Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 26
Rate this Novel
Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 26
Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani
صبح سے آرء کی طعبت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔ سر چکرا رہا تھا رات کو رقص کرتے ہوئے وہ چکر کر گر گئ تھی ۔۔۔ جہان بیگم تو پریشان ہو کر رہ گئ تھی جب ڈاکٹر کے پاس لے کر گئ اور جو خبر ڈاکٹر نے سنائی تھی جہان بیگم کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔ پچھلے دو ماہ سے وہ کوٹھے پر واپس آ چکی تھی ۔۔ اور یہ خبر اس نے اپنی ماں سے چھپائی تھی کہ امید سے ہے ۔۔۔
گھر لا کر جہان بیگم نے بڑی سختی سے آرء سے بات کی تھی
” تو جانتی تھی یہ سب ” وہ بلند لہجے سے بولی
” ہاں ۔۔۔ جانتی تھی “آرء نے انکار نہیں کیا سب کچھ تو کھل چکا تھا
” حرام جادی مجھے کاہے ناہی بتایا تو نے دو مہنے تو نے چپ چاپ سے گزار کیسے لئے ” آرء کی کمر پر اس نے پورے زور سے مارا تھا ۔۔۔ وہ بڑی ہمت سے سہہ گئ تھی
” ۔۔۔ علی ہمزہ تو مجھے ناہی چھوڑے گا۔۔۔کم بخت کل ہی اس حرام کے پلے کو ختم کرواتی ہوں میں” جہاں بیگم غصے سے پاگل ہورہی تھی آرء بدک کر پیچھے ہٹی تھی
” حرام کا ناہی ہے یہ اماں خبردار جو میرے بچے کو مارنے کوشش کی تو ۔۔۔ ” وہ بہت زور سے چلائی تھی ۔۔۔ جہان بیگم نے اسے پہلے دھکا دے کر گرایا تھا ۔۔ پھر اپنے پیر سے ہے در پے کئ ظربیں اسکے پیٹ لگائیں تھیں وہ بلک کر رہ گئ تھی ۔۔
” اسے تو ۔میں آج ہی ختم کر دوں ۔۔۔” جہاں بیگم پر کوئی جنون سا سوار ہوا تھا ۔۔۔ ہمت کر کے نیلو آگے بڑی تھی ۔۔۔ اس نے جہان بیگم کو پیچھے گیا جو مار مار کر خود بھی ہانپ سی گئ تھی پھر نیلو آرء کو سہارہ دے کر کمرے میں لے گئ وہ پیٹ پکڑے رونے لگی اگلے دن جہان بیگم اسے ڈاکٹر پر لے گئ ۔۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کرنے سے پہلے جہان بیگم کو باہر بھیج دیا ۔۔۔ آرء نے ہاتھ جوڑ کر اس لیڈی ڈاکٹر کی منت کی تھی کہ اسکے بچے کو کچھ نا کرے ۔۔۔ ڈاکٹر نے اسے تسلی دی تھی اس کی بات بھی مان لی جہان بیگم سے بھی کہہ دیا کہ اگر آرء کا آبوشن کروانے کی کوشش کی تو وہ بھی مر جائے گی ۔۔۔۔ یہ خبر سن کر علی ہمزہ کی حالت ایسی تھی کہ اپنے بال نوچ ڈالے ۔۔۔
فلم تو بننی ممکن نہیں تھی اس لئے اس نے آرء سے موڈلنگ کرانی شروع کر دی ۔۔۔ عروسی لباس میں ریمپ پر وہ چلتی ہوئی بہت سو کے ہوش اڑا دیتی تھی ۔۔۔ رسالوں میں اسکی تصاویر چھپنے لگیں ۔۔۔ کئ پوسٹر دیواروں اور دوکانوں کی زینت بھی بن گئے۔۔ گو کہ ماڈلنگ کی دنیا میں وہ چند ماہ میں چھا کر رہ گئ تھی ۔۔۔ علی ہمزہ فلم کے بنا ہی ماڈلنگ میں ہی ڈبل سے زیادہ کما چکا تھا ۔۔۔ ساتھ ساتھ ہارون الرشید سے وہ کافی حد تک لکھنا پڑھنا سیکھ چکی تھی ۔۔۔ سب جسم کچھ ظاہر ہونے لگا تھا اس لئے وہ سرخ رنگ کی شال جو عبداالباسط نے اسے دی تھی وہ اوڑھنے لگی تھی ۔۔۔ اب باہر کہیں نہیں جاتی تھی ۔۔۔ اتفاق تھا یا عبدالباسط کی محبت میں صدق اسے اب تک عبداالباسط کے علاؤہ کسی دوسرے مرد نے چھوا تک نہیں تھا ۔۔۔
پہلے پہلے تو جہان بیگم اسے دور کی کرتی رہیں دھتکارتی رہی ۔۔۔ لیکن چھٹے مہینے اس کا بہت خیال رکھنے لگی تھیں ۔۔۔ اسکی خوراک پر خاص توجہ دے رہی تھی ۔۔۔
ایک بار رات کو آرء کو پیاس محسوس ہوئی وہ پانی پینے کے لئے باہر آئی تو جہان بیگم نیلو آپس میں بات کر رہی تھی
” نیلو میرے تو وارے نیارے ہی ہو گئے ہیں ۔۔۔ ڈاکٹر بتا رہی تھی اس نے مشین سے دیکھا کہ آرء ایک بچی کی ماں بننے والی ہے ۔۔۔ ارے میرے تو بھاگ ہی کھل گئے ۔۔۔ آرء تو بس آگلے دس پندرہ سال ہی کما سکتی ہے جب تک وہ بڈھی ہو گی اسکی۔ چھوری جوان ہو جائے گی ۔۔۔ اللہ کرے حسن۔۔جہاں آرء جیسا ہو ۔۔۔ بس نیلو خیال رکھا کر آرء کا رات کو دودھ کا بڑا والا گلاس روز پلانا اسے ” آرء کی جانب ان دونوں کی پشت تھی وہ وہیں سے پلٹ گئ کمرے میں آ کر پلنگ پر بیٹھ کر رونے لگی
” بیٹی ۔۔۔۔ میری بیٹی ۔۔۔۔ میرے عبدالباسط کی بیٹی ۔۔۔ ایک وحشیا ۔۔ ناہی ۔۔۔ نا میرے اللہ یہ آزمائش نا دینا مجھے ۔۔۔ اس کا باپ بہت نیک ہے تیرا نام لیوا ہے ۔۔۔ تیرے قرآن کا پڑھنے والا ہے ۔۔۔۔ نیچی نگاہوں والا ہے ۔۔۔ اسکی بیٹی کی حفاظت فرما یا پھر تواپنی قدرت سے اسکی جنس بدل دے ۔۔۔ “باقی کی رات اس نے مسلے پر روتے ہوئے کاٹی تھی دن میں اس نے ایک خط ہارون الرشید کو دیا
” یہ کیا ہے بہن ” ہارون الرشید نے ایک کاغذ کا رقعہ پکڑ کر پوچھا
” اسے اس پتے پر پوسٹ کر دینا ماسٹر ۔۔۔ “
“کس کا پتہ ہے یہ “
” میرے شوہر کا “پھر روتے ہوئے ساری بات ہارون الرشید کو بتادی ۔۔۔
” دیکھ میری بیٹی کا باپ بڑا نیک ہے ۔۔۔ میں اسے اسکے حوالے کرنا چاہتی ہوں ۔۔ میری مدد کر دے ” ہارون رشید نے
ہامی بھر لی خط بھی پوسٹ کر دیا مگر جواب نہیں آیا تین ماہ بھی گزر گئے تھے ۔۔۔ یہ تین ماہ آرء کے رو کر گزرے تھے ۔۔۔ اللہ سے دعائیں مانگتے گزرے تھے ۔۔۔۔ سکون تب ملا تھا جب ڈاکٹر نے بتایا کہ اللہ نے اسے بیٹے سے نوازہ ہے
پہلی بار جب آرء نے اسے گود میں لیا تو عبداالباسط بڑی شدت سے یاد آیا تھا ۔۔۔ اس بچے کے چہرے کے نقوش رنگت وہ عبداالباسط کا دوسرا روپ تھا ۔۔۔
” آرء میری خواہش ہے ہمارا سب سے پہلے بیٹا ہو ۔۔۔ ” فارم ہاؤس کے باغ کے بینچ پر بیٹھے آرء اسکے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موندے بیٹھی تھی کافی دیر کی خاموشی کے بعد عبدالباسط نے جب یہ کہا تو آرء نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا وہ آرء کو ہی دیکھ رہا تھا
” ایسا کیوں “
” بس ایک خواہش ہے ۔۔ اگر میرا بیٹا ہوا تو جازم نام رکھوں گا اس کا “
” جازم کیوں ۔۔ کوئی اپنے جیسا بڑا سا مشکل سا نام رکھنا پکا مولویوں والا ۔۔۔۔ “
“جازم کا مطلب ہے پختہ۔۔۔ نا ٹوٹنے والا ۔۔۔ میں چاہتا وہ بھی ایمان پر پختگی سے چلے ۔۔۔۔۔ میرے ارادے کی طرح ۔۔۔ آرء میری زندگی میں آنے والی تم پہلی عورت ہو ۔۔۔ اور آخری بھی ۔۔۔۔ ” عبداالباسط کی بات پر وہ مسکرائی تھی
” اور آرء کے دل میں آنے والے تم پہلے مرد ہو اور آخری بھی ۔۔۔ ” اپنے بازو عبد الباسط کے گلے ڈالے وہ پھر سے آنکھیں موندے گئ تھی ۔۔۔ اس نے آرء کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں پر لگا تھا ۔۔۔
آرء کی آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ کر نکل کر جازم کے چہرے پر گرے تھے ۔۔۔ یہ پہلا تحفہ تھا جو جازم کو اپنی ماں سے پیدائش کے بعد ملا تھا ۔۔۔ عجیب بچہ تھا وہ ۔۔ عام بچوں کی طرح رویا نہیں تھا ۔۔۔۔
نا ہی آنکھیں بند کیے سو رہا تھا بلکہ پوری آنکھیں۔ کھولے آرء کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ آرء نے اسے سینے سے بھینچا تھا ۔۔۔ ممتا کی ٹھنڈک کیا ہوتی ہے اس وقت کوئی آرء سے پوچھتا ۔۔۔۔ جی چاہا کے اسے سینے کے اندر ہی اتار لے اولاد کی محبت اور اسکی تڑپ ۔۔۔ اپنے سامنے اپنے بچے کو دیکھنے کے بعد اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔۔۔ اسکا ننھا سا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر لگا کر وہ بے تحاشہ روئی تھی ۔۔۔ عبداالباسط ہوتا تو نا جانے کتنا خوش ہوتا
رات تک وہ واپس گھر آ چکی تھی ۔۔۔
لیکن جہان بیگم کا منہ بنا ہوا تھا ۔۔۔ آرء مسکرائی تھی ۔۔۔ جانتی تھی کہ ماں کے ارمانوں پر پانی پھر گیا ہے
دل میں رب کا شکر ادا کیا تھا کہ اس نے بیٹی نہیں دی ۔۔۔ اپنے قدرت سے اسے راضی کر دیا ۔۔۔ آرء کو ہارون الرشید کا انتظار تھا وہ اسے کافی دن سے پڑھانے نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
آرء بس جازم کو پیار کرتی ہی نظر آتی تھی جہان بیگم کا منہ بنا ہوا تھا
“ہنہ کم بخت مارا ۔۔۔ بڑا ہو بھی گیا تو کون سا افسر لگ جائے گا اپنی ماں کا دلال ہی بنے گا سالا ” جہان بیگم کی بات جیسے آرء کو اندر تک چھبی تھی ۔۔۔ دو دن کے بچے کو کیسا گندا لفظ دیا تھا اس نے ۔۔۔
” اماں ۔۔۔ اللہ کرے تو مر جائے ۔۔۔ شرم ناہی آتی تجھے ۔۔۔ دو دن کے بچے کے لئے یہ کہتے ہوئے ۔۔۔ “
“کم بخت ماری اس حرامی کے لئے تو مجھے بد دعا دے گی اپنی ماں کو “
“ماں “ہے” تو۔۔۔۔۔ تجھے پتہ بھی ہے ماں کیا ہوتی ہے ۔۔۔
کاش ایسی مائیں مر ہی جائیں تو اچھا ہے ۔۔۔ میرا بیٹا ناہی بنے گا ۔دلال۔۔ اسکے باپ سے کہوں گی آ کے لے جائے اسے۔۔۔۔۔ اپنی طرح۔ بڑا نیک آدمی بنائے اسے “
“ہنہ نیک آدمی ۔۔۔۔ کوٹھے پر پیدا ہونے والے مردوں کی قسم صرف دلال بننا ہی لکھی ہوتی ہے ۔۔۔بڑی آئی نیک بنائے گی اسے ۔۔۔ لڑکی ہوتی تو پورے بازار حسن میں جشن مناتی میں ” جہان بیگم کا قلق ابھی بھی کم نہیں ہو رہا تھا لیکن آرء پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔ اگلے روز ہارون الرشید بکھری ہوئی حالت میں وہاں پہنچا تھا ۔۔۔ ڈیلیوری کے دوران بیوی اور بچے کو کھو چکا تھا ۔۔۔۔ جن کی خاطر آرء کو پڑھانا شروع کیا تھا وہ مقصد ہی باقی نہیں رہا تھا ۔۔ بس منع کرنے آیا تھا اور آرء سے آخری ملاقات کرنے بھی ۔۔۔۔
لیکن جب اسکی گود میں پیارا سا بیٹا دیکھا تو وقتی طور پر اپنا دکھ بھول گیا
” بہت مبارک ہو بہنا ۔۔۔ اللہ بچے کے نصیب اچھے کرے ” جازم کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
” یہاں رہنے والے بچوں کے نصیب تو مدتوں سے ایک جیسے چل رہے ہیں ماسٹر ۔۔ بیٹی ہو جائے تو وحشیا اور بیٹا ہو تو دلال ۔۔۔ یہاں بچوں کی پہچان باپ نہیں بنتے ۔۔۔ ماں بنتی ہے ۔۔۔ وہ ساری زندگی ماں کی پہچان سے جانے پہچانے جاتے ہیں ۔۔۔۔ باپ کا پتہ ہی ناہی ہوتا کہ کون تھا ۔۔۔۔ خیر تم سناؤں تمہاری بیوی کے کیا ہوا “
” وہ مر گئ اور بچہ بھی ” یہ کہتے ہی ہارون الرشید رونے لگا تھا آرء کو بھی افسوس ہونے لگا ۔۔۔ بیچارہ اپنی بیوی بچے کی خاطر کہاں کہاں دھکے نہیں کھا رہا تھا ۔۔۔
” اوہ بڑا دکھ ہوا سن کر ” وہ افسردگی سے بولی
” بس اللہ کی مرضی ہے ۔۔۔ ہم بے بس ہیں اسکے حکم کے سامنے ۔۔۔ “ہارون الرشید نے اپنے آنسوں پونچے
” میں بس یہی کہنے آیا تھا کہ اب پڑھانے نہیں آؤں گا جن کے لئے یہ سب کر رہا تھا وہ تو رہے نہیں اب کیا کروں گا پیسے کما کر۔۔۔ ” یہ کہہ وہ جانے لگا لیکن آرء نے اسے روک لیا
” سن ماسٹر ۔۔۔۔ تو ایک کام کر ۔۔۔۔میرا جازم لے جا اپنے ساتھ “آرء کی بات سن کر وہ حیران ہوا تھا پل میں آرء نے فیصلہ کیا تھا
“لیکن بہن تم کیا کروں گی ۔۔۔ میں ایک چھوٹے سے بچے کو ماں سے جدا کیسے کر سکتا ہوں “ہارون الرشید حیران تھا
“تو کب کر رہا ہے۔۔۔ میں کر رہی ہوں ۔۔۔ یہاں اس کا کوئی مستقبل ناہی ہے ۔۔۔ میں چاہ کر بھی اسے ایک افسر ناہی بنا سکتی ۔۔۔ میں نے اس کا نام جازم رکھا ہے پر تجھے اختیار ہے جو چاہے رکھ دے بس اسے اپنے جیسا نیک انسان بنانا ۔۔۔ پڑھا لکھا دین کی سمجھ والا ۔۔۔ اس کا باپ بہت نیک ہے اسکی تربیت بھی ایسی ہی کرنا زندگی میں اگر کبھی وہ مل گیا تو کہہ تو سکون گی کہ یہ تیرا بیٹا ہے۔۔۔ عبداالباسط بلکل تیرے جیسا نیک ۔۔۔ بس ماسٹر مجھ سے وعدہ کر کہ تو اسے کبھی بھی یہاں کارستہ ناہی بتائے گا ۔۔۔ کبھی بھی یہاں مت بھیجے گا ” یہ کہہ کر آرء نے پہلے جازم کو سینے سے بھینچا تھا اسے پھر بے تحاشہ چومنے لگی ساتھ ساتھ آنسوں بھی بہا رہی تھی ۔۔۔ ہارون الرشید اسے بے قراری سے پیار کرتے دیکھ رہا تھا لیکن انکار نہیں کر پایا جینے کا سہارا جو مل رہا تھا ۔۔۔ اتنے بڑے غم کا مداوا مل گیا تھا جازم کی شکل میں ۔۔۔
آرء نے جازم کو اسکی گود ۔میں ڈالا اور تیزی سے اپنے کمرے ۔میں چلی گئ دروازہ بند کر لیا ۔۔۔
بے تحاشہ رونے لگی پلٹ کر اسے جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی
*****…….
صبح جب حیا کی آنکھ کھلی ارتضی اور رومان جا چکے تھے لاونج کے ٹیبل پر آملیٹ ڈھکا ہوا تھاہاٹ پاٹ میں بریڈ سنکی رکھی تھی ۔۔۔ فلاسک میں چائے بھی موجود تھی ۔۔۔۔ حیا کو کچھ حیرت ہوئی تھی ۔۔۔
یہ ناشتے کا احسان ارتضی نے اس پر کیوں کیا تھا ۔۔۔ لیکن خیر وہ پہلے ہی ایسے کاموں سے جان چھڑاتی تھی اس لئے آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کیا تھا ۔۔۔۔ پھر کچن میں اپنے۔ برتن رکھنے گئ تو کچن بھی صاف تھا صرف وہی برتن دھونے والے تھے جو حیا کے ہاتھ میں تھے ۔۔۔ اسٹو پر کھانا بھی بنا ہوا تھا حیا نے جب پتلی کا ڈھکن اٹھایا تو چکن کا کوئی سالن تھا ۔۔۔
” بڑی مہربانیاں ہو رہیں مجھ پر ورنہ تو شاہی ڈش ہی مان نہیں تھی یہاں ۔۔۔ ” گھر بھی صاف تھا حیا کے پاس کوئی کام نہیں تھا ۔کرنے کے لئے ۔۔ اس لئے واپس ارتضی کے کمرے میں آ گئ اپنے کپڑے تو خیر سے وہیں چھوڑ آئی تھی اور دو دن سے وہی انار کلی فراک میں تھی ۔۔۔ اب تو ان کپڑوں میں الجھن سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
پہلی بار اس نے ارتضی کا واڈراب کھولا تھا ۔۔۔۔ ساری شرٹس پریس ہو کر ہینگ تھیں انہیں الٹ پلٹ کر کے الماری واپس بند کر دی
” سارے کے سارے بوڑھوں والے رنگ ہیں ذرا بھی اچھی کلیکشن نہیں ہے ۔۔۔۔ ہاں تو خود بھی ایسے ہی ہیں انکل ٹائپ ۔۔۔ ظاہر ہے چوائس بھی ایسی ہی ہو گی اس سے بہتر ہے کہ میں رومی کے کپڑے ہی پہن لوں نہا دھو وہ وہی رومی کے ٹراوزر شرٹ پہلے سکون میں آئی تھی ۔۔۔
رومان اور ارتضی اکھٹے ہی واپس آئے تھے روٹیاں وہ بازار سے ہی لیکر آیا تھا ۔۔۔۔
حیا لاونج میں بیٹھی تھی رومی اسے سلام کر کے اپنے کمرے میں چینج کرنے چلا گیا ارتضی نے روٹیاں ہاٹ پاٹ میں رکھیں ۔۔۔ اور کچن میں چلا گیا حیا اسکے پیچھے کچن میں آ گئ وہ اب کھانا گرم کر رہا تھا
” آپ رہنے دیں کھانا میں گرم کر کے میں ٹیبل پر لگا دیتی ہوں ۔۔۔۔ ” حیا نے بھی تمیز سے بات کی تھی
” اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ میری روز کی روٹین لائف ہے ۔۔تمہارے لئے میں نے تندور کی روٹی نہیں لی چپاتی لی ہے وہ کچھ گھر کی روٹی جیسی ہی ہوتی ہے اس لئے ٹھیک سے کھانا آدھی روٹی کھا کر اٹھ مت جانا ۔۔۔ ” ارتصی کی اس بات پر بھی وہ متحیر ہوئی تھی ۔۔۔
رات تک ارتضی نے اسے کوئی کام کرنے نہیں دیا تھا ۔۔۔ وہ رومان کے کمرے سے تکیہ لیکر لاونج کے صوفے پر لیٹنے لگی ارتضی اس وقت چکن سمیٹ کر باہر نکلا تھا
” تم کمرے میرے میں سو جایا کرو ۔۔ اب سردی بڑھ رہی ہے لاونج ٹھیک نہیں ہے تمہارے لئے ” حیا اب اسکی مہربانیوں کا مطلب غلط طرز سے لینے لگی تھی ایک دم سے یکسر بدلا ہوا رویہ حیا کو کہاں ہضم ہو سکتا تھا
” نہیں میں یہی ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” حیا صوفے پر ہی بیٹھ گئ
” حیا میں رومی کے ساتھ مینج کر لوں گا ۔۔۔ تم میرے کمرے میں آرام سے رہ سکتی ہو کوئی تمہیں ڈسٹرب نہیں کرے گا ۔۔۔ “
” آپ مجھے ہوسپٹل کب لیکر جائیں گئے ۔۔۔ ” حیا جلد جلد راہیں الگ کرنا چاہتی تھی وہ کچن کے پاس ہی کھڑا تھا
” کافی پیو گئ میں اپنے لئے بنانے جا رہا ہوں پینی ہے تو بتا دو ” ارتضی نے موضوع بدلہ تھا حیا اس کے رویے سے مزید الجھی تھی ۔۔ وہ کہیں سے پہلے والا ارتضی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ لہجہ بھی دھیمہ تھا اس سے بات بھی اچھے انداز سے کر رہا تھا ۔۔۔ سردی تو اسے لگ رہی تھی کافی کا سن کر کافی پینے کا دل بھی چاہنے لگا لگا تھا اس لئے اثبات میں سر ہلانے کچھ ہی دیر میں دو کپ کافی اس نے صوفے سامنے رکھے ٹیبل پر رکھ دیے ۔۔
اور خود بھی اسکے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔ اپنا کپ پکڑ کر کچھ دیر یہ سوچتا رہا کہ بات کیسے شروع کرے ۔۔۔
” میں سوچ رہا ہوں کیوں نا ہم دوستی کر لیں ” حیا جو کافی کا کپ پکڑے ابھی پینے ہی لگی تھی ارتضی کی بات سن کر اچھنمبے میں آئی تھی آپ ء سارے اندیشے درست لگنے لگے تھے
“جی ” حیرت سے آنکھیں کھولے اس نے پوچھا تھا جواب وہ صرف مسکرا ہی پایا تھا
” دیکھوں نا لڑنے کی میری عادت ہے نہیں ۔۔۔ نا ہی میں ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ پسند کرتا ہوں رومی سے بھی میرا رویہ دوستوں جیسا ہی ہے۔۔ اس لئے تم سے بھی یہی چاہتا ہوں ۔۔۔ “
” مجھے آپ ہوسپٹل کب لے جا جائیں گئے “حیا نے اسکی بات کو نظر انداز کیا تھا ۔۔۔
” حیا یہ میری بات کا جواب نہیں ہے ” وہ بہت رسانیت سے بولا
“دیکھیں میں آپ سے کہہ چکی ہوں کہ میں نے آپ سے نکاح صرف آپ کو بچانے کے لئے کیا تھا ۔۔۔ میں آپ کو پسند نہیں کرتی ۔۔۔ نا ہی ایسا کوئی رشتہ نبھانا چاہتی ہوں مجھے ارسل سے محبت ہے اور شادی بھی اسی سے کروں گی ۔۔۔ ” حیا کی باتیں سن کر وہ متحیر ہوا تھا غصہ بھی آنے لگا تھا اسکی سوچ پر افسوس بھی ہوا تھا
” کیا لگتا ہے تمہیں ۔۔۔ میں تم سے ایسے کسی رشتے کے حوالے سے کوئی حق جمانے کا شوق رکھتا ہوں ” ارتضی کا لہجہ سخت ہوا تھا
” آپ مجھے بیوقوف مت سمجھیں ۔۔۔ یہ جو صبح سے آپ مجھ پر مہربانیوں کی بارش کر رہے ہیں سب سمجھتی ہوں میں آپ خود سوچیں میری اور آپ کی عمر میں کتنا فرق ہے۔۔۔ انکل لگتے ہیں آپ میرے ۔۔۔ ” حیا کی بات پر ارتضی کے تلوں پر لگی تھی اور سر پر جا بجھی تھی اپنا کافی کا کپ اس۔ نے پٹخ کر ٹیبل پر رکھا تھا ۔۔۔
” کیا سمجھتی ہو تم مجھے مرا جا رہا ہوں تم پر ۔۔۔۔۔ “وہ حیرت اور استزائیہ انداز سے مسکرایا تھا پھر اپناغصہ ضبط کر کے بولا
“ہو کیا تم۔۔۔ ہاں ۔۔۔ تم سے کئ گنا ذیادہ خوبصورت میری بیوی تھی ۔۔۔ اور جتنی وہ حسین تھی اتنی ہی فرمابردار بھی ۔۔اور دھیمے مزاج کی ۔۔۔ تم تو اس قابل بھی نہیں ہو کہ تم سے سیدھے منہ بات بھی کی جائے ۔۔۔ ایک بات کان کھول کر سن لو میری ۔۔۔ میری اور تمہاری عمر میں فرق نا بھی ہوتا ۔۔۔۔۔ تب بھی میں تمہیں ہر گز بھی اپنا لائف پارٹنر کبھی نا چنتا ۔۔۔ تم میرے ٹائپ کی نہیں ہو ۔۔۔ مجھے سلجھی ہوئی لڑکیاں پسند ہیں تم جیسی افلاطونی قسم کی نہیں ۔۔۔ جنہیں بات کرنے ۔۔۔پہنے اوڑھنے کی تمیز نا ہو۔۔۔ حلیہ دیکھوں جا کر اپنا لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں جیسی تم ہو ۔۔۔تمہارے لئے تمہارا وہ کزن ہی سو فیصد ٹھیک ہے ۔۔ میں تم سے بات کچھ اور کرنا چاہتا لیکن ۔۔ شاید تمہیں سامنے والے کو زچ کرنے کی عادت ہے ۔۔۔ گھٹیا سمجھتی ہو
مجھے۔۔ کہ تمہارا ذراسا خیال میں اس لئے رکھوں گا کہ تم پر حق جما سکوں ۔۔۔ ” ارتضی کاغصے سے برا حال تھا حیا اپنی بات کہہ کر پچھتائی تھی
” ایم سوری مجھے لگا ” حیا کی بات ابھی منہ میں تھی وہ چلا اٹھا
” کیا لگا تمہیں ۔۔۔۔ حیا ہر شخص نفس کا پجاری نہیں ہوتا ۔۔۔ بہت ضبط ہے مجھ میں ۔۔۔ انسان ہوں اور انسانوں کی طرح رہنا بھی جانتا ہوں ۔۔۔ آئندہ
مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنا ذہن بلکل آئنے کی طرح صاف رکھنا ۔۔ جو بات میں تم سے کرنا چاہتا تھا اس ۔میں تمہارا بھی فایدہ تھا لیکن اب کرنا ممکن نہیں ہے کل کروں گا۔۔۔ ” یہ کہہ وہ اٹھ کر رومی کے کمرے میں چلا گیا دروازہ بھی زور سے بند کیا تھا ۔۔۔
” حیا کو پھر سے شرمندگی نے آن گھیرا تھا
” کیا ضرورت تھی مجھے یہ سب کہنے کی ۔۔ پتہ نہیں
مجھے ہوسپٹل لیکر بھی جائیں گئے کہ نہیں ” اسے اب بھی اپنی فکر تھی
******…….
جہان بیگم اب بیمار رہنے لگی تھی ۔۔۔ کچھ ہی دنوں میں ایسابخار ہوا کے بستر سے جا لگی ۔۔۔ آرء ماں کی خدمت تو کر رہی لیکن چپ چاپ سے۔۔۔ بات نہیں کرتی تھی ۔۔۔
دن با دن ٹھیک ہونے کے بجائے جب جہان بیگم کی حالت بگڑتی ہی چلی گئ تو ایک دن آرء کے سامنے رو پڑی
” کیسی بیٹی ہے تو ۔۔۔ ماں کو بد دعا دیتی ہے ۔۔۔ دیکھ تیری بد دعا لگ گئ مجھے ۔۔۔ اب ناہی بچوں گی میں ” وہ اکھڑے اکھڑے سانس بھر رہی تھی
” اماں مولانی ناہی ہوں میں ۔۔۔ جو کہہ دوں تو اللہ میری اتنی جلدی سن کر مان لے ورنہ ۔۔۔۔ وہ نا آ جاتا مجھے لینے ۔۔۔ مجھے لگا تھا جب یہ سنے گا کہ میں اسکے بچے کی ماں بننے والی ہوں تو دوڑا چلا آئے گا ۔۔۔ پر وہ ناہی آیا ۔۔۔ روج اس کے آنے کی دعا کرتی ہوں ۔۔۔ کیا ایک بار بھی آیا وہ ۔۔۔ ناہی نا ۔۔۔
تو پھر تیرے لئے کہے لفظ تو میں نے غصے سے صرف منہ سے کہے تھے دل سے فورا توبہ کر لی تھی ۔۔۔ بیمار ہے تو ہو جائے گی ٹھیک اٹھ ۔۔۔ اٹھ کر دوا پی لے ۔۔۔ کل لے جاؤں گی تجھے ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔ ” آرء کی آنکھوں نمی تھی عبداالباسط ایک خواب سا بنکر رہ گیا تھا ۔۔۔ آرء نے جہان بیگم کی اٹھنے میں مدد کی دوا دے کر سلا دیا ۔۔ لیکن اگلے روز وہ اٹھی نہیں تھی ۔۔۔۔ ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سو چکی تھی ۔۔۔۔ سب لڑکیاں روئیں تھیں ۔۔۔۔ سوگ منایا تھا نیلو پر تو بار بار غشی کے دورے پڑے تھے ۔۔۔ لیکن آرء ۔۔۔ آرء کی آنکھ سے ایک آنسوں نہیں ٹپکا تھا ۔۔۔۔۔ چار دن گزرنے کے بعد وہ برقعہ اوڑھے عبدالباسط کے پتے پر جا پہنچی تھی ۔۔۔۔ راستہ صاف تھا کوئی رکاوٹ نہیں تھی ۔۔۔۔ ایک بار اس سے ملنا چاہتی تھی اسے دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ آنکھوں کی پیاس کہاں بجھتی ہے ۔۔۔۔ دل کی تڑپ تھی کہ اسے عبداالباسط کی چوکھٹ پر لے آئی تھی ۔۔۔۔ لیکن گھر کے پتے پر تالا لگا تھا آس پڑوس سے پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ تو کب کے گاؤں جا چکے ۔۔۔ نااسے گاؤں کا نام معلوم تھا نا گاؤں کا پتہ ۔۔۔۔ بھاری دل سے لوٹی تھی ۔۔۔ صحن میں نیلو بے چینی سے چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔
” آرء ۔۔۔۔ کہا گئ تھی تو “
٫ “تجھے اس سے مطلب ۔۔۔ ” آرء نے چٹخ کر جواب دیا
” ادھر آ میرے ساتھ”” وہ اس کا ہاتھ پکڑے تخت پر لے گئ دونوں ہی وہاں بیٹھ گئیں آرء نقاب اتارنے لگی
” دیکھ تیرے جانے کے بعد بڑی آپا آئی تھی یہاں ۔۔۔ کہہ رہی تھی جہان کے بعد اگر کسی نے کوٹھہ نا سنبھالا تو وہ خود آ کر ہمارے سر پر بیٹھ جائے گی ۔۔۔ اور اگر کسی بھی چھوری نے نکلنے کی کوشش کی تو چار بدمعاش بیٹھا دے گی کوٹھے پر ۔۔۔ آرء یہ نا سمجھے کہ ماں مر گئی تو وہ آزاد ہو گئ یا تو ماں کی جگہ سنبھالے یا بھی اپنا آپ آپاں کی سر پرستی میں دیدے ۔۔۔ تجھے پتہ ہے آپاں کیسی ہے جہان بیگم میں تو پھر رحم تھا ۔۔۔ آرء اگر تو چلی گئ تو ہمہیں تو دن رات چکلے پر بیٹھا دے گی کمبخت ماری ۔۔۔ یہ دیکھ ہاتھ جوڑتی تیرے سامنے ۔۔۔ جہاں بیگم کی جگہ سنبھالے لے ۔۔۔ ” نیلو روتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔
عبداالباسط کو ڈھونڈنا اس کے بس میں نہیں تھا ۔۔۔۔ اور بڑی آپاں فرعون کا دوسرا روپ تھی ۔۔۔
اس لئے رات کو جب بڑی آپاں آئی تو آرء نے اس کے سامنے اقرار نامہ دیا تھا کہ اپنی ماں کی جگہ وہ سنبھالے گی اور یہاں سے کبھی جانےکی کوشش نہیں کرے گی ۔۔۔ اپنا نام بھی آرء سے بدل کر نور جہاں رکھ لیا ۔۔۔۔ سب لڑکیوں نے شکر کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔ بس یہ ہوا تھا کہ وہ پیسے اپنے پاس نہیں رکھتی تھی ۔۔۔ جس لڑکی کے ہوتے اسے دے دیتی تھی ۔۔۔
جو گھر پکتا تھا وہ کھا لیتی تھی ۔۔۔ خود اس نے یہ کام چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔ نماز اب بھی پابندی سے پڑھتی تھی ۔۔۔ اپنا معاملہ اللہ پے چھوڑ دیا تھا جائے نماز پر بیٹھے یہی دعا کرتی تھی
” اے اللہ میں حرام کھانے پر مجبور ہوں یہاں سے گئ تو پیچھے رہنی والیوں کے اوپر فرعون مسلط ہو جائیں گئے اور میں نے بھی کہیں نوکری کر لی تب بھی میری پہچان مجھے وہاں رہنے نہیں دے گی ۔۔۔ کوئی عورت یہ ناہی برداشت کرے گی کہ کوئی ایسی عورت اس کے گھر پر کام کرے جو کوٹھے سے اٹھ کر آئی ہو ۔۔۔ اسے تو یہ دھڑکا لگا رہے گا کہ میں اسکے مرد کو اس سے بھی۔لوں گی اسے کیا خبر کے جو مرد بیوی ہوتے ہوئے بھی دوسری عورت کے پاس خود چل کر آئے اسے بھلا کون روک سکتا ہے ۔۔۔۔ میرے سر پر کوئی سر پرست ہوتا تو میں یہ کام ہر گز نا کرتی ۔۔۔۔۔
لوگ مسجدوں میں خیرات کرتے ہیں بڑی بڑی مسجدیں اور مداس بنواتے ہیں ثواب کماتے ہیں کاش کے ایسی عورتوں کی کفالت بھی کر دیا کریں جن کا کوئی سر پرست ناہی ہوتا ۔۔۔ تو شاید یہ کوٹھے بند ہو جائیں یہاں پر رہنے والی اسی فیصد عورتیں خوشی سے جسم فروشی کا کام ناہی کرتیں اس لئے کرتی ہیں کہ دوسرا ہر راستہ انکے لئے بند ہو جاتا ہے ایک ہی بچتا ہے اور وہ ہے زنا کاری ۔۔۔۔ ۔۔۔کیونکہ پیٹ سب کو لگا اور پیٹ کا ایندھن روٹی سے ہی بھرتا ہے چائے وہ حلال کے پیسوں سے آتی ہو یا حرام کے پیسوں سے ۔۔۔ مجھے عبداالباسط نے بتایا تھا کہ میرا اللہ اپنے معاملے میں ایک عمل پر بھی بخش دیتا ہے ۔۔۔ یہ معاملہ بھی تیرا میرا ہے میرے مالک ۔۔۔ میں گناہ نا کرنے پر اب با اختیار ہوں اس لئے کبھی ناہی کروں گی ۔۔۔ لیکن دوسروں پر اختیار ناہی ہے میرا ۔۔۔ بس ان رحم کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ تو نیت سے واقف ہے میرے ہر عمل سے بھی ۔۔۔ اس لئے تجھ سے رحم کی طلبگار ہوں ۔۔۔ “
اس کے بعد کوئی سوالی بھی ایسا نہیں تھا جو نور جہاں کے کوٹھے سے بنا پیٹ بھرے گزرا ہو ۔۔۔
نئ آنے والی مجبور لڑکیاں جو محبت کے چکر میں گھر سے بھاگ جاتی تھی اور وہ لڑکے چار دن عیاشی کر کے انہیں کوٹھے پر چھوڑ جاتے تھے ان کو وہ بڑی آپاں کے علم میں لائے بغیر ان کے گھر والوں کے سپرد کر دیتی تھی ۔۔۔ اور انہیں بھی سمجھاتی تھی عورت کے لئے عزت بڑی چیز ہے ۔۔۔ محبت کی خاطر عزت کا سودا مت کروں بازار حسن ایک دلدل ہے۔ وہاں غلطی سے بھی پاؤں مت رکھوں ورنہ ایسی اذیتوں کادلدل ہے جو روح تک کو دھنسا لیتا ہے ۔۔۔ بظاہر آذاد نظر آنے والی عورت بھی آذاد نہیں ہوتی ۔۔۔۔
گھر والوں سے بھی یہی کہتی کہ بیٹیوں کی اس غلطی پر گھر سے نکالنے کی غلطی وہ بھی نا کریں ۔۔۔ باہر جنگل کے بھیڑیوں کی طرح لوگ تاک لگائے گھومتے ہیں۔۔۔
اگر کسی بچی کے ساتھ ذیادتی ہو بھی گئ ہے تو پردہ ڈالنا سیکھوں ۔۔۔۔ کئ لڑکیوں کو اس نے بازار حسن سے رات کے اندھیرے میں نکالا تھا ۔۔۔۔ لیکن جو لڑکیاں بے سہار تھیں یاواپسی کی راہیں بند تھی وہ مجبور تھیں یہ سب کرنے پر ۔۔۔۔
جب ثوبیہ اسکے پاس آئی تو اپنی گزشتہ زندگی سے ناواقف تھی ۔۔۔ چند باتیں ہی خود کے بارے میں جانتی تھی خوفزدہ تھی ۔۔۔
خوبصورت بھی بلا کی تھی ۔۔۔۔ آرء کو لگا کہ کسی نے ذیادتی کی ہے ۔۔۔ اس لئے ذہنی توازن کچھ کھو بیٹھی ہے اس کارونا تڑپنا آرء کا دل پسیج گیا تھا اس لئے اپنے بیٹے کا خیال آیا تھا ۔۔۔
جازم کو تو کوئی عزتدار لڑکی مل جاتی لیکن اس لڑکی کو سہارا اگر مل جائے تو کیا برا ہے وہ جانتی تھی کہ جازم اسکی بات پر انکار نہیں کرے گا ۔۔۔ پھر اسکی لڑکیوں میں۔ دلچسپی نہیں تھی
وہ اسے سنبھال بھی لے گا
” جتنا سچ میں جانتی وہ تجھے بتا دیا ہے ۔۔۔۔ سہارا بنے گا اس کا ؟ میں جانتی ہوں کہ وہ لڑکی تیری طرح پاکدامن ناہی ہے “
” امی حقیقت سے منہ موڑ لینے سے سچ کب چھپتا ہے ۔۔۔۔ میں بھی ایک طوائف کا بیٹا ہوں ۔۔۔ بے فکر رہیں سنبھال لوں اسے ۔۔۔۔ پوری ایمانداری سے رشتہ نبھاؤں گا اس کے ساتھ ۔۔۔ اسکے کسی حق سے اسے محروم نہیں کروں گا ۔۔۔ لیکن ایک وعدہ آپ سے بھی مجھے چاہیے بنا کسی سوال اور اعتراض کے میری ایک بات اپنے ماننی ہے۔۔۔۔ “جازم نے اپنا ہاتھ آرء کی جانب بڑھایا تھا اس نے فورا سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا
” مجھے منظور ہے ” آرء بنا سنے ہی اپنا ہاتھ جازم کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
******…….
دوسرے دن حیا صبح جلدی اٹھ گئ تھی اپنی رات والی بات پر اتنا افسوس نہیں تھا لیکن ارتضی سے مطلب ضرور تھا ۔۔۔ رومان اور ارتضی اسکول کے لئے تیار ہو رہے تھے اس لئے حیا کچن میں جلدی سے ناشتہ بنانے لگی ۔۔۔ جب ارتضی کچن میں آیا کچن کا حشر بگڑا ہوا تھا شلف پر پیاز اور ٹماٹر کے چھلکے ۔۔۔ انڈوں کے خالی خول ۔۔۔ بریڈ کھلی ہوئی کافی سلائس شلف پر ہی گرے ہوئے تھے حیا میڈیم چولہے کے سامنے فرائی پین کی فل آگ جلائے آملیٹ ڈالتے ہوئے ڈر رہی تھی ۔۔۔دوسری طرف چائے کی کیتلی بھی رکھی تھی ۔۔۔ اسکے نیچے آگ ٹھیک تھی۔۔۔ارتضی نے اس کے ہاتھ سے مکسچر کا باؤل پکڑا
” تمہارے بس کی بات نہیں ہے یہ ۔۔۔ سب سے پہلے اس نے آگ ہلکی کی
“اتنی تیز آگ اور اتنے گرم آئل میں تم یہ آملیٹ ڈالوں گی تو ایسی آگ اوپر کیطرف اٹھے کہ چلاتے ہوئے چکن سے نکلو گی ۔۔۔ ہٹو پیچھے ” ارتضی کے کہنے پر وہ ذرا سا پیچھے ہوئی تھی
” آپ بس بتائیں کہ کیسے بنے گا ۔۔۔۔ مجھے یہ خود بنانا ہے ۔۔۔ مجھے بھی آنا چاہیے یہ سب ” ارتضی اب آملیٹ کو فرائی پین میں ڈال کر آملیٹ کے آمیزے کو پھیلا رہا تھا ۔۔۔ حیا کی بات بھی مدافعانہ انداز سے سنی تھی
” کیا کروں گی سیکھ کر تمہارے ارسل کے گھر میں تو بہت نوکر ہوں گئے ۔۔۔۔ تمہارے نخرے اٹھا لیں گئے ورنہ تمہارا باپ ملازمہ ساتھ بھیج دے گا ۔۔۔ ” ارتضی کے طنز کا مطلب وہ جانتی تھی
” ایم سوری ۔۔۔ میں نے آپ کو غلط سمجھا ۔۔۔ آئندہ ایسا نہیں کہو گی ” ۔۔۔ وہ شرمسار سی ہو کر بولی جانتی تھی کہ وہ کس بات پر۔ خفا تھا
” اٹس او کے ۔۔۔ قہوے میں دودھ ڈالو آملیٹ میں خود بنا لوں گا حیا نے صرف چائے ہی بنائی تھی ۔۔۔ ناشتہ کر کے رومان اور ارتضی اسکول جا چکے تھے ۔۔۔
جب وہ لوگ اسکول سے لوٹے حیا کھانا گرم کر کے ٹیبل پر رکھ رہی تھی ۔۔۔ اسے لگا کہ ارتضی خوش ہو جائے گا ۔۔۔ لیکن وہ بے تاثر ہی نظر آ رہا تھا ۔۔۔ رات تک وہ رومان کے پاس ہی بیٹھی رہی اسکے کمرے میں۔۔۔۔ جانتی تھی جب تک وہ رومان کے کمرے میں ہے ارتضی اندر نہیں آئے گا رومان اس سے باتیں کرتے کرتے سو چکا تھا ۔۔۔
وہ اٹھ کر لاونج میں آئی تو لاونج خالی تھا کمرے کا دروازہ بھی آدھا کھلا ہوا تھا ۔۔۔۔ دبے پاؤں اندر آئی تھی۔۔۔ اصل مقصد یہی تھا کہ کسی بھی طرح ارتضی اسے ہوسپٹل لے جائے ۔۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھا ایک تصویر دیکھ رہا تھا اس سے باتیں کر رہا تھا ۔۔۔
” تانی اچھی وفا نبھائی ہے تم نے مجھ سے یار ۔۔۔۔ وعدے عمر بھر ساتھ رہنے کے کیے تھے ۔۔۔ پھر کیوں اکیلا چھوڑ گئ مجھے ۔۔۔ ” حیا نے دروازہ نوک کیا تو وہ چونک سا گیا تھا حیا کو دیکھ کھڑا ہو گیا جلدی سے الماری کی طرف بڑھا الماری کھول کر دراز میں تانیہ کی تصویر رکھی اور الماری بند کر دی ۔۔۔۔
پھر کمرے سے باہر نکلنے لگا
” مجھے آپ سے بات کرنی ہے “حیا نے اسے۔ کمرے سے نکلتے دیکھ کر کہا وہ دوبارہ سے اندر آ گیا ۔۔۔
” مجھے ڈاکٹر پر کب لیکر جائیں گئے ” حیا کا ایک وہی سوال تھا ۔۔
” آؤں بیٹھوں ۔۔۔ ” ارتضی نے بیڈ کی جانب اشارہ کیاوہ چپ چاپ بیٹھ گئ ۔۔۔
” حیا ۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ جو بات میں تم سے کہوں تم اسے پوزٹیو وئے سے سوچو ۔۔۔اور سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔ ” بات کی ابتدا ارتضی نے ہی کی تھی
” جی کہیں “
” دیکھوں تم اگر آبوشن کروا لیتی ہو تو کیا سمجھتی ہو تمہیں ارسل اپنا لے گا ۔۔۔؟ نہیں ہر مرد اتنا با ظرف ہر گز نہیں ہوتا ۔۔۔ لیکن اگر تم تھوڑا سا صبر کر لو اور ۔۔۔ اور اس بچے کو جنم دے دو تو ہم اس لڑکے پر کیس کر سکتے ہیں ” ارتضی کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ وہ ہتھے سے اکھڑی تھی
” ہر گز بھی نہیں ۔۔۔۔ مجھے ایسا کچھ نہیں کرنا ۔۔۔ میں ایسا نہیں چاہتی ۔۔۔ آپ میرا زیور واپس کریں۔۔۔۔ میں یہ اذیت مزید نہیں پال سکتی ۔۔۔ ارسل نے مجھ شادی کرنی ہے کرے نہیں کرنی نا کرے ۔۔۔ لیکن اس عذاب سے مجھے خلاصی چاہئیے ” وہ حد درجہ پریشانی سے بولی
” لیکن مجھے اپنی عزت واپس چاہیے حیا میں یہ کیس کرنا چاہتا ہوں”
” آپ کیا سمجھتے ہیں ۔۔۔ آپ جیت جائیں گئے ۔۔۔ “۔” ہاں جیت جاؤں گا اگر تم میرا ساتھ دو تو ۔۔۔
ویڈیو بنانے والے نے ویڈیو تو بنالی تھی لیکن وہ کیمرہ بند کرنا بھول گیا اس میں آذر کی باتیں ریکوڈ ہیں جو تم سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ میرے پاس آنے کے لئے ۔۔۔ مجھ پر الزام لگانے کے لئے ۔۔۔لیکن صرف ویڈیو کافی نہیں ہے ۔۔۔ اگر تم میری بات مان لو تو اس بچے کے ڈی این اے کی رپورٹ سے آذر مجرم ثابت ہو جائے گا ۔۔۔ میں اس پر اسوقت کیس کرنا چاہتا جب میرے پاس مکمل ثبوت ہوں اور تم میرا ساتھ دو ۔۔۔۔دیکھوں بات میڈیا میں پھیل جائے گی رپورٹرز کو ایسی دھواں دار خبروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ جنہیں وہ بڑا چڑھا دیکھا کر پیسے کما سکیں ۔۔۔ اور ایک سیاست دان کے بیٹے کی خبر ان کے نیوز چینل کے لئے سود مند ثابت ہو گئ ایک کھیل اس نے ہمارے ساتھ کھیلا ہے ۔۔ ایک کھیل سب ہم اس کے ساتھ کھیل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بار آذر پھنس گیا تو اس کا باپ بھی اسے نکال نہیں پائے گا ۔۔۔ سب کے سامنے تم بے قصور ہو جاؤں گی اور میں بھی ۔۔۔۔۔ پھر ارسل بھی تمہیں اپنا لے گا ورنہ ابھی تم جتنی مرضی اپنی صفائیاں دیتی رہو وہ ایک بات نہیں سنے گا” ارتضی کی بات درست تھی
” مجھے پھر بھی منظور نہیں آپ سمجھتے نہیں ہے میں بھول جانا چاہتی ہوں سب کچھ ۔۔۔ جو حادثہ میرے ساتھ ہوا بہت سی لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔ عدالت میں کب کسی کو انصاف ملا ہے کب کسی کی سنوائی ہوئی ہے جو مجھے انصاف ملے گا ۔۔۔ میں اس آذر ہمدانی کے گناہ کو اپنے وجود کا حصہ نہیں بنا سکتی ۔۔۔ آپ میری تکلیف کو نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔۔ چار لڑکوں کے سامنے جس شخص نے میرے ساتھ زیاتی کی ہے ۔۔۔
مجھے یہ ہی کب بھولتا ہے ۔۔۔ پھر اسی کے نا جائز بچے کو جنم دوں اسے اپنے وجود کا حصہ بناؤں ۔۔۔ کیا سمجھتے ہیں آپ ۔۔۔ یہ آسان ہے ؟ نہیں۔۔۔ پل پل کی موت ہے میرے لئے ۔۔۔ لیکن آپ کو کیا لگے ۔۔۔ ایک عورت ہوتے تو سمجھ سکتے میری اذیت کو ۔۔۔ “
” میں اب بھی سمجھتا ہوں ‘
” نہیں سمجھتے آپ۔۔۔ ایک نا جائز بچے کو دنیا کا حصہ میں کیسے بنا دوں۔۔۔ بتائیے مجھے ۔۔۔ کیس ہم جیت بھی گئے وہ کون رکھے گا اس بچے کو اور میں تو شکل تک نہیں دیکھوں اس بچے کی ۔۔۔ کون رکھے گااس بچے کو ۔۔۔ کون پالتا ہے کسی کی ناجائز اولاد کو ۔۔۔کیوں کہ آپ نہیں سمجھ سکتے ایک شریف باپ کے بیٹے ہیں آپ اچھا خاندان ہے سب کچھ ہے ۔۔۔ اسی لئے دنیا کے سامنے سر اٹھا کر جی رہےہیں ۔۔۔ کسی کی ہوس کا سامان ہوتے پتہ چلتا
” حیا کا ترش لہجہ اورتلخ الفاظ اسکے سارے زخم جیسے ادھیڑ چکے تھے
” کیا جانتی ہو تم میرے بارے میں ۔۔۔ کس کی اولاد ہوں میں ۔۔۔ کون سا خاندان ہے میرا۔۔۔۔ جانتی ہو میں ایک طوائف کا بیٹا ہوں ” ارتضی کے منہ یہ سن کر حیا پتھر کی ہوئی تھی
” جس کوٹھے سے تمہیں اس دن واپس لایا تھا میری ماں کا کوٹھہ تھا وہ ۔۔۔ میری رگوں میں ایک طوائف کا خون دوڑتا ہے ۔۔۔ ہر اذیت سہی ہے میں نے ۔۔۔ بہت تلخ زندگی گزاری ہے ۔۔۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ کیا ہو گا اس شخص کے لئے جس کی ماں کئ سال غیر مردوں کی ہوس کا سامان بنی ہو
رہ گیا یہ سوال کہ اس بچے کو کون پالے گا تو میں پال لوں گا ۔۔۔ لیکن اس بار میں مصصم ارادہ باندھ چکا ہوں ۔۔۔ آذر کو نہیں۔ چھوڑوں گا تمہیں سب کے سامنے بے قصور ثابت کروں گا ہر قیمت پر ۔۔۔۔ کوئی آبوشن نہیں کرواں گا تمہارا ۔۔۔ ” ارتضی یہ کہہ کر جا چکا تھا حیا بس اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھی ۔۔۔ دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔ بازار حسن کا مطلب اب سمجھ آیا تھا ۔۔۔۔۔۔ طوائف کیا ہوتی ہے یہ وہ جانتی تھی لیکن بازار حسن انہی سے آباد تھا یہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔
اپنا کھایا ہوا تھپڑ اسے اب جائز لگ رہا تھا ۔۔۔۔ ارتضی کا اسے واپس لانا اسے خود پر کیا گیا ارتضی کا احسان لگ رہا تھا ورنہ جو اذیت اس نے آذر سے برداشت کی تھی۔۔۔ وہ کوٹھے پر ہر روز سہنی پڑتی ۔۔۔۔ حیا کو بری طرح سے جھرجھری سی آئی تھی پورے وجود ۔میں جیسے چونٹیاں سی رینگنے لگیں۔ تھیں ۔۔۔۔ انجانے میں کس جہنم میں پہچنے والی تھی وہ ۔۔۔ جیسے جیسے وہ حقیقت کے بارے میں سوچ رہی تھی تنفس بری طرح سے چل رہا تھا آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے تھے ۔۔۔۔ کیا تھا وہ شخص۔۔۔۔ کس اذیت سے گزر چکا تھا ۔۔۔۔ واقع مشکل امر تھا لیکن وہ سہہ چکا تھا
اس کے وجود میں پلنے والے بچے کے باپ کو وہ جانتی تھی لیکن جو ابھی اٹھ کر اس کے سامنے سے گیا اسے تو شاید اپنے باپ کا بھی پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔ حیا کی سسکیاں بلند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ رو رہی تھی کرب سے اذیت سے لیکن کس کے لئے یہ نہیں جان پا رہی تھی ۔۔۔۔
” میں نے انہیں مزید تکلیف میں ڈال دیا ۔۔۔ کیوں مانی آذر کی بات ۔۔۔ کیوں الزام لگایا ان پر ۔۔۔اور اب بھی وہ مجھے بے قصور ثابت کرنا چاہتا ہے
میری جنگ خود لڑنا چاہتا ہے ۔۔۔۔” حیا رو رہی تھی نئے سرے سے سوچنے لگی تھی آذر سے نفرت تو اسے بھی تھی اور یہ بھی سچ تھا ۔۔۔ کہ اگر وہ بے قصور ثابت ہو جائے تو ارسل اسے اپنا لے گا
جس دن اس نے ارتضی پر الزام لگایا تھا اس کے فلیٹ میں آکر رومان کے کمرے میں بیٹھ کر خوب روئی تھی ۔۔۔۔ اسی وقت ارسل کی کال آئی تھی
” حیا یہ سب کیا تھا ۔۔۔ تمہیں ضرورت کیا تھی اس بات کو پھیلانے کی ۔۔۔ سب کو یہ بتانے کی کیا تمہارے ساتھ ہوا کیا ہے “
۔” ارسل میں مجبورتھی۔۔۔ ” حیا نے اسے ساری بات سچ بتا دی تھی سب کچھ سن کر وہ بولا
” جو ہوا برا ہوا ہے لیکن تم بھی تو سوچوں دنیا کو ۔میں کیسے فیس کروں گا ۔۔۔ یہ سننا آسان نہیں ہوتا کہ وہ دیکھوں یہ وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ ریپ ہوا تھا ۔۔۔۔ میں اپنے سرکل میں منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہوں گا ۔۔۔۔ ہاں اگر تم تھوڑا عقل سے لیتی تو اس پروفیسر پر کیس کر کے خود کو بے قصور ثابت کر لیتی پھر شاید میں تمہیں اپنا بھی لیتا ۔۔۔ “
” ارسل انکا قصور نہیں تھا “
” میں تمہارے ساتھ اسطرح سے نہیں چل سکتا حیا ۔۔۔ جا رہا ہوں میں ۔۔۔ مجھ سے ہر رشتہ ختم سمجھوں ” یہ کہہ کر اس ے فون بند کر کے آف کر دیا تھا حیا نے کئ بار اسے کال کی لیکن اس نے نہیں اٹھائیں ۔۔۔ پہلے تو خوب روتی رہی اسکے بعد رومان کی الماری کھول کر ایک ٹراوزر شرٹ نکال کر نہانے چلی گئ ۔۔۔ باہر نکل کر بھی وہ اپنی بد قسمتی پر دو ہی رہی تھی جب رومان اندر داخل ہوا تھا اس نے اسے دیکھ کر اپنے آنسوں پونچے تھے۔۔۔۔ بس اسے خبرکے ختم ہونے کا انتظار تھا ۔۔۔ اسے لگا باپ غصے سے بولا رہا ہے
کچھ وقت گزرنے کے بعد اسے اپنا ہی لے گا ۔۔۔ارسل بھی شاید مان جائے لیکن یہ سب اسکی خام خیالی تھی ۔۔۔۔ پوری رات سوچنے کے بعد وہ ایک نتیجے پر پہنچ گئ تھی
