Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
چچا جان ہم کب شبنم کے گھر رشتہ لے کر جا رہے ہیں؟ زبیر نے صبح ناشتے کی ٹیبل پر مزمل کو دیکھتے پوچھا۔
بہت جلد جائیں گئے لیکن آج مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے اور تم بھی میرے ساتھ چلو گئے تمہیں کی سے ملوانا ہے۔
مزمل نے چائے کا سیپ لیتے کہا۔
ٹھیک ہے لیکن ہم کب شبنم کے گھر جائیں گئے؟زبیر کی سوئی ابھی بھی وہی اٹکی ہوئی تھی۔
بیٹا کہا نا بہت جلد جائیں گئے شادی بیاہ میں تھوڑی دیر تو لگتی ہے اور جلد بازی سے یہ کام نہیں ہوتے مزمل نے زبیر کون سمجھانے والے انداز میں کہا۔
جو خاموش ہو گیا تھا۔
ٹھیک ہے میں نکلتا ہوں تین بجے میں تمہیں پک کرنے آؤں گا تیار رہنا مزمل نے وہاں سے کھڑے ہوتے اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
میں خود بھی تو شبنم کے بھائیوں سے جاکر مل سکتا ہوں اسی بہانے شبنم سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔
زبیر نے دل میں سوچا سوچا۔شبنم سے ملنے کا سوچ کر ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
زبیر نے جلدی سے ناشتہ کیا اور اپنے کوٹ کو پکڑے گھر سے نکل گیا۔
💜 💜 💜 💜
یہ لو فون اور سیرت سے بات کرو اُسے حویلی بلاؤ۔سکندر نے اپنا موبائل کو نیلم کے آگے کرتے ہوئے کہا۔
آپ کیا چاہتے ہیں میں اُسے اس حویلی میں بلاؤں تاکہ آپ لوگ اُسے مار سکو میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔
نیلم نے سرد لہجے میں کہا۔
تمھاری اتنی اوقات کہ تم میرے سامنے زبان چلاؤ سکندر نے نیلم کو بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے غصے سے کہا جس کے سر پر ابھی بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔
میں مرنا پسند کروں گی لیکن اپنی بیٹی کو کبھی بھی اس حویلی میں واپس آنے کا نہیں کہوں گی اور جو کچھ آپ لوگوں نے شمیم بھابھی کے ساتھ کیا اُس کے بیٹے اب واپس آچکے ہیں وہ آپ لوگوں کو معاف نہیں کریں گئے۔
پہلے خود کو بچانے کا سوچیں۔نیلم نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
اُن دونوں کو تو میں دیکھ لوں گا لیکن ابھی تمھیں سیدھا کرنا ضروری ہے۔
سکندر نے کرخت لہجے میں نیلم کو دیکھتے کہا۔
سائیں گاؤں کے کچھ لوگ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔دروازے سے اندر داخل ہوتی نگین نے جلدی سے کہا۔
سکندر نے ایک نظر نیلم پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔
بھابھی آپ ٹھیک ہے؟ نگین نے جلدی سے نیلم کے پاس آتے پوچھا۔
ہاں میں ٹھیک ہوں نیلم نے کہا تو نگین نے بےبسی سے اپنی بھابھی کو دیکھا تو جو شروع سے سکندر کا ظلم برداشت کرتے آرہی تھی۔
💜 💜 💜 💜
جب بھی میں آتا ہوں مجھے احمر کہی نظر نہیں آتا شاہ نواز نے لہجے میں خفی لیے روبینہ کو کہا۔
جو مسکرا پڑی تھی۔
آپ کا بیٹا بہت محنتی ہے سارا دن کام کرتا رہتا ہے روبینہ نے فخریہ انداز میں کہا۔
ویسے میرا بیٹا کام کیا کرتا ہے؟ شاہ نواز نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بتایا تو تھا آپ کو اس نے روبینہ نے مڑ کر دیکھتے کہا۔
ہاں بتایا تو اُس نے تھا لیکن مجھے لگتا ہے وہ مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے۔
خیر تم یہ بتاؤ کہ کھانا تیار ہے مجھے بھوک لگی ہے شاہ نواز نے کہا۔
جی کھانا تیار ہے آپ آجائیں روبینہ کہہ تک وہاں سے چلی گئی۔
شاہ نواز روبینہ کو پسند کرتا تھا وہ اسے شہر میں ملی تھی۔نگین سے شادی کے فوراً بعد شاہ نواز نے دوسری شادی روبینہ سے کر لی تھی۔
ان دونوں کا ایک بیٹا تھا۔
حویلی میں بھی اسکی دوسری شادی کا کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔
💜 💜 💜 💜
آؤ شہری سب ٹھیک ہے؟ نائل نے اپنے آفس میں شہریار کو دیکھتے پوچھا۔کیونکہ وہ بہت کم یہاں آتا تھا۔
ہاں سب خیریت ہے میں تم سے ایک ضروری بات کرنے آیا تھا۔
شہریار نے گہرا سانس لیتے نائل کو دیکھتے کہا۔
تمھاری امی ٹھیک ہیں؟ نائل نے اس کے چہرے پر چھائی پریشانی دیکھتے پوچھا۔
ہاں وہ ٹھیک ہیں میں نے کوشش کی کہ وہ دونوں میرے ساتھ آجائیں لیکن وہ نہیں مانی شہریار نے کہا۔
تم جانتے ہو نا کہ تمھارے باپ نے یہاں دوسری شادی کی ہوئی ہے تم اس بات کا فائدہ اٹھا کر اپنی امی کو یہاں لا سکتے ہو نائل نے جیسے اسے حل بتایا تھا۔
جانتا ہوں مگر میں ایسا کرنا نہیں چاہتا اگر میں امی کو یہاں لے آتا ہوں تو وہاں تائی جان اکیلی رہ جائیں گی اور مجھے اُن کے شوہر پر زرا سا بھی بھروسہ نہیں ہے وہ اُن کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔شہریار نے سرد لہجے میں کہا۔
ہاں یہ تو ہے خیر اس بارے میں بھی سوچتے ہیں۔تم بتاؤ کیا بات کرنی تھی؟ نائل نے اپنی دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہاتھوں کو آپس میں پیوست کیے پوچھا۔
زبیر کا تمہیں معلوم ہے نا؟ شہریار نے پوچھا۔
ہاں زبیر وہی جو شبنم کو پسند کرتا تھا اور وہ تو مر چکا ہے نا؟ نائل نے ناسمجھی سے شہریار کو دیکھتے پوچھا۔
وہ زندہ ہے شبنم کو ملا ہے اب وہ ضد لگائے بیٹھی ہے کہ اُسی سے شادی کرے گی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کرتا ہے کیا نہیں وہ زندہ کیسے بچ گیا۔مجھے زبیر سے مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر وہ کسی غلط کام میں ملوث ہوا تو؟ شہریار نے اپنا مسئلہ بتایا۔
دیکھو شہریار زبیر اور شبنم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور اب قسمت نے ان کو دوبارہ ملایا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔
اور زبیر زندہ ہے یہ اور بھی اچھی بات ہے۔تم فکر مت کرو میں اُس کے بارے میں سب معلوم کرواتا ہوں نائل نے پیچھے ٹیک لگاتے کہا۔
مجھے بھی زبیر سے مسئلہ نہیں ہے یار اس لیے میں چاہ رہا تھا کہ تم بھی اُس سے مل لو اس لیے اُسے یہی پر میں نے بلایا ہے آتا ہی ہو گا۔
شہریار نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھتے کہا۔
چلو یہ تو تم نے اچھا کیا۔نائل نے کہا تو پھر دونوں ارد گرد کی باتیں کرنے میں بزی ہو گئے۔
💜 💜 💜 💜
شہریار اور نائل دونوں باتیں کر رہے تھے۔جب دروازہ ناک ہوا اور زبیر اندر آیا۔
زبیر کو دیکھ کر نائل کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
مسٹر زبیر کیسے ہیں آپ؟ نائل کے کھڑے ہوتے زبیر کے گلے لگتے پوچھا وہ بھی نائل کو دیکھ کر حیران ہوا تھا۔
نائل حسن آپ؟ زبیر نے بھی خوشی سے کہا اور شہریار کے بھی لگے لگا جو ناسمجھی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
میرا خیال یے آپ دونوں پہلے سے ہی ایک دوسرے کو جانتے ہو؟ شہریار نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں یہ زبیر ہے میں کافی بار بزنس کے معاملے میں اس سے مل چکا ہوں۔نائل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
زبیر نے ڈارک بلیو شرٹ ساتھ بلیک پینٹ پہنی ہوئی تھی شرٹ کو بازوں سے فولڈ کیے اور چہرے پر سنجیدگی لیے وہ کافی روبدار لگ رہا تھا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ ہی شبنم کے بھائی ہیں۔زبیر نے خوشی سے کہا۔
دیکھ لو کیا اتفاق ہے اور کیا لینا چاہو گئے؟
نائل نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ابھی تو میں صرف پانی لوں گا۔زبیر نے کہا تو نائل نے ریسیور اٹھا کر پانی لانے کا کہا اور پھر زبیر کی طرف متوجہ ہوا۔
زبیر جہاں تک مجھے لگتا ہے حویلی والوں نے تو تمہیں مروا دیا تھا تو پھر تم زندہ کیسے؟ نائل نے سنجیدگی سے پوچھا تو زبیر نے اپنے چچا کا بتا دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کیا کام کرتا تھا مزمل کے کام کا تو زیادہ اسے بھی معلوم نہیں تھا۔
مزمل تمھارے چچا ہیں؟
نائل نے حیرانگی سے پوچھا کیونکہ وہ مزمل کو جانتا تھا کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔شہریار خاموشی سے دونوں کو سن رہا تھا۔
بلکل وہ میرے چچا ہیں زبیر نے کہتے ہی نائل کی طرف دیکھا۔
زبیرکیا تم جانتے ہو کہ تمھارے چچا کیا کام کرتے ہیں؟ نائل نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
ہاں تھوڑا بہت جانتا ہوں لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا؟ زبیر نے حیرانگی سے پوچھا۔
بس بزنس میں ان سب باتوں کے بارے میں معلومات رکھنی پڑتی ہے۔
دیکھو زبیر ہمیں تم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں تمہیں پہلے سے جانتا ہوں لیکن مجھے مسئلہ ہے تو صرف تمھارا چچا سے تم بھی ابھی نہیں جانتے کہ وہ کام کیا کرتا ہے ل۔
کیا تم ہمیں اس بات کی گارنٹی دے سکتے ہو کہ تمھارے چچا کے کام کی وجہ سے ہماری بہن کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا؟ اگر اُسے زرا سی بھی تکلیف پہنچی تو میں سیدھا آکر تمھارا گریبان پکڑوں گا۔کیونکہ ہمیں اپنی بہن بہت عزیز ہے اور اُس کی خوشی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔اور ہم سب جانتے ہیں اُس کی خوشی تمھارے ساتھ ہے تو سوچ سمجھ کر جواب دینا باقی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں نائل نے شہریار کی طرف دیکھتے کہا۔جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
دیکھیں میں آپ کی پریشانی اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں لیکن میں سوچنے کا وقت بلکل بھی نہیں لوں گا آپ دونوں سے میں وعدہ کرتا ہوں خود سے زیادہ شبنم کا خیال رکھوں گا۔زبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
تو پھر ٹھیک ہے کب آرہے ہو ہمارے گھر؟ شہریار نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
جب آپ لوگ اجازت دیں زبیر نے بھی مسکرا کر کہا۔
تو پھر اس سنڈے ملتے ہیں شہریار نے کہا تو زبیر نے بھی آنے ہی ہامی بھر دی تھی۔
چلیں اب میں چلتا ہوں مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے زبیر نے کھڑے ہوتے کہا۔
ارے تھوڑی دیر بیٹھو تو سہی شہریار نے جلدی سے کہا۔
نہیں بھائی جانا ضروری ہے ورنہ میرا ارادہ بھی کچھ دیر یہاں بیٹھنے کا تھا۔
زبیر نے کہا تو شہریار مسکرا پڑا۔
ٹھیک ہے ویسے بھی ہم سنڈے کو مل تو رہے ہیں ۔شہریار نے زبیر کے گلے لگتے کہا۔اس کے بعد زبیر نائل سے ملنے کے بعد وہاں سے چلا گیا تھا۔
لڑکا اچھا ہے لیکن مجھے اس کے چچا پر بھروسہ نہیں ہے۔نائل نے جانے کے بعد شہریار کو دیکھتے کہا۔
اس کے چچا ایسا کیا کام کرتے ہیں جس کے بارے میں اُس نے زبیر کو بھی نہیں بتایا؟ شہریار نے حیرانگی سے پوچھا۔
تو پھر نائل اسے مزمل کے بارے میں بتانے لگا۔
💜 💜 💜 💜
تم ہوتی کہا ہو؟ سارا دن میں آفس میں ہوتا ہوں واپس آتا ہوں تو تم سو چکی ہوتی ہو؟ انسان تھوڑا انتظار ہی کر لیتا ہے اپنے شوہر کا۔طالش نے شیریں کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑے کرتے خفی سے کہا۔
آج یہ آفس نہیں گیا تھا۔اور صبح سے اب اسے شیریں نظر آئی تھی جو ناجانے کچن میں کیا کر رہی تھی۔
آپ کو بھی تو تھوڑا ہوش ہونا چاہیے سارا انتظام میں ہی کروں؟ شیریں نے سنجیدگی سے کہا۔
تو تم مجھ سے ناراض ہو؟ طالش نے مسکراہٹ دباتے پوچھا کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ اسکے چوبیس گھنٹے آفس میں ہونے کی وجہ سے شیریں اس سے ناراض ہے۔
میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگی؟ شیریں نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
کیونکہ میں تمھارا شوہر ہوں اس لیے اور تمہیں ٹائم نہیں دے رہا اس لیے تم مجھ سے خفا ہو ٹھیک کہا نا؟
طالش نے شیریں کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑے کرتے کہا۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے شیریں نے نظریں جھکا کر کہا۔
ایم سوری یار آفس میں کام بہت تھا اس لیے گھر بھی لیٹ آتا تھا لیکن اب میں فری ہوں اور آج کا سارا دن میں اپنی بیوی کے ساتھ گزاروں گا بلکہ ایسا کرتے ہیں باہر چلتے ہیں۔طالش نے جلدی مشورہ دیتے کہا۔
لیکن میں نے کھانا بنایا ہے۔شیریں نے کہا۔
گھر میں اور بھی لوگ ہیں وہ کھا لیں گئے۔چلو تیار ہو جاؤ طالش نے کہتے ہی جھک کر ہلکا سا شیریں کے ہونٹوں کو چھوا اور وہاں سے چلا گیا۔
شیریں شوکڈ سی وہاں کھڑی تھی۔
بدتمیز شیریں نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی کمرے کی طرف چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
نائل گھر واپس آیا تو کافی تھکا ہوا تھا۔آج وہ جلدی واپس آگیا تھا۔
یقیناً تمھاری بیگم صاحبہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی ہوں گی؟ نائل نے ملازمہ کو دیکھتے پیچھے صوفے کے ساتھ ٹیک لگاتے پوچھا۔
جی صاحب آج تو انہوں نے دروازہ بھی نہیں کھولا ملازمہ نے کہا۔
اس کا مطلب ہے کہ اُس نے ناشتہ بھی نہیں کیا؟ نائل نے سیدھا ہوتے پوچھا۔
جی صاحب انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ملازمہ نے کہا تو نائل غصے میں اپنے کمرے کی طرف گیا تھا ۔دروازہ لوکڈ تھا۔اس نے چابی سے دروازہ کھولا اور اپنے کمرے کی میں داخل ہوا۔
سیرت ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی اور ابھی اس نے ویسے ہی ڈوپٹہ لیا ہوا تھا۔
نائل چلتا ہوا سیرت کے پاس آیا جس کے زخم اب کافی بہتر تھے۔
تم کیا چھوٹی بچی ہو جو مجھے تمہیں بار بار کہنا پڑے گا کہ کھانا کھا لو؟ نائل نے سیرت کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔جو نائل کی بات کو اگنور کیے وہاں سے جانے لگی تھی۔
اس کی جب صبح آنکھ کھلی تو اسنے خود کو بیڈ پر پایا تھا وہ جانتی تھی کہ اسے یہاں کون لایا ہو گا۔لیکن جب اس کی آنکھ کھلی تو نائل جا چکا تھا۔
میری بات کا جواب دیا کرو اگنور ہونا مجھے پسند نہیں ہے۔نائل نے غصے سے اس بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتے دانت پیس کر کہا۔
جب تک آپ مجھے طلاق نہیں دیں گئے میں ایسی ہی حرکتیں کرتی رہوں گی۔سیرت نے نائل کی آنکھوں میں دیکھتے دوٹوک انداز میں کہا۔
جس کے چہرے پر سیرت کی بات سن کر مسکراہٹ آگئی تھی۔اسے تو غصہ ہونا چاہیے تھا لیکن وہ مسکرا رہا تھا۔
