Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 22

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 22

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

حیا کے جانے کے بعد رومان چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ پورا دن بس چپ چاپ رہتا تھا موبل پر کارٹون دیکھنا دوسروں سے بات کرنا یہاں تک کہ ارتضی سے بھی بات نہیں کرتا تھا اسکول اس کا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔ لیکن اسکی چپ ضرور ارتضی کر کھلنے لگی تھی

اب بھی وہ خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا کافی دن سے وہ رومان کو نوٹ کر رہا تھا پریشان بھی ہو رہا تھا ایک ہی ایک تو جینے کا آسرا تھا اسی سے گھر گھر لگتا تھا اب وہ چپ اور اداس تھا ۔۔۔

” رومی کھانے بعد کیرم سیٹ کروں آج کیرم کھیلیں گئے ” ارتضی نے اسے چپ چاپ کھاتے ہوئے دیکھ کر کہا

” نو بابا میرا موڈ نہیں ہے ۔۔۔۔ “

“کیوں موڈ نہیں ہے کل سنڈے ہے یار آج ایسا کرتے ہیں کہ مووی دیکھ لیتے ہیں۔۔۔۔ میں بھی بور رہا ہوں “

” آپ دیکھ لیں ۔۔۔ لیکن مجھے نہیں دیکھنی ۔۔۔ ” اس نے بس آدھی روٹی کھا کر ہی باقی کی ہاٹ پاٹ میں ڈال دی تھی

” رومی کھانا ٹھیک سے کیوں نہیں۔ کھا رہے “

” بھوک نہیں ہے تو نہیں کھا رہا اتنے سوال کیوں کر رہیں مجھ سے ۔۔۔ مجھے تو ایسا کوئی حق نہیں کہ آپ سے کچھ پوچھ سکوں ” یہ کہہ کر وہ اٹھ اپنے کمرے ۔میں چلا گیا

” رومی ۔۔۔ رومی بات سنو میری ” ارتضی اسے پکارتا رہ گیا لیکن رومی نے ایک نہیں سنی تھی ۔۔ غصے سے ارتضی نے بھی روٹی واپس ہاٹ پاٹ میں ڈال دی ۔۔۔ کچھ دیر ٹیبل پر بیٹھ کر دونوں کہنیاں ٹیبل پر ٹکا کر ہاتھوں سے اپنی کنپٹیوں دبانے لگا

” پتہ نہیں کہاں ہو گی یہ لڑکی ۔۔۔ بس ایک بار پتہ چل جائے کہ اپنے گھر با حفاظت پہنچ چکی ہے ۔۔۔ ” اندر سے بے چین تو وہ بھی تھا یہ بھی جانتا تھا کہ رومی کی اداسی کی وجہ کون ہے ۔۔۔

اس لئے سب کچھ فریج میں رکھ کر وہ رومی کے کمرے میں آ گیا ۔۔۔ارتضی کو دیکھ کر رومی نے اپنے آنسوں پونچے تھے ۔۔۔۔ ارتضی رومی کے پاس آکر بیٹھ گیا

” رومی کیا بات ہے ہم پہلے ساتھ کھیلتے تھے ۔۔ مووی دیکھتے ہیں ڈھیر ساری باتیں کرتے تھے ہم ایک کمپلیٹ لائف گزار رہے تھے ۔۔۔ اب ایسا کیا ہوا ہے کہ تم پچھلے آٹھ دن سے منہ بنائے پھر رہے ہو

” بابا آپ کو آپکی لائف کمپلیٹ لگتی ہے ؟ ۔۔۔ ایسی ہوتی ہے کمپلیٹ لائف ؟ ۔۔۔ ہماری لائف کمپلیٹ تب تھی جب ممی یہاں تھیں “

” رومی وہ تمہاری ممی نہیں ہے “

” آپ کی بیوی تو ہیں ۔۔۔ پھر کیوں نہیں روکا انہیں بابا

۔۔۔پلیز ممی کو واپس لے آئیں “رومان ملتجی لہجے میں کہتا ہوا رونے لگا تھا

ارتضی نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا

” وہ نہیں آئے گئ رومی۔۔۔۔۔ میں نے تمہاری سگی ممی سے بہت محبت کی ہے ۔۔۔ اتنی کے اسکے ساتھ گزارے دو سالوں کی یادیں میری پوری زندگی کے لئے کافی ہیں ۔۔۔ مجھے ایسی دوبارہ کبھی خواہش نہیں ہوئی کہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کروں لیکن ٹھیک ہے تمہیں ایسا لگتا ہے کسی ایک لڑکی کے آ جانے سے تمہیں ہماری لائف کمپلیٹ لگے گی تو میں کر لیتا ہوں شادی ۔۔۔ لیکن وہ حیا نہیں ہو گی ۔۔۔ ” ارتضی کے آخری جمعلے پر رومان اس سے پیچھے ہٹا تھا آنکھیں اب بھی آنسوں سے لبریز تھیں

‘” اس گھر میں اگر کوئی آپکی بیوی بن کر آئیں گی تو وہ صرف حیا ممی ہوں گی ۔۔۔ آپ انہیں واپس لیکر آئیں بابا ۔۔۔ مجھ سے وعدہ کریں آپ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گئے ۔۔۔ مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔۔ پلیز بابا مجھے ان کے پاس لے جائیں میں انہیں خود منا لوں گا ۔۔۔ آپ نے کیوں انہیں ناراض کیا ۔۔۔ کیوں بابا”وہ پھر سے رونے لگا تھا

اس وقت اسے کچھ بھی سمجھانا بے کار تھا

******……

” آپ چپ کیوں ہیں آغا جی بولیں “

” حیا جو تم چاہتی ہو وہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔ میری بات کو سمجھوں ۔۔۔۔ جو جھوٹ تم نے بولا ہے اسی پر قائم رہو۔۔۔ وہ پروفیسر ہمارا کچھ نہیں بگاڈ سکتا ۔۔۔

” آغا جی آپ سب کچھ جان کر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ایک بے گناہ پر الزام لگا کر اسے پھانسی لگوا دوں ؟

” اسکی نوبت نہیں آئی گی دیکھو کیس ہم پروفیسر پر ہی ڈالیں گئے لیکن پھر معاف کر دیں گئے اس طرح سے اسکی جان بھی بچ جائے گی ۔۔۔ اور میری کھوئی ہوئی عزت بھی مجھے مل جائے گی ۔۔۔ بلکہ اسے یوں معاف کرنے کر میرا پلہ زیادہ بھاری ہوتا ہے ۔۔۔ پھر اب میں سیاست میں بھی و رکھ رہا ہوں اس سے میری شہرت اور بڑھ جائے گی ۔۔۔ “

” میں ایسا کچھ نہیں کروں گی “

” حیا ۔۔۔”

” نو آغا جی۔۔۔۔ میں انکے ساتھ ایسا کچھ نہیں کروں گی “

“تو ٹھیک ہے پڑی رہوں دارالامان میں ۔۔۔ اب گھر تم تب ہی قدم رکھ سکتی ہو جب تم میری بات مانوں گی ۔۔۔ چار دن جب تمہیں دارالامان کی سوکھی روٹیاں کھانی پڑی۔ گئیں تو عقل ٹھکانے آ جائے گی

جب میری ماننے کا فیصلہ کر لو تو فون کر دینا مجھے میں خود لینے آ جاؤں گا “

فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔

حیا بری طرح سے رونے لگی تھی ۔۔۔۔ کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔

رات بھر بھی یہی سوچتی رہے کہ کیا کرے ۔۔ کیسے خود کو اس مصبت سے نجات دلائے جس میں وہ پھنس گئ تھی ۔۔۔۔

“تم جیسی لڑکیوں کا یہ سب گناہ کرنے کے بعد بس ایک ہی ٹھکانہ بچتا ہے اور وہ ہے بازار حسن ” ارتضی کی کہی ہوئی بات اس کے کانوں میں ۔ گونجنے لگی ۔۔۔۔

پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئ تب تک سب ہی اپنے ماموں میں مصروف تھیں بس وہ عورتیں آپ میں محور گفتگوں تھے

” تجھے پتہ ہے وہ لڑکی جو تین ماہ پہلے یہاں آئی تھی ۔۔۔۔ ” ایک عورت نے دوسری سے کہا

“ہاں وہ جس کے ساتھ ریپ ہوا تھا اور وہ ہد سے ہو گئ تھی “

“ہاں ہاں وہی پہلے تو اس نے یہاں میڈیم کی بڑی منتیں کیں کہ اس کا آبوشن کروا دیں لیکن میڈیم نہیں مانی ۔۔۔ پھر یہاں سے چلی گئ تھی ۔۔۔

لیکن کل میں میڈیم کے کمرے کے پاس سے گزر رہی تھی تو میڈیم کسی کوبرا رہیں تھیں کہ وہ اب بازار حسن نظر آتی ہے ۔۔۔

” اچھا ۔۔۔ اور اس کا بچہ ؟ ” اس عورت نے منہ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا

” وہ تو کب کا ختم کروا دیا ہو گا ان لوگوں نے وہ بھلا کہاں ایسے جھمیلے پالتے ہیں ” ان دونوں خواتین کی باتیں حیا کے لئے غیر اہم تھیں سوائے اس کے کہ بازار حسن میں اس کا وہ کام مفت میں ہو جائے گا جس کو کرانے کے نا اس کے پاس پیسے تھے اور نا کوئی اس کی سننے کو تیار تھا بے شک وہ ضدی اور سر پھری لڑکی تھی ۔۔۔ لیکن بازار حسن کی حقیقت سے بلکل نا واقف تھی ۔۔۔۔ نام بھی پہلی بار ارتضی کے منہ سے سنا تھا اور اب ان دونوں عورتوں کے منہ سے حیا کو لگا کہ اس کا مسلہ بازار حسن میں ہی جا کر حل ہو سکتا ہے ۔۔۔

لیکن یہ پتہ تھا کہ بازار حسن ہے کہاں کس شہر میں

رات کو سوتے وقت اس نے تبسم سے پوچھا تھا

” سنو یہ بازار حسن کہاں ہے ” حیا نے لیٹے لیٹے پوچھا تبسم جو آدھی نیند میں تھی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی

” کیوں تم نے کیا کرنا ہے “

” ایسے ہی پوچھ رہی ہوں کس شہر میں ہے “

” یہی لاہور میں ہے ۔۔۔۔”

“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔ یہاں سے وہاں جانے کا کرایہ کتنا لگتا ہے “

” مجھے کیا پتہ ۔۔۔ میں کون سا گی گئ ہوں اللہ بچائے ایسی جگہ سے ” تبسم نے یہ کہا اور کروٹ بدل کر سو گئی

صبح اس نے میڈیم سے کہا اسکی اپنے شوہر سے فون پر بات ہو گئ ہے وہ اسے رکھنے پر تو رضامند ہو گیا ہے لیکن لینے نہیں آئے گا اسے خود ہی جانا پڑے گا ۔۔۔ اس لئے میڈیم سے کرایہ لیکر وہ سیدھا بازار حسن پہنچی تھی سب کچھ بہت عجیب سا ماحول لگ رہا تھا۔ چھوٹی تنگ گلیاں ۔۔ کہیں پان کی دوکانیں کہیں۔ گلاب کلیوں کے گجروں کی دوکانیں گھنگروں گانے ہارمونیم کی آوازیںڈھول کی آوازیں ۔۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ جائے کہا پرانی بوسیدہ دو منزلہ مکان تھے۔۔۔ ایک قدرے بہتر گھر جو سے لگا وہ اسی کی سیڑیاں۔ چڑھ گئ ۔۔۔۔

سامنے ایک بڑی عمر کا شخص ہارمونیم بجا رہا تھا دوسرا ڈھول بجا رہا تھا حیا کی ہم عمر لڑکی چوڑی دار پائجامہ اور انارکلی فارک پہنے پاؤں میں گھنگروں پہنے ناچ رہی تھی ۔۔۔ ہارمونیم بجانے والا شخص اسے ڈھول اور میوزک پر پاؤں کو کیسے رکھنا ہے کیسے کمر کو لچکانہ ہے سب بتا رہا تھا ۔۔۔۔ ایک عورت منہ پان ڈالے اس لڑکی کا رقص دیکھ رہی تھی ۔۔۔ حیا ابھی بھی آخری سیڑھی پر کھڑی یہ سب دیکھ رہی اندر جانے کی ہمت نہیں کر پائی تھی

“اے لڑکی ادھر آ” اس عورت نے حیا کو کھڑا دیکھ کر کہا حیا کچھ نروس بھی ہو رہی تھی اس کے چلی گئ

” وہاں کیا کر رہی تھی کھڑی “

” مجھے پناہ چاہیے کیا مل سکتی ہے یہاں ۔۔۔۔میرے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ” حیا کے آنسوں بھی ساتھ بہنے لگے اس عورت کی آنکھیں حیا کے حسن کو دیکھ چمکیں تھیں اور کانوں سریلی دھن اسکی بات سن کر بھی تھی ۔۔۔ کم عمر خوبصورت لڑکی خود با خود چل کر اسکے پاس آ گئ تھی پکے ہوئے آم کی طرح گود ۔میں۔ گری تھی منہ سے لار نا ٹپکتی تو اور کیا ہوتا ۔۔۔۔

” کیوں نہیں جم جم رہو ۔۔۔۔ ہم تو مجبور لڑکیوں کو سہارا دیتے ہیں ۔۔۔۔ بس بدلے میں کچھ چاہیے بھی ہوتا ہے ” اس عورت نے معنی خیز انداز سے کہا

” دیکھیں مجھے کچھ بھی پکانا نہیں آتا ” حیا نے آنسوں بہاتے ہوئے اپنی مجبوری بتائی اسے لگا پھر سے اسے کچن میں کام کرنے کے لئے کھڑا کر دیا جائے گا

” ارے کھانا تھوڑی پکوانا ہے تم سے ۔۔۔ بس تھوڑا ناچ گانا کرنا پڑے گا جیسے یہ لڑکی کر رہی ہے ” اس عورت نے پان چباتے ہوئے ناچتی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا حیا پھر غور سے اسکی لڑکی کو ڈانس کرتے دیکھا

” یہ سب تومجھے آتا بھی ہے ۔۔۔ کچھ سیکھ بھی لوں گی ۔۔۔ لیکن مجھے ایک اور مدد بھی چاہیے آپکی ۔۔۔

” ہاں ہاں بولو “

” میں بہت مجبور لڑکی ہوں ۔۔ کوئی سہارا نہیں ہے میرا ۔۔۔ میرے ساتھ ۔۔۔۔ میرے ساتھ ” اتنا کہہ کر بلک بلک کر رونے لگی اس عورت نے حیا کو ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔

” نا نا میری بچی رو نا ۔۔۔۔ میں ہوں نا ۔۔۔۔ “حیا کو اسکی مکاری بھی محبت ہی لگ رہی تھی ۔۔۔ پھر اپنا رونا ضبط کر کے بولی

“میرے ساتھ ریپ ہوا ہے ۔۔۔۔۔ اور میں ۔۔۔میں expensive ہوں مجھے اپنا آبوشن کروانا ہے ۔۔۔ مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے “

“بس اتنی سی بات تو فکر ہی نا کر ۔۔۔ اسے تو میں تین چار دن ختم کروا دوں گی ۔۔۔ چل اب بتا کچھ کھایا پیا بھی ہے تو نے یا بھوکی ہے ۔۔۔ رنگ کتنا پیلا لگ رہا ہے تیرا ” وہ عورت حیا جو پڑھ چکی تھی کے بیوقوف سی لڑکی ہے جانتی نہیں ہے کہاں آ کر پھنس گئ ہے ۔۔۔ تھوڑی سی ہمدردی جتانے کا ڈرامہ حیا کا دل پسیج گیا تھا

” آپ تو بہت اچھی ہیں ۔۔۔ اتنا خیال تو کبھی میری سگی ماں کو بھی نہیں آیا ۔۔

جھے بہت بھوک لگی ہے ۔۔ لیکن۔ میں دال نہیں کھاؤں گی ” حیا نے فورا سے فرمائش کر دی

” ارے تو بتا کیا کھانا ہے ۔۔۔۔ “

“مجھے پیزا کھانا ہے تکہ فلیور ” حیا نے آنسوں پونچتے ہوئے کہا

” ہاں ہاں میں تجھے ابھی منگ دیتی ہوں ۔۔ پہلے تک میں نازلی کو بلاتی ہوں ۔۔۔ تجھے کمرے میں لے جائے ۔۔۔ نہا دھو لے یہ کیا پہن رکھا ہے ۔۔۔ نازلی تجھے بڑا اچھا سا جوڑا نکال کر دے گی وہ پہن ۔۔۔ ” ٹھیک ہے ” حیا فورا سے مان گئ اس عورت نے پان کی پیک پھنکی اور نازلی نامی لڑکی کو بلا حیا

کواس کے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔۔ بیٹھے بیٹھائے اس کے ہاتھ چاندی لگ گئ تھی ۔۔۔۔

*****……..

رومی کو دو دن سے بخار تھا ۔۔۔ ارتضی بوکھلا کر رہ گیا تھا ۔۔۔ نیم بے ہوشی میں بھی حیا کو پکار رہا تھا ۔۔۔۔ بیٹے کی حالت دیکھ کر وہ فکر مند سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ ابھی بھی میڈیکل سے دوا لے رہا تھا جب کسی نے سر کہہ کر عقب سے اسے پکارا تھا اس نے پلٹ کر دیکھا تو حمیرا کھڑی تھی ۔۔۔

” سر آپ یہاں ۔۔۔ “حمیرا نے حیرت سے سے اسے دیکھا تھا

” ہاں آپ سنائیں کیسی ہیں ” ارتضی جلد وہاں سے جانا چاہتا تھا کسی بھی ایسے شخص کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا جو اسے اسکی اہانت کا احساس دلائے

” سر میں نے آپ سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ پرنسپل صاحب سے آپ کا نمبر بھی لینا چاہا لیکن انہوں نے دینے سے منع کر دیا ۔۔۔ وہاج سر سے کہا کہ میری آپ سے بات کروا دیں لیکن انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آپ کہاں ۔۔۔ سر حیا کیسی ہے ” حمیرا کے چہرے سے فکرمندی اور احساس مندی ظاہر ہو رہی تھی ۔۔۔۔

“آپ کی دوست نے کارنامہ ہی ایسا انجام دیا کہ میرے پاس منہ چھپانے کے علاؤہ دوسرا کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔ “وپ تلخ لہجے سے بولا

” سر حیا کہاں مجھے اس سے ملنا ہے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ “

” بھاگ گئ ہے وہ یہاں سے ۔۔۔۔ کہاں گئ ہے یہ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ اور مجھ سے کیا بات کرنا چاہتی ہیں آپ ۔۔۔ مجھے سننا ہی نہیں ہے ” ارتضی نے مدافعانہ انداز سے کہا اور میڈسن لے کر جانے لگا

” سر میری دو منٹ بات سن لیں اس سے آپ بے گناہ ثابت ہو سکتے ہیں ” ارتضی کے قدم وہیں رکے تھے ۔۔۔۔ اس نے پلٹ کر سے دیکھا

” جی فرمائیے “

” سر میں یہاں اپنی خالہ سے ملنے آئی تھی۔۔۔ وہ یہاں قریب میں ہی رہتی ہیں کیا ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں ۔۔۔ “

” نہیں یہ رسک نہیں لے سکتا بہت ڈر گیا ان چیزوں اس لئے یہیں بیں جو بھی کہنا ہے ۔۔۔ ” بد نامی کا خوف ہی انسان کو چین کی ے نہیں دیتا

” سر جس دن کالج میں تماشہ لگا تھا مجھے بھی حیا پر بہت غصہ آیا تھا ۔۔۔ بہت تکلیف ہوئی تھی جو کچھ اس نے آپ کے ساتھ کیا میں یہی سمجھی تھی کہ اس نے آپ سے اپنی پنش کا بدلہ لیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا سر گھر جا جب میں نے اپنا سیل فون چیک کیا تو کچھ پل اور ویڈیو حیا کے نمبر سے مجھے موصول ہوئیں مجھے اس پر بہت غصہ تھا اس لئے میں نے چند دن تو وہ دیکھی ہی نہیں لیکن جب دیکھی تو مجھے حیا بے قصور ہی لگی تھی ۔۔۔ سر اس دن ۔۔۔۔اس دن حیا کے ساتھ واقع ریپ ہوا تھا ۔۔۔۔ اور کالج میں ہی ہوا تھا ۔۔۔ اور اسے دھمکی دی گئ تھی کہ وہ آپ کا نام لے ورنہ اسکی ویڈیو وائرل کر دی جائے گی ۔۔۔ وہ ویڈیو میرے پاس اب بھی موجود ہیں ۔۔۔۔ ” حمیرا کی بات سن کر وہ ششدد سا رہ گیا تھا ۔

“۔ آپ آپ حیا کا موبائل چیک کریں اس میں یقینا بہت کچھ ایسا ہو گا جو آپ کو بے گناہ ثابت کر سکتا ہے ۔۔۔

“پتہ نہیں حیا مجھے وہ ویڈیو کیوں بھیجی ۔۔۔ اس کے بعد سے حیا کا موبائل آف تھا ۔۔۔اور اب تک آف ہے ۔۔۔۔ ” ارتضی کی سمجھ سے باہر تھا کس بات پر یقین کرے ۔۔۔ حیا کو اسکے کزن کے ساتھ ارتضی نے خود اسے دیکھا تھا اور اب حمیرا کی بات اگر اس کے ساتھ ایسا کچھ ہوا بھی تھا تو ارتضی کو کیوں پھسایا گیا تھا اسکی تو کالج میں کسی سے دوشمنی نہیں تھی پتہ نہیں سب حیا کا یہ ایک کونسا نیا ڈرامہ تھا ۔۔۔ ارتضی نے حمیرا کو اپنا نمبر دیا

” تم وہ پکس اور ویڈیو مجھے اس نمبر پر سینٹ کر دینا ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ یہ بھی تمہاری دوست کا رچایا ہوا کھیل ہی ہو گا ۔۔۔ جھوٹ بولنا ڈرامہ کرنا عادت ہے اسکی ۔۔۔ ” ارتضی ترش لہجے سے بولا

” نو سر ۔۔۔ اس بار ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔ سر حیا کہاں گئ ہے “

“مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ “

” سر پلیز مجھے بتائیں وہ کہاں ہے اگر وہ آپ کے ساتھ ہے تو پلیز مجھ سے مت چھپائیں مجھے اس سے ملنا “

” میں جھوٹ نہیں بولتا ہوں حمیرا وہ سچ میں بھاگ گئ ہے کہاں مجھے نہیں معلوم ہاں کسی نے اسے لاہور کی بس میں جاتے دیکھا ہے ہو سکتا ہے پہنچ گئ ہو اپنے باپ کے پاس وہیں جانا چاہتی تھی وہ

” سر وہاں نہیں ہے اسکی ممی سے میری صبح ہی بات ہوئی ہے وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔۔۔۔۔”

” اس وقت میرا بیٹا بہت بیمار ہے میں اب اجازت چاہوں گا “

ارتضی یہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ گھر آ کر رومان کو دوا دے کر سلا دیا ۔۔۔لیکن پریشان ضرور ہو گیا تھا وہ اگر اپنے گھر نہیں پہنچی تو کہاں ہو گی ۔۔۔۔ دل بے چین ہوا تھا ۔۔۔ کچھ بھی تھا ایک لڑکی تہنا ایک انجان شہر میں ۔۔۔ کیا نہیں ہو سکتا تھا اس کے ساتھ ۔۔۔ موبائل کی ٹیون نےبارتضی کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا تھا

ایک ان نان نمبر سے چند پک اور ویڈیو اسے موصول ہوئیں تھیں ۔۔۔

*******……..

ثوبیہ نے صبح سے سر درد کا بہانہ بنا کر چھٹی کر لی تھی ۔۔۔۔

اور یوں پوز کر رہی جیسے واقع سر ۔میں شدید درد ہو ۔۔۔۔ لیکن دانیال کے سر پرائز کا بھی انتظار تھا ابھی اسکی دوسری ساتھیوں کو گئے تین گھنٹے ہی گزرے تھے ثوبیہ اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔۔

لیکن ایک ہلچل سی اسے کمرے سے باہر محسوس ہوئی بہت سی آوازیں ۔ تیز قدموں کی آوازیں ثوبیہ نے دروازہ کھولا تو میڈیم موشن کی ہوائیاں اڑئیں ہوئیں تھیں ۔۔” اور بھی بہت سے مرد اور گارڈز

پریشانی سے ادھر ادھر تیزی سے آ جارہے تھے ۔۔۔ ایک گنجا سانولا موٹاڈاشخص فون پر کسی سے مغلیات بکتے ہوئے بات کر رہا تھا

” یہ خبر پولیس تک پہنچ کیسے سکتی ہے کوئی ہے جس نے مقبری لگائی ہے ۔۔۔۔ ایک بار مجھے اس کا پتہ چل جائے فنا کر کے رکھ دوں گا اسے “جتنی تیز آواز سے وہ دھاڑا تھا ثوبیہ کی روح تک کانپ گئ تھی ۔۔۔۔

” تم میری بات کرواں ایس ایچ او سے کہیں وہ لڑکیاں ڈرکے مارے منہ سے کچھ سے بک ہی نادیں ۔۔۔۔ کتے کی بچیاں آج تو مریں گئیں میرے ہاتھ سے ۔۔۔اگر کسی کا نام انکی زبان سے نکلا بھی تو کس نے منہ کھولا ہے کہ کالج میں یہ ڈرگ سگریٹ سپلائی کر رہی ہیں ۔۔۔۔ ” ثوبیہ نے کمرے کادروازہ دھیرے سے بند کیا اور بیڈ پر بیٹھ گئ اسے لگا کسی نے اسکے اندر سے اسکی روح کو کھنچا ہو ۔۔۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی ہواس باختہ ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

پورے جسم پر لرزہ طاری ہوا تھا ۔۔۔۔۔ دانیال نے یہ سرپرائز دینا تھا اسے ۔۔۔۔ کمرے کادروازہ کھٹکھٹا تو اسے لگا کہ موت کا فرشتہ دروازے کے باہر ہی کھڑا ہے ۔۔۔۔۔

جلدی سے اس نے خود کو سنبھالا ۔۔۔۔ اور دروازہ کھولا وہی شخص آڑے ہوئے رنگ کے ساتھ کھڑا تھا جو پہلے اسکے دوا لگانے پر معمور تھا

” سر بلا رہے ہیں تمہیں ۔۔۔۔ خیر مناؤں اپنی ” ثوبیہ کی جان نکلی تھی ۔۔۔۔۔ ثوبیہ کے گلے میں اتنی گراہیں پڑیں کے جیسے گلا ہی بند ہو گیا ہو کانپتے وجود کے ساتھ وہ باہر نکل کر اس وحشی جلاد کے سامنے کھڑی ہوئی تھی اسکے ساتھ نوشین میڈیم بھی بڑے خطرناک تیور لئے کھڑی تھی ۔۔۔۔

*****…….

ثوبیہ کے کان میں پہنے ٹپس پر لگے کیمرے کا کنکشن دانیال نے اپنے موبائل پر سے کر رکھا تھا وہ کہاں رہتی ہے کہاں جا رہی تھی کالج ۔یں کیا کر رہی تھی وہ سب دانیال دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔ اس لئے کالج میں ڈرک کی روک تھام کا کام اس نے پہلے کیا تھا ثوبیہ کو نا جانے کا مشورہ بھی اسی لئے دیا تھا کہ وہ نا پھنس جائے اور دوسری دو لڑکیوں کو رنگے ہاتھ پکڑوا چکا تھا لیکن یہ سختی سے منع کیا تھا کہ ان سے پوچھ گچھ کوئی نا کرے ۔۔۔۔ جانتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں وہ رہا ہو جائیں گئیں ۔۔۔ سرا کھیل ایسے کھلا گیا تھا کہ کہ جیسے سب کو یہ لگے انہی اسٹوڈنٹ ۔میں لیڈی پولیس بھی شامل تھی اس لئے وہ پکڑی گئیں دانیال سامنے نہیں آیا تھا خود کو چھپا کر رکھا تھا کیونکہ ابھی اس ک مشن کمپلیٹ نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔

*******…….

مفتی انور تو کمرے سے جا چکا تھا لیکن جو کچھ آتی نے اپنے سامنے دیکھا تھا سمجھ گئ تھی کہ اتنا آسان نہیں ہے اس کے لئے عزت سے زندگی گزارنا ۔۔۔۔ اس لئے بے جان سی ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ عبد الباسط نے جب سے بد حواس سادیکھا تو اسکے پاس آ کر بیٹھ گیا

“آرء آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔ میں ابا کو راضی کر لوں گا ۔۔۔۔ ابھی غصے میں ہیں ” آرء کسی مجسمے کی طرح اسے دیکھ رہی تھی بلکل گم صم

” مجھ پر بھروسہ ہے نا آپ کو “عبداالباسط نے دوبارہ سے دریافت کیا وہ کچھ نہیں بولی بس ایک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔

” آرء۔۔۔۔۔ کچھ کہیں مجھ سے ” عبد الباسط نے آرء کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا

” ع۔۔۔بد۔۔۔ل البا۔۔۔سط ۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ تم اپنے ابا ۔۔۔ کی بات مان لو ۔۔۔۔” آرء کاسانس گھٹنے لگا تھا ۔۔۔۔ با مشکل وہ بول پائی تھی گلے میں آنسوں کا گولا پھنسا تھا ۔۔۔۔

حقیقت تلخ تھی ۔۔۔۔ لیکن اپنی پوری سچائی کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔

” آرء کیوں گھبرا رہیں آپ مجھ پر بھروسہ رکھیں “

” وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔ لوگ ۔۔۔۔ چھوڑی۔ گئے ناہی تجھے ۔۔۔ لوگوں ۔۔۔۔ تھوکیں گئے تجھ پر ۔۔۔ تمہاری بہنوں کو بنا کسی جرم کے سزا مل جائے گی ۔۔۔۔ اگر ایک عام شخص ایسا قدم اٹھانا چاہے جو تم اٹھانا چاہتے ہو تو اسے بھی یہ زمانہ جینے ناہی دیتا تم تو ۔۔۔۔۔ تم تو پھر مولوی کے بیٹے ہو ۔۔۔

پتہ لوگ مولویوں کو بہت نیک اور پرہیز گار تصور کرتے ہیں انکی جرا سی غلطی کو طوفان بنا دیتے ہیں جیسے وہ انسان ناہی فرشتہ ہے اسکے منہ سے نکلا ایک غلط لفظ یا،ایک برا عمل اسکے سارے اچھے اعمال کو ختم کر دے گا ۔۔۔۔

تمہارے ابا ٹھیک کہتے ہیں ۔۔۔۔ ساری عمر کی کمائی گئ عجت ایک منٹ میں مٹی روند دی جائے گی ۔۔۔۔ میری طرف سے تم آذاد ہو عبداالباسط۔۔۔۔۔۔ آرء سمجھ گئ ہے وہ زمزم سے بھی نہا لے تب بھی وحشیا ہی کہلائے گی ۔۔۔۔ میں سب کچھ بھی دوں تب تھی رہوں گی جہاں بیگم کی بیٹی “

” میں آپ بیچ رہ میں نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ “

” میں کل چلی جاؤں گی عبداالباسط طلاق جب چاہے بھجوا دینا ” یہ کہہ آرء اٹھ کر کھڑی ہو گئ الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔۔

عبداالباسط اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا

اس کے ہاتھ سے کپڑے لئے اور واپس ال۔اری میں پھنک دیے

” اس وقت مجھے آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ میری ہمت بڑھانے کے بجائے آپ راہ بدل رہیں ہیں ۔۔۔ مجھے کچھ سننا آرء ۔۔۔۔ میرا ساتھ دیں دنیا کو میں خود جواب دے دوں گا ۔۔۔ ” عبد الباسط کی بات سن کر وہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔ رات بھر وہ دو و۔ ہی سو نہیں پائے تھے ۔۔۔ لگتا تھا جیسے آخری ملاقات ہو

” آرء ایسے کیا دیکھ رہیں مجھے سو جائیں “

” آج مت روکو آج دیکھ لینے دو عبداالباسط۔۔۔ پتہ نہیں پھر کبھی تمہیں دیکھ بھی پاؤں گی یا ناہی ” بستر پر وہ اسکی جانب کروٹ کیے لیٹی تھی ۔۔۔۔ بنا آنکھ جھپکائے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

” کیوں وہم پال رہیں ہیں ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ ہم گاؤں میں رہی۔ گئے وہاں کوئی آپ کو نہیں جانتا ۔۔۔

ابا خود ہی مان جائیں گئے ۔۔۔۔ میں بنا بتائے آپ سے نکاح کیا ہے اس لئے خفا ہیں غصہ تو نکالیں۔ گئے نا مجھ پر ۔۔۔۔ ” عبداالباسط کی کوئی بھی دلیل اور تسلی آرء کو چین نہیں دے پا رہی تھی کچھ دیر میں وہ سو چکاتھا لیکن آرء نہیں سوئی پوری رات عبداالباسط کو دیکھ کر کاٹی تھی اس کا چہرہ جیسے از بر کر رہی ہو ۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے اسکے چہرے کے چھو رہی تھی جیسے اس کا احساں کا لمس ہاتھوں میں محفوظ کر رہی ہو ۔۔۔

آنسوں بہہ کر تکیہ بھگو رہے تھے ۔۔۔

فجر کے وقت عبداالباسط کی آنکھ کھلی تھی اسوقت آرء جائے نماز بچھائے رو رہی تھی شاید کسی معجزے کی دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔ نماز کے بعد دروازہ بڑے زور سے کھٹکا تھا ۔۔۔۔

آرء جیسے پوراوجود کانپ گیا تھا ۔۔۔۔

عبداالباسط نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔ سامنے مفتی انور کھڑے تھے پیشانی پر کئ سلوٹیں ڈالے اندر داخل ہوتے ہی بولے

” چلو عبداالباسط باسط “

” نہیں مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔ میں گاؤں میں رہوں گا

آرء کے ساتھ “

” مجھ سے ضد مت کروں ۔۔۔ ورنہ بہت پچھتاوں گئے “

” ابا یہ ضد نہیں میرا حق ہے “

” یہ ذلت اور رسوائی ہے ۔۔۔۔ مفتی انور اپنی عزت کی خاطر جان دیدے گا مگر تمہیں ایسا کچھ نہیں کرنے دیکھا جس سے کے رسوائی ہو “

” میں بھی اپنے قول سے پھر نہیں سکتا ابا “

عبداالباسط کی بات سن کر مفتی انور نے اپنی جیب سے بلٹ نکالا اور اپنی شہ رگ پر رکھ دیا تیزی اتنی تھی کے رکھتے ہی گلے سے خون رسنے لگا تھا عبداالباسط کے ساتھ آرء کی بھی جان پر بنی تھی

” ابا یہ کیا کر رہیں آپ “عبداالباسط انکی طرف لپکا تھا لیکن انہوں ہاتھ کے اشارے سے اسے وہی روک دیا

” یا یہ لڑکی یا میں ۔۔۔ ایک منٹ ہے عبداالباسط تمہارے پاس ۔۔۔ جلدی فیصلہ کرو” عبداالباسط باپ کی بات سن کر دنگ ہوا تھا خون قطرہ قطرہ گردن سے بہہ کر قمیض میں جذب ہو رہا تھا