Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 23

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 23

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

نازلی نے حیا کو بہت خوبصورت سا انار کلی فراک نکال کر دیا ۔۔۔ نہا کر وہ پہن کر جب باہر آئی تو سامنے ہی وہ عورت اسے دیدے پھاڑے دیکھنے لگی جس نے اس سے پیزے کا وعدہ کیا تھا ۔۔۔ حیا کی سفید گوری رنگت پر سی گرین کلر کا انار کلی فراک اس پر خوب جچ رہا تھا ۔۔۔

حیا کے پاس آ کر اسکی بلائیں لینے لگی ۔۔۔۔

” ہائے ہائے میں واری۔۔۔ میں قربان کیا حسن پایا ہے تو نے ایک بار اگر رقص کر لو تو قیامت ہی ڈھا دوں گی قسم سے ” اس عورت کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔ حیا مسکرانے لگی

پھر بیٹھ کر پیزا بھی کھایا ۔۔۔۔ صبح کی اٹھی ہوئی تھی اس لئے جلد سو بھی گئ

*****…….

ارتضی نے تصویریں اور ویڈیو دیکھ کر موبائل سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔ اپنا سر پکڑ کر۔ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

رومان کی کنڈشن میں بھی کوئی سدھار نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ مجبورا اس نے وہاج کو کال کی رومان کی کنڈشن بھی بتائی اور حمیرا کی باتیں بھی ۔۔۔

“تم پریشان مت ہو میں لینے آ رہا ہوں تمہیں ۔۔۔ ” دو گھنٹے بعد وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ ارتضی کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔ رومان کی وہاج کے بیٹے سے کافی دوستی رہ چکی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اسے دیکھ کر رومان بھی کچھ بہل گیا تھا وہاج انہیں اپنے گھر اسلام آباد لے گیا ۔۔۔

ارتضی کی باتیں سن کر وہ خود پریشان ہو گیا تھا

” اس ویڈیو میں وائز ریکوڈنگ ہے شاید ویڈیو بنانے والے نے کیمرہ اپنی طرف سے آف کر دیا تھا لیکن وہ آف نہیں ہوا تھا ۔۔۔ اس لئے کافی بات میں سن چکا ہوں ۔۔۔ حیا کے ساتھ جو کچھ بھی کیا گیا شاید مجھ سے بدلہ لینے کے لئے کیا گیا ۔۔۔۔ کون سامیرا ایسادشمن ہے جس نے مجھے پھسانے کے لئے حیا کے ساتھ یہ سب کیا ہے وہ کون ہے میں بلکل سمجھ نہیں پا رہا ہوں ۔۔۔ مجھے نہیں یاد کہ میری کسی سے کوئی بھی ان بن ہوئی ہو ۔ کالج میں تو سوال ہی نہیں اٹھتا ۔۔۔

لیکن اگر میری وجہ سے حیا کے ساتھ یہ سب ہوا ہے تو ۔۔۔ میں حیا کو یوں نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔ وہ لاہور گئ تھی ۔۔ کہاں جا سکتی ہے لاہور میں ۔۔۔ حمیرا حیا کو اچھی طرح سے جانتی ہے ۔۔۔ اس کے مطابق لاہور میں اسکے کوئی ریلٹو نہیں ہیں ۔۔۔ کہاں ڈھونڈو اسے ۔۔۔ ” ارتضی کی بے چینی کا یہ عالم تھا ایک پل سکون نہیں تھا اسے ۔۔۔

” رومی کو دو تین دن تم یہیں رہنے دو بہل جائے گا سچ کیا ہے یہ صرف حیا ہی بتا سکتی ہے”

“یہی بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس مجھے بتایا کیوں نہیں ۔۔۔ ” ارتضی کو حیا پر غصہ بھی آ رہا تھا

۔۔” ہم ابھی لاہور کے لئے نکلتے ہیں ارتضی لاہور میں مریم کے کزن پولیس میں ہیں ہماری مدد ضرور کریں گئے ۔۔۔ ” وہاج کا مشورہ ارتضی کو پسند آیا تھا ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں لاہور کے لئے روانہ ہو گئے تھے ۔۔۔۔ وہاج نے راستے میں انسپکٹر سے بھی بات کر لی تھی ۔۔۔ صبح دن چڑھتے ہی وہ لوگ لاہور میں موجود تھے ۔۔۔ سب سے پہلے لاہور کے بس اڈے پر اس دن کی ویڈیو فوٹیج حاصل کی جس دن حیا وہاں پہنچی تھی بس اتنا دیکھ پائے تھے کہ وہ بس سے اتر کر رکشہ میں بیٹھی تھی رکشہ کا نمبر نوٹ کر کے اسے ڈھونڈنا مشکل نہیں ہوا تھا وہ رکشہ ذیادہ تر بس اڈے کے مسافروں کو ہی لیتا تھا ۔۔۔ اس لئے سب اسے جانتے تھے ۔۔۔ اسی نے حیا کی تصویر دیکھ کر بتایا کہ وہ دارلامان میں اتری تھی ۔۔۔۔

انسپکٹر ارتضی اور وہاج کے ساتھ ساتھ ہی رہا تھا ۔۔۔ دارلامان کی خاتون نے تصویر دیکھتے ہی اسے پہچان لیا تھا حیا نے جو کہانی اسے سنائی تھی وہ۔ بھی اس نے بتا دی ۔۔۔

” مجھے تو یہی کہہ کر گئ تھی کہ وہ واپس اپنے گھر جا رہی ہے ۔۔۔ میں نہیں جانتی کہ وہ کہاں گئ ہے ” وہ خاتون نے انسپکٹر سے کہا خود بھی متفکر ہوئی تھی

” ٹھیک ہے آپ انکی روم میڈ سے ملوادیں ۔۔۔ ہو سکتا کسی کو علم ہو کہ وہ کہاں گئ ہے ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں حیا کے کمرے میں رہنے والی ساری خواتین کو بلوا لیا سب ہی انجام تھیں لیکن تبسم کو اچانک یاد آیا کہ وہ بار بار بازار حسن کا پوچھ رہی تھی

” سر مجھے یاد آیا وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ بازارحسن کہاں ہے۔۔۔ اور وہاں جانے کا کرایہ کتنا لگتا ہے ” یہ سن ارتضی کا ایک رنگ آ کر گزرا تھا ۔۔۔۔

دل کا یہ عالم تھا کہ وہ وہاں نا گئ ہو ۔۔۔۔ دوسری جگہ جہاں وہ اسے دمڈھونڈنے جا رہے تھے وہ بازار حسن تھی پورے راستے وہ بے چین رہا تھا ۔۔۔ جیسے وہاں پولیس کی گاڑی دیکھی وہاں کے لوگوں کو ریٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہو جاتا تھا اس لئے سب ہی ہوائیاں اڑنے لگتی تھیں ۔۔۔ انسپکٹر کے ساتھ وہ ایک کوٹھے پر پہنچے تھے ۔۔۔ سامنے کھڑی عمر رسیدہ خاتون سے انسپکٹر نے پوچھا جو اسے دیکھ کر پان چبانا بھول گئ تھی

“پچھلے دو دن میں جتنی بھی نئی لڑکیاں یہاں آئیں شرافت سے خود ہمارے سامنے پیش کر دو ورنہ اگر ہم نے بازار کھنگالنا شروع کیا تو مشکل تم لوگوں کو ہی ہو جائے گی ۔۔۔۔ سامنے کھڑی ادھیڑ عمر عورت نے آڑے ہوئے رنگ کے ساتھ اپنے دلال کو پکارا

“جا ۔۔۔جا کر سب نئ چھوریوں کو لیکر آ کہہ بڑی آپاں کا حکم ہے ” وہ لڑکا فورا سے چلا گیا

” آپ تو بیٹھوں صاحب کی کچھ ٹھنڈا منگواں آپ کے لئے ” اس نے انسپکٹر سے کہا

” اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ بس بلاؤں سب لڑکیوں کو ” وہ انسپکٹر کرخت لہجے میں بولا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں بارہ سے پندرہ لڑکیاں وہاں پہنچ گئیں تھیں جن میں حیا بھی شامل تھی ارتضی کو دیکھ حیا کے ہوش اڑے تھے اس سے پہلے اسکی نظر حیا پر پڑتی اس نے ڈوپٹے سے اپنا چہرہ چھپایا تھا لائن سے سب لڑکیاں کھڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔ لیکن حیا دو لڑکیوں کے کچھ پیچھے کھڑی تھی چہرہ بھی ڈوپٹے سے چھپا رہی تھی اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ اسے ڈھونڈنے یہاں تک بھی پہنچ جائے گا ۔۔۔

******…….

ثوبیہ کا رنگ اڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

“اے لڑکی تم کالج کیوں نہیں گئ آج “

“میرے سر میں درد تھا ابھی بھی ہو رہا ہے ” وہ گنجا آنکھیں پھاڑے ثوبیہ گھور کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” دیکھ لڑکی کسی نے تو مقبری ضرور کی ہے ۔۔۔اگر وہ تو ہی تو یاد رکھ تیرا حشر وہ کروں گا کہ چہرہ پہچان نہیں پایے گی اپنا ” وہ غصے سے بے قابو ہو رہا تھا سانولا رنگ سرخی مائل لگنے لگا تھا

ثوبیہ نے گھبرا کر اثبات ۔میں سر ہلا دیا ۔۔۔

“نوشی تلاشی لے اسکی ” اس گنجے نے نوشین میڈیم سے کہا وہ کھڑی ہو گئ ثوبیہ کی تلاشی لینے لگی پھر اسکے چہرے کو باغود دیکھنے لگی جیسے ثوبیہ کے۔ چہرے سے پڑھے لے گی کہ مجرم کون ہے ثوبیہ کو لگا آج وہ عبرت ناک موت ماری جائے گی پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے کان تک لے گئ

“یہ کان کے ٹوپس ہمارے نہیں ہیں کہاں سے آئے ہیں یہ ۔۔ کس نے دیے ” نوشین نے پوری آنکھیں پھیلا کر پوچھا ثوبیہ کی جان لبوں پر آئی تھی حلق تک خشک ہوا تھا ۔۔۔ جانتی تھی اس میں کیمرہ لگا ہے

” وہ ۔۔۔وہ ” گلے میں گرہیں۔ بڑھنے لگیں۔ تھیں سانس گھٹنے لگا تھا موت سامنے نظر آ رہی تھی ۔۔

” اے لڑکی کیا وہ وہ لگارکھی بول کس نے دیے ” نوشین نے اس کے بال کھنچے کر پوچھا ثوبیہ درد سے کراہنے لگی

” دا ۔۔۔دانیال نے دیے تھے آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔ بڑی بے دردی سے نوشین نے اسکے کانوں سے ٹاپس نکالے تھے پھر سامنے کھڑے ایک لڑکے کو دئے

” جا جعفر کو دیکھا کہیں کوئی کیمرہ تو نہیں چھپا اس میں ” ثوبیہ کا جی چاہا خدا کا کوئی عذاب ہی نازل ہو جائے کوئی زلزلہ آ جائے زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے ۔۔۔ یا کہیں غائب ہو جائے یا اسکاسانس ہی بند ہو جائے کوئی آسان موت اسے نصیب ہو جائے ورنہ جیسی اذیت ناک موت ان لوگوں کے ہاتھوں لکھی تھی وہ شاید متحمل نہیں تھی

کچھ دیر بعد وہ شخص واپس آ گیا ثوبیہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اپنی شامت سامنے نظر آنے لگی تھی ۔۔

“٫ باس وہ ایک عام سے سونے کے ٹاپس ہیں اور کچھ نہیں” یہ سن کر ثوبیہ کی جان میں جان آئی تھیاس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔ “اب سمجھ آیا تھا کہ دانیال نے ٹاپس کیوں چینج کروائے تھے ۔۔۔ بہت شارپ مائنڈ بندہ تھا یہ “۔۔۔۔ ثوبیہ نے سوچا

“ٹھیک ہے تم جا سکتی ہو ” نوشین کے منہ سے یہ سن کر ثوبیہ کی جان میں جان آئی تھی ۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں چلی گئ کچھ دیر بعد انہیں لڑکیوں کی چیخوں کی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔

وہ واپس آ چکیں تھیں ۔۔۔۔

ثوبیہ کا دل دہلا تھا ۔۔۔۔ سہم کر بیڈ کے ایک کونے میں بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔

لیکن چیخنے رونے منت سماجت کرنے لگی اور ہم نے کچھ نہیں کیا ہم بے قصور ہیں یہ آوازیں اسے بے چین کیے ہوئے تھیں ۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تھا دونوں لڑکیوں کے منہ اور جسم بری طرح سے زخمی ہو چکے تھے ۔۔۔۔ بالوں سے لگ رہا تھا کہ بری طرح سے نوچے گئے ہیں ۔۔۔ لاتیں گھونسے اب تک نوشین اور وہ گنجا شخص انہیں مار رہا تھا ۔۔۔۔۔ پوچ رہے تھے وہ شامل تو نہیں تھیں

ثوبیہ نے دروازہ بند کر دیا اور خود اپنے آنسوں ضبط کرنے لگی ۔۔۔۔ رات تک وہ بخار میں مبتلہ ہو چکی تھی ۔۔۔ چار دن بے سود ہی پڑی رہی ۔۔۔ پانچویں دن ذرا ہوش آیا تھا ۔۔۔۔ لیکن ذہنی انتشار اب بھی باقی تھا

شام کو نوشین اس کے کمرے میں آئی

” چار دن سے بہت آرام کر لیا تم نے رات کو کلب جانے کے لئے تیار رہنا ۔۔۔ وہ دونوں پندرہ دن کے لئے ناکارہ ہو گئیں ہیں “

نقاہت کے باوجود وہ تیار ہونے لگی ۔۔۔۔ کسی زندگی تھی ۔۔۔ وہ کیوں یہ زندگی جی رہی تھی اذیت سے بھری ہوئی کس جرم کی سزا تھی نا ختم ہونے والی ۔۔ کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس ماضی یاد ہوتا تو شاید اپنی غلطی پر دھاڑیں مار کر روتی ۔۔۔ رات کو کلب میں اس سے ڈانس بھی نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔۔ ڈگمگا رہی تھی

لیکن بس پھر بھی لگی رہی ۔۔۔ اس کے عقب میں دانیال کی آواز آئی تو بری طرح چونکی

” تانی ” دانیاں نے دھیرے سے کہا تھا وہ فورا سے پلٹ کر اسکے سینے سے لگ کر رونے لگی وہ ہڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن فورا سے اسے اپنے حصار میں لے لیا تاکہ کسی کو یہ نا لگے کے وہ رو رہی ہے اس کے کان کے قریب ہو کر دھیرے سے بولا

“تانیہ پلیز کنڑول یور سیلف کیوں مجھے مروانا چاہتی ہو اپنے ساتھ ساتھ ۔۔۔ چپ ہو جاؤں تمہیں اس وقت نوٹ کیا جا رہا ہے ” اس کی کمر سہلاتے ہوئے وہ دھیرے دھیرے اسے تسلی دے رہا تھا لیکن وہ ضبط کہاں سے لاتی

” دانیال مجھے یہاں سے لے جاؤں پلیز ورنہ میں مر جاؤں گی ” اپنے آنسوں ضبط کرتے ہوئے بولی

” تمہارے لئے ہی تو سب کچھ کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ بس چند دن کی اور بات ہے ۔۔۔۔ تمہیں اور باقی لڑکیوں کو بھی یہاں سے نکال لوں گا آذادی سے جینا پھر ۔۔۔ ” کافی دیر وہ اسے ساتھ لگائے ڈانس کی پوزیشن قائم رکھے ہوئے تھا ۔۔۔

تانیہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی ۔۔۔۔

پھر اس سے دور ہٹی تھی ۔۔۔ وہ اب بھی اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

پھر مسکراتا ہوا دوسری لڑکی کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔

چند دن بعد ہی پولیس کی بھاری نفری نے ان کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور کامیابی سے وہ یہ آپریشن میں کامیاب بھی ہوئے تھے ۔۔۔۔ ان کا گروں گرفتار ہو چکا تھا ۔۔۔ اس وقت دانیال اپنی وردی میں سب کے سامنے آیا تھا ۔۔۔۔ نوشین کےاسے دیکھ کر ہوش اڑے تھے ۔۔۔

“تم دانیال ایک پولیس آفیسر ہو ؟ “

” نو مس دل نشیں آئی سی آئی آفیسر واجد خان ہوں ۔۔۔”

“بہت پچھتاوں گئے تم ۔۔۔ ہمہیں تم جیل میں ذیادہ دن رکھ نہیں سکتے “

گنجا شخص غرا کا بولا تھا دانیال اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا

” وہ میں رکھنا چاہتا بھی نہیں ہوں ۔۔ تمہیں تو ریمانڈ کے دوران کی ابدی نیند سلا دوں گا رہ گئ دل نشین ایسے تو وہ سب سہنا ہے جو اس نے لڑکیوں کے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔ لیکر جاؤں انہیں ان کا ریمانڈ میں خود لوں گا “۔۔۔ سب لوگوں کو پولیس پکڑ پکڑ کر کے جا رہی تھی ۔۔۔ بس لڑکیاں وہاں رہ گئیں تھیں

” آپ سب لوگ جا سکتیں ہیں ۔۔۔۔ جہاں چاہیں اور اگر چاہیں تو میرے آفیسر آپ لوگوں کو دارلامان میں پہنچا دیں گئے ” سب لڑکیوں کی آنکھیں تشکر سے بھر گئی تھیں ۔۔۔ پھر ایک پولیس اہل کار سے کہا کہ ان سب کو دارلامان میں چھوڑ آئے ۔۔۔ ثوبیہ سمیت سب لڑکیاں باہر جانے لگی ثوبیہ جب اسکے پاس سے گزرنے لگی تو دانیال نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔

” تانی تم کہاں جا رہی ہو ۔۔۔ تم میرے ساتھ جاؤں گی ” وہ شوخ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا

” وہ کیوں ” وہ متذبذب سی ہو کر پوچھنے لگی

” کیونکہ اب میرا چھونا تمہیں برا نہیں لگتا ۔۔۔ ‘ اس نے مسکرا کر کہا پھر اپنے ساتھ باہر لے گیا ایک سفید کار کی طرف ۔۔۔

” سر ہمارے لئے کیا حکم ہے ” ایک اہل کار نے اس پاس آ کر پوچھا

” ابھی تو میں ایک مولانا صاحب کے پاس جارہا ہوں ان سے نکاح کرنے تم لوگوں کے لئے حکم ہے کہ کل دعوت ولیمہ پر میرے گھر پہنچ جانا ” دانیال کے منہ سے یہ سن کر ثوبیہ متحیر ہوئی تھی ۔۔۔ وہ اہل کار مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا

دانیال نے فرنٹ ڈور کھولا ۔۔۔۔۔ ثوبیہ اندر بیٹھ گئ

وہ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا

کار ڈرائیور کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جو اب بھی پریشان حال بیٹھی تھی

“او شٹ دیکھا نا بھول گیا میں شیروانی تو میں نے پہنی ہی نہیں ۔۔۔ نا تم نے عروسی لباس پہنا ہے ایسے بھلا کیا شادی اچھی لگے گئ ۔۔۔ کیا خیال ہے

پہلے شاپنگ نا کر لیں ؟ ” وہ جتنا شوخ مزاج ہو رہا تھاثوبیہ اتنی ہی نروس

” آپ ۔۔۔ آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ “

“خود ہی تو کہاں تھا تم نے ۔۔ دانیال مجھے یہاں سے لے جاؤں پلیز ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ میں اب تمہیں مرنے نہیں دے سکتا تھا تانی “

کلب میں کہی ہوئی بات ثوبیہ کو بتاتے ہوئے وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا ۔۔۔ وہ جھنپ سی گئ تھی

” ویسے چاہو تو “مجھ ” پر مر مٹ سکتی ہو ۔۔۔ دل وجان سے ” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔

” میں مزاق نہیں کر رہی آپ جانتے ہیں ۔۔۔ میں کس قسم کی عورت ہوں ۔۔ ” تانیہ اب بھی نروس تھی

” او پلیز عورت تو مت کہو۔ اچھی خاصی خوبصورت سی لڑکی ہو خوبصورت سی آنکھوں والی ۔۔۔ “

” لیکن آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ آپ کو تو مجھ سے اچھی اور پاک دامن لڑکی بھی مل سکتی ہے ” ثوبیہ آنکھوں میں آنے والی نمی روکتے ہوئے بولی

” تانی نو مور ٹیر ۔۔۔ مجھے تم چاہیے ہو ۔۔۔ محبت کر بیٹھا ہوں تم سے ۔۔۔ سچی والی ۔۔۔ پتہ ہے تمہیں جو ٹاپس دیے تھے اس میں کیمرہ تھا تمہاری لوکیشن مجھے نظر آتی رہتی تھی تم کب کہاں بیٹھ رہی ہو اٹھ رہی ہو ۔۔۔ کیا بات کر رہی ہو ۔۔ وہ سب میں بہت پروفیشنل انداز سے دیکھتا تھا ساتھ ساتھ اسی پر ورک بھی کرتا رہتا تھا تم سے شادی کا ارادہ بھی نہیں تھا ۔۔۔ لیکن ساری گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی تھی جب تم آئنے کے سامنے اپنے بال بناتی تھی ۔۔۔ بس اس وقت نا میری نظر پروفشنل رہتی تھی ۔۔۔ نا نیت ٹھیک رہتی تھی ۔۔۔ بڑے غور سے دیکھتا رہتا تھا تمہیں ۔۔۔ تمہاری اداس سی آنکھیں میرے دل میں اتر سی گئیں ۔۔ پھر پولیس والا بھی تو ناں یار ۔۔۔ بے ایمانی تو تھوڑی بہت ہم ضرور کرتے ہیں ۔۔۔ تھوڑی سی نظروں کی میں نے بھی کر لی اب باقی باتیں نکاح کے بعد کریں گئے ۔۔۔۔ پٹھان بھی تو ہوں نا ۔۔۔۔ شرم آتی غیر لڑکی سے بے تکلف ہوتے ہوئے ” وہ پھر اپنی بات پر ہنسا تھا خوشی سے سفید رنگ پر لالی سی چھائی تھی

” دانیال میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی بلکہ کسی سے بھی نہیں کر سکتی ” تانیہ نظریں چرا کر بولی ایک خوف تھا ڈر تھا ہاتھوں میں تری سترہ تھی

” کیوں “

” مجھے نفرت سی ہو گئ ہے ۔۔۔ اپنے آپ سے ۔۔۔ مرد ذات سے ۔۔۔ بس مجھے بھی آپ دارلامان ہی چھوڑ دیں ” وہ گھمبیر لہجے سے بولی

” نہیں تانیہ۔۔۔ یہ میرے ساتھ ذیادتی ہو گی ۔۔۔ میں پورے خلوص سے تمہیں اپنانا چاہتا ہوں پلیز انکار نہیں سننا چاہتا ” گاڑی اب ایک مسجد کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔

واپسی پر وہ تانیہ واجد خان تھی ۔۔۔ اگر بہت خوش نہیں تھی تو افسردہ بھی نہیں تھی ۔۔۔ بس ایک تحفظ کا احساس تھا ۔۔۔ گھر پہنچ کر کمرے میں جاتے ہی پھر وہی کیفیت وہی ڈر وہی خوف وہی اذیت ۔۔۔ اسوقت وہ اپنے بس میں نہیں ہوتی تھی دیوار کے ساتھ لگ کر چیخنے چلانے لگتی تھی ۔۔۔ واجد اسکی کیفیت کو جانتا تھا اس لئے اسے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ اسے وقت دینا چاہتا تھا۔۔۔ ۔۔۔ چند دن واجد نے تانیہ کو بہت گھمایا پھیریا تھا بہت سی باتیں کرتا رہا ۔۔۔ تانیہ اب کچھ پر سکون ہونے لگی تھی اسکے ساتھ خوشی سی محسوس ہوتی تھی ۔۔۔ اسکی کئ باتوں پر مسکرا بھی دیتی تھی ۔۔۔وہ بہت باتونی قسم کا شخص تھا اتنی باتیں تھیں اس کے پاس تانیہ بس اسے دیکھتی ہی رہ جاتی تھی ایک بار ڈنر کی واپسی پر ۔۔۔۔

راستہ سنسان تھا ۔۔۔۔ پچھلے دس منٹ سے ایک کار کبھی انکے برابر ڈرائیو کرنے لگتی کبھی پیچھے ہو جاتی کبھی بائیں جانب ہو کرگسڑھی کے۔ برابر آنے کی کوشش کرتے ۔۔۔ واجد کو کچھ تشویش سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔

اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی

” تانی مجھے لگتا یہ گاڑی ہمارا پیچھا کر رہی ہے تم سیٹ کی نچلی طرف بیٹھ جاؤں ” اس وقت وہ کافی سنجیدہ تھا سامنے ڈش بورڈ سے اپنی رائفل اٹھا لی ۔۔۔

” لیکن واجد “

“کم آن تانی نیچے ہو کر بیٹھوں ” وہ سخت اور بلند لہجے سے بولا ۔۔

تانیہ جیسے ہی نیچے ہوئی گولی شیشہ توڑ کر سیدھی واجد کے بائیں کندھے پر لگی تھی تانیہ کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔

” واجد “

اس سے پہلے تانیہ اٹھتی کئ فائر ہوئے تھے ۔۔۔ واجد کے سینے پر بھی گولی لگ چکی تھی اس نے گاڑی جنگل کی طرف موڑ دی ۔۔۔

سامنے فرنٹ لائٹ بند کر دی وہ تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے پسینے سے شرابور ہو چکا تھا ۔۔۔ پھر ایک مین روڈ کی طرف گاڑی روک دی سانس بھی بہت اکھڑے اکھڑے لے رہا تھا ۔۔

“تانیہ تم ۔۔۔۔ تم جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔یہاں تمہیں لفٹ مل جائے گی ۔۔۔ جلدی سے۔۔۔۔ جاؤں وہ لوگ اگر یہاں ۔۔۔۔ پہنچ گئے تو ۔۔۔۔ ” وہ با مشکل بول رہا تھا ۔۔۔ تانیہ کا رو رو کر برا حال تھا

” نہیں مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔ میں آپ کو گاڑی سے نیچے اتارتی ہوں ۔۔۔ ہمہیں لفٹ مل جائے گی ۔۔ ڈاکٹر کے پاس چلیں گئے واجد آپ ٹھیک ہو جائیں گئے ” وہ روتے ہوئے اس کے خون سے لت پت ہوتے سینے پر ہاتھ رکھے بول رہی تھی بد حواس تھی پریشان تھی

” تم جاوں تانیہ ۔۔۔ چلی جاؤں میں بچ نہیں سکتا۔۔۔ جاؤں یہاں چلی جاؤں ورنہ سکون سے مر نہیں پاؤں گا ۔۔ “آنسوں واجد کی آنکھوں سے بھی بہہ رہے تھے

” نہیں میں نہیں جاؤں گی “تانیہ اسکے سینے لگ کر رونے لگی ۔۔

” مجھے کیوں۔ بچایا آپ نے ۔۔۔ مجھے بھی گولی لگنے دیتے میں کیا کروں گی آپکے بغیر “

” تانیہ خدا کے لئے جاؤں ” وہ اب با مشکل سانس لے پا رہا تھا ۔۔۔ تانیہ کو خود سے الگ کیا

” جاؤں ۔۔۔۔ تانیہ ۔۔۔ جاوں وہ ۔۔۔لوگ ۔۔۔۔ بہت برا کریں گئے تمہارے ساتھ ۔۔” فائرنگ کی آوازیں قریب ہونے لگیں تھیں تانیہ گاڑی سے اتر کر سڑک کی طرف بھاگنے لگی بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔ سامنے سے آنے والی گاڑھی کی تیز پڑتی روشنی اسکی آنکھوں پر پڑی کچھ ویسے صدمے سے نڈھال تھی اس لئے جیسے گاڑی زور دار بریک سے رکی وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی

******…….

آرء نے آگے بڑھ کر مفتی انور کے ہاتھ سے بلیٹ چھین کر پھنک دیا ۔۔۔

” آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ عبداالباسط آپ کے ساتھ جائے گا ۔۔۔۔ میں واپس چلی جاؤں گی ۔۔۔ میں خود یہ نہیں چاہتی کہ کہ میری وجہ سے آپکی بیٹیاں اپنے گھروں میں عجت سے رہیں گیں” آرء کے آنسوں بہہ رہے تھے

” آرء” عبد الباسط کی آواز میں بھی دم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔سمجھ گیا تھا کہ یہ دنیا انہیں چین سے جینے نہیں دے گی ۔۔۔۔۔ آرء عبد الباسط کے پاس آ گئ

” عبداالباسط میں واپس جا رہی ہوں ۔۔۔ غلطی میری ہے بھول گئ تھی ۔۔۔ ہمارا ٹھکانہ کہیں اور نہیں ہوتا ۔۔۔۔ ہم کہیں بھی چلی جائیں واپسی وہیں ہے ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔ مجھے طلاق نامہ بھیج دینا

” عبداالباسط میں باہر کھڑا ہوں اس لڑکی سے ہر تعلق یہیں ختم کر کے باہر آؤں “یہ کہہ کر باہر چلے گئے عبداالباسط نے اسکے آنسوں کیے ۔۔۔ پھر اپنے ساتھ لگا کیاوہ اسکے اسکے ساتھ لگ رونے لگی آنسوں عبد الباسط کے بھی بہہ رہے تھے

” میں تمہیں طلاق کبھی نہیں دونگا ۔۔ مرتے دم تک نہیں ۔۔۔۔ بس یہ دعا ہے اپنے رب سے کہ اسے اگر میرا کوئی ایک عمل بھی پسند ہے تو وہ تمہیں میرا ہی رکھے ۔۔۔ ابا کا غصہ ٹھنڈا ہوتے ہی تمہیں لینے آ جاؤں گا ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ اس سے جدا ہوا تھا ۔۔۔ بس اسٹاپ تک وہ ساتھ گئے تھے آرء کی بس پہلے آ چکی تھی وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی جب تک عبداالباسط نظروں سے اوجھل نا ہو گیا وہ اسے دیکھتی ہی رہی