Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

سیرت جب کافی دیر نگین کو نظر نہیں آئی تو نگین اسے دیکھنے کے لیے وہاں سے اٹھ گئی تھی۔لیکن سیرت ایسے کہی نظر نہیں آئی۔
کیا ہوا بھابھی؟ دلہن کی ماں نے نگین کو پریشان دیکھا تو پوچھا۔
وہ میں سیرت کو تلاش کر رہی ہوں پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے نگین نے ارد گرد دیکھتے کہا.
آپ پریشان مت ہو یہی کہی ہو گی میں دیکھتی ہوں دلہن کی ماں نے کہا۔اور وہاں سے چلی گئی۔
نگین تو پریشان ہو گئی تھی اور یہ بات وہاں موجود ہر ایک کو پتہ چل گئی۔
شفیق کے آدمی وہی پر تھے جن کے کانوں میں یہ بات پڑی کہ سیرت کہی غائب یو گئی ہے۔
اس نے اپنے مالک کو فون کرکے ساری صورتحال کا بتایا۔
تم لوگ کہاں تھے؟ اور کہاں چلی گئی وہ لڑکی جواب دو شفیق نے فون پر دھاڑتے ہوئے کہا۔
چودھری صاحب ہم نہیں جانتے اُس کی چچی تو یہی پر ہے لیکن وہ لڑکی کہی غائب ہو گئی ہے آدمی نے کہا تو شفیق نے غصے سے اپنا ماتھا مسلہ تھا۔
تم لوگ ایک کام کرو وہاں موجود ہر ایک کے کان میں یہ بات ڈال دو کہ سکندر کی ہیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور گاؤں کے کچھ لوگوں نے ان کو دیکھا بھی ہے شفیق کے دماغ میں خیال آیا تو اس نے اپنے آدمیوں کو کہا۔اس نے اپنی بےعزتی کا بدلہ لینا تھا۔
اگر سیرت نہیں ملی تو یہی سہی۔
ٹھیک ہے چودھری صاحب آدمی نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
اور ان کے لیے یہ بات پھیلانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔
ایک نے بات سنی تو وہ دوسرے تک پہنچاتا گیا۔نگین وہاں سے چلی گئی تھی لیکن یہ بات وہاں ہر طرف پھیل گئی تھی آہستہ آہستہ یہ بات آگ کی طرح پھیلی تھی کہ سکندر کی بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئ ہے۔
کیا بکواس کر رہی ہو وہ تمھارے ساتھ گئی تو کہاں غائب ہو گئی؟ شاہ نواز نے دھاڑتے ہوئے نگین سے پوچھا۔
سائیں میں نہیں جانتی وہ اچانک کہی غائب ہو گئی۔نگین نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا نیلم کا تو الگ ہی حال برا ہو رہا تھا۔
پورے گاؤں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ سکندر کی بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی۔اور اگر یہ سچ ہوا تو اسی حویلی میں اُس کی قبر بنواؤں گا سکندر نے کرخت لہجے میں کہا۔
یہ سب جھوٹ ہے میری بیٹی ایسی کوئی حرکت نہیں کر سکتی نیلم نے جلدی سے کہا۔
تمھاری بیٹی ایسی حرکت کر چکی ہے دعا کرو کہ وہ دوبارہ اس حویلی میں قدم نا رکھے سکندر نے نیلم نو دیکھتے اسے تنبیہ کرتے کہا۔
نیلم نے بے بسی سے اپنے شوہر کو دیکھا تھا۔
بھائی صاحب ایسے ہم سیرت کو نہیں چھوڑ سکتے اُس نے ہماری عزت پورے گاؤں والوں کے سامنے دو کوڑی کی کر کے رکھ دیا ہے اس کی سزا تو اسے ضرور ملے گی شاہ نواز نے کرخت لہجے میں کہا۔
سب لوگ خاموش ہوگئے تھے وہ جانتے تھے اگر سیرت واپس آجاتی ہے تو اُس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔لکن نگین اور نیلم کا دل نہیں مان رہا تھا کہ ان کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ سکتی ہے۔
💜 💜 💜 💜 💜
مجھے حویلی جانا ہے شیریں کے طالش کو دیکھتے کہا جو باہر جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔
کیوں؟ طالش نے ایک آبرو اچکاتے پوچھا۔
مجھے امی سے ملنا ہے اور سیرت سے بھی شیریں نے طالش کی گہری نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے ارد گرد دیکھتے کہا۔
شیریں صاحب میری ایک بات کان کھول کر سن لیں جب آپ میرے ایک عدد بچے کی ماں بن جائیں گئی پھر آپ کو حویلی جانے کی اجازت ملے گی وہ بھی میرے ساتھ
طالش نے شیریں کے قریب آتے کہا۔
جس نے آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑے طالش کو دیکھا تھا ایک پل میں اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
طالش جو شیریں کے جواب کا منتظر تھا اس کے چہرے پر کھلتے رنگ دیکھ کر حیران ہوا تھا پھر مسکرا پڑا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری بات سن کر تم اتنا شرماو گئی لیکن اچھی لگ رہی ہو طالش نے مسکراہٹ دباتے اپنے ہاتھ کی پشت سے شیریں کے گال کو سہلاتے ہوئے کہا۔
آپ جائیں جہاں بھی جا رہے تھے شیریں نے طالش سے پیچھے ہوتے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
جو قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔پھر شیریں وہاں رکی نہیں تھی بلکہ اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
طالش نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜
نائل نے سیرت کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اسے کمرے کی طرف لے گیا۔
بیڈ پر لیٹاتے اس نے سیرت کا چشمہ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا۔
وہ مزید دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے جب اسے چودھری کے بیٹے کے ارادوں کا پتہ چلا تو اس نے شفیق سے پہلے خود سیرت کو اغواء کر لیا تھا۔
نائل بہت غور سے سیرت کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
جو میں تمھارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں اُس کے لیے مجھے معاف کر دینا نائل نے سیرت کو دیکھتے کہا اور سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا جگ پورا سیرت پر اوندھا کر دیا۔ جو ہربڑا کر اُٹھ بیٹھی تھی۔اس کی آنکھوں میں خوف تھا جو سامنے کھڑے شخص کو دیکھ پر پھر سے عود آیا تھا۔
کیسی ہو سیرت؟ نائل نے آگے بڑھ کر سیرت کے چہرے پر چپکے بالوں کو اپنے ہاتھ کی مدد سے پیچھے کرنا چاہا لیکن سیرت کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی تھی۔
نائل نے گہری نظروں سے سیرت کے کپڑوں کی طرف دیکھا تھا جو گیلے ہو رہے تھے۔
سیرت نے اپنے ڈوپٹے کے لیے ارد گرد نظر دوڑائی تو اسے صوفے پر پڑا اپنا ڈوپٹہ نظر آگیا تھا۔
سیرت کو ڈوپٹہ لیتے دیکھ نائل کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی جو چلتا ہوا سیرت کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جو پیچھے دیوار ہونے کی وجہ سے مزید پیچھے نہیں جا سکی تھی۔
مجھ سے نکاح کرو گی؟ یا نکاح کے بغیر رہنا چاہو گی؟ تمہیں دو آپشن دے رہا ہوں جو تمھارا دل کرے چوز کر لو نائل نے بھاری لہجے میں میں سیرت کے چہرے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے شوخ لہجے میں کہا اور اس کے چہرے پر چپکے بالوں کو کان کے پیچھے کیا تھا۔
سیرت تو اس کی نکاح والی بات سن کر شوکڈ ہو گئی تھی۔
مجھے حویلی جانا ہے اور میں کیوں آپ سے نکاح کروں؟ سیرت نے ہوش میں آتے نائل کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔اور وہاں سے جانے لگی لیکن نائل نے اس کے دائیں اور بائیں جانب اپنا ہاتھ رکھ کر اس کا راستہ روکا تھا۔
ویسے اس وقت تم جس حالت میں میرے سامنے موجود ہو اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا تمہیں داغدار کر چکا ہوتا میری شرافت ہے کہ میں تمہیں نکاح کی آفر کر رہا ہوں اور دوسری بات نکاح ہوتے ہی میں تمہیں خود حویلی چھوڑ کر آؤں گا وعدہ کرتا ہوں اور نائل حسن کبھی اپنے وعدے سے نہیں مکرتا نائل نے سیرت کی آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
آپ مجھ سے نکاح کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ سیرت نے بےبسی سے پوچھا۔
اس سوال کا جواب میں تمہیں بعد میں دوں گا۔پہلے میرے سوال کا جواب دو نکاح کرکے واپس حویلی جانا چاہتی ہو یا پھر ساری زندگی اسی کمرے میں بند رہنا چاہتی ہو؟ نائل نے اس بار سنجیدگی سے پوچھا۔
سیرت کو پہلی آپشن بہتر لگی تھی کیونکہ نکاح کے بعد اس نے حویلی واپس چلے جانا تھا۔
اور اس کی یہی سوچ تھی کہ حویلی والے اس کا ساتھ دیں گئے کیونکہ وہ خود تو کسی کے ساتھ نہیں بھاگی تھی لیکن بہت جلد اس کی یہ سوچ غلط ثابت ہونے والی تھی۔
ٹھیک ہے میں نکاح کے لیے تیار ہوں لیکن پھر آپ اپنا وعدہ پورا کریں گئے اور مجھے حویلی چھوڑ کر آئے گئے۔سیرت نے کنفرم کرنا چاہا۔
نائل حسن کبھی اپنی کہی ہوئی سے پھرتا نہیں ہے۔کچھ دیر تک مولوی صاحب آتے ہوں گئے تیار ہو جاؤ نائل نے بنا سیرت کو دیکھے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
باہر طالش کھڑا تھا۔حسن تم جو بھی کررہے ہو سوچ سمجھ کر کر رہے ہو نا؟
طالش نے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں نائل نے سرد لہجے میں کہا۔
شہریار کو ابھی معلوم نہیں ہے کہ میں نے جس لڑکی کے ساتھ نکاح کیا وہ کون ہے اور تم کیا کرنے جا رہے ہو ۔طالش نے اسے یاد کر کرواتے کہا۔
وہ جب واپس آئے گا تو دیکھی جائے گی اور تم اپنی بیوی کو ابھی اس بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گئے اور مولوی صاحب کب تک آئیں گئے؟ نائل نے پوچھا تو طالش اسے بتانے لگا۔
تھوڑی دیر تک مولوی صاحب آگئے تھے۔
سیرت کب نائل حسن کے نام لکھ دی گئی اسے پتہ نہیں چلا۔اگر یہ رشتہ سب کی رضا مندی سے ہوا ہوتا تو سیرت کو بھی کوئی مسئلہ نا ہوتا لیکن یہاں صورتحال کچھ الگ تھی۔
نکاح کے بعد نائل کمرے میں داخل ہوا اس نے بنا سیرت کو دیکھتے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تھا۔
جو جلدی سے اُٹھ کھڑی ہوئی اسے یہاں آئے دو دن ہو گئے تھے۔
سیرت جلدی سے اپنی چادر لیتے اس کے ساتھ شل پڑی۔
گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم بیٹھے ہوئے تھے۔سیرت کا دل گھبرا رہا تھا کہ ناجانے اس کے بابا سائیں کس طرح کا ردعمل ظاہر کریں گئے۔اس پر یقین کریں گئے بھی یا نہیں اور نائل یہ سوچ رہا تھا کہ وہ جو کرنے جا رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے۔اسی دوران نائل نے حویلی سے کچھ فاصلے پر گاڑی روکی تو سیرت بھی ہوش میں آئی۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔شاید ڈر کی وجہ سے حسن نے بھی یہ بات نوٹ کی تھی۔
چلو تمھارا گھر آگیا ہے حسن کہتے ہی باہر نکل گیا۔سیرت بھی دروازہ کھولے باہر نکلی تھی۔رات کا وقت تھا سب لوگ اپنے گھروں میں تھے۔
سیرت حسن کے ساتھ حویلی میں داخل ہوئی تو اسے سامنے ہی اپنی ماں نظر آئی تھی جو بھاگتی ہوئی اپنی ماں کے گلے جا لگی۔
سیرت میری بچی کہاں چلی گئی تھی تو؟ اور تو ٹھیک تو ہے نا؟ نیلم نے بے یقینی سے سیرت کا ماتھا چومتے کہا۔
ملازم نے جا کر سکندر اور ابتسام کو بھی سیرت کے گھر آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ابتسام اب کافی بہتر تھا اس نے جب حسن کا نام سنا تو خود بھی باہر آیا تھا شاہ نواز بھی وہاں آگیا تھا۔
حسن کو اب شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ جو وہ کرنے والا تھا اس میں نقصان سیرت اور اس کی ماں کا تھا جو بے قصور ہوتے ہوئے بھی اپنے شوہر اور باپ کے کیے کی سزا بھگت رہی تھیں۔
بابا سائیں سیرت نے اپنے باپ کو دیکھتے کہا اور اُس کی طرف قدم بڑھائے۔
وہی رک جاؤ!!!
تمہیں زرا بھی شرم نہیں آئی ہماری عزت کو نیلام کرتے؟ سکندر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
بابا سائیں میری کوئی غلطی نہیں ہے اور انہوں نے مجھے اغوا کیا تھا اور پھر نکاح کیا۔
آپ پلیز بابا سائیں کو بتائیں نا کہ آپ نے مجھ سے نکاح کیا ہے سیرت نے آنسوؤں سے تر چہرہ لیے نائل کو دیکھتے کہا۔نکاح کا سن کر سکندر کے ساتھ شاہ نواز کو بھی شوکڈ لگا تھا۔
سب لوگوں کی نظریں اس پر جمی تھیں۔
جھوٹ کیوں بول رہی ہو سیرت ہمارا نکاح کب ہوا؟ نائل نے اپنے لہجے میں حیرانگی کے تاثرات لیے پوچھا۔
سیرت نے بے یعنی سے نائل کو دیکھا تھا۔وہ نہیں جانتی تھی کہ سامنے کھڑے انسان کے کیا ارادے ہیں لیکن اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا وہ اسے اچھے سے پتہ چل گیا تھا۔
تم خود اپنی مرضی سے میرے پاس آئی تھی اور میرے ساتھ راتیں گزاری اب پتہ نہیں تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟ تم نے ہی تو کہا تھا تمھارے بابا سائیں کبھی بھی ہمارے رشتے کے لیے نہیں مانے گئے اس لیے تم گھر سے بھاگ گئی۔اور تم نے کہا تھا یہاں کے رسم و رواج تمہیں پسند نہیں ہیں تم اپنے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہو اس لیے تو تم میرے ساتھ بھاگ گئ تھی۔
لیکن اب تم ناجانے کیوں جھوٹ کا سہارا لے رہی ہو۔نائل نے سینے پر ہاتھ باندھتے چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لاتے کہا۔
اور آپ تو بہت بڑی بڑی باتیں کرتے تھے نا کہ آپ کی بیٹی میری بہن جیسی نہیں ہے یاد ہے آپ کو کچھ سال پہلے آپ میرے پاس آئے تھے اور کیا کہا تھا آپ نے؟ یاد ہے نا؟
آپ غلط تھے مسٹر سکندر آپ کی بیٹی میری بہن سے زیادہ گئی گزری ہے اُس نے تو نکاح کیا تھا لیکن آپ کی بیٹی بنا نکاح کے میرے ساتھ رہی ہے۔
اب سنبھالیے اپنی بیٹی کو کیونکہ اس لڑکی کو میں کبھی نہیں اپناؤں گا۔ میں کیا کوئی بھی غیرت مند مرد اسے نہیں اپنائے گا۔نائل نے سرد لہجے میں سکندر کو دیکھتے کہا اور وہاں سے جانے کے لیے مڑا لیکن جانے سے پہلے اس نے ابتسام کو دیکھا تھا جس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
نائل چہرے پر دل جا دینے والی مسکراہٹ لیے وہاں سے چلا گیا۔
تمھارے جیسی لڑکی کو پیدا ہوتے ہی مار دینا چاہیے جو اپنے ماں باپ کی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتی شاہ نواز نے آگے بڑھتے سیرت کو بازو سے دبوچتے غصے سے کہا۔
جاؤ اسے کمرے میں قید کر دو اور جب تک میں نا کہو ایک پانی کا گھونٹ بھی اسے نہیں ملنا چاہیے شاہ نواز نے سیرت کو پیچھے دھکا دیتے کہا جو زمین پر اوندھے منہ جا گری تھی۔
اسے تو ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
💜 💜 💜 💜