Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 17

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 17

Kya Karo Dard Nai Hota by Umme Hani

شمس لاہور کی مارکیٹ سے نکل رہا تھا جب سامنے ایک گاڑی آ کر رکی تھی ۔۔۔ بلکہ عین اس کے سامنے گاڑی خراب ہوئی تھی ۔۔۔ نیچے اترنے والا شخص خاصا امیر ترین لگ رہا تھا ۔۔ وہ گاڑی سے نیچے اترا گاڑی کا بونٹ کھول کر دیکھنے لگا ۔۔۔ لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آیا پھر شمس کو اپنے پاس بلا کر پوچھنے لگا کہ وہاں کوئی قریب میں مکینک ہے ۔۔۔ شمس نے کہا کہ وہ خود ایک مکینک ہے ۔۔ اسکی گاڑی شمس نے منٹوں ٹھیک کر دی تھی ۔۔۔ لیکن اس شخص کے پاس کریڈ کارڈ تھا کیش نہیں اس نے اپنا کارڈ دیا اور کہا پیسے اس کے آفس سے لے لے اگلے روز جب شمس اس شخص کے آفس پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ غیر خلاقی ویڈیو بنانے کا کام کرتا ہے ۔۔۔ نا صرف ویڈیوز بلکہ لڑکیوں کی خریدو فروخت بھی کرتا ہے جب وہ اسکے آفس میں داخل ہوا تھا تب بھی اسی قسم کی گفتگوں فون پر کر رہا تھا بظاہر وہ ماڈلنگ اور اشتہارات دینے کے لئے ویڈیوز بناتا تھا ۔۔۔ لیکن اندر کچھ اور ناجائز کام تھے شمس تو پیسے لیکر واپس آ گیا لیکن اس کاکارڈ واپس کرنا بھول گیا ۔۔۔ جب منی کے مرنے کا پتہ چلا تو پاگل سا ہو گیا ثوبیہ سے ایسی نفرت ہوئی۔۔۔ بدلے کی ایسی آگ لگی کے وہ شخص ذہن میں آیا اس لئے ثوبیہ کو ہوٹل میں چھوڑ کر اسی کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔ اس سے کہا اسکے پاس ایک لڑکی ہے بے سہارا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔۔وہ اسے فروخت کرنا چاہتا ہے ۔۔۔ وہ لوگ پہلے ہی اسی ہی تلاش میں لگے رہتے ہیں اس لئے مان گئے ۔۔۔۔پیسے لیکر شمس اپنے گاؤں ہی گیا تھا ۔۔۔ لیکن گھر کے دروزہ کھلا ہوا تھا پورا گھر مٹی سے اڑا پڑا تھا ۔۔۔۔ ویرانی کا بسیرا تھا پورا گھر خالی تھا منی کا کمرہ کھولتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔۔۔ ماں بھی گھر پر کہیں نظر نہیں آئی ۔۔۔ چند محلے والوں سے پوچھا تو انہوں نے شمس کو ناگواری اسے دیکھ کر رخ بدل لیا۔۔۔ بد نام تو وہ بھی ہو چکا تھا ۔۔۔ پھر کسی سے پتہ چلا کہ منی کی قبر پر ہی اسکی ماں نظر آتی ہے یا پھر سڑکوں پر ۔۔۔

جب وہ قبرستان میں گیا تو ماں پھٹے کپڑوں میں منی کی قبر پر بیٹھی رو رہی تھی

” منی اٹھ نا منی ۔۔ دیکھ تیری ماں بھی برباد ہو گئ منی ۔۔۔ ” شمس بھاگ کر ماں کے پاس پہنچا تھا

ماں کے ساتھ لگ کر رونے لگا لیکن انہوں اسے دور دھکیلا تھا

” دفع ہو جا یہاں نکل جا ۔۔۔ شمس ۔۔۔۔ مر گیا تو میرے لئے ” انکی آنکھوں میں نفرت ہی نفرت تھی

“امی منی کو کیا ہو گیا ۔۔۔ ۔میں چھوڑو گا نہیں کمالے کو۔۔ اسکے ٹکڑے کر دوں گا “وہ اشتعال سے روتے ہوئے بولا

“تو کرے گا اس کے ٹکڑے ؟۔۔۔ تو ۔۔۔ آ تھو ” اس کی ماں نے بیٹے کے منہ پر تھوکا تھا وہ ششدد سا رہ گیا تھا اپنے ماں کے رویے پر

” اسکی بہن کو لیکر گیا تھا تو ۔۔۔۔ تو نے بھی وہی کیا ہو گا جو اس نے کیا ۔۔۔۔ محبت کی تھی تو نے اس لڑکی سے ؟۔۔۔ یہ تھی تیری محبت؟ ۔۔۔ جو نا اسے عزت دے سکی نا تجھے ۔۔۔۔ تجھے ثوبیہ اچھی لگتی تھی تو مجھ سے کہتا ایک بار کہہ کر دیکھتا میں پیروں میں گر کر بھی تیرا رشتہ مانگ لیتی ۔۔۔ لیکن نہیں تو نے جگ رسوائی کر ڈالی ۔۔۔ اب کہاں چھوڑ آیا ہے اسے تو ۔۔۔ ” اسکی غصے سے اس کا گریبان پکڑے اس سے پوچھنے لگی

” بھاڑ میں جائے ثوبیہ ۔۔۔۔ اور اسکی محبت ۔۔۔ میری بہن میری منی کو برباد کر دیا اس ثور کے بچے کمالے نے ” شمس نے جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑا کر کہا

” اس نے نہیں شمس تیری ہوس نے ۔۔۔۔ تو نے غلط نگاہ ڈالی تھی اس کی بہن پر ۔۔۔۔ تو نے اسے سنہرے خواب دیکھائے ہوں گئے ۔۔۔ جبھی وہ تیرے ساتھ گئ ۔۔۔۔ تجھے اسوقت منی کا خیال نہیں آیا تو نے یہ کیسے سوچ لیا کہ تو کمالے کی بہن کو لے جائے گا تو وہ تیری بہن کو چھوڑ دے گا ۔۔۔۔ اب تیری غیرت جاگ گئ ۔۔۔

کہاں اب وہ لڑکی جس کی خاطر تو نے اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑا “

” چھوڑ دیا میں نے اسے طلاق دے دی۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ تو میں وہ کر کے آیا ہوں کے روح کانپ جائے گی جب باپ بیٹے کو پتہ چلے گا “وہ طیش اور اشتعال میں بول رہا تھا

” تو پھر اسے برباد کر آ رہا ہے شمس۔۔۔۔؟ تجھے منی کاسن کر خوف نہیں آیا تھا کہ تیرے ظلم کا حساب پہلے میری معصوم بچی نے دیا اور کل رات میں نے ۔۔۔ “

” یہ سن کر شمس کی حالت غیر ہوئی تھی ۔۔۔

“ہاں تو کر ظلم اور ذیادتی ۔۔۔ تیری ماں ہے نا تیری ہوس پر اپنے آپ کو پیش کرنے کے لئے ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بے بسی سے بولی شمس کو کسی ظلمت کی کھائی میں گر گیا ہو

” تو اسکا سودا کر کے آیا ہے کسی سے اور دیکھ رات کو تیری ماں بے قیمت ہو گی اسی قبرستان میں ۔۔۔ “شمس کنگ سا رہ گیا

“تجھے بیٹا کہتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے شمس ۔۔۔ کاش تو مر جاتا ۔۔۔ کاش تو مر جائے شمس ۔۔۔۔

ایسا ہر بیٹا اللہ کرے مر جائے جو یوں عزت کا جنازہ نکالتے ہیں ۔۔۔۔ اب تجھے کوئی نہیں بچا سکتا شمس۔۔۔ کوئی نہیں بچا جو تیرے گناہ کا خمیازہ بھگت سکے ۔۔۔ بس اب تو ہے ۔۔۔ اس لئے اپنی خیر منا ” یہ کہہ وہ تیزی سے قبرستان سے باہر بھاگنے لگیں۔ شمس انکے پیچھے بھاگا لیکن سامنے مین روڈ پر چلتی ٹریفک کے سامنے آ کر اسکی والدہ اپنی جان۔ دے چکی تھیں ۔۔۔۔

******……

رات کو تین بجے عبداالباسط کا دروازہ دھڑدھڑایا تھا ۔۔۔ عبداالباسط کے ساتھ آرء کی بھی آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔

” اس وقت کون ہے عبداالباسط”

“پتہ نہیں میں دیکھتا ہوں ” عبد الباسط نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ان کے مالک کا ملازم تھا۔۔۔

” مالک کی بیوی کی طعبت اچانک بہت خراب ہو گی تھی ۔۔ وہ مالک انہیں شہر کے ہسپتال میں لیکر گئے ہیں انکی بیٹی چھوٹی ہے ۔۔ اور گھر پر کوئی زنانہ ملازمہ بھی نہیں ہے ۔۔۔ تم اپنی بیوی کے ساتھ اندر انکی بیٹی کا کچھ دیر خیال رکھ لو صبح تک وہ لوٹ آئیں گئے ” ملازم نے عبداالباسط سے ملتجی ہو کر کہا

“اچھا ٹھیک ہے تم جاؤں ۔میں آتا ہوں ” عبداالباسط نے اسے بھیج دیا آرء بھی سب سن چکی تھی ۔۔۔ اس لئے وہ دونوں بنگلے کے اندر داخل ہو گئے ۔۔۔ وہی ملازم انہیں کمرے تک لے گیا ۔۔ کمرے میں دو سالہ بچی سو رہی تھی ۔۔ آرء اور عبداالباسط سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گئے ۔۔۔

” اتنا بڑا محل ہے نا تمہارے مالک کا ” آرء وہ بنگلہ اور اسکی آرئش دیکھ کر تعریف کیے بنا نا رہ سکی

” ہاں خوبصورت تو بہت ہے ۔۔۔ ابھی تو اور بھی بنوا رہا ہے “

” سب پیسے کا کھیل ہے عبداالباسط ” آرء نے کہا

” آرء تم بیٹھوں میں ذرا ملازم کو کہتا ہوں پانی لا دے بہت پیاس لگ رہی ہے ۔۔۔ “

“ہاں ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔” عبداالباسط کمرے سے نکل گیا ۔۔۔ لیکن ملازم نظر نہیں آیا تھا ۔۔۔وہ اسے بلانے بنگلے سے نکل کر سامنے چوکیدار کے پاس جانے لگا اکثر ملازمین وہیں بیٹھ جاتے تھے ۔۔۔ اسی وقت مالک کا چھوٹا بھائی فل نشے میں اپنے کمرے سے نکلا تھا ساتھ مہ جبینہ بھی تھی ۔۔۔۔ اس شخص نے جیب سے کئ نوٹ نکال کر اسے دیئے تھے پھر کہا کہ وہ باہر چلی جائے ۔۔۔ ڈرائیور اسے چھوڑ آئے گا ۔۔۔ وہ لڑکی پیسے لیکر چلی گئ اپنے کمرے میں جاتے ہوئے اسکی نظر سامنے آدھ کھلے دروازے کے اندر پڑی صوفے پر بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر اس کا نشہ ٹوٹا تھا ۔۔۔

” جہاں آراء ۔۔۔۔ اس وقت یہاں “وہ کمرے کے اندر داخل ہوا آرء جو نیند کی خماری میں تھی صوفے پر آنکھیں بند کیے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔ وہ نشے سے چور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا

” جہاں ارء” آرء نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سیدھی ہو کر بیٹھ گئ وہ شخص کئ بار اسکے کوٹھے پر آچکا تھا ۔۔۔ اسکے ساتھ بھی کئ راتیں بتائیں تھیں آرء نے جلدی سے چادر سے اپنا چہرہ چھپایا اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔ اس سے پہلے کے کمرے سے نکلتی اس شخص نے اس ک ہاتھ پکڑ لیا

” تم ۔۔۔ تم جہاں آراء ہو نا ؟” وہ نشے میں تھا اس لئے کچھ بے یقین سا ہوا تھا

” ناہی ۔۔ ہاتھ چھوڑیں میرا ” آرء اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی اسی اثناء میں عبداالباسط اور وہ ملازم اندر داخل ہوئے ۔۔۔ ملازم کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں پانی رکھا تھا ۔۔۔ عبد الباسط نے جلدی اس شخص کے ہاتھ سے آرء کا ہاتھ چھڑایا

“یہ کیا کر رہے ہیں آپ میری بیوی ہے یہ ” آرء عبداالباسط کے پیچھے چھپ گئ چہرا ابھی بھی چادر سے چھپا ہو تھا

” بیوی ۔۔۔۔۔ او ایم سوری میں سمجھا کوئی اور ہے “

وہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔

“عبداالباسط مجھے یہاں ناہی رکنا چلو یہاں سے ” آری بری طرح گھبرائی تھی

“ہاں چلو “عبداالباسط کو بھی برا لگا تھا

” لیکن میں مالک کو کیا جواب دوں گا ” ملازم نے عبداالباسط سے کہا

” مالک سے بات میں خود کر لوں گا ” عبداالباسط غصے۔ یہ کہہ کر آرء کو لیکر اپنے کواٹر میں لے گیا ۔۔۔

آرء رو رہی تھی

” آرء کیا بدتمیزی کی ہے اس نے آپ کے ساتھ بتائیں

مجھے ۔۔ ابھی جا کر منہ توڑو گا اس کا ” وہ غصے سے بولا تھا چہرہ۔ بھی غصے سے لال ہوا تھا

“ناہی عبداالباسط۔۔۔ اس نے کچھ ناہی کہا ۔۔۔ بس وہ پہچان گیا ہے مجھے ” آرء نے عبداالباسط کا ہاتھ پکڑا تھا کہیں واقع اسے مارنے نا چلا جائے

” کیا ۔مطلب ۔۔۔ “

“گاہک رہ چکا ہے میرا ۔۔۔ “یہ کہہ کر وہ رونے لگی تھی عبداالباسط چپ تھا ۔۔ چاہ کر کرید کر اس کا ماضی اس سے مٹا نہیں سکتا تھا ۔۔۔

اماں ٹھیک کہتی ہے عبداالباسط۔۔۔ ایک بار جو دھندے پر لگ جائے پھر وہ وہیں کی رہ جاتی ہے ۔۔ اور کہیں کی ناہی رہتی ۔۔۔

“کل سب تجھ سے سوال پوچھیں گئے کیا کہوں گئے سب کو ” آرء نے روتے ہوئے پوچھا

“کہہ دوں گا کہ بیوی ہے میری ۔۔۔ جب مجھے کوئی مسلہ نہیں تو باقیوں کو کیوں ہے ۔۔۔ ” عبداالباسط نے صاف گوئی سے کہا

” ناہی عبداالباسط ۔۔۔ میں تجھے مصبیت میں ناہی ڈال سکتی ۔۔۔ تجھے ناہی پتہ کیا کیا عذاب جھیلا ہے میں نے “

” آرء کیا بات ہے کیوں ڈر رہیں ہیں ۔۔۔ آپ مجھے اگر کمزور سمجھ رہیں ہیں۔ تو غلط سمجھ رہیں۔ ہیں ۔۔۔ میں جواب دینا جانتا ہوں ۔۔۔ سب کے سامنے ڈٹ کر آپ کی حفاظت بھی کر لوں گا یہاں تک کے اپنے ابا کے سامنے بھی ۔۔ لیکن اگر آپ کمزور پڑ گئیں پھر تو ضرور بے بس ہو جاؤں گا ۔۔۔ “

” تم ججبات میں بول رہے ہو ۔۔۔ حقیقت میں نے دیکھی ہے ایسی اذیت ناک کہ اگر تجھے بتا دوں تو سن ناہی پاؤں گئے ” مسلسل آرء کے آنسو۔ بہہ رہے تھے

“بتائیں مجھے ۔۔۔ ایسی کیا بات ہے جو میں سن نہیں سکتا

” تجھے یاد ہے جب تو چائے پر ناہی آیا تھا ۔۔۔

“ہاں “

” اماں نے مجھے ساڑھی پہنے کو کہا اچھے سے تیار ہونے کو بھی کہا ۔۔۔ کیونکہ میرا گاہک ایک سرکاری آفسر تھا اسکی گاڑی آئی تھی مجھے لینے ۔۔۔ بڑی عمر کا تھا وہ۔۔پر تھا پیارا جب میں اسے کمرے میں گئ تو کافی دیر سگریٹ پیتا ہوا ۔مجھے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ میرے چہرے کے ایک ایک نقش کی تعریف بھی بہت کی ۔۔۔۔ مجھ سے خوش بھی بہت ہوا پیسے بھی دوگنے دیے ۔۔۔ پھر کہنے لگا تمہارا نشہ چڑھ گیا ہے مجھ پر ۔۔۔۔ جب بھی میں لاہور آیا تجھے ہی بلاؤں گا ۔۔۔۔ ” واپسی پر مجھے اماں لینے ہوٹل پہنچی تھی ۔۔۔ لیکن کمرے میں آئی تو ۔۔۔ اس شخص دیکھ کر پتھر کی ہو گئ ۔۔۔ وہ شخص ۔۔۔ کبھی میری ماں کا گاہک رہ چکا تھا ہنس کر کہنے لگا

” جہان تم؟ ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم سے بھی ملاقات ہو جائے گی ۔۔۔ آؤں ” اس نے اماں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا لیکن وہ ناہی بیٹھی بس پتھر بنی اسے دیکھتی رہی لیکن وہ ضرور بولتارہا

” تیری بیٹی تو تجھ سے بھی زیادہ حسین ہے جہان میں نے اتنی حسین لڑکی پہلے ناہی دیکھی ۔۔۔ جادو سا کر دیا اس نے ایک ہی رات میں ۔۔۔ جب بھی میں لاہور آؤں اسی کو بھیجنا میرے پاس ۔۔۔ تین گنا رقم دوں گا ۔۔۔ ” اپنی آنکھ بڑی کمینگی سے اس نے مار کر اماں سے کہا مجھے بھی بڑی تیز نظر سے دیکھا

” پتہ ہوتا کہ تو ہے آفسر تو آرء کو کبھی ناہی بھیجتی تیرے پاس “اماں رنجیدگی سے بولی لیکن اماں کی بات پر جتنا وہ آفسر حیران ہوا اتنی میں بھی تھی وہ کہنے

” کاہے ناہی بھیجوں گی اسے ۔۔ “

“پتہ ہے اماں نے کیا کہا “آرء نے عبداالباسط کی طرف دیکھا ایک کرب تھا آرء کے چہرے پر ایک اذیت

“کیا “

” اماں نے کہا کہ ۔۔۔ یہ بیٹی ہے تیری ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر پہلے تو آرء خوب ہنسی ۔۔۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر روئی ۔۔۔۔ عبداالباسط ایسے تھا جیسے سن کر پتھر کا ہو گیا ہو ۔۔۔۔

“پتہ ہے عبداالباسط ۔۔۔۔ اس شخص کی بولتی بند ہو گئ ۔۔۔۔ پھر غصے سے بولا کہ جہاں تو جھوٹ کہہ رہی ہے ۔۔۔ اماں نے قسم کھا لی ۔۔۔ وہ ایسے تھا کہ جیسے کیا کر بیٹھے گا خود کو ۔۔۔ مجھے دوبارہ دیکھ ناہی پایا ۔۔۔ تکلیف تو مجھے بہت ہوئی عبداالباسط ۔۔۔۔۔ اپنے باپ سے ایسی ملاقات تو کبھی ناہی سوچیں تھی آرء نے ۔۔۔۔ اس سے مجھے لگا کہ طوائف صرف عورت ہے دوسرا کوئی رشتہ ناہی ہوتا اس کا اور اس کے پاس آنے والا صرف مرد ۔۔۔ جنگل کے جانور دیکھیں ہیں تو نے ۔۔۔ ایسی جندگی ہے ہماری ۔۔۔ جیسے ان کے اندر کوئی ماں بہن بیٹی ناہی ہوئی صرف جنس ہوتی ہے ایسے ہی ہمارے پاس بھی باپ بھائی بیٹا ناہی ہوتا بس جنس ہوتی ہے ۔۔۔۔ دل تو میرا بہت پھٹا تھا۔۔۔۔ دل چاہا سامنے شخص کا گریبان ہی پھاڑ ڈالوں ۔۔۔اماں بھی روئی تھی مجھ سے نظریں ناہی ملا رہی تھی روتے ہوئے گھر پہنچی تھی ۔۔۔۔ وہ آفسر پولیس والا تھا ۔۔۔۔مجھے لگا بھول بھال جائے گا لیکن وہ سالا حرامی غیرت مند نکلا اگلے دن اخبار میں خبر آئی کے اس نے ہوٹل کی کھڑی سے کود کر جان دیدی ۔۔۔۔ “اماں یہ سن کر بڑا روئی تھی پر میں بہت خوش تھی کہ اچھا ہوا مر گیا کمبخت ۔۔۔اگر وہ مجھے دوبارہ بلا لیتا تو میں مر جاتی ۔۔۔۔

یہ تو میرے ساتھ ہوا ہے ۔۔۔پتہ ناہی مجھ جیسی کتنیوں کے ساتھ ہوا ہو گا ۔۔۔۔۔ جو عذاب میں سہہ رہی ہوں تو ناہی سہہ سکتا ۔۔۔ اور اگر تو خود سے پیچھے ہٹا تو میرا محبت پر اعتبار اٹھ جائے گا بہتر ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاوں ۔۔ “

” بس اتنا ہی بھروسہ ہے ۔۔۔ آرء میں آپکی تکلیف کو سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے یہ سب کوٹھے تک محدود ہے ۔۔۔۔ یا ہوس کا نشانہ صرف عورت بنتی ہے ۔۔۔ نہیں کم عمر لڑکے بھی بنتے ہیں اور جانتی ہیں کہاں ” عبد الباسط یو کہہ رہا تھا جیسے آرء کی اذت خود پر بیتی ہو

“کہاں “

“مدارس میں ” آرء کی حیرت کی آنکھیں پھٹی تھیں ۔۔۔۔

دن رات حفظ کرتے بچے جو گاؤں قصبوں سے آکر مدرسے میں ہی رہائش رکھتے ہیں ۔۔۔ وہ کئ مولویوں کی ہوس کا نشانہ بنتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن انہیں ڈرا دھمکا کر چپ کرا دیا جاتا ہے اس طرح کے واقعات ذیادہ تر منظر عام پر نہیں آتے اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو ہمارے ملک میں مبلغ اور مدرسے کے اساتذہ بہے بااثر ہیں اور دوسرا جنسی استحصال پر بات کرنا شجرے ممنوعہ سمجھا جاتا ہے ۔۔۔ کئ بار قرآن پڑھنے آنے والی بچیوں کے ساتھ بد تمیزی کی جاتی ہے ۔۔۔ اور گھر والے سمجھتے ہیں مولوی صاحب ہیں دین دار ہیں ۔۔اس لئے ۔ بچے محفوظ ہیں بچے صرف تب تک محفوظ ہیں جب تک نظر کے سامنے ہیں ۔۔۔ “

” ناہی عبداالباسط میں ناہی مانتی اللہ کا کلام پڑھنے پڑھانے والے ایسا ناہی کر سکتے ۔۔۔ “آرء بے یقین تھی

” میرے ساتھ ہوا ہے آرء “یہ سن کر آرء ششدد سی رہ گئ تھی ۔۔۔ عبداالباسط کے ضبط سے ہونٹ کپکپائے تھے جیسے کسی اذیت سے گزر رہا ہو

” پندرہ پارے میں نے آرام سے حفظ کیے ۔۔۔ لیکن سولہ نہیں کر پایا جانتی کیوں ۔۔۔ کیوں کہ ۔۔۔۔ کیوں کہ میرا استاد رات مجھے کمرے میں بلا لیتا تھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔۔۔ تکلیف کے مارے جب میں چیختا تو میرے منہ میں رومال ٹھونس دیتا تا کہ میری آواز کوئی سن نا لے

اس وقت میری عمر اتنی زیادہ نہیں تھی رات گزار کر صبح مجھ سے کہتا تھا کہ کسی کو بتایا تو اتنے ڈنڈے ماروں گا کہ جسم نیلا کر دوں گا ۔۔۔

میں نے بہت دفعہ ابا کو دبے لفظوں سے کہا مجھے مدرسے میں نہیں رہنا ۔۔ پر میری نہیں سنی لیکن پھر نے ایک دن اس مولوی کو اسی کے ڈنڈے سے خوب مارا ۔۔۔ اور شور مچا دیا کہ یہ میرے ساتھ یہ سب کرتا ہے ۔۔۔۔ ابا نےمجھے بہت مارا کہ میں نا پڑھنے کے بہانے سے یہ الزام لگا رہا ہوں ۔۔۔ میں نے ابا کی بہت مار کھائی لیکن مدرسے کا رخ نہیں کیا ابا کو میری بات پر یقین اس وقت آیا جب ایک کم سن بچہ اس مولوی کہ وجہ سے مر گیا پھر شور اٹھا کیس ہوا ۔۔۔ ابا اس وقت میرے سامنے نظریں نہیں اٹھا پائے ۔۔ لیکن اس کے بعد جب بھی میں نے سولہواں پارہ حفظ کرنا چاہا ۔۔۔ میرے سامنے وہ سب آنے لگتا جو میرے ساتھ ہوا ۔۔۔۔ایک اذیت سی آن گھیرتی تھی مجھے ۔۔۔ کئی سال میں مردوں سے بھی گھبراتا رہا ۔۔۔ پھر رو رو کر اپنے پچھلے سپارے پڑھتا۔۔۔۔ اللہ سے دعا کرتا کہ میرا حافظہ بھلا دے جو میرے ساتھ ہو چکا ہے ۔۔۔ لیکن کہاں آسان ہے ایسا کچھ بھولنا اس سے ایک نقصان یہ ہوا کہ میں عمر سے پہلے بڑا ہو گیا ۔۔ میری سوچ بدلنے لگی مجھے اپنی مخالف جنس میں کشش ذیادہ محسوس ہونے لگی لیکن ابا میری شادی کے لئے راضی نہیں ۔۔۔ جب یہ خواہش شدت پکڑتی تو میں وضو کر کے قرآن لیکر بیٹھ جاتا خوب رو رو کر دعا کرتا جب آپ کو پہلی بار دیکھا تو یہ نہیں سوچا کہ طوائف ہو اس دن میرا دوست آپکے کمرے میں گیا تھا اور

میں باہر بیٹھا آپ کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔کہ جواذیت میں نے چند ماہ گزاری آپ اور آپ جیسی خواتین ہر روز برداشت کرتی ہیں ۔۔۔۔ ہمارا غم ایک جیسا تھا آرء۔۔۔۔ اس لئے کئ بار ایک دوسرے کی آنکھوں سے روئے ہیں ہم ۔۔۔۔ میری تکلیف آپکی آنکھوں سے برسی ہے اور آپ کا دکھ میرے سینے پر درد بنکر اٹھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے آپ کی تکلیف سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔۔

آرء چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ پہلی بار عبداالباسط کی بات نے اسے رلایا تھا ۔۔۔۔

*******…….

مری کے ایک مقامی اسکول میں ارتضی کی نوکری لگ گئ تھی ۔۔۔۔ شیو بھی اس نے اپنی اسی لئے بڑھائی تھی تا کہ لوگوں کی پہچان میں نا آ سکے۔۔۔ بس کسی طرح سے اس قصے کے پرانے ہونے کا انتظار تھا تا کہ حیا کو طلاق دے سکے ۔۔۔

دوسری حیا کا بھی یہی حال تھا ۔۔۔

“رومان آج کیا پکا ہے کھانے میں “

“شاہی ڈش” رومان نے ناک چڑھا کر کہا

“شاہی ڈش ۔۔۔ یہ کونسی ڈش ہے ” حیا کو تھوڑی سی خوشی ہوئی کہ کچھ الگ سا بنا ہے

فریج میں رکھی ہے بابا صبح بنا کر گئے تھے کھا لیں “

” اچھا واہ ویسے میں نے یہ نام پہلے کبھی نہیں سنا ۔۔۔۔ کھانے میں کیسی ہوتی ہے یقینا مزے کی ہو گئ نام ہی شاہی ہے تو ڈش بھی ایسی ہی ہو گی ۔۔۔ پلیٹ چمچ لیے وہ فریج کھول کر دیکھنے لگی جہاں آلو کی بھاجی کے علاؤہ اور کچھ نہیں تھا حیا نے اچھی طرح سے فریج چیک کی لیکن کچھ اور نہیں تھا

” رومی کہاں ہے شاہی ڈش ۔۔۔یہان تو صرف یہ سڑے ہوئے آلو نظر آ رہے ہیں “

“یہی تو ہے شاہی ڈش ” رومان نے منہ بسور کر کہا

حیا نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا

” یہ ہے شاہی ڈش ۔۔۔ آلو “

“جی ۔۔۔ ہمارے گھر

میں اس کا یہی نام ہے کیونکہ ہفتے میں دوسے تین بار بن جاتے ہیں “

“میں تو نہیں کھاؤں کرنے دن سے

میں ہوٹلنگ نہیں کی جب سے آئی ہوں تمہارے بابا نے پکوڑے اور دال سبزیوں کے علاؤہ کچھ نہیں بنایا اچھی سزا ہے یہ ” وہ رو دینے کو تھی ۔۔۔

” دل تو میرا بھی نہیں چاہ رہا۔۔۔۔ بابا بس اپنی سہولت دیکھتے ہیں پتہ ہے کہ جلدی صرف آلو کی بھاجی بنے گی ۔۔۔”

٫رومی کچھ ٹرائے کریں “حیا کو بیھٹے بیٹھے کچھ نئ سوجی

“کیا “

“بریانی بناتے ہیں تھوڑی سی صرف ۔میں اور تم کھائیں گئے ” حیا کی بات سن کر رومان خوش ہوا تھا

“ٹھیک ہے چکن فریج میں کے چاول بھی رکھے ہیں اور مصالے بھی ہیں آتی ہے آپ کو بنانی؟ “رومان نے چہک کر پوچھا حیا نے مایوسی سے نفی میں سر ہلایا رومان جوش وخروش بھی ماند پڑ گیا

“چلو جی بن گئ بریانی ۔۔۔ پوچھا تو آپ نے ایسے تھا جیسے بہت بڑی کک ہوں ٫ رومان کی بات حیا کو اچھی نہیں لگی تھی اس لئے اس کے کندھے پر تھپکی لگائی ۔۔۔

“جیسے تمہیں بڑی بنانی آتی ہے ۔۔ جو مجھے طعنے دے رہے ہو ” دونوں کچن سے نکل کر صوفے پر بیٹھ گئے ۔۔

” تم نے کبھی دیکھا ہے اپنے بابا کو بریانی بناتے ہوئے ۔۔ “

“نہیں ۔۔ ہاں یاد آیا میرے پاس بابا کی ایک بک ہے اس میں ترکیبیں لکھی ہیں وہ لا کر دوں ؟”

” ہاں ناں جلدی لاؤں مل کر بناتے ہیں ” حیا خوش ہو گئ تھی ۔۔ رومان ایک پرانی سی کتاب اٹھا لایا تھا جس پر مختلف چیزوں کی ترکیبیں لکھیں ہوئیں تھیں ۔۔ بلا آخر بریانی کی ترکیب بھی انہیں مل ہی گئ تھی دونوں ہی یوں خوش ہوئے جیسے ترکیب پڑھتے ہی بریانی تیار ہو جائے گی کچن میں گھستے ہی حیا نے ایک پرفیشنل کک کی طرح سے ساری چیزیں شلف پر رکھنی شروع کیں ۔۔ لیکن پیاز ٹماٹر اپنے حساب سے موٹے موٹے ہی کاٹے تھے ۔۔۔۔۔ ادرک لہسن رومان نے پیس دیا تھا چکن تو ٹھیک بن گیا تھا بس اس کا پانی خشک نہیں کیا گیا تھا ۔۔ کیوں کہ ترکیب میں لکھا نہیں مصالہ کافی پیتلا سا تھا ۔۔۔ سب سے مشکل مرحلہ چاول کا تھا رومان تو نہانے کا بہانہ کر کے جا چکا تھا ۔۔۔ اور حیا کو لگا کہ چاول تو کوئی مسلہ ہی نہیں ہے چاول ابلنے رکھ اس شدت کی گرمی لگنے لگی تھی کب سے کچن میں کام کر رہی تھی اس لئے ہلکی آنچ کر کے نہانے چلی گئ ۔۔۔ آدھے گھنٹے بعد چاولوں کا ابل ابل کر حلوہ سا بن گیا تھا اب کتاب میں آگے یہ بھی نہیں لکھا تھا کہ چاول کا پانی بھی نکالنا ہے ۔۔۔ پھر چکن ڈال کر دم دینا ہے ۔۔ لکھنے والے کو تو شاید یہ سب پتہ اسلئے اس نے لکھنا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔۔ لیکن بنانے والی بلکل انجان تھی اس لئے پانی سمیت چاول چکن میں ڈالے اور اپنی طرف سے ہلکی آنچ پر دم دے دیا ۔۔۔ خود شلوار قمیض پہنی تھی جو ارتضی لیکر آیا تھا لیکن ڈوپٹے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا رومان کے کمرے میں وہ بال بنانے لگی ۔۔۔۔ رومان بھی نہا کر نکل چکا تھا ۔۔۔

“ممی بن گی بریانی “

“پھر ممی ۔۔ تمہیں شرم نہیں مجھے ممی کہتے ہوئے ۔۔۔اگر اب کہا تو ” حیا نے غصے اسے گھورا

” تو کیا کریں گی “

” تمہیں بتاؤں گی ممی ہوتی کسی ہے ۔۔ بلکہ سوتیلی ماں کیسی ہوتی ہے ۔۔ بہت مارو گی تمہیں جاؤں جا کر سلاد بناو بریانی کے ساتھ بہت مزے کا لگتا ہے “رومان کچن میں چلا گیا حیا بال بنا کر جب تک کچن میں آئی تب تک باہر کا دروازہ کھلا تھا ارتضی روٹیاں لیکر آیا تھا ۔۔۔

“رومی یہ روٹیاں پکڑوں اور کھانا گرم کروں جلدی سے بھوک لگی ہے ۔۔”

“بابا آج ممی نے بریانی بنائی میں تو وہ وہی کھاؤں گا “

رومان کی بات پر برجستہ ارتضی کی نظر حیا پر اٹھی تھی شلوار قمیض پہنے بڑی الگ سی لگی تھی ۔۔۔

” اس نے بریانی بنائی ۔۔ اچھا ۔۔۔ یقین کرنا ویسے مشکل ہے ” ارتضی کی بات پر حیا نے آبرو چڑھائے تھے

” رومی بعض لوگ شاید دوسروں کو صرف بیوقوف کم عقل اور ہٹ حرام ہی سمجھتے ہیں لیکن آج پتہ چل جائے گا انہیں بھی کہ حیا کچھ بھی کر سکتی ہے ۔۔۔ یہاں تک بریانی بھی بنا سکتی ہے ” حیا کے اترارنے پر وہ تاسف سے دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا جب منہ ہاتھ جب باہر ٹیبل پر بیٹھا تو سلاد اور پلٹیں بڑے اچھے سے سجی ہوئیں تھیں سلاد اور رائتہ ٹیبل پر رکھ کر رومان بھی بیٹھ گیا حیا نے جب ڈھکن ہٹا کر دم کھولنا چاہا ۔۔۔ بریانی کی کھچڑی اچھی طرح سے گھل چکی تھی۔۔۔ لیکن بہت پتلی پانی جیسی تھی ۔۔۔ حیا کا جی چاہ زور زور سے رونے لگے ۔۔۔

“ممی جلدی بریانی لیکر آئیں اب انتظار نہیں ہو رہا ۔۔۔ “رومان نے باہر سے ہی ہانک لگائی ۔۔۔ ۔۔ حیا نے ایک باؤل لیا وہ کچھڑی نما شوربہ ڈالا اور باہر لا کر رکھ دیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر رومان کی آنکھیں پھٹی تھیں ۔۔۔ البتہ ارتضی کا قہقہ گونجا

“واہ کیا شاندار بریانی بنانی ہے رومان تمہاری ممی نے ۔۔۔ اس بار بھی ثابت کر دیا کہ وہ حیا ہے ۔۔۔ بیواقوف کم عقل اور ہٹ حرام نہیں ہے بلکہ” کچھ” بھی کر سکتی ہے بریانی کا یہ رنگ روپ میں نے پہلی بار دیکھا ہے ۔۔۔ “ارتضی نے باؤل میں چمچہ ڈال کر بھر کر چائے کی طرح باؤل میں پینٹا حیا روندلی صورت بنا کر وہیں کھڑی تھی ۔۔

” آئیے نا بیگم صاحبہ تشریف رکھیے یہ کونٹینٹل ڈش کی ابتدا اپنے ہاتھوں سے کریں ” ارتضی نے اپنے برابر والی کرسی کھینچ کر حیا کو بیٹھنے کی دعوت دی۔۔ وہ شرمندہ شرمندہ سی بیٹھ گی

رومان کا منہ بنا ہوا تھا ۔۔۔ کب سے بریانی کے خواب دیکھ رہا تھا اور سامنے کچھ عجیب سی چیز آئی تھی ۔۔۔

” رومی بیٹا یہ جو سیدھی سی پلیٹوں میں تمہاری ممی کے ہاتھ بنی ہوئی بریانی نہیں آ سکتی جاؤں کچن سے پیالیاں لیکر آؤں ” رومان نے پیالیاں سامنے رکھ دیں ارتضی نے پوری پیالی بھر کر حیا کے سامنے رکھی تھی ۔۔۔ حیا کا رونے والا چہرہ دیکھ کر رومان نے بھی مروتا اپنی پیالی میں ڈال لی ارتضی اپنے لئے کچھ نہیں ڈالا تھا بلکہ حیا کی پیالی سے ہی چمچ بھر کر حیا سے پوچھا

” ایسی نایاب چیز میں نے تو آج تک نہیں کھائی ۔۔۔۔تم ذرا بتاو اسے کھانا ہے یا پینا ہے ” بڑی معصوم سی شکل بنا کر کر ارتضی نے اس سے پوچھا تھا انداز تمسخر اڑانے والا تھا مگر جواب رومی نے دیا تھا

” کنور سوپی نوڈلز ہیں بابا ۔۔۔ کھاؤں پیوں ۔۔۔کھاوں پیوں ” رومی کاطنز سن وہ رونے لگی تھی اٹھ کر رومان کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔

” یہ بھی اپنے بابا کا چمچہ ہے پورا ۔۔۔ کیسے بدلا ہے پورا دن میرے آگے پیچھے ہوتا ہے اور اب ۔۔۔ اس ۔میں میرا کیا قصور کہ وہ خراب ہو گئ میں نے تو محنت کی تھی ۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔ سب کو بس خراب بنی چیز ہی نظر آتی ہے ۔۔۔ دوسرے کی محنت نظر نہیں آتی ۔۔۔ وہ روتے ہوئے سوچ رہی تھی

باہر ارتضی نے رومان سے کہا

” جاؤں اپنی شاہی ڈش ہی گرم کر کے لاؤں بھوک لگی ہے مجھے ” رومان نے آلو کی بھاجی گرم کر کے ارتصی کے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔

“بابا آپ پلیز کچھ اچھا سا بنا دیا کریں تھوڑا سا انہیں نہیں عادت یہ سب کھانے کی “

” جب میں اور تم کھاسکتے ہیں تو وہ بھی کھا سکتی ہے ۔۔۔

” بابا پلیز کھانا کھا کر۔ بریانی بنا دیں تھوڑی مجھے بھی کھانی ہے ۔۔۔ “

” او کے بنا دیتا ہوں۔۔ کھانا کھا لوں پہلے۔۔۔۔۔ ” ارتضی نے کھانا کھا کر ایک گھنٹے میں بریانی بنا دی تھی۔۔ حیا روتے روتے سو گئ تھی ۔۔۔

رومان بڑی خوشی سے اسکے لئے بریانی کمرے میں لیکر آیا تھا ۔۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسے جگانے لگا

“ممی “

“رومی مجھے تنگ مت کروں جاؤں اپنے بابا کے پاس انکے ہی سگے ہو تم ۔۔۔ “

” بس ایک بار اٹھ کر دیکھیں کیا لایا ہوں آپ کے لئے ۔۔۔ حیا نے روئی روئی آنکھیں کھولیں رومان کے ہاتھ میں بریانی دیکھ رخ بدل گئ

“مجھے نہیں کھانی “

“کیوں بابا کی اتنی منتیں کر کے بنوائی ہے صرف آپ کے لئے “

” تم کھاؤں ۔۔۔ میں تو ہوں ہی بری”

“چھوڑیں نا غصہ آپ نہیں کھائیں گئیں تو

میں بھی نہیں کھاؤں گا ” رومان کی منت پر وہ اٹھ کر بیٹھ گئ بریانی اس نے خفگی سے منہ پھلائے ہی کھائی تھی