Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 21
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 21
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
حیا مین روڈ پر تقریبا بھاگ رہی تھی آدھے گھنٹے کی دوڑ کے بعد اسے کچھ چہل پہل نظر آئی تھی پھر وہاں سے گزرتے ہوئے ایک کپل سے اس نے پوچھا
” یہاں سے اسلام آباد جانے والی بس کہاں سے ملے گی ” چہرے سے بہت گھبرائی ہوئی تھی
“آپ یہاں سیدھا جاتی رہیں وہیں سے آپ کو بس مل جائیں گئیں ۔۔۔۔ ” جواب ساتھ چلتی لڑکی نے دیا تھا وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گئ جب وہ جب تک بس اسٹینڈ تک پہنچی تھی
اسلام آباد کی جا چکی تھی بس لاہور کی جانے کو تیار تھی ٹکٹ کے لئے پیسے بھی نہیں تھے اس لئے ہاتھ ۔میں پہنی پانچ ہزار کی گھڑی اتار کر سامنے ٹکٹ دینے والے سامنے رکھی
” لاہور کی ٹکٹ کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس لیکن یہ گھڑی رکھ لو یہ کرایے سے زیادہ ہی ہو گی
“اس لڑکے نے گھڑی ایک نظر دیکھی دوسری نظر حیا پر ڈالی وہ بار بار دائیں جانب دیکھ رہی تھی ڈر تھا کہ کہیں ارتضی اسے ڈھونڈتا ہوا وہاں نا پہنچ جائے اس لئے ایک گھنٹہ اسلام آباد کی بس کا انتظار نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ اس لڑکے نے ٹکٹ تھما دی حیا کی شکل اس لئے بھی اسے یاد رہ گئ کہ پیسوں کے بجائے گھڑی دے گئ تھی ۔۔۔۔ مزید حیا کے پاس کچھ بھی بیچنے کے لئے نہیں تھا ۔۔۔۔
بس میں بیٹھ کر پہلے تو اس بات پر روئی کہ اپنا سارا زیور وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے ارتضی کو دے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
پھر کل لاہور کبھی پہلے گئ بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ جس مصیبت میں پھنس گئ تھی اس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔ لاہور پہنچ کر نیچے اتر کر رکشہ روکا
” مجھے دارالامان چھوڑ دو ” سوجی ہوئی آنکھوں سے اب بھی آنسوں بہہ رہے تھے
“کون سے والے دارلامان جی “رکشے والے نے پوچھا
“جو یہاں سے قریب ہے “
” دوسو روپے سے کم نہیں لوں گا باجی ” رکشے والے نے حتمی لہجے سے کہا حیا بیٹھ گئ لیکن پیسہ اس کے پاس تھا نہیں دارالامان کے سامنے رکشہ روکاتو نیچے اتر گئ
” سنو اندر میری خالہ۔ ہے میں اس سے پیسے لیکر آتی ہوں جانا نہیں ۔۔۔یہیں کھڑے رہنا ۔۔۔ میں بس دو منٹ میں آئی ” حیا نے کیا کرنا تھا وہ رکشے میں بیھٹی سوچ چکی تھی ۔۔۔۔
“میں کیوں جاؤں گا ۔۔۔ آپ لے آؤں پیسے ” رکشے والے کو چکما دے کر وہ اندر داخل ہو گئ
سامنے ہی ہیڈ آفس تھاجہان ایک خاتون سادہ سا لباس پہنے سر پرسفید ڈوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھی حیااس کے سامنے جا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
وہ عورت یک دم بوکھلا سی گئ
” کون ہیں آپ اور رو کیوں رہیں ہیں “
” تو اور کیا کرو میڈیم جی ۔۔۔ سارا زندگی میں نے اپنی ساس کی خدمتیں کیں ۔۔۔ دن رات نہیں دیکھا ۔۔۔۔ جو کہتی رہیں وہیں میں کرتی رہی ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی میرے میاں سے جھوٹ بول کر مجھے دھکے دے کر باہر نکال دیا ہے ۔۔۔ ” رونا تو سچ کا اسے آ رہا تھا جہاں وہ پھنس چکی تھی لیکن بول جھوٹ رہی تھی ۔۔۔
” آپ پلیز یہاں بیٹھیں “
اس عورت نے حیا کو کرسی پر بیٹھا دیا
اور خود بھی اسکے برابر کرسی پر بیٹھ گئ
“اب بتائیں کی ہوا ہے “
“کیا بتاؤں ماں باپ میرے ہے نہیں ۔۔۔ ایک ماما تھے ۔۔۔۔ جنہوں نے مجھے پالا تھا ۔۔۔ لیکن مامی سے کہا برداشت ہو سکتا تھا بہت ظلم کرتی تھی مجھ پر پھر میری شادی بھی ایک ظالم گھرانے میں کر دی پورا دن میں کچن میں کھانے بناتی رہی برتن دھوتی رہی سارے کام کرتی لیکن پھر بھی۔۔۔۔ پھر بھی مجھ پر الزام لگا دیا کہ میں بد کردار ہوں ۔۔۔ اور میرا ہونے والا بچہ نا جائز ہے ۔۔۔۔۔۔” ڈرامہ کرنے میں وہ ماہر تھی یہی صلاحیت اسکی کام آ گئ تھی اس سے پہلے کے آگے بھی ظلم بھری جاری رکھتی چوکیدار کے ساتھ وہ رکشے والا اندر ہی داخل ہو گیا
” اوہ باجی میرے پیسے تو دیدو “رکشے والے بیزاریت سے کہا
” کہاں سے دوں میں پیسے مجھے کون سا میری ساس نے پیسے دے کر نکالا تھا ۔۔۔۔ دیکھیں میڈیم جی آپ اسے کرایہ دے دیں ۔۔۔۔ میں آپ کا،احسان کبھی نہیں بھولوں گی”حیا نے ٹسوے بہاتے ہوئے کہا
” اچھا وہ میں دے دیتی ہوں “اس خاتون نے اٹھ کر سامنے ٹیبل سے اپنا پرس اٹھایا اور رکشے والے کو کرایے کے پیسے دیے حیا کی بقیہ اسٹوری پھر سے شروع ہو گئ تھی
” میں نے یہاں نہیں آنا تھا لیکن میرے ماما نے شادی پر مجھے رخصت کرتے ہوئے ہی کہہ دیا تھا کہ اب واپس یہاں رخ مت کرنا تمہاری مامی مزید تمہیں برداشت نہیں کرے گی ۔۔۔ اب بتائیں کہاں جاتی میں “
حیا کی کہانی سن کر اور اسکے آنسوں دیکھ کر وہ عورت کچھ نرم سی پڑ گئ تھی ۔۔۔۔ اس لئے اسے وہاں رکھنے پر آمادہ ہو گئ ۔۔۔ حیا نے اپنا اصل نام نہیں بتایا تھا ایک فرضی سا نام تھا جو اس نے لکھوا دیا ۔۔۔۔ اس خاتون نے ایک عورت کا بلایا اور حیا کو اس کے ساتھ بھیج دیا اوپر کی سیڑیاں چڑھ کر لمبی سی راہداری تھی جس کے دائیں جانب ہی کمرے بنے تھے لیکن کافی کشادہ سے کمرے تھے لیکن ایک ایک کمرے میں دا دس عورتوں کی رہائش تھی اور بستر بھی زمین پر بچھے تھے ۔۔۔۔۔ ہال جتنے کمرے میں پنکھا بھی ایک ہی تھا مری اور لاہور کے ۔موسم میں فرق بھی بہت تھا ۔۔۔۔ یہاں گرمی تھی ۔۔۔۔ اس عورت نے ایک کمرے میں اسے اندر جانے کے لئے کہاں
” تبسم اسے اپنے ساتھ والا بستر دے دو ۔۔۔ یہ یہیں رہے گی ۔۔۔ ایک تیس سالہ خاتون سے اس نے کہا
پھر حیا کی طرف متوجہ ہوئی
” جاؤں بی بی وہ کونے والی جگہ تمہاری ہے ” حیا خراماں خراماں چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی پہلی بار ایسی جگہ پر رہنے کا اتفاق ہوا تھا ۔۔۔۔
تین عورتیں پچاس پچپن کی تھیں باقی تیس پینتیس کی ۔۔۔۔ اس کمرے میں سب سے کم عمر وہی تھی ۔۔۔۔ چہرے سے ساری متوسط گھرانے کی لگ رہیں تھیں۔ ۔۔۔وہ کونے پر آ کر بیٹھ گئ پتلا ساگدا تھا ۔۔۔۔ چادر بھی میلی سی بچھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے اپنا بیگ سائیڈ پر رکھا اور سب کو باری باری دیکھنے لگی جو اسے ہی گھور گھور کر دیکھ رہیں تھیں
” اے کیا کسی لڑکے کے ساتھ بھاگی تھی تو ۔۔۔۔ جس نے چار دن عیش کر کے چھوڑ دیا تھا تجھے جو یہاں آگئ ” ایک بڑی عمر کی خاتون نے سخت لہجے میں پوچھا حیا جھجکی تھی
” جی نہیں ۔۔۔۔ میں ایسی نہیں ہوں ساس نے دھکے دے کر نکالا ہے ۔۔۔”
” ہاں ۔۔۔۔تو بھی میری بہو کی طرح اس کے بیٹے کو قابو کرنا چاہتی ہو گئ ۔۔۔ وہ سیانی نکلی جو اس نے تجھے دھکے دے کر نکال دیا ۔۔۔ ایک میں ہی بد نصیب تھی کہ بیٹا بیوی کی سن کر یہاں چھوڑ گیا ” وہ غصے سے حیا دیکھ کر بول رہیں تھیں جیسے حیا ہی انکی بہو ہو جس نے انہیں گھر سے نکالویا تھا ۔۔۔۔۔۔
“خالہ ساری تمہاری بہو جیسی نہیں ہیں ۔۔۔۔ چلو تم یہاں سے آج کھانا بنانے کی باری میری اور تمہاری”وہی تبسم نامی خاتون اسے اپنے ساتھ باہر لےگئ ۔۔۔
حیا نے دارالامان کا نام سن رکھا تھایکن کبھی جانے اور دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ۔۔۔ کس طرح یہ عورتیں رہتی ہیں میرا تو دس منٹ میں دم گھٹنے لگا ہے ۔۔۔۔ ” حیا اپنے بستر پر لیٹ گئ کچھ دیر میں سو چکی تھی
*****…….
ثوبیہ اس لڑکے کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ اپنے ورڈروب کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ الماری کے دونوں پٹ کھولے ایک آرام دہ لباس نکال کر اسکے پاس آ گیا
“میں اکیلا رہتا ہوں اس لئے زنانہ کپڑے نہیں ہیں میرے پاس یہ میرا نائٹ سوٹ ہے اسے پہن لو جس لباس میں تم ہو یقینا کنفرٹیبل فیل نہیں کر رہی” ثوبیہ نے اس کے ہاتھ سے وہ پکڑ لیا
” وہ سامنے ڈریسنگ روم ہے تم چینج کر لو” اس نے کمرے کے اندر بنے ڈرسنگ روم کی طرف اشارہ کیا
ثوبیہ اندر چلی گی اس ڈھیلے ڈھالے ٹرازر شرٹ میں واقع خود کو پر سکون ۔محسوس کر رہی تھی
جب وہ باہر آئی وہ کمرے میں نہیں تھاواش روم سے شاور کی آواز سن کر سمجھ گئ کے وہ نہا رہا ہے سامنے بیڈ کے بجائے وہ صوفے کے ایک کونے میں بیٹھ گئ ۔۔۔ لیکن سوچ کا محور وہی ایک شخص تھا ۔۔۔
خود کو نارمل کرنے باوجود وہ خوفزدہ تھی ۔۔۔۔
چہرے پر آنے والے پیسنے پونچھ رہی تھی تھی ۔۔۔۔
جب وہ باہر آیا تو اپنے نائٹ سوٹ میں ملبوس تھا سر کو تولیے سے پونچھ رہا تھا ۔۔۔۔
پھر ڈسنگ کے سامنے اپنے بال بنانے لگا تولیہ ویسے ہی کندھوں پر رکھا ہوا تھا شیشے کے سامنے ہی صوفہ تھا جس پر ثوبیہ بیٹھی تھی
” وہ شیشے سے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بار بار اپنی انگلیوں چٹخ رہی تھی چہرے پر بدحواسی تھی اپنی پیشانی پر آنے والے پسینے پونچ رہی تھی ۔۔۔
اس نے برش واپس ڈرسنگ پر رکھا اور تولیہ کندھے سے اتار کر ایک کرسی کی پشت پر پھیلا دیا ۔۔۔ اور ثوبیہ کے برابر میں بیٹھ گیا
” کیا پریشانی ہے تمہیں ۔۔۔۔ کیوں اتنا گھبرا رہی ہو ۔۔۔۔ ” بہت نرمی سے اس نے پوچھا تھا وہ نفی میں سر ہلانے لگی
” تانی واٹ ہیپنڈ ۔۔۔ ؟اس کا یوں دھیرے اور پیار سے اسے پکارنا ثوبیہ کو عجیب لگا تھا
” دیکھوں پہلے تو یہ گھبرانا چھوڑو ۔۔۔۔ اور بتاؤ۔ کس بات کا ڈر ہے تمہیں ۔۔۔۔ میں تمہیں۔ کچھ نہیں کہوں گا ۔۔۔ میرا چھونا تمہیں پسند نہیں ہے اس لئے تمہیں چھوں گا بھی نہیں ۔۔۔ ” وہ بڑی نرمی سے بات کر رہا تھا
” کیوں جھوٹ بول رہے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔ دو لاکھ قیمت بھری ہے آپ نے میری ۔۔۔۔ کیسے ممکن ہے اپنی رات کو رنگین۔ نا کریں ” ثوبیہ نے تاسف سے کہا
” رات تو واقع مجھے تمہارے ساتھ گزارنی ہے ۔۔۔ رہ گئ بات رنگین کرنے کی تو ایسی رنگنیاں مجھے پسند نہیں ہیں ۔۔۔۔ لیکن جب تک تم یہ ہونق ذدہ شکل ٹھیک نہیں کروں گی مجھ سے بات نہیں ہو گئ ۔۔۔۔ ڈرے سہمے لوگوں سے مجھے بہت ڈر لگتا ہے ۔۔۔ اس لئے پلیز ریلکس ۔۔۔ ” اس کا نام لہجہ سن کر ثوبیہ کی کچھ ہمت بندھی
” آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں “
” لوڈو کھیلنے کے لئے ” اس کے جواب پر ثوبیہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھااور وہ ثوبیہ کو دیکھ کر ہسنے لگا ۔۔۔۔
” ظاہر ہے یار تمہارے ساتھ اچھاوقت بتانے کے لئے ۔۔۔ اور کس لئے ۔۔۔ہم آج صرف باتیں کریں گئے ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کریں گئے ۔۔۔ چلو اب بتاؤ کون ہو تم “
“تانیہ “
” وہ مجھے معلوم ہے ۔۔۔ کیسی شریف گھر کی لگتی ہوئی ۔۔۔۔عادی نہیں ہو ان سب چیزوں کی جو تم سے کروایا جارہا ہے ۔۔۔۔ ” وہ شخص اسکے اندر کی کیفیت سے واقف تھا اس لئے وہ خود بھی بول پڑی
” ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔ مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا ” ثوبیہ رونے لگی تھی ۔۔۔ اس نے بھی چپ نہیں کرویاتھارونے دیا تھا ۔۔۔ جب دل کا بوجھ ہلکا ہوا اور اسکے آنسوں رکے تب اس نے پوچھا
” اب بتاؤں کیسے پھنس گئ ان لوگوں میں “
“میں نہیں جانتی ۔۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں ہے ۔۔۔ اپنا ماضی بھول چکی ہوں ” ثوبیہ نے بے بسی سے کہا
“اوہ شٹ ۔۔۔۔ سمجھ گیا میں ۔۔۔۔ کیا کیا ہے ان لوگوں نے تمہارے ساتھ ۔۔۔ دیکھوں یہ مشکل کام نہیں ہے ۔۔۔ تم چاہوں تو ہر بات یاد آسکتی ہے ۔۔۔
یا ایسا کوئی شخص جو ماضی تمہارا قریبی رہ چکا ہو جب وہ تمہارے سامنے آئے تو تم پہنچان لوں گی یہ سب وقتی سے کیفت ہے لیکن اگر یہیں رہیں تو یہ لوگ تمہیں ایسے ہی کرنٹ لگا کر تمہیں پاگل کر دیں تمہاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بلکل ختم کر دیں گئے ہاں اگر یہاں سے چھٹکارا حاصل کر لو تو ۔۔۔۔ “
“لیکن کیا فایدہ مجھے کوئی اپنائے گا نہیں اس قابل نہیں رہی میں ” وہ رہانسی ہوئی تھی
” یہ بعد کی بات ہے ۔۔۔ بس یہ بتاؤں آذادی چاہتی ہو ” اس بات پر ثوبیہ ششدد سی ہوئی تھی ۔۔۔۔
” وہ کیسے ۔۔۔۔ اور کون ہیں آپ “
” میں ایک پولیس آفیسر ہوں ۔۔۔۔ اور ایسے گرہوں کو پکڑنا چاہتا ہوں جو لڑکیوں کو اس طرح سے استعمال کر رہے ہیں لیکن ان لوگوں کے ہاتھ بہت اوپر تک ہیں پھر یہ ثبوت بھی نہیں چھوڑتے ۔۔۔ اور مجھے ثبوت چاہیے ۔۔۔ وہ تب ممکن ہے جب تم میرا ساتھ دو ۔۔۔ ” ثوبیہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی
” نہیں ۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ مار ڈالیں گئے مجھے ۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ ۔۔ مجھےچھوڑیں گئے نہیں ۔۔۔۔ بہت اذیت دیں گئے ” اس کے چہرے پر صرف خوف کے رنگ تھے
” تانیہ ۔۔۔ او کے ۔۔ او کے ۔۔۔ مت دو میرا ساتھ لیکن۔۔۔ ڈرو مت ۔۔۔۔ ” تم اچھی طرح سوچ سمجھ لو ۔۔۔ کیاایسی زندگی جینی ہے تمہیں ؟
جی سکتی ہو ؟ ۔۔۔۔ جو ہر قدم پر تمہیں نئ تکلیف سے دو چار کر دے ۔۔۔۔ “
” آپ جانتے نہیں ہیں ۔۔۔ ب۔۔۔ب۔۔ہت خطرناک لوگ ہیں ۔۔۔۔۔ میری کھال اتار کے رکھ دیں گئے ۔۔۔۔ “
“میراوعدہ ہے میں شک بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔تمہیں میں یہاں سے نکال لوں گا میرے لئے بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔ کیا تم چاہتی ہو جو تمہارے ساتھ ہوا وہ اور بھی بہت سی معصوم لڑکیوں کے ساتھ ہو ؟ ” وہ بڑے پیار اور رسانیت سے اسے سمجھا رہا تھا
” نہیں میں چاہتی تو نہیں ہوں لیکن وہ سب کرنے پر مجبور ہوں جو وہ چاہتے ہیں ” ثوبیہ وہاں کی تکلیفوں سے پہلے سے ہی پریشان تھی اس لئے سہارا ملنے پر کچھ سکون سا ہوا تھا
” تم اگر ۔میری مدد کرو تو میراوعدہ ہے تمہارے ساتھ ساتھ بہت سی لڑکیاں اس عذاب سے بچ جائیں گئیں ۔۔۔
“لیکن وہ لوگ بہت تیز اور خطرناک ہیں ۔۔۔ ہر جگہ کیمرے لگے ہیں ہمیں جہاں رکھا جاتا ہے ۔۔۔باہر جانے پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر وہاں سے نکالا جاتا ہے ہمیں جگہ اندازہ تک نہیں ہے ۔۔۔۔ “
“میرا نام ۔۔۔۔۔ واجد ہے ۔۔۔۔ لیکن کلب میں میری پہچان دانیال کے نام سے کی گئ ہے ۔۔۔۔ سب مجھے دانی کے نام سے جانتے ہیں ۔۔۔۔ تمہاری وہ میڈیم روز تمہیں میرے ساتھ نہیں بھیجے گی ۔۔۔ اور ناہی میں روز تمہارے ساتھ ڈانس کروں گا ۔۔۔۔ ہم کبھی کبھی ایک دوسرے کو جوائن کیا کریں گئے ۔۔۔۔ تم بس انکے آگے کے لائحہ عمل کے بارے میں مجھے بتا دیا کرنا ۔۔۔۔ “
“لیکن “
” ڈرو مت ۔۔۔۔ میراوعدہ ہے اپناوعدہ تم سے سے نبھانے کے لیے میری جان بھی چلی گئ تو گریز نہیں کروں گا ۔۔۔۔ اور یہ واجد خان کاوعدہ ہے میں تمہیں یہاں سے آذاد کروا دوں گا اگر تم میرا ساتھ دو ۔۔۔ “
ثوبیہ اس کے بعد کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والی مثال تھی ۔۔۔۔وہ اب کچھ مطمئن سی تھی
” اب جاؤں بیڈ پر جا کر لیٹ جاؤں ” اس نے دھیرے سے ثوبیہ سے کہا وہ اٹھ کر بیڈ پر چلی گئ
صبح اٹھتے ہی وہ اسے واپس کلب چھوڑ گیا تھااپنے وعدے کے مطابق ۔۔۔۔
******……*******
نور جہاں نے کمرہ بند کر دیا جازم کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔ عبداالباسط سے ہونے والی پہلی ملاقات سے لیکر آخری ملاقات تک ہر بات اسے بتا دی
بہت خوش تھے ہم اپنی دنیا میں لیکن وہ مختصر تھی جازم ۔۔۔۔
ابھی بیس دن ہی گزرے تھے ہمیں اس فارم ہاؤس میں کہ ایک دن عبداالباسط کےاباوہاں پہنچ گئے
دروازہ عبداالباسط نے ہی کھولا تھا
ایک تھپڑ تھا جو عبداالباسط کے منہ پر پڑا تھا ۔۔۔ سامنے اپنے والد کو غصے سے بپھرے دیکھ کر گھبرا تو وہ بھی گیا تھا ۔۔۔ اس اچانک سی افتاد پر کچن میں کام کرتی آرء بھی وہیں پہنچ گئ وہ اندر داخل ہو چکے تھے ۔۔۔ آرء کو دیکھ کر نفرت سے نظریں ہٹائیں تھیں
” کون ہے یہ لڑکی ؟” سخت اور بلند لہجے میں انہوں عبداالباسط سے پوچھا
” ابا میں واپس آکر آپ کو بتانا ہی چاہتا تھا ” عبداالباسط کی بات ابھی منہ ہی تھی جب دوسرا تھپڑ اس کے منہ پڑا تھا آرء کانپ سی گئ تھی
“۔ جو پوچھ رہا ہوں اسکا جواب دو ۔۔۔ یہ کون ہے ۔۔۔ تمہارے کمرے میں اکیلی کیا کر رہی ہے ” مفتی انور نے انگلی کا اشارہ آرء کی طرف کہا
“میری بیوی ۔۔۔۔”
۔” عبداالباسط بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔ ایک کوٹھے پر ناچنے والی وحشیا کو تم بیوی کادرجہ دے رہے ہو ۔۔۔۔ ایک طوائف سے نکاح کرکے تم نے ایک پاکیزہ رشتے کو گندی گالی دی ہے ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے بے قابو ہوئے تھے
” ابا آرء ایسی نہیں ہے ۔۔ ” عبد الباسط نے اپنا لہجہ باپ کی آواز سے اونچا نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ لیکن وہ کچھ سننا ہی نہیں چاہتے تھے
” ابھی اسی وقت میرے سامنے طلاق دو اور چلتا کرو اسے یہاں سے ۔۔۔ اور تم بھی یہاں نہیں رکو گئے ۔میرے ساتھ چلو گئے ” وہ اٹل اور حتمی انداز سے فیصلہ سنا رہے تھے آرء کے آنسوں جاری ہوئے تھے
” نہیں ابا ۔۔۔ آرء میری بیوی ہے ۔۔۔ اسے میں نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔۔ ” انہوں یہ بات سن کر عبداالباسط کے دونوں جبڑے پکڑ کر بری طرح سے دبا دیے
” تم مجھے انکار کروں گئے مجھے۔۔۔۔ اپنے باپ کو اس دو ٹکے کی بکاؤں عورت کے لئے ۔۔۔۔ جو آج تمہارے بستر پر ہے لیکن کل اسی فارم ہاؤس کے مالک کی بانہوں ۔میں تھی کہو تو بلاوں اسے اس کے سامنے یہ مکر نہیں سکتی ” مفتی انور کو لگا کہ شاید بیٹا ہر بات سے انجان ہے لا علمی اور نادانی میں قدم اٹھا بیٹھا ہے اسکا منہ چھوڑ کر ایک غصیلی نگاہ آرء پر بھی ڈالی تھی جس رنگ ڈر سے لٹھے کی طرح سفید پڑ چکا تھا
” مجھے کسی کی گواہی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے کوئی سروکار نہیں کہ آرء کا ماضی کیا تھا
بس یہ جانتا ہوں کہ اب وہ میری بیوی ہے ۔۔۔۔۔ اور آئندہ ایسا کچھ نہیں کرے گی ” عبد الباسط بھی اپنے موقف پر قائم تھا
” عبداالباسط میں اس عورت کو اپنے گھر کی دہلیز پر قدم بھی رکھنے نہیں دوں گا ” وہ آرء کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے نظروں سے ہی مار ڈالیں گئے
” ٹھیک ہے ابا میں اسے بہت دور لے جاؤں گا یہاں سے ۔۔۔۔ آپ کے سامنے نہیں آئے گی لیکن ۔۔۔ ” عبد الباسط کسی طور ماننے کو تیار نہیں تھا مفتی انور نے اسکی بات مکمل نہیں ہونے دی
” عبداالباسط ہوش میں تو ہو تم ۔۔۔۔ تم مجھے ۔۔۔ اپنے باپ کو چھوڑنے کی بات کر رہے ہو اس عورت کی خاطر جس کا نام بھی ہم جیسے لوگ لینا پسند نہیں کرتے ۔۔۔۔
چھ بہنیں ہیں تمہاری ۔۔۔۔ تم نے سوچا ہے ان کا کیا ہو گا کون پوچھے تمہاری بہنوں کو۔۔۔۔ اسکی عورت کے ہوتے ہوئے میری پاک دامن بیٹیاں بھی بدنام ہو جائیں گئیں ۔۔۔ فاطمہ کا رشتہ ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔ باقی بھی واپس میری دہلیز پر آ کر بیٹھ جائیں گئیں دنیا تھوکے گی مفتی انور کے منہ پر ۔۔۔۔ کہ دنیا کو نیکی کادرس دینے والا مفتی انور ایک بازار حسن کی عورت سے بیٹے کو نا بچا سکا ۔۔۔۔ ” وہ درشتگی سے بولے غصے سے چہرہ سرخ ہوا تھا
” ابا آپ کو لوگوں کی پروا ہے دنیا کی فکر ہے ۔۔۔۔۔ میں ایک ایسی عورت کو عزت کی زندگی دینا چاہتا ہوں جو وہاں رہنا نہیں چاہتی ۔۔۔ جو ایک پاکیزہ زندگی کی خواہشمند ہے ۔۔۔ وہاں رہنا آرء کہ مجبوری تھی ۔۔۔ اور اللہ نے ایسی کئ عورتوں کے دل بدلے ہیں ۔۔۔ انہوں نے گناہ چھوڑ کر برائی کی راہ کے بجائے اچھائی کو چنا ہے ۔۔۔۔
تو ابا کیا ہمارا ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم ایک نیکی پر لوٹ آنے والے کو بے سہارا چھوڑ دیں ۔۔۔ کیا غیر مذہب کے لوگ جب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ کیا ان سے ہمیں گھن آتی ہے ۔۔۔ انہوں نے بھی پچھلی زندگی گناہوں میں گزاری ہوتی زنا کاری شراب سود یہاں تک ثور کا گوشت تک کھا چکے ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن کلمہ گو ہوتے ہی ہم انہیں کھلے دل سے گلے لگاتے ہیں ۔۔۔۔۔ انہیں اپناتے ہیں
انہیں واپس ظلمت کے اندھیروں میں دھکیل نہیں دیتے ناہی انہیں انکے کفر پر طعنے تشنے دیتے ہیں ۔۔۔۔ پھر میں کیسے اپنی بیوی کو چھوڑ دوں ۔۔۔ اسے کیوں واپس اسی جہنم میں پھنک دوں جہاں وہ جانا نہیں چاہتی اسے تحفظ کیوں نا دوں ۔۔۔۔ ” عبداالباسط کے پاس ہر بات کا جواب تھا
” لیکن میں ایسی عورت سے اپنی نسل کو پروان نہیں چڑوھا سکتا جس کا وجود پاک نا ہو ۔۔۔۔ ہمارے دین نے شادی کے لئے ایک دیندار عورت کواول ترجعی دی ہے ۔۔۔۔ خون کا بہت اثر ہوتا ہے ” مفتی انور نے ایک اور دلیل سامنے رکھی
” نسل اور خون کا اثر مجھ سے ہے ۔۔۔۔ میری اولاد کی رگوں میں عبداالباسط اور مفتی انور کا خون ہی دوڑے گا ۔۔۔۔۔۔ پاکیزگی کا تعلق گھر اور خاص قصبے سے نہیں ہوتا ۔۔۔۔ میرے اولاد میرا ماحول اور میری تربیت پائے گی
آرء کا جرم اگر یہ ہے وہ ایک کوٹھے پر پیدا ہوئی ہے تو یہ اس کا گناہ نہیں ۔۔۔اور اسکی ماں بھی نسل در نسل کوٹھہ چلانے والی نہیں ہے ابا۔۔۔۔اسکی ماں کی رگوں میں بھی شریف باپ کا خون دوڑتا ہے ۔۔۔ بس ذیادتی ہوئی تھی اسکے ساتھ ۔۔۔۔۔پاکستان کی خاطر عزت کا نظرانہ دیا ہے اس عورت نے ۔۔۔۔ لیکن ہم جیسے شرفاء نے اسے اپنانے کے بجائے دھتکار دیا ۔۔۔۔ اگر اسے بھی مفتی انور جیسا کوئی اپنا لیتا تو آرء بھی آج ایک مولوی کی بیٹی ہوتی کوٹھے میں پلنے والی نہیں ” ایک تھپڑ اور عبداالباسط کے منہ پر پڑا تھا
” مجھے ایسی خرافہ عورت کے ساتھ ملانے کی جرت بھی کیسے کی تم نے “
” جو جرت آپ میں نہیں ہے ابا وہ مجھ میں ہے ۔۔۔ جو آپ نے نہیں کیا اس کی ابتدا میں نے کر دی ۔۔۔۔ آپ کی نظر میں اگر آرء بد کردار ہے تو پاک تو پھر میں بھی نہیں ۔۔۔۔ جو اذیت اس نے ایک کوٹھے پر سہی ہے وہی میں نے بھی سہی اور کہاں یہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔۔۔۔ ” عبداالباسط کی بات مفتی انور نے پہلو بدلہ تھا
” مجھے تم سے بحث نہیں کرنی ۔۔۔۔ کل شام تک میں یہیں ہوں اپنا سامان باندھ لو ۔۔۔ تم میرے ساتھ جاؤں گئے ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔۔۔۔
******………
صبح ثوبیہ کی آنکھ کمرے میں ہونے والی مختلف آہٹوں سے ہوئی آنکھ کھلی تو یاد آیا کہ وہ کہاں کے اس لئے فورا سے اٹھ کر بیٹھ گئ سامنے چھوٹے سے ٹی ل پر دانیال ناشتہ لگا رہا
” صبح بخیر تانی ۔۔۔ اب جلدی سے اٹھ کر فریش ہو جاؤں ۔۔ مل کر ناشتہ کریں گئے اس کے تمہیں چھوڑنے بھی تو جانا جس کا میرا بلکل دل نہیں چاہ رہا ” وہ ایک دلفریب مسکراہٹ لئے بول رہا تھا ۔۔۔ ثوبیہ اٹھ کر واش روم میں چلی گئ ۔۔۔ دھلے ہوئے منہ کے ساتھ ہی باہر نکلی تھی صوفے پر دانیال کے ساتھ ہی بیٹھ گئ کل کی نسبت آج اس کے سامنے وہ گھبرائی نہیں تھی ۔۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد وہ واپس اپنا لباس تبدیل کر چکی تھی ۔۔۔ دانیال نے اسے بہت خوبصورت سے ٹوپس دیے تھے ۔۔۔
” تانیہ انہیں پہن لو اس میں کیمرہ لگا ہے ۔۔۔۔ تم جہاں جاؤں گی جس سے بھی ملو گی جو بھی کروں گی وہ سب اس میں ریکارڈ ہو گا ۔۔۔۔ مجھے تمہاری لوکیشن ملتی رہے گی ۔۔۔ یہ دیکھوں تانی یہاں ایک چھوٹا سا بٹن موجود ہے اسے آن آف ہوتا ہے بس خیال رکھنا کہ پانی سے ذرا دور رہے ۔۔۔ “
” م۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے ” ثوبیہ گھبرائی تھی
” پتہ سب لڑکیوں میں میں نے تمہارا انتخاب کیوں کیا “
” کیوں “
” کیوں کہ مجھے لگا تم کر لو گی ۔۔۔۔ اور اس۔ بات کی گواہی میرے دل نے دی تھی ۔۔۔ ویسے تو کہتے ہیں کہ پولیس والوں کے پاس دل نہیں ہوتا لیکن میرے پاس ہے ۔۔۔۔ اور میں دل کی سنتا بھی بہت ہوں ۔۔۔ اب تم میرے دل کی آواز کو جھوٹا ثابت تو مت کروں نا تانی ” وہ شوخ نظروں سے اسے دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔ ثوبیہ مسکرانے لگی
” ڈس لائیک آ گڈ گرل۔۔۔۔ “
” آپ مجھ سے روز ملا کریں گئے نا کلب میں “
” کہو تو کلب میں۔ ڈیرا جما لوں اپنا ۔۔۔ بوریہ بستر باندھ کر وہیں آ جاتا ہوں ۔۔۔۔ تمہارے دیدار میں پلکیں بچھائے دن بھر تمہارا انتظار کیا کروں گا رات کو تمہارے کلب میں آتے ہی پھول برساوں گا ۔۔۔ اور گانا بھی سناؤں گا ” اسکی اداکارہ پر وہ کھلائی تھی
” بس ایسے ہی ۔۔۔۔ ایسے ہی ہنستی رہا کرو۔ بہت کیوٹ لگتی ہو ۔۔۔ اب چلیں ورنہ تمہاری وہ جلادی قسم کی نوشین میڈیم غصے سے بھبوکا بنی بیٹھی ہو گی ۔۔۔۔”
گاڑی کی چابی سائیڈ سے اٹھاتے ہوئے دانیال نے کہا پہلی بار ثوبیہ کاواپس جانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔ ورنہ تو ہر بار اسے واپسی کی جلدی ہوتی تھی۔۔۔۔
کلب میں وہ نوشین کے پہنچنے سے پہلے پہنچایا تھا نوشین نے اسے سے مقررہ پر واپس دیکھ کر مطمئن ہوئی تھی اس نے بھی مسکرا کر نوشین کو دیکھا تھا ۔۔۔
جیسے ہی نوشین دانیال کے قریب پہنچی اس نے ثوبیہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما دیا
” بڑی بور لڑکی ہے آپکی۔۔۔۔۔ اتنا گھبراتی ہے کہ ۔۔۔ کیا بتاؤں ۔۔۔ کچھ سیکھائیں اسے کہ مردوں کا دل کیسے بہلاتے ہیں ۔۔۔ اپنی جیسی ادائیں سیکھائیں ۔۔۔ دل کو چھو جانے والی ” نوشین۔ کے گال کو دانیال نے ہاتھ پشت سے سہلایا تھا ۔۔۔ وہ ایک انداز سے مسکرائی تھی
” ابھی نئ نئ ہے سیکھ جائے گی “
” او کے نو ایشو ۔۔۔ میں اب چلو گا گڈ بائے مس دل نشیں ” یہ کہہ کر دانیال وہاں سے چلا گیا
نوشین کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔
” چلو اب واپس چلیں ” نوشین نے ثوبیہ سے کیاوہ “جی” کہتی ہوئی اس کے ساتھ چلی گئ تھی ۔۔۔۔ چند دن بعد ہی اب لڑکیاں اس سے وہ سگریٹ مانگنے لگیں تھیں ۔۔۔۔
نوشین ان تینوں سے خوش تھی لیکن ثوبیہ بڑی بے چین تھی ۔۔۔۔۔ ایک ہفتہ ہو گیا تھا دانیال روز کلب میں آ رہا تھا لیکن ایک بات بھی ثوبیہ کے قریب نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
پورے دو ہفتے بعد دانیال نے ثوبیہ کو ڈانس میں جوائن گیا تھا ۔۔۔۔
“ہائے سوئٹ ہارٹ ۔۔۔۔ آج تو بہت سوئٹ لگ رہی ہو ” دانیال کے چہرے پر وہی مطمئن بھری مسکراہٹ تھی
” اتنے دنوں بعد خیال آیا ہے میرا ” ثوبیہ نے شکوہ کیا تھا
” تمہارا خیال دل سے جاتا ہی کب ہے ۔۔۔۔ جیسے آنکھیں بند کرو تم آ جاتی ہو ۔۔۔۔ لیکن یہ دوری بھی ضروری ہے نا تانی ۔۔۔۔۔ سنو کل کالج مت جاناسر درد کا بہانہ بنا دینا کچھ بھی بہانہ کر دینا۔۔۔۔ لیکن کالج مت جانا کسی بھی صورت ۔۔۔۔ “
“لیکن کیوں “
” تانی میری جان اتنے سوال مت کیا کرو مجھ سے ۔۔۔۔ بس اچھے دوستوں کی طرح بات مانتے ہیں ۔۔۔ کل سرپرائز ملے گا تمہیں ۔۔۔۔ “
“وہ کیا “
“اگر آج بتا دیا تو ۔۔۔ سرپرائز تو نا ہوا نا یہ ٹوپس واپس کر دو مجھے ۔۔۔ بہت مہنگے ہیں اس سے زیادہ تمہیں پہنے کو نہیں دے سکتا اسی لئے ویسے ہی سستے سے بنوا کر لایا ہوں یہ پہن لو ۔۔ قسم سے جب سے تمہیں دیے ہیں میری جان ہی اٹکی رہتی ہے ڈائمنڈ کے ہیں نا اس لئے ۔۔۔ ” ثوبیہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی وہ۔ شخص اسکی سمجھ سے بلکل باہر تھا ۔۔۔ دانیال نے جیب سے ٹوپس نکال کر تانیہ کو دیے اور جب تانیہ نے کان والے ٹپس اتارنے چاہے تو وہ کنوں سے غائب تھے وہ یکلخت اچھبمے میں آئی تھی کی دونوں ٹاپس اتر کر کہاں گئے تھے وہ تو انکی تووہ بہت حفاظت کرتی تھی
لیکن دانیاں کے چہرے کی ہنسی اور آنکھ کا وینک کرنا اسے سمجھا گیا تھا کہ ڈانس کے دوران وہ اسکے ٹاپس اتار چکا ہے اب وہ اس سے دور ہٹ کر دوسری لڑکی کے ساتھ ڈانس کر رہا تھا لیکن دیکھ کر اسے ہی مسکرا رہا تھا
” یہ پولیس والا ہے یا چور ہے ۔۔۔ پتہ بھی نہیں لگنے دیا اور میرے ٹوپس بھی اتار دیے “
*****…….
رات کو دسترخواں پر پتلی پانی جیسی دال دیکھ حیا کہ بھوک مٹی تھی آپ ی قسمت پر جی بھر کر رونا آیا تھا ۔۔۔ وہی تندور کی سوکھی اکڑی روٹی۔۔۔۔ بڑی مشکل سے اس نے آدھی روٹی کھائی تھی ۔۔۔
صبح سات بجے تب نے اسے جھنجوڑ کر اٹھایا تھا ۔۔۔
“اے لڑکی اٹھوں ناشتہ بنانے کی باری تمہاری ہے ۔۔۔ “
یہ سن کر حیا کی پوری آنکھیں کی تھیں
ناشتہ سب کا ہاں ۔۔۔ چلو آؤں دیکھاوں تمہیں کہ کچن کہاں ہے “
“میں کیوں بناؤں کوئی کک نہیں ہے یہاں جو یہ سب کام کر سکے ” حیانے اٹھتے اپنا بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے پوچھا تبسم نے اسے حیرت سے دیکھا
” کیوں تمہاری اس نے تمہیں کک رکھ کر دیے تھے بی بی تم تو کہہ رہی تھیں کہ دن رات کچن سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی اب آؤں میرے ساتھ ۔۔ ایک چائے ہی بنتی ناشتے میں باقی پاپے تو بازار سے آتے ہیں ۔۔۔
بادل ناخواستہ حیا کو اٹھ کر کچن مارچ کرنا پڑا جہاں چائے ایک پتیلے میں بنانی تھی ۔۔۔۔ جس پر بھی تبسم نے اسکی مدد کی تھی ۔۔۔۔۔
پانی جیسی پتلی چائے کے چھوٹے سے کپ کے ساتھ دو پاپے یہ تھا ناشتہ ۔۔۔۔ با مشکل اس نے کہا تھا ۔۔۔ لیکن ہضم نہیں کر پائی تھی ۔۔۔۔ دوا وہ اپنی لائی نہیں تھی ۔۔۔ جس طرح کاوہسں کا ماحول تھا حیا کے لئے ممکن نہیں تھا کہ وہ وہاں رہتی ۔۔۔
پھر جس کام کے لئے آئی تھی اس کے متعلق بھی اس نے وہاں کی ہیڈ بات کی
” لیکن اسنے بھی صاف منع مت دیا
” یہ گناہ ہے ۔۔۔ میں ایسا کبھی نہیں کروا سکتی ۔۔۔ت۔پاتی ساس جو مرضی سمجھے لیکن بچہ تو تمہارا ہی ہے ۔۔۔ پھر ہم یہ کام نہیں کرواتے ۔۔۔
دیکھوں یہ مت سمجھوں کہ دارالامان کی زندگی سہولتوں۔ بھری ہوتی ہے یہاں بھی عورتوں کو بہت سے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ پھر لوگوں کی زکوۃ خیرات پر یہ ادارے چل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔
میرا مشورہ ہے ایک بار اپنے میاں سے بات کروں اسے سمجھاؤں شاید سمجھ جائے “
“اور اگر وہ نا سمجھا تو کیا آپ میری مدد کریں گی “۔” یہ گناہ کبھی نہیں کرونگی پھر تم اس بچے کو بھی یہی پال لینا ” یہ سن کر حیا کے آنسوں بہنے لگے تھے
“میں ایک کال کر سکتی ہوں “حیا کو اپنے گھر کا خیال آیا تھا
” ہاں کر لو بات “
“میں اکیلے میں بات کر سکتی ہوں “
” ہاں کیوں نہیں ۔۔ تم بات میں ذرا راؤنڈ لگا کر آتی ہوں وہ خاتون وہاں سے چلی گئیں حیا نے سلیمان کا نمبر ملایا تھا
“ہیلو ۔”
“باپ کی آواز سن کر وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی
” حیا ۔۔۔۔ حیا یہ تم ہو “
“آ۔۔آغا۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔ “بس مشکل یہ کہہ کر وہ ہچکیوں کے ساتھ روئی تھی ۔۔
” حیا کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔ کہاں ہو تم کہیں اس پروفیسر نے تو تمہیں کچھ کہا تو نہیں “
” م۔۔جھے ۔۔۔ مجھے گھر آنا ہے “
” ٹھیک کہاں ہو تم ‘
” لاہور میں ایک دارلامان میں “
“واٹ ” وہ حیرت سے اچھلے تھے
“اور وہ پروفیسر “
” میں وہاں سے بھاگ آئی ۔۔۔۔ “
“حیا میں تمہیں ابھی لینے آ جاؤں گا لیکن میری شرط وہی ہے تم اس پروفیسر پر کیس کروں گی ۔۔۔۔ “
” آغا جی ۔۔۔۔ اب وہ بات ختم ہو چکی ہے ۔۔۔”
“بسے کا کیا ہے پھر سے شروع ہو جائے گی میری بنی بنائی عزت خاک میں مل گئ ہے اسے سزا دلانے سے میرا مقام مجھے واپس مل جائے گا
“آغا جی میں نے کالج میں جھوٹ بولا تھا سر نے میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا تھا وہ بے قصور تھے “
“تو پھر تم نے یہ سب کیوں کیا “
” میں مجبور تھی وہ سب کرنے پر ۔۔۔۔ قصور وار کوئی اور ہے لیکن اگر میں نے آپ کواس نام بتا دیا تو یقینا آپ اس پر کیس نہیں کروائیں گئے نا اسے سزا دلوانے گئے “
” کیوں نہیں دلواں گا بتاؤں مجھے اس کمینے کا نام ” سلیمان غصے اور طیش سے پوچھنے لگے ایک نام تھا جو حیا کی زبان سے ادا ہوا تھا اور وہ نام سلیمان کا منہ بند کروا چکا تھا ۔۔۔ بس حیا کی سسکیاں تھیں جو بلند ہوئیں تھیں
” اس کی وجہ سے آج میں پریگننٹ ہوں ۔۔۔۔ بتائیں نا آغا جی دلوائیں گئے ۔مجھے انصاف ۔۔۔۔ کروائیں اس پر کیس ۔۔۔۔ میری لڑائی میں دیں گئے میرا ساتھ ۔۔۔چپ کیوں ہیں آغا جی جواب دیں ” وہ رو رہی تھی بلک رہی تھی لیکن آگے سے لمبی خاموشی تھی
