Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 2

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 2

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

“حیا سنا ہے لیٹویچر کے نئے سر آئے ہیں دیکھنے میں خاصے ینگ لگتے ہیں پرسنیلٹی بھی کافی امپریسو ہے ۔۔۔” حمیرا نے حیا کے برابر بیٹھتے ہوئے کہا

” چلو اچھا ہے وہ بڈھے کھڑوس سر ابدال سے تو جان چھٹے گی ۔۔۔ “حیا نے شکر میں ہاتھ چہرے سے گھومائے حمیرا ہسنے لگی ۔۔۔۔ اسی اثنا میں جب ریسٹورنٹ والے انکل کو حیا نے کلاس میں داخل ہوتے دیکھا تو بری طرح گھبرائی تھی ابھی دو دن پہلے ہی تو وہ اسے کھڑا گھور رہا تھا ۔۔۔

“لو حیا آ گئے نئے سر “حمیرا نے سر گوشی کی ۔۔۔

“سر ۔۔۔۔ مارے گئے یار “حیا کی آنکھیں پھیل گئیں فورا سے چہرے کے آگے کتاب کر کے چہرہ چھپایا ۔۔۔ پہلی نشست پر بیٹھ کر وہ کہاں چھپ سکتی تھی ۔۔۔

“گڈ مارننگ اسٹوڈنٹ ۔۔۔ آئی ایم ارتضی ہارون یور نیو ٹیچر۔۔۔۔۔ چونکہ آج میرا پہلا دن ہے تو آج ہم صرف ایک دوسرے کا تعارف ہی سنے گئے ۔۔۔ لٹ اسٹاٹ فرسٹ رو اینڈ فرسٹ اسٹوڈنٹ ۔۔۔

اپنا نام بتاتے جائیں ۔۔۔ ” ارتضی نے کافی دوستانہ ماحول میں بات شروع کی تھی پہلی رو میں ذیادہ تر لڑکے تھے ۔۔۔ ایک ایک اسٹوڈنٹ کھڑے ہو کر اپنا نام اور مختصر تعارف کرواتا رہا تیسری رو میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی لڑکی اپنی باری پر کھڑی نہیں ہوئی تھی بس ۔۔۔ بیٹھی بیٹھی ح ح کی رٹ لگا رہی تھی ۔۔۔ جب ارتضی اسکے سامنے جا کھڑا ہوا ۔۔۔ لیکن جیسے کتاب چہرے سے ہٹی وہ حیران سا رہ گیا تھا ریسٹورنٹ والی وہی لڑکی خاصی نروس سی اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ نام تو اسکا وہ جانتا تھا ۔۔۔ کیونکہ دو دن پہلے ہی اس نے ہاتھ ملا کر اپنا تعارف کروایا تھا

” ہمم مس حیا سلیمان “

“ن۔۔نو سر” حیا نے بوکھلاہٹ کے مارے نفی میں سر ہلاتے ہوئے تردید کی ارتضی نے اپنے ابرو تعجب سے اوپر کیے

” تو کوئی اور نام ہے آپ کا ؟ فریحہ ۔۔۔۔بنش ۔۔۔۔ انابیہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ” ارتضی ہاتھ باندھے اس کے چہرے کی اڑی ہوئی ہوائیاں دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کہاں دو دن پہلے دھڑلے سے اسکے سامنے بیٹھ کر بڑے اعتماد سے چائے پی کر گئ تھی اور کہاں اب ٹھیک سے نام بھی نہیں بتا پا رہی تھی ۔۔۔۔

“یس سر۔۔۔۔ آئی مین نو سر “حیا آڑی ہوئی رنگت اور حد درجہ گھبراہٹ میں مبتلا ہوئی تھی ۔۔ کبھی اثبات میں سر ہلاتی کبھی نفی میں

” یو مین ۔۔۔ بہت سارے نام ہیں آپکے مختلف جگہ پر بتانے کے لئے الگ الگ ؟

“نو ۔۔۔۔نو سر ” حیا نے ماتھے پر نمودار ہونے والا پسینہ ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے پونچا ارتضی نے مدافعانہ انداز بات بڑھائی

“اینی وئے کلاس میں کس نام سے متعارف کرانا پسند کریں آپ ۔۔۔ مس ۔۔۔۔۔۔۔اے۔۔۔ بی ۔۔۔سی ۔۔۔۔ایکسکٹرا” ارتضی کی بات پر کلاس میں ہلکی پھلکی ہنسی کی آوازیں گونجیں تھیں ۔۔۔ حیا کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوئے تھے ۔۔۔

“ح۔۔حیا ۔۔۔ ” با مشکل ہی حیا اپنا نام بتا پائی تھی

“ناؤ سٹ ڈاؤن مس حیا ۔۔۔ اینڈ نیکسٹ ؟ ارتضی کے نزدیک اسکی بات کی اتنی اہم بھی نہیں تھی کہ وہ اس کم عمر سی لڑکی کو مزید پریشان کرتا ۔۔

“حمیرا سعید” حیا کے بیٹھتے ہی حمیرا نے کھڑے ہو کر اپناتعارف کروایا ۔۔۔

حیا کچھ متذبذب سی ہوئی تھی اسے لگا کہ وہ انکل ٹائپ شخص ساری کلاس کے سامنے اسکی اچھی خاصی کلاس لے گا لیکن اس نے کچھ کہا ہی نہیں تھا ایسے تھا جیسے اسے جانتا ہی نا ہو ۔۔۔۔

*******…….

“ثوبیہ آج کالج سے چھٹی کر لو اور سامنے میں روڈ پر آنے والی ایف الیون بس میں بیٹھ جانا ۔۔۔ “ثوبیہ کالج جانے کے لئے بس اسٹاپ کی طرف جارہی تھی جب شمس اسکے ساتھ چلتے ہوئے یہ میسج دے کر آگے بڑھ گیا ۔۔۔ اسٹاپ پر وہ اسکے ساتھ کھڑا نہیں ہوا تھا ذرا سا ہٹ کر کھڑا تھا ۔۔۔ مطلوبہ بس آتے ہی وہ بیٹھ گئ اور بس کے دوسرے دروازے سے شمس بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔ ثوبیہ کی نظریں بار بار شمس پر تھیں کہ وہ کہاں اترتا ہے دس منٹ کی مسافت کے بعد ہی شمس کے اشارے پر وہ اگلے اسٹاپ پر اتر گئ شمس بھی اتر چکا تھا ۔۔۔

گھر اور محلے سے اب وہ دور تھے اس لئے اب شمس ثوبیہ کے قریب آ گیا اور اسکا ہاتھ تھامے چلنے لگا دونوں کے چہرے پر بیک وقت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔ کچھ دور جاتے ہی ایک پبلک پارک نظر آنے پر ثوبیہ سمجھ گئ کہ آج کا دن شمس کے نام ہے ۔۔۔ دونوں ہی پارک میں داخل ہوتے ہی ایک خالی بیچ دیکھ کر اسکی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔ صبح صبح کا وقت رش تو نا ہونے کے برابر تھا کہیں کہیں کچھ نو جوان اور درمیانہ عمر کے لوگ ٹریک پر واک کر چکنے کے بعد اپنے گھر کی رہ لے رہے تھے ۔۔۔۔ دھوپ نکل چکی تھی پارک میں زیادہ تر سناٹے کا راج تھا لیکن پھر بھی شمس نے ایک کونے کی بینچ پر بیٹھنے کو ترجعی دی ۔۔۔ وہاں بیٹھ کر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف محبت پاش نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

آگ تو دونوں جانب برابر لگی تھی ۔۔۔۔ پھر مسکراتے ہوئے ثوبیہ نے نظریں جھکائیں

” منی سے خط ملا تھا میرا ” ثوبیہ نے شرماتے ہوئے بات کی شروعات کی

“ہاں ملا تھا ۔۔۔ ایک دم بکواس تھا میں نے ایک نظر پڑھ کر پھاڑ کر پھنک دیا “شمس کی بات پر ثوبیہ نے خفگی سے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔

” کیوں شمس میں نے اتنی محبت سے لکھا تھا “وہ منمناتے ہوئے شکوہ کرنے لگی

“لیکن اس میں محبت تھی کہاں ۔۔۔مجھے تو دیکھی نہیں ۔۔۔” آئی لو یو شمس ۔۔۔ مجھے آپ یاد آتے ہیں میں آپکے بنا جی نہیں سکتی” اس قسم کی باتوں کو تم اگر محبت کہتی ہو تو میرے نزدیک یہ بکواس ہے ۔۔۔۔ میرے خط پڑھیں ہیں کبھی تم نے ؟۔۔۔ وہ ہے اصل ۔محبت۔۔۔ نیندیں اڑا دینے والی ۔۔۔ بے چین کر دینے والی ۔۔۔ خط پڑھوں تو لگے کہ تم میرے ساتھ ہی موجود ہو ۔۔۔۔ اپنی سانسوں میں مجھے تمہاری سانسوں کا احساس ہونے لگے ۔۔۔ سمجھی “شمس کی بے تابیاں اور بے باکیاں عروج پر تھی ثوبیہ کے ہاتھوں میں تری اتری تھی چہرے پر پیسنے سے آنے لگے وہ تو اس کا خط کئ بے باک جمعلوں ہر بند کر دیتی تھی ۔۔۔۔ کئ بار اپنی ہمتوں کو ۔مجتع کر کے پڑھتی تھی اور اب تو وہ خود اسکے برابر میں بیٹھا اس کے کان کے قریب ہو کر بول رہا تھا ۔۔۔۔ دل کا اچھلنا لازمی امر تھا ۔۔۔۔ ثوبیہ کچھ پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ شمس اسکی کیفت سے حظ اٹھاتے ہوئے مسکرایا تھا

” ثوبی تمہارے بغیر رات نہیں کٹی یار قسم سے ۔۔۔ “لہجے میں خمار تھا

“تو ابا سے رشتہ مانگ لو میرا “ثوبیہ نے لجھاتے ہوئے کہا ۔۔۔ دن رات تو اس کے بھی مشکل سے کٹ رہے تھے ۔۔۔

“مانگ تو لوں مگر تمہارے بات کے خواب بڑے اونچے ہیں ۔۔۔ ایک ورک شاپ پر کام کرنے والا مکینک انہیں اپنی اکلوتی بیٹی کے لئے قبول نہیں ہے ۔۔۔”شمس کے چہرے پر اب ناگواری سی اتری آئی تھی

” ایک بار مانگ کر تو دیکھوں شمس ۔۔۔ شاید مان جائیں ” ثوبیہ کے دل میں اب بھی امید کی شمع روشن تھی

“اور اگر انہوں نے انکار کر دیا تو ۔۔۔ تم ساتھ دو گی میرا ۔۔۔۔ اپنے باپ اور بھائی کے سامنے ڈٹ کے کھڑی ہو پاؤں گی ثوبی ” بات تو سچ تھی باپ کے سامنے اسکی زبان نہیں کھلتی تھی انکی مخالفت میں کھڑے ہونے کاسوچ کر جان لبوں پر آئی تھی بے اختیار سر نفی میں ہلا تھا

“تو پھر ہم یونہی اپنی محبت کو نا کام ہوتادیکھے گئے ۔۔۔؟’ ثوبیہ کی آنکھوں میں نمی اتری تھی ۔۔۔

“نہیں ثوبی ۔۔۔۔ ہم کوٹ میرج کریں گئے ” ایک بم تھا کو ثوبیہ کے سر پر پھٹا تھا ۔۔۔۔

“ابا مجھے جان سے مار ڈالیں گئے ؟ ثوبیہ کے آنسوں اب بہنے لگے تھے

” دیکھوں ثوبی میری بات سنو ۔۔۔۔ اگر میں نے تمہارے گھر رشتہ بھیج بھی دیاتو انکار ہی ہو گا اور اسکے بعد اگر میں نے تم سے کوٹ میرج کی تو ساراشک مجھ پر جائے گا ۔۔۔۔ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ چپ رہوں میں خاموشی سے تم سے کوٹ میرج کروں گا ۔۔۔۔ اسکے بعد جب معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا تب امی اور منی کو لیکر ہم یہ شہر ہی چھوڑ دیں گئے کسی کو کان وکان خبر نہیں ہو گی ۔۔۔”شمس کی بات کچھ کچھ ثوبیہ کو ٹھیک لگ رہی تھی اگر وہ اپنی فیملی قبل از وقت کہیں اور شفٹ کرتا تو تب۔بھی شک اسی پر جاتا اس طرح سانپ بھی مر جائے گااور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گئ ۔۔۔۔ثوبیہ اب اسی نہج پر سوچنے لگی تھی ۔۔۔۔۔

********……..

پریڈ ختم ہوتے ہی حیا نے پر سکون سنا لیا تھا ۔۔۔۔ بال بال بچی تھی ۔۔۔۔۔ گھر پہنچی تو آج خلاف توقع زوبیہ بیگم (حیا کی ماں )سامنے صوفے پر بیٹھی نظر آ گئ ورنہ تو سوشل ورک کے سلسلے میں اسے کہاں فرصت تھی کہ بیٹی پر بھی توجہ دیدیں ۔۔۔۔

“او موم شکر ہے آپ کوگھر پر تو دیکھا ورنہ تو ہر وقت کہیں نا کہیں غائب رہتی ہیں ۔۔”حیا صوفے پر ہی بیٹھ گئ تھی زوبیہ بیگم نے ساڑھی کا پلو ٹھیک کیا ۔۔۔۔

” میری جان تمہاری موم عام ماؤں جیسی تھوڑی ہے جو کچن میں خود کو جلاتی رہیں ۔۔۔۔ “ناک چڑھا کر چہرے پر ناگواری لا کر زوبیہ بیگم نے کہا تھا ۔

“او کے موم میں ذراچینج کر کے آتی ہوں آج لنچ مل کر کریں گئے “حیا یہ کہہ کر اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔

******…..

بابا ڈنر کب ریڈی ہو گا بھوک سے میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ” رومان چھوٹے سے لاونج کے ٹیبل پر بیٹھا با آواز بلند بولا کچن میں ارتضی اپرن باندھے جلدی سے تیار شدہ یخنی میں چاول ڈالتے ہوئے ہی بولا

“بس بیس منٹ بیٹا ۔۔۔ ڈنڑ ریڈی ہو جائے گا ۔۔۔ ” چاول ڈالنے کے بعد ارتضی نے کفگیر سے ہلا کر چاول برابر کیے اور ہتھیلی پر ذرا سی یخنی ڈال کر نمک چکھنے لگا

“پر فیکٹ”نمک کا اندازہ لگاتے ہی بولا اور ڈھکن رکھنے کے بعد اب کٹنگ بورڈ پر پیار اور کھیرا رکھے تیزی سے سلاد بنانے لگا رومان کچن میں ہی داخل ہو چکا تھا

“بیس منٹ میں تو چوہے مجھے ہی کھا کر نگل جائیں گئے ۔۔۔۔ ” رومان کے منہ بسورنے پر ارتضی ذرا سا مسکرایا

“اب آ ہی گئے تو بابا کی ہیلپ کر دو “

“جی فرمائیے مجھے معلوم ہے میرے بغیر تو آپ کچھ کر ہی نہیں سکتے “رومان نے جلے دل سے کہا

“فریج میں سے دہی نکالو اور رائتہ بناؤں ۔۔۔میں تب تک سیلڈ بنا لوں ۔۔۔۔ ” پیاز کاٹتے ہوئے پسنے کے ساتھ ساتھ ارتضی اپنی آنکھوں میں آنے والے پانی کو بھی آستین سے صاف کرنے لگا ۔۔۔۔ رومان نے فریج سے دہی نکالی اور اسے پھٹنے لگا ۔۔۔۔

“بابا آپ کو نہیں لگتا کہ اس گھر کو ایک عدد خاتون کی ضرورت ہے !”

“یس مائے چائلڈ مجھے پتہ ہے ۔۔۔ لیکن پچھلی جاب سے پوسبل نہیں تھا تنخواہ کم تھی اسلئے میں یہ خرچہ افوڈ نہیں کرسکتا تھا لیکن اب پوسبل ہے ۔۔بس ایک مہنہ رک جاؤں جیسے ہی تنخواہ ملے گی میں ایک خاتون کو رکھ لوں گا جو گھر کے کام کاج کے ساتھ کھانا بھی بنا دیا کرے گی ۔۔۔ “

“یہ تو temporary solution ہے بابا کچھ permanent solution کے بارے میں سوچیں ۔۔۔ “رومان کی ذو معنی بات پر ارتضی کی مسکراہٹ گہری ہوئی

“اس کے لئے تم بہت چھوٹے ہو کم از کم بھی بارہ تیرہ سال کاانتظار تو لازمی ہے ۔۔۔۔ “ارتضی کی بات رومان نے اپنی آنکھیں پھیلا کر باپ کو دیکھا تھا دہی کا باول شلف پر رکھ کر اب وہ نمک کالی مرچ اور زیرے کے ڈبے اٹھائے شلف پر رکھ کر دہی میں ڈالتے ہوئے بولا

“آپ بھی شادی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ “

“ارے میری جان پھر کہوں گئے سوتیلی ماں ظلم کرتی ہے ۔۔۔۔ آپ کو مجھ سے دور کر دیا ہے ۔۔۔ مجھے کھانے کو نہیں دیتی ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ “ارتضی نے ہر بات کی طرح اس بار بھی بات ہوا میں اڑائی تھی۔۔۔۔

“نو بابا میں بہت اچھا بچہ ہوں ان سے دوستی کر لوں گا ۔۔۔۔ لیکن یہ روز روز کچن کے کام مجھ سے نہیں ہوتے ۔۔۔۔ “وہ دہی میں سب کچھ مکس کرتے ہوئے کوفت زدہ منہ بنا کر بولا

” ارتضی کاسلاد تیار ہو چکا تھا اس لئے شیلف پر بکھری چیزیں سمیٹنے لگا ۔۔۔۔

” ہمم شادی تو میں نہیں کروں یہ فائنل ہے ہاں اگر کوئی لڑکی پرمنٹ طور پر یہاں آئی تو وہ میری بہو ہو گئ ڈیس فائنل ۔۔۔۔ لیکن ایک مہنے کی بات ہے میں کوئی انتظام کر دوں گا ۔۔۔ اب تم یہ رائتہ اور سلاد باہر ٹیبل پر رکھوں ۔۔۔ پلاو بھی ریڈی ہو چکا ہے ۔۔۔ بس میں لا رہا ہوں ۔۔۔ “ارتضی اب ڈھکن ہٹاکرچاول ڈش میں نکالنے لگا ….. تین کمروں کے اس چھوٹے سے فلیٹ میں بس دو ہی نفوس رہتے تھے ۔۔۔۔ اسکول سے آکر رومان کو سارے بکھرے سمیٹنے پڑتے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ ارتضی لیٹ ہی گھر پہنچتا تھا ۔۔۔۔ کھانا تو فریج میں موجود ہوتا تھا لیکن تنہائی سے کبھی کبھی رومان گھبرانے لگتا تھا ۔۔۔۔ ٹی وی بھی کتنا دیکھتا ۔۔۔۔ بس ارتضی کے آتے ہی اس کے ,شکوے گلے شروع ہو جاتے تھے ۔۔۔۔ کئ بار رومان اس سے دوسری شادی کے لئے کہہ چکا تھا اور ہر بار ایک ہی جواب تھا کہ شادی نہیں کروں گا ۔۔۔۔

******……..

” اری نیلو کمبخت ماری کاہے تو نے میرا نیا جوڑا پہن کر خراب کیا ہے ۔۔۔ ” آرء نے کبڈ سے اپنا جوڑا نکالا کر سامنے پلنگ کر بیٹھی نیلو کے سامنے پھنکا دبلے پتلے نازک کے وجود پر گھٹنوں تک چونٹ والا فراک پہنے وہ تیوری چڑھائے بولی

” ہاں تو جہان بیگم بھی تجھے ہی نئے جوڑے لا کر دتیں ہیں جیسے تو ہی سگی ہے ۔۔۔۔ ہم بھی تو کما کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ کا ہوا جو پہن لیا ۔۔۔۔ ” نیلو اپنی ناک میں پہنی چھوٹی سی بالی نما لونگ ٹھیک کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ چست قمیض پر پورا میک کیے وہ گندمی رنگت میں بھی جچ رہی تھی

“اپنا وجود دیکھ تو اسکی ساری سلائی تک نکل گئ ہے ۔۔۔ کمبخت آج کیا پہنوں گی میں ۔۔۔ ” آرء نے اسکے متناسب بھرے جسم کو دیکھ کر ابرو چڑھا کر خفگی سے کہا

“چھوڑ نا آرء آ تجھے ایک چیز دیکھاوں “۔۔۔ نیلو کے بلانے پر آرء اسکے پاس آ کر بیٹھ گئ نیلو نے پرس سے ایک سونے کی چین نکال کر دیکھائی

” اس موٹے نے دی ہے “آرء نے چین ہاتھ میں پکڑے دیکھتے ہوئے پوچھا

“ہاں کہہ رہا تھا بیوی کی چوری کر کے لایا ہے ۔۔۔ میرے لئے ” نیلو کی بتیسی بند نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ آرء نے تاسف سے اسے دیکھا

” بیوی کی اترن تو چوری کر کے دے سکتا ہے تجھے۔۔۔ پر ۔۔۔ بیوی جیسی عجت اور مقام ناہی دے گا ۔۔۔ وہ تواسکی بیوی کے پاس ہی رہے گا ۔۔۔۔ ” آرء نے چین واپس کرتے ہوئے افسردگی سے کہا

“ایسی باتیں کاہے کرتی ہے آرء۔۔۔ ہم ان لوگوں میں سے ناہی ہیں ۔۔۔ جو عجت (عزت) کی بات کریں

” ہاں ہیں تو ناہی ۔۔۔ پر نیلو کیا تیرا دل کبھی نا چاہے کہ ہمارا بھی ایک گھر ہو ۔۔۔ ایک ہی مرد ہو جو پیار کے ساتھ عجت دے ۔۔۔۔ عام عورتوں والی زندگی کتنی حسین ہوتی ہیں نا ۔۔۔۔ “ایک ٹھنڈی آہ تھی جو بے اختیار آرء کے دل سے نکلی تھی حسرت بھری

” ایسا کب ہوتا ہے آرء یہ مرد سونا چاندی ہی دے سکتے ہیں ۔۔۔ عجت ناہی ” نیلو نے چین اپنے گلے میں پہن لی

“مجھے گھن آتی ہے نیلو ۔۔۔ ہر روج(روز) ایک نیا مرد ۔۔۔ کبھی دن میں ایک بار ۔۔۔۔ کبھی دو بار ۔۔۔۔ اور جو جہالت وہ بیوی سے ناہی کر سکے وہ چند لال نوٹ دیکھا کر وحشیوں کی طرح ہم سے کرتے ہیں جیسے ہم بے جان ہیں ۔۔۔ گوشت پوست سے ناہی کسی اور مٹی گارے سے بنی ہیں ۔۔۔ کوئی گری ہوئی گھٹیا سی گندی مٹی سے گوندی ہوئی مٹی سے بنی مورتیں ہووے ہیں ۔۔۔ کبھی سوچتی ہوں کاہے یہاں پیدا ہو گئ آرء۔۔۔ ۔۔۔۔ آرء نے کون سا گناہ کیا تھا ۔۔۔ جہان بیگم کی سزا آرء ۔۔۔کاہے بھکت رہی ہے ۔۔۔ کب تک ہم بکتے رہیں گئے ۔۔۔۔جانتی مجھے اپنا آپ بے وقعت لگتا ہے ۔۔۔۔لگتا ہے جیسے میرا حسن عام ہے ہر مرد کے لئے ہے ۔۔۔۔ کسی ایک کے لئے خاص نہیں ہے ۔۔ ہائے کاش میں بھی کسی ایک مرد کے لئے خاص ہوتی ” حسرت تھی جو لبوں تک آئی تھی ۔۔۔ (عورت کی فطری خواہش ۔۔۔ اپنا گھر عزت کی زندگی ۔۔۔ لیکن یہ چین بھی کہا۔ ہر عورت کے نصیب میں ہوتا ہے ۔۔۔ )

” ایسا کاہے سوچ رہی ہے پگلی ۔۔۔ یہ توریت سی بن گئ ہے ۔۔۔ ڈاکٹر کا بچہ ڈاکٹر بنے نا بنے وحشیا کی بیٹی وحشیا ہی بنتی ہے کچھ اور ناہی ۔۔۔۔ “نیلو یہ کہہ کر اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔ آرء اسے دیکھتی رہ گئ ۔۔۔۔

*****……..

عبدالباسط چند دن تو اپنے جذبات پر قابو پاتارہا ۔۔۔ لیکن آرء اسکے دل پر اپنے حسن کا آرا چلا چکی تھی ۔۔۔۔ اس لئے چند کے بعد دن وقت وہ وہاں پہنچ گیا ۔۔۔۔ لیکن یونہی ملاقات کرنے کی اجازت نہیں ملی پیسوں کے بنا تو کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے مایوس ہو کر لوٹا تھا ۔۔۔۔ اب نوکری کا خیال آنے لگا ۔۔۔۔ کہیں نا کہیں سے پیسوں کی آمدنی کا ذریعہ بنے تو تب ہی وہ آرء سے مل سکتا تھا ۔۔۔۔

عبد الباسط نے اپنے والد سے کہا کہ حفظ اسکے بس کی بات نہیں وہ اسے کسی فیکڑی میں نوکری لگوا دیں تا کہ ان کا ہاتھ بٹ سکے مفتی صاحب نے ذرا سی پیش رفت کے بعد ہامی بھر لی اور چند دنوں میں اسے ایک سمنٹ سے بلاک بنانے والی فیکڑی میں نوکری بھی لگوا دی تعلیم اس نے بس میڑک تک حاصل کی تھی ۔۔۔ لیکن وہاں کام مزدوروں کی طرح کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔ ایک تو عادت نہیں تھی لیکن محبت کا نیا نیا خمار چڑھا تھا اس لئے لگن جستجوں بھی بڑھتی گئی ۔۔۔ ایک مہنے کی کمر توڑ محنت کے نتیجے میں ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے تنخواہ لیتے ہوئے سب سے پہلے آرء کا خیال آیا آدھی سے زیادہ تنخواہ ماں کے ہاتھ میں رکھی اور چند ہزار اپنی جیب میں ۔۔۔۔۔ رات کا بڑی بے صبری سے انتظار کیا تھا ۔۔۔۔ رات جب وہ وہاں پہنچا آرء کا ہی رقص چل رہا تھا ایک کونے میں بیٹھ کر اسے دیکھتا رہا وہی پہلی بار والی کیفت تھی لگتا تھاساراصحن خالی ہے بس وہ اکیلا بیٹھا اس کارقص دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہی دلفریب سی مسکراہٹ سے پڑتا ڈمپل گوری کلائیوں میں پہنی چوڑیاں کانوں میں جھولتے آویزے کہاں کہاں اسکے اندر حشر بھرپا کر رہے تھے یہ وہی جانتا تھا ۔۔۔۔ رقص ختم ہوتے ہی پہلے عبدالباسط ہی جہان بیگم کے پاس پہنچا تھا جو سودے بازی کرتی تھی ۔۔۔۔

“بول ببوا کیا چاہیے “

“آرء” عبدالباسط نے برجستہ کہا ۔۔۔۔

“ہمم پیسے لایا ہے؟ “

“ہاں آج تو جیب بھر کے لایا ہوں ” جیب سے کئ لال نوٹ نکال کر سامنے بیٹھی عورت کے ہاتھ میں رکھے اسکی آنکھیں چمکیں جلدی سے پیسے گننے پھر مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔

” جا وہ سامنے ہے میری آرء کا کمرہ ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر تیز قدموں سے آگے بڑھا تھا ۔۔۔۔ لیکن کمرے کے سامنے جا کر رک گیا دل کی بے چینی بڑھی تھی بے یقنی تھی کہ خواب ہے یا سچ میں وہ اسے دیکھے گا ۔۔۔۔

پھر دروازہ دھڑکتے دل کے ساتھ کھولا تھاوہ سامنے بیڈ پر ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔ وہی آدھے چہرے کو چھپائے ۔۔۔۔ عبدالباسط نے دروازہ بند کیا اور اسکے پاس بیٹھ گیا لیکن لفظ ذہن سے محو تھے کیا کہے کیا نا کہے ۔۔۔۔ جب خاموشی نے طول پکڑا تو آرء نے ہی بات ،شروع کی

” کاہے چپ ہو بابو ۔۔۔۔ گونگے ہو کا ” اس کا لب ولہجہ الگ تھا…۔۔

“نہیں جی۔۔۔۔ بس یقین۔ نہیں آ رہا کہ ۔۔۔۔آ۔۔۔آپ سچ میں سامنے ہیں ۔۔۔ کیا میں آپ کو دیکھ سکتا ہوں ” عجیب سی فرمائش تھی ۔۔۔۔ عجیب سا ادب تھا ۔۔۔ بھلا پیسے سے خریدی ہوئی عورت کے ساتھ کون آپ جناب کرتا ہے ۔۔۔ پھردیکھنے کی اجازت ۔۔۔۔ کون مانگتا ہے ؟۔۔۔۔ قیمت ادا کر کے بھی اجازت مانگ رہا تھا ۔۔۔ عجیب شخص تھا ۔۔۔ اور مروت برت بھی لی تھی تو اجازت بھی صرف دیکھنے کی مانگی ۔۔۔۔ ڈوپٹے کی آڑ سے تو آراء بھی اسے دیکھ نہیں پائی تھی اس لئے اپنا گھوگھٹ خود ہی الٹ دیا ۔۔۔۔۔ عبدالباسط سانس لینا بھول گیا تھا جتنے تصوراسکے حسن کے باندھ کے آیا تھا وہ ان سب سے ذیادہ حسین تھی ۔۔۔۔۔ آرء کی نظر اس لڑکے کے چہرے سے ہوتی ہوئی بس پیشانی پر جا کر رک گئ تھی ۔۔۔۔ ماتھے پر واضع سجدے کا گہرا نشان موجود تھا ۔۔۔۔ ایک پل کو ٹھٹکی تھی ۔۔۔۔ لیکن عبدالباسط کی نظریں ہٹنے سے انکاری تھیں ۔۔۔۔ آراء نے اسے سر سے پیر تک دیکھا ۔۔۔۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا ۔۔۔۔ چہرے اور آنکھوں میں ہواس کا شائبہ تک نہیں تھا بس دیکھنے کی تاب تھی ۔۔۔۔ نوجواں کے منہ سے نا شراب کی بو آ رہی تھی نا پان کی پیک کی بھرت۔۔۔ کہ جس کے بولنے سے چھینٹے آرء کے منہ پر آتے نا چہرے پر خباثت نا نظروں میں آر پار چیرتی تیزی ۔۔۔ چہرہ پر نور تھا ۔۔۔۔ کچھ پل تو سمجھ نہیں پائی کہ وہ ہے کون۔۔۔۔ کوئی نیک خدا کا بندہ لگ رہا تھا ۔۔۔ اگر واقع بندہ خدا تھا تو یہاں کیوں تھا ۔۔۔ اسی جگہ پر۔۔؟ جہاں نیک لوگ دور سے دیکھتے ہی راستہ پلٹ لیتے ہیں

“مولوی ہو کا۔۔۔؟ آرء نے دل میں آنے والا پہلا خدشہ بیان کیا

“نہیں۔۔۔۔ مولوی کا بیٹا ہوں ” عبدالباسط نے جواب دیا ۔۔۔ لیکن نظریں نہیں ہٹائیں تھیں ایک ٹک دیکھ رہا تھا بنا آنکھ چھپائے ۔۔۔ آرء بے ساختہ ہنسی تھی

“بابو۔۔۔ مولوی کے بیٹے کا کوٹھے پے کا کام ؟” آرء متذبذب سی ہوئی تھی

” مجھے اچھی لگی تھیں آپ ” وہ اب بھی کسی وژن میں بول رہا تھا آرء اسے دیکھتے ہوئے بولی

“ہممم اچھا چل تیری مرجی ۔۔۔۔ ” آرء نے ڈوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ تنگ اور چست لباس اسکے وجود کو ظاہر کرنے لگا ۔۔۔ عبدالباسط بدک کر پیچھے ہٹا تھا نظریں بھی آرء سے ہٹا لیں ۔۔۔ آرء کو اسکی اس حرکت پر حیرت ہوئی تھی

“سنو اپنا ڈوپٹہ اوڑھوں”چہرے کا رخ بدل کر نظریں دوسری جانب کر کے سرخ چہرے سے عبدالباسط نے کہا آرء جتنا بھی حیران ہوتی کم تھا

“کاہے ڈوپٹہ اوڈھو بابو ۔۔۔۔” آرء اس لڑکے کو سمجھ نہیں پارہی تھی ۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے

عبدالباسط نے سائیڈ پر رکھا ڈوپٹہ اسکی طرف کھول کر پھینکا ۔۔۔ ڈوپٹہ اسے دوبارہ سے چھپا چکا تھا

“میں صرف تمہیں دیکھنے کے ارادے سے آیا ہوں۔۔۔۔ بے حجاب کرنے نہیں آیا ۔۔۔ “حیرت ہی حیرت تھی آتی کی آنکھوں میں ۔۔۔ سامنے بیٹھا شخص پاگل تھا ۔۔۔۔ یا دیوانہ۔۔۔ “

“اماں کو کتنے نوٹ دے کر آیا ہے بابو ؟ آرء کو لگا شاید پیسوں کی کمی ہو گی ہو گی مولوی ہے تو کچھ ایمانداری دیکھا رہا ہے ۔۔۔۔

” پتہ نہیں جتنے جیب میں تھے سارے دے دیےشاید دو ہزار ” اسکی بات پر آتے حیران ہوئی تھی

“دو ہجار ۔۔۔دیے تو نے اماں کو ۔۔۔ اتنے سارے پیسے دے کر تجھے بس دیکھنے کی اجازت ملی ہے ۔۔۔ ٹہر پوچھتی ہوں میں اماں سے “

آرء اٹھنے لگی لیکن عبدالباسط کی پکار پر رک گئ

” نہیں انہوں نے مانگے نہیں تھے بس میں نے خود دیے ہیں ۔۔۔ اور مجھ پر پابندی بھی نہیں لگائی ۔۔۔”

“تو پھر کاہے کو مغج ماری کرتا ہے آرء کے ساتھ۔۔۔۔” آرء واپس بیٹھ گئ

” میں آپ کوصرف دیکھنا چاہتا ہوں ” آرء کو لگا شاید دماغ کا کچھ کھسکا ہوا ہے اس لئے بار بار اسے جانچتی نظروں سے دیکھ رہی تھی

“میں نے تو سنا تھا کہ موفت کی شراب تو قاری بھی نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔ تو نے اس رات کے پیسے بھرے ہیں بابو۔۔۔۔ پھر کیا صرف دیکھ کر جی بھر جائے گا تیرا ۔۔۔۔ ؟ آرء کو حیرت ہوئی تھی

“آپکو دیکھنے کے لئے ہی تو پورا مہینہ محنت مزدوری کی ہے اینٹیں پتھر اٹھائے ہیں ۔۔۔۔ پھر جا کر یہ دن نصیب ہوا ہے ۔۔۔۔ ” عبدالباسط کی بات سن کر آرء کو لگا غش کھا کر گر پڑے گی کون تھا یہ شخص کیسی باتیں تھیں اسکی کئ سالوں سے آنے والے مردوں سے الگ۔۔۔۔ یہاں نواب۔۔۔ ریئس ۔۔۔ امیر زادے دولت مند اپنے پیسے لوٹانے اور دل بہلانے تو آتے رہتے تھے یہ کیسا شخص تھا جو مہینہ بھرمحنت مزدوری کر کے اپنی جمع پونجی ایک ہی رات میں تھما کر صرف اسے دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ آرء نے بے ساختہ اسکے ہاتھ پکڑ کر دیکھے جو کام کے باعث چھالوں سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔۔ پھر اسکے چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔ جہاں نا خباثت تھی نا نوچ کھانے کی کوئی آرزو ۔۔۔ بس دیکھنے کی تاب تھی آنکھوں کی پیاس تھی ۔۔۔۔ پہلی بار آرء کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔۔۔لیکن آنسوں کہیں اندر گرے تھے ۔۔۔۔ عبدالباسط کی نظریں اب بھی اس کا طواف کر رہیں تھیں ۔۔۔۔

“کاہے اپنے ہاتھوں پر جلم (ظلم) کیا بابو ۔۔۔ ؟ پر نم آنکھوں سے اور گوگیر لہجے سے پوچھا

“آپکودیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ ” عبدالباسط کی آنکھوں میں صرف سچائی تھی

“مجھے دیکھنے کے لئے ۔۔۔۔ کاہے ہاتھوں کو بگاڑ کے رکھ دیا ۔۔۔ مجھ میں کچھ بھی تو خاص ناہی ۔۔۔ ۔۔۔ “آتی کو نا جانے کیوں کیوں اس اجنبی سے ہمدردی ہوئی تھی

” یہ تو میرے دل سے پوچھیں ۔۔۔ کہ کتنی خاص ہیں آپ “آرء چپ سی ہو گئ۔۔۔۔۔ دل کی دھڑکنوں نے عبدالباسط کی بات پر جیسے لبیک کہا تھا

چند گھنٹے پھر آرء کچھ نہیں بولی بولنے کو کچھ بچا بھی نہیں تھا بس مجسمہ تصویر بنی بیٹھی رہی۔۔۔ جیسے سامنے والے نے کوئی فسوں سا کر دیا ہے اس پر کوئی طلسم پھونک دیا ہو ۔۔۔۔ جس سے ہل بی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ اسے دیکھنے کا متمنی تھا ۔۔۔ اس لئے بس دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اور وہ ۔۔۔۔ وہ نا جانے کیوں اسکی خواہش پر ایسے بیٹھی تھی کہ اگر جنبش بھی کرے گی تو سامنے والے کے ساتھ ذیادتی کر بیٹھے گی ۔۔۔۔۔ کچھ تو عبد الباسط کے چہرے پر بھی تھا جو آرء کے لئے اہم ہو گیا تھا شاید اسکی شرافت ۔۔۔ دو گھنٹے بعد وہ اٹھ کر چلا گیا لیکن آرء وہیں مجسمہ بنی بیٹھی رہی

******…….

“جی تو اسٹوڈنٹس۔۔۔۔ انگلش لیٹویچر پڑھنے سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آخر انگلش لٹریچر کی ابتدا کہاں سے ہوئی ۔۔۔

What is the history of English literature?

انگلش لٹریچر کی شروعات ہوتی ہے Anglo saxon سے اس سے پہلے لٹریچر کو صرف بولا جاتا تھا ۔۔۔ باقاعدہ سے لکھنے کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔۔۔ لیکن پہلے بریٹن میں رومن کی حکومت تھی ۔۔۔رومن کے جانے کے بعد Saxons..jutes …angles بریٹن میں آئے انہیں کا مجموعہ Anglo Saxon ہے “

لیکچرز کے ،شروع ہوتے ہی حیا کے موبائل وائبریٹ ہونے لگا حیا نے بڑی محتاطی سے جیب سے موبائل نکالا تو ارسل کے میجسز آ رہے تھے وہ ایک مال میں تھا اور اس لئے شرٹس خرید رہا تھا ۔۔۔ اس لئے اسے بار بار پک بھیج رہا تھا تا کہ حیا ان میں سے سلیکٹ کر لے ۔۔۔ حیا فون بند کر دیتی اگر وہ کوئی اور بات کرتا تو لیکن معاملا شاپنگ کا تھاوہ بھی حیا کی شاپنگ ۔۔۔ اس لئے سامنے وائٹ بورڈ پر لکھتے ارتضی کی نظروں سے بچتے ہوئے وہ ارسل کو اپنی چوائس کی شرٹس بھیج رہی تھی

“اس دور میں زیادہ تر لٹریچر کو بولا ہی جاتا تھا لیکن Alfred the great

وہ پہلا شخص تھا جس نے لٹریچر کو تحریری طور پر لکھ کرمتعارف کروایا ۔۔۔”ارتضی وائٹ بورڈ پر لکھتے ہوئے جب پلٹا تو سب ہی اسٹوڈنٹ اسکی طرف متوجہ تھے ۔۔۔ بڑی سنجیدگی سے سن رہے تھے مگرچہرے ہر مسکان صرف حیا کےچہرے پر تھی اسکی نظریں کتاب کے بجائے نیچے تھیں ۔۔۔ چونکہ وہ پہلی رو کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔اور متوجہ بھی نہیں تھی مسکرا۔ بھی رہی تھی ۔۔۔۔ارتضی کو شک توہونا ہی تھا

وہ چلتے ہوئےحیا کے قریب پہنچ گیا گود میں رکھا موبائل اور اس مختلف قسم کی شرٹس کی تصاویر پر حیا اس قدر انہماک تھی کہ ارتضی کی آمد سے بھی بے خبر رہی ۔۔۔۔

“مس حیا ۔۔۔ یہ کیا کر رہیں ہیں آپ ” ارتضی کی آواز پر وہ بری طرح سے بوکھلائی تھی۔۔۔فوراسے فون بند کر کے جیب میں ڈالا

“ک۔۔کچھ بھی نہیں سر ” اسکی ہر حرکت وہ دیکھ چکا تھا یہ تو حیا بھی جان گئ تھی لیکن پھر بھی جھوٹ بول گئ تھی

‘” میرے خیال سے آپ لیکچرر سننے کے بجائے موبائل یوز کرنے میں انڑسڈ ہیں۔۔۔۔ تو پلیز کلاس سے باہر جا سکتی ہیں ” ارتضی کا لہجہ سخت ہوا تھا

“نو سر میں لیکچر ہی سن رہی تھی ۔۔۔ “ایک اور جھوٹ تھا

“او کے سامنے آئیے اور بتائیں میں کیا بات کر رہا تھا ۔۔۔ “

حیا چپ چاپ کھڑی رہی ۔۔۔ اسکی توجہ لیکچرر کی طرف تھی ہی کب “

“دیکھیں مس حیا ۔۔۔ میں ان ٹیچرز میں سے ہر گز نہیں ہوں جو صرف اپنے لیکچر سے مطلب رکھتے ہیں اور اسٹوڈنٹ کی اٹینشن اگر نا بھی ہو تو اگنور کر دیتے ہیں ۔۔۔ میں لیکچرر کے دوران سب اسٹوڈنٹس کی اٹینشن چاہتا ہوں ۔۔۔ ورنہ دوسری صورت میں پنیش ضرور کرتا ہوں ۔۔۔ آئندہ خیال رکھیے گا “ارتضی کا لہجہ سخت ہوا تھا ۔۔۔ حیا سر اثبات میں ہلا کر بیٹھ گئ

“ناؤ اسٹینڈ اپ مس حیا ۔۔میں نے بیٹھنے کو نہیں کہا اب آپ باقی کا لیکچرر کھڑی ہو کر سنیں گی۔۔۔” یہ کہہ کر ارتضی دوبارہ وائٹ بورڈ کی طرف بڑھ گیا ۔۔حیا کے منہ کے زاویے بگڑے تھے۔۔ دوبارہ سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔

کلاس ختم ہوتے ہی سیدھا کینٹیں گی۔۔۔

“حمیرا پلیز دو چیلڈ کوک لیکر آؤں ۔۔۔ دماغ گھوم رہا ہے میرا ۔۔۔ ٹیچر نا ہوئے ۔۔۔ خدائی فوجدار ہو گئے ہمارے سر پر ۔۔۔ ارے بھئ ۔۔۔ تنخواہ سے مطلب رکھوں نا ۔۔۔۔ کون اٹینشن ہے کون نہیں اس کا ٹھیکا لینے کی ضرورت کیا ہے ۔۔۔ آدھے گھنٹے کھڑے رکھا مجھے ۔۔۔مجھے حیا کو ۔۔۔سلیمانز انڈسٹریل کے مالک کی اکلوتی بیٹی کو ۔۔۔ ہاؤ ڈیر ہم “حیا کا غصے سے برا حال تھا

“کول ڈاون حیا ۔۔۔غلطی تمہاری ہی ہے “حمیرا نے سمجھانا چاہا لیکن اقرء بول پڑی

“تم تو چپ ہی رہو حمیرا ۔۔۔ حیا ٹھیک کہہ رہی ہے یہ سر تو کچھ زیادہ ہی سٹرک ہے ۔۔۔ لڑکوں کے سامنے بے عزتی کر کے رکھ دی ۔۔۔ “اقرء نے حیا کی غلط حمایت لیتے ہوئے اسکے غصے کو اور بڑھکایا

“ٹھیک کہہ رہی ہو تم اقرء ابھی یہ حیا کو ٹھیک سے جانتا نہیں ہے ۔۔۔ ” کوک کاسپ لیتے ہوئے وہ تپ کر بولی تھی

*****…..

حیا تپی ہوئی گھر پہنچی تھی جب اسے آیا سے یہ آڈر ملا کے اس نے اپنی والدہ کے ساتھ کسی قرآن خانی میں جانا ہے جہاں بہت سے سفیروں کی بیویوں اور بڑے بڑے بزنس مین اور بیورکیٹ کی بیویوں نے بھی مدعو ہونا ہے اس لئے اس اوکیجن کے لحاظ سے جو ڈریس اسکے لئے سلیکٹ کیا گیا تھا وہ فل سلیو تھا اور ڈوپٹہ بھی لینا تھا ۔۔۔ ڈریس دیکھ کر ہی حیا نے منہ بگاڑا تھا ۔۔۔۔

بچپن سے کبھی فل سلیو کے کپڑے نہیں پہنے تھے ۔۔۔ اس لئے اسکول اور کالج یونیفارم تک کے بازو ہاف کواٹر ہی رکھے تھے ۔۔۔ اور اب ۔۔۔ تھی تو یہ ایک رسمی سے رسم ۔۔۔۔ لیکن جانا ضروری تھا ۔۔۔ اس لئے سفید رنگ کا ڈریس پہن لیا لیکن ڈوپٹہ سر پر ٹکنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔ کافی دیر سے وہ اسی کوشش میں لگی ہوئی پھر اکتانے لگی

“کیا مصیبت ہے یہ ۔۔۔۔ بھلا مجھے لے جانے کی کیا ضرورت ہے ایسی جگہوں پر قرآن کھولے ہوئے کئ سال گزر گئے ہیں یاد بھی نہیں ہے کہ پڑھتے کیسے ہیں “وہ جی بھر کر زچ ہو رہی تھی ۔۔۔۔ آیااسے بلانے کمرے میں آئی وہ ڈوپٹے کی وجہ سے جھنجھلائی ہوئی تھی ۔۔۔ آیا نے خود اس کا ڈوپٹہ پن اپ کیا ۔۔۔۔

“ایک تو پتہ نہیں موم کو مجھے لے جانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ گھٹن ہو رہی ہےمجھے ان کپڑوں میں ۔۔ تنگ گلا فل سلیو ۔۔۔ اوپر سے اتنا بڑا ڈوپٹہ ۔۔۔ او مائے گاڈ ” وہ زچ ہوئی تھی

“عورت کا اصل لباس تو یہی ہے بیٹا “آیا نے اسکے وائٹ سینڈل اسکے پاوں کے پاس رکھتے ہوئے کہا

“پلیز آیا اب آپ نا شروع ہو جائیں ۔۔۔ میں پہلے بہت تنگ ہورہی ہوں ” اپنے سینڈل پہن کر وہ کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ آیا نے گہری سانس لی اور حیا کا بکھرا کمرہ سمیٹنے لگی ۔۔۔۔

قرآن خانی کی شاید وہاں صرف رسم ہی نبھائی جارہی تھی ۔۔۔ سب کے لباس سفید تھے حیا کی والدہ بھی سفید ساڑھی میں ملبوس تھیں ۔۔۔ ہلکے ہلکے میک اپ سب نے ہی کیے ہوئے تھے ۔۔۔ قرآن پڑھانے کے لئے مدارس سے یتم بچیاں بلائیں گئیں تھیں ۔۔۔ باقی خواتین تو بس باتوں میں ہی مصروف تھیں ۔۔۔ بچیوں کو باہر پارک میں بٹھایا گیا تھا ۔۔ گرمیوں کے دن تھے چار بجے بھی سورج کی تمازت سے وہ بچیاں پسینے پونچتی ہوئی ہل ہل کر قرآن پڑھ رہیں تھیں انکے سامنے سفید لمبا سا دسترخواں بچھا تھا لیکن وہاں اسٹیل کے جگ اور گلاس ہی موجود تھے ۔۔۔ اور جگوں میں سادہ پانی۔۔۔۔۔ گاڑی سے اتر کر حیا اور اسکی والدہ تیز قدم اٹھاتی ہوئیں اندر کی جانب جانے لگیں گاڑی میں فل اے سی چل رہا تھا لیکن باہر لان سے لاونج تک کے فاصلہ طے کرنے پر ہی چہرے پر پیسنے آنے لگے تھے اندر لاونج میں داخل ہوتے ہی اے سی کی ٹھنڈک کے سکون کا حساس دلایا تھا ۔۔۔۔

میزبان خاتون بھی حیا کی والدہ کی طرح سوشل ورکر تھی گال کے ساتھ گال ملا کر ہیلو ہائے کیا ۔۔۔ انہیں نرم گداز صوفوں پر بیٹھایا ۔۔۔ کئ قسم کے جوس اور مشروبات سے تواضع شروع کیا ۔۔۔۔ جو وہاں موجود سب خواتین کو پیش کیے جا رہے تھے ۔۔۔ وہاں خواتین کی باتیں بس فیشن اور پارٹیز تک ہی محدود تھی ۔۔۔ کافی لڑکیاں حیا کی ہم عمر تھیں اس لئے حیا بھی انکے ساتھ جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں باہر سے ایک ملازم نے اندر ا کر بتایا کہ قرآن خانی ہو چکی ہے ۔۔۔ اس خاتون نے بس رسم دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے دو منٹ بعد یہ فرائضہ بھی ادا ہو چکا تھا ۔۔۔۔ پھر کھانے کے لئے ڈائنگ ہال میں چلے گئے ۔۔۔ وہاں موجود کھانے کی ہر چیز اعلی سے اعلی ریسٹورنٹ سے منگوائی گئ تھیں ۔۔۔۔ آیون پانی بھی باہر کی کمپنی کا تھا

حیا کو یاد آیا کے پرس وہ گاڑی میں بھول آئی ہے اور موبائل اسی میں ہے ۔۔۔ اس لئے ڈائنگ ہال سے نکل کر وہ باہر لان میں آ گئ ۔۔۔ جہاں یتم بچیاں بیٹھی تھیں ۔۔ کھانا وہاں بھی شروع ہو چکا تھا لیکن ایک بریانی کہ دیگ منگوائی گئ تھی ۔۔۔۔ جس میں چکن نام کو نہیں تھا سب کی پلیٹوں میں چاول اور آلو ہی نظر آ رہے تھے لیکن سروں پر ڈوپٹے لئے وہ بچیاں وہ بھی بڑے انہماک سے کھارہیں تھیں چہروں سے پسینے بہہ رہے تھے ۔۔۔ حیا کے ایک ناپسندیدہ نظر ان پر ڈالی اور گاڑی سے پرس لیا اور اندر چلی گئ ۔۔۔

” یہ جو غریب غربا لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔ انہیں انکی اوقات میں ہی رکھنا چاہیے ۔۔۔۔ میں تو اسی بات کی قائل ہوں ۔۔۔ “میزبان خاتون نے ابرو اور ناک چڑھا کر گویا یہ کہتے ہوئے خود کو بہت سمجھدار سمجھا تھا ۔۔۔

“مسز انور ٹھیک کہا آپ نے ۔۔۔۔ ارے جن کو اللہ نے ہی کم دیا ہے ۔۔۔ ہمہیں بھی انہیں انکی حیثیت میں رکھنا چاہیے ۔۔۔ ورنہ یہ لوگ ہمارے سر پر آبیٹھیں گئے ۔۔۔ “حیا کی والدہ نے تائید کرتے ہوئے بات کو آگے بڑھایا ۔۔۔

حیا کی سوچ بھی ماں سے مختلف نہیں تھی ۔۔۔ وہ بھی یہی سوچتی تھی کہ اگر وہ غریب ہیں تو اللہ۔ نے ہی انہیں ایسا رکھا ہے اور اگر انکے پاس پیسوں کی ریل پھیل ہے تو وہ اسکے آغا جی کی محنت کا نتیجہ ہے جس پر اسی کا حق ہے پھر غریبوں لاچاروں کو بھلا کیوں دیا جائے ۔۔۔۔

“مسز سلیمان میں نے سنا ہے آپ نے دارالامان میں دس لاکھ کا چیک دیا ہے ۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا کہ یہ بہت زیادہ کر دیا ہے ” جوس پیتے ہوئے مسز انور نے کہا

” میڈیا بھی وہاں موجود تھا ۔۔۔ پھر سلیمان کی ریپوٹیشن کا سوال تھا ۔۔۔ دینا ہی پڑا ۔۔۔۔ آپ کو تو پتہ ہے اب تو کافی سیاسی پاٹیز میں اچھی جان پہچان ہو چکی ہے ہماری ۔۔۔۔ میڈیا کو دیکھنا بھی تو ضروری تھا ۔۔۔۔ یہ نیوز پر چینل پر سلیمان نے کہہ کر چلوائی تھی ۔۔۔۔ “بڑے فخر سے بتایا جا رہا تھا

“ہاں دیکھا تھا میں نے۔۔۔ “

اسی قسم کی باتیں وہاں بیٹھی سب خواتین کی زبانوں پر تھیں ۔۔۔ دیکھلاوا فیشن ۔۔۔ پارٹیز ۔۔۔ دنیا اور دنیا کی رنگینیاں ۔۔۔۔ جیسے ان سب پر ان اپر کلاس فیملیز کا ہی حق تھا

*******…….

آراء کی جب سمجھ بوجھ کی عمر شروع ہوئی تو اس نے کانوں میں گھنگروں کی جھنکار ہی سنی تھی ۔۔۔۔ ۔۔ ناچتی گاتی لڑکیاں مردوں کا دل لبھاتیں ادائیں انہیں بچپن سے سیکھائی جاتی تھیں ۔۔۔۔ وہ بھی اسی ماحول کو اپناتی چلی گئ ۔۔۔۔ اٹھارہ سال کی عمر میں ۔۔۔ اسکی عصمت کا پہلا سودا ہوا تھا ۔۔۔

پہلی بار بہت گھبرائی تھی وہ ۔۔۔ چھونے والے ہاتھوں کو پرے جھٹکا تھا مگر وہ عام گھریلوں لڑکی تو تھی نہیں ۔۔۔۔ ناسامنے والا اس کا شوہر تھا جو اسکی جھجک کا لحاظ کرتا اور ان نزاکتوں کا خیال رکھتا رات کے پیسے ادا کرنے والے کے لئے وہ صرف ہواس کا سامان تھیں ۔۔۔ جس نے قیمت ادا کی تھی وہ عمر میں بھی آرء سے دوگنا تھا ۔۔۔۔ رنگت بھی گہری سانولی منہ سے شراب اور پان کی بو ۔۔۔۔ سگریٹ کا دھواں اسکے منہ پر پھنکا تووہ بدک پیچھے ہٹی تھی ذراساکھانسی تھی ناگواری سے اپنے سے دوگنی عمر کے شخص کو دیکھا تھا جیسے ہی اس شخص نے ہاتھ پکڑا آتی کو اپنی سفید مومی ہاتھ اس پکی رنگت والے بڈھے کے ہاتھ میں اچھے نہیں لگے اس نے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے نا گوارہ سے کھنچنے چاہے ۔۔۔ ۔۔۔لیکن سامنے والے کی گرفت نے اسے سمجھا دیا تھا کہ وہ انکار کی گنجائش نہیں رکھتی ۔۔۔۔

صبح اپنی ماں کے سامنے بہت روئی تھی وہ ۔۔۔

“اماں مجھے ڈر لگتا ہے اس بڈھے حرامی سے ۔۔۔ دیکھ میرا ہاتھ اس کمینے نے کتنی ،جور (زور)سے مروڑا ہے ۔۔۔ دیکھ اماں کتنے برے سے میری گردن نوچی ہے۔” آرء کبھی اپنا ہاتھ تو کبھی گردن پر کھرونچ کے نشان دیکھاتے ہوئے روتے ہوئے بتا رہی تھی

۔۔” بڈا کھوسٹ اسکی شکل دیکھ کر میرا دل متلاتا ہے اماں ۔۔۔۔ کاہے تو نے اسے میرے کمرے میں بھیجا ۔۔پتہ ہے میں جرا پیچھے ہٹی تو گندی گالی بک کر کہتا تیری دوگنی قیمت دی ہے نخرے کاہے دیکھا رہی ہے ۔۔۔۔”آرء سسک سسک کر روتے ہوئے بتا رہی تھی ۔۔۔۔

“دیکھ آرء ۔۔۔ یہ سب ہر دھندا کرنے والی کو سننا اور سہنا پڑے ہے تو انوکھی تھوڑی ہے ۔۔۔ کل پہلی بار تھا اس لئے تجھے رونا آ گیا آہستہ آہستہ عادی ہو جائے گی ۔۔۔ چل اب بند کر رونا دھونا ۔۔۔ تجھے میں آج اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنا کر دیتی ہوں ” جہان بیگم اٹھنے لگیں

“اماں کہے دیتی ہوں میں۔۔۔۔ اب اس بڈھے کو میرے پاس نا بھیجیوں سالا وحشی بھڑیا ہے۔ پورا ۔۔۔ ” آرء کی بات پر اسکی ماں مسکرائی تھی

آرء کو لگا صرف وہ بڈھا ہی وحشی بھڑیا اور جانور ہے ۔۔۔ لیکن آنے والے ہر نئے مرد نے اسے یہ باورا کروایا تھا ۔۔۔ وہاں آنے والا ہر شخص انسانیت کو جوتے کے ساتھ سیڑیوں میں ہی اتار کر آتا ہے ۔۔۔ ہوس کے بچاری وہاں درندگی دیکھانے سے باز نہیں آتے ۔۔۔۔ ہر رات وہاں موجود عورتوں کے لئے ایک نیا مرد ایک نئی آزمائش ۔۔۔۔ یہی انکی زندگی تھی (ہر وہ عورت خوش نصیب ہے جو گھر کی چار دیواری میں میں اپنے محرموں کے بیچ رہتی ہے )ورنہ بازار حسن میں رہنے والیوں کی داستانیں خون کے آنسوں رلاتی ہیں جن میں سے ایک آرءبھی تھی ۔۔۔ آرء روتی کراہتی آخر کار عادی ہو چکی تھی اب نا تو آنے والوں کی گالیوں سے اسے دکھ ہوتا تھا نا ہی انکے وحشیانہ روپ سے خوف آتا تھا ۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ وہ موم سے بنی ہوئی نہیں ہے ۔۔۔ پتھر کی طرح سخت جان کٹ پتلی ہے اشاروں پر ناچنے والی اداؤں سے بہلانے والی ۔۔۔ ۔۔۔ بازار حسن کی ہر عورت کی یہی کہانی تھی ۔۔۔ چاہے وہ وہی جنم لینی والی ہوں یا بعد میں اس بازار کی زینت بنی ہوں انکا مرضی کچھ بھی ہو کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا وہ کون ہے جہاں سے آئی ہے ۔۔۔ لیکن حال مستقبل ایک جیسا تھا وہ تھا چند سکوں کی خاطر مردوں کا جی بہلانا ۔۔۔۔ آرء اب چوبیس برس کی ہو گئ تھی چھ سالوں میں اس ماحول میں رچ بس گئ تھی ۔۔ سمجھ گئ تھی کہ آنے والا۔ بھیڑیا نا بھی ہوا تو اس جیسا ہی ہو گا ۔۔۔ لیکن جو شخص کچھ دیر پہلے اٹھ کر گیا تھا ۔۔۔۔ وہ عجیب تھا ۔۔۔۔ آنے والے انسانوں میں چھپا بھیڑیا نہیں تھا ۔۔۔ نوچ کھانے کی صفت سے مبرا تھا ۔۔۔ چھوا تک نہیں تھا اس نے آرء کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا ۔۔۔ بس نظروں کی تشنگی لیکر آیا تھا ۔۔۔ نظروں سے سیراب ہو کر چلا گیا لیکن۔۔۔ آرء۔۔۔۔۔۔ آرء کو ایک نئ سوچ سے متعارف کروا گیا تھا آنکھوں اور چہرے کے علاؤہ اس نے کہیں غلط نظر تک نہیں ڈالی تھی۔۔۔۔۔ آرء گم صم تھی ۔۔۔ جس مرد ذات سے وہ متعارف تھی ۔۔۔ وہ عبدالباسط جیسے نہیں تھے ۔۔۔ یا عبدالباسط کسی اور سیارے کا باسی تھا ۔۔۔۔۔ کسی اور جہان سے آیا تھا جاتے جاتے ۔۔۔ آرء کے مردہ دل میں جیسے روح پھونک گیا تھا ۔۔۔

وہاں رہنے والیوں کے پاس دل ہی تو نہیں ہوتا سب سے پہلا قتل دل کا کیا جاتا ہے ۔۔۔ جب دل مردہ ہو جائے تو پھر سب آسان ہے ۔۔۔ وہاں آنے والے دل کے نہیں جسم کے سودا گر تھے ۔۔۔ سوائے عبدالباسط کے