Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 7

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 7

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

ثوبیہ جب سے شمس سے ملکر آئی تھی پریشان تھی ۔۔۔۔ اتنا بڑا قدم اٹھانا آسان نہیں تھا اس کے لئے ۔۔۔۔ بار بار کبھی ماں کا چہرہ دیکھتی کبھی باپ کی سخت مزاجی کا خوف ڈراتا کبھی بھائی کی ۔۔۔۔ ایک طرف عزت اور دوسری طرف محبت اور انتخاب کسی ایک چیز کا کرنا تھا ۔۔۔۔ سوبار سوچا کہ شمس کی بات پر عمل کر لے ایسا کئ جگہ سنا تھا کہ لڑکا لڑکی نے بھاگ کر شادی کر لی کچھ عرصہ گھروالوں نے قطعی تعلقی کی لیکن پھر معافا معافی کے بعد سب ٹھیک ہو گیا ۔۔۔۔ لیکن ہر بار ایسا نہیں ہوتا بعض لوگ انا کا مسلہ بنا کر مار ڈالتے ہیں ۔۔۔ یہ سوچ کر کمالے کے غصے کاخیال آتے ہی پورے جسم میں جھرجھری سی آنے لگی ۔۔۔۔

دل تھا ایک پل چین نہیں آ رہا تھا بے کلی ہی بے کلی سی تھی ۔۔۔۔ اتوار کا دن بھی آن پہنچا تھا ۔۔۔

“ٹوبہ بیٹا آج دل پتہ نہیں کیوں بہت گھبرا رہا ہے میری روٹی مت بنانا میں کھانا نہیں کھاؤں گی ” ماں دل کی مریضہ تھیں صبح سے دل ان کا ڈولے جا رہا تھا جیسے جانے کیا ان ہونی ہونے والی تھی ۔۔۔ ماؤں کے دل ایسے ہی تو ہوتے ہیں اولاد کے لئے پہلے سے دل خوف میں آنے لگتا ہے ۔۔۔ ثوبیہ کا روٹی بناتے ہوئے ہاتھ چلا تھا فٹا فٹ سے روٹی سائیڈ پر ڈالی ۔۔۔

ذہن منتشر تھا ۔۔۔ دل پریشان ۔۔۔۔ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ کیا کرے کیا نا کرے ۔۔۔

رات کو ماں کو دوائی دے کر کافی دیر انکی ٹانگیں دباتی رہی ۔۔۔۔ جو دکھ انہیں دینے کا سوچ رہی تھی اس کا ازالہ تو کچھ بھی نہیں تھا سو بار ضمیر نے جھنجھوڑا تھا لعنت ملامت بھی کی تھی ۔۔۔ رو رو کر بھی تھک چکی تھی ۔۔۔

“بس بھی کر دے ثوبیہ کیاسال بھر کی خدمت آج ہی کر دے گی ۔۔۔ جا میری بچی آرام کر جا کر ۔۔۔ ” پچھلے ایک گھنٹے سے وہ ماں کے پاؤں دباتے ہوئے جانے کہاں گم تھی ۔۔۔ سوچوں کی یلغار تھی ۔۔۔

اٹھ کر اپنے کمرے میں لیٹ گئ ۔۔۔ اوپر چلتے پنکھے پر نظریں جمائے سوچنے لگی کہ کیا ہو گی اسکی اگلی زندگی ۔۔۔ اگر ابا نے قبول نا کیا تو کیا کرے گی کیا عمر بھر ماں باپ کو دیکھنے کو ترس جائے گی

پھر بے چینی سے کروٹ بدل گئ

اگر شمس کی ماں نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ؟ اگر اسکی والدہ نے شمس کو کوئی واسطے دے کر مجھے طلاق دلوا دی تو کیا کرے گی ؟کہاں جائے پھر تو نا شمس کا گھر نا اپنا گھر کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا

اگر ابا کی بات مان کر وہیں شادی کر لی۔۔ جہاں ابا چاہتے ہیں تو شاید شمس غصہ کرے لیکن بھول جائے ۔۔۔ ہو سکتا ہے میں بھی بھول جاؤں ۔۔۔ اماں ابا کی عزت بھی سلامت رہے گی ۔۔۔

بے چینی سے کروٹ پھر سے بدلی

ہاں یہی ٹھیک ہے ۔۔۔ بد کردار کہلوانے سے بہتر ہے بے وفا کہلوائی جاؤں ۔۔۔ کتنے ہی لوگ محبت کرتے ہیں ۔۔۔ اور پھر نصیبوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر بچھڑ جاتے ہیں ۔۔۔ کون سا مر جاتے ہیں زندگی کب رکتی ہے ۔۔۔ ہر کوئی اپنی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے ۔۔۔ محبت ایک حسین خواب کی طرح کبھی کبھی زندگی کی دوڑ دھوپ میں آنکھوں میں ٹھنڈک کااحساس دے جاتا ہے ۔۔۔ میں بھی اسی خواب کو کبھی کبھی دیکھ لیا کروں گی ۔۔۔

ایک ٹھنڈک اپنی آنکھوں میں بھر لیا کروں گی۔۔۔۔ وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ شمس کے ساتھ نہیں جائے گی

آنکھیں موندے سونے کی کوشش کرنے لگی ابھی گیارہ بجے تھے اسے ایک بجے چھت کر جانا تھا اپنے چند جوڑے اور زیورات بیگ میں ڈال کر ۔۔۔

لیکن ضمیر کے کٹہرے میں جیسے وہ فیصلہ کر چکی تھی ۔۔۔ خود کو منا رہی تھی ۔۔۔ کچھ وقت شمس سے بات نہیں کرے گی اس کے سامنے نہیں جائے گی بلکہ گھر سے ہی نہیں نکلے گی وہ کیا کر لے گا ۔۔۔ رو دھو کر بھول جائے گا ۔۔۔ ثوبیہ کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔۔۔

صبح اس کی آنکھ چیخنے چلانے اور بین کی آوازوں پر کھلی تھی یک لخت وہ اٹھ بیٹھی تھی دن چڑھ آیاتھا ۔۔۔ وہ لحاف اتارے کمرے سے نکلی دیوار کے اس پار رونے اور بین ڈالنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ابا کمالا اماں سب ہی کمروں سے نکل آئے تھے ۔۔۔

“شمس اٹھ میرے بچے ۔۔۔ کیا ہوا ہے تجھے ۔۔۔ اٹھ نا ۔۔۔ میں کس کے سہارے جیوں گی” شمس کی ماں کی بلند آواز میں سنائی دیتی دہائیوں نے ثوبیہ کے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔

“ثوبیہ اگر تم نے بیوفائی کی تو پیر کی صبح میرے مرنے کی خبر مل جائے گی تمہیں “

“شم۔۔۔۔مسسس” ثوبیہ کاسر چکرا گیا تھا بھاگم بھاگ وہ گھر سے نکل کر برابر والے گھر میں گئ تھی شمس خون سے لت پت سامنے چارپائی پر بے سود پڑا تھا ۔۔۔۔۔ منی اور اسکی والدہ شمس کے مردہ وجود کے کو ہلا رہیں تھیں رو رہیں تھیں

ثوبیہ کی بے یقینی سے چیخیں بلند ہوئیں تھیں

*******

حیا اپنے والد کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود تھی ۔۔۔ دونوں باپ بیٹی ہی غصے سے بھپرے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ شخص چہرے پر ناگواری سے تیوری چڑھائے بیٹھا تھا

“سر مے آئی کم ان؟” ارتضی نے اجازت چاہی ۔۔۔

“یس کم ان مسٹر ارتضی ” پرنسپل بھی سنجیدہ بیٹھے تھے ارتضی پرنسپل کے سامنے جا کھڑا ہوا

” آپکی کمپلین آئی ہے مسٹر ارتضی ” پرنسپل نے اپنا چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا ارتضی نے ایک اچٹتی سی نظر حیا پر ڈالی جو غصے سے ماتھے پر بل ڈالے کھڑی تھی ۔۔

” جی سر کہیے “

“مس حیا سلیمان کا کہنا ہے کہ آپ نے انہیں بلاوجہ پنش دی ہے ۔۔۔”

“سر یہ چیٹنگ کر رہی تھیں ” ارتضی نے بنا حیا کی طرف دیکھ کر کہا

” تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے کوریڈور میں نیل ڈاؤن کر دیا جائے ” حیا چٹخ کر بولی ۔۔۔۔

” بھلا یہ کیا سزا ہوئی کہ ذرا سی چیٹنگ کرنے پر بچی کی عزت نفس کو مجروح کیا جائے “اس بار سلیمان غصے سے پھنکارے تھے ۔۔۔۔

“کوریڈور میں نیل ڈاؤن کروایا جائے۔۔۔۔ پرنسپل صاحب ان سے کہیں کہ یہ اپنی غلطی کو مانیں اور پولیجائز کریں حیا سے ” سلیمان نے اپنی بات پر زور دے کر کہا ارتضی انکی بات سن کر متحیر سا رہ گیا تھا ۔۔۔ کیسا باپ تھا جو بیٹی کی غلط بات پر اس کا ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔

“دیکھیں سلیمان صاحب آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اس طرح سے کسی استاد کا اپنے اسٹوڈنٹ کو سوری کہنا مناسب نہیں ہے ۔۔ ۔میں انہیں سمجھا دوں گا آئندہ یہ حیا کو کچھ نہیں کہیں گئے ۔۔۔۔ “پرنسپل صاحب نے بات سنبھالنے کی کوشش کی

” جی نہیں پرنسپل صاحب یا تو یہ صاحب حیا سے معذرت کریں گئے یا پھر ابھی کے ابھی آپ انہیں ریزائن کریں گئے ۔۔۔۔ یا دوسری صورت میں میں آپ کو کہیں اور ٹرانسفر کروا دوں گا “دولت اور اونچے تعلق کا گھمڈ تھا جو سلیمان کے لہجے سے چھلک رہا تھاوہی حال بیٹی کا تھا منہ پھلائے کھڑی تھی ۔۔۔۔

“سر میرا ریزنیشن لیٹر تیار کر دیں ۔۔۔ لیکن میں بنا قصور کے کسی سے بھی معافی نہیں مانگوں گا ” ارتضی نے تاسف سے حیا اور اسکے والد کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ سلیمان کی غصیلی نظر ارتضی پر ہی تھی ۔۔۔۔

“معافی تو تمہیں دوسری صورت میں بھی مانگنی پڑے گی مسٹر سمجھ کیا رکھا ہے تم نے۔۔۔۔ میری بیٹی کو سزا دینے والے تم ہوتے کون ہو ” انگلی اٹھا سلیمان نے ارتضی سے کہا ۔۔۔ارتضی بھی تن کر بولا

” ۔۔۔ کیا کریں گئے آپ ۔۔۔۔اپنی دولت کا رعب آپ کسی اور پر جھاڑیے گا ۔۔۔۔ میری نوکری پر آپ کا اختیار ضرور ہو سکتا ہے ۔۔۔ لیکن مجھ پر ہر گز نہیں آپ ہارٹ پیشنٹ نا ہوتے تو میں بتاتا آپ کو ۔۔۔۔ بس آپکی بیماری کا لحاظ کر رہا ہوں “ارتضی نے بھی غصے سے انہیں دیکھ کر کہا

“کس نے کہا کہ میں ہارٹ پیشنٹ ہوں ۔۔۔ کچھ بھی جھوٹ بولو گئے تم ۔۔۔ ” سلیمان اس بار اپنی کرسی سے کھڑے ہو کر ارتضی کے مقابل کھڑے ہو کر بولے ارتضی نے ایک نظر حیا پر ڈالی جو نظریں چرا گئ تھی

” یہ سوال آپ اپنی صاحب زادی سے پوچھیں ۔۔۔ کیونکہ آپ کے بارے میں ایسی اطلاعات انہیں سے پتہ چلی ہیں مجھے ۔۔۔” سلیمان نے حیا طرف دیکھا تو اس نے گھبرا کر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

“او کے سر میرا ریزنیشن لیٹر آپ مجھے بھیج دیجیے گا ۔۔۔ “یہ کہہ کر ارتضی وہاں رکا نہیں ۔۔۔۔

سیدھا گھر ہی گیا تھا ۔۔۔

حیا سے اس قسم کی حرکت کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔

اوپر سے اس کا باپ اسے بڑھ کر تھا ۔۔۔بچوں کی غلط بات پر انکا ساتھ دینا غلط ہے ۔۔۔۔ انکی غلطیوں پر پردہ پوشی ڈالنا انہیں بگارڈ دیتا ہے۔۔۔ کاش کے یہ بات ماں باپ سمجھ سکتے ۔۔۔ کہ ان کی غلط شہ بچوں کو کس قدر غلط پروان چڑھاتی ہے ۔۔۔ شام کو وہاج ارتضی کے گھر موجود تھا ۔۔۔

” یہ کیا حماقت ہے ارتضی بڑی مشکل سے تمہاری یہاں جاب لگی تھی ۔۔۔ ” وہاج کو پرنسپل سے ساری بات علم ہوا تو وہ ارتضی کو سمجھانے پہنچ گیا تھا

” تم کیا چاہتے ہو وہاج میں اس بدتمیز لڑکی سے ایکسکیوز کروں ۔۔۔۔ جیسے یہ تک نہیں پتہ کے استاد کے ساتھ بات کیسے کی جاتی ہے ۔۔۔ اوپر سے اسکے والد محترم جو اپنی بیٹی کی غلطیوں پر پردہ ڈالے۔۔۔ مجھ پر صرف اس لئے چلا رہے تھے کے میں ایک ملازم پیشہ انسان ہوں ۔۔۔۔ انکی طرح دولت کی ریل پھیل نہیں ہے اونچے اونچے لوگوں سے تعلقات نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ “ارتضی اب بھی غصے سے بات کر رہا تھا چوٹ انا پر لگی تھی ۔۔۔

“یہ کون سی نئ بات ہے یار ۔۔ میری بات سنو ۔۔ اسلام آباد جیسے شہر میں بنا جاب کے کتنے دن رہ لوں گئے تم ۔۔۔

” ڈھونڈ لوں گا کوئی نوکری ۔۔۔ لیکن وہاں واپس نہیں جاؤں گا ۔۔۔ ” انداز حتمی تھا آنکھیں ضبط سے سرخ ہو رہیں تھیں

” ارتضی سمجھنے کی کوشش کروں پرنسپل نے خود ۔مجھے بھیجا ہے تمہارے پاس ۔۔۔ تمہاری پروگریس بہترین ٹیچرز میں سے ہے ۔۔۔ ایک ذرا سی لڑکی کی خاطر کیوں سب برباد کرنا چاہتے ہو “وہاج کی بات پر راضی نے تاسف سے اسے دیکھ کر کہا

“اس کا۔مطلب تو یہ ہوا کہ میں اس ذرا سی لڑکی کے سامنے پولیجائز کروں ؟ “ارتضی کے کڑے تیوروں پر وہاج نے نظریں چرائیں تھیں

“دیکھوں بات کو سمجھنے کی کوشش کروں ۔۔۔ ارتضی رومی کے اسکول کے اخراجات گھر کے معاملات یہ سب بنا پیسوں کے چلانا آسان نہیں ہے ۔۔۔ ” وہاج کی بات سو فیصد درست تھی ارتضی اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

” آسان تو کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ اچھا خاصا سب کچھ چل رہا لیکن حیا نے پل میں معمولی سی بات کا بتنگڑ بنا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

” تم بس اسے ایکسکیوز کر دینا اس کے بعد مت بات کرنا اس سے ۔۔۔۔ وہ پڑھے نا پڑھے اس کو اسکے حال پر چھوڑ دو ۔۔۔ “

” ٹھیک ہے ۔۔۔ مانگ لوں گا معافی ۔۔۔ لیکن میں اب اس کلاس میں قدم بھی نہیں رکھوں گا ۔۔۔ کہہ دینا پرنسپل سے مجھے اس لڑکی کی شکل بھی نہیں دیکھنی ” ارتضی نے دو ٹوک لہجے سے کہا ۔۔۔ اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ رومان چپ چاپ ڈائنگ ٹیبل پر کتابیں پھیلائے انکی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ جب سے اسکول سے آیا تھا باپ کو غصے میں دیکھ کر چپ ہی تھا ۔۔۔ اول تو ارتضی کم ہی غصے میں آتا تھا مگر جب غصہ آ جاتا تھا تو جلدی ختم نہیں ہوتا تھا ۔۔۔اور آج تو اس کاغصے سے برا حال تھا ۔۔۔ دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا ۔۔۔ نا شام کہ چائے پی تھی ۔۔۔۔ وہاج الگ پریشان تھا ۔۔۔

“رومی کچھ سمجھاؤں اپنے باپ کو “

“فی الحال تو غصے میں ہیں ۔۔۔ کھانا بھی نہیں کھایا اگر میں اندر گیا تو مجھے کچا کھا جائیں گئے ۔۔۔ انکل آپ پلیز کھانا کھلا کر جائیں انہیں ورنہ رات تک صرف سگریٹ ہی پھونکتے رہیں گئے ۔۔۔ “رومی اب اٹھ کر وہاج کے پاس آ گیا تھا باپ کے لئے فکرمند بھی تھا ۔۔۔۔

“اچھا ٹھیک ہے تم کھانا گرم کر کے لاؤں کرتا ہوں کچھ ۔۔۔ ” وہاج نے گیری سانس لیتے ہوئے کہا ۔۔۔

پوری رات ارتضی سو نہیں پایا تھا حقیقت تو یہی تھی کہ مجبورا ہی صحیح لیکن اس امیر باپ کی بیٹی کے سامنے جھکنا اسی کو پڑنا تھا ۔۔۔ پہلی ہی کلاس میں وہ سکینڈ ائیر کی کلاس میں چلا گیا وہاں موجود ٹیچر کی اجازت لیکر اندر داخل ہوا ۔۔۔ اس وقت بہت غصے میں تھا ۔۔۔ بڑے ضبط سے حیا کی سیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔

اسے دیکھ کر حیا بھی کھڑی ہو گئ اسکے چہرے کے تاثرات سے حیا کو لگا کہ وہ اسے بہت کھری کھری سنائے گا

“مس حیا میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔ مجھے سمجھنا چاہیے تھا کہ امیر ماں باپ کے بچوں کو انکی غلطیوں پر سزا دینے کا حق مجھ جیسے ملازم پیشہ استاد کو ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ ایم سوری ۔۔۔۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنا ظرف بڑا رکھتے ہوئے مجھے معاف ضرور کر دیں گئیں ٫” ارتضی نے معافی کے الفاظ ادا کرتے ہوئے باقائدہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑے تھے پوری کلاس ششدد میں رہ گئ تھی ٹیچر بھی منہ کھولے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

حیا چپ چاپ کھڑی رہی ۔۔۔۔

ارتضی نے پھر اس نے نظریں ہٹا کر پوری کلاس کی جانب دیکھا

” ایم سوری آل آف اسٹوڈنٹ میں مزید آپ کی کلاس نہیں لوں گا ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ وہیں سے واپس چلا گیا ۔۔۔۔ سب کی نظریں حیا پر تھیں لیکن نا پسندیدہ ۔۔۔۔ کسی ٹیچر کا سزا دینا اتنا معیوب عمل نہیں تھا جتنا ایک اسٹوڈنٹ کا اپنے استاد سے معافی منگوانا تھا ۔۔۔۔ ٹیچر نے بھی حیا کو تاسف بھری نظروں سے دیکھا تھا لیکن کہا کچھ نہیں

باقی کی کلاس خاموشی کی نظر ہو گئ تھی پریڈ ختم ہوتے ہی سب سے پہلے حمیرا نے اپنی سیٹ چینج کی تھی ۔۔۔۔ سب کا رویہ ہی حیا سے بدل سا گیا تھا ۔۔۔

“حمیرا تم پیچھے کیوں بیٹھ گئ ہو “حیا نے حمیرا کے پاس جا کر پوچھا

” پلیز حیا مجھے تم سے دوستی نہیں رکھنی بہتر ہے تم مجھ سے بات ہی مت کروں ۔۔۔۔ کیا خبر کل کو تمہیں میری بھی کوئی بات بری لگ جائے تو تم ۔مجھ۔سے بھی یوں۔ معافیاں منگواتی رہو ۔۔۔۔ ” حمیرا کے جواب کے بعد وہ اقراء اور رامین کے پاس آ گئ ۔۔۔لیکن آج وہ بھی چپ چپ تھیں چہرے پر بھی ناگواری تھی ۔۔۔

“اقرء تم میرے پاس بیٹھ جاؤں “

” اوہ نو حیا تمہیں تو پتہ ہم دونوں ساتھ ہی بیٹھنا پسند کرتی ہیں ۔۔۔میں رامین کے علاؤہ کسی کے ساتھ نہیں بیٹھوں گی ۔۔۔۔ ” اقرء نے بھی صاف انکار کیا تھا ۔۔۔

تین دن گزر گئے تھے لیکن حیا سے ٹھیک سے کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔*******……..

دوسرے دن سر شام علی ہمزہ کے گاڑی پہنچ گئ تھی آرء چپ چاپ تیار ہو کر چلی گئ ۔۔۔۔ پہلے وہ اسے اسٹوڈیو کے گیا ۔۔۔ تیز ترین روشنیوں سے آرء کی آنکھیں چندھیا گئیں تھیں ۔۔۔

کئ اینگل سے علی ہمزہ اسے کیمرے کے سامنے کھڑا کر کے دیکھتا رہا ۔۔۔

اسے چہرے کے ایکسپریشن کیسے رکھنے چاہیے بتانے لگا کھڑا کیسے ہونا ہے چلنا کیسے ہے چھوٹی کئ باتیں اسے سمجھا رہا تھا

“آرء کمر کو بلکل سیدھا رکھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ تن کر چلنے کی پریکٹس کرو ۔۔۔ پیروں کو جما کر رکھ کر چلنا سیکھوں ۔۔۔ “آرء بہت نروس سی ہو رہی تھی اثبات میں سر تو ہلا رہی تھی مگر گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔ وہاں موجود چار پانچ مرد ہی تھے ان میں سے ایک کیمرہ مین تھا اور ایک میک اپ آرٹسٹ اور دو ڈریس ڈیزائنر تھے ۔۔۔ انکی نظریں اور ہاتھ جس طرح اسکے وجود پر لگ رہے تھے آرء کا گھبرا جانا فطری سی بات تھی ۔۔۔ پانچ مردوں کی موجودگی میں وہ اس وقت اکیلی تھی ۔۔۔

علی ہمزہ منہ سگریٹ دبائے ۔۔۔ کھڑا تھا ۔۔۔ پھر ایک ڈریس ڈائزنر سے بولا

“انچی ٹیپ سے ناپ لو اس کا ۔۔ دو دن تک اسکا ڈریس سل جانا تھا ہو جانا چاہیے اور خیال رکھنا لباس تنگ اور چست ہونا چاہیے ۔۔۔ ” علی ہمزہ کی بات پر وہ شخص سر اثبات میں ہلا رہا تھا ۔۔۔ایسا نہیں تھا کہ آتے نے ایسا لباس پہلی بار پہننا تھا مگر یوں ناپ دینے کا اتفاق پہلا تھا ۔۔۔ ورنہ ایک ہی درزی تھا جو ناپ کے جوڑے کے جاتا تھا ۔۔۔ کپڑوں کے ڈائزان جہان بیگم خود بتاتی تھیں آرء تو الماری سے نکال کر پہن لیتی تھی ۔۔۔ لیکن اس وقت اس شخص کی نظروں کی بے باقی اور ہاتھوں کی غلط حرکت پر آرء پزل سی ہوئی تھی سامنے کیمرہ مین اسے دیکھ کر ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا ۔۔۔ آرء کا دل کیا بھاگ جائے وہاں سے ۔۔۔ عبد الباسط کی باتیں یاد آنے لگیں ۔۔۔۔ سچ کہہ رہا تھاوہ۔۔۔۔ یہ دلدل ہے ۔۔۔ پھنس جائے گی یہاں ۔۔۔۔ وقت تھا کاٹے نہیں کٹ رہا تھا آرء کو اپنی بے بسی پر رونا آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔ کیا وہ آزمائش کم تھی جو میں سہہ رہی تھی ۔۔۔۔ جو یہ بھی میری قسمت میں لکھی ہے ۔۔۔۔ ایک ناپ لینے سے ہی آرء کو لگا کے اس شخص نے اپنے ہاتھوں کی ہوس پوری کی ہو ۔۔۔۔ کہاں کہاں اور کیسے کیسے چھوا نہیں تھا اس نے ۔۔۔ پسینے سے شرابور وہ بے بسی کی انتہا پر تھی ۔۔۔۔۔

بڑے سینما کی بڑی اسکرین پر دکھنے والی ہیروئنوں پر رشک کے بجائے رحم سا آ رہا تھا اسے ۔۔۔۔ بظاہر واہ واہ کے نعرے لگتے ہیں انٹرویوں ہوتے ہیں ان کے پرستاروں کی لائنیں لگی ہوتیں ہیں انکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لیکن اندر ۔۔۔ اندر کیا کچھ ہوتا ہے یہ صرف وہ لڑکی ہی جانتی ہے کہ وہ کیسی کیسی آزمائشوں سے گزری ہے ۔۔۔ اپنے شوق کے ہاتھوں یا پیسوں کی خاطر کیسی غلاظت والی نظریں برداشت کرنی پڑتی ہیں کیسے کیسے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔ ایک پل تو گھر بیٹھی لڑکی جیسے کوئی نہیں جانتا کوئی نہیں پہچانتا وہ آرء کو خود سے کئ گناہ زیادہ خوش نصیب لگ رہی تھی ۔۔۔۔

رات اسکی علی ہمزہ کے نام تھی ۔۔۔ صبح وہ واپس آ چکی تھی جہان بیگم کے ہاتھ میں پیسے رکھ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں آ کر بند ہو گئ تھی پھوٹ پھوٹ کر اپنی قسمت پر روئی تھی ۔۔۔ دل چاہا کہ ابھی اسی وقت عبد الباسط آ جائے اسکی قیمت ادا کر کے اسے بہت دور لے جائے اتنی دور جہاں نا یہ بازار حسن ہو نا یہ کوٹھہ نا جہان بیگم نا پیسہ نا شہرت یا علی ہمزہ ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ بس وہ ایک عام سی عورت ہو ایک عام سے گھر میں رہنے بسنے والی ۔۔۔۔۔ دو دن گزر چکے تھے عبد الباسط پھر نہیں آیاتھا پہلی بار کی طرح اب بھی اسے انتظار کی اذیت دے کر غائب ہو گیا تو تھا ۔۔

******…..

آرء وعدہ تو کر آیاتھا لیکن باپ سے جھوٹ بولنے کا حوصلہ پیدا کرنا بھی مشکل امر لگ رہا تھا ۔۔۔ چند دن پہلے ہی عبد الباسط کہ چھوٹی بہن کا رشتہ طے ہوا تھا لڑکے والوں کو شادی کی ذرا جلدی تھی اس لئے مفتی صاحب کو برسوں سے گاؤں میں خریدہ زمین کا خیال آگیا ویسے تو وہاں انکا اپنا گھر بھی موجود تھا لیکن لاہور آ کر ایسے بسے کے واپس گاوں جانا ہی نہیں ہوا ۔۔۔ گھر خاصا بڑا تھا کرایے پر دیا تھا ایک معقول کرایہ مل رہا تھا ۔۔۔ اب بیٹی کی شادی کے لئے زمین یاد آگئی تھی۔۔۔ لیکن جب واپس آئے تو چہرے پر مسکراہٹ گہری تھی ۔۔۔

کھانا بھی خوب رغبت سے کھایا ۔۔۔

” میں اپنے اللہ کا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے ۔۔۔

عبد الباسط کی ماں جو لوگ خدیجہ کا رشتہ طے کر کے گئے ہیں انہیں ہماری کلثوم بھی اپنے دوسرے بیٹے کے لئے پسند آ گئ ہے ۔۔۔ کہہ رہے تھے کچھ جہیز کی ضرورت نہیں ہے مولانا صاحب بس دونوں بیٹیوں کو ایک ساتھ ہی رخصت کر دو ۔۔۔ ” مفتی صاحب کی خوشی قابل دید تھی

” یہ تو بڑی اچھی خبر سنائی آپ نے ۔۔۔ ” بیوی بھی خوش ہوئیں تھی

” عبد الباسط بیٹا سویرے والی پہلی بس پکڑ کر چلے جاؤں میری بات ہو چکی ہے بس کہچری میں جا کر بیان دینا ہے اور رقم اٹھانی ہے ۔۔ ایسا کرنا میری وہ جیب وی بنیاں پہن جانا پیسے اسی میں خیال سے رکھنا ۔۔۔ میری بچیوں کی امانت ہے وہ رقم ۔۔۔۔یہ دونوں عزت سے رخصت ہو جائیں تو مجھے بھی چین کی نیند آئے گی “۔ باپ کے آخری جمعلوں نے جیسے جھوٹ کے بنائے گئے منصوبے کو ایک وار سے گرایا تھا ۔۔۔۔ عبد الباسط کا نوالہ حلق سے نیچے نہیں اتر سکا پانی سے نوالہ اندر اتارا تھا ۔باقی کا کھانا وہیں چھوڑ دیا ۔۔ صبح وہ گیا بھی واپس بھی لوٹ آیا پیسے پورے کے پورے باپ کے ہاتھ میں رکھ دیے ۔۔۔۔ شام کو وقت بھی تھا کہ آرء سے ملاقات کر لیتا ۔۔۔ دل بھی اندر سے پر زور اصرارکر رہا تھا ۔مگر جاتا کس منہ سے کیا کہتا ۔۔۔ کہ پیسے پر حق بہنوں کا تھا انکا حق کھانے کاحوصلہ نہیں تھا عبد الباسط میں ۔۔۔۔

بہنوں کی شادی بھی ہو گئ بس اب ایک بہن ہی رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔

پورے ایک مہینے بعد وہ آرء سے ملنے گیا تھا پتہ تھا کہ وہ بے حد ناراض ہو گی بات نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔ لیکن دل کا کیا کرتا جو بس میں نہیں تھا ۔۔۔

لیکن آج آرء رقص کرنے نہیں آئی تھی ۔۔۔ دو تین لڑکیاں ناچ گا کر جا چکیں تھیں ۔۔۔ وہ اٹھ کر جہان بیگم کے پاس آگیا ۔۔۔۔

“آرء کہاں ہے ” ہچکچاتے ہوئے پوچھا تھا “

“طعبت نا ہی ٹھیک اسکی ۔۔۔ بخار ہے کئ روج سے ۔۔ ” یہ سن کر دل ڈوب کر ابھرا تھا ۔۔۔

“کہاں ہیں وہ کیسے بیمار ہو گئیں ۔۔”عبد الباسط کی بے چینی بڑھی تھی دل تڑپا تھا ۔۔۔

” اوہ سامنے کمرے میں ہے جا شاید تجھے دیکھ کر ٹھیک ہو جائے “جہان بیگم نے لاپروائی سے کہا عبد الباسط تیز قدموں سے کمرے کی طرف گیا تھا باہر سے ہی کھانسنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔

وہ اندر داخل ہوا وہ پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی رنگت پیلی پڑ گئ تھی آ نکھوں کے نیچے ہلکے بہت گہرے ہو چکے تھے جسم بھی پہلے سے کمزور لگ رہا تھا ۔۔۔ بند آنکھیں کیے وہ لیٹی تھی وہ تیزی سے اسکے پاس آ کر رک گیا ۔۔۔۔

“آرء” عبد الباسط کی آواز پر بھی اس نے آنکھیں نہیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔۔

وہ اس کے برابر میں بیٹھ گیا

“آرء” اس بار وہ کچھ بلند لہجے میں بولا با مشکل اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا دیکھ کر دوبارہ سے آنکھیں بند کر لیں آنکھوں کے کناروں سے آنسوں بہنے لگے تھے

” کاہے آئے ہو یہاں ۔۔۔ اتنی جلدی میرا خیال کیسے ا گیا تمہیں عبد الباسط ۔۔ میری مر جانے کی خبر سن کر آتے ” بند آنکھوں سے بہتے آنسوں سے اس نے کہا

“اللہ نا کرے آرء آپ کو کچھ ہو ۔۔۔ ایسا کیوں کہہ رہی۔ ہیں “عبد الباسط نے تڑپ کر کہا آرء نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔

” مجھے سہارا دے کر بیٹھاوں ” وہ نقاہت کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ عبد الباسط نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا تھا ۔۔۔

” مجھے یہاں سے لے جاؤں عبد الباسط ۔۔۔ میں یہاں رہنا نہیں چاہتی “وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی ۔۔۔ عبد الباسط گڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔۔۔ ایسا کیا ہوا تھا ۔۔۔ کہ ہر زخم ہنس کر سہنے والی یوں بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔۔۔ عبد الباسط یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کن لفظوں سے تی دے کہ وہ چپ ہو جائے ۔۔۔

“آرء خدا کے لئے چپ ہو جائیں “اسکی سسکیاں بلند تھیں بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ چپ نہیں ہوئی کئ سوں ضبط تھا شاید جو اسکے سامنے ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔ اس لئے ناوہ سنبھل رہی تھی نا آنسوں تھم رہے تھے اور عبد الباسط کا ضبط جواب دے رہا تھا جو کب سے اسکی سسکیاں سن رہا تھا ۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے روئے جا رہی تھی ۔۔

” آرء بس چپ ہو جائیں ۔۔۔ میرا امتحان لینا بند کریں ورنہ واپس چلا جاؤں گا ” عبد الباسط بے بسی سے بولا آرء نے چہرے سے ہاتھ ہٹایا پوراچہراآنسوں سے بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔

“نہیں تم کہیں مت جانا ۔۔۔ میں چپ ہو جاتی ہوں ۔۔۔ “وہ جلدی سے اپنے آنسوں ہونچنے لگی ۔۔۔۔

عبداالباسط نے سامنے رکھے جگ سے پانی گلاس

یں ڈال کر اسے تھما دیا ۔۔۔ پانی اس نے سسکیاں لیتے ہوئے پیا تھا ۔۔۔۔

” اب بتائیں کیا ہوا ہے آرء “

“کیا بتاؤں تمہیں یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ برباد ہو چکی ہوں ۔۔۔۔ ” آرء نے ہچکیوں سے کہا

“کیا بات ہے آرء کچھ ہوا ہے کیا “

“کچھ نیا تو نہیں تھا لیکن ۔۔۔۔ بہت برا ہوا ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔ تم ٹھیک کہتے تھے دلدل ہے ۔۔۔ دھنس جاؤں گی ۔۔۔ بہت بری دنیا کے وہ عبداالباسط ۔۔۔۔ اندھیر نگری ہے وہ ۔۔۔۔ ” آرء کے چہرا خوفزدہ سا ہوا تھا ۔۔۔

“آپ ۔۔۔۔ آرء آپ ۔۔۔ اس ڈاریکٹر کے ساتھ گئیں تھیں کیا ؟ “

“ہاں ۔۔۔ “۔”کیوں گئیں تھیں آپ وہاں ۔۔۔ “

“تم بتاؤں میں کیا کرتی ۔۔۔ انکار کرتی تب بھی وہاں جاتی جہان بیگم کی مار کھا کر ۔۔۔ تم بتاؤں میں کیا کرتی ۔۔۔

مجھے یہاں سے لے جاؤں عبد الباسط ۔۔۔ پھر جیسا تم کہوں گئے ویسا کر لوں گی ۔۔۔ پلٹ کر دیکھوں گی بھی نہیں اس زندگی کو ” آرء اسکے دونوں بازو پکڑ کر بولی

” کاش کے میرے بس میں ہوتا ۔۔۔ پیسوں کا انتظام نہیں ہو پایا مجھ سے۔۔۔ بہنوں کی شادی تھی ۔۔۔ ” عبد الباسط اپنی جگہ مجبور تھا وہ اپنی جگہ ۔۔۔۔

” میں نے اماں کو انکار ہی کیا تھا عبداالباسط ۔۔۔ کہ مجھے اس خبیث ڈاریکٹر کے ساتھ نہیں جانا ۔۔۔ لیکن اماں نے زبردستی بھیج دیا ۔۔۔ لیکن میں نے اسکی باتیں ماننے سے انکار کر دیا ۔۔ پتہ ہے اس نے کیا کیا ہے ۔۔۔ مجھے نشے کے ٹیکے لگاتا رہا ہے ۔۔۔ اس کے بعد ۔۔۔ اسکے بعد تو میں بتا نہیں سکتی تمہیں ۔۔۔ ” وہ بے بسی سے روئی تھی

“مجھے سننا بھی نہیں ہے ۔۔۔ بس یہ بتادیں کہ نام کیا ہے اس کا ” عبد الباسط کی آنکھیں سرخ ہوئیں تھیں

“علی ہمزہ ٫ ” آرء نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔

عبداالباسط اٹھ کر وہاں سے چلا گیا آرء اسے پکارتی رہ گئ

*****…..

حیا بھاگتی ہوئی ہال نما کمرے میں داخل ہوئی جہاں اس وقت صرف ارتضی موجود تھا ۔۔۔وہ سیدھی آکر ارتضی کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔ یک دم تو وہ بوکھلا سا گیا تھا ۔۔ لیکن وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔

اسکا یونیفارم بازوں سے پھٹا ہوا تھا ۔۔۔

“حیا آر یو آل رائیڈ ؟ ارتضی سمجھ نہیں پارہا تھا کہ ہوا کیا ہے اس نے خود سے حیا کو پیچھے کیا۔۔۔ حیا کے ہونٹ کے قریب زخم کا نشان تھا بکھرے بال چہرے پر انگلیوں کے نشان گلے اور بازوں پر ناخنوں کی خرونچ۔۔۔

“سر ۔۔۔ سر ” بے تحاشہ روتے ہوئے وہ یہی کہہ پائی تھی کے فلش لائٹ سے انکی کئ تصویریں کھنچ چکی تھیں ۔۔۔۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے پیچھے ہٹے تھے ۔۔۔

نا جانے کہاں سے چند لڑکے اس خالی کلاس روم میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔ ایک ہاتھ میں کیمرہ تھا دوسرے ہاتھ میں مائیک دو لڑکے اور انکے ساتھ تھے جیسے پہلے سے تیاری کر کے آئے ہوں

” یہ دیکھیں ناظرین یہ ہے ان ٹیچرز کا اصل روپ جو لڑکیوں کو کے ساتھ جنسی ذیادتی کرتے ہیں ۔۔۔ اپنی ہواس کا نشانہ بناتے ہیں ۔۔ انہیں آج ہم نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے ۔۔۔ ” ایک لڑکا مائیک پر کمرے کے سامنے یہ سب بول رہا تھا ارتضی کے پیروں سے زمین کھنچی تھی ۔۔۔

“کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے “ارتضی نے آگے بڑھ کر اس لڑکے کا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔ اور جھنجھوڑنے لگا لیکن آن کے آن ہی وہاں اسٹوڈنٹ اور ٹیچرز اکھٹے ہونے لگے ۔۔کچھ ہی دیر میں مجمع سا لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔

“یہ ویڈو انٹر نیٹ پر براہ راست دیکھائی جا رہی ہے اس وقت سب لوگ یہ دیکھ رہے ہیں ٹی وی چینلز پر انٹرنیٹ موبائل سوشل میڈیا پر آپ کا گھناؤنا روپ سامنے آ چکا ہے مسٹر ۔۔۔ استاد کے حلیے میں چھپے ہوس کے ایک اور پجاری نے ایک معصوم کی عزت کو نوچ کر تار تار کر دیا ہے ۔۔۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ناظرین ۔۔۔ “وہ لڑکا بولنے کا ماہر تھا ارتضی نے آج سے پہلے اس لڑکے کو کبھی دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسکے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔ حیا بے تحاشہ روئے جا رہی تھی سب اسٹوڈنٹ میں چہ میگوئیاں شروع ہو چکیں تھیں ۔۔۔ پورا کالج جیسے اس ہال نما کمرے میں گھسنے لگا تھا ۔۔۔ وہاج اڑے ہوئے رنگ کے ساتھ بھاگتا ہوا ارتضی کے پاس پہنچا تھا

“ارتضی یہ سب ؟

“میں نہیں جانتا وہاج خدا کی قسم میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ تم ۔۔۔ تم حیا سے پوچھ لو ۔۔۔ یہ خود ابھی میرے پاس آئی تھی ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم یہ سب کیسے ؟ ارتضی بری طرح بوکھلایا ہوا تھا ۔۔۔

وہاج حیا کے پاس گیا ۔۔۔ اور بھی بہت سی فی میل ٹیچرز حیا کے پاس پہنچ گئیں تھیں ۔۔۔ وہ بے تحاشہ روئے جا رہی تھی ۔۔۔

“حیا کس نے کیا یہ سب ۔۔۔ ؟ ” سب کے لبوں پر ایک ہی سوال تھا ۔۔۔ وہ لڑکا جو براہ راست ویڈیو بنا رہا تھا وہ بھی حیا کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔

” دیکھیے آپ گھبرائے مت بتائیے جس نے آپ کے ساتھ یہ ذیادتی کی ہے آپ اس کا نام بتائیے ہمہیں آپ کو انصاف ضرور ملے گا ” حیا نے ارتضی کی جانب دیکھ کر شہادت کی انگلی سے اسکی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

“سر نے ” ارتضی کو لگا کسی نے موت کی سزا سنا دی ہو ۔۔۔ وہ حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

******…….

جازم دو دن بعد پھر وہاں موجود تھا ۔۔۔ نور جہاں اس خطبہ لڑکے سے پریشان ہوئی تھی ۔۔۔ مار کھا کر بھی وہ ہٹنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔ اور ناہی اسکی بات سننے اور ماننے کو تیار تھا ۔۔۔۔

“تو پھر ا گیا “

“مجھے تو آنا کی تھا ۔۔ کہا تو تھا آپ سے کہ آپ کو دیکھے بنا چین نہیں آتا “

” دیکھ میرا صبر نا آجما (آزما) بیت بری عورت ہوں میں ” وہ غصے سے انگلی اٹھا کر بولی

” اہم ہم ۔۔۔۔۔ بہت اچھی ہیں آپ ۔۔۔۔ آج افس سے سیدھا آپکے پاس آیا ہوں گھر بھی نہیں گیا ۔۔۔ اب جلدی سے چائے پلا دیں تو میں واپس جاؤں ۔۔۔ “

ارے ارے ۔۔ چھورے نور جہاں کا کوٹھا نا ہو گیا چائے کا ڈھابہ ہو گیا ۔۔۔ کوئی چائے وائے ناہی ہے نکل یہاں سے ۔۔۔ ” نور جہاں نے سخت تیوروں ستچاڈے ڈانٹا لیکن وہ اسکے تر پر ہی گاؤں تکیہ سیدھا کر کے لیٹ گیا

” چائے تو آپ کے ہاتھ کی پی کر جاؤں گا ۔۔۔ ورنہ یہی۔ لیٹا ہوں میں بلائے اپنے کامے کو ہمت ہے تو اٹھا باہر پھینکے مجھے ” نورجہاں اسکی ڈھٹائی سے تنگ آنے لگی تھی

“آری اوہ سدا بہار جا جا کر ایک کپ چائے بنا کر لا “نور جہاں نے ناگواری سے جازم کو دیکھ کر سدا بہار کو ہانک لگائی

” آپ کے ہاتھ کی پی کر جاؤں گا ۔۔۔۔ کسی اور نے بنائی تو سیدھا کپ زمین پر پٹخ دوں گا “

“ارے کوئی بد معاش ہے تو”

“نہیں بہت شریف انسان ہوں ۔۔۔ لیکن غصے اور ضد کا بہت برا ہوں ۔۔۔ ۔۔۔ غصہ آئے تو کچھ بھی کر گزرتا ہوں ۔۔۔ “جازم نے متوازن لہجے میں کہا

” جانے کس ڈھیٹ کی اولاد ہے تو کم بخت ٹلنے کو تیار نہیں ہے “نور جہاں خود تخت سے اٹھ کر کھڑی ہوتے ہوئے بولیں پتہ تھا کہ چائے بھی اسی کے ہاتھ کی لیے گا

“ایسے تو نا کہیں باپ تو بہت شریف ہے میرا ۔۔۔ ہاں ماں بہت نخریلی ہے ۔۔۔ غصے کی بھی تیز ہے شاید اسی پر چلا گیا ہوں ” جازم نے مسکرا کر کہا نور جہاں گھورتے ہوئے وہاں سے چلی گئ