Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 16

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 16

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

ارتضی نماز پڑھ کر کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔ کچھ پیاس سی محسوس ہو رہی تھی اس لئے کچن میں جا کر سے پانی نکال کر پیا ۔۔ لاونج سے کمرے میں جاتے ہوئے سامنے صوفے پر۔ نظر پڑی صوفہ خالی تھا ۔۔ ارتضی نے خاص توجہ نہیں دی کیونکہ رومان کا کمرہ کھلا رہتا تھا اگر حیا کو واش روم یوز کرنا ہوتا تو وہ رومان کے کمرے میں ہی جاتی تھی ۔۔۔۔ بے دھیانی میں ارتضی کی نظر مین گیٹ کی طرف اٹھی پورا کھلا ہو تھا ۔۔۔ یک دم ہی اسے پہلا خیال حیا کے بھاگ جانے کا آیا تھا ۔۔۔ اس نے سب سے پہلے رومان کے کمرے میں دیکھا کہ کہیں رومان کے ساتھ نا باہر نکل گئ ہو یونہی ٹہلنے کے لئے کیونکہ دن میں اگر وہ باہر جاتا تھا تو دروازہ لوک کر کے جاتا تھا بس رات کو ایسا نہیں۔ کرتا تھا ۔۔۔ کیونکہ ایسا اسکے گمان میں نہیں۔ تھا کہ وہ دیر سے اٹھنے والی نوابی مزاج لڑکی رات کو اٹھ کر بھاگ سکتی ہے ۔۔ وہ تیزی سے باہر نکلا تھا جہاں وہ رہ رہے تھے آبادی سے خاصا دور جگہ تھی ۔۔۔۔۔ ذیادہ تر کھائیاں ہی تھیں راستہ بھی خطرناک سا تھا ۔۔۔۔ جس نازک مزاج کی وہ تھی ۔۔۔۔ آبادی میں جانے کے بجائے سیدھی کھائی میں گرتی یہ سوچ کر اسکے رہے سکے ہوش بھی آڑے تھے اگر اس بیوقوف کو کچھ ہو گیا تو موت کا الزام بھی اسی پر آنا تھا ۔۔۔ بری طرح سے وہ گھبرایا ہوا تھا ۔۔۔ پہاڑ کی سیڑیاں کی طرف بڑھا تھا لیکن حیا کے چیخنے کی آواز دوسری جانب سے آئی تھی ۔۔۔

” بچاوں ۔۔۔۔ میں گر جاؤں گی ۔۔۔ ” حیا نے چلا کر کہا ارتضی آواز کا تعاقب کرتے ہوئے اس جانب گیا جو پہاڑ کا ڈھلان تھا ۔۔۔ کچھ نچے اترتے ہی حیا کے ہاتھ ایک درخت کے مضبوط تنے کو جکڑے ہوئے نظر آئے ۔۔۔ ارتضی بھاگ کر وہاں پہنچا حیا اس تنے کے سہارے سے اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ نیچے زیادہ گہرائی نہیں تھی اگر گر بھی جاتی تو معمولی سی چوٹ لگتی لیکن وہ یوں چلا رہی تھی جیسے کافی گہری کھائی ہو اور گرتے ہی مر جائے گی

” بچاؤ مجھے ۔۔۔ کوئی ہے ,” وہ پھر سے چلائی ارتضی نے آگے بڑھ کر دونوں ہاتھوں سے اسکے ہاتھ پکڑ اوپر چڑھنے میں مدد دی ۔۔۔ اوپر چڑھتے ہی حیا کا بری طرح سے پھول رہا تھا ۔۔۔۔

چہرہ کارنگ بھی اڑا ہوا تھا ۔۔۔

” گھر سے کیوں نکلی تھی تم “

” وہ ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ وہ ” وہ پہلے ہی بری طرح گھبرائی ہوئی تھی کچھ نہیں سوجا تو اپنے کپڑے جھاڑ نے لگی

” کیا ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ ٹھیکا لے رکھا ہے تم نے مجھے پریشان کرنے کا کیوں آئی تھی یہاں۔۔۔۔ بھاگ جانے کے لئے ۔۔۔ ” وہ اشتعال میں آیا تھا وہ رونے والی شکل بنا کر بولی

” آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ میرے مرنے پر ہی میری جان چھٹ سکتی ہے آپ سے ورنہ نہیں ۔۔۔۔ اس لئے میں سو سائیڈ کے لئے آئی تھی ” ارتضی بری طرح سے زچ ہوا تھا کہ کہاں جا کر اپنا سر پھوڑے ۔۔۔

” تو پھر کی کیوں نہیں خود چلا چلا کر مدد کیوں مانگ رہی تھی “

” وہ میں ڈر گئ تھی ” جھوٹ ہے جھوٹ تھا جو وہ بول رہی تھی ۔۔۔ نکلی وہ بھاگنے کے لئے ہی تھی

لیکن اگر سچ بولتی تو پتہ نہیں کیا سلوک کرتا

” تو خود کشی کرنی تھی تمہیں ۔۔۔ جو جگہ تم نے منتخب کی ہے اس سے تو تمہیں صرف ایک دو فیکچر ہی آ سکتے تھے تم مر نہیں سکتی تھی ۔۔۔ لیکن تمہاری یہ خواہش میں آج پوری کر دیتا ہوں ۔۔ کم از کم میری زندگی میں سکون تو آئے حیا کا ہاتھ پکڑے وہ تیز قدم اٹھانے لگا حیا کی جان لبوں تک آئی تھی

” نہیں ۔۔۔ مجھے نہیں مرنا ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔۔” اونچے نیچے راستوں پر وہ اسے لے جاتے ہوئے ایک بہت بڑی چٹان پر لے گیا جس کے نیچے اچھی خاصی گہرائی تھی ۔۔۔

” آج تمہارا یہ ڈیر میرے ہاتھوں پورا ہو گیا ۔۔۔۔۔ بہت شوق ہے تمہیں اپنی زندگی کو تجربہ گاہ بنانے کا ۔۔۔ ” اس نے بازو سے مضبوطی سے حیا کو پکڑا کہ کہیں سچ میں گر نا جائے کیوں اگر وہاں ذرا بھی بھول چوک ہو جاتی تو وہ سیدھی کھائی میں جاتی ۔۔۔ ارتضی صرف اسے تنبیہ کے لئے وہاں لایا تھا ۔۔۔ تا کہ اس کے روز روز کے ڈرامے ختم ہوں ۔۔ وہ بد حواسی کے عالم میں تھی

” نہیں ۔۔ مجھے نہیں مرنا ۔۔۔مجھے بہت ڈر لگتا ہے مرنے سے ” حیا رونے لگی تھی ۔۔۔لیکن ارتضی نے اسے کھائی کی جانب جھٹکے سے دھکیلا لیکن بازو مضبوطی سے پکڑے رکھا حیا کی بے اختیار چیخیں بلند ہوئی تھیں

” پلیز مجھے مرنا نہیں ہے “

” تم نے بہت پریشان کر رکھا ہے مجھے ۔۔۔ صبح صبح منہ اندھیرے میں روز روز تمہیں ڈھونڈنے نہیں نکلو گا مر جاؤں وہی بہتر ہے ۔۔۔ “

” میں اب نہیں بھاگوں گی پلیز مجھے معاف کر دیں

” میں کیسے یقین کر لوں کہ تم یہ نہیں کروں گی “

“اللہ کی قسم نہیں کروں گی ۔۔۔ کبھی بھی نہیں” حالانکہ کے ارتضی نے اس کا بازو کس کے پکڑ رکھا تھا لیکن پھر بھی وہ دونوں ہاتھوں سے اسے زور سے پکڑے ہوئے تھی ۔۔۔۔ ارتضی نے اسے ذرا سا اپنی جانب کھنچ کر چٹان کے کونے پیچھے کیا لیکن وہ اس قدر ڈری اور گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔ جیسے ہی ارتضی نے اس کا بازو چھوڑا ۔۔۔ وہ اسکے ساتھ لگ گئ ۔۔۔ اور اسکی کمر زور سے پکڑ لی یک دم تو وہ ہڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔۔۔ ایسی کسی حرکت کی اسے امید نہیں تھی ۔۔۔ دو منٹ تو وہ بھی کچھ سمجھ نہیں پایا تھا ۔۔۔ ایک لڑکی کا یوں ساتھ لگ جانا اسے بھی بوکھلا کر رکھ گیا تھا ۔۔۔ اس وقت اسکی تیز دھڑکنیں وہ اپنے اندر بہت واضع طور پر سن رہا تھا ۔۔۔ شاید کچھ زیادہ ہی ڈر گئ تھی ۔۔۔

” حیا پیچھے ہٹوں مجھ سے “

“نہیں ۔۔۔ آپ مجھے کھائی میں پھنک دیں گئے ” حیا نے اپنی گرفت اور مضبوط کی تھی ارتضی اس عقل سے پیدل لڑکی پر صرف تاسف ہی کر سکتا تھا ۔۔۔ اسے بازو سے تھام کر خود سے جدا کیا تھا جو چند لمحوں میں اندر ہلچل سی مچا گئ تھی

” نہیں گراتا تمہیں چلو اب یہاں سے “ارتضی نے نظریں۔ چرائیں تھیں ۔۔۔ حیا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے بازو سے پکڑ لیا ۔۔۔

” میں نے سینڈل پہنے ہیں جو چھوٹی سی ہیل والے ہیں میں گر جاؤں ۔۔۔ یہاں کا راستہ خطرناک ہے ” ارتضی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ اب اچھی خاصی روشنی پھیل چکی تھی ۔۔۔ کاٹج کے دروازے پر رومان کھڑا تھا جو منہ بسورے انہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔ شاید نیند سے جاگا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں اب بھی نیند کی خماری چھلک رہی تھی ۔۔۔۔ ارتضی اور حیا کو یوں ساتھ ساتھ آتے دیکھ کر تیوری سی چڑھائی تھی اس نے ۔۔۔ حیا نے اب بھی ارتضی کا بازو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔۔۔

“چھوڑو مجھے آگیا ہے گھر ” ارتضی نے جھکتے سے اپنے بازو کو اسکے ہاتھوں سے چھڑایا تھا

“آپ لوگوں نے اگر مورنئگ واک پر جانا تھا تو مجھے تو بتا دیتے کب میں پریشان ہو رہا ہوں “

” مائے فٹ مارننگ واک “ارتضی حیا کو گھورتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔ اور رومان واپس اپنے کمرے میں ۔۔۔۔ حیا نے دروازہ بند کیا اور صوفے پر لیٹ کر جلدی سےکنفرٹر لے لیا ۔۔۔ سردی نکلی تو بڑی شیر بن کر تھی لیکن اب خوف سے ٹھنڈ بھی کچھ زیادہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔ اگر ارتضی اسے ڈھونڈنے نا نکلتا تو اس جنگل بیابان میں کون آتا اسکی مدد کو۔۔۔۔ پھر ساتھ ہی ایک منفی سوچ نے اسے آ گھیرا ۔۔۔ کتنے آرام سے

مجھے کھائی میں پھکنے لگے تھے اگر ہاتھ جاتا تو ۔۔ میں تو گئ تھی کام سے ۔۔۔۔ ” یہ سوچ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سو بھی گئ تھی لیکن ارتضی سو نہیں پایا تھا ۔۔۔ کوشش کے باوجود تھی ۔۔۔۔ سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اپنی بیوی کی تصویر نکال کر دیکھنے لگا

” کتنا کھٹن سفر ہے جو مجھے تمہارے بنا صرف تمہاری یادوں کے ساتھ گزارنا پڑ رہا ہے ۔۔۔کاش کے جانے والوں کو روکا جاسکتا

*******……

تانیہ گھر آ کر کچھ نڈھال نڈھال سی تھی ۔۔۔۔

اس کے شوہر نے اسے بیڈ کر ٹیک لگا کر بیٹھایا ۔۔۔ پھر گرم دودھ لا کر اسے اپنے ہاتھوں سے پلایا ۔۔۔۔ تانیہ اب بھی کچھ غندگی میں تھی ۔۔۔ اس لئے لیٹ گئ کچھ ہی دیر میں سو بھی گئ ۔۔۔ اس بار وہ دوسرے کمرے میں نہیں گیا تھا بلکہ تانیہ کے برابر میں لیٹ گیا تھا ۔۔۔ کچھ دیر اسکے چہرے کو دیکھتا رہا جو اس وقت پیلا زرد ہو رہا تھا جیسے اسکے اندر خون کا ایک بھی قطرہ نا بچا ہو ۔۔۔ سائیکٹریس نے اسے پہلے ہی کہا تھا جس وقت وہ سچائی بتا رہی ہو گی اس کا ذہن اس وقت اسی تکلیف سے دو چار ہو گا جو وہ بتا رہی ہو گئ اور جو کچھ اس نے بتایا تھا اگر زبان سے ادا کرتے وقت اسنے اس اذیت کو خود بھی برداشت کیا تھا تو ۔۔۔ دوبارہ وہ ایسا کوئی سیشن نہیں کروائے گا ۔۔۔ نہیں جاننا کہ اور کیا کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔۔ جو اسے مزید اذیت سے دو چار کر دے ۔۔۔ اسکے چہرے پر بکھرے بالوں کو ہٹا کر وہ وہیں اسکے پاس لیٹ گیا ۔۔۔ لائٹ بھی بند کر دی ۔۔۔ رات کے پہر وہ چیچی تھی ۔۔۔ جیسے پھر سے کوئی اس سے ذیادتی کرنے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔ لیکن اس بار وہ پریشان نہیں ہوا تھا جانتا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔۔۔ اس لئے اسے اپنے حصار میں لیا تھا

” مت چھونا مجھے دور رہو مجھ سے وہ دونوں ہاتھوں سے اسے دھکیلنے لگی تھی

“تانیہ میری جان میں ہوں تمہارا شوہر ۔۔۔ کوئی اور نہیں ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔ کوئی کچھ نہیں کہے گا تمہیں ۔۔۔ “

“وہ مجھے مار ڈالے گا ۔۔۔ مجھے بری طرح سے نوچے گا ۔۔۔۔ میرے بال کھنچے گا “

” میں ہوں نا کسی کو تمہارے پاس نہیں آنے دونگا ۔۔۔ کسی کو تمہیں چھونے بھی نہیں دونگا میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔ اب تم میرے ساتھ ہو ۔۔۔۔ میں ہوں تمہارا محافظ ۔۔۔ تمہارا اپنا ۔۔۔۔ کسی کی کیا مجال جو تمہیں کچھ جائے ” اسے ساتھ لگائے وہ اسے اپنایت ک احساس دلا رہا تھا ۔۔

” آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔ ” وہ کچھ نرم پڑی تھی ۔۔ یا تھک گئ تھی اس لئے کسی کی ہمدرد کی پناہ ہی چاہتی تھی

“ہاں “

” مجھے چھوڑ کر تو نہیں چلے جائیں گئے “

“نہیں کہیں نہیں جاؤں گا “

“ا۔۔۔ا۔۔گر۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ آ گیا مجھے لینے پھر ؟

” میں اسے مار ڈالوں گا لیکن تمہارے پاس نہیں آنے دوں گا “

“ہاں اسے مار ڈالنا اسے چھوڑنا نہیں ۔۔۔۔ اس کے بال بھی نوچ دینا ۔۔۔ وہ انسان نہیں ہے درندہ ہے وحشی جانور ہے ۔۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی

“ہاں میں اسے مار ڈالو گا ۔۔۔ اب تم ڈرنا چھوڑ دو سو جاؤں شاباش ” اسکے سر پر انگلیوں کے پروں سے وہ اسکے سر کو پر سکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ وہ کچھ ہی دیر میں سو گئ تھی ۔۔۔۔

چند دن یہی عمل دہرانے سے تانیہ کے رویے میں تبدیلی آنے لگی تھی ۔۔۔۔ اب وہ بہتری کی طرف آ رہی تھی ۔۔۔ گھر پر بھی بھرپور توجہ دے رہی تھی

ایک دن جب اس کا شوہر گھر آیا تو خلاف توقع اسے اچھے کپڑوں میں ملبوس دیکھا گھر کے عام حلیے سے ہٹ کر ہلکا سا میک بھی اس نے کیا تھا مسکرا بھی رہی تھی ۔۔۔ وہ اس پر خوش نا ہوتا تو اور کیا کرتا ۔۔۔۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا

تانیہ نے لیپ ٹاپ کا بیگ اس سے لیا تھا ۔۔۔ پھر کھانا بھی خود اسکی پلیٹ میں ڈال کر دیا ۔۔۔ پھر اسے سامنے بیٹھنے کے بجائے اسکے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔ وہ حیرت کی آخری حد پر تھا ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ورنہ تو بہت گھبرائی گھبرائی اس کے پاس آتی تھی ۔۔۔۔ ایک نظر اس پر ڈال کر تانیہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔

اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر اس نے اپنے شوہر کے منہ کے پاس کیا تھا ۔۔۔ پہلے تو اس نے نوالے کو دیکھا پھر تانیہ کے مسکراتے چہرے کو پھر اس کی کلائی پکڑ کر نوالہ اپنے منہ ڈالا ۔۔۔

“آج اتنے سارے انکشافات ایک ساتھ ۔۔۔ سچ سچ بتائیے کیا بات ہے ۔۔۔ “

” کیوں آپ کو اچھا نہیں لگا ” وہ شرمائی شرمائی پوچھ رہی تھی

” اچھا ۔۔۔۔ مجھے تو خواب سا لگ رہا ہے ۔۔۔ اتنا حسین تو خواب ہی ہو سکتا ہے ۔۔۔ ذرا چوٹی کاٹ کر یقین دلا دیں کہ یہ سب سچ ہے خواب نہیں ہے” اس نے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھا کر کہا وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی پہلی بار وہ یوں ہنسی تھی بے اختیار ۔۔۔ وہ محبت پاش نظروں سے نا دیکھتا تو اور کیا کرتا ۔۔۔ اسے خود کی طرف متوجہ پا کر تانیہ نے اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔۔

” رک کیوں گئیں ہنسیں نا ۔۔۔ کتنی اچھی لگتی ہیں ہنستے ہوئے ۔۔۔ ” اسکی بات پر تانیہ جھنپ سی گئ تھی ۔۔۔

” تانیہ اب تو بتا دیں کہ اتنے انعامات کی بارش کیوں کر رہیں مجھ پر “

“آپ بھی تو میرا اتنا خیال رکھتے ہیں ۔۔۔ ” تانیہ نے مسکراتے ہوئے دوبارہ سے نوالہ اس کے منہ ڈالا

“کتنا خیال رکھتا ہوں ۔۔۔ “اب کی بار نوالہ بنا کر اس نے تانیہ کو کھلایا تھا

” بہت سارا “

“نہیں خیال تو نہیں رکھتا میں ۔۔ نا آپ کے لئے چائے بناتا ہوں ۔۔ نا صفائی میں ہاتھ بٹاتا ہوں ۔۔ نا کھانا بناتا ہوں نا ہی گھریلوں کسی کام میں ہاتھ بٹاتا ہوں ۔۔خیال تو نہیں رکھتا آپ کا ۔۔۔ “

” وہ ۔۔۔ آپ مجھے ڈرنے نہیں دیتے اب ۔۔۔ ” وہ متذبذب سی ہو کر بولی

” اچھا وہ ۔۔۔ اسے خیال رکھنا تو نہیں کہتے ” تانیہ کے ہاتھ سے نوالہ کھاتے ہوئے اس نے کہا تھا

” پھر ۔۔۔” وہ متعجب ہوئی تھی

“اسے محبت کہتے ہیں ۔۔۔ جو میں آپ سے بہت کرتا ہوں ” اب تو اسے وارفتگی سے دیکھ رہا تھا ایسا ہی ایک اظہار اس سے بھی سننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن وہ نظریں جھکا گئ تھی ۔۔۔

” تانی یہ جو آپ میرے لئے تیار ہوئیں ہیں ۔۔۔ مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہیں ہیں ۔۔۔۔ اسے بھی خیال رکھنا نہیں کہتے ۔۔۔ محبت کہتے ہیں ۔۔۔ اور آپ جانتی ہیں کہ اپنے شوہر سے اظہار محبت کرنا بھی بہت بڑی نیکی ہے ۔۔۔ تو کیا خیال آج یہ نیکی بھی کر دیں ۔۔۔ میرا دل خوش ہو جائے گا “اس بات پر وہ نظریں نہیں اٹھا پا رہی تھی چپ تھی

” او کم آن تانی کہوں نا میں سننا چاہتا ہوں “

” میں ۔۔۔ بھی ۔۔۔۔ آپ سے بہت محبت کرنے لگی ہوں “

“تھنکس گاڈ آپ نے کہہ دیا ورنہ مجھے لگا تھا کہ آپ میری بات کا مان نہیں رکھیں گئیں ” کھانا وہ کھا چکا تھا ۔۔۔

“سنیے “

“جی کہیے “

” آپ مجھے آپ مت کہا کریں ” یہ تانیہ کی فرمائش تھی جو اسے مسکرانے پر مجبور کر گئ تھی

“کیوں آپ بھی تو مجھے آپ کہتی ہیں “

“میں تو عورت ہوں اس لئے زیادہ تر عورتیں اپنے شوہر سے ایسے ہی ادب سے بلاتی ہیں لیکن شوہر یوں نہیں کہتے ” وہ ہسنے لگا پھر اپنا چہرہ اسے چہرے کے قریب کر کے کہنے لگا

“جو سب نہیں کہتے وہ ہم کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ “

“پھر بھی مجھے اچھا لگے گا اگرمجھے تم کہیں تو

اس سے تکلف کا احساس ذرا کم کو جاتا ہے ” تانیہ کی بات پر متحیر ہوا تھا

” مطلب آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ سے بے تکلف ہو جاؤں ۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔ تانی آئی لو یو ” اس کے اس طرح کے اظہار پر تانیہ نے برجستہ اسکی طرف دیکھا تھا اب وہ ہنس رہا تھا ۔۔۔۔ وہ جھنپ کر رہ گئ تھی

اپنی بات کر کے پچھتا رہی تھی

***** ……

” عبداالباسط تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ ایسی قسم کا کفارہ بھی ہوتا ہے تمہیں پتہ ہے ۔۔ دس دن کسے دھڑکتے دل کے ساتھ میں نے گزارے ہیں ” عبداالباسط کے شام کو لوٹتے ہی وہ خفگی سے بولی تھی ۔۔۔۔۔

“آپ صبح سے بس یہیں سوچ رہیں ہیں آرء”

“ہاں تو اور کیا ۔۔۔ ہر نماز میں یہی تو دعا کرتی ہوں کے آرء ہمیشہ عبداالباسط کے ساتھ رہے ۔۔۔ میرا بس چلے نا عبداالباسط تو تمہاری سانسوں میں بس جاؤں ۔۔۔۔۔ تمہارے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکا کرو ۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں رہا کروں کوئی حسین خواب بنکر ” عبداالباسط اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کتنی آسانی سے وہ ہر بات کہہ جاتی تھی ۔۔۔ پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن لگتا تھا باتوں پر عبور حاصل ہے ۔۔۔ کوئی شاعرہ ہے ۔۔۔۔۔ “

” اب کاہے دیکھ رہے ہو ٹکر ٹکر ” عبداالباسط کو ایک ٹک دیکھتے دیکھ کر پوچھنے لگی

” کچھ نہیں ۔۔۔ میں نہا کر آ رہا ہوں پورا دن مٹی ریت کا کام ہوتا ہے ۔۔ پھر ملکر کھانا کھائیں گئے ” یہ کہہ وہ واش روم میں چلا گیا آرء نے کھانا گرم کیا ۔۔۔ کھانے بعد وہ پھر سے باہر نکل گئے ایک ہی تفریح گاہ تھی انکی وہ تھا باغ ۔۔۔ جہاں وہ کھانے کے بعد روز چلے جاتے تھے ۔۔ خوب ساری باتیں کرتے تھے ۔۔۔ بلکہ باتیں صرف آرء کرتی تھی عبداالباسط تو صرف سنتا تھا ۔۔۔۔

” عبداالباسط مفتی صاحب کو کیسے مناؤں گئے ۔۔۔ ” اب یہ ایک نئ فکر تھی جو آرء کو ستانے لگی تھی

” ہے ایک ترکیب ہے وہی آزماؤں گا ۔۔۔۔گاؤں میں ۔۔۔۔ ہمارا بہت بڑا گھر ہے آرء ۔۔۔جو ابا نے کرایے پر دے رکھا ہے اور ایک زمین کا برا ٹکرا بھی الگ سے ہے ۔۔۔ بس ذرا سی قیمت اور بڑھ جانے کا انتظار ہے ۔۔۔ ایک فاطمہ ہی رہ گئ ہے چند مہنے بعد اسکی بھی شادی ہو جائے گی ۔۔۔ پھر ابا کا ارادہ ہے یہ زمین بیچ کر گھر کو توڑ کر مسجد بنا دی جائے اور دوسری منزل پر مدرسہ بنایا جائے اور اپنی رہائش بھی مسجد کے ایک کونے میں چھوٹا سا گھر بنا کر وہیں کی جائے ۔۔۔۔ ابا کا خواب ہے یہ ۔۔۔ جو وہ چاہتے ہیں کہ میں پورا کروں انکا ارادہ تھا کہ جب میں حفظ کر چکوں تو علما اور مفتی بن جاؤں لیکن میں تو حفظ بھی نہیں کر پایا “

“وہ کاہے “

“بس پتہ نہیں کیوں ۔۔ یہ نہیں کہ مجھ سے یاد نہیں ہوتا ۔۔۔ یہ بھی نہیں کہ میں کرنا نہیں چاہتا ۔۔۔ میں حفظ کرنا چاہتا ہوں لیکن پچھلے کئ سالوں سے پندرہ سپاروں کے بعد ایک لفظ بھی مجھ سے حفظ نہیں ہوا ۔۔۔ لیکن اب سوچ رہا ہوں حفظ کو ادھورا چھوڑ کر علما اور مفتی بن جاؤں ۔۔۔ گاؤں میں تو کوئی بھی آپ کو نہیں جانتا ہو گا ۔۔۔ اس لئے ہم وہاں رہیں گئے ۔۔۔ ابا کو جب یہ معلوم ہو گا کہ میں علما اور مفتی بننے کو تیار ہوں تو خوشی کے مارے میری یہ بات مان جائیں گئے ۔۔۔ آپ کو بھی قبول کر لیں گئے ۔۔۔ ” عبداالباسط کو لگا کہ والد کی درینہ خواہش پوری کرنے پر والد اسکی بھی خواہش کو مدنظر رکھیں گئے

” سچ میں عبداالباسط”وہ خوش ہوئی تھی ۔۔ چہرہ خوشی سے دھمکا تھا

“ہاں ۔۔۔ اللہ سے بڑی دعائیں مانگ رہا ہوں ۔۔۔ کہ جس رشتے میں ہم جڑ گئے ہیں اسے آخری سانس تک نبھائیں بھی ۔۔۔۔”عبداالباسط نے بھی مسکرا کر آرء کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔

********……

ثوبیہ کو ہلکا سا ہوش آیا تھا سر بھاری سا لگ رہا تھا کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوئی تھی یک دم سے لگا کہ پورا جسم پھوڑے کی مانند دکھ رہا ہو۔۔۔ جس میں اس قدر نقاہت تھی کہ اٹھ کر بیٹھنا محال ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ پھر سے بستر پر گری تھی ۔۔۔ پھر سے ہوش سے غافل ہوئی تھی ۔۔۔۔ کتنے دن سے وہ وہاں تھی اسے خبر نہیں تھی کس حال میں تھی نا یہ پتہ تھا ۔۔۔ دوبارہ اس سے ہوش آئی جب سر پر تیز کرنٹ سا لگا تھا ۔۔۔ پورا وجود جھٹکوں کی زد میں آیا تھا ۔۔۔۔ اس قدر زور کے کرنٹ کے جھٹکے اسکے دماغ پر لگائے جا رہے تھے ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد لگا کہ سر سے ایک بھاری سا ہیڈ فون ہٹا ہو ۔۔۔

” نام کیا ہے تمہارا” کسی مردانہ آواز میں پوچھا گیا لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا ۔۔

” بولتی کیوں نہیں ۔۔۔نام کیا ہے تمہارا “

“ی۔۔۔یا۔۔د نہیں آ رہا ۔۔۔” وہ اس وقت سوچنے سے قاصر تھی

“کون ہو تم ” اس سوال پر ثوبیہ نے سوچنے کی نا کام سی کوشش کی لیکن دماغ کا صفحہ بلکل خالی تھا ۔۔۔

“مجھے نہیں یاد ۔۔۔ سر میں درد ہے میرے افف ” اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے دبایا

” کہاں سے آئی ہو “

” میں نے کہا نا مجھے نہیں یاد ” وہ جھنجھلا کر چلائی تھی پھر مردانہ قہقے گونجے تھے ۔۔۔ مشن از سکسس

” تمہارا نام آج سے تانیہ ہے۔۔۔۔۔ تانیہ ہو تم ۔۔۔۔ ایک جسم فروش عورت ۔۔۔۔بس یہ یاد رکھوں ” ایک مردانہ آواز پھر سے گونجی تھی ۔۔سر میں درد کی ٹھیسیں سی اٹھی تھیں ۔۔۔۔ وہ پھر سے ہوش سے غافل ہوئی تھی ۔۔۔۔ ۔۔ ایک بار پھر سے آنکھ کھلی تھی ۔۔۔ اس وقت کمرے میں ہلکی نیلی روشنی سی تھی سامنے ایک شخص کیمرہ لئے کھڑا تھا ۔۔۔ آنکھیں پھر سے بند ہوئیں تھیں پھر لگا جیسے اسکے وجود کو بری طرح سے نوچا جا رہا ہے ۔۔۔۔ پہلی بار اپنے وجود پر نوچے جانے کا احساس اسے محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ تکلیف محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن آنکھیں بند تھیں پھر جلتا ہواسگریٹ بازو پر لگا تھا وہ برے طریقے سے بلبلا اٹھی تھی۔۔۔ چیخی تھی چلائی تھی تڑپی تھی ۔۔۔ لیکن اگلے لمحے کسی نے دوبارہ سے انجکشن اسکے دوسرے بازو پر گھونپا تھا چند لمحوں بعد وہ پھر سے بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔

نا جانے پھر کب ہوش آیا لیکن اس وقت کمرے میں فل روشنی تھی ایک عورت اس کے پاس موجود تھی ۔۔۔ بڑا سخت سا چہرہ تھا اس کا ثوبیہ اٹھ کر بیٹھ گئ وہ عورت پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھی ۔۔۔ بال کھلے ہوئے تھے عمر چالیس کے لگ بھگ تھی۔۔۔ سگریٹ پی رہی تھی ۔۔۔ اس کا سر ابھی بھی چکرا رہا تھا ۔۔۔ دونوں ہاتھوں اپنا سر پکڑ لیا ۔۔۔۔ دروازے کے پاس ایک دیو ہیکل مرد کھڑا تھا کالے رنگ کی پینٹ شرٹ میں اس عورت نے اس شخص سے کہا

٫” جاؤں کھانا لا کر دو اسے ” وہ شخص وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد ایک ٹرے میں چاول لا کر اسکے سامنے رکھ دیے ۔۔۔

” تانیہ کھانا کھاؤں” اس عورت نے سخت لہجے سے کہا پھر اسے کچھ کچھ یاد آنے لگا کہ اسکا نام تانیہ ہے ۔۔۔۔ اسے بھوک محسوس ہونے لگی اپنے ہاتھ سے ہی وہ چاول کھانے لگی ۔۔۔ جیسے جیسے وہ کھارہی تھی ویسے ویسے بھوک بڑھ رہی تھی

پھر اس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا بکھرے بالوں کو وہ پیچھے کر رہی تھی پتہ نہیں کتنے دن سے بھوکی تھی خوراک کب سے اسکے اندر نہیں گئ تھی۔۔۔۔پانی کا جگ تھا جیسے منہ لگا کر وہ چاول اندر اونڈیل رہی تھی۔۔۔۔ دس منٹ میں وہ پوری ٹرے خالی کر چکی تھی۔۔لیکن بھوک اب بھی باقی تھی۔۔۔ لیکن مانگ نہیں سکی۔۔۔ لگ رہا تھا زبان کنگ سی ہو چکی ہے بولنے کے لئے جیسے ذہن خالی تھا اس لئے صرف سن رہی تھی اور کر رہی تھی۔۔۔۔ اب کچھ ہوش ٹھکانے لگ رہے تھے اس لئے کمرے کو بار بار دیکھ رہی تھی باقی ذہن کا پرچہ خالی تھا اس عورت نے ایک لباس اس کی طرف پھنکا ۔۔۔ جاؤں نہاوں اور کپڑے بدلو اپنے ۔۔۔۔ وہ سامنے بنے واش روم میں چلی گئ سامنے لگے شیشے پر خود کو دیکھا تو ڈر کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ بکھرے اجڑے سے بال تھے ۔۔ جیسے کئ روز سے کنگا نا کیا ہوا اتنے الجھے ہوئے تھے جیسے بالوں کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک کیا ہو ۔۔ کھلے لمبے بال چہرے پر جا بجا رخموں کے نشان اسکے لٹ جانے کی نشاندہی کر رہے تھے ۔۔۔ لیکن وہ ابھی یہ سوچ نہیں پا رہی تھی کہ وہ ہے کون یہاں کیسے آئی تھی ۔۔۔ بس اندر یہ احساس ہو رہا کہ بے ہوشی میں بٹا برا سلوک کیا گیا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔ پوراوجود درد کر رہا تھا ۔۔۔ نہاتے ہوئے اپنے وجود پر لگے زخم پر وہ بے تحاشہ روئی تھی ۔۔۔۔

لگتا تھا کی کسی وحشی بھڑیے کے آگے اسے پھنک دیا گیا ہو ۔۔۔ انسان تو ایسے نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ اتنی درندگی کوئی جیتا جاگتا شخص جو دل اور احساس بھی رکھتا ہو کیسے کسی کے ساتھ کر سکتا ہے ۔۔۔۔ کپرے بدل کر وہ واپس آئی تھی ۔۔۔ اس عورت نے اسے سر سے پیر تک دیکھا ۔۔۔ ایک کھلی سی نائٹی تھی جو اس نے پہن رکھی تھی ۔۔۔ جس پوراوجود بھی چھپ نہیں پارہا تھا وہ خود سمٹے جا رہی تھی ۔۔۔۔ سام ے کھڑی عورت کی نظروں میں ایسی کاٹ اور تیزی تھی کہ پہلی بار کسی عورت نظر اسے الجھن ہوئی تھی ہوس نظر آئی تھی ۔۔۔ اس نے عورت نے جب ثوبیہ کو سمٹتے دیکھا تو ہسنے لگی قہقے لگانے لگی پھر اس سامنے بیٹھے شخص سے بولی

” دوا لگاؤں اس لڑکی کے جسم پر ” ثوبیہ یک دم سے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔

“یہ ۔۔۔ یہ کیوں لگائے گا ۔۔۔۔ “

“کیوں یہ کیوں نہیں لگا سکتا “وہ عورت پوری آنکھیں نکال کر اسے غصے سے دیکھ کر سخت لہجے میں بولی ۔۔۔

” نہیں ۔۔۔ اسے کہیں جائے یہاں سے ۔۔۔ میں خود لگا لوں گی ” ثوبیہ کے منہ سے یہ سن کر اس نے عورت نے اسے بالوں سے پکڑا تھا

” دیکھ ذیادہ بحث نہیں چلتی یہاں ۔۔۔ کس سے شرم آ رہی ہے تجھے ۔۔۔ اس سے ۔۔۔۔ پچھلے چار پانچ دن سے یہی دوا لگا رہا ہے تجھے ۔۔۔۔ لیکن تجھے ہوش نہیں تھی ۔۔۔ اس لئے تجھے خبر نہیں ہوئی لیکن اب جو تیرے ساتھ ہو گا وہ ہوش وحواس میں ہو گا ۔۔۔ “ثوبیہ کے بال چھوڑ کر اس نے ثوبیہ کو اس سامنے کھڑے شخص کی جانب دھکیلا تھا وہ گر جاتی لیکن اس شخص نے اسے گرنے نہیں دیا تھا بلکہ تھام لیا تھا ۔۔۔ تھاما کیا تھا اپنے حصار میں جکڑا تھا ۔۔ وہ خود کو چھڑوا نہیں پارہی تھی لیکن مسلسل آذاد ہونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن یہ اس کے لئے نا ممکن تھا ۔۔۔ وہ عورت باہر جا چکی تھی ۔۔۔

” سنو لڑکی مجھے میرا کام کرنے دو مجھے دوا لگانے کے علاؤہ اور کسی چیز کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اگر تم نے مجھے پریشان کی تو اس صورت میں مجھے کھلی چھٹی دی گئ ہے ۔۔۔۔

وہ سے بیڈ پر دھکیل بولا

*******…….

نور جہاں بڑی مشکل میں آ گئ تھی ۔۔۔ ایک عمر گزری تھی کوٹھے پر ۔۔۔ وہیں کا ماحول دیکھا تھا ۔۔۔۔ کسی گھر میں رہنا اسے پریشان کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔ جازم نے اسے گھر لاتے ہی پہلے تو چائے بنا کر دی ۔۔۔

پھر اسکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔

“بیٹے کے ہاتھ کی چائے پی کر دیکھیں ۔۔۔ ” وہ خوشی سے کہہ رہا تھا نور جہاں مسکرا بھی نہیں سکی ۔۔۔بس کپ لبوں پر لگا لیا ۔۔۔ جازم اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ کچھ دیر بعد تیار ہو کر نکلا تھا

“امی میں آفس جا رہا ۔۔۔ فریج میں ہر چیز موجود ہے ۔۔۔ جو آپ کو اچھا لگے وہیں بنا لہجے گا ۔۔۔ ویسے تو میں بازار سے بھی لے آتا لیکن مجھے آپ کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا ہے ۔۔۔ ” وہ نور جہاں کے پاس آکر اسکے گلے دونوں ہاتھ رکھ کر لاڈ سے بولا نور جہاں نے اسکی پیشانی پر فرحت محبت سے بوسہ دیا

” تو بتا تجھے کیا پسند ہے ۔۔۔ میں وہی بنا دوں گی “

” میں تو کچھ بھی کھا لیتا ہوں ۔۔۔ “

“چل پھر تجھے آج دھنیہ گوشت بنا کر کھلاتی ہوں ۔۔۔ واپس کب آئے گا “

“بس شام کو سات بجے “

“پورا دن کیا تیرا انتظار کرتی رہوں گی ” وہ اداس سی ہوئی تھی

” امی کل چھٹی ہے میری ۔۔۔ اسئے آج جانا ضروری ہے ۔۔۔ “

” اچھا چل جا ۔۔۔ “

جازم مسکراتے ہوئے جا چکا تھا نور جہاں کچن میں آ گئ ۔۔۔ فریج کھول کر گوشت نکالا مختلف کبنٹ کھول کھول دیکھنے لگی کہ کس میں کیا رکھا ہے ۔۔۔۔

شام کو جب جازم گھر آیا گھر کا نقشہ بدلہ ہوا تھا

سارا گھر صاف تھا

نور جہاں کچن میں روٹیاں بنا رہی تھی ایک خواب کا منظر تھا ۔۔۔ جازم کی خوشی کی انتہا نا تھی

“اسلام علیکم امی اس نے بلند لہجے سے کہا نور جہاں نے پلٹ کر اسے دیکھا اپنا چہرہ پسینے سے بھرا ہوا تھا

“یہ کیا کر رہیں ہیں آپ میں بازار سے روٹی لے آتا “

” نہیں میرے ہاتھ کی کھانا ۔۔۔ جوں کا کر نہا دو لو ۔۔

میں کھانا لگاتی ہوں “

جب جازم فریش ہو کر باہر آیا نور جہاں نے کھانا لگا دیا تھا

کھانا اس نے نور جہاں کے ہاتھ سے کھایا تھا ۔۔ لیکن برتن اٹھا کر خود دھوئے تھے ۔۔۔۔ پھر نور جہاں کو اپنے کمرے میں لے گیا ایک شاپنگ بیگ میں سے لائٹ فرروزی سے رنگ کا جوڑا نکالا اور نور جہاں کی گود میں رکھ دیا

پھر ایک گرم شال نکال کر نور جہاں کو اوڑھا دی ۔۔۔

” ٹھنڈ شروع ہو چکی ہے نا امی میں بازار سے گزر رہا تھا مجھے پسند آ گئ اس لئے آپ کے لئے خریدا لی “

“وہ تو ٹھیک ہے ببوا پر ۔۔۔ یہ سب کی کیا جرورت تھی ۔۔۔ تین چار دن بعد

مجھے لوٹ کر تو وہیں جانا ہے یہ کپڑے یہ شال وہاں ناہی پہن سکتی ” نور جہاں نے بڑی رسانیت سے کہا

” کیوں جانا ہے واپس ۔۔۔ آپ کہیں نہیں جائیں گی ۔۔۔ کبھی بھی نہیں جائیں گئ۔۔۔۔ ” وہ اس بار تلخی سے بولا تھا نور جہاں فکر مند ہوئی تھی

“دیکھ نا بیٹا نہیں رہ سکتی یہ سب اتنا آسان ناہی ہے ۔۔۔ لوگ کیا کہیں گئے تجھے مجھے اب بہت لوگ جانتے پہچانتے ہیں ۔۔۔ جینا دوبھر کر دیں تیرا ۔۔۔۔ کس کس سے چھپائے گا کہ تیری ماں طوائف ہے “

” میں کیوں کسی سے چھپانے لگا ۔۔۔ سچ بول دونگا “

” نا جازم ۔۔۔ کسی سے مس کہنا ۔۔۔ بڑی مشکل سے تجھے مقام پر دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔ تو بس ہارون الرشید کے نام سے ہی جانا پہچانا جائے وہی اچھا ہے “

” آپ کے نام سے کیوں۔ نہیں “

” بد نام ہو جائے گا ۔۔۔ کہیں کا ناہی رہے گا ۔۔۔لوگ تجھے دیکھ کر کترا کر گزر جائیں گئے ۔۔ دیکھ میری بات سن بیٹا ۔۔۔۔۔ مجھے کیا لگتا ہے ۔۔۔۔ ایک ماں کے لئے اپنا چند دن کا بچہ دینا آسان ہوتا ہے ۔۔۔ ؟ ناہی ۔۔۔ ماں ۔۔ ماں ہوتی ہے اپنے بچے کے لئے۔۔۔۔ چاہے طوائف ہی کیوں نا ہو ۔۔۔ اگر میں نے اپنے ججبات(جذبات) کا قتل کیا ہے تو کاہے کیا ہے اس لئے کہ تو سب کی نظر میں طوائف کا بیٹا نا کہلائے ۔۔۔۔ کامے کو دیکھا ہے تو نے ۔۔۔

ایک جانےمانے امیر رئیس کا بیٹا ہے وہ میری سہیلی کے پاس آتا تھا وہ رئیس اسکے وہ بچے جو خاندانی بیوی سے ہوئے ہیں دنیا میں عجت سے سر اٹھا کر جی رہے ہیں ۔۔۔ پر کاما ۔۔۔ ہے تو وہ بھی اسی ریس کی اولاد بس جائز کو ٹھپہ نہیں ہے اسکے پاس ۔۔۔ اس لئے دیکھ دلالی کر رہا حرام جادا ۔۔۔

تو کیا چاہتا میری اتنی بڑی قربانی کو ضائع کر دے گا ۔۔۔ پھر بتا مجھے کیا ملا ۔۔۔ تیری جدائی بھی سہی اور تجھے عجت بھی نا دلوا سکی تو تف ہے نور جہاں کی جندگی پر ” وہ آنکھوں میں آنسوں لئے بڑی رسانیت سے اسے سمجھا رہی تھی ۔۔ وہ خاموشی سے سن رہا تھا ایک ٹک دیکھ رہا اپنی ماں کی بے بسی کو ۔۔۔ اپنی۔ بے بسی کو ۔۔۔

ماں کو ساتھ نہیں رکھ سکتا تھا نا اسے اس قید سے آذادی دلا سکتا تھا جس میں وہ قید تھی ۔۔۔۔ کہ لوگ کیا کہیں گئے ۔۔۔ بنی بنائی عزت خاک میں مل جائے گی ۔۔۔ماں کی قربانی ضائع ہو جائے گی ۔۔۔

جو اس نے عمر بھر سہی تھی ۔۔۔ لوگوں پروا تو وہ شاید نا بھی کرتا لیکن ماں کی قربانی کو ضائع نہیں کر سکتا تھا

” آپ نے مجھے لاجواب کر دیا ہے امی ۔۔۔ مجھے دنیا کی پروا نہیں ہے ۔۔ لیکن آپکی ہے ۔۔۔ “

“تو بس ٹھیک ہے ۔۔۔ مجھے دو تین دن تک وہیں چھوڑ آ ۔۔۔تو بھی مجھ روج روج ملنے نا آنا “

” یہ کیسی مجبوری ہے ۔۔ ماں سے ملوں نہیں ۔۔۔ ماں کو ماں نا کہوں ۔۔۔۔ آپ مجھے پیدا ہوتے کسی کچرے کے ڈبے میں۔ پھنک دیتیں پھر ۔۔۔ کم از کم کتے بلیوں کی ایک وقت کی خوراک تو بن جاتا حرام کا جو ہوں میں ۔۔۔ اور حرام سے پیدا ہوئے بچے روز کچرے دانوں میں پڑے ملتے ہیں ۔۔”اس بار وہ چلایا تھا ۔۔۔ ایک تھپڑ جازم کے منہ پر پڑا تھا

“حرام کا ناہی ہے تو ۔۔۔ سمجھا ۔۔۔ ” نور جہاں نے روتے ہوئے کہا اور اٹھ کر اس کے کمرے سے نکل گئ جازم چپ سا ہو گیا