Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 27

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 27

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

جازم جب آرء کی ساری بات سن کر واپس عبدالباسط کے پاس پہنچا تو اپنا فارم اس کے سامنے رکھ دیا تھا ۔۔۔

اپنے ڈاکومنٹس کی فائل بھی عبدالباسط نے صرف فارم ہاتھ میں پکڑا تھا

نام جازم ارتضی لکھا تھا والدیت کا خانہ خالی تھا ۔۔۔تعلیم اور دیگر ضروری باتوں کے جواب لکھے تھے ۔۔۔

” بیٹا آپ شاید اپنے والد کا نام لکھنا بھول گئے ہیں “عبداالباسط نے فارم جازم کے سامنے رکھ دیا

” نہیں بھولا نہیں ۔۔۔ میں نے خود خالی چھوڑا ہے کیونکہ مجھے کسی نے لے کر پالا ہے ان کے نام سے اب تک جان پہچان بنی رہی ہے میری ۔۔۔ سمجھ لیں کہ لے پالک ہوں میں باقی جگہ تو جھوٹ چل جاتا ہے لیکن یہ مسجد ہے اللہ کا گھر ہے بچوں کو دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔۔۔۔ اس لئے میرا دل نہیں مانا کہ ولدیت پر باپ کا نام اصل نام نا لکھوں جب کے وہ بھی حیات ہیں ” جازم کا لہجہ متوازن تھا لیکن کاٹ دار تھا عبداالباسط پوری توجہ سے اس کی بات سن رہا تھا

” جب والد زندہ ہیں اور نام معلوم ہے تو وہ لکھ دینا تھا “

” پتہ نہیں مجھے وہ اپنا نام اور حوالہ دینا پسند بھی کریں یا نا کریں ۔۔۔۔ آپ فی الحال اس خانے کو خالی رہنے دیں ۔۔۔ ” عبداالباسط اس لڑکے کو سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔

بیٹا یہاں پر رہنے کے کچھ اصول ہیں اور میں اپنے اصولوں کے معاملے میں بہت سخت ہوں ۔۔۔۔ کوتاہی برداشت نہیں کرتا ۔۔۔ “عبداالباسط کافی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا

” جی فرمائیے میں کوشش کروں گا کہ آپ کو شکایت کا موقع نا ملے ۔۔۔

” پہلی بات تو یہ کہ یہاں نظریں جھکا کر رہنا پڑے گا ۔۔۔۔ کیونکہ اردو انگریزی کی جماعت طلبہ بھی لیں گئیں ویسے تو یہاں رہائش صرف لڑکوں کی ہے لیکن بچیاں ناظرہ کے لئے آتی ہیں اس لئے اردو انگریزی وہ بھی پڑھیں گی لیکن دونوں کی جماعتیں الگ الگ لی جائیں۔ گئیں بچے اور بچیاں الگ الگ پڑھیں گئے

میری کوشش تو تھی کسی خاتون ٹیچر کا بھی انتظام ہو جاتا لیکن بات وہی ہے میرے پاس وسائل بہت کم ہے تنخواہ ذیادہ نہیں دے سکتا ۔۔ ۔۔۔۔ اس لئے کوئی راضی نہیں ہوئی

دوسری بات پڑھاتے وقت اور سبق سنتے یا ہوم ورک چیک کرتے وقت بچے اور بچیوں دونوں کے ساتھ آپ ایک واضع فاصلہ رکھیں گئے ۔۔۔۔ بچوں سے غیر ضروری گفتگوں سے اجتناب برتا جائے گا ۔۔۔۔

انہیں ۔۔۔ انگریزی پڑھوانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ دین کی خدمت اور تبلیغ کی خاطر اگر انہیں اس زبان کو استعمال بھی کرنا پڑے تو وہ ہچکچائے نا ۔

چونکہ آپ کی رہائش بھی یہیں ہے تو رات کے وقت کسی بھی استاد کو کسی شاگرد کے کمرے میں جانے یا کسی بھی شاگرد کو اپنے کمرے میں بلانے کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔ ہر کمرے میں کیمرہ موجود ہیں اور ہر بچہ اور استاد میری نظر میں رہتا ہے ۔۔۔کمروں کو لوک کرنے کی اجازت نہیں ہے میں جب چاہوں کھول کر چیک کر سکتا ہوں مجھے جہاں بھی کچھ بھی غلط لگا میں بنا کسی پیشگی اطلاع کے آپ کو نوکری سے نکال دوں گا ۔۔۔ باہر سے آنے والے استاد اور شاگردوں کی تلاشی لی جاتی ہے

کہ کہیں کوئی نشہ آور چیز ان کے پاس موجود نا ہو ۔۔۔ یا غیر اخلاقی قسم کی کتابیں اور رسالے موجود نا ہوں ۔۔۔ موبائل کی اجازت بھی شاگروں کو ہر گز نہیں ہے اور اساتذہ بھی کسی شاگرد کو اپنا موبائل استعمال کے لئے نہیں دیں گئے ۔۔۔کسی شاگرد کو اگر بات کرنی ہے تو وہ میرے آفس کا فون استعمال کرے گا ۔۔۔ شاگرودں کو ڈرانا دھمکانا حراساں کرنا سخت منع ہے ۔۔۔۔

” جی مجھے ایسی کوئی عادت ہے بھی نہیں ۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ یہ احتیاط کیوں برت رہے ہیں ۔۔۔ یہ اصول اچھے ہیں اور ہر جگہ قائم کر دیے جائیں تو ہم بہت سی برائیوں سے بچ سکتے ہیں ۔۔۔۔ ” جو بات عبداالباسط ڈھکے چھپے الفاظوں میں سمجھانا چاہ رہا تھا جازم وہ سمجھ چکا تھا یہ سب باتیں ہارون رشید نے اس کے اندر ایسی رچ بس دیں تھیں کے کہ وہ ان سے انحراف کر ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔ لیکن عبداالباسط کیا کرتا

دودھ کا جلا تو چھاجھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے

عبد الباسط نے جو اذیت برداشت کی تھی ۔۔۔ اس کے پیش نظر اپنے مدرسے میں چیل کی آنکھ رکھتا تھا ۔۔۔۔

” لوگ دین کے معاملے میں بہت زیادہ حساس اور جذباتی ہوتے ہیں ۔۔۔ ہم پر بھروسہ کرتے ہیں تو ہمہیں بھی اپنی ذمے داری پوری نبھانی چاہیے ۔۔۔۔ تا کہ ایسے واقعات کم از کم دینی درسگاہوں میں رونما نا ہوں ۔۔۔۔ میرا بس چلے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں میں یہ قانون نافذ کر دوں ۔۔۔۔ خواتین کی تعلیم کو ابتدا سے ہی سرے سے الگ کر دیا جائے ۔۔۔۔ کو ایجوکیشن ۔۔۔ کے فرسودہ نظام کو ہم کنفڈنس ڈیولپ کا نام دے کر بے حیائی کو عام کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔:اس کی وضاحت شریعت کی رو سے فرمائیں ،حضرت جنید بغدادی  سے پوچھا گیا کیا کہ کوئی مرد کسی غیر محرم کو پڑھا سکتا ہے ۔فرمایا۔ اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی ہو۔ اور پڑھنے والی رابعہ بصری ہو۔ جس جگہ پڑھایا جا رہا ہو وہ بیت اللہ شریف ہو۔اور جو کچھ پڑھایا جا رہا ہو وہ کلام اللہ شریف ہو،پھر بھی اجازت نہیں ہے ۔۔۔۔

اس سے بہترین مثال تو شاید کوئی ہو نہیں سکتی ۔۔۔۔ پھر یہ کو ایجوکیشن کے نام پر کھلی بے حیائی کے میں بہت خلاف ہوں ۔۔۔۔۔

” لیکن افسوس اس بات کا ہے ہمارا قانون سلامی اصولوں کے عین مطابق نہیں ہے ” جازم نے اپنی رائے دی عبداالباسط نے اپنی بات جاری رکھی

“جی آذادی کے نام پر بے حیا ہونا آذادی نہیں ہے ۔۔۔ کھلے عام زنا کاری کو دعوت دینا ہے ۔۔۔ ہم ایک مسلم ممالک میں رہتے ہیں لیکن ہماراقانون اسلامی اصول کے تحت نہیں ہے ۔۔۔۔ میرے خیال سے اسکوں میں بھی ابتدا سے ان باتوں کو بچوں کو ذہن نشین کرائی جانی چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں ۔۔۔ اور مسلمان مرد کی شان ہے کہ وہ پورے وقار سے چلے لیکن نظریں جھکا کر اور مسلمان عورت کی شان ہے کہ وہ خود کو چھپا کر چلیں ۔۔۔

ہمارے پیارے نبی کریمؐ بہت شرم وحیا والے تھے اور آپؐ نے دوسروں کو بھی اس کا درس دیا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ’’حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان ہے کہ آپؐ پردہ والی کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ باحیا تھے۔جب کوئی بات ایسی دیکھتے جو آپؐ کو ناگوار گزرتی تو ہم لوگوں کو آپؐ کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔‘‘ صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1055

۔ چونکہ اسلام دین فطرت ہے اللہ تعالیٰ اور رسول کریمؐ کے ارشادات اور احکامات پر عمل پیرا ہونا ہی دین اسلام ہے جو مومنین اور مومنات کو حجاب یعنی پردے کے حوالے سے سختی کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیاجو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے(۱) اور تقویٰ کا لباس (۲) یہ اس سے بڑھ کر (۳) یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں‘‘ سورۃ الاعراف، آیت نمبر 26،۔ اس حوالہ سے قرآن پاک میں ایک اور جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے۔

خواتین کو مستورات بھی کہا جاتا ہے اور مستور کا مطلب ہے چھپا ہوا، عورت کے پردہ کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے کیوں کہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے بہکانے کے لئے موقع تلاش کرتا ہے‘‘ جامع ترمذی،جلد نمبر اول ، حدیث نمبر 1181۔ عورت کے پردہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ پر کرنا منع فرمایا گیا ہے۔ ’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے‘‘ سنن ابو دائود، جلد نمبر اول، حدیث نمبر 567۔۔۔

لیکن ہمارے ہاں مرد عورت کے تعلمی نظام کو ایک ساتھ کر دیا گیا ۔۔۔۔ کہ اس کے بغیر ہمارا ملک ترقی کی طرف گامزن نہیں ہو سکتا ۔۔۔

کیا۔ دین سے دور ہو کر بے حیائی کو عام کر کے ہم ترقی کر سکتے ہیں؟ ۔۔”””۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ “”کے نعرے لگانے والے ہم پاکستانی پاکستان کا اصل مقصد بھول کر بے حیائی کی دوڑ میں لگ کر اپنے لئے ترقی کی راہیں ڈھونڈ رہے ہیں جہاں صرف ظلمت کے اندھیرے ہیں ۔۔۔۔ کاش کے ہم اپنے اصل کو یاد رکھیں ۔۔۔ میں سب کو تو نہیں بدل سکتا لیکن جو میرے بس میں ہے اسے بدلنے کی کوشش کر سکتا ہوں ” جازم بڑی خاموشی سے عبداالباسط کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ مدرسے میں اس نے باقاعدہ کلاس لینی شروع کر دی تھی ۔۔۔

بچے بھی بہت دل جمعی سے پڑھ رہے تھے ۔۔۔

عبداالباسط سے جازم کی ملاقات صرف کھانے کے دسترخوان پر ہی ہوتی تھی ۔۔۔

ہفتے میں ایک بار عبداالباسط تمام اساتذہ کے بیٹھ کر ہنسی مزاق کی محفل بھی کرتے تھے ۔۔۔ ساتھ ساتھ دین کی بات بھی انکے اندر اتارنے کی کوشش کرتے تھے عورت کے ساتھ احترام کے حوالے سے وہ سب سے ذیادہ تلقین کرتے تھے ۔۔۔ جازم نے نوٹ کیا تھا کہ وہ چوبیس گھنٹے مدرسے میں ہی رہتے تھے باہر جاتے بھی تو مدرسے کے کام سے جاتے اور پھر واپس مدرسے میں آتے ہیں اپنے گھر کا کبھی ذکر بھی نہیں کیا ۔۔۔ ایک بار جازم نے عبدالغنی سے پوچھ ہی لیا

” تمہارے ابو گھر کیوں نہیں جاتے میرے خیال سے تو انہیں گھر والوں کو بھی وقت دینا چاہیے “

” گھر والے ہوں تو گھر والوں کو توجہ دیں “٫

“کیا مطلب ۔۔ تمہاری والدہ تو روز کھانا بھجتی ہیں “

” میری والدہ ابو جی کی بہن ہیں ۔۔ یہ میرے والد نہیں ماموں ہیں ۔۔۔ میرے والد کے انتقال کے وقت میں بہت چھوٹا تھا ۔۔ ماموں نے کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔۔۔ بس شروع سے میں نے انہیں ابو جی ہی کہنا شروع کر دیا ۔۔ سمجھ لو کے عادت سی پڑ گئ ہے “عبدالغنی نے بتایا ٫

” تو انکی اپنی کوئی فیملی نہیں ہے “

” نہیں امی جان بتاتی ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی دین کے لئے ہی واقف کر دی گھر نہیں بسایا ۔۔۔ ” جازم کچھ دیر تو چپ سا ہو گیا ۔۔۔۔

کیا زندگی تھی اسکی ۔۔کیا فیملی تھی

ماں تہنا کوٹھے پر رہنے والیوں کی حفاظت پر معمور اور باپ یہاں دین کی اشاعت پر اکیلا چل رہا تھا اور وہ ۔۔۔۔ وہ اپنے ماضی کے بکھیرے موتی چن کر پھر سے مالا بنانے کی تگ ودو لگا ہوا تھا۔۔۔

******…….

دو دن تک تو ارتضی نے حیا سے کوئی بات نہیں کی ۔۔۔ لیکن تیسرے دن اسے ڈاکٹر پر چیک کے لئے لے جانا تھا ۔۔ اس لئے اسکول جانے سے پہلے اسے ناشتے کے ٹیبل پر ہیکہہ دیا

” شام کو تیار رہنا ڈاکٹر کے پاس جانا روٹین چیک اپ کے لئے ۔۔۔ اور خبردار جو تم نے ڈاکٹر کے سامنے کچھ بھی الٹا سیدھا کہا تو ” حیا کو تنبیہہ کر کے وہ چلا گیا ۔۔۔ شام کو اسے پھر نئے سرے سے کپڑے لا کر دیے ۔۔۔

” یہ پکڑو اور دس منٹ میں انسان کی بچی بن کر باہر آؤں ۔۔۔۔۔ آئندہ ۔میں تمہیں رومان کے ٹرازر شرٹ میں نا دیکھوں ۔۔۔ ” حیا نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔ ویسا ہی رعب دار لہجہ تھا ۔۔۔ پھر شاپنگ بیگ پکڑ کر کمرے میں چلی گئ شلوار قمیض پہنے ڈوپٹہ اس نے مفلر کی طرح بس گردن پر ہی لٹکا رکھا ہوا تھا ۔۔۔

بال بھی کھلے چھوڑے ہوئے تھے ۔۔۔ ارتضی کی گھوری تیز ہوئی تھی ۔۔۔

” بال باندھو اپنے اور ڈوپٹہ ویسے لو جیسے کہ لڑکیاں لیتی ہیں “

” ویسے میں نہیں لے سکتی “

” کیوں نہیں لے سکتی ” وہ اس کے پاس آ کر پوچھنے لگا

” میرا دم گھٹتا ہے سانس نہیں آتا میں بچپن سے ایسے لباس نہیں پہنے ۔۔۔ بہت ایرٹیٹ ہوتی ہوں

میں ” بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر حیا نے اونچی سی پونی ٹیل بنا لی تھی لیکن ڈوپٹہ ویسے ہی رہنے دیا تھا

” اور تمہیں اس حلیے میں دیکھ کر میرادم گھٹتا ہے میں ایرٹیٹ ہوتا ہوں ۔۔۔ طریقے سے لو اسے ۔۔۔

کبھی حمیرا کو دیکھا ہے تم نے تمہاری ہی عمر کی ہے تمہاری دوست بھی ہے ۔۔۔ کتنی سلجھی اور تمیزدار ہے ” حیا کو خود ڈوپٹہ پہناتے ہوئے اس نے کہا ۔۔۔ حیا کو تو جیسے آگ سی لگ گئ تھی

“سارے جہاں کی برائی انہیں بس مجھ ہی نظر آتی ہے ۔۔۔ حمیرا تمیز دار ہے بیوی انکی فرمابردار تھی ایک میں بری ہوں ۔۔۔ ” دل کی دل میں وہ پیج و تاب کھا کے رہ گئ تھی ۔۔۔

ڈاکٹر سے اس نے ایسی ویسی کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔۔

دل میں کہیں نا کہیں حیا کو بھی آذر کوسزا دلوانے کی خواہش اٹھی تھی آغا جی نے توصاف ہاتھ جھاڑ لئے تھے ۔۔۔ لیکن اس کی خاطر یہ قدم اٹھنا بھی ایک تکلیف دہ عمل تھا ۔۔۔۔

ڈاکٹر نے میڈسن چینج کر دیں تھیں ۔۔۔ واپسی پر ارتضی خاموشی سے ہی ڈرائیو کر رہا تھا

” میں نے سوچ لیا ہے ” بات حیا نے شروع کی

” اب کیا سوچ لیا ہے تم نے ” ارتضی اسکی سوچ سے زچ ہی ہوتا تھا

“یہی کہ مجھے آپ کا ساتھ دینا چاہیے ۔۔۔۔ آخر اسے بھی تو سزا ملنی چاہیے جو ظلم کر کے بھی کھلے عام دندناتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔ ” حیا نے غصے سے دانت بیچ کے کہا

” چلو اچھی بات ہے کہ کچھ عقل سے بھی کام لے لیتی ہو تم ۔۔۔ “حیا نے پھر خفگی سے اسکی طرف دیکھا تھا بات تو اسکی بہت بری لگی تھی ۔۔۔لیکن ضبط کر گئ ۔۔۔۔

ایک دن وہ اور رومان باتوں میں مصروف تھے جب رومان نے تانیہ کا ذکر کیا کہ ارتضی تانیہ کی بہت سی باتیں رومان کو بتاتا تھا

” رومی کیا تمہاری ممی بہت خوبصورت ہیں ” حیا کو کچھ تجسس سا ہوا تھا

” ہاں خوبصورت تو بہت ہیں ۔۔۔ ” رومان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

” تم نے دیکھا ہے انہیں “

” ہاں تصویریں ہیں بابا کے پاس ۔۔۔ “

” چلو مجھے بھی دیکھاوں ” حیا فورا سے اٹھنے لگی

” شام کو بابا آئیں گئے تو ان سے پوچھ کر دیکھادوں گا ” رو

سن کی بات پر وہ برجستہ بولی

” نہیں نہیں ۔۔ اپنے بابا کو بیچ میں کیوں کا رہے ہو ۔۔۔ ہم چھپ کر دیکھ لیتے ہیں ” ارتضی کے سامنے آنے سے وہ ڈرتی تھی

” کیسے ؟

“کیا مطلب کیسے۔۔۔۔ انکے کمرے کی الماری میں ہی ہوں گئیں ” حیا نے ارتضی کو الماری میں ہی تصویر رکھتے دیکھا تھا

“وہ الماری ہر وقت لوک رہتی ہے ۔۔۔۔۔چابی بابا پاس ہوتی ہے ۔۔۔ “

“ہاں تو لوک کھولنا کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔ وہ تو میں دومنٹ میں کھول سکتی ہوں ” حیا نے چٹکی یوں بھائی جیسے کوئی مسلہ ہی نا ہو

“اچھا۔۔۔ بنا چابی کے وہ کیسے ” رومان نے حیرت سے پوچھا

” تم نے سمجھ کیا رکھا مجھے ۔۔۔حیا ہوں میں کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔۔۔ چلو تمہیں دو منٹ میں کھول کر دیکھاتی ہوں ” حیا کے ساتھ رومان بھی کھڑا ہو گیا ۔۔ حیا بڑے تجربہ کار چودوں کی طرح سر سے بال پن اتار کر لوک میں گھمائی لیکن لوک نہیں کھلا ۔۔ رومان تمسخر انہ ہنسی ہسنے لگا ۔۔ حیا نے اسے گھور کر کہا

” زیادہ دانت مت نکالوں سمجھے جاؤں اور پیچ کس لیکر آؤں ” رومان منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں پورا ٹول بکس ہی اٹھا لے آیا ۔۔۔۔ آدھا گھنٹہ حیا نے مختلف تجربے کر لئے تھے لیکن لوک نہیں کھلا تھا ۔۔۔

” چھوڑ دیں ممی آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔ ہار مان لیں “

” سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ اسے تو آج میں کھول کر رہوں گی دیکھوں تو صحیح تمہاری ممی مجھ سے کتنی ذیادہ خوبصورت تھیں جو تمہارے بابا مجھے طعنے دیتے رہتے ہیں ” اندر ہی اندر ارتضی کا دیا ہوا طعنہ آگ لگائے ہوا تھا ۔۔۔ اس لئے تانیہ کو دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔ لیکن اسوقت ارتضی کمرے

میں آ چکا اسکی بات بھی سن چکا تھا ۔۔۔ لیکن وہ لوک کھولنے میں مگن تھی ارتضی کی آمد سے یکسر بے خبر ۔۔۔ ارتضی رومان کے پیچھے کھڑا ہو گیا ۔۔ اسکے کندھے پر انگلی سے ٹک ٹک کیا رومان نے مدافعانہ انداز سے پیچھے دیکھا اور دنگ سا رہ گیا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے کے کچھ بولتا باپ کے سخت تیوریاں چڑھائے سے گھورتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا وہ جلدی سے کمرے سے نکل گیا پتہ تھا کہ شامت پکی ہے ۔۔۔ اس دراز کو کھولنے کی اجازت تو رومان کو بھی نہیں تھی ۔۔۔ اب ارتضی رومان کی جگہ کھڑا ہو گیا تھا حیا کے ذرا سا پیچھےخاموشی سے کھڑا تھا حیا کو زور آزمائی کرتے دیکھ رہا تھا

” یہ بھی بے کار ہے رومی ذداچار منہ والا پیچ کس دینا ” حیا نے بنا دیکھے اپنا ہاتھ پیچھے کی جانب کیا ارتضی نے ٹول بکس سے چار منہ والا پیچ کس اس کے ہاتھ رکھ دیا پانچ منٹ کی تگ و دو کے بعد اس نے وہ پیچ کس واپس کر دیا ۔۔۔

” اب کیا کروں یہ تو کھل کے نہیں دے رہا” وہ خود سے بڑبڑائی تھی

ارتضی نے چابی اسکے سامنے کر دی

” لو اس سے ٹرائے کرو ۔۔۔ شاید کھل جائے ” ارتضی کے ہاتھ سے اسنے بے دھیانی میں ہی چابی لی اور

دراز کھولنے لگی دراز کھل گیا تھا لیکن ساتھ ہی بند عقل کا در بھی کھلا چکا تھا ۔۔ چابی جس نے دی تھی وہ آواز ارتضی کی خوف سے حیا کی آنکھیں پھیلیں تھیں ۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پیچھے دیکھا وہ ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔۔۔ وہ سیدھی کھڑی ہو گئ ۔۔۔

” میرے کمرے میں رہنے کی اجازت ضرور ہے تمہیں میرے پرسنل میں گھسنے کی ہر گز نہیں ۔۔۔ کیا کر رہی تھی یہاں پر ” وہ اسے ذریک نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا حیا نے پورے کمرے میں نظریں دوڑا کر رومی کو ڈھونڈا جو پہلے ہی بھاگ چکا تھا

” وہ رومی ۔۔۔ رومی نے کہا تھااسے ۔اسکی ممی یاد آ۔ رہی ہیں اس نے انکی تصویر دیکھنی ہے اس لئے میں نے سوچا بچہ ہے اداس ہو گیا ہو گا ۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ بس ۔۔۔ بے شک رومی سے پوچھ لیں ” بڑے فڑاٹے سے وہ جھوٹ بول رہی تھی

” رومی اتنا بھی بچہ نہیں ہے ۔۔۔ کے چند گھنٹے

میرا انتظار نا کر سکتا ہو۔۔۔ جھوٹ میرے سامنے تو بولا بھی مت کروں سچ یہ کہ تمہیں دلچسپی ہے دیکھنے کی تمہاری باتیں سن چکا ہوں میں ” ارتضی کی بات پر وہ فوراسے اپنی غلطی مان گئ لیکن اپنے انداز سے

” ہاں ہے بھی تو اس میں ایسی کوئی چھپانے والی بات تو نہیں ہے ۔۔۔ میں کون سا کوئی چوری کر رہی تھی بس ایک تصویر ہی تو دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔ “

” یہ تم مجھ سے بھی کہہ سکتی تھی ۔۔ ۔میں خود تمہیں دیکھا دیتا کہ وہ تم سے کتنی ذیادہ خوبصورت ہے ۔۔۔ اس کے لئے یہ چوروں کی طرح لوک توڑنے کی ضرورت نہیں تھی تمہیں ۔۔۔” حیا کے پاس کوئی جواب نہیں نہیں تھا اس لئے فورا وہ کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔

****……

“شمس ” وہ پھر یہی نام پکارتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔ وہ جاگ ہی رہا تھاسویا نہیں تھا ۔۔۔

” تانیہ ۔۔۔۔”

” جازم وہ ۔۔۔ وہ مارکیٹ میں شمس تھا ۔۔ مار ڈالے گا مجھے ۔۔ مجھے بیچ دے گا ۔۔۔۔ مجھے اس وحشی کے پاس بھیج دے گا جازم سے مار ڈالو”وہ بری طرح سے رو رہی تھی ۔۔۔ جازم کے لئے سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا

” تانیہ کوئی نہیں ہے یہاں ہو کیا گیا تمہیں ۔۔ ہوش میں آؤں ” جس کنڈشن میں وہ تھی وہ اسے جھنجھوڑ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔

” آپ نہیں سمجھتے ۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے۔ نہیں چھوڑے گا ۔۔۔ وہ کمالا ہے نا ں میرا بھائی ۔۔۔ اس نے شمس کی بہن کو نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔ اس نے مار ڈالا تھا اسے ۔۔۔ منی ہے منی ۔۔۔ منی ۔۔۔ منی کو میرے بھائی نے مار ڈالا ۔۔۔ تھا ۔۔۔ شمس مجھے بیچ دے گا ۔۔۔ ” پتہ نہیں وہ کیا بول رہی تھی لیکن بری طرح پسینے سے شرابور تھی ۔۔۔۔ رو رہی تھی گھبرائی ہوئی رنگ لٹھے طرح سفید تھی ہونٹ خوف کے مارے کپکپا رہے تھے ۔۔۔

” تانیہ کوئی نہیں ہے یہاں میں ہوں جازم تمہارا شوہر ادھر دیکھوں میری طرف ” وہ جازم کو بھی دھکے دے رہی تھی ۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ اسے مضبوطی سے تھام پایا تھا

” وہ بھی تو میرا شوہر ہی تھا ۔۔ جازم اس نے مجھے طلاق دی تھی ۔۔۔ پھر مجھے بیچ دیا ۔۔۔ وہ اب بھی مجھے بیچ دے گا ۔۔۔۔ وہ بیچ دے گا

مجھے یہ کہتے کہتے وہ پھر سے ہوش سے غافل ہوئی تھی ۔۔۔۔

” پتہ نہیں کتنے انکشاف ابھی اور باقی تھے ۔۔۔۔۔ دو سالوں میں بس ڈیر سال ہی شاید اچھا گزرا تھا شادی کے شروع والی کیفت پھر سے اس پر سوار ہوئی تھی اور اس بار شدت ذیادہ تھی ۔۔۔ پھر وہ جس کنڈشن میں تھی اس کے لئے یہ سب نقصان دہ تھا ۔۔۔۔

صبح ہی وہ اسے لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا ۔۔۔ اب وہ کافی سنبھلی ہوئی لگ رہی تھی ۔۔۔ رات والی کیفیت نہیں تھی ۔۔۔ خاموش تھی لیکن آنسوں تسلسل سے جاری تھے ۔۔۔

” ڈاکٹر نے میڈسن میں نیند کی ڈوز شامل کر دی تھی ۔۔۔۔

گھر آ کر کر وہ کمرے میں بیٹھ گئ ۔۔۔ جازم نے اسے ناشتہ کروا کر میڈسن دی

” تانیہ آرام کرو تم “

” تانیہ نہیں ثوبیہ ۔۔۔ میرا نام ثوبیہ ہے ۔۔۔۔ ” اسکی یاداشت واپس آ چکی تھی ۔۔۔۔ جازم اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔

” میرے لئے تم تانیہ ہی ہو ۔۔۔ ” تانیہ اسے غور سے دیکھنے لگی تھی چہرے پر وہی اپنایت تھی ۔۔۔ وہی محبت وہی فکرمندی

” کیسے انسان ہیں آپ انا نہیں آپ میں ۔۔۔ میری ہر برائی آپ کے سامنے ہے نفرت کیوں نہیں کرتے مجھ سے بہت بری لڑکی یوں میں گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی میں نے شمس سے ۔۔۔ اپنے گھر والوں کی عزت خاک میں ملا دی ۔۔۔ میری ماں میرے صدمے سے مر گئ ۔۔۔ میرے بھائی نے غیرت کے بدلے میں شمس کی پندرہ سالہ بہن سے نکاح کر لیا اسے اپنے بدلے کی ہوس میں مار ڈالا ۔۔۔اور اسکی بدلے میں شمس نے مجھے بیچ ڈالا ۔۔۔۔

جازم میں آپ کے قابل تو کبھی بھی نہیں ہوں پھر نفرت کیوں نہیں کرتے ۔۔ خدا کے لئے مجھ سے نفرت کروں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں نفرت کے قابل ہوں ۔۔۔ کاش مجھے کچھ بھی یاد نا آتا ۔۔۔ ۔۔ کاش کے میں چلا چلا کر سب سے کہہ سکوں کہ خدا کے لئے محبت کبھی مت کرنا محبت میں سب کچھ جائز نہیں ہے ۔۔ کبھی اپنی عزت کا سودا مت کرنا ۔۔۔ مر جانا لیکن گھر کی دہلیز پار مت کرنا ۔۔۔۔ کہیں میرا جیسا انجام نا ہو جائے ۔۔۔۔

ارے جو تمہیں عزت سے رخصت کروا کے نہیں لے جا سکتا وہ تمہیں بھاگا کے لے جانے بعد کیسے عزت سے رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔ بیچ دے گا تمہیں ۔۔۔ بھڑیوں آگے پھنک دے گا نوچ کھانے کے لئے ۔۔۔۔

خدارا کبھی بھی ۔۔۔ کبھی بھی گھر کی دہلیز مت پھلانگنا ۔۔۔۔۔اس سے برباد ایک لڑکی نہیں اس کا پورا گھر ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ تف ہو ایسی محبت پر ۔۔۔۔۔ “وہ رو رہی تھی بلک رہی تھی جازم با مشکل خود پر ضبط باندھے ہوا تھا ۔۔۔۔ کیاسزا دیتا اسے جو اسے ملی تھی وہ اذیت کون سی کم تھی ۔۔۔۔۔ اسکے بعد سے تانیہ بیمار رہنے لگی تھی وقت سے پہلے ہی زچگی کی تکلیف میں مبتلہ ہوئی تھی ۔۔۔ اس رات بارش بھی بہت طوفانی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ کیسے اسے ہوسپٹل لے کر لیکر پہنچا وہی جانتا تھا ۔۔۔ ہزار کوشش صبر ضبط کچھ بھی تو کام نہیں آیاتھا ۔۔۔ وہ اسی اذیت کو سہتے سہتے بس ایک احسان جازم پر کر گئ تھی ۔۔۔ اسے رومان کی صورت میں ایک بیٹے سے نواز گئ تھی ۔۔۔۔۔۔

آج تو وہ بلکل ٹوٹ گیا تھا دو سال کی میں کیا کچھ نہیں سہا تھااس نے ۔۔۔ پہلی بار اسے نکاح کے بعد گھر لاتے ہوئے پورے راستے گھونگھٹ میں اسکی سسکیاں سنی تھی جازم کو لگا شاید جو ذیادتی اس کے ساتھ ہوئی کے وہ اسی تکلیف ۔میں ہے اسکی محبت پا کر بھول جائے گی ۔۔۔ کمرے میں بیٹھنے کے بعد اس نے پہلی بار تانیہ کا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔ دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔ حد درجہ حسین لڑکی تھی وہ ۔۔۔ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ۔۔۔۔۔ پھر اسکی بیوی تھی ۔۔۔ اس لئے نظریں ہٹانے کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ کافی دیر بس اسے روتے ہی دیکھتا رہا ۔۔

” مانا کہ بہت حسین ہیں آپ ۔۔۔ روتے ہوئے حسن پر کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن اب بس کریں کتنا روئیں گئیں ” تانیہ نے آنسوں صاف کیے تھے ۔۔۔۔۔ بامشکل جازم کی طرف دیکھا ۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ فوراسے نظریں بدل گی

” تانیہ “اس سے پہلے کہ وہ اس کا ہاتھ تھامتا وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ تھی ۔۔ جازم حیرت سے اسے دیکھنے لگا دیور کے ساتھ لگ کر خوف سے ڈرنے لگی رونے لگی تھی وہ سمجھا شاید اسی حادثے کے زیر اثر ہے اس لئے دوسرے کمرے میں چلا گیا لیکن پوری رات نیند نہیں آئی تھی پہلی بار کسی لڑکی نے نیندیں اڑائیں تھیں ۔۔۔۔۔ لیکن بعد میں جیسی جیسی حقیقتیں اس پر کھلی تھیں وہ بھونچکا کے رہ گیا تھا ۔۔۔ لیکن سب کچھ سہتا رہا کہ اگر سب ہی دھتکارنے والے ہوں گئے تو کون سہارا دے گا انہیں ۔۔۔ کسی کو قدم بڑھانا ہے ۔۔۔ پھر وہ کیوں نا بڑھائے ۔۔۔ انا کو تو اسی دن جازم نے زیر کر دیا تھا جس دن پہلی بار اپنی ماں کو کوٹھے پر دیکھا تھا انا پرست ہوتا تو دوبارہ وہاں کا رخ نا کرتا عزت کی زندگی تو ملی ہوئی کون جانتا تھا کہ جازم ارتضی ہارون ۔۔۔ جازم عبدالباسط ہے ۔۔۔

اسکول میں سب ارتضی کے نام سے جانتے تھے برتھ سرٹیفکیٹ پر بھی ارتضی ہی لکھا تھا ۔۔ جازم صرف ہارون الرشید بولتے تھے ۔۔۔ تانیہ زندگی آنے والی پہلی لڑکی تھی ۔۔۔ محبت بھی اس سے پہلی بار دیکھتے ہی ہوئی تھی ۔۔۔ پھر جیسے وہ ٹھیک ہونے لگی تھی اس کا خیال رکھنے لگی تھی جازم کی چاہت بھی اور بھی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔ گھنٹوں وہ ہنستے تھے باتیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ اس کی کل کائنات بن گئ تھی ایک سال بعد ایک نئ خوشی اسےملی تھی اولاد کی لیکن شاید مدت بہت کم تھی خوشیوں کی تانیہ جا چکی تھی ۔۔۔۔ آج سارے ضبط کھو چکا تھا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔۔ ہاسپٹل کے کوریڈور میں آنے جانے والے لوگ اسے رک کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔ آج اسے کسی کی پروا نہیں تھی ۔۔۔ ڈاکٹر بار بار اسے حوصلہ رکھنے کی تاکید کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن کہاں سے لاتا ایسا صبر ۔۔۔

رومان کو گود میں لیتے وقت ہاتھ بری طرح سے کپکپائے تھے ۔۔۔۔

” تم کیوں میرے جیسا نصیب لیکر آ گئے اس دنیا میں ساری زندگی ۔میں ماں کی محبت کو ترستارہا ہوں ۔۔۔ اب تم بھی ۔۔۔۔۔ ” لفظ ہی شاید ختم تھے ۔۔۔ رومان کو سینے سے لگانے وہ رونے لگا تھا ۔۔۔۔

******……..

اس بار حیا کے ساتھ ساتھ رومان کی بھی باپ کے ہاتھوں اچھی کلاس ہوئی تھی دونوں نظریں جھکائے ارتضی کی سن رہے تھے

” یہ تو خیر سے ہے ہی ایسی۔۔۔ رومان تم بھی ۔۔۔ ” حیا نے چور آنکھوں سے ارتضی کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ میں نے ایسا کیا چرا لیا ہے

” اتنی ماں کی یاد ستا رہی تھی تمہیں کہ میرے آنے تک کا صبر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔ “

” بابا وہ ” اس سے پہلے رومان مزید حیا کی پول پٹاریاں کھولتا حیا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ذراسا دبایا تھا کہ اسکی عزت رکھ لے وہ بیچارہ چپ ہو گیا ۔۔۔

” آج کے بعد تم دونوں مجھے دوبارہ ایسی حرکت کرتے نظر آئے تو دیکھوں کیا حال کرتا ہوں تم دونوں ۔۔ اب جاؤں یہاں سے “

دونوں ہی سیدھا رومان کے کمرے

میں گئے تھے ۔۔۔

دروازہ بند کر کے پہلے تو دونوں نے لمبا گہرا سانس کھنچ کر لیا تھا

” شکر ہے جان چھوٹی “بیک وقت دونوں کی زبان سے یہ جمعلہ ادا ہوا تھا ۔۔۔

پھر دونوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا

” آپ کی وجہ سے مجھے بلا وجہ ڈانٹ پڑی ہے “

” چھوڑو بھی رومی تمہارے بابا کو شوق ہے ۔۔۔ ہر ایک کے سر پر ماسٹر بننے کا ۔۔۔ اب ذیادہ ٹینشن مت لو اگر ہمہیں ایسا کچھ کرنا بھی ہوا تو صبح کے وقت کریں گئے ہماری ٹائمنگ ہی غلط تھی ہم نے انکے آنے کے ٹائمنگ پر یہ سب کیا ” حیا کے منہ سے یہ سب سن کر رومان نے حیرت سےآنکھیں پھیلائے منہ کھولے حیا کو دیکھا تھا

“اتنی ڈانٹ سننے کے۔ بعد آپ اب بھی وہ دراز کھولیں گئ۔۔۔ “؟

” آف کورس جب تک میں تانیہ کو دیکھ نا لوں مجھے چین نہیں آئے گا ۔۔۔” حیا اب بھی اپنے موقف پر قائم تھی ۔۔۔ لیکن اگلے روز اسے ایسا کچھ کرنا نہیں پڑا تھا رومان پہلے ہی البم نکلوا چکا تھا ۔۔۔ اسکول سے آتے ہی حیا کواپنے کمرے میں ۔ لے گیا ارتضی بس لنچ کرتے ہی گھر سے چلا جاتا تھا پھر شام کو ہی لوٹتا تھا ۔۔۔۔۔ تانیہ کی البم میں حیا اتنے غور سے وہ تانیہ کو نہیں دیکھ رہی تھی جیتنے غور س سے ارتضی کو اسے ساتھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔ دس بارہ سال پہلے جس قدر وہ ہینڈسم تھا۔۔۔ کئ لڑکیاں تو تواس پر دل ہی ہار بیٹھتی ہوں گئیں ۔۔۔۔۔ کئ تصویروں میں جازم تانیہ کے گلے ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ۔۔۔ کئ جگہ اسے محبت سے دیکھ رہا تھا ۔۔ مسکرا رہا تھا مسکرانے سے رخسار پر پڑتا ڈمپل اسے کی دلکشی بڑھا رہا تھا ۔۔۔ تانیہ بلا شبہ بہت خوبصورت تھی ۔۔ لیکن حیا کووہ کسی طور بھی اپنے سے ذیادہ خوبصورت نہیں لگی تھی

” ویسے تمہاری ممی مجھ جیسی ہی ہیں مطلب مجھ سے ذیادہ حسین تو نہیں ہیں ” حیا نے اتراتے ہوئے رومان سے کہا

” ہاں ہو سکتا ہے ۔۔۔ لیکن مجھے آپ ذیادہ اچھی لگتی ہیں ” رومان کے منہ سے یہ سن وہ جیسے خوش ہوئی تھی ۔۔۔

” ہے ناں ۔۔۔ تم بھی مانتے جو نا میں زیادہ پیاری ہوں ” ۔

” ہاں ممی آپ ذیادہ اچھی ہیں کیونکہ میں نے تو جیتی جاگتی ممی کے روپ میں آپ کو ہی دیکھا ہے ۔۔۔ مجھے کیا پتہ وہ کیسی تھی ۔۔۔ “

” رومی تمہارے بابا کے کمرے میں۔ آخری کے واڈروب جو لیڈیز کپڑے ہینگ ہیں وہ تمہاری ممی کے ہیں ۔۔؟ ۔

“جی ہاں بابا نے بہت سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں ۔۔ “

” چلو آج میں تمہیں تمہاری رئیل ممی بنکر دیکھاتی ہوں بہت مزہ آئے گا ۔۔۔ ” حیا اٹھ کر دوبارہ ارتضی کے کمرے ۔میں گئ تھی

” لیکن میری بات سنے” اس سے پہلے کے رومان اسے روکتا وہ کمرہ بند کر چکی تھی ۔۔۔ واڈ روب بڑے دھڑلے سے کھولا تانیہ کا ایک مہرون کلر کا فینسی ڈریس پہننا اور دروازہ کھول دیا رومان اسے دیکھنے لگا ۔۔

” کیوں لگ رہی ہوں نا تمہاری تصویر والی ممی جیسی ” رومان نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔

“نہیں ابھی رکو البم لیکر آؤں ہیر اسٹائل بھی ویسا ہی بناتی ہوں ” حیا نےالبم پکڑی اور تانیہ کی تصویر دیکھتے ہوئےبلکل ویسا تیار بھی ہو گئ

” اب بتاؤں رومی لگ رہی ہوں نا تمہاری ممی جیسی ” رومان کبھی اپنی ماں کی تصویر کو دیکھ رہا تھا کبھی سامنے کھڑی حیا کو بہت حد تک وہ تانیہ سے ۔مل رہی تھی عین اسی وقت لائٹ بند ہوئی تھی ۔۔۔

” اوہ شٹ آپ یہیں رکیں میں کچن سے موم بتی لیکر آتا ہوں ۔۔۔ رومان کمرے سے باہر چلا گیا ارتضی اڈی وقت واپس آیا تھا چابی سے مین گیٹ کا لوک کھولا اور اپنے کمرے

میں چلا گیا ۔۔۔ کمرے کے بند ہونے کی آواز سے حیا کو لگا رومان ہے لیکن موبائل کی ٹارچ لائٹ جلتے ہی سیدھی روشنی اسکی آنکھوں پر پڑی تھی اس نے فوراسے بازو اپنی آنکھوں پر رکھا تھا ۔۔۔ لیکن سامنے والا اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا ۔۔۔ خواب تھا جو حقیقت بن کر سامنے کھڑا تھا ۔۔۔ موبائل ارتضی کے ہاتھ سے چھٹ کر بیڈ پر گرا تھا ٹارچ لائٹ کی روشنی بند ہو چکی تھی

“تانی ” ملجگے سے اندھیرے میں اسے لگا تانیہ سامنے کھڑی ہے ۔۔۔ چند قدموں کا فاصلہ پل بھر میں دور ہوا تھا