Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani NovelR50413 Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 20

378.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kya Karo Dard Kam Nai Hota Episode 20

Kya Karo Dard Kam Nai Hota by Umme Hani

اگلے روز نوشین میڈیم نے ڈرگ کے سگریٹ ثوبیہ اور باقی کی دو لڑکیوں کو دیے تھے ۔۔۔۔

” یہ تم اپنی دوستوں کے سامنے پیو گی ۔۔۔۔ تم لوگوں کو اس کا ذیادہ اثر نہیں ہو گا کیونکہ جتنا نشے کی تم لوگ عادی ہو چکی ہو یہ سب تو اب بے اثر سا ہے ۔۔۔ بس انہیں یہ لگنا چاہیے کہ کہ یہ عام سگریٹ ہے اونلی فلیور سگریٹ ۔۔۔۔ بس آہستہ آہستہ انہیں انکا عادی بناؤں ۔۔۔۔ چپ چاپ وہ سگریٹ ان تینوں نے پکڑ لیے ۔۔۔ سب کے سامنے تو پی نہیں سکتی تھیں اس لئے ۔۔۔ کالج کی بیگ سائیڈ پر ہی دوستوں کے سامنے وہ پینے لگیں ۔۔۔ جیسے وہ ایک عام سا فلیور سگریٹ ہو ۔۔۔۔

” یہ میرے بھائی نے اٹلی سے بھیجا ہے اس کا سائیڈ ایفکٹس بلکل نہیں ہے۔ پلیز ٹرائے تو کرو اسے۔۔۔ ” ثوبیہ نے اپنے گروپ کی لڑکیوں سے کہا ساتھ میں بہت گھبرا بھی رہی تھی ۔۔۔ اسے لگتا تھا جیسے کئ نظریں اسکے تعاقب میں ہیں اگر اس نے ذرا سی بھی اونچ نیچ کی تو اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جائے ایک خوف تھا جو تلوار کی طرح اس کے سر پر سوار رہتا تھا ۔۔۔۔

دوسری لڑکیوں کی بھی یہی حالت تھی ۔۔۔ اتنے کیمرے تھے اس گھر میں کہ وہ اس کے متعلق بات کرتے ہوئے بھی ڈرتی تھیں ۔۔۔۔

رات کو کلب میں ثوبیہ کو اسی شخص کا انتظار تھا لیکن وہ نہیں آیا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اسے کچھ افسوس سا ہونے لگا تھا تین دن یونہی گزر گئے ۔۔۔ چوتھے دن وہ نظر آیا تھا منتظر تو ثوبیہ اسی کی تھی لیکن جب اسے اپنی طرف متوجہ پایا تو خود کو لاپروا سا ظاہر کرنے لگی ۔۔۔ وہ سیدھا چلتا ہوا آیا تو اسی جانب تھا ۔۔۔ لیکن ڈانس دوسری لڑکی کے ساتھ کرنے لگا جو ثوبیہ کے برابر کھڑی تھی ۔۔۔ یک دم وہ حیران سی ہوئی تھی لیکن پھر نظر انداز کرنے لگی ۔۔۔ بھلا اسے کیا فرق پڑ سکتا تھا وہ کسی کے بھی پاس جائے ۔۔۔ وہاں آنے والے اپنی دل کی خواہش کے پجاری تھے ۔۔۔ ثوبیہ اکیلی ہی ہلکا پھلکا ڈانس کر رہی تھی ایک ااور لڑکا نشے کی حالت میں ڈانس فلور پر چڑھا اور سختی سے ثوبیہ کا بازو پکڑ کر پل بھر میں اسے اپنے حصار میں جکڑ لیا ۔۔۔ وہ یک دم بوکھلا سی گئ تھی ۔۔۔ جس بے باکی کا وہ کھلے مظاہرہ کر رہا ثوبیہ کے لئے نا قابل برداشت تھا ۔۔۔

“پلیز اپنی حد میں رہیں ” اسے قابل اعتراض حد تک اپنے قریب پا کر ثوبیہ نے فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔

لیکن وہ اسکی سننے کو تیار نہیں تھا جب اسی لڑکے نے اس لڑکے کو دھکا دے کر ثوبیہ سے الگ کیا تھا جو چند دن پہلے اسکی تعریف کر رہا تھا وہ لڑکا گرتے گرتے بچا تھا لیکن غصے سے اس لڑکے کو دیکھتا ہوا

تیزی سے اس لڑکے کے پاس آیا

” آر یو میڈ ۔۔ واٹ ہیپنڈ “

” جب لڑکی خود سے کہہ رہی ہے کہ حد میں رہو ۔۔۔ تو کیا سمجھ نہیں آتا تمہیں ۔۔۔ ” اس نے ثوبیہ کو پیچھے کیا اور خود اس لڑکے کے سامنے کھڑے ہو کر بڑے مطمئن انداز سے بولا

” یہ سب تمہارا مسلہ نہیں ہے ” وہ غصے سے پھنکارتے ہوئے بولا ۔۔۔ بہت سے ڈانس کرتے لڑکے لڑکیاں یہ تماشہ دیکھنے لگے

” او کے ٹھیک ہے جاؤں کسی اور کو ڈانس پاٹنر بنا لو “۔۔۔ اس لڑکے نے ثوبیہ کا ہاتھ پکڑا اور کلب سے باہر لے گیا ۔۔۔

” یہ کیا کر رہے آپ ” ثوبیہ اسکی اس جرت پر متذبذب سی ہوئی تھی

” اپنی قیمت بولو ” بڑے سخت اور اسپاٹ لہجے میں اس نے پوچھا تھا ۔۔۔حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے ہچکچاتے ہوئے بولی

” میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ آپ کو میڈیم کے پاس لے جاتی ہوں ان سے بات کر لیں “

اس سے پہلے کے وہ واپس اسے کلب میں لے کر جاتی نوشین میڈیم خود باہر آ چکی تھی ۔۔۔ چیل سی نظر تھی اس عورت کی تھی بھی غصے میں ثوبیہ کی جان نکلتی تھی اسے دیکھ کر

” یہ میڈیم آ گئیں ہیں آپ بات کر لیں “ثوبیہ نوشین کو دیکھ بد حواس ہوئی تھی لیکن نوشین نے ثوبیہ کے بجائے اس لڑکے سے سخت لہجے میں بات کی

“یہ کیا طریقہ ہے ۔۔۔ کہ تم لڑکی کا ہاتھ پکڑے باہر لے جاؤں تمہارے باپ کا مال ہے یہ ” وہ غصے سے چھنگاری تھی

” مجھے لگا آذاد ہے اپنی قیمت خود لگائے گی ۔۔۔ اینی وئے قیمت بولیں اسکی “

” ایک لاکھ ” نوشین کا غصہ کم ہوا

“او کے ڈن ” اس لڑکے نے جیب سے کیش پیسے نکالے اور گنے بنا ہی نوشین میڈیم کے ہاتھ میں رکھ دیے ۔۔۔ ” پیسے دیکھ کر نوشین کا سارا غصہ ہوا ہوا تھا

“اسی ہوٹل میں روم ریزو ہیں تم اسے کمرہ نمبر 221میں لے جا سکتے ہو ” نوشین نے پیسے پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے کہا

” اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں ” اس لڑکے کے کہنے پر نوشین نے ایک ابرو چڑھا کر کہا

“وہ کیوں “

” صبح یہیں چھوڑ جاؤں میں اس کلب کا پرانہ ممبر ہوں میرا ایڈیس فون نمبر ہر چیز یہاں موجود ہے آپ پوچھ سکتیں ہیں کئ بار میں یوں لڑکیوں کو لے جاتا ہوں واپس بھی چھوڑ جاتا ہوں۔۔۔۔ “

“لیکن ہم اپنی لڑکیوں کو یوں جانے کی اجازت نہیں دیتے ” وہ سخت تیوری چڑھا کر بولی

” میں اسکی ڈبل قیمت دینے کو تیار ہوں٫” نوشین میڈیم سوچ میں پڑ گئ

” ٹھیک ہے پہلے میرے ساتھ اندر چلو اور اور میری کلب کے مینجر سے بات کرواں وہ شخص واقع وہاں کا پرانہ ممبر تھا اور پہلے بھی کئ لڑکیوں کو لے جا چکا تھا وہ واپس بھی لوٹ آئیں تھیں ۔۔۔ کلب کا منیجر نے اپنی زمہ داری لی تھی اس لئے نوشین نے ثوبیہ کو بھیج دیا گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی وہ کافی دیر چپ ہی رہی وہ بھی خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا ۔۔۔

“سنو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔ کھڑکی کھول کھل کر فضا میں کھل کر سانس لو یہاں کیمرہ کی آنکھ تمہیں نہیں دیکھ رہی صرف میری آنکھ دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔ ” اس نے مسکرا کر اپنی آنکھ دبا کر کہا ثوبیہ نے برجستہ اسے دیکھا تھا اسکے خوف کو وہ بڑے آرام سے ڈرائیور کرتے ہوئے بیسن کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

******……..

حیا دروازہ پیٹ پیٹ کر تھک چکی تھی ۔۔۔ لیکن جب دروازہ نہیں کھلا تو بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی نیند پھر سے آنکھوں میں اتری تھی ۔۔۔۔ اس لئے لیٹ کر سو گئی ۔۔۔۔۔ دوبارہ جب آنکھ کھلی تو ارتضی وہیں موجود تھا صوفے پر بیٹھا تھا سامنے کھانے کی ٹرے ڈھکی پڑی تھی ۔۔۔۔ حیا اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

لیکن تیوری چڑھائے رخ موڑے ۔۔۔۔

” جاؤں جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آؤں کھانا کھاو۔۔۔ میڈسن کھلانی ہے تمہیں ۔۔۔۔ ” ارتضی کی بات کو وہ کسی خاطر میں نہیں لائی تھی ویسے ہی بیٹھی رہی ۔۔۔

” کچھ کہہ رہا ہوں تم سے ” وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی

مجبورا اسے ہی اٹھ کر آنا پڑا ٹرے اسکے سامنے رکھی

” یہ نخرے تم اپنے منگتر تو دیکھانا سمجھی”

” میں آپ کو نخرے دیکھا بھی نہیں رہی مجھے کچھ نہیں کھانا جب تک اس عذاب سے جان نا چھڑوا لوں ” حیا کی بات اور اسکے دوبارہ سے ٹپکنے والے آ نسوں ارتضی پر بے اثر تھے

” عذاب ۔۔۔۔۔ ” وہ استزائیہ ہنسی ہنسا

” جو تمہارے لئے عذاب ہے وہ میرے لئے میری بے گناہی کا ثبوت ہے ۔۔۔ مجھے تمہاری پروا بلکل نہیں ہے بس اسکی فکر ہے ۔۔۔ اس لئے

چپ چاپ سے کھانا کھاؤ ورنہ ویسا ہی تھپڑ منہ پڑے گا جیسا پہلے پڑا تھا ۔۔۔۔ میں اپنا ہاتھ نہیں روکو گا تم پر یاد رکھنا ” اس کے سخت لہجے اور

تھپڑ کا خیال آتے ہی وہ اٹھ کو واش روم میں چلی گئ فٹافٹ سے منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آ کر کھانا کھانے لگی ۔۔۔ اس وقت بے بس تھی اس لئے ارتضی کی بات ماننے کے علاؤہ دوسرا کوئی چارا نہیں تھا ۔۔۔۔ دوا بھی کھا چکی تھی ۔۔۔

دو چار دن اسکی ساری باتیں مانتی رہی ۔۔۔ رومان کو حیا کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔ بس کھانا کھلانے کے لئے ہی ارتضی اس کے کمرے میں آتا تھا ورنہ باہر رومان کے ساتھ وقت گزاتا تھا ۔۔۔

” بابا مجھے کیوں حیا آنٹی سے ملنے نہیں دے رہے ۔۔۔ کیوں انہیں کمرے میں بند کیا ہے آپ نے ” رومان نے اسے چائے بناتے کچن میں دیکھا تو بول پڑا کتنے دن سے اسی انتظار میں تھا کہ باپ کا غصہ کچھ کم ہو تو وہ حیا سے مل سکے

“رومی مجھے سوال و جواب نہیں چاہیے ۔۔۔ جاوں اپنے کمرے میں “

” بابا دس از ناٹ فیر ۔۔۔ میں کیوں نہیں مل سکتا ان سے۔۔۔ ” وہ ملتجی ہوا تھا

” اس لئے کہ میں تم سے کہہ رہا ہوں ۔۔۔ ” لیکن ارتضی کا لہجہ اٹل تھا

” بابا مجھے انکے پاس جانا ہے ۔۔۔ ” وہ رو دینے کو تھا

“رومی ۔۔۔ مجھے کوئی بحث نہیں چاہیے ۔۔۔جاو۔ یہاں سے ایک دو دن میں تمہارا اسکول بھی اسٹاٹ ہو جائے گا اس لئے پڑھوں جا کر میں بھی آ رہا ہوں تمہارے پاس ” ارتضی کے سخت لہجے پر وہ زچ ہوتے ہوئے وہاں سے چلا گیا

رات کا کھانا ارتضی نے حیا کو اپنے سامنے کھلایا تھا ٹرے اٹھا کر وہ کمرے سے جانے لگا ۔۔۔ وہ بری طرح سے زچ ہو چکی تھی ایک کمرے میں قید رہ کر تنگ آ گئ تھی اس لئے چلا کر بولی

“آپ کیا سمجھتے ہیں زبردستی آپ جو چاہیں گئے کر لیں گئے کب تک مجھے اپنے ساتھ باندھ کر رکھیں گئے ۔۔ دیکھیں میں پیسے بھی نہیں مانگوں گی آپ سے ۔۔۔۔یہ سونے کی چین ہے میرے پاس کانوں میں ڈائمنڈ کے ائیر رنگ ہے یہ ہاتھ بھی ڈائمنڈ کی رنگ ہے اسے بیچ کر آپ مجھے اس مصبت سے آزاد کروا دیں بہت مشکور رہوں گی آپکی ۔۔۔۔ ” اسکی بات سن کر اس نے پلٹ کر حیا کو دیکھا ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اس کے پاس آ کر بولا

“لاؤں دو مجھے جیولری ” ارتضی نے ہاتھ آگے بڑھایا حیا خوش ہو گئ اس نے سب کچھ اتار کر ارتضی کے ہاتھ میں رکھ دیا اسے ہر قیمت پر آبوشن کروانا تھا ارتضی نے اسکی جیولری اپنی جیب میں ڈال لی

” یہ تمہاری جیولری میرے پاس امانت ہے جب تک میری مجبوری ہےتب تک ۔۔۔۔ جیسے میں خود کو بے قصور ثابت کر دوں گا ۔۔۔ تم آذاد ہو جاؤں گی یہ بھی تمہیں لوٹا دوں گا لیکن جو تم کرنا چاہتی ہو وہ نہیں کرنے دوں گا ” حیا اب بلکل خالی ہاتھ رہ گئ تھی

“اور اس بچے کا کیا ہو گا ۔۔۔ میں ہر گز نہیں پالوں گی اسے ” غصے سے چلائی تھی پر وہ اسکے سامنے کھڑا ہو گیا

” تمہارا بچہ ۔۔۔میرا مسلہ نہیں ہے ۔۔۔۔ تم جانو اور تمہارا کام ۔۔۔۔ کیاسمجھتی ہو تم ۔۔۔ تم جیسی لڑکیوں کو عزت مل جاتی ہے یہ سب کر کے ۔۔۔ تمہارے باپ نے پلٹ کر دوبارہ تمہیں پوچھا تک نہیں ۔۔۔ تم کہاں ہو کہاں نہیں ڈھونڈنے کی کوشش تک نہیں کی ۔۔۔ وہ اپنائے گا تمہیں؟۔ ۔۔۔بلکل بھی نہیں کیونکہ تمہیں اپنانے سے انکے سرکل میں وہ منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گئے ۔۔۔ جہاں تک مجھے پتہ چلا تمہارا منگتر بھی باہر جا چکا ہے ۔۔۔ سمجھوں وہ بھی واپس نہیں آئے گا ۔۔۔ اور تمہاری بھول ہے کہ میں تمہیں مزید۔ برداشت کروں گا ۔۔۔۔ کہاں جاؤں گئ تم؟ ۔۔۔ ہنہ۔۔۔” وہ استزائیہ مسکرایا پھر اسے کے قریب ہو کر بولا

” تم جیسی لڑکیوں کا یہ سب گناہ کرنے کے بعد ایک ہی ٹھکانہ بچتا ہے اور وہ ہے بازار حسن ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر ٹہرا نہیں ۔۔۔ ٹرے پکڑ کر کمرے سے نکل گیا

حیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بیٹھ گئ تھی ۔۔۔ جو کچھ ہو چکا تھا ۔۔۔۔کہاں اسکے ماں باپ اسے اپنائیں اور خاص طور پر اس وقت جب وہ ایک بچے کی ماں بن چکے گئ ۔۔۔ ساری دنیا کے سامنے اپنے ہی لگائے سلزام میں جھوٹی ثابت ہونے کے بعد سچ بول بھی دے تو کوئی اعتبار نہیں کرے گا ۔۔۔۔ ہاں اگر اس مصبت سے ابھی چھٹکارا حاصل کر لے تو سب کچھ چھپا رہ جائے اس لئے ضروری تھا کہ وہ بھاگ جائے یہاں سے جلد از جلد

دو دن وہ خاموش رہی لیکن پھر ایک دستی بیگ ارتضی کی الماری سے نکالا اپنے دو تین جوڑے جو اس نے لا کر دیے تھے وہ رکھے اور شام کو ہی اسکے کمرے کی کھڑکی کھول کر دیکھنے لگی کے اترے گی کیسے لیکن وہاں ذیادہ تر جھاڑیاں تھی ۔۔۔ کھائی وغیرہ نہیں تھی ۔۔۔ اس لئے نیچے اتر گئ ۔۔۔ پھر بڑی احتیاط سے وہ اور مین روڈ پر ی ہی گئ تھی اس طرف اس نے دوڑ لگا دی تھی ۔۔۔۔

رات کو جب ارتضی اسکے لئے کھانا لیکر آیا تو وہ کمرے میں نہیں تھی وہ پریشان ہوا تھا کیونکہ سننے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔۔۔ ارتضی جانتا کہ جتنی وہ کھائیوں اور اسی جگہ سے ڈرتی ہے کبھی بھاگنے کا نہیں سوچے گی لیکن وہ کر چکی تھی ۔۔۔اس نے ٹرے سائیڈ پر رکھہ اور تیزی سے گھر سے نکلا تھا ۔۔۔۔ اندھیرا خاصا پھیل چکا دوپہر کے بعد بھی اگر وہ نکلی تھی تو اب تک جانے کہاں پہنچ چکی ہو گئ ۔۔۔ پھر بھی تیزی سے میں مارکیٹ تک پہنچا تھا ۔۔۔ وہیں سے بسیں۔ اسلام آباد اور دوسرے شہروں کی طرف روانہ ہوتیں تھیں ۔۔۔ وہاں موجود آفس سے اس نے حیا کی کا حلیہ بتا کر پوچھا کہ کوئی لڑکی وہاں ٹکٹ لینے یا جانے کے لئے آئی اس نے کچھ کر کے

” ہاں ایک لڑکی اسے ہی کپڑے پہنے آئی تو بھی کافی گھبرائی ہوئی تھی اسلام آباد کی بس کا پوچھ رہی تھی لیکن اس وقت اسلام آباد کی بس جا چکی تھی دوسری بس ایک گھنٹے تک جانی تھی لیکن لاہور کی بس تیار تھی اس لئے اس نے لاہور کی ہی ٹکٹ خریدی تھی لیکن پیسے نہیں تھے اسکے پاس اس لئے اپنے ہاتھ میں پہنی قیمتی گھڑی پکڑا کر ٹکٹ لے کر بس سوار ہو گئ ۔۔۔ اس لڑکے نے حیا کی گھڑی اسے دیکھائی

ارتضی پریشان ہو کر رہ گیا تھا کہاں ڈھونڈنے جائے اسے ۔۔۔

” کتنی دیر ہوگئی اسے گئے ہوئے ” اس نے فکر مندی سے پوچھا

“ایک گھنٹہ ہو چکا ہے ‘” اس لڑکے نے جواب دیا

ارتضی واپس گھر آ گیا رومی کو اکیلا نہیں۔ چھوڑ سکتا تھا ۔۔۔

” بابا حیا آنٹی کہاں ہیں ” رومان نے ارتضی کو اکیلے دیکھ کر پوچھا

” چلی گئ واپس ” ارتضی پہلے ہی پریشان تھا ۔۔۔ اس لئے اکتا کر بولا تھا

” بابا آپ نے کیوں جانے دیاانہیں روکا کیوں نہیں ” وہ رونے لگا تھا

” رومی میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں ۔۔۔ مجھے مزید پریشان مت کرو۔ جاؤں یہاں سے ” ارتضی اپنے کمرے میں آگیا ۔۔۔ بد حواسی سی طاری تھی اس پر ۔۔۔۔ جلدی سے وہاج کو فون کر کے ساری سچویشن بتائی

” ارتضی ۔۔۔ اس لڑکی کو اسکے حال پر چھوڑ دوں کہہ دینا کہ بھاگ گئ تھی اپنے باپ کے پاس۔ اور یہ جھوٹ بھی نہیں ہے ۔۔۔ بات ویسے بھی ختم ہو ہی چکی ہے ۔۔۔ میڈیا کے پاس اور بہت سے نئے موضوع ہیں پیسے بنانے کے لئے ۔۔۔

” لیکن یار وہ اکیلی “

” تم پریشان مت ہو ۔۔۔ وہ اگر لاہور بھی گئ ہے تو کہیں نا کہیں سے اپنے باپ سے رابطہ کر ہی کے گی پہنچ جائے گی اپنے گھر ۔۔۔۔ جو باتیں تم نے بتائیں ہیں بہت تیز لڑکی ہے وہ ۔۔۔۔” وہاج کی بات تو ارتضی نے مان لی تھی لیکن پریشان ضرور تھا ۔۔۔۔

******………

عبد الغنی جازم کوایک کمرے میں لے گیا ۔۔۔

” آپ نہا دھو لیں اور اپنا سامان بھی یہیں رکھ لیں آرام کرنا چاہیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں ۔۔۔ کھانے کے وقت میں آپ کو بلانے آ جاؤں گا ۔۔۔ اگر کسی کی ضرورت ہے تو بلا تکلف کہہ دیجیے ۔۔۔ آپ ابوجی کے مہمان ہیں ۔۔۔ میرے لئے قابل احترام ہیں “

جازم کے لئے نا اور کتنے گھروں تھے سہنے کے لئے ۔۔۔ بچپن سے ایک آنچ تک ہارون الرشید نے آنے نہیں دی تھی اسے لیکن جب سے آگہی کاسلسلہ شروع ہوا تھا ۔۔۔ ایک بعد ایک گھاوں تھا ۔۔۔۔ جازم نے نفی میں سر ہلایا

” نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ٫”

عبد الغنی وہاں سے چلا گیا جازم نے نہا ایک شلوار قمیض پہنی اور سامنے رکھے سنگل بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔

” ابو جی ۔۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔۔ جب اتنے ہی نیک تھے تو میری ماں کے پاس کیا کرنے گئے تھے ۔۔۔۔ شاید جوانی کا جوش ہو گا ۔۔۔ جس نے ہوش اڑائے ہوں گئے ۔۔۔۔ دین دار تھے اس لئے نکاح کا شوشہ چھوڑ کر عیاشی کر لی پھر طلاق دے کر پلا جھاڑ کر نکل گئے ۔۔۔ اور یہاں نیک بنے بیٹھے ہیں مولانا صاحب ۔۔۔ صوفی صاحب ۔۔۔۔ یہاں بھی نیک اور پارسا۔ بیوی مل گئ بچے بھی ہو گئے ۔۔۔ اور جازم ۔۔۔۔ جازم کا کیا ۔۔۔۔ کون ہوں میں ۔۔۔۔ کیا پہچان ہے میری ۔۔۔۔ جائز ہو کر بھی ناجائز سے بدتر بنا کر رکھ دیا ہے

ماں بیٹا کہہ کر پکارنے کو تیار نہیں باپ بھی کہاں مجھے نام دے گا ۔۔۔ بس اپنی بے بسی کے چار آنسوں رو دے گا ۔۔۔۔ اور کہے گا جاؤں یہاں ہارون الرشید کے نام کو بھی اپنا لو ۔۔۔۔

میں پوچھتا ہوں ۔۔۔۔ قصور کیا ہے میرا ۔۔ یا میرے جیسے بچوں کا ۔۔۔۔ اپنی ایک ہوس کو پورا کرنے والے ہمارے بارے میں کیوں نہیں سوچتے ۔۔۔ جب نام نہیں دے سکتے ایک عزت بھرا مقام نہیں دے سکتے تو گناہ کرتے کیوں ہیں ۔۔۔۔ ” کئ آنسوں بہہ کر تکیے میں جذب ہوئے تھے ۔۔۔ آٹھ بجے دروازہ کھٹکا جازم نے آنسوں پونچے ۔۔۔۔ اٹھ کر بیٹھ گیا

” جی کون ہے اندر آ جائے ” عبدالغنی اندر داخل ہوا

” آپ کو ابو جی بلا رہے ہیں “

” جی چلیں ” جازم اس کے ساتھ ہی چل پڑا ایک بڑے سے ہال میں دسترخواں بچھا تھا تمام اساتذہ وہیں بیٹھے تھے عبداالباسط نے جازم کو اپنے برابر میں بیٹھایا ۔۔۔ سب نے بیک وقت اسے سلام کیا تھا اس نے سلام کا جواب دیا

سامنے دسترخواں پر قورمہ اور نان رکھے تھے ساتھ میں رائتہ اور سلاد تھا ۔۔۔

“یہ جازم میاں ہیں ہوسکتا ہے ہمارے بچوں کو اردو اور انگریزی پڑھانے پر معمور ہو جائیں لیکن آج ہمارے مہمان ہیں ۔۔۔ “عبداالباسط نے خود ہی جازم کا تعارف کروایا ۔۔۔۔ سب نے خوش دلی سے اسے مسکرا کر دیکھا تھا پھر سب کھانا کھانے لگے ۔۔۔ عبداالباسط نے جازم کی پلیٹ میں خود سے قورمہ ڈالا لیکن ذرا سا ڈالنے پر ہی جازم نے انہیں منع کر دیا

” بس اتنا کافی ہے ” بھوک اس کی ویسے اڑ چکی تھی ۔۔۔

“کیوں بیٹا ۔۔۔ ارے تکلف نہیں کرتے جتنا چاہے کھاؤں مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں ۔۔۔ پھر ایک ہاٹ پاٹ اس کے سامنے رکھ دیا

” اس میں گھر کی روٹی ہے ۔۔۔ عبدالغنی کی والدہ نے بنا کر بھیجی ہے ۔۔۔۔ میں تندور کی روٹی نہیں کھا سکتا اس لئے لیکن آج جب سنا کہ ایک مہمان بھی موجود ہے تو تمہارے لئے بھی بھیج دی ۔۔۔

“سوتیلی ماں کی روٹی تو کھانے سے رہا تھا وہ ۔۔ دل تو پہلے جلا ہوا تھا جو چار نوالے اس نے زہر مار کر کے اندر ڈالنے تھے وہ شاید گھر کی بنی چپاتی سے نگلنے مشکل ہو جاتے

” مجھے نان پسند ہے ۔۔۔ میں یہ نہیں کھاؤں گا ” جازم نے منع کر دیا

“۔ چلو کوئی بات نہیں جو پسند ہے وہ کھا لو ۔۔۔۔ ” عبداالباسط نے مسکرا کر کہا جازم نے کھانا شروع کیا۔ حیران اس وقت ہوا جب عبداالباسط بھی اسی کی پلیٹ سے کھانے لگا

۔۔۔ پھر جب بباقی سب کی طرف نظر دوڑائی سب ہی وہاں ایک پلیٹ میں دو یا تین افراد مل کر ہی لگا رہے تھے ۔۔۔۔ دو بندوں کے حساب سے سے کھانا کم ہی لگ رہا تھا ۔۔۔ بڑی مشکل سے اس نے آدھا نان کھایا تھا پھر پانی کا گھونٹ بھر کر پیچھے ہٹ گیا

” جب انسان مل کر کھانا تناول فرماتا ہے تو ساتھ آخر تک دینا چائیے بیٹا ورنہ ایک کے آٹھ جانے سے دوسرا بھی تکلفا کم کھا کر اٹھ جاتا ہے ۔۔۔ چلو ذرا سا اور کھا لو شاباش ۔۔۔۔ ” جازم چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکا ۔۔۔۔

صبح سے پہلے ہی وہ وہاں سے نکل چکا تھا ۔۔۔ گھر پہنچ کر دو دن گھر پر ہی رہا ۔۔۔۔ کہیں نہیں گیا ۔۔۔۔

سب زندگی تھی بات مسجد کا امام بنے معاشرے میں عزت کی زندگی کی رہا تھا ماں اپنے ماحول میں خوش تھی ۔۔۔۔ دنیا کی ٹھوکریں کھانے کے لئے بچا کون ہے میں جازم ۔۔۔۔۔ بابا آپ مجھے کیوں چھوڑ کر چکے گئے ۔۔۔” جازم کو ہارون الرشید کی یاد ستائی تھی پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔۔۔۔

” تنہا رہ گیا ہے آپ کا جازم ۔۔۔۔ بلکل اکیلا ” وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا

” نا میرا بچہ ایسا نہیں کہتے ۔۔۔۔ اللہ آزماشیں بھی اپنے نیک بندوں پر ڈالتا ہے تا کہ وہ ہمت اور حوصلے اور اللہ کی مدد سے آگے بڑھیں تبھی تو اتنے اعلی مقام رکھیں ہیں اس نے اپنے نیک بندوں کے لئے ۔۔۔۔۔ “ہارون الرشید کے کہے جمعلے جیسے اس کے زخموں پر مرہم بن جاتے تھے ۔۔۔۔ تین دن بعد وہ نور جہاں کے کوٹھے پر گیا تھا ۔۔۔۔ وہ تخت پر بیٹھی تھی لیکن اس دیکھتے ہی اس کے پاس لپک کر آئی تھی

” کہاں تھا اتنے دن سے کاہے ملنے نہیں آیا ” بے صبری سے پوچھا گیا سوال تھا ۔۔۔

” آپ نے تو شکر کیا ہو گا کہ اچھا ہے نہیں آیا ۔۔۔۔ ٫ وہ خفگی سے بولا

” تجھے آج کیا ہوا ہے لڑ کر آ رہا ہے کسی سے “

” ہاں لڑ کی تو رہا ہوں ۔۔۔ میری قسمت سے اپنے آپ سے ۔۔۔۔ اپنے اندر اٹھتے سوالوں کے طوفان سے ۔۔۔ ” وہ بلند لہجے سے بول رہا تھا پھر نور جہاں کے دونوں بازو پکڑ کر بولا

” آپ کو پتہ ہے کس اذیت سے گزر رہا ہوں میں ۔۔۔۔ میرا کیا ہے امی ۔۔۔۔ مجھے میرا جرم بتا دیں جس کی سزا میں کاٹ رہا ہوں ۔۔۔۔ میں نے کیا گناہ کیا ۔۔۔۔ میری پیدائش میرے لئے گالی کیوں بن گئ ہے ۔۔۔۔ کیا پہچان ہے میری ۔۔۔۔ کون ہوں میں ۔۔۔۔ کیا کہوں خود ایک طوائف کا بیٹا ۔۔۔۔ یا پھر ایک مولانا صوفی کا بیٹا ۔۔۔۔ کون کون میں ” وہ چلا چلا کر پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

” آپ نے تو کہہ دیا کہ دوسرا کوئی سوال نا پوچھوں تو پھر یہ بھی تو بتا دیں کے سوال کس سے پوچھوں ۔۔۔۔ ” اس کے بازو چھوڑ کر وہ چند قدم پیچھے ہٹا تھا وہ اسے غصے سے اور بے سی سے روتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

” میرا جی چاہتا ختم کر لوں خود کو ۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔یا ۔۔ پھر ۔۔۔۔ خدا مجھ سے میرا حافظہ چھین لے ” وہ سسکیوں سے رونے لگا تھا ۔۔۔۔ نور جہاں نے آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگا لیا خود بھی رونے لگی ۔۔۔۔۔۔

وہ تو واقع بے قصور تھا معصوم تھا ۔۔۔۔ وہ بھی ماں کے گلے لگے بے تحاشہ رو رہا تھا کسی چھوٹے بچے کی طرح ۔۔۔

” تمہیں جاننا ہے ” گلے لگے لگے بہتے آنسوں سے نور جہاں نے پوچھا

“ہاں امی “

” ٹھیک ہے آ میرے ساتھ ۔۔۔۔ اگر سچ ہی تجھے سکون دے سکتا ہے تو سن لے سچ ۔۔۔۔ ” وہ اس سے پیچھے ہٹ کر اس کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے میں لے گئ

********……..

وہ شخص ثوبیہ کو ایک گھر پر لیکر گیا تھا لیکن گھر بلکل خالی تھا سوائے چوکیدار کے اور کوئی نہیں تھا یا کوئی تھا بھی تو اس وقت وہاں نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔

ثوبیہ کا ہاتھ تھامے وہ اسے ایک کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔ کمرہ کافی کشادہ اور صاف ستھرا تھا ۔۔۔

کمرے میں جا کر اس نے ثوبیہ کا ہاتھ چھوڑ دیا

” کچھ کھاؤں گی ۔۔۔ ؟” اس کا عام سا انداز تھا ثوبیہ نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔

” بس ایک گلاس پانی ” نا جانے کیوں وہ نروس سی ہو رہی تھی سات ماہ گزرنے کے بعد بھی ۔۔۔ ہر بار اسے کسی کے ساتھ وقت گزارا گراں ہی گزرتا۔۔۔ ہر بار ایک نئ سی اذیت کا احساس سوچتے ہی اسکی حالت غیر سی ہونے لگتی تھی ۔۔۔۔ اسے مرد کی قربت سے نفرت اور گھن سی ہونے لگی تھی دل چاہتا بھاگ جائے کہیں ایسی جگہ جہاں کوئی بھی مرد نا ہو ۔۔۔

ہر بار یہی ہوتا تھا جیسے کمرہ بند ہوتا اسے لگتا دل مٹھی میں جکڑا گیا ہو ۔۔۔ جب بھی کوئی اس کے قریب آتا اس کی حالت غیر ہونے لگتی اس کے قریب آنے کے بجائے وہ دور ہٹنےلگتی تھی ۔۔۔

” دور رہوں مجھ سے ۔۔ میرے قریب مت آنا چھونا مت مجھے ۔۔۔۔ ” اس کا یوں بھاگنا دور ہونا کہاں کوئی برداشت کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ اس کا مسلسل اتحجاج کرنا سامنے والے کو وحشی جانور ہی بنا ڈالتا تھا ۔۔۔۔ پھر وہ جو حشر اسکے ساتھ کرتا تھا کئ دن وہ زخموں کو روتی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن بے بس تھی خود کو کبھی بھی کسی کے سامنے پیش نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔

اب بھی کمرہ بند ہوتے وہ بد ہواس سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔

اس لڑکے نے روم فریج میں سے بوتل نکالی سامنے رکھے کانچ کے گلاس بھرے اور ایک گلاس ثوبیہ کی جانب بڑھا دیا شکل سے لگ رہا تھا شاید شراب ہو

” یہ ایپل جوس ہے اونلی سوفٹ ڈرنک ” وہ جیسے ثوبیہ کے اندر پیدا ہونے والے ہر سوال کا جواب جانتا تھا ۔۔۔۔ ثوبیہ نے گلاس پکڑ لیا

” کچھ اور بھی ہوتا تو کہاں اس کا نشہ بھی کام کرتا ہے ۔۔۔۔ کاش کے واقع کسی چیز کا نشہ مجھے ہوش بیگانہ کر دے ” یہ کہہ کر اس نے ایک گھونٹ میں گلاس خالی کیا تھا ۔۔۔ وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ یا جانچنے کی کوشش کر رہا تھا

پھر اس کے ہاتھ سے خالی گلاس لیکر دوبارہ سے کونے میں پڑے ٹیبل پر رکھ دیا

پھر اسکے قریب آ کر اسکے کان میں پہنے چھوٹے سے جھکے اتارنے لگا ثوبیہ نے اپنی آنکھیں سختی سے بینچ لیں تھیں ۔۔۔

” کان کے پاس اتنا گہرا زخم کیسے ہو گیا ” اب وہ اسکے کان پر لگے زخم کو چھو کر پوچھ رہا تھا ثوبیہ نے دھیرے سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا

چار دن پہلے تمہارے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے دیکھاتھا ۔۔۔۔ اور اب بھی کب سے سوچ رہا تھا کہ اتنے گہرے زخم کے ساتھ یہ جھمکے تمہیں تکلیف دے رہے ہوں گئے اس لئے پہلے تمہیں تکلیف سے تو آزاد کروں ۔۔۔٫”ثوبیہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی کسی نظر تھی اسکی جو اسکے حسن کے بجائے اسکے زخم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ کہاں تک اسکی سوچ۔ کی رسائی تھی جو اسکے اندر پیدا ہونے والے ہر سوال کا جواب جانتی تھی