کہ جیسے دنیا کو جلا ڈالے گا ۔۔۔ میٹھائی کی بڑھی ہوئی پلیٹ اس نے زور سے ماں کے ہاتھ سے پلٹی تھی ۔۔۔ اسٹیل کی پیٹ دور جا گری تھی ساری میٹھائی صحن میں بکھر گئ تھی ۔۔۔ منی بھی کانپ کر رہ گئ تھی اور ماں حیرت کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہو گئیں کہ بیٹھے بیٹھائے بیٹے کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ کچھ بھی کہے بنا شمس اپنے کمرے

میں چلا گیا ۔۔۔۔ دروازہ اس زور سے بند کیا اس کی آواز سے باقی کے دروازے بھی کھڑکھڑا گئے ۔۔۔۔

منی بری طرح سہمی تھی دوسری طرف ثوبیہ کا رو رو کے برا حال تھا ۔۔۔ ایک پل کو آنسوں نہیں تھم رہے تھے دو دن سے کالج بھی نہیں جا رہی تھی ۔۔۔۔

ماں باپ یہ سمجھ رہے تھے کہ اپنے گھر چھوڑ جانے کا غم ہے ۔۔۔۔ یہ نہیں معلوم تھا کہ سوگ کسی اور بات کا منایا جارہا ہے ۔۔۔۔

تیسرے دن وہ سوجی ہوئی آنکھوں سے کالج جانے کو تیار ہو رہی تھی ارادہ کالج کے بہانے شمس سے ملنے کا تھا ۔۔۔ یہ نہیں پتہ تھا کہ شمس پاگلوں کی طرح تین دن سے اس کے انتظار میں جلے پاؤں کی بلی بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ جیسے ہی وہ بس اسٹاپ پر پہنچی شمس نے اس کا ہاتھ تھاما اور ایک ٹیکسی کے پاس لے گیا

“بیٹھوں ثوبی “ٹیکسی کا پچھلا دروازہ کھول کر اس نے نہایت غضب ناک لہجے سے کہا

“شمس “وہ حد پریشان تھی پہلے ہی ڈپریس تھی اس پر شمس کا غصہ دیکھ کر سہمی تھی ۔۔۔۔

“میں نے کہا ثوبی اندر ۔۔۔۔ بیٹھوں ” وہ اتنے غصے میں تھا کہ ثوبیہ کچھ نہیں بولی اور گاڑی میں بیٹھ گئ شمس اس کے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔ گاڑی کسی گھر کے سامنے جا کر رکی تھی ۔۔۔۔

“اترو نیچے “شمس کا لہجہ ہنوز تھا ۔۔۔۔

ثوبیہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ سے لایا کہاں ہے ۔۔۔ ٹیکسی کو پیسے دے کر وہ بھیج چکا تھا ۔۔۔

دروازے پر تالا تھا شمس نے تالا کھولا اور ثوبیہ کو اندر جانے کااشارہ کیا وہ چپ چاپ اندر چلی گئ شمس بھی اندر داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ بھی کہتا ۔۔۔ ثوبیہ اسکے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔

” شمس میں مر جاؤں گی تمہارے بغیر ۔۔۔ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ ” شمس کا سارا غصہ جانے لگا تھا۔۔۔۔ وہ سمجھا تھا کہ شاید ثوبیہ نے باپ اور بھائی کا فیصلہ قبول کر لیا ہے لیکن نہیں ۔۔۔ وہ اسی کی تھی ۔۔۔ ثوبیہ کی سسکیاں بند نہیں ہو رہیں تھیں ۔۔۔ شمس اسے اپنے حصار میں لئے کھڑا تھا لیکن ایک بار بھی اسے چپ نہیں کروایا ۔۔۔

“ثوبیہ کو ہوش اس وقت آیا جب اسکی گرفت ثوبیہ پر مضبوط ہونی شروع ہوئی تھی ۔۔۔ وہ یک دم سے پیچھے کو ہٹ تھی ۔۔۔ اپنے بے ساختہ سے سر زرد ہونے والی حرکت پر کچھ شرمسار بھی ہوئی تھی لیکن مقابل کی آنکھوں اور انداز میں ایسا کوئی افسوس نہیں تھا ۔۔۔ بس وافتگی ہی وافتگی تھی ۔۔۔۔۔ ثوبیہ نے خالی صحن اور مکان کو دیکھا تو کچھ خوف سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔ کہاں لایا تھاوہ اسے ۔۔۔

“شمس ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ کون سی جگہ ہے ” ثوبیہ اس وقت وہاں اسکے ساتھ اکیلی تھی ۔۔۔۔۔

” یہاں کوئی ڈر نہیں ہے ثوبی خالی مکان ہے میرے دوست کا ہے ۔۔۔۔ یہاں ہم آرام سے بات کر سکتے ہیں ۔۔۔

“لیکن شمس “

” کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے بس اب وقت نہیں ہے ہمارے پاس ” شمس اس کا ہاتھ پکڑے اسے سامنے رکھی ٹوٹی سی چارپائی پر لے گیا ۔۔۔ وہاں بیٹھا کر خود بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا

“دیکھوں ثوبی ۔۔۔ میں تم سے صاف بات کروں گا ۔۔۔ میں نے اپنے مالک سے کہہ دیا کہ لاہور کے گیراج کی ذمہ داری وہ مجھے سونپ دے ۔۔۔ اس لئے چند دن میں ہمیں نکلنا پڑے گا ۔۔۔ لیکن میرے پاس اس وقت پیسے بلکل نہیں ہیں ۔۔۔ امی کو پندرہ دن کا خرچہ دینے کے بعد میں خالی ہاتھ ہوں کچھ نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔ “

” میرے پاس کچھ کیش تو ہے شمس “ثوبیہ نے اپنے آنسوں پونچتے ہوئے کہا

“کتنے پیسے ہیں تمہارے پاس ” شمس نے عجلت سے پوچھا

” یہی کوئی پانچ چھ ہزار ” ثوبیہ کے منہ سے اتنی سی رقم کا سن کر وہ مایوس ہوا تھا

“اس سے کیا ہو گا ثوبیہ ۔۔۔ ایسا کروں کچھ زیور اپنے ساتھ رکھ لینا ۔۔۔ وہ تمہاری ماں نے تمہیں ہی دینا تھا تمہارے ہی کام آ جائے تو کیا برا ہے “شمس کی باتوں سے ثوبیہ کے اندر خوف سا پیدا ہوا تھا

” شمس مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ یہ سب ٹھیک ۔۔۔۔ نہیں ہے ۔۔۔۔ اگر کسی کو شک ہو گیا تو ہم “

“کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ بس تم اتوار کی رات کو چھت پر آ جانا ہم گھر کی پچھلی جانب سے نکلیں گئے ۔۔۔ وہ گلی سنسان رہتی ہے ۔۔۔ بس وہیں سے لاہور کی بس پکڑ کر سیدھا لاہور۔۔۔۔وہاں پہنچتے ہی کوٹ میرج کریں گئے پھر میں اپنے مالک سے گھر لیتے ہی امی اور منی کو بھی لے آؤں گا ۔۔۔ لیکن ظاہر ہے چند دن تو ہمہیں ہوٹل میں رہنا پڑے گا اس لئے تم سے پیسوں کا کہہ رہا ہوں ورنہ مجھے ضرورت نہیں ہے تمہاری کسی چیز کی ۔۔۔ ” ثوبیہ کے آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے دل اندر سے خوفزدہ پرندے کی مانند پھڑ پھڑا رہا تھا ۔۔۔۔

” دیکھوں ثوبیہ بس چند مہینوں کی بات ہے جب تمہارے گھر والوں کا غصہ ختم ہو جائے گا تو ہم معافی مانگ لیں گئے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ “

ثوبیہ شمس کی باتوں پر اثبات میں سر تو ہلا رہی تھی لیکن خوفزدہ تھی ایسا کرنے کا سوچ کر بھی روح فنا ہو رہی تھی جسم میں کپکپاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ ایک طرف محبت وفا ۔۔۔ چاہنے والا محبوب۔۔۔۔ دل کی خواہش ۔۔۔ دوسری طرف باپ بھائی کی عزت ۔۔۔۔ دل کی موت امنگوں کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹ دینا ۔۔۔ اور ایسے شخص کی ہمراہی جس کی وہ متمنی ہی نہیں تھی ۔۔۔ کیا کرے کیا نا کرے وہ سوج بوجھ کھو رہی تھی ۔۔۔۔ رورہی تھی ۔۔۔ عقل سوچنے سے قاصر تھی ۔۔۔ دل وسوسوں میں گھرا ہوا تھا ۔۔۔ آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔۔۔ شمس کی بات کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن خوف سے جان بھی ہوا ہو رہی تھی ۔۔۔

“شم ۔۔۔۔شمس مجھے ۔۔۔۔ مجھے گھٹن ہو رہی ہے ۔۔۔ یہاں سے چلو مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔ “آنسوں کا گولا تھا جو گلے میں جا پھنسا تھا ۔۔۔۔۔

“چلتے ہیں ثوبی کیا جلدی ہے تمہیں ۔۔۔ تم یہاں بیٹھوں میں باہر جوس لاتا ہوں تمہارے لئے ” شمس اٹھنے لگا تو ثوبیہ بھی ساتھ ہی کھڑی ہو گئ

“ن۔نن ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ مجھے پیاس نہیں ہے بس چلو یہاں سے ۔۔۔ ” جس قدر وہ بد حواس تھی ۔۔ شمس نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا

“دیکھوں ثوبیہ زیادہ مت سوچوں میرا یقین کروں ۔۔۔۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ دیکھوں یہ نا ہو کہ میں تمہارا انتظار کرتا رہ جاؤں اور تم نا آؤں ۔۔۔ ” شمس اس سے اقرار چاہ رہا تھا تا کہ عین وقت پر وہ گھبرا کر پیچھے نا ہٹ جائے ثوبیہ کچھ نہیں بولی بس اپنے ڈوپٹے سے چہرے پر آنے والا پسینہ پونچنے لگی ۔۔۔

” چلو شمس یہاں سے ” اسے بسوہاں سے نکلنے کی جلدی تھی

“ثوبیہ پہلے مجھ سے وعدہ کرو۔ کہ تم پیچھے نہیں ہٹوں گی ۔۔۔ اگر تم اتوار کو میرے ساتھ نہیں گئ تو یاد رکھنا پیر کی صبح میرے مرنے خبر ملے گی تمہیں اور میری موت کی ذمہ دار تم ہوگئ ۔۔ تمیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا میں۔۔ اس لئے پیچھے ہٹنے کا سوچنا بھی مت ” شمس اسکی ڈری سہمی آنکھوں میں اپنی غضب ناک نظریں گاڑھے بول رہا تھا ۔۔۔۔

” میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ آ جاؤں گی ۔۔۔ لیکن ابھی یہاں سے چلو ” بار بار خالی صحن اور گھر اسے خوفزدہ کر رہا تھا ۔۔۔

“ہاں چل رہے ہیں ” شمس نے اس کے آنسوں پونچتے ہوئے کہا

ثوبیہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی شمس سے پہلے گھر سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔

******……..

پچھلے پندرہ منٹ سے جازم کی ہائے وائے کی آوازیں آ رہیں تھیں وہ مار کھا رہا تھا ۔۔۔ مگر واپس لوٹ جانے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔

نور جہاں بیگم کا سخت پتھر دل اسکی بے قرار ہائے پر جانے کیوں تڑپا تھا ۔۔۔ کب سے صحن کے چکر کاٹ رہیں تھیں ۔۔۔

“بول کیا پھر آئے گا ادھر ” نیچے کھڑے مرد بار بار جازم سے یہی سوال کر رہے تھے

“ہاں آؤں گا ۔۔۔ ” یہی ایک جمعلہ تھا اس کے پاس

“کیسا ڈھیٹ کا بچہ ہے کم بخت مارا ۔۔۔سو جوتے کھا کر بھی اپنی بات پر قائم ہے ۔۔ نیگوڑ مارا ۔۔۔ لاگے ہے آج مر ہی جائے گا ان کے ہاتھوں ۔۔۔ ” نور جہاں کی بے چینی بڑھی تھی بار بار صحن پر لگی لکڑی کی جالی سے نیچے جھانکتی مکے ٹھڈے لاتیں وہ کھارہا تھا لیکن اپنی بات سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا ۔۔۔

“جانے کس مٹی کا بنا ہے ۔۔۔ کاہے ناہی چلا جاتا یہاں سے ۔۔۔ “نور جہاں اب واقع پریشان ہوئی تھی دل تھا کہ اسکی طرف کھینچا جا رہا تھا ۔۔۔ بے بس سی ہو کر نیچے چلی گئ مارنے والے چار مرد بھی مار مار کر ہانپ سے گئے تھے پسینے سے شرابور ہو چکے تھے ۔۔۔

” نوری بیگم یہ تو لگتا ہے آج جان سے جائے گا ۔۔۔

“چار مردوں میں سے ایک نے نور جہاں کو دیکھتے کہا

“ایسا کروں تم لوگ جاؤں مر ور گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گئے ۔۔۔۔۔ “نور جہاں نے ان مردوں کو بھیج دیا ۔۔۔ پھر زمین پر بے جان سے پڑے ہوئے جازم کے پاس آ گئیں نیچے جھک کر بیٹھ گئ ۔۔۔

“کاہے یہ سب کر رہا ببوا ۔۔۔ دیکھ میں ہار گئ تجھ سے ہاتھ جوڑتی ہوں ہے نور جہاں تیرے آگے چلا جا یہاں سے ۔۔۔ کیوں اس عمر میں میری مٹی خراب کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ لوگ باتیں بنائیں گئے ۔مجھ پر۔۔۔ دیکھ ۔۔۔جوان ہے تو ۔۔۔ شکل سے شریف بھی لگتا ہے پوری جندگانی ہے تیرے پاس ۔۔۔۔ یہ جگہ تیرے لائق ناہی ہے ۔۔۔ جا ۔۔۔ جا چلا جا یہاں سے کبھی ادھر نا آنا ۔۔۔ ” جازم با مشکل آنکھیں کھول کر نور جہاں کے چہرے پر فکر اور پریشانی کے آثار دیکھے لہجے میں اضطراری محسوس کی تو جیسے مردہ وجود میں جان آئی تھی ۔۔۔۔وہ کراہتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا ذرا سا ۔مسکرا کر نور جہاں کودیکھا ۔۔

” چلا جاؤں گا ۔۔۔ کبھی واپس نہیں آؤں گا یہاں ۔۔۔ آپ ٹھیک کہہ رہیں ہیں یہ جگہ میرے قابل نہیں ہے ۔۔۔ مجھے یہ جگہ پسند بھی نہیں ہے “

جازم کے منہ سے خون بہہ رہا تھا پورے کپڑے مٹی سے بھر چکے تھے ہاتھوں اور بازوں پر بھی زخم لگ چکے تھے نور جہاں کو اس پر ترس بھی آ رہا تھا

“جب بات مان لینی تھی تو کاہے اتنی مار کھائی تو نے کم بخت ۔۔۔ رک تیرے لئے ٹیکسی منگوا دیتی ہوں ۔۔۔ تجھے گھر تک پہنچا دے گئ ” نور جہاں بیگم نے کہا اس سے پہلے کہ وہ کسی سے ٹیکسی لانے کا کہتی جازم برجستہ بولا

” آپ کو ساتھ لیکر جاؤں گا ۔۔۔ پھر کبھی نہیں لوٹوں گا ادھر نا آپ کو یہاں واپس آنے دونگا ” نور جہاں کی حیرانگی قابل دید تھی ۔۔۔۔۔ وہی مرغی کی ایک ٹانگ

“ارے کمینے تجھے کون سی جبان سمجھ آئے گی ۔۔۔ کم بخت کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے تو۔۔۔ چھٹانک بھر کا تو ہے میرے سامنے۔۔۔۔۔ بد بخت مجھ سے آدھی عمر کا ہے تو شرم کاہے ناہی آئے ہے تجھے ۔۔۔ “نور جہاں اب بے بس ہوئی تھی اس کے سامنے

” تو پھر مجھے بچانے نیچے کیوں چلی آئیں اوپر بیٹھ کر میرے مرنے کا تماشہ شوق سے دیکھتیں ۔۔۔ کیا چیز تھی وہ نور جہاں بیگم جس نے یوں بے بس کر کے نیچے آنے پر مجبور کر دیا آپ کو۔۔۔ کبھی سوچا ہے ۔۔۔ ؟ جازم نور جہاں کی پریشان شکل دیکھ کر مسرور ہوا تھادکھتے بدن پر جیسے کسی نے مرھم رکھا تھا اتنی مار کھانے کے بعد بھی لگا جیسے تروتازہ ہو گیا ہے ۔۔۔ نور جہاں متذبذب ہوئی تھی ۔۔۔

“غلط سوچ رہا ہے تو ۔۔۔ اس عمر میں محبت کروں گی تجھ سے ۔۔۔ بس ہمدردی سی ہو گئ تھی دیکھ کیسے خون بہہ رہا تیرے منہ سے ” نور جہاں اسکی کم عقلی پر حراساں ہوئی تھی

” میں بہت محبت کرتا ہوں آپ سے ۔۔۔۔ اور آپ سے بھی محبت چاہتا ہوں ۔۔۔ ہمدردی نہیں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس نے پلٹ کر پیچھے کھڑے انہیں مردوں کو پکارا جو اپنی اپنی دوکانوں میں جا گھسے تھے

“آ جاؤں واپس تم لوگ اور پھر سے مارو مجھے۔۔۔۔ میں کہیں نہیں جا رہا ۔۔۔ اور اتنا مارو کہ یا میری جان نکل جائے یا نور جہاں بیگم کے دل سے میری ہمدردی ۔۔۔ شاید کے پھر دل میں کہیں محبت کا دیپ جل اٹھے ” جازم کی بات پر نور جہاں نے اپنا سر پکڑا تھا ۔۔۔ جازم کی نظریں نور جہان پر ہی تھیں

*****…..

جہان بیگم ۔۔۔ نیلو سے اخبار کی سرخیاں سن رہی تھی ۔۔۔ سامنے آرء بیٹھی ہاتھوں اور پیروں پر سرخ رنگ کی نیل پالش لگا رہی تھی ۔۔۔

جب ایک خبر پر جہان بیگم یک لخت اپنے تخت سے اٹھ بیٹھی تھی

” آئی جی حسام حسین نے رات کو زہر کھا کر خود کشی کر لی ۔۔۔ ” نیلو نے جب خبر پڑھتے ہی جہاں بیگم کی آتی رنگت دیکھی تو چپ ہوئی تھی

“ن۔۔۔ن۔۔یلو ۔۔۔ جرا خبر دوبارا تو پڑھ “جہان بیگم کے چہرے کی رنگت متغیر ہوئی تھی نیلو نے اپنے کندھے اچکاتے ہوئے خبر دوبارہ پڑھی

” آئی جی حسام حسین نے رات کو زہر کھا کر خود کشی کر لی ۔۔۔”

جہان بیگم اخبار نیلو کے ہاتھ سے چھین کر اخبار پر چھپی تصویر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ تصویر دیکھ کر وہ خود پتھر کی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ بے جان بت کی طرح۔۔۔۔ اگر اس وجود میں جنبش تھی تو آنکھوں میں تھی جس سے تواتر سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔ آرء نے ایک نظر جہان بیگم پر ڈالی پھر طنزیہ مسکرانے لگی ۔۔ ناخنوں کو پھونک مار کر نیل پالش سوکھانے لگی ۔۔۔۔

“کیا ہوا اماں کاہے آنسوں کی نیہ بہارہی ہو ۔۔۔ تیرے رونے پر وہ جندہ(زندہ ) ہو جائے گا کا ؟ آرء نے یہ کہنے کے بعد ہسنا شروع کر دیا ۔۔۔ نیلو حیرت سے کبھی آرء کو ہنستے دیکھ رہی تھی تو کبھی جہان بیگم کو روتے ہوئے جو اب سسکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔ آرء ہنستی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئ

*****……

عبدالباسط اپنی تنخواہ ملنے پر خوش تھا ۔۔۔ اس بار ایک ہزار جیب میں رکھ چکا تھا باقی کی تنخواہ ماں کے ہاتھ میں رکھ دی ۔۔۔

“ایک ہزار کم ہے عبدالباسط “ماں نے پیسے گنتے ہوئے کہا

“ہاں اس بار کام کم کیا تھا تو اس لئے تنخواہ کم ہو گئ ٫

“چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔ چائے بناؤں تمہارے لئے “

“ہاں اماں چائے بنا دیں وہ بھی کڑک سی “

عبدالباسط کو اب رات کا انتظار تھا ۔۔۔ پہلے تو بازار گیا تھا سرخ شال اور سرخ ہی کانچ کی چوڑیاں خریدیں تھیں پہلی بار کسی لڑکی کے لئے کچھ لیا تھا تصور میں آرء وہ پہنے ہوئے دل کر دل میں سرور سا اترا تھا ۔۔ شال کافی بڑی سی خریدی تھی جو اسے پورے کا پورے ڈھانپ دے ۔۔۔۔ مگر وہ شال جتنی بھی بڑی ہوتی کہاں چھپا سکتی تھی آرء کو ۔۔۔ بڑی خوشی سے وہ نئے ڈبے میں ڈالے دونوں چیزیں لیکر وہاں پہنچا تھا ۔۔۔ آرء کا رقص ابھی ختم ہوا ہی تھا ۔۔۔ اس لئے وہ فورا سے جہاں بیگم کے پاس پہنچا ۔۔۔ جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکالا ۔۔۔اور رنجیدہ سی بیٹھی جہاں بیگم کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔

“آرء ” عبدالباسط نے کہا ۔۔ لیکن اگلی آواز پر چونکا تھا

” ناہی اماں اس کو میرے پاس نا بھیجنا ۔۔۔ آج رات کا سودا کسی کے نام کر دے ” آرء غصے اور تنفر سے عبدالباسط کو دیکھتی ہوئی وہ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ پندرہ دن کا غصہ تھا ۔۔ کیا کچھ نہیں بنایا تھا اس کے لئے ۔۔ پورا دن کچن میں گزار دیا تھا مہمان خاص کا درجہ دینا چاہا تھا اور وہ نہیں آیا تھا پندرہ دن اس کا انتظار کرتی رہی تھی کہ شاید اپنے کیے پر شرمندہ کو کر آ کر معذرت کرے گا پر نہیں۔۔۔۔ اب آیا بھی تو رات کا سودا کرنے میرا مہمان نہیں میرا گاہک بنکر ۔۔۔ “آنسوں ٹپ ٹپ آرء کی آنکھوں سے ٹپکے تھے ۔۔۔۔

باہر عبدالباسط ہر بات سے انجان آرء کے رویے سے پریشان ہوا تھا ۔۔۔

جہان بیگم کا موڈ کچھ اچھا نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ اسی لہجے میں بولی

“سن لیا تو نے چل جا اب یہاں سے “

عبدالباسط اٹھ گیا اسکی جگہ ایک اور نوجوان آ کر بیٹھ گیا جو نشے سے چور تھا ۔۔۔ منہ میں پان دبائے جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکالا اور ڈگمگاتے قدموں سے آرء کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ عبدالباسط وہیں کھڑا رہا کسی بت کی طرح ۔۔۔ کہیں نہیں گیا آہستہ آہستہ پورا صحن خالی ہو گیا تھا ۔۔۔ جہان بیگم بھی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔کافی دیر بعد نیلو کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔ ایک شخص کو وہ باہر تک چھوڑنے آئی تھی اس سے مسکرا کر باتیں بھی کر رہی تھی۔۔۔

اگلے روز آنے کا وعدہ بھی لے رہی تھی ۔۔۔ وہ سیڑیاں اترا تو نیلو کی نظر سامنے کھڑے عبدالباسط پر پڑی بڑا خوش شکل نوجوان تھا ۔۔۔ نیلو اس کے پاس آ گئ ۔۔۔ لیکن اسکی نظریں آرء کے بند دروازے پر جمی ہوئیں تھیں ۔۔۔

” اے بابو ۔۔۔ “نیلو نے چٹکی بجا کر کہا تو اس نے ایک نظر چونک کر نیلو پر ڈالی اگلی نظر جھکا گیا ۔۔۔

” رات بتانی ہے ؟ “نیلو نے اس سے پوچھا لیکن وہ کچھ نہیں بولا ۔۔۔

” اس وقت میرے علاؤہ سب کے کمرے بند ہیں ۔۔۔ چل آ جا ۔۔۔ آج تیرا دل میں بہلا دیتی ہوں ۔۔۔ ” وہ مسکرا کر آنکھ دبا کر بولی تو عبدالباسط بدک کر پیچھے ہٹا ۔۔۔

“دیکھوں دور رہوں مجھ سے ۔۔۔ مجھے آرء سے بات کرنی ہے ” عبدالباسط نے گھبرا کر کہا

” تو پھر کل آ جانا ۔۔۔ کاہے کو یہاں کھڑا ہے “

“نہیں آج کی کرنی ہے “

“تو کا سویرے تک اس کا انتجار کرتا رہے گا ۔۔۔ “

“ہاں فجر سے پہلے تک کر سکتا ہوں ۔۔۔اسکے بعد نہیں کر سکتا پھر لوٹ جاؤں گا ۔۔۔۔ “

“فجر تک ” نیلو ہنسی تھی ۔۔۔۔

” یہاں کون پڑھتا ہے کوئی نماز جو فجر ظہر کا حساب رکھے ہے ۔۔ “یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ اب وہ پورے صحن میں اکیلا تھا ۔۔۔ ساڈھے تین بجے آرء کا دروازہ کھلا تھا گیلے بالوں کے ساتھ ۔۔۔ وہ اس شخص کے ساتھ مسکراتے ہوئے باہر نکلی تھی ۔۔۔ لیکن سامنے کھڑے عبدالباسط کو دیکھ کر ٹھٹکی تھی اسے لگا جا چکا ہو گا ۔۔۔ لیکن وہ اکیلا وہیں کھڑا تھا اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ شخص سیڑیاں اتر چکا تھا ۔۔۔ آرء غصے سے اس کے پاس جا کر بولی

” کاہے کھڑا ہے تو یہاں۔۔۔۔ گیا کیوں ناہی ۔۔۔ “

“بات کرنی ہے آپ سے “

“پر مجھے ناہی کرنی کوئی بات ۔۔۔ نکل یہاں سے اور آئندہ میرے لئے آنے کی جرورت نہیں ہے تجھے “آرء غصے سے بول کر اپنے کمرے میں نے لگی

” آرء میرا قصور کیا ہے ۔۔۔ ” لہجے میں نمی تھی ۔۔۔ چہرے پر کرب آرء کے قدم رکھے تھے ۔۔۔ پلٹ کر دیکھا تو اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے چند تیز قدموں سے اسکے قریب آئی تھی ۔۔۔

“پتہ ہے تو پہلا شخص تھا جس نے آرء کے مردہ دل کو دھڑکنا سکھایا تھا تو نے کہا تھا میں بہت خاص ہوں تیرے لئے ۔۔ کم بخت میں بھی یہی سمجھی کہ تو مولوی ہے سچ کہہ رہا ہے ۔۔۔ میں نے تجھے مہمان خاص سمجھ کر بلایا تھا لیکن تو نہیں آیا آج آیا بھی میرا گاہک بنکر ۔۔۔ تو نے بھی مجھے باقیوں کی طرح بکاوں ہی سمجھا ہے بابو ۔۔۔۔ ” آرء کی آنکھیں بھی بہہ رہیں تھی عبدالباسط نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔ ٹپ ٹپ کئ آنسوں آنکھوں سے ٹپکے تھے

“نہیں آرء۔۔۔۔ آپ میرے لئے اب بھی خاص ہیں ۔۔۔ بہت خاص ۔۔۔ اور ہمیشہ خاص ہی رہیں گئیں ۔۔۔ بس خالی ہاتھ آتے شرم آتی ہے مجھے ۔۔۔ اس لئے تنخواہ ملتے ہی یہ تحفہ خریدا تھا آپ کے لئے ۔۔۔ لیکن جب یہاں پہنچا تو آپ کارقص ختم ہو چکا تھا ۔۔۔ اس وقت تو بنا پیسوں کے مجھے کوئی آپ سے ملنے نہیں دیتا اس لئے ۔۔۔۔۔۔”عبدالباسط بات کی وضاحت دیتے ہوئے چپ ہوا تھا ایک ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں پونچے پھر آگے بڑھ پر آرء کے بہتے رخسار صاف کیے اس کا ہاتھ تھام کر وہ تحفے والا شاپر اس کے ہاتھ میں تھما کر بولا

“پہلی بار کسی لڑکی کے کچھ خریدا ہے ۔۔۔ اچھا لگے تو پہن لیجیے گا ورنہ پھنک دیجیے گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر عبدالباسط پیچھے ہٹ کر وہاں سے جانے لگا ۔۔

“سنو ” آرء نے دھیرے سے کہا عبدالباسط کے قدم رکھے تھے

“بیٹھوں ادھر میرے ہاتھ کی چائے پی کر جانا ” پل دو پل لگے تھے آرء کاغصہ ختم ہونے میں عبدالباسط وہیں کھڑا رہا جو کچھ آرء سے سنا تھا وہ کبھی گمان بھی آرء کے لئے نہیں سوچ سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے دل شکوہ کناں تھا ۔۔ بھیگی آنکھوں سے وہیں۔ کھڑا رہا وہ خود چل کر اسکے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔

“اب کاہے منہ بنائے کھڑے ہو ۔۔۔ “

“آپ نے سوچا بھی کیسے کہ میں آپ کے لئے ایسا سوچوں گا ۔۔۔کیا میں آپ کے لئے ایساسوچ سکتا ہوں جیسا آپ نے سمجھا “

” کاہے ناہی سوچ سکتے بابو یہ تو اٹل حقیقت ہے ۔۔۔۔ آرء جھوٹے خواب ناہی دیکھتی ۔۔۔ دیکھ سکتی بھی ناہی ہے ۔۔۔ پتہ ہے یہاں رہنے والیوں کو خوب دیکھنے کا وقت ہوتا ہے نا حق ہوتا ہے خواب دیکھنا تو معصوم اور شریف چھوریوں کا کام ہے ۔۔۔ ہماری آنکھیں خواب سجانے سے پہلے تلخ حقیقتوں کو دیکھنے کی عادی ہو چکی ہوتی ہیں ۔۔۔ میں کا ہوں اچھے سے جانے ہوں ۔۔۔۔ “

” جانتا ہوں ۔۔۔ آپکو کوئی جھوٹا خواب دیکھاوں گا بھی نہیں ۔۔۔ لیکن خدا جانتا ہے میرے لئے آپ اب بھی معصوم اور شریف ہیں ۔۔۔۔۔ کوئی قصور نہیں ہے آپ کا ۔۔۔۔ بس یہ جگہ ہی ایسی ہے جو لڑکی یہاں پیدا ہو جاتی ہے وہ نا بھی چاہے تو بھی اس کا حصہ بن جاتی ہے ” عبدالباسط کی بات سن کر آرء ہنس پڑی تھی

“حرام کا مال حرام میں کام آووئے ہے بابو ۔۔۔ زنا کاری سے پیدا ہونے والی مجھ جیسی چھوریاں بازار حسن کی زینت تو بن سکتی ہیں کسی کے گھر کی عجت ناہی”

” میرا بس چلے تو میں بہت دور لے جاؤں آپ کو ہمیشہ کے لئے ” عبدالباسط کے لہجے اور آنکھوں شدت جذبات سے آنکھیں پھر سے بھیگیں تھیں

“چھوڑو ان باتوں کو چل آ کر بیٹھ ادھر تجھے چائے پلاتی ہوں ” یہ کہہ کر آرء نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسکو سامنے تخت پر بیٹھا دیا ۔۔۔ خود کچن میں چلی گئ کچھ دیر میں دو کپ چائے کے ساتھ بسکٹ بھی اسکے سامنے رکھ دئے ۔۔ لیکن عبدالباسط نے صرف چائے کا کپ اٹھایا ۔۔۔

” کیا لایا ہے میرے لئے” اب آرء نے شوپر سے وہ ڈبہ نکالنے لگی ۔۔۔

“کھول کر دیکھ لیں ۔۔۔ “عبدالباسط نے چائے پیتے ہوئے کہا ۔۔ وہ مسکرائی تھی پھر ڈبہ کھول کر دیکھ کر چہرا چمکا تھا سرخ چوڑیاں سرخ رنگ کی چادر دیکھ وہ ذراسا مسکرائی پھر اسے واپس رکھ دیا ۔۔

“کیا بات ہے تحفہ پسند نہیں آیا ۔۔”عبدالباسط کو اسے چیزیں واپس ڈالتے ہوئے پوچھا

” ہاں آپ کے شایان شان نہیں ہے ۔۔۔ کم قیمت ہے “عبدالباسط کو لگا شاید سستا تحفہ ہے کانچ سادی سی لال چوڑیاں اور لال رنگ کی شال جس کے بس کناروں پر کالے دھاگے کی کھڑائی ہوئ تھی آرء کو کہاں پسند آنی تھی دل ایک پل کے لئے بجھ سا گیا

” یہ آرء کو تب قیمتی لاگے گا جب تو اپنے ہاتھوں سے پہنائے گا ۔۔۔ ” اسکی فرمائش پر عبد الباسط نے سب سے پہلے شال کھول کر اسے اڑاھائی تھی۔۔۔۔ جس سے وہ چھپ سی گئ تھی ۔۔۔ سوائے چہرے کے کچھ بھی واضع نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر اسکے چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔ کون کہہ سکتا ہے اس لڑکی کے چہرے پر معصومیت نہیں ہے ڈھکا چھپاوجود عورت کی دلکشی کو بڑھا دیتا ہے ۔۔۔ ایک ٹھنڈی حسرت بھری آہ تھی جیسے وہ روک نہیں پایا آرء نے اپنی سفید کلائی اسکی طرف بڑھا دی ۔۔۔

“میں یہ نہیں پہنا سکتا ” عبدالباسط نے صاف منع کر دیا

“کاہے ناہی پہناسکتے ” آرء نے حیرت سے پوچھا

” میں نے کبھی کسی لڑکی کو چوڑیاں نہیں پہنائیں “وہ نظریں چراتے ہوئے بولا تھا

” تو آج پہنا دو ۔۔۔ ” کلائی اب اسکے آگے تھی ۔۔۔ کچھ پل اسے دیکھتا رہا پھر اسکا ہاتھ تھامے۔۔۔ عبدالباسط کے ہاتھ کپکپایے تھے ۔۔۔ کسی نا محرم کو پہلے یوں چھونے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ۔۔۔ پھر بہت احتیاط سے اسے چوڑیاں پہنانے لگا ۔۔ آرء اسکے شرم سے جھکی نظروں اور سرد ہاتھوں پر واضع لرزش دیکھ کر متحیر ہوئی تھی ۔۔۔ پھر مسکرا کر بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ عورت جھجک شرم گھبرانا تو سنا تھا لیکن کسی مرد کا شرم سے نروس ہوتے دیکھنا پہلا تجربہ تھا ۔۔۔۔ ایک تو پہلے عبدالباسط کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں پہلی بار کسی کا ہاتھ پکڑے چوڑیاں پہنا رہا تھا ۔۔۔ پھر یہ بھی ڈر تھا کہیں نازک سے ہاتھ پر کانچ کی چوڑی چبھ نا جائے پھر آرء کی نظروں کی تپش سے گڑبڑا رہا تھا لیکن مرد تھا اس لئے پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا ۔۔۔ با مشکل اسے چوڑیاں پہنا پایا تھا ۔۔۔ پھر دوبارہ آرء کی جانب نہیں دیکھا لیکن وہ بڑی لگاوٹ سے دیکھ رہی تھی

” پہلی بار آرء نے مرد کی آنکھوں میں شرم دیکھی ہے بابو ۔۔۔ ہائے قسم سے مر جانے کو جی چاہتا ہے تجھ پے ۔۔۔۔ عبدالباسط آرء بہت محبت کرنے لگی تم سے ” برملا اظہار پر عبدالباسط نے بے ساختہ اسے دیکھا تھا ۔۔۔ جو عورت ہوتے ہوئے بھی دیوانہ وار اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ فوراسے کھڑا ہو گیا

” میں اب جاوں گا ” عبدالباسط کی عجلت پر وہ بے ساختہ ہسنے لگی ۔۔۔ وہ مزید نروس ہوا تھا

” اپنی محبت کا اظہار نہیں کرے گا مجھ سے “وہ اسکے سامنے کھڑی ایک نئے امتحان میں اسے ڈال رہی تھی

” اپنی محبت کا اظہار تو پہلی ملاقات میں ہی میری نظروں نے آپ سے کر دیا ۔۔۔ کیا میری محبت کو لفظوں کے اظہار کی ضرورت ہے آرء؟ بنا نظریں اٹھائے وہ یہ کہہ کر چلا گیا تھا آرء وہیں کھڑی رہ گئ تھی ۔۔۔

سوچ رہی تھی واقع اسکی محبت کو الفاظ کی ضرورت ہی کہاں تھی ۔۔۔۔ وہ نظروں سے ہی مات دینے میں ماہر تھا پہلی نظر میں دے بھی گیا تھا

*****……..

” تانی کیا کہا ڈاکٹر نے سب ٹھیک تو ہے نا ؟”

“ہاں سب ٹھیک ہے ۔۔۔ ” تانیہ اپنا چیک اپ کروا کر جب گاڑی میں بیٹھی تھی اس نے فکر مندی سے تانیہ کو دیکھ کو کر پوچھا تانیہ کے جواب پر اسے اطمینان ہوا تھا

“چلو شکر ہے “

“سنیے ۔۔۔ مجھے اپنے بچے کے لئے خود شاپنگ کرنی ہے پلیز بس ایک بار مجھے بھی بازار لے جائیں ۔۔۔ “تانیہ نے ملتجی لہجے میں کہا تھا

” ٹھیک ہے ۔۔ لے جاتا ہوں لیکن ایک ہی دوکان پر جائیں گئے ۔۔۔ وہیں سے جو پسند آئے خرید لینا “

“جی ٹھیک ہے “تانیہ اسی بات پر خوش تھی کہ وہ خود سے خریداری کرے گی ۔۔۔۔ سامنے مال میں نیو بون بیبی کے کپڑوں اور چیزوں کی سب سے بڑی شاپ پر وہ اسے لیکر کر گیا تھا ۔۔۔

” تانیہ نے سارے کپڑے لڑکوں والے ہی خریدے تھے چہرے پر دلفریب سی مسکراہٹ سجائے وہ ہر چیز۔ لے رہی تھی بہت خوش تھی

“تانی یہ فراک دیکھو پنک کلر کا ۔۔پیارا ہے نا ” تانیہ نے اس کے ہاتھ سے وہ فراک پکڑا کر واپس رکھ دیا

“اس کی ضرورت نہیں ہے “وہ مسکرا کر بولی ایک زریک نظر تھی جس سے اس نے تانیہ کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا

” تم نے پوچھا ہے ڈاکٹر سے؟ ” تانیہ نے اثبات میں سر ہلایا

“میں نے منع کیا تھا تمہیں “وہ خفا س ہونے لگا

“شاپنگ میں آسانی ہو جاتی ہے ۔۔۔ کیا حرج ہے پھر پوچھ لینے میں “

” ہمم چلو پھر شاپنگ بھی اپنی مرضی کی کروں ۔۔۔ جیسے تم خوش ویسے میں خوش “

تانیہ مسکرائی تھی بڑی سے شاپ سے پہلے وہ مختلف کپڑے نکال رہی تھی جب پیچھے کمر کسی سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔ یک دم پلٹی تو آنکھیں جیسے پتھر کی ہو گئیں تھیں ۔۔۔

“اوہ سوری میں نے “سامنے کھڑے شخص نے معذرت کرتے ہوئے جب اسے دیکھا تو خاموش وہ بھی ہو چکا تھا ۔۔۔۔

تانیہ کا سر چکرایا تھا پل میں پوری شاپ اسکی نظروں سے گھومنے لگی تھی ۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ گرتی اس کا شوہر اس تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔

“تانیہ ۔۔۔ تانیہ آر یو آل رائیٹ ۔۔۔ تانی ” لیکن وہ اس کی بانہوں میں بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔

*****……

کرسی کی پشت پر سر ٹکائے وہ بیٹھے تھے ماضی تھا کہ ہر بار انہیں ایک نئ اذیت دے جاتا تھا ۔۔۔ کمرے کادروازہ کھلا تھا ۔۔ جازم نے کمرے کی بند لائٹ کو کھولا ۔۔۔ ہارون الرشید کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ آبدیدہ آنکھوں سے بیٹے کا چہرہ دھندلایا ہوا لگا ۔۔ لیکن زخمی زخمی بھی لگا ۔۔۔۔۔ جلدی سے آنکھوں کا پانی صاف کیا ۔۔۔۔ مٹی سے اٹے کپڑے چہرہ زخمی ہونٹ کے قریب بہتا خون لیکن چہرے پر مسکان تھی ۔۔۔۔

وہ گہری مسکراہٹ لئے ان کی راکنگ چیر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا سر انکی گود میں رکھے ۔۔۔ بولا

“بابا میں جیت گیا میری محبت جیت گئ ۔۔۔ میں جیت گیا بابا میں نے انہیں منا لیا ۔۔ ” فرحت جذبات سے لفظ نہیں نکل رہے تھے منہ سے۔۔۔ ہارون الرشید نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔

“چلو تم تو خوش ہوں نا اب “

“خوش؟ ۔۔۔ ” جازم نے چہرہ اوپر کیا

“خوشی کا لفظ بہت چھوٹا میرے خوشی کے آگے ۔۔۔۔۔”جازم اپنی دھن میں بول رہا تھا لیکن اپنے والد کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر خاموش ہوا تھا

“بابا ۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ کی طعبت تو ٹھیک ہے نا ۔۔۔ آپ رو رہے تھے “جازم نے انکی آنکھوں سے آنسوں صاف کیے

“بس یونہی میرے پاس یادوں کے علاؤہ اور ہے ہی کیا ۔۔۔ یونہی تمہاری ماں یاد آگئ تھی ” ہارون الرشید نے جازم کو ہونٹوں کے قریب بہتے خون کو صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

” مجھے معلوم ہے بہت پیار کرتے تھے آپ ان سے جبھی تو اب تک کسی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکے ۔۔ ” ہارون الرشید نے پیار سے بیٹے کے بالوں سے مٹی جھاڑی

” بس دل میں کوئی بسی ہی نہیں تو زندگی میں گنجائش نہیں نکال سکا ۔۔۔ خیر تم سناؤ ۔۔ کیا کہہ رہے تھے “ہارون الرشید نے موضوع بدلہ

” وہ مان گئیں ہیں بابا “

“میں نہیں مانتا کہ وہ سب چھوڑ کر تمہارے پاس آنے کے لئے مانی ہو گئ ۔۔۔

” وہ دن بھی ضرور آئے گا ۔۔لیکن کل مجھے اوپر بلایا اپنے پاس ۔۔۔ کہہ رہیں۔ تھیں۔ کہ میں ہار گئی ۔۔۔ تم جیت گئے ۔۔۔ میرے لئے یہ کیا کم ہے وہ مجھ سے ملنے کے لئے تیار ہو گئیں ہیں “

” تو پھر کب جاؤں گئے “

“رات میں ۔۔۔۔۔ رات وہیں۔ گزاروں گا ” جازم کی خوشی قابل دید تھی لیکن ہارون الرشید متفکر ہوئے تھے ۔۔۔ لیکن بولے کچھ نہیں پتہ تھا کہ وہ سنے گا نہیں اپنی دھن کا پکا ہے

“آپ نے دوا لی بابا “جازم نے فکرمندی سے پوچھا

“ہاں کھا لی تھی۔ ۔۔ جاؤں جا کر ڈیٹول اور کاٹن لاؤں پورا چہرہ زخمی کر لیا ہے تم نے ۔۔۔ “

“مجھے درد نہیں ہو رہا بابا بس اس بات کی خوشی ہے کہ وہ مان گئیں ہیں ” جازم کی آنکھوں میں چمک تھی ۔۔۔۔

******…….

کالج سے چھٹی کر کے حیا ڈائنگ ٹیبل پر لیٹ ہی پہنچی تھی ۔۔۔۔ آغا جی اور اپنی والدہ کو گڈ مارننگ کہہ کر بیٹھ گئ

” حیا پرسوں رات کو کہاں گئیں تھیں تم ؟ جوس گلاس میں ڈالتے حیا کا ہاتھ رکا تھا سامنے نظر آغا جی پر پڑی تو پیشانی پر پڑے بل دیکھ کر ۔۔ گھبرائی تھی

” کب باز آؤں گی تم ۔۔۔ “سختی سے پوچھا گیا تھا جان چکی تھی کہ ڈرائیور اور چوکیدار سب کچھ بتا چکے ہیں

“آغا جی وہ اقرء کی بہن کی شادی تھی تو …. “

” او شٹ اپ حیا ۔۔۔۔ بہانے مت بناؤں میرے سامنے ۔۔۔ تمہاری ان بچکانہ حرکتوں سے میں تنگ آ چکا ہوں ۔۔۔ ” سلیمان نے سخت اور بلند لہجے سے کہا

“کیا ہو گیاسلیمان آپ کو بچی ہی تو ہے ۔۔۔ “

“تمہیں اندازہ ہے کہ پرسوں رات دو بجے اس کی گاڑی کہاں جا کر خراب ہوئی تھی ۔۔۔ پھر ڈرائیور کو فون کر کے بلانے کے بعد اس کا ویٹ بھی نہیں کیا اور نا جانے کس سے لفٹ لیکر یہ گھر پہنچی ہے ۔۔۔ مطلب منہ اٹھائے کسی کی گاڑی میں بیٹھ جائے گی ۔۔۔ ذرا سی ریسپونسبلٹی ہونی چاہیے جو اس میں تو بلکل نہیں ہے۔۔۔۔۔ ” آغا جی کے غصے کے آگے وہ چپ تھی ۔۔ اب حیا اگر بتا دیتی کہ کس حال میں گھر پہنچی تھی تو یقینا دوبارہ باہر جانے کی اجازت ہی نا ملتی

” اچھا نا سلمان ناشتہ تو کرنے دو اسے اب ۔۔ حیا ڈرالنگ ڈونٹ ڈو اگین او کے ۔۔ چلو جوس پیؤ اب “

زوبیہ بیگم پھر سے حیا کی غلطی پر پردہ ڈال گئیں تھیں اب وہ منہ بنائے جوس پینے لگی

“پڑھائی کیسی جا رہی ہے تمہاری ” آغا جی تو آج شاید اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھے

“فرسٹ کلاس ” حیا نے دو گھونٹ میں جوس کا گلاس ختم کر کے فراٹے سے جھوٹ بولا تھا

” ہمم کل آؤں گا تمہارے کالج میں ۔۔۔ پوچھوں گا پرنسپل سے کہ کیا پروگریس ہے تمہاری ” آغا جی کی بات سن کر حیا کی بھوک غائب ہوئی تھی پڑھائی میں وہ کچھ خاص اچھی نہیں تھی ۔۔۔ ٹیسٹ میں واجبی نمبروں سے پاس ہوتی تھی ۔۔۔۔

آغا کی کو ناشتہ کر کے آفس چلے گئے لیکن حیا کی شکوے شروع ہو چکے تھے

” مام آغا جی کو ہوا کیا ہے ۔۔۔ ” حیا نے لاڈ سے ماں کو دیکھ کر پوچھا

“کچھ نہیں چوکیدار اور ڈرائیور نے شاید کچھ ذیادہ ہی ڈرا دیا ہے ۔۔۔ “

“انہیں تو میں آج چھوڑو گی نہیں “اس سے پہلے کے حیا کھڑی ہوتی زوبیہ بیگم نے اسے بیٹھا دیا

“بیٹھوں تم ۔۔۔ انہیں تو بہت اچھی طرح سے ڈانٹ چکی ہوں میں کہ تمہاری کوئی بھی بات سب سے پہلے سلیمان کو مت بتایا کریں جب تک میں نا سن لوں لیکن تم بھی خیال کیا کرو ۔۔۔تم جانتی ہو لیٹ نائٹ پارٹیز تمہارے آغا جی کو پسند نہیں ہیں ” زوبیہ بیگم بھی چائے ختم کر کے کھڑی ہو گئیں ۔۔۔

“او کے میری جان۔ میں جا رہی ہوں ڈنر پر ملتے ہیں” زوبیہ بیگم بھی چلی گئیں ۔۔۔۔ حیا نے چوکیدار اور ڈرائیور کو بلا انہیں خوب ذلیل کیا تب جا کر اس غصہ ٹھنڈ ہو تھا ۔۔۔

دوپہر کو اپنے کمرے میں ہی تھی موڈ آف تھا اس لئے نا کسی دوست سے فون پر بات کی نا ہی کہیں باہر جانے کا پروگرام بنایا ۔۔۔ اب بھی فل اے سی آن کیے موبائل پر گیم کھیل رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی

“آج مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔ میں کھانا نہیں کھاؤں گی آیا آپ جائیں یہاں سے ” حیا نے لیٹے لیٹے ہی بلند لہجے سے کہا

لیکن دستک پھر سے ہوئی

“آپ کو سمجھ نہیں آتی ہے بات “حیا غصے سے بولی اس بار دروازہ کھلا تھا سامنے ارسل کو بلیک جینز اور بلو ٹی شرٹ میں دیکھ کر حیا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

موبائل ایک طرف پھنک کر فورا سے اٹھ کر بیٹھ گئ

“ارسی تم ۔۔۔ “ارسل اسوقت تک اسکے پاس پہنچ چکا تھا

“How was my surprise?

ارسل نے اسکے قریب پہنچ کر کہا

“ونڈرفل ۔۔۔ کب آئے تم “

“بس دو گھنٹےپہلے ہی پہنچا ہوں ۔۔۔۔آتے ہی فریش ہو کر سیدھا تمہارے پاس چلا آیا کھانا بھی نہیں کھایا بہت بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔۔ لیکن یہاں آیا تو پتہ چلا کہ ماموں سے ڈانٹ کھا کر تمہارا پیٹ بھر چکا ہے اس لئے تم لنچ نہیں کروں گی ” ارسل ساری بات یقینا آیاسے پوچھ چکا تھا حیا نے تیوری چڑھائی ۔۔۔

” پھپو بھی آئیں ہیں تمہارے ساتھ “

“نو ابھی نہیں آئیں ۔۔لیکن ڈنر یہیں کریں گئ۔۔۔ اتنی دور سے آیا ہوں حیا ۔۔۔ صرف تمہارے لئے ۔۔۔ اس طرح سے روٹھے روٹھے ویلکم کروں گی میرا ” ارسل نے بڑی بے باکی سے دونوں بازوں حیا کے کندھوں پر رکھے تھے ۔۔۔۔

” او کے ٹھیک ہے ۔۔۔۔ تمہارے لئے اپنا موڈ ٹھیک کر لیتی ہوں لیکن لنچ ہم باہر کریں گئے ” حیا نے اسکے بازو پیچھے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

“ملو گی نہیں مجھ سے ” ارسل کی آنکھوں کی شوخی کچھ اور ہی ارادے رکھتی تھی

“ارسل سدھر جاؤ اچھا تم ہٹو اب پیچھے ۔۔۔ باہر جاؤں میں چینج کر کے بس دو منٹ میں آئی ” حیا نے بات ہوا میں اڑاتے ہوئے اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے اپنے کمرے سے باہر دھکیلا تھا ۔۔۔۔

تیار ہو کر لنچ اس نے ارسل کے ساتھ باہر ہی کیا تھا ۔۔۔ اس کے گفٹ سے بھرا بیگ وہ ساتھ ہی لایا تھا رات کو ڈنر پر اسکی پھپو اور پھپوپا بھی پہنچ گئے تھے ۔۔۔ وہی بزنس اور سوشل سی باتیں ۔۔۔ پیسہ فیشن میڈیا سیاست ۔۔۔ اسی گفتگوں میں کھانا کھایا جا رہا تھا ۔۔۔

” یہ نیوز چینل پر ایک خبر نے بہت دھوم مچا رکھی ہے ۔۔۔۔۔ ” بات سلیمان نے شروع کی

“کون سی خبر” ارسل کے والد نے سلاد فورک سے کھاتے ہوئے پوچھا

“عورتوں کے حقوق میں “میرا جسم میری مرضی “سلیمان نے کہا

“دیکھا جائے تو بات جائز ہی تو ہے ۔۔۔پوری دنیا میں عورت کو اپنی زندگی گزارنے کا حق دیا گیا ہے ۔۔۔۔ تو یہاں پاکستان میں اس بات کو کیوں اتنا اٹھایا جارہا ہے ۔۔۔ ” خواتین کے لئے یہ موضوع کافی دلچسپی کا باعث تھا اس لئے زوبیہ بڑھ چڑھ کر بولی

“بس یہ مذہبی ٹائپ لوگوں کا پروپیگنڈا ہے ۔۔۔۔۔ عورت کو پردے میں رہنا چاہیے ۔۔۔ اس ایشو کو روکا جائے ۔۔۔۔ افف میرے خدایا ۔۔۔ بھئ نیرو مائینڈ لوگ ہیں یہاں کے ۔۔۔۔ فرسودہ سوچ کے مالک لڑکیوں کو آزادی نا دو پوچھ گچھ کرتے رہو ۔۔۔ جیسے وہ کوئی گائے بیل ہیں ۔۔۔ میرا دم گھٹتا ہے ایسی باتوں سے ۔۔۔ ۔۔۔۔ ” ارسل کی والدہ نے نا پسندیدگی سے ناک چڑھا کر کہا

” ذرا یہ بات اپنے بھائی صاحب کو بھی سمجھا دو ۔۔۔ آج کل تو انہوں نے حیا سے انوسٹیگیشن شروع کر رکھی ہے ” زوبیہ نے فورا سے بات آگے رکھ دی

“سلیمان بھائی سیریسلی ۔۔۔۔ آپ کب سے ایسا سوچنے لگے “وہ حیرت سے سلیمان کو دیکھ کر بولی

” ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ بس یونہی تم جانتی ہو کہ میں حیا کے لئے کرنا پوزیسو ہوں ۔۔۔۔ بیکوز شی از میرے لائف ۔۔۔۔ مائے لولی ڈاٹر۔۔۔۔بس اسے کچھ نقصان نا پہنچ جائے اس لئے کچھ ڈانٹ دیا ادر وائز زوبیہ کی بات بلکل بے معنی ہے “سلیمان نے محبت بھری نظروں سے بیٹی کو دیکھا تھا جن میں انکی جان بستی تھی شادی کے آٹھ سال بعد حیا انکی زندگی میں آئی تھی پھولوں کی طرح انہوں نے اسے رکھا تھا ہر فرمائش منہ سے نکلنے سے پہلے پوری کی تھی

” حیا تو ہم سب کی جان ہے بھائی صاحب ۔۔۔ “

پھپو نے پیار پاس بیٹھی حیا کے گال تھپتھپا کر کہا تھا ۔۔۔ ۔۔ کھانے کے بعد سب بڑے باہر لان میں بیٹھ کر کافی پینے لگے ۔۔۔ ارسل حیا کو گفٹ دیکھانے بہانے اندر لے آیا تھا بیگ کی زپ کھولتے ہی حیا جیسے سب۔ کچھ بھول گئی تھی ۔۔۔

پرفیوم شرٹس ۔۔۔ جینز ۔۔۔ میک اپ ۔۔۔ ایک ایک چیز اسکی پسند کی تھی ۔۔

“ہائے ارسل کتنے اچھے ہو تم میرا اتنا خیال تھا تمہیں ۔۔۔” ایک ایک پرفیوم وہ خود پر اسپرے کر کے چیک کر کے دیکھ رہی تھی اور ارسلناسے دیکھ رہا تھا

” ہاں لیکن تمہیں میرا ذرا بھی خیال نہیں ہے ۔۔۔ میرے لئے ایک بھی گفٹ نہیں خریدا تم نے “ارسل نے شکوہ کیا

“تم اگر بتا کر آتے تو میں ضرور کچھ خرید کے رکھتی بٹ ڈونٹ وری ۔۔۔ چلو ابھی چلتے ہیں تمہارا گفٹ لینے “حیافوار سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ ارسل بھی کھڑا ہو کر اسکے قریب آ گیا

“گفٹ کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو تم مجھے اسے بھی دے سکتی ہو ” ارسل کی آنکھوں کچھ اور ہی چاہ تھی

“کیا مطلب ۔۔۔۔ کیا تمہارے دیے ہوئے گفٹ میں سے کچھ دوں گی تمہیں ۔۔۔ نہیں ارسل یہ مجھے سب پسند ہے اس لئے ان میں کچھ نہیں دوں گی “”حیا کو اسکی شاپنگ میں سے ہی کچھ مانگ رہا ہے

“تمہیں یہ لگتا ہے میں تم سے اپنی دی گئ وہی چیزیں مانگوں گا ۔۔۔ اہم ہمم نہیں ۔۔۔ آئی وانٹ آ کس یو بے بی ” ارسل کی بات پر حیا کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی

“اوہ شپ اپ ارسل ۔۔۔ ہاؤ ڈیر یو ٹاک دس۔۔۔۔ “حیا نے غصے سے اسے دیکھا تھا