Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 1

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 1

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

چوری دار پائجامہ۔۔۔ انار کلی فراک ۔۔۔ ہاتھوں کی آگے پیچھے دونوں جانب لال سرخ مہندی کے گول گول ٹکیاں لگائے ۔۔۔۔ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں بالوں میں کلیوں کے گجرے کی لڑیاں کانوں میں بڑے سے آوایزے۔۔۔ پاؤں میں گھنگروں پہنے وہ لڑکی ڈھول کی تھاپ پر بڑی مہارت سے پاؤں چلا رہی تھی گانے کے بول پر کمر لچکاتی کبھی ہاتھوں کو لہراتی وہ وہاں بیٹھے اپنے مداحوں۔ کا دل لبھانے میں لگی ہوئی تھی واہ واہ کے نعرے منہ میں پان دبائے اسکے مداح ہوس بھری نظروں سے اسکے وجود کو نوچ اور کھا جانے والے انداز سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔عطر اور گلاب کے پھولوں میں شراب کی رچی بسی خوشبوں سے کوٹھے کا وہ بیرونی ہال نما صحن اسوقت مردوں سے کچا کچ بھرا ہوا تھا ۔۔۔ ان میں سے ایک رئیس زادہ شراب کے نشے میں چور اٹھ کر جیب سے پیسے نکال کر اس مہ جبین پر لٹاتے ہوئے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لینے لگا

نور جہاں بیگم کی با رعب آواز گونجی

“یوں ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں میری چھوکریوں کو سیٹھ صاحب ۔۔۔۔ اپنے جذبات پر ذرا دھیرج رکھیے اور بیٹھ کر بس دور دور سے نظارہ کیجیے “شراب سے چور بھی وہ جھٹ سے پیچھے ہٹ کر اپنی نشت پر ڈھے گیا ۔۔۔۔۔

پچاس کے لگ بھگ عمر کی نور جہاں بیگم سرخ سفید رنگ کی حسین عورت تھی ۔۔۔۔تنگ چست قمیض پہنے ہونٹوں پر لال سرخ لیپ اسٹک گالوں پر گلابی بلش ان ۔۔۔ہاتھ میں سونے کے کڑے اور چوڑیاں دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں میں انگوٹھیاں پہنے منہ میں پان ڈالے پہلے اس نے اگلدان میں پان تھوکا پھر اس شخص کو لڑکی سے الگ ہونے کا حکم نامہ جاری کر کے آرام سے بیٹھ گئ ۔۔۔۔ڈھول کی تھاپ پر نور جہاں کے پاؤں ہل رہے تھے آنکھیں اور بھنور بھی ناچ رہیں تھیں ۔۔۔۔گانے کے سروں کو وہ ہونٹوں سے گنگنا رہی تھی ۔۔۔اس ۔محفل میں کونے بیٹھا ایک پچیس چھبیس سالہ نوجوان دور سے بس نورجہان بیگم کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ٹکٹکی باندھے ۔۔۔۔۔پھرنظریں پھیر کر سامنے ناچنے والی لڑکی کودیکھنے لگا ۔۔۔۔جو حسن کا پیکر بنی سب کا دل لبھا رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس عمر میں نور جہاں کا حسن ہوش اڑاتا تھا ۔۔۔۔۔

بالوں کے جوڑے میں کئ موتیوں کی کلیاں لٹک رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ گانے کی دھنوں میں اس کاسر بھی دائیں بائیں ناچ رہا تھا وہ لڑکا نور جہاں بیگم کی ہر ادا بڑے انہمانک سے دیکھ رہا تھا باقی ہر چیز سے اسکی دلچسپی نا ہونے کے برابر تھی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں محفل ختم ہو چکی ۔۔۔۔۔ ناچنے والی لڑکی آداب میں ہاتھ اٹھا کر سر جھکا کر پیچھے قدم لیتی ہوئی ایک کمرے میں جا گھسی ۔۔۔لوگ بھی اب واپسی راہ لینے لگے

لوگ چھٹنے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔جن کا ارادہ لڑکی کے ساتھ وقت گزارنے کا تھا بس وہی وہاں رک کر نور جہاں بیگم سے اس لڑکی کی ایک رات کی قمیت پر ۔۔۔۔تول مول کر رہے تھے ۔۔۔مگر اپنی بات کی بڑی پکی تھی وہ عورت

“نا بابو ایک آنہ بھی کم نا ہی لوں گی ۔۔۔۔ارے نئ نئ چھوکریوں کو کتنی ادائیں سیکھانی پڑتی ہیں دل لبھانے کی مجھے۔۔۔ تم کیا جانو ۔۔۔نور جہاں بیگم کا ایک ہی اصول ہے روپیہ آنہ کم نا کرے ہے ۔۔۔باقی ببوا تیری مرجی “منہ میں پان دبائے مہندی والے ہاتھ سے اس نے بات ہی ختم کر دی تھی ریئس کی آنکھوں میں وہ حوس کی آگ لو دیکھ چکی تھی اس لئے دونوں آبرو چڑھائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔رئیس نے بھی مزید بحث نہیں کی ۔۔۔۔۔جیب سے پیسوں کاایک بنڈل نکال کر نور جہاں بیگم کے سامنے رکھا

“گن لے نورو پورے ہیں “وہ شخص بھی نورجہاں کی عمر کا تھا ۔۔۔۔اور شاید پرانہ گاہک تھا اس لئے کافی بے تکلف تھا ۔۔۔نور جہاں کی آنکھیں پیسوں کو دیکھ کر چمک سی گئیں جلدی سے پیسے اٹھائے اور سائیڈ پر رکھ دئیے

“ارے ہم کو اتنا بھروسہ ہے تھارے پر ببوا ۔۔۔۔کاہے شرمندہ کرتا ہے ” نورجہاں بیگم نے اسکے کندھے پر مسکراتے ہوئے ہاتھ مار کر بات کو ادا سے سنبھالا ۔۔۔۔پھر اسکے کچھ قریب ہو کر رازدارانہ انداز سے بولی

“یہی۔ انتجام کر دوں یا کہیں اور لے جاؤں گئے میری چنبلی کو ” نور جہاں نے پان چباتے ہوئے کمینگی ہنسی ہنس کر پوچھا

“ساتھ لیکر جاؤں گا کل چھوڑ جاؤں گا نورو ” وہ آدمی نورجہاں بیگم کے گال پر اپنی انگلی رکھ کر بولا نور جہاں نے اس کا ہاتھ جھٹکا

“ہٹ رے کمینے ۔۔۔۔۔شراب کا نشہ ذیادہ ہی چڑھ گیا ہے تجھ پر ۔۔چل اب جا وہ رہا دروازہ میری چنبلی کا ۔۔۔”ایک دروازے کی طرف اشارہ کر کے نورجہان نے اسےاٹھنے کی راہ دیکھائی۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتا ہوا وہاں اٹھ کر سامنے لائن سے بنے کئ کمروں میں سے ایک کے اندر گھس گیا ۔۔۔۔باقی سب جا چکے تھے سوائے اس ایک لڑکے کے جو پچھلے ایک مہنے سے وہاں آرہا تھا مگر چپ چاپ جب تک مجرا چلتا رہتا وہ بیٹھا رہتا آخر میں اٹھکر واپس چلا جاتا ۔۔۔۔لیکن آج وہیں موجود تھا ۔۔۔نور جہاں نے ایک ذریک نظر اس نوجوان پر ڈالی پھر اگالدان میں پان کی پیک پھنک کر اسے انگلی سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا وہ لڑکا خاصا خوش شکل تھا ۔۔۔۔۔مگر حلیہ کچھ بکھرا بکھرا تھا شیو بڑھی ہوئی ۔۔۔بال بکھرے ہوئے کالی سی پینٹ شرٹ پہنے ایک ہاتھ میں چھوٹا سا کالا بیگ تھامنے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر نور جہاں بیگم کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“آج واپس نہیں جانا تو نے ببوا ” نورجہان اب پیچھے رکھے پیسوں کے بنڈل کو پکڑے تیزی سے ہاتھ چلاتے گننے لگی

“آج جیب میں پیسے لایا ہوں “لڑکے کی بات پر نورجہاں کے متحرک ہاتھ رکے پھر اس لڑکے کو دوبارہ سے تنقیدی نظر سے دیکھا دیکھنے میں وہ کہیں سے نواب اور رئیس امیزادہ نہیں لگ رہا تھا کچھ توقف کے بعد نور جہاں نے پوچھا

“اچھا ۔۔۔۔۔ تو رات گزرنی ہے تو نے ۔۔۔دیکھ ببوا ابھی والی کا سودا ہو چکا ۔۔۔۔لیکن باقی کی بھی کسی سے کم ناہی ہیں بس نورجہان بیگم پیسوں میں تول بھاوں نہیں کرتی ۔۔۔۔”وہ حتمی انداز سے ہاتھ ہلا کر بولی

“رات نہیں… ہمیشہ کے لئے چاہیے “روئی روئی آنکھوں سے وہ لڑکا بے بسی سے بامشکل بولا تھا مگر نور جہاں کو تو گویا سانپ سونگھ گیا تھا کچھ دیر تذبذب سی ہو کر اسے دیکھنے لگی

“دیکھ لڑکے میرا گھر تو یہ چھوکریاں ہی چلاتی ہیں ۔۔۔ہمیشہ کا سودا نہیں کر سکتی میں “نور جہاں نے مدافعانہ انداز سے کہا

“میں اپنا سب کچھ بیچ کر بہت سارے پیسے لایا ہوں۔۔۔۔بس ایک چھوٹا سا مکان ہی بچا ہے میرے پاس ” نور جہاں کی آنکھیں پھر سے چمکیں

“کہیں محبت وحبت کا چکر تو نا ہی ہےببوا “

“وہی ہے۔۔۔ بہت محبت کرتا ہوں اتنی کے اب رہ نہیں سکتا اس لئے اپنی کل متاع بیچ کر آیا ہوں “

“دیکھ میں ایک رات کے پچاس ہجار لیتی ہوں ۔۔۔۔بیچنے کا سوچ بھی لوں تو کیا دے گا تو

مجھے”

“میرے پاس ستر لاکھ ہیں ۔۔۔۔اسکے علاوہ اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔”

نور جہاں کے منہ میں پانی بھر آیا تھا ۔۔۔۔

“اچھا چل بول کون ہے وہ لڑکی ۔۔۔۔گلاب۔۔۔ کلی ۔۔۔نرگس ۔۔۔سدا بہار ۔۔۔۔رانی ۔۔۔”وہ انگلیوں میں گننے لگی

“آپ “

لڑکے کے اگلے جمعلے نے گویا نور جہاں کے ہوش اڑا دیے تھے۔۔۔ چہرہ غصے سے سرخ ہوا

ایک زور دار تھپڑ تھا جو جازم کے منہ پر پڑا تھا پانچوں انگلیاں اسکے گال پر اپنی چھاپ چھوڑ گئیں تھیں

********……

جینز کی پینٹ کے ساتھ سلیو لیس اسکائے بلو کلر کی شرٹ کھلے شولڈر کٹ بالوں میں وہ اپنی دودھیا رنگت اور کھڑے نقوش میں سب دوستوں منفرد سی لگ رہی تھی

” گائیز لٹس اسٹاٹ Truth & dear ۔۔۔۔۔” حیا سلیمان نے اپنا ایک ابرو چڑھا کر بڑی ادا سے کہا

“اسوقت یہاں رسٹورینٹ میں ۔۔۔۔۔حیا آر یو آلرائٹ ٹرتھ تو سمجھ آتا ہے پر ڈیر کرنے کے لئے کیا ہے یہاں “حیا کی سامنے بیٹھی اقرا نے جوس پیتے ہوئے حیرت سے پوچھا

“حیا سلیمان کہیں بھی کچھ بھی کر سکتی ہے چلو بھی جلدی کرو نکالو پانچ کا سکہ اگر چاند آیا تو ٹرتھ اور چھپا آیا تو ڈیر “حیا کی بات پر سب لڑکیوں نے اپنے اپنے جوس کے گلاس سائیڈ پر رکھے ۔۔۔۔۔اور ماہین نے پرس میں سے پانچ کا سکہ نکال کر اچھال کر ٹیبل پر پھنکا ۔۔۔۔سکہ گھوم کر رک کر گر گیا ‘چھپا ۔۔۔۔۔”سب لڑکیوں نے خوشی سے نعرہ لگایا

“لاسٹ ٹائم حیا کی ٹرن تھی ۔۔۔۔۔حیا ڈیر کرےگی “رامین نے چہک کر کہا

“او کے بتاؤں بھی کیا کرنا ہے ۔۔۔۔ “حیا کے مان جانے پر باقی کی اسکی تین دوستیں سوچنے لگیں

“ہاں حیا ۔۔۔۔ابھی ریسورنٹ سے جو پہلے انٹر ہوگا تم اسکے ساتھ چائے پی کردیکھاوں گی “اقرا نے چٹکی بجا کر کہا باقی سب نے بھی شرارتی مسکراہٹ سے اقرا کی تائید کی

“یہ کون سی شرط ہے ۔۔۔۔”حیا نے آنکھیں دیکھائیں

“تو ٹھیک ہے مان لو ہار اور کہو بلند آواز سے

You don’t do the dear “رامین نے کہا

“نو اٹس ناٹ کا بیگ ڈیل ۔۔۔۔او کے لٹ سی کے کون آتا ہے “سب کی نظریں رسٹورنٹ کے بیرونی دروازے کی طرف تھیں ۔۔۔۔

“ہائےکاش کے کوئی ہینڈسم سا نوجوان آئے “رامین نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا سب یوں نظریں جمائے دیکھ رہیں تھیں جیسے آنکھ چھپکنے سے دروازہ غائب ہو جائے گا

بیرونی دروازہ کھلا ۔۔۔۔۔بلیک کلر کی ڈریس پینٹ اور آف وائٹ فل سلیو شرٹ میں ملبوس ۔۔۔۔ہلکی سے شیور اور نظر کا چشمہ پہنے ایک ہیڈسم ڈرشنگ سا نوجوان تو اندر داخل ہوا تھا لیکن عمر کچھ ذیادہ ہی تھی کنپٹوں سے بال کچھ گرے گرے سے تھے شیو میں بھی چند بال سفید تھے اور بالوں کے بھی۔۔۔۔ تقریبا وہ چھتیس سینتیس سال کا شخص تھا ۔۔۔۔مگر زبردست پرسنیلٹی کا مالک تھا ۔۔۔۔

“بندہ تو واقعی زبردست ہے “رامین نے اس کی شخصیت سے مرعوب ہو کر کہا

“پھربھی ہے توانکل ٹائپ ۔۔۔۔۔۔۔”حیا کو افسوس سا ہوا تھا

وہ شخص سامنے کے ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور گھڑی دیکھنے لگا جیسے کسی کا ویٹ کر رہا ہو

“جاؤ۔ حیا ڈیر پورا کرو “سب دوستوں نے بیک وقت کہا ۔۔۔حیا اٹھ کر کھڑی ہو گئ اپنا موبائل ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔اور سامنے ٹیبل پر اس شخص کے سامنے دھڑلے سے بیٹھ گئ

“ہائے آئی ایم حیا سلیمان “اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بڑے بے تکلفانہ انداز سے بولی وہ شخص آنکھوں میں حیرت لئے اس کم عمر انیس بیس سالہ لڑکی کو دیکھ رہا تھا پھر اجنبیت کے باوجود اس سے مصافے کے لئے ہاتھ بڑھا دیا

“آئی ایم ارتضی ہارون ۔۔۔۔بٹ میں نے آپ کو پہچانا نہیں “ہاتھ ملا کر اس شخص نے فورا سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور ادب اور لحاظ سے پوچھا ۔۔۔۔

” ارے ایسے کیسے نہیں پہچانا ۔۔۔ آپ ہی نے تو مجھے بلایا تھا یہاں چائے پینے کے لئے “حیا کے لئے یہ سب نیا نہیں تھا وہ بہت پر اعتمادی سے بات کر رہی تھی مگر سامنے بیٹھا ارتضی متعجب سا ہو گیا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔

“ایم سوری ٹو سے ۔۔ لیکن آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔ میں تو یہاں اپنے ایک دوست سے ملنے آیا ہوں

” آپ ارتضی ہارون ہی ہیں نا ؟ “حیا تعارف تو سن چکی تھی لیکن چہرے پر بلا کی معصومیت لئے یوں پوچھ رہی تھی جیسے انجان ہو

“جی وہ تو میں بتا چکا ہوں “

“مجھے آپ ہی ملنے کے لئے بھیجا گیا ہے ۔۔ لیکن کیا ہے کہ سر درد سے پھٹ رہا ہے ” چہرے کے تاثرات یوں بدلے جیسے واقعی سر میں شدید درد کی لہریں اٹھ رہیں ہوں

“اگر ایک کپ چائے آپ پلا دیں تو میں آپ سے بات کر سکوں گئ ” ارتضی متذبذب س ہو کر رہ گیا تھا اس نے ویٹر کو بلایا اور دو کپ چائے منگوائے ۔۔۔ پھر اپنے دوست وہاج کو کال کرنے لگاجو ٹریفک میں بری طرح پھنسا ہوا تھا ابھی بھی اسے آنے میں بیس منٹ درکار تھے ۔۔۔

“کہاں رہ گئے یار تم ۔۔۔ کب سے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں “

“ارتضی ۔۔ ٹریفک میں پھنسا ہو ہوں یار ۔۔ اب فون بند کرو ” ارتضی نے فون بند کیا حیا ایک ہاتھ سے اپنی پیشانی پکڑے بیٹھی چائے کاویٹ کر رہی تھی ۔۔۔

ارتضی کے نمبر پر اب رومان کی کال آنے لگی ۔۔۔

“ہیلو بابا کب سے ویٹ کر رہا ہوں آپ کا کب آئیں گئے آپ؟”

“بابا کی جان میں لیٹ ہو جاؤں گا ۔۔۔ آپ کھانا وقت پر کھا لینا ۔۔۔ “

“بابا آپ نے پرومس کیا تھا کہ کھانا ساتھ کھائیں گئے “

“رومی میری جان آپ کھانا کھا لو ۔۔۔ بابا کو تنگ مت کرو ۔۔۔ “حیا نے کی نظر آنے بیٹھے شخص پر تھی شخصیت بلا شبہ شاندار تھی مگر اس عمر میں ظاہر ہے دو تین۔ بچوں کا باپ تو ہو گا ہی

ہائے حیا کہاں پھنس گئ ۔۔۔ کاش کے کوئی نوجوان سا لڑکا ہوتا دو گھڑی بات چیت کا مزہ تو آتا ۔۔ اب اس سے اسکے بیوی بچوں کی قصے سنوں میں”۔ ۔۔۔

ویٹر چائے رکھ کر جا چکا تھا ۔۔۔

حیا نے بے تکلفانہ انداز سے کپ میں چائے ڈالی اور اپنا کپ اپنے سامنے رکھ لیا ۔۔۔

ارتضی اس لڑکی کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔ اپنے کپ میں چائے ڈال کر اب اس نے گلاصاف کیا پھر بات شروع کی

” آپ بتائیں گی کہ آپ کون ہیں ۔۔۔ “ارتصی نے زریک نظروں سے دیکھنا شروع کیا

“ایک تو آپ کو مہمان نوازی بلکل نبھانی نہیں آتی ۔۔۔ میں نے چائے بولا تو بس چائے کا خالی کپ ہی منگوا کر احسان کے طور پر میرے سامنے رکھ دیا ۔۔۔ دوپہر کا کھانا بھی میں نے ذرا سا ہی کھایا تھا ۔۔۔پھر یہ چائے بھی خاصی اسٹرونگ ہے ” اس لڑکی کی زبان کینچی کی طرح چل رہی تھی ۔۔۔ ارتضی بری طرح سے زچ ہوا تھا

“دیکھیں محترمہ ۔۔۔ ایک تو آپ اتنی کم عمر ہیں کہ میں کیا آپ سے سختی سے پیش آؤں ۔۔۔ میں سمجھ نہیں پا رہا اس قسم کی غیر مناسب سی حرکت کا مقصد کیا ہے ۔۔۔ بنا پوچھے آپ یہاں بیٹھ کر ایک اجنبی کے ساتھ یوں بے تکلف ہو کر چائے کی فرمائش کر رہی ہیں ۔۔۔ اٹس رئیلی اسٹرینج “جب تک ارتضی کی بات ختم ہوئی حیا کی چائے بھی ختم ہو چکی تھی۔۔ اپنا موبائل ٹیبل سے اٹھائے وہ کھڑی ہو گئ

” او کے ایم سوری اگر آپ کو ایک کپ چائے پلانا برا لگا ہے تو ۔۔۔ کہاں ہے مینوں کارڈ اپنی چائے کے پیسے میں خود پے کر دیتی ہوں “

“اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ مہربانی کر کے آپ جائیے یہاں سے” ارتضی کے مدافعانہ انداز پر حیا کا رخ اب ریسٹورنٹ کے باہر کی طرف تھا اگر اپنی ٹیبل پر جاتی تو یقینا پکڑی جاتی ۔۔۔ باہر وہ اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے اپنی باقی دوستوں کا ویٹ کرنے لگی ۔۔۔ کچھ ہی دیر وہ سب ہنستی مسکراتی باہر نکلیں ۔۔۔ حیا نے اترا کر آبرو چڑھائے ۔۔۔

“واہ مان گئے حیا ۔۔۔ تم سے تو کچھ بھی ممکن ہے “

“حیا سلیمان نے کبھی بھی ہار نہیں مانی ۔۔۔ “

*****….

“کہاں رہ گئے ہو تم “ارتضی نے اس بار غصے سے فون پر وہاج سے کہا

“بس باہر پہنچ گیا ہوں تم بھی باہر نکلو ۔۔۔ بات ہم گاڑی میں ہی کر لیں اب ریسٹورنٹ میں بیٹھنے کا وقت نہیں ہے مریم کی کال آ رہی ہے ٫”وہاج کی بات سنتے ہی وہ باہر نکل گیا سامنے ہی وہ لڑکی اپنے دوستوں کے ہمراہ کھڑی تھی

” آئندہ حیا کو چیلنج کرنے سے پہلے سو بار سوچنا ۔۔۔”وہ لڑکی بڑا اترا کر بولی تو ارتضی ساری بات سمجھ گیا تھا ۔۔۔ چہرہ غصے سے لال ہو تھا کب سے وہ اسے بیوقوف بنا رہی تھی ۔۔۔ اپنی دوستوں سے لگائی شرط کی بنا پر۔۔۔ “وہ سیدھا چلتا ہوا حیا کے سامنے کھڑا ہوگیا

******…..

” منی اے منی “دیوار کی منڈیر پر چڑھی ثوبیہ نے سر پر دوپٹہ جما کر دائیں بائیں محتاط نظروں سے دیکھا لیکن وہ اکیلی ہی صحن میں موجود تھی اس لئے اسے آہستہ سے پکارا تا کہ آواز کوئی اور نا سن لے ۔۔۔ پندرہ سالہ منزہ صحن میں جھاڑو لگا رہی تھی سامنے دیوار پر نظر پڑتے ہی جھاڑو چھوڑ کر ثوبیہ کے پاس آگئ ۔۔۔

“ثوبی باجی ۔۔۔ کیا ہے “منزہ بھی دو چار سیڑیاں چڑھ کر دیوار کے سامنے اسکے مقابل کھڑی ہو کر بولی

” یہ خط شمس کو دینا ۔۔۔ “ثوبیہ نے شرگوشی میں کہا اور ایک رقعہ منزہ کو تھما دیا ۔۔ “اور خود نیچے اتر گئ ۔۔۔

دوپہر کا وقت تھا ۔۔۔اسکی اماں آرام کے غرض سے کمرے میں جا لیٹی تھی ۔۔۔ اور گھر پر نا باپ تھا نا بھائی اس لئے ثوبیہ کے لئے یہ کام آسان تھا ۔۔۔

شمس سے محبت کا سلسلہ پچھلے ایک سال سے چل رہا تھااور رازداں تھی شمس کی چھوٹی بہن منزہ ۔۔۔

لیکن ثوبیہ کے ابا سخت مزاج بہت تھے ۔۔۔ اور بھائی کا بھی یہی حال تھا ۔۔۔ بہن پر ہر وقت کی کڑی نظر رہتی تھی ۔۔۔ اپنے باپ بھائی کے سامنے تو وہ سر پر دوپٹہ اوڑھے یوں نظریں جھکائے رہتی جیسے سانس بھی انکی اجازت سے لیتی ہو ۔۔۔ لیکن چھپ چھپ کر غیر اخلاقی رسالے پڑھنا اس کا شوق تھا اور وہ اسے کالج سے اپنی سہیلیوں سے مل جاتے تھے ۔۔۔ کتابیں پڑھنے کے بہانے وہ بولڈ

رومانس رسالے اور ناول پڑھتی تھی ۔۔۔۔۔

کبھی کبھی ٹی وی پر چلنے والے سٹار پلس کے ڈرامے۔ کے رومانس سین پر وہ آنکھیں جھپکنا ہی بھول جاتی تھی تصور میں ہیروئن کی جگہ خود اور ہیرو کی جگہ شمس دیکھائی دینے لگتا ۔۔۔ یہ یک طرفہ محبت نہیں تھی شمس کے حواسوں پر بھی ثوبیہ ہی بھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

فون ثوبیہ کے پاس نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے کالج آتے جاتے راستے میں اگر شمس گاڑیوں کے ورک شاپ پر نظر آ جاتا تو ثوبیہ کی دلفریب مسکراہٹ کو دیکھ وہ بہانے سے اسے پاس سے گزرتے ہوئے خط اسکے ہاتھ میں تھما دیتا ۔۔۔

شمس کا خط تو اس لئے قیمتی خزانوں سے ذیادہ اہم تھا ۔۔۔ کچھ وہ اس کی خوبصورتی اور محبت کا اظہار بھی بے باک لفظوں سے کرتا تھا ۔۔۔ کبھی کبھی تو اس کے لفظ ثوبیہ کو شرم سے پانی پانی کر جاتے۔۔۔۔ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ خط پڑھتی ۔۔۔ پھر کوئی بے باک جمعلہ پڑھ کر خط لپیٹ کر۔۔ ہاتھ تیز دھڑکنوں پر رکھ کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتی ۔۔۔ چہرے پر آنے والے پسینے کو صاف کرتی ۔۔۔ محتاط نظروں سے دائیں بائیں دیکھتی بند دروازے سے بھی اندر کا خوف ڈرائے رکھتا کہ خط اسکے علاؤہ بھی کوئی پڑھ رہا ہے ۔۔۔۔ رات سوتے وقت شمس کی تحریروں کا اثر تھا کہ وہ اسکے لفظوں میں کھو سی جاتی تھی

لگتا تھا کے وہ اسکے ساتھ موجود ہے لکھے ہوئے لفظوں کو کہہ کر اسے مدحوش کرنے لگا ہے ۔۔۔ ایک عجیب سرور تھا ۔۔۔ جس میں کھونے لگ جاتی تھی ۔۔۔۔

******…….

“مولانا صاحب کیا بیٹے کو بھی حافظ بنانے کے بعد اپنی طرح مفتی بنائیں گئے ۔۔” ایک صاحب نے عبد الباسط کو ایک کونے میں بیٹھے دیکھ کر مولانا صاحب سے پوچھا ۔۔۔ جو مسجد کے صحن میں لوگوں کے مسلے مسائل اور اس کا حل بتا رہے تھے لیکن نکمے بیٹے کو نا پسندیدہ نظر سے دیکھ کر غصے اور تاسف کا ہنکارا بھرا

“ہنہ ایسے نصیب کہاں پچھلے آٹھ سال سے تو حفظ نہیں ہو پا موصوف سے اسکے ساتھ لگے لڑکے کب کے صنت یافتہ ہو چکے اور یہ ہے کہ ۔۔۔”مفتی صاحب نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔ عبد الباسط کارحجان کہیں اور تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔ جب نظر کی خواہش کچھ اور ہو دل کا لگنا کہیں اور مائل ہو چکا ہو تو ۔۔۔ قرآن کے لفظوں پر کہاں سے توجہ لاتا ۔۔۔ ۔۔

بارش کا کام ہے برسنا سیراب ہر کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔ کچھ گل پیاسے ہی رہ جاتے ہیں یہی حال عبد الباسط کا تھا ۔۔۔ باپ دین کا سر چشمہ تھا لوگوں کو ہدایت کی باتیں بتاتا تھا اور بیٹا ۔۔۔۔ بیٹے کی خواہشیں الگ تھیں ۔۔۔۔ وہ خواہش جو عموما اس عمر کے لڑکوں کو ہوتی ہے ۔۔۔۔ شادی کی ۔۔۔

“ضروری نہیں کہ مفتی کا بیٹا بھی مفتی ہی بنے” ۔۔۔۔۔ عبدالباسط یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیا۔۔۔۔ یہ نہیں کہ وہ بد کار تھا لیکن شادی کا خواہشمند تھا ۔۔۔ کچھ لوگوں میں یہ خواہش جلد ہی سر اٹھا لیتی ہے ۔۔۔ عبدالباسط کا رحجان بھی اپنی مخالف جنس کی طرف ذیادہ تھا ۔۔۔ ویسے وہ پنچ وقتہ نمازی تھا پیشانی پر سجدے کی مہر بڑی گہری تھی ۔۔۔ مگر آنکھوں کی چوری سے خود کو بعض نہیں کر سکا تھا ۔۔۔۔۔ شاید شادی کر دی جاتی تو خیالات مارچ بھی بدل جاتا

رات کو عبد الباسط اپنے دوستوں میں بیٹھا تھا جو سب ہی تقریبا اسی بے راہ روی کا شکار تھے ۔۔۔۔ لاہور کی تنگ گلیوں چھتوں کے ساتھ ملی چھتیوں والے گھر کے مکینوں میں کہاں کچھ پوشیدہ رہتا ہے ۔۔۔۔

لڑکے اپنی چھتیں پھلانگتے ہوئے ایک دوست کی چھت پر اکٹھے ہو گئے

“آج رات بڑے بازار چلیں گئے ‘” ایک دوست نے آنکھ دبا کر خباتث بھری مسکراہٹ سے کہا

“بڑا بازار یہ کون سا بازار ہے “عبدالباسط نافہمی سے پوچھنے لگا باقی لڑکے ہسنے لگے ۔۔۔۔

” لو اور سنو۔۔۔۔ ہمارے قاری صاحب کے اکلوتے سپوت کو بڑے بازار کا بھی نہیں پتہ ارے ۔۔۔ ایساشباب ہے کہ سب کچھ بھول جاؤں گئے۔۔۔ جہاں کے دن سوتے اور راتیں جاگتی ہیں۔۔۔۔ بس رات کے ایک بجے اسی چھت ہو اکھٹے ہو جانا ” ایک لڑکے نے رازداری سے سارا معاملہ طے کیا ۔۔۔۔ گرمیوں کا موسم تھا باقی سب صحن میں اور عبدالباسط چھت پر سونے چلا گیا ۔۔۔ گھر میں بس ایک وہی واحد لڑکا تھا باقی لڑکیوں کی لمبی لائن تھی ۔۔۔ چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی ۔۔۔۔ تین بہنیں بڑی تھیں اورتیں چھوٹی ۔۔۔۔ بڑی تین کی شادی ہوچکی تھی ۔۔۔۔ اور باپ کاارادہ تھا کہ چھوٹی تین کے فرض سے سبکدوش ہو کر ہی عبدالباسط کے بارے میں سوچیں گئے۔۔ وہی اسی فیصد پاکستانی سوچ کہ

‘” لڑکا ہی تو ہے ۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے اگر شادی کچھ تاخیر سے بھی ہو جائے پہلے اپنے پاؤں پر تو کھڑا ہو جائے بیٹیاں تو پہلے اپنے گھر کی ہوں بیٹے کا کیا ہے ہو جائے گی شادی “وہی عام سی سوچ جو کئ گھروں میں اب بھی سوچیں جاتی ہے ۔۔۔۔ یہ سمجھے بغیر کے لڑکا شادی کا خواہشمند ہے بلکہ اس خواہش میں بے راہ روی اختیار کرنے کے در ہر ہے ۔۔۔۔

رات کو سب دوست اکٹھے ہی بڑے بازار پہنچے واقع وہاں کی جگ مگ کرتی روشیناں دن کا سمے باندھے ہوئیں تھیں۔۔۔۔ ہر گھر سے گھنگھروں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی دوکانوں میں کہیں عطر کی خوشبوئیں گجرے ۔۔۔ کلیاں ۔۔۔ اور پان کی دوکانوں پر رش جما ہوا تھا ۔۔۔ انڈین پاکستانی واہیات گانوں کی دھنیں مل کر ایک عجیب و غریب کا لاگ بن گئیں تھیں ۔۔۔ منہ میں پان دبائے کہیں۔ دلال اپنے اپنے کوٹھوں کے نیچے کھڑے ۔۔۔ بولیاں لگا کر گاہک کو ہاتھ سے نا جانے دینے کی پوری کوشش میں لگے پڑے تھے ۔۔۔ عبد الباسط کے لئے سب کچھ نیا نیا تھا اس لئے ہر چیز کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ چوبیس برس کا ہو چکا تھا ۔۔مگر دل میں خوف۔ بہت تھا ۔۔۔۔دل سینے میں کسی خوفزدہ پرندے کی مانند پھڑ پھڑا رہا تھا ۔۔۔

اس کے دوست اسے ہمرہ لئے ایک پرانے سے گھر کی سیڑیاں چڑھ گئے سیڑیاں ختم ہوتے ہی صحن شروع ہو جاتا تھا جہاں گھنگھروں کی جھنکار اور ڈھول تھاپ کے ساتھ ہارمونیم بجانے والا بیٹھا منہ میں پان دبائے آنکھیں بند کیے گانے کی دھنوں کے ساتھ ساتھ ہی ہارمونیم پر بھی تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا

سارے گاما۔۔۔۔ سے لیکر ۔۔۔ تک تھئ تھاں۔۔۔ سارے راگ۔۔۔ وہ گانے کے بولوں۔ کے ساتھ خود ہی اضافہ کیے جا رہا تھا جیسے کسی بڑے نامور کلاسیکل فنکار کی شاگری میں رہ چکا ہو ۔۔۔ ایک بے ہنگم سا شور تھا ۔۔۔ذیادہ تر مردوں نے سفید پائجامے اور سفید ہی کرتے پہن رکھے تھے زمیں پر چاندنیاں بچھی ہوئی تھیں جن پر سفید چادریں بچھائی گئیں تھیں۔۔۔ گاؤ تکیے کناروں پر رکھے گئے تھے ۔۔۔جہاں۔۔ بڑے بڑے نواب رئیس اپنی پوری ٹھاٹ باٹھ سے براجمان تھے ۔۔۔۔ دلال نے پہلے تو سب کو پان پیش کیا ۔۔۔۔

سامنے تخت پر بیٹھی عمر رسیدہ خاتوں بس عمر ہی کی رسیدہ تھیں ورنہ چولی گھاگھرا پہنے فل میک اپ میں جوان لڑکیوں مات دے رہی تھیں ۔۔۔ اسی نے آوار لگائی

“آراء کو بلائیے ۔۔۔۔سب کو اسی کا انتظار ہے “

کچھ دیر میں ایک کمرے سے نکلنے والی حسنیہ پر سیٹیاں بجنی شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔ عبدالباسط کی نظر بھی اسی پر تھی ۔۔۔۔ جو سامنے نیلے رنگ کےبڑے سے گھیرے والے فراک کے ساتھ۔ چوڑی دار پائجامہ پہنے ۔۔۔ پورے ہار سنگھار کے ساتھ باہر آئی تھی ۔۔۔ لیکن آدھا گھوگھٹ نکالے ۔۔۔۔

۔۔۔۔ ایک بے ہنگم سا شور تھا جو تھم گیا تھا ۔۔۔نظروں نے بے تابیوں کو بڑھانا شروع کیا تھا۔۔۔۔

” غزل گائیے استاد صاحب ۔۔۔ ” شمع کی محفل میں پروانے ہزاروں ہیں”… لڑکی نے اپنی فرمائش اس ہارمونیم پر بیٹھے شخص سے کہی ۔۔۔ کیا آواز تھی کیا دھیمہ میٹھا لہجہ تھا ۔۔۔۔ وہ لڑکی تو اپنی آواز سے ہی چین چھننے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔۔۔۔ یہ غزل اگر وہ۔ خود گاتی تو شاید اپنے سرور سے مداحوں کاسکھ چین چھین لیتی ۔۔۔ عزل کے بولو پر اسکے پاؤں کے گھنگھروں بجنے لگے قدم کبھی آگے کبھی پیچھے۔۔ ہاتھ دائیں بائیں گھومنے لگے ۔۔ وہ پورا سمے لمحوں میں باندھ چکی تھی ہر شخص کی نظر بس اسی مہ جبین پر تھی

عبدالباسط کی نظر پہلے ناچنے والی کے پیروں پر پڑی سفید رنگت والے پاوں کے اوپری حصے پر لال سرخ مہندی کی گول ٹکیاں ۔۔۔ چوڑی دار پاجامے اور بڑے سے گھیر کے فراک میں جب وہ ۔مہ جبیں گول گھوم جاتی تو وہاں موجود لوگ بھی اسکے ساتھ جھوم سے جاتے ۔۔۔ بڑے سے ڈوپٹے سے آدھے سے زیادہ چہرہ گھوگھٹ سے چھپا ہوا تھا دکھ رہی تھی تو اس لڑکی کی مسکراہٹ اور مسکرانے سے۔۔پڑنے والا گال کے نیچے دلفریب سا ڈمپل ۔۔۔ ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک ۔۔۔ ایک ایک ادا اسکی دل لبھانے والی تھی ۔۔۔ سب کے دل مچل کر سینوں میں دہائی مچانے لگے اس کے آدھے ادھورے چہرے کو بے نقاب دیکھنے کے لئے مچل رہے تھے ۔۔۔۔

اور وہ حسینہ سب کا صبر آزما رہی تھی ۔۔۔ غزل کے کے اختتام پر وہ لڑکی آداب میں سر جھکائے یونہی ایک دروازے سے اندر چلی گئ ۔۔۔۔ عبد الباسط کے اشتیاق کا بھی وہی عالم تھا۔۔۔جو وہاں بیٹھے ہر شخص کا تھا کے اسے بے نقاب دیکھے ۔۔۔۔ لیکن حسرت ہی رہی ۔۔۔۔

نا پیسہ جیب میں نا ہی ایسا کوئی آسرا ۔۔۔ کہ کسی دوست سے ادھار پکڑ بھی لے تولوٹائے گا کیسے ۔۔۔۔ اس لئے دل کی خواہش دل میں دبائے وہ وہیں بیٹھا رہا ۔۔۔۔ اس کے دوستوں میں سے ایک کے پاس رقم موجود تھی ۔۔۔۔ اس لئے سودا کرنے وہی اٹھ کر گیا ۔۔۔۔ عبدالباسط کا دل چاہا کہ پیسے اس سے چھین کر خود کمرے میں جا کر اس لڑکی کو بے حجاب دیکھ لے جس کے ڈمپل میں اس کا دل کہیں اٹک چکا تھا ۔۔۔۔ ۔لیکن بات اس کے دوست کی بنی تھی وہ لڑکا ہوس بھری نظریں اور انداز لئے اس کمرے کے سامنے کھڑا ہوا دستک دی کمرے کا دروازہ کھلا جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا دروازہ بند ہوتے ہی عبدباسط کادل بھی بند ہوا تھا ۔۔۔ پھر دوسری لڑکی نے بھی ایک گانے پر اپنے فن کا مظاہرہ کیالیکن عبدالباسط بند دروازے پر تاک رہا جب تک اس کا دوست لوٹ کر نا آیا باقی سب کو وہیں بیٹھنا تھا ۔۔۔ دو گھنٹے گانے بجتے رہے ۔۔۔۔ مختلف لڑکیاں آتی رہیں مگر عبدالباسط کے لئے غیر اہم تھیں اہمیت تھی تو سامنے بند دروازے کے پیچھے چھی حسینہ کی طرف ۔۔۔۔۔ چند گھنٹے بعد دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔ عبدالباسط کی نظر اپنے دوست پر تھی جس کے چہرے کی چمک بتا رہی تھی کہ اس حسنہ کے حسن کی پوری قیمت وصول کر کے وہ لوٹا ہے ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ واپس لوٹ آئے لیکن عبدالباسط کو باقی رات اس لڑکی کے گھنگھروں کی جھنکار سنتے گزری ۔۔۔۔

*******……..

ارتضی کی گھورتی ہوئی نظروں پر حیا کی نظر پڑی تو سمجھ گئ کہ اسکی چوری پکڑی گئی ہے ۔۔۔

ارتضی چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا منہ سے کچھ نہیں بولا مگر نظروں بہت کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔

حیا نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔۔۔باقی کی دوستیں بھی تذبذب کا شکار ہو رہیں تھیں اس لئے گاڑی میں بیٹھ گئیں ۔۔۔

“حیا وہ انکل تو بہت غصے سے تمہیں گھور رہا تھا “سب سے ذیادہ اقراء گھبرائی تھی

“او کم آن یار پتہ چل بھی گیا تو چل جائے ۔۔۔ مجھے کوئی فکر نہیں ہے ۔۔۔۔ میراکون سااس سے دوبارہ پالا پڑنا ہے ۔۔۔۔ رات گئ بات گئ ۔۔۔ چیر اپ ۔۔۔ ٫حیا کو واقع نا اپنی غلطی کا احساس تھا نا افسوس

دوستوں کو انکے گھروں میں اتار کر تیز میوزک گاڑی میں لگائے انگلش سونگ کو وہ خود بھی گنگناتی ہوئی رف ڈرائیو کے ساتھ اپنے بنگلے کے سامنے گاڑی کھڑی کیے نان اسٹاپ ہارن بجانے لگی ۔۔۔۔ چوکیدار نے جلدی سے مین گیٹ کھولا گاڑی اندر پورچ پارک کر کے وہ بے نیازی سے نیچے اتری پرس پکڑے زور سے گاڑی کا فرنٹ ڈور بند کیا ۔۔۔۔ اور لاونج میں آ گئ ۔۔۔۔

سامنے ہی آغا جی(حیا کے والد ) ٹی وی نیوز لگائے بڑے انہماک سے کوئی خبر دیکھ رہے تھے ۔۔۔ حیا دبے پاؤں اس کی پشت کی طرف سے آگے بڑھتی ہوئی انکے قریب پہنچ گئ ایک مسکراہٹ تھی جو حیا کے چہرے پر سجی رہتی تھی ۔۔۔ اسکے چہرے کی خوبصورتی کو بڑھاتی تھی ۔۔۔۔اس نے اپنی دونوں بانہیں آغا جی کے گلے میں ڈال دیں ۔۔۔

۔”آغا جی ” دھیرے سے پیار بھرے انداز سے بولی

“میری جان آ گئ واپس “انہوں نے بھی پیار سے جواب دیا پھر وہ انکے ساتھ ہی بیٹھ گی

“جی آ گئ پتہ ہے آغا جی ہم دوستوں نے مل کر خوب انجوائے کیا ۔۔۔ بہت مزہ آیا “حیا نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” ارسل کی تین کالز آ چکی ہیں ۔۔۔ بار بار تمہارا پوچھ رہا تھا فون سائیلنٹ پر رکھ چھوڑا تھا تم نے ؟ ۔۔”

“آغا جی کے یاد دلانے پر حیا کو خیال آیا تھا ۔۔۔

“اوہ سوری آغا جی وہ اقراء نے کر دیا ہو گا ۔۔۔ “ایک جھوٹ جو بڑی معصومیت سے بولا گیا تھا ۔۔۔

“او کے جاؤں پہلے بات کر لو ویٹ کر رہا ہے تمہاری کال کا “آغا جی نے اسکی گال تھپتھپا کر کہا ۔۔۔۔

حیا اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔

فون پرس سے نکالا تو واقع ارسل کی بے شمار مس کالز آئی ہوئی تھیں ۔۔۔ حیا نے ارسل کا نمبر ملایا اور خود بیڈ پر ہی ڈھے گئ ۔۔۔

” حیا this is not fair ۔۔یار ۔ کب سے تمہیں کالز کر رہا ہوں ۔۔۔? where was you”

” ارسی I went out with friends dear …what happened to you “

حیا کو یوں ارسل کو اپنی صفائیاں دینا اچھا نہیں لگ رہا تھا

“I was really worried about you… Haya “

ارسل کی آواز سے بھی لگ رہا تھا کہ وہ فکرمند ہے

“یہ جو تم ہر وقت مجھ پر سوار رہتے ہو نا کسی بوتل کے جن کی طرح ۔۔سخت اریٹیٹ ہوتی ہوں میں ۔۔۔۔۔ پلیز ارسی میں یوں اپنی لائف تمہارے ساتھ spend نہیں کر سکتی

I like to fly in the air like free birds”

حیا اب اپنے ایک پاؤں سے دوسرے پاوں کے سینڈل اتار چکی تھی اور اب دوسرے پاؤں سے پہلے والے پیر کو ہائی ہیل سے آذاد کر رہی تھی ۔۔۔

” آئی نو۔۔لیکن ۔میں نے تو تمہیں خوش خبری سنانے کے لئے کال کی تھی کہ میں ایک مہنے تک پاکستان آ رہا ہوں “

ارسل کی بات سن کر حیا بے ساختہ سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی

“ارسی آر یو شیور ۔۔۔ بتایا کیوں نہیں یار کب سے ادھر ادھر کی ہانک رہے ہو “

” بس تمہیں تنگ بھی تو کرنا تھا ۔۔۔ “

“وری بیڈ میں ناراض ہوں تم سے “حیا نے اپنی چھوٹی سی ناک چڑھا کر کہا

” او کے جانو ۔۔۔ آکر تمہیں منا لوں گا ۔۔۔ ابھی تو بس اپنی فرمائشی لسٹ مجھے بھیج دینا پھر کہوں گی کہ ارسی یہ لے آئے ہو مجھے تو پسند نہیں آیا “ارسل کی بات پر وہ اترائی تھی

“کیوں نہیں ضرور ۔۔۔۔ تم اب روز میری فرمائشیں ہی سنا کروں گئے “

” معلوم ہے مجھے ۔۔۔ لڑکیوں کا شاپنگ سے کبھی دل نہیں بھرتا “

“اور حیا سلیمان کا تو بلکل نہیں بھرتا “

“حیا سلیمان صاحبہ بہت جلد اب آپ حیا ارسل بن جائیں گئ۔۔۔”

“ارسل ہوش میں آ جاؤں اچھا ۔۔۔ ابھی تو میں سکینڈ ائیر میں ہوں چار سال تک تو کوئی چانس نہیں ہے تمہارے پاس” ثیاں نے تیوری چڑھا کر کہا

“ایک بار مجھے واپس تو آتے تو ۔۔۔جانو چانس میں خود بنا لوں گا ۔۔”

“ارسی۔۔۔نو ۔۔۔ او کے ۔۔تم ایسا کچھ نہیں کروں گئے ۔۔۔ اٹلیس چار سال سے پہلے ہر گز نہیں “حیا خفگی دیکھانے لگی

” او کے پہلے آنے تو دو مجھے ۔۔۔ یہ بات عد میں ڈسائیڈ کریں گئے “

“او کے ۔۔ آئی ایم ٹائیڈ ارسی رات کو بات کروں گی “حیا اب اپنے کبڈ کی طرف ڑھ رہی تھی ۔۔۔ ایک ڈھیلا ڈھالی شرٹ اور ٹاوزر نکال رہی تھی ۔۔۔

“او کے پھر رات کو بات ہو گئ

حیا اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی ۔۔۔ ماں سوشل ورکر تھی اور باپ ایک بڑا بزنس مین ۔۔۔ پیسے کی رحیل پھیل تھی ۔۔۔۔ میڑک کرتے تھی اسکی پھپو نے اسے اپنے بیٹے سے منسوب کر دیا تھا ۔۔۔۔ ارسل سے وہ پہلے ہی بہت فرینک تھی اس لئے انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی ۔۔۔

پھر پھپو بھی دل وجان سے س پر نچھاور تھی

پھر ارسل کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک سال سے لندن میں تھا مگر باقاعدگی سے حیا سے بات کرتا تھا ۔۔۔ بڑی بے تکلفانہ گفتگوں تھی جو دونوں کے بیچ میں ہوتی تھی حیا گھر کے ماحول میں رچی بسی لڑکی تھی اچھی خاصی۔ ولڈ تھی شرما لجھانا اسے سرے سے آتا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ بس نام ہی حیا تھا ۔۔۔باقی وہ حیا کے مفہوم سے بھی نافہم تھی۔۔۔۔

*****…..

” یار ایک بار تم کالج آؤں تو میں پرنسپل سے بات کر۔ چکا ہوں۔۔۔ تمہارے ڈاکومنٹس کے بارے ۔میں بھی ڈسکس ہو۔ چکا ہے سمجھ لوں کے جاتے ہی نوکری پکی “

“مطلب سفارش ہی ہوئی نا ورنہ اانٹر ویو لئے بنا ہی مجھے ریجیکٹ کر دیا گیا تھا “ارتضی کو یہ ہر گز قبول نہیں تھا کہ سفارش پر نوکری کرے ۔۔۔

“ارے سفارش نہیں ہے میں نے تمہارے ڈاکومنٹس دیکھائے ہیں۔۔۔۔تم مل تو لو ان سے “

“ٹھیک ہے مل لیتا ہوں ۔۔۔ “ارتضی نے زبردستی کی مسکراہٹ سجا کر کہا

******……

تیز گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کی رات تھی ۔۔۔۔ رات کے تین بجے کا وقت تھا ۔۔۔۔ جب وہ عورت گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی درد سے کراہ رہی تھی

“تانی میری جان بس کچھ دیر اور برداشت کر لو ۔۔۔ ہم کچھ دیر میں ہی ہاسپٹل پہنچ جائیں گئے ۔۔۔۔

“اس کا شوہر اسے تسلی دے رہا تھا لیکن سڑکوں پر اس قدر پانی تھا کہ گاڑیاں آدھی آدھی پانی ڈوبی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ عورت کے لئے درد نا قابل برداشت ہو رہا تھا چہرے پسینے سے تر تھا ۔۔۔۔ گاڑی کی سیٹ کو کس کے پکڑے وہ صبر کے لمحوں سے گزر رہی تھی ۔۔۔ اس کا شوہر حد درجہ پریشان تھا باہر طوفان ایسا تھا کہ رھنے کو تیار نہیں تھا گاڑی کا انجن تک پانی میں ڈال چکا تھا ۔۔۔۔ جہاں وہ تھا وہاں گاڑیوں کا ذیادہ رش نہیں تھا نا ہونے کے برابر ٹریفک تھی اب وہ اپنی گاڑی سے اتر کر لوگوں سے مدد مانگنے لگا لیکن سب کو اپنی پڑی تھی کوئی ساتھ لگ کر اسکی گاڑی پانی سے نکالنے کو تیار نہیں ہو رہے تھے وہ کبھی بھاگ بھاگ کر ایک ایک سے مدد طلب کرتا کبھی خود ہی گاڑی کو دھکیلنے کی کوشش کرنے لگتا ۔۔۔ گھٹنوں تک وہ پانی میں ڈوبا ہوا تھا پورے کپڑے بارش سے بھیگ چکے تھے ۔۔۔ لیکن فکر اپنی بیوی کی تھی ۔۔۔ جو زچکی کی تکلیف سے بے حال ہو رہی تھی ۔۔۔ کبھی وہ فرنٹ ڈور کی کھڑکی سے اسے تسلی دیتا مگر اسکی غیر ہوتی حالت کے پی نظر اس نے گاڑی لوک کی اپنی بیوی کو گود میں لئے پیدل ہی کسی قریبی ہاسپٹل میں لے جانے لگا ۔۔۔۔۔ پندرہ۔ یس منٹ کی مسافت پر ایک چھوٹا سا ہاسپٹل اسے نظر آیا اسی میں وہ اسے لے گیا ۔۔۔

ہاسپٹل کے اسٹاف نے فوراسے اسے اسٹیچر پر لیٹایا ۔۔۔

ایک لیڈی ڈاکٹر نے چیک اپ کیا اور نرس کو کہا کہ وہ خاتون کو لیبر روم میں لے جائیں ۔۔۔۔وہ ڈاکٹر خود بھی ساتھ چلی گئ ۔۔۔۔ گھڑی کی سوئیاں سست روئی سے چل رہی۔ تھیں آدھے گھنٹے کے صبر آزما ہو کر اس شخص نے وقت گزرا تھا ایک ایک لمحہ بیوی بچے کی زندگی کی دعائیں مانگیں تھیں ۔۔۔ لیبر روم کا دروازہ کھلا

” ۔۔۔۔ اللہ نے آپ کو بیٹے سے نوازہ ہے لیکن “ڈاکٹر کے چہرے پر خوشی کے رنگ کے بجائے افسردگی تھی

اس شخص کی جان پر بنی تھی

وہ تیزی سے ڈاکٹر کے پاس پہنچا تھا

“لیکن کیا ڈاکٹر تانیہ تو ٹھیک ہے نا ۔۔۔ میری بیوی “

“شی از نو مور “ڈاکٹر نے پل میں اسے موت کے گھاٹ اتارا تھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا

“تانی ” وہ زور سے چلایا تھا تھا ۔۔۔ چہرہ پسینے سے شرابور تھا ۔۔۔ لمپ کی مدھم سی روشنی اور اے سی کی کولنگ میں بھی پورے جسم کے مسام سے پسینہ پوٹ رہا تھا دل کی دھڑکنیں اس قدر زور سے چل رہیں تھیں جیسے بیچ کے کئی سال غائب ہو گئے ہوں ۔۔۔ اور آج ہی اس نے اپنی محبوب بیوی کی موت کی خبر سنی ہو ۔۔۔ اپنی ریولونگ چیر پر بیٹھا وہ کوئی کتاب پڑھتے پڑھتے سو چکا تھا ۔۔۔ مگر اس حقیقی خواب نے اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا

*******…….

ارتضی کو کالج میں نوکری مل گئ تھی ۔۔۔۔ کالج پراویٹ تھا ۔۔۔ اور اسلام آباد کے ماڈرن ایریا میں واقع تھا ۔۔۔۔ وہاں آنے والے اسٹوڈنٹ بھی ذیادہ تر اپر کلاس سے تعلق رکھتے تھے ۔۔اسکی۔ تنخواہ اچھی تھی ۔۔۔ بلکہ بہت زیادہ تھی ۔۔۔ اسی قسم کی نوکری کہ وہ تلاش میں کب سے تھا ۔۔۔۔لیکن اپنی محبت اور اپنی صلاحیتوں کے۔ بل بوتے پر یہ نوکری حاصل کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔لیکن احسان پھر دوست کا ہی لینا پڑا جو پہلے اسی کالج ۔میں پروفیسر تھا ۔۔۔۔

کالج لڑکے لڑکیوں کا اکھٹا تھا ۔۔۔۔ انگلش لیٹویچر کی پہلی کلاس اسکی سکینڈ ائیر میں تھی ۔۔۔۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی ۔۔۔۔شور مچاتے اسٹوڈنٹ خاموشی سے بیٹھ گئے ارتصی نے اپناتعارف کروایا ۔۔۔۔ تعارفی کلاس تھی اس لئے سب اسٹوڈنٹ سے وہ بس نام ہی پوچھ رہا تھا کہ جب اسکی نظر بیج کی رو میں بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی جو منہ کے سامنے کتاب کیے پہلی ہی نشست پر بیٹھی تھی ۔۔۔ جب اسکے تعارف کی باری آئی تو ۔۔۔ آواز میں واضع لڑکھڑاہٹ سی تھی ۔۔۔

“ح۔۔ح۔۔ “وہ ح پر ہی اٹکی ہوئی تھی ارتصی اسکی سیٹ کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا

“پہلے تو یہ کتاب پیچھے کریں اپنی۔۔۔۔ یہ کون سا طریقہ ہے استاد سے بات کرنے کا کھڑی ہو جائیں آپ ۔۔۔ ” ارتصی کا لہجہ متوازن اور سنجیدہ تھا وہ لڑکی جھٹ سے کھڑی ہو گئ لیکن کتاب اب بھی چہرے کے سامنے تھی ۔۔۔

“اب یہ کتاب ہٹائیں ۔۔۔”ارتصی نے دوبارہ کہا تو دھیرے دھیرے کتاب اسکے چہرے سے ہٹی تھی سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی جس نے دو دن پہلے اسے بیوقوف۔ بنایا تھا ۔۔۔۔ اتنی جلدی تو وہ اسکو بھول نہیں سکتا تھا ۔۔۔ وہ شرمندہ سی نظریں جھکائے کھڑی تھی

“ہمم مس حیا سلیمان “اس کا تعارف ارتصی نے خود کروایا تھا