Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 28
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 28
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
جازم دو تین مہنے تو صرف عبداالباسط کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔ بظاہر بہت ہی اچھی عادت و اطوار کے مالک تھے ۔۔۔ خوش مزاج بھی تھے ۔۔۔ لیکن اپنے اصولوں کے بہت پابند تھے
ایک بار اساتذہ کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے پھر محفل ختم ہوتے ہی سب چلے گئے بس عبداالباسط اور جازم رہ گئے تھے عبداالباسط بھی اٹھنے لگے تو جازم نے ان سے سوال وجواب کاسلسلہ شروع کر دیا
” آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھ سکتا ہوں ” جازم کی طرف دیکھ کر وہ مسکرا کر بولے
” میری ذات سب پر ہی عیاں ہے ۔۔۔ کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ۔۔۔۔ پوچھو بیٹا کیا پوچھنا چاہتے ہو ۔۔۔۔”
” آپ نے اب تک شادی کیوں نہیں کی ۔۔۔ حالانکہ یہ سنت نبوی ہے ۔۔۔۔ ” جازم کے سوال عبداالباسط کچھ دیر چپ سے ہو گئے ۔۔۔ کچھ توقف کے بعد بولے
” شادی میں نے تھی” پیشانی پر تفکر کی گہری لکیری تھیں
” لیکن عبدالغنی نے تو۔ بتایا ہے کہ آپ نے شادی نہیں کی آپ اکیلے رہتے ہیں “
” وہ اس وقت دنیا میں آیا نہیں تھا ۔۔۔بات بہت پرانی ہو چکی ہے “
” بیوی کو چھوڑ کیوں دیا آپ نے ” جازم کی بات پر وہ ماتھے پر بل ڈالے متذبذب ہوئے تھے
” میں نے نہیں چھوڑا ۔۔۔۔بلکہ اس نے مجھے۔ چھوڑ دیا ۔۔۔ ” بڑی رنجیدگی سے عبداالباسط نے کہا
” کیوں انہوں نے کیوں چھوڑا آپ کو “
” یہ سوال تو میں نے بھی خود سے کئ بار پوچھا لیکن جواب نہیں ملا۔۔ تمہیں کیا جواب دوں ” ایک کرب تھا عبداالباسط کے چہرے پر
” کیا وہ خوش نہیں تھیں آپ کے ساتھ “
” بہت خوش تھی ۔۔۔۔ ” آنکھوں میں امڈتی نمی جیسے عبداالباسط نے دل میں اتاری تھی ۔۔۔
” تو کیا آپ خوش نہیں تھے ” ایک کڑاضبط تھا جو سام ے بیٹھے لڑکے کے سامنے کر رہا تھا
” میرے لئے تو اسکے ساتھ گزارے دن ہی متاع زندگی ہیں ۔۔۔بس ہماری راہیں الگ الگ تھی “
” اگر راہیں الگ الگ تھی۔ تو شادی سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچا “جازم کے لہجے میں تلخی اتری تھی ۔۔۔۔ تین مہنے سے وہ بھی اندر۔ بھڑکتے الاؤ کو دبائے ہوا تھا لیکن کب تک
” سوچا تھا ۔۔۔۔۔لیکن تب سب کچھ آسان لگ رہا تھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ آسان نہیں تھا ۔۔۔۔ جو قدم میں نے اٹھایا وہ نا ممکنات میں تھا ۔۔۔۔ میں اکیلا تھااس راہ پر اس لئے۔۔۔ اس لئے ہمت ہار گیا وہ ساتھ دیتی تو دنیا سے لڑ جاتا ۔۔۔ ” آواز میں بے بسی اور کپکپاہٹ تھی ۔۔۔
” ساتھ تو تب دیتی جب آپ پلٹ کر دوبارہ جہان بیگم کے کوٹھے پر جاتے ۔۔۔ ایک بار تو پلٹ کر دیکھتے شاید وہ آپ ہی کی منتظر تھی ” جازم کے منہ یہ سب سن عبداالباسط کے حواس معطل ہوئے تھے ۔۔۔
” یہ۔۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ تم۔۔ کیسے جانتے ہو ۔۔ کون ہو تم ” عبداالباسط کا تنفس بگڑا تھا
” کون ہو سکتا ہوں میں ۔۔۔۔ جو آپ سے یہ سوال کرے ۔۔ کہ میری ماں کا کیا قصور تھا ماں باپ کے حق اپنی جگہ اور بیوی کا اپنی جگہ ۔۔۔۔ “
” ماں ۔۔۔۔ تم ۔۔۔ تم ۔۔۔ آرء ” عبداالباسط ششدد سا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔
” میں جازم ہوں ۔۔۔۔ جازم عبدالباسط ۔۔۔آپ کابیٹا ” وہ تلخ لہجے سے بولا تھا
” بیٹا ۔۔۔۔۔ ” عبدالباسط کا ہاتھ سینے تک گیا تھا صبر کا پیمانہ لبریز نا ہو جائے وہ اٹھ کر وہاں سے چلے گئے ۔۔۔جازم ان کے پیچھے نہیں گیا تھا ۔۔۔۔
تکلیف تو وہ بھی سہہ سہہ کر تھک چکا تھا
*******
اندھیرے میں ارتضی صاف دیکھ نہیں پا رہا تھا ۔۔
شاید خواب تھا یا ایک خیالی عکس تھا جو اسے نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔ یا اسکی تانیہ کے لئے محبت کہ وہ اسے تصور کو چھو کر دیکھ رہا تھا اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو وہ بے یقنی سے چھو کر دیکھ رہا تھا تانیہ کے تصور کو کئ بار وہ دیکھ چکا تھا لیکن چھونے سے پہلے وہ ہوا میں تحلیل ہو جاتی تھی ۔۔۔ لیکن اس بار ایسا۔ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
” یہ آپ کیا کر رہے ہیں ” حیا پیچھے ہٹی تھی لیکن اگلے لمحے وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا
” تانی۔۔۔ تم ۔۔۔۔۔ ” اسے سینے کے ساتھ بہت زور سے بینچ لیا کہ کہیں وہ پھر سے ہوا تحلیل نا ہو جائے
اسکے وجود کے لمس کو جیسے اپنے اندر اتارنا چاہتا تھا ۔۔۔
” چھوڑیں۔ مجھے کیا کر رہے ہیں آپ ” حیا اس قدر وارفتگی کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن ارتضی کی گرفت بہت مضبوط تھی کی وہ سانس بھی ٹھیک سے نہیں لے پا رہی تھی
” نہیں تمہیں نہیں۔ چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ تم غائب ہو جاؤں چھوڑ جاؤں گی مجھے ” اسے سینے کے ساتھ
مضبوطی سے لگائے بول رہا تھا ۔۔۔۔
” بہت اکیلا ہو چکا ہے ہوں تانی بہت کڑی مسافت ہے میری کیوں چھوڑ گئ ہو تنہا مجھے اپنے جازم کو ۔۔۔۔ ” وہ اپنے کسی ٹرانس میں تھا ۔۔۔ کسی اور ہی تصور میں ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ بے خودی میں کچھ اور آگے بڑھتا لائٹ یک دم ہی روشن ہوئی تھی ۔۔۔۔ روشنی میں بھی اسکے سامنے ایک زندہ وجود بنکر کھڑی تھی
اب بھی وہ غائب نہیں ہوئی تھی لیکن خاموش تھی ۔۔۔ ایک دم چپ۔۔۔۔
ارتضی لائٹ جلتے ہی اپنی وژن سے باہر نکلا تھا تصور ہوتا تو چھٹ چکا ہوتا ۔۔۔۔ اس لئے جھٹ سے اسے خود سے جدا کیا سامنے تانیہ نہیں حیا تھی ۔۔۔ لیکن تھی تانیہ کے لباس میں اسی طرح کے انداز اپنائے ۔۔۔ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی
” تم ۔۔۔ یہاں ۔۔۔۔ اور اس حلیے میں ” ارتضی کے حلق سے آواز با مشکل نکلی تھی ۔۔۔ وہ خاموش ہی کھڑی رہی
ارتضی ہی جلدی پیچھے ہٹتے ہوئے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔ رومی ابھی بھی کچن میں موم بتی ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔ ارتضی فورا سے گھر سے ہی باہر نکلا گیا۔۔۔
تیز قدموں سے چلتے ہوئے ایک چٹان پر جا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
اپنے بے اختیار سر زد ہونے والے عمل پر ندامت سی ہوئی تھی ۔۔۔ تانیہ مر چکی ہے یہ وہ جانتا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی دل میں کہیں یہ بات اب بھی تسلیم نہیں کر پایا تھا ۔۔۔ روز اسکی تصویر دیکھتا تھا اس سے باتیں کرتا تھا اس کے ساتھ بتایا ہر لمحہ جینے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔۔ اس لئے وہ ارتضی کی تصوراتی دنیا میں اب بھی زندہ تھی ۔۔۔۔ اس لئے کبھی کسی اور لڑکی کے بارے میں وہ سوچا ہی نہیں پایا تھا ۔۔۔۔
لیکن آج اسکے تصور میں جو کچھ حیا کے ساتھ کر بیٹھا تھا ۔۔۔ خود پر جی بھر کے غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔۔
رات دیر تک وہ اسی چٹان پر بیٹھا رہا ۔۔۔
دوسری طرف حیا اسکی جسارت پر ہونق بنی کھڑی تھی ۔۔۔۔
چند لمحوں میں دل کی دنیا بدلی تھی ۔۔۔۔ جو ہوا تھا اسے غصہ آنا چاہیے تھا ۔۔۔ لیکن۔ آ نہیں رہا تھا ۔۔۔ برا لگنا چاہیے لیکن برا بھی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ ایک بار یہی حرکت ہوٹل میں لے جا کر ارسل نےاسکے ساتھ کی تھی ۔۔۔ لیکن اسوقت حیا کو لگا تھا کہ کسی جلتی ہوئی آگ نے جھلسانے کی کوشش کی ہو ۔۔۔۔ اس نے ارسل کو دھکا دے کر پیچھے ہٹایا تھا
” ہاو ڈیر کو ہگ می ارسل ” وہ چلا اٹھی تھی
” ہاو ڈیر ٹو ڈو دس حیا۔۔۔ کیا بدتمیزی ہے یہ ۔۔۔ تم کیسے مجھے دھکا دے سکتی ہو “وہ غصے سے بولا تھا
” میں تمہارا منہ بھی توڑ سکتی ہوں ۔۔ کیا سمجھا ہے تم نے مجھے ۔۔۔ ” وہ بھی غصے سے لال پیلا ہوئی تھی
” او شٹ اپ حیا ۔۔۔ کیا غلط کیا ہے میں نے ۔۔۔۔تم منگتر ہو میری ۔۔۔ “
” منگتر ہوں بیوی نہیں ہوں ۔۔۔ “وہ چلا کر بولی
“واٹ آ ربش حیا ۔۔۔ یہ کیا conservative قسم کی باتیں شروع کر دیں تم نے ۔۔۔ تمہارے لئے اتنے تحفے لایا ہوں ۔۔۔۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا تمہارے لئے اور تم ہو کہ چند گھنٹے مجھے نہیں دے سکتی “
” ارسل اگر تمہارے نزدیک ان تحفوں کی قیمت میری عزت ہے تو ۔۔ تو مجھے ضرورت نہیں ہے تمہارے کسی تحفے کی ۔۔۔۔ اگر منگنی کا مطلب یہ ہے جو تم اس ہوٹل کے کمرے میں میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہو تو میں ختم کرتی ہوں ایسے ہر رشتے کو ۔۔ تمہاری تو یہ حرکت میں آغا جی کو بتاؤں گی ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے کادروازہ کھولے باہر نکلی تھی ارسل اسکے پیچھے لپکا تھا ۔۔۔۔ لیکن ہوٹل سے نکلتے ہی وہ کیپ لیکر گھر پہنچی تھی اپنے کمرے میں جا کر خوب روئی تھی ۔۔۔۔
منگتر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا ہنسا باتیں کرنا تو سمجھ آتا تھااسے لیکن اس قسم کی نا زیبا حرکتیں حیا کو کبھی بھی پسند نہیں تھیں ۔۔۔۔۔
ارسل مسلسل اس کے کمرے کا دروازہ ناک کرتا رہا ۔۔۔ اسکی منتیں کرتا تھا یہ بھی وعدہ کرنے لگا کہ وہ دوبارہ ایسا کچھ نہیں کرے گا
” حیا اوپن ڈور بے بی آئی سوئر دوبارہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔ “
” نو ارسل ۔۔ مجھے بات نہیں کرنی تم سے جاؤں یہاں سے ” حیا نے صاف انکار کیا تھا
دو دن بعد جا کر حیا نے اپنا موڈ ٹھیک کیا تھا ۔۔۔۔
لیکن جو کچھ ابھی ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ اگر غلط تھا تو اسے غصہ آنا چاہیے تھا ۔۔۔ لیکن ایسا چاہ کر وہ ارتضی کے لئے ایسا کچھ محسوس نہیں کر رہی تھی جیسا ارسل کے لئے کیا تھا ۔۔۔ شاید وہ اپنی بیوی کی محبت میں انجانے میں یہ سب کر گیا تھا ۔۔۔ رومان جب کمرے میں آ کر بولا تب وہ تب ہوش ۔میں آئی تھی
کافی دن وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چراتے رہے تھے ۔۔۔ وقت یونہی گزرنے لگا تھا ۔۔۔ حیا نا چاہتے ہوئے بھی ارتضی کے بارے
میں۔ سوچنے لگی تھی ۔۔۔ حمیرہ دو تین بار اس سے ملنے بھی آ چکی تھی ۔۔۔
حیا آذر پر کیس کرنا چاہتی ہے یہ سن کر خوش بھی تھی ۔۔۔۔
حیا نے اسی سے پوچھ کر پہلی بار بریانی بنائی تھی اور اس بار بلکل ٹھیک بنی تھی ۔۔۔
ڈائنگ ٹیبل پر ڈنرمیں آج حمیرہ بھی بیٹھی تھی وہ بھی ارتضی کی برابر والی کرسی پر ۔۔۔ ارتضی کو لگا کہ بریانی حمیرہ نے بنائی ہے
” تھنکس حمیرہ بریانی بہت اچھی بنی ہے ۔۔۔ ” پہلا چمچ منہ لیتے ہی ارتضی نے مسکرا کر حمیرہ کی تعریف کی تھی ۔۔۔
” نو سر یہ میں نے نہیں حیا نے بنائی ہے ” ارتصی نے حیرت سے حیا کی طرف دیکھا تھا ۔۔
” رئیلی ۔۔۔ نا ممکنات میں سے ہے کہ حیا ایسا بنا لے ۔۔۔ ” حیا کا دل جل کر خاک ہوا تھا اوپر سے حمیرہ کی ہنسی نے مزید آگ لگائی تھی ۔۔۔
” کیوں ۔۔۔میں کیوں نہیں بنا سکتی ۔۔۔ ” وہ تلخ لہجے سے بولی ارتضی نے سلاد اپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا
” بنا تو تم سکتی ہو تمہارے ہاتھ کی عجیب وغریب چیز میں دیکھ چکا ہوں ۔۔۔ ” ارتضی نے حمیرہ کو حیا کی پہلی بار بنائی گئ بریانی کا قصہ مزے لیکر سنایا تھا حمیرہ کی بھی ہنسی بند نہیں ہو رہی تھی ۔اور حیا ۔۔ حیا کا دل چاہا اٹھ کر چلی جائے ۔۔۔ دوسرے دن جب ارتضی اور رومان اسکول کے لئے گھر سے نکلنے لگے تو حیا نے ارتضی سے کہا
” واپسی پر میرے لئے ایک ککنگ کی بک کے کر آئیے گا ” ارتضی نے اسے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔
” وہ کیوں ؟
” مجھے ککنگ سیکھنی ہے ” وہ تیوری چڑھا کر بولی
” تو حمیرا سے سیکھ لو ۔۔ بہت مزے کا بناتی ہے وہ “
” جی نہیں مجھے حمیرہ سے نہیں سیکھنا “
” ٹھیک ہے لا دوں گا تمہیں بک لیکن اپنے تجربے اپنی حد تک رکھنا ۔۔۔ میں اور رومی وہ نہیں کھائیں گئے “
” آپ کو کیا لگتا ہے صرف حمیرہ اچھا بنا سکتی ہے میں نہیں ‘” آنکھوں میں نمی سے اتری تھی
” ہاں مجھے سو فیصد یہی لگتا ہے تمہارے بس کی بات نہیں ہے یہ سب ” ارتضی یہ کہہ کر چلا گیا اسے ایک کک بک بھی لا دی تھی ۔۔۔۔ کچھ رومان اپنے موبائل پر اچھی اچھی ریسپی ڈاؤن لوڈ کر لیتا تھا ۔۔۔ کافی حد تک وہ بنانا سیکھ گئ تھی ۔۔۔ رومان بہت خوش تھا پورا دن اس کا حیا کے ساتھ گزرتا تھا ۔۔۔
مل کر کبھی کبھی باہر بھی چلے جاتے تھے ۔۔۔ ایک بار ارتضی سے ضد کر کے وہ مری گھومنے گئے تھے ۔۔۔ راستے سے ارتضی نے حمیرہ کو بھی ساتھ لے لیا تھا ۔۔۔ جتنی دیر بھی وہ گھومتے پھرتے رہے حمیرہ مسلسل ارتضی سے ہی باتیں کرتی رہی ۔۔۔ حیا نے نوٹ کیا تھا وہ اب ارتضی کوسر کہہ کر مخاطب نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ پہلی بار حمیرہ کا ارتضی کے ساتھ بات کرنا اسے کھل رہا تھا ۔۔۔ پھر ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لئے چلے گئے اب بھی حمیرا ارتضی کے برابر والی کرسی پر بیٹھی تھی
” اچھا تم حیا کو کمپنی دو میں ذرا کھانے کا انتظام کر کے آتا ہوں ” ارتضی یہ کہہ اٹھ کر چلا گیا رومی بھی ارتضی کے پیچھے لپکا تھا
” بابا رکیں میں آپ کے ساتھ جاؤں گا ” رومان کے جاتے ہی بات حیا نے شروع کی تھی
” حمیرہ ایک بات پوچھوں تم سے “
” ہاں پوچھوں نا حیا “
” تم ارتضی کو سر کیوں نہیں کہتی ۔۔۔ “
” کیونکہ اب تو وہ ہمارے ٹیچر نہیں ہے ۔۔۔اور نام تو تم بھی لیتی ہو “۔حمیرہ نے کا پروائی سے کندھے اچکائے تھے
” میری بات اور ہے ۔۔۔ “
” جانتی ہوں تمہاری “اور”باتوں کو بھی ۔۔۔ ارتضی نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے ۔۔۔ کہ کیس ختم ہوتے ہی یہ پیپر میرج بھی ختم ہو جائے گی ۔۔ پھر تم ارسل سے محبت کرتی ہو شادی بھی اسی سے کرنا چاہتی ہو ۔۔۔ ” حمیرہ نے جیسے اسے یاد دیا ی کروائی تھی
” ہاں یہی سچ ہے ۔۔ ارتضی ایج میں بہت بڑے ہیں ہم سے “۔حیا نے ایک جواز پیش کیا جسکی حمیرہ کے نزدیک اہمیت نہیں تھی
“دس بارہ سال کا فرق کوئی اتنا زیادہ بھی نہیں ہوتا مجھے تو انکی پرسنیلٹی شروع سے ہی ایکٹکٹو لگتی تھی اور انکا دھیمہ لہجہ اور میچورٹی او مائی گاڈ ۔۔۔ حیا تم انکے سامنے میری ذیادہ سے ذیادہ تعریف کیا کروں پلیز ۔۔۔ میں اتنی کوشش کرتی ہوں کہ وہ مجھ سے بات کیا کریں لیکن انکی تو نظریں ہی اٹھتی ہیں میری طرف ۔۔۔ بہت لئے دیے رہتے ہیں ” حمیرہ کی بات نے حیا کے دل کے جذبات کو نیا رنگ دینا شروع کیا تھا ایک جلن تھی جو حیا کا ہو رہی تھی ۔۔۔
واپسی پر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر حمیرہ بیٹھ گئ تھی اس لئے حیا کو رومان کے ساتھ پیچھے بیٹھنا پڑا
پورے راستے حمیرہ ارتضی سے مختلف موضوعات پر بات کرتی رہی وہ بس چپ چاپ سنتی رہی ۔۔۔ ارتضی سے اسکی پسند بھی پوچھتی رہی ۔۔
” میں آپکو ڈنر پر بلانا چاہتی ہوں ۔۔۔ پلیز آپ انکار نہیں کریں گئے ” حمیرہ کا گھر جب قریب آ گیا تو اس۔ نے ملتجی لہجے سے ارتضی سے کہا
” ہاں کیوں نہیں ۔۔۔ ہم آجائیں گئے “
” مجھے آپ سے کچھ ضروری بات بھی کرنی ہے کیا میں آپ کو رات میں کال کر سکتی “حمیرہ کی اس بات پر حیا کا دل جل کر خاک ہوا تھا
” جو کہنا ہے آپ ابھی کہہ دیں حمیرہ ” ارتضی نے ایسی کوئی لچک نہیں دیکھائی تھی
” نہیں ارتضی ۔۔۔ وہ کال پر ہی بتاؤ۔ گی اٹس پرسنل “۔
” ٹھیک کر لیجیے گا ” حمیرہ کو اسکی خالہ کے گھر چھوڑ کر وہ گھر آگئے رومی تو آتے ہی سوگیا تھا ۔۔۔
ایک حیا کو نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ ارتضی لاونج میں موبائل پر مصروف تھا ساتھ کافی پی رہا تھا حیا کمرے سے باہر آئی ارتضی کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر تپ سے گئ تھی
” اچھا تو یہ سب چل رہا یہاں ۔۔۔۔ فون کا انتظار ہو رہا ہے ۔۔۔ میں بھی دیکھتی ہوں کیسے بات کرتے ہیں اس حمیرہ کی بچی سے ۔۔۔” دل میں ایک مصمم ارادہ کیے اس نے چہرے پر ایسے تاثرات ڈالے جیسے تکلیف برداشت کر رہی ہو
” ارتضی میرے سر میں بہت درد سا ہو رہا ہے “حیا نے ایک ہاتھ سے سر پکڑ کر کہا ارتضی جو فون پر مصروف تھا اسکے پاس آگیا
” سر میں درد ہے ۔۔ کیوں ۔۔ “
” اب اس کیوں کاتو مجھے نہیں پتہ ۔۔ چکر بھی آ رہے ہیں ۔۔ لگ رہا ہے کہ گر جاؤں گی ” یہ کہہ وہ ڈگمگائی تھی ۔۔۔ ارتضی نے اسے پکڑ کر سنبھالا تھا
” سنبھل کر آو میرے ساتھ ” وہ اسے سہارا دیتے ہوئے بیڈ پر لایا تھا
” تم شاید تھک گئ ہو لیٹو یہاں میں تمہیں میڈسن دے دیتا ہوں تم سو جاؤں ٹھیک ہو جاؤں گی “
” نہیں میڈسن سے سر درد نہیں ہٹتا ۔۔ ہاں اگر تھوڑا سا میراسر دبا دیں تو بلکل ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ “ایک غیر متوقع بات پر وہ اچھنمبے میں آیا تھا تھا
” واٹ ۔۔۔ میں تمہارا سر دباوں ؟ حیرت ہی حیرت تھی ارتضی کے لہجے میں
” ہاں بہت درد ہو رہا ہے دبادیں گئے تو کیا فرق پڑے گا ” وہ ویسے اس سے کترانے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔ اس لئے اسے سمجھانے لگا
“حیا میری بات سمجھنے کی کوشش کرو یہ سب میں نہیں کر سکتا ۔۔۔ تم میڈسن لے لو ” ارتضی ہچکچاہٹ سے بولا ۔۔
” ایک تو آپ کی خاطر میں یہ قربانی دے رہی ہوں ۔۔۔ تا کہ آپ بے قصور ثابت ہو جائیں اور آپ ہیں کہ آپ کو میری تکلیف کا احساس تک نہیں ہے ۔۔۔ ” آنسوں تو ایک منٹ سے پہلے اسکی آنکھوں سے جاری ہوتے تھے چاہے جھوٹے کی کیوں نا ہوں
” اچھا یہ رونا بند کرو اپنا “وہ کوفت میں مبتلہ ہوا تھا ۔۔۔ حیا نے فورا سے آنسوں صاف کیے اور لیٹ گئ ۔۔۔
ارتضی اس کے برابر میں بیٹھ کر دھیرے دھیرے سے اس کاسر دبانا شروع کیا تھا ۔۔۔ لیکن جیسے ہی فون کی بیل بجی حیا نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھین کر دیکھا حمیرہ کا نام ہی سامنے جگمگا رہا تھا اس۔ نے کال کاٹ کر فون آف کر دیا
” یہ کیا حرکت ہے حیا “۔
” میرے سر درد جو رہا ہے اسکی ٹیون ۔میرے دماغ کو لگ رہی ہے ۔۔۔ پلیز فون کو آف رہنے دیں ۔۔۔ سر درد سے پھٹا جا رہا ہے میرا ۔۔۔ ” ڈرامہ کرنا تو بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اس کے لئے
” اٹس او کے آنکھیں بند کرو اپنی اور سونے کی کوشش کرو ۔۔۔ ” ارتضی نے بھی فون سائیڈ پر رکھ دیا وہ آنکھ بند کیے لیٹی رہی ۔۔۔ کچھ دیر میں سو بھی گئ تھی ۔۔۔ ارتضی جب اسے گہری نیند میں سوتے دیکھا تو اٹھ کر رومی کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
******…….
تانیہ کے انتقال کے چند دن کے جازم رومان کو فیڈر پلا کر سلا کر کچن میں گیا تھا ۔۔۔۔ تاکہ کچھ کھانے کو بنا سکے تانیہ کی اچانک موت نے چند دن تو کچھ سوجھنے ہی نہیں دیا تھا ۔۔۔۔
و ہاج اور مریم نے ہی اسے سنبھالا تھا ۔۔۔
کھانا بھی مریم نے ہی بنا کو فریز کر دیا تھا لیکن یہ سلسلہ بھی کب تک چل سکتا تھا ۔۔۔ اپنی ذمہ داریاں تو خود ہی نبھانی تھیں ۔۔۔ دال چولہے پر چڑھا کر اس نے ایک کپ چائے بنائی اور کچن سے باہر آ گیا ڈور بیل ہوئی جازم نے کپ سامنے ٹیبل پر رکھا دروازہ کھولا تو کوئی اجنبی سا شخص کھڑا تھا
,جی کون ہیں آپ “جازم نے اسے سر سے پیر تک دیکھا تھا ۔۔۔ دبلا پتلا سا اسی کی عمر کا نوجوان تھا لیکں پیلی سی رنگت کمزور وجود آنکھوں کے گرد ہلکے جازم کے لئے وہ بلکل اجنبی تھا
” کیا یہ ثوبیہ کا گھر ہے “
” جی ہاں آپ کون ٫ “
” میں شمس ہوں کیا میں اندر آ سکتا ہوں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے “اس کا نام سن کر جازم نے تاسف سے اسے دیکھا تھا پھر پیچھے ہٹ گیا وہ اندر داخل ہو گیا جازم نے دروازہ بند کیا اسے باہر ہی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
” تشریف رکھیے ” وہ خاموشی سے بیٹھ گیا جازم بھی اس کے سامنے کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا
” آپ یقینا ثوبیہ کے شوہر ہیں “شمس نے سامنے بیٹھے خوش شکل نوجوان کی طرف طرف دیکھ کر پوچھا
” جی ہاں ۔۔۔ میں اس کا شوہر ہو۔ “
” آپ شاید مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو جانتا ہوں کچھ دن پہلے ایک شاپنگ مال پر آپکو ثوبیہ کے ساتھ دیکھا تھا وہ مجھے دیکھ چیخنے چلانے لگی تھی بے ہوش ہو گئ تھی ۔۔۔ آپ نے ہی اسے تھاما تھا ۔۔۔ “
” جی میرا ہی فرض بنتا تھا کہ اپنی بیوی کو پروٹکٹ کروں ۔۔ ہر شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی وائف کو تحفظ دے ” جازم کی بات جیسے شمس کو اندر سے آرے کی کاٹ گئ تھی
” میں نے پیچھا کیا تھا آپ لوگوں کیا اس لئے یہاں آپ کا گھر ڈھونڈنےمیں مشکل نہیں ہوئی ۔۔۔ بہت دنوں سے ہمت مجتمع کر رہا تھا آپ سے اور ۔۔۔۔۔اور ثوبیہ سے ملنے کے لئے ” ثوبیہ کا نام لیتے وقت وہ ہچکچایا تھا
” کیوں ملنا چاہتے ہیں ثوبیہ سے ۔۔۔ آپ کا اسے ملنا بلکل غیر مناسبب ہے ۔۔۔ جب کے آپ اسے طلاق دے چکے ہیں ۔۔۔ ” جازم کے منہ سے یہ سن شمس کاایک رنگ آ کر گزرا تھا وہ سمجھا تھا کہ شاید جازم ہر بات سے انجان ہو گا ورنہ اسے اندر بلانے کے بجائے باہر سے۔ نکال دیتا
” میں بہت مجبورا ہو کر یہاں آیا ہوں بس ایک بار میری سن لیں ۔۔۔ احسان مند رہوں گا آپ کا ” شمس نے بہتے آنسو۔ سے اسکی التجا کی تھی
” جی فرمائیے “
” ثوبیہ کے ساتھ میں نے جو کچھ بھی کیا غلط کیا ۔۔ برا کیا ۔۔۔۔ بدلے میں میرے ساتھ بھی کچھ اچھا نہیں ہوا ۔۔۔ میری بہن میرے گناہوں کی بھنٹ چڑھ گئ بڑھاپے میں میری ماں کی عزت پامال ہو گئ وہ پاگل ہو کر ایک روڈ ایکسٹنٹ میں ماری گئ
لیکن اس وقت میرے سر پر کوئی جنون سوار تھا ثوبیہ کے بھائی نے میری بہن کو ہوس کا نشانہ بنایا تھا مجھے بس کسی طرح اسے مار کر اپنے اندر کی آگ ٹھنڈی کرنی تھی ۔۔ لیکن جب میں انکے بارے ساری معلومات اکھٹی کی تو پتہ چلا جس بس سے وہ گاؤں چھوڑ کر بھاگے تھے وہ ایک حادثے کا شکار ہو چکی تھی تمام مسافر مارے گئے تھے ۔۔۔ میں گاؤں دوبارہ رہ نہیں سکا لوگ مجھ پر لعنتیں بھجنے لگے تھے ۔۔۔ نفرت اور گھن کھاتے تھے ۔۔۔ میں واپس لاہور آ گیا وہاں ایک ورک شاپ پر کام کرنے لگا وہاں کا مالک مجھ سے بہت خوش ہوتا تھاایک دن اس نے مجھ سے کہا میں اسکی بیٹی سے شادی کر لوں ۔۔۔ وہ مجھے گھر داماد رکھ لے گا وہ کافی امیر تھا میں نے بھی انکار نہیں کیا میں نے اسکی بیٹی سے شادی کر لی وہ لڑکی بیمار بیمار سی رہتی تھی ۔۔۔ مجھ پر یہ بات بعد میں کھلی اس لڑکی کے غیر مردوں سے تعلقات تھے اور اسی وجہ سے وہ ایڈ جیسے مرض میں مبتلہ تھی
اسی سے مجھے بھی یہ بیماری لگ گئ ۔۔۔۔ اسکے باپ نے حق مہر اتنا لکھوایا تھا کہ میں چاہ کر بھی اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا وہ شخص مجھے صرف دو وقت کی روٹی دیتا تھا اور کسی گدھے کی طرح مجھ سے کام لیتا تھا ۔۔۔ مارتا بھی تھا
میں تنگ آ کر وہاں سے بھاگ گیا میں خود بیمار رہنے لگا تھا مجھے لگا شاید مجھے ثوبیہ کی بد دعا لگ گئ ہے ۔۔۔ میں نے اسے جہاں بیچا ہے وہاں رہنے والی لڑکیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے اس لئے مجھے بھی ایسی ہی لڑکی ملی جو برے کردار کی تھی
۔۔۔میں نے اپنے گاؤں کا گھر بیچا اور ساری رقم لیکر اس شخص کے پاس پہنچا جس سے میں نے ثوبیہ کا سودا کیا تھا پانچ کی جگہ اسے پندرہ لاکھ دینے چاہے کہ وہ مجھے ثوبیہ لوٹا دے ۔۔۔ لیکن وہ مجھ پر تمسخرانہ ہنسی ہسنے لگا
” جتنے نوٹوں میں تم اسے خریدنے آئے ہو ۔۔ اتنے وہ ایک رات میں مجھے کما کر دیتی ہے ۔۔۔ جاؤں یہاں سے ورنہ پولیس کے حوالے کر دو۔ گا تمہیں”
میں اس کے آگے بہت رویا گڑگڑایا کے ہاتھ جوڑے کے وہ مجھے ثوبیہ لوٹا دے لیکن اس نے مجھے دھکے دے کر باہر نکلوا دیا ۔۔ کئ دن میں اسکی منتیں کرنے جانے لگا لیکن وہ نہیں مانا ۔۔۔۔ تین سال سے اپنی اس بیماری سے لڑ رہا ہوں نا مجھے موت آتی نا ہی میری تکلیف کم ہوتی ہے ” وہ روتے ہوئے بتا رہا تھا پھر جازم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا
” بس ۔۔۔۔ بس ایک بار مجھے ثوبیہ سے معافی مانگنے دیں ۔۔۔ ایک بار مجھے اس کے پیر پکڑ کر معافی مانگنے دیں بے شک وہ مجھے مار لے ۔۔ دھکے دے مجھے گالیاں بکے میں سب کچھ سن لوں گا بس مجھے معاف کر دے ۔۔۔ شاید ۔۔۔شاید میں سکون سے مر سکوں ۔۔۔ میری اذیت کم ہو جائے ” وہ روتے ہوئے جازم کی منت کر رہا تھا
” خود پر تکلیف آئی تو تمہیں ثوبیہ یاد آ گئ ۔۔۔ جو تم سہہ رہے ہو وہ ثوبیہ کی اذیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔
” تم جیسے لڑکے مرد کہلانے کے قابل ہی نہیں ہو پہلے لڑکیوں کو اپنے محبت کے جال میں پھنساتے ہو پھر اتنی ہمت جرت بھی نہیں رکھتے کہ عزت سے انہیں اپناسکو ۔۔۔ صرف ایک بات کا جواب دومجھے اگر تمہاری بہن کو کوئی لڑکا بھاگا کر لے جاتا تو تم کیا کرتے ۔۔؟ کیا تم اس لڑکے کی بہن کو چھوڑ دیتے ۔۔۔ ؟ نہیں تم بھی اسکی بہن کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو ثوبیہ کے بھائی نے تمہاری بہن کے ساتھ کیا ۔۔۔ جیسے تم کم ظرف تھے ویساوہ بھی تھا ۔۔۔ مرد ہو کر اپنے بدلے کا نشانہ عورت کو بنانے والے خود کو مرد کہنے سے پہلے ڈوب کے مر کیوں نہیں جاتے ۔۔۔۔ ارے اگر مرد کے بچے ہو تو عزت سے اور شان سے کسی کی بہن کو اپنی عزت بناؤں ۔۔۔ ساری دنیا کے سامنے اسے بیوی کا رتبہ دو تم نے تو جہنم میں پھنک دیا تھااسے ۔۔۔ اب تمہیں معافی یاد آگئ ۔۔۔ یہ اچھا اصول ہے دنیا کا ساری زندگی دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے رہو انکی زندگی کو عبرت ناک بنا دو اور پھر جب خود پر پڑے تو بس دو لفظ معذرت کے اور چار آنسوں بہا معافی حاصل کر لو ۔۔۔ معافی چاہیے تمہیں ثوبیہ سے ؟ سامنے قبرستان ہے چند دن پہلے میں اسے اپنے ہاتھوں سے دفنا کر آیا ہوں ۔۔۔ جاؤں جا کر مانگ لو اس سے معافی ۔۔۔ تمہارے بدلے کی آگ نے مار ڈالااسے تمہاری ہوس شدہ محبت نے اس لڑکی کو ایک بیٹی سے وحشیا بنا دیا ۔۔۔۔ مرگئ ہے وہ ” جازم پہلے ہی شدت غم میں تھا اس لئے بلند لہجے میں بول رہا تھا “شمس جیسے سن کو پتھر کا ہوا تھا ۔۔۔ ہزیانی سے کیفیت میں مبتلہ ہوا
” ایسے ۔۔۔ کیسے مر سکتی ہے ۔۔۔ نہیں مر سکتی مجھے معاف کیے بغیر کسے مر سکتی ہے ۔۔۔ منی ۔۔۔ منی بھی مر گئ ۔۔ اس نے بھی مجھے معاف نہیں کیا ۔۔۔ امی ۔۔ امی بھی مجھے معاف کیے بنا مر گئیں اور ثوبی ۔۔۔۔ ثوبی بھی ۔۔۔ کس سے معافی مانگوں میں ۔۔۔۔ کس کس کے قتل کا حساب دوں گا اللہ کے سامنے ۔۔۔ میرے گناہوں کا کچھ۔ بوجھ۔ تو ہلکا ہو جاتا ۔۔۔ “شمس پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا
“کاش کہ یہ میں پہلے ہی جان جاتا ۔تو کبھی یہ سب نا کرتا ۔۔ کاش ثوبیہ کو کبھی نظر اٹھا کر دیکھتا ہی نہیں کیا ملا مجھے ۔۔۔ میری نفسی خواہش نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ” وہ کافی دیر روتا رہا تھر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
*******……..
صبح حمیرہ حیاسے ملنے پھر سے پہنچ گئ اس بار حیا کے تیور بگڑے ہوئے تھے ۔۔ کچھ دیر حمیرہ ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی پھر حیا سے پوچھنے لگی
” رات میں ارتضی کیا جلدی سو گئے تھے؟ میں نے کئ بار کال کی لیکن انہوں نے فون ہی آف کر دیا “حمیرہ کی بات سن حیا نے ہوں ظاہر کیا جیسے کچھ غیر ضروری بات یاد آئی ہو
” اوہ ہاں رات کو ۔۔۔ حمیرا ایکچلی رات کو میرے سر میں بہت درد تھا اس لئے ارتضی میراسر دبا رہے تھے ۔۔ میں ڈسٹرب نا ہو جاؤں اس لئے فون بند کر دیا ہو گا ۔۔۔ تم دن میں بات کر لیا کروں نا ۔۔۔ رات میں تو وہ میرے ساتھ ہی ہوتے ہیں ایسے میں انہیں کہاں کچھ میرے علاوہ یاد رہتا ہے ۔۔۔۔۔ ” حیا کی بات نے حمیرہ کے ہوش اڑائے تھے
“تمہارے ساتھ ۔۔ ” وہ حلق کے بل چیخ کر بولی تھی ایک غیر متوقع بات تھی جو حمیراسن رہی تھی
