Jaane Bewafa By Rimsha Hayat Readelle50132 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
زبیر تھوڑا بزی تھا وہ چاہتا تھا کہ شبنم کو اپنے ساتھ باہر لے جائے اسے اپنے چچا پر اب بلکل بھی بھروسہ نہیں تھا۔ناجانے وہ کیا کر دے۔
اس کی شبنم سے بات بھی نہیں ہوئی تھی۔
اس نے نکاح کے لیے شبنم کو جوڑا بھیج دیا تھا۔جو اسے کافی پسند آیا تھا۔
سرخ رنگ کا لانگ فراک تھا جس پر گولڈن کلر کا کام ہوا تھا۔
سیرت نے اسے کال کرکے مزمل کے لائے ہوئے گفٹس کا بتا دیا تھا اس نے سارے گفٹس اپنے کمرے میں رکھ دیے تھے کہ آرام سے دیکھے گی۔لیکن پھر نکاح کی تیاریوں میں بزی ہو گئی اس لیے اُن کو کھولنے کا وقت نہیں ملا۔
آپی مجھے آپ کے نکاح کے لیے سوٹ لینا ہے میرے پاس کوئی اچھا سوٹ نہیں ہے۔
مرحا نے شبنم کو دیکھتے کہا اس کے پاس ہی شیریں بیٹھی ہوئی تھی۔
مرحا تم نے تو کہا تھا تمھارے پاس جوڑا ہے۔شیریں نے حیرانگی دے پوچھا۔
بھابھی مجھے لگا تھا کہ میرے پاس ہے لیکن میرے پاس کوئی بھی جوڑا نہیں ہے۔مرحا نے افسردگی سے کہا۔
تم پریشان نا ہو ہم ابھی چلتے ہیں۔شبنم نے جلدی سے کہا۔
سچ میں؟ مرحا نے خوشی سے پوچھا۔
ہاں نا چلو تیار ہو جاؤ میں بھائی کو بتا دیتی ہوں شیریں تم بھی آجاؤ شبنم نے کھڑے ہوتے کہا۔
ہاں میں بھی آتی ہوں۔شیریں نے اپنا چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے کہا۔
شبنم نے فون کرکے شہریار کو بتا دیا اور تینوں ڈرائیور کے ساتھ چلی گئیں۔
مال پہنچتے مرحا نے ایک سکن کلر کی شلوار قمیض پسند کی تھی۔جس پر گرین کلر کا کام ہوا تھا۔اور اس کا ڈوپٹہ بھی گرین کلر کا تھا۔
مرحا کچھ اور لینا ہے تم نے؟ شبنم نے مرحا کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں آپی کچھ کھا لیتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے مرحا کی فرمائش پر دونوں ہنس پڑی تھیں۔
ٹھیک ہے چلو شبنم نے کہا۔لیکن راستے میں اسے ایک شال پسند آگئی تھی۔شیریں اور شبنم دونوں شال کو دیکھنے لگی تھیں۔اور مرحا اپنی نظریں اردگرد گھمائے آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔
جب اس کی نظر شہریار پر پڑی جو کسی لڑکی کے ساتھ تھا اور ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔
اُس لڑکی کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ یہاں پاکستان کی نہیں ہے۔
نجانے مرحا کا مسکراتا ہوا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا۔
اسے شہریار کا کسی لڑکی کے ساتھ ہنس ہنس کر بات کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔
شہریار جس لڑکی کے ساتھ تھا وہ اس کی یونی فیلو تھی۔اور اب وہ پاکستان آئی تو شہریار سے بھی ملی تھی اور اب تو وہ واپس جا رہی تھی۔
شہریار بھی مرحا کو دیکھ چکا تھا۔اس لیے اپنی یونی فیلو کو باہر چھوڑ کر واپس ان کے پاس آیا تھا۔
تم لوگ بھی اسی مال میں تھے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ شہریار نے مرحا کو دیکھتے پری کو کہا۔
آپ؟ پری اور شیریں نے شہریار کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
اور آپ نے کون سا ہمیں بتایا تھا کہ آپ اس مال میں ہیں؟ شیریں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ہاں بس کچھ ضروری کام سے یہاں آیا تھا۔
شہریار نے کہا تو مرحا نے دل میں سوچا۔
یہ ضروری کام لڑکی سے ملنا تھا ہنہ مجھے کیا لگے جس مرضی سے یہ ملے مرحا نے دل میں کہا۔
ہو گئی شاپنگ؟ شہریار نے پوچھا۔
ہاں جی مرحا نے سوٹ لینا تھا وہ لے لیا ہے اور اب وہ کہہ رہی ہے اسے بھوک لگی ہے تو کچھ کھا کر نکلتے ہیں۔
پری نے مسکرا کر کہا۔
چلیں پھر میں آپ سب کو اپنی پسندیدہ جگہ پر لے کر چلتا ہوں۔شہریار نے کہا تو شیریں اور پری تو ساتھ چل پڑی لیکن مرحا نے شیریں کا بازو پکڑا مجھے بھوک نہیں ہے گھر چلتے ہیں۔مرحا نے کہا تو شیریں نے اسے گھور کر دیکھا تو مرحا کو خاموش ہونا پڑا۔
شہریار مرحا کی بات سن کر ہنس پڑا تھا وہ جانتا تھا کہ مرحا منع کیوں کر رہی ہے۔
💜 💜 💜 💜
بیٹا کھانا لگا دوں؟ روبینہ نے احمر کو دیکھتے پوچھا۔
نہیں موم بھوک نہیں ہے۔احمر نے مصروف سے انداز میں کہا۔
تم صبح سے کمرے میں بند بیٹھے کیا کر رہے ہو؟ نا کچھ کھایا اور ابھی بھی تمہیں بھوک نہیں ہے؟ روبینہ نے تھوڑا غصے سے کہا۔
موم یار بہت ضروری کام کر رہا ہوں اور مجھے بھوک نہیں ہے ورنہ آپ کو انکار نا کرتا۔
احمر نے مسکرا کر کہا۔
کیسے بھوک نہیں ہے میں کھانا لگا رہی ہوں چپ کر کے باہر آجاؤ اور کھانا کھاؤ۔مجھے کچھ نہیں سننا روبینہ نے کہا اور کمرے سے چلی گئی۔
پیچھے احمر مسکرا پڑا تھا۔
ابھی وہ اپنی جگہ سے اٹھا ہی تھا۔جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔
مزمل کا نمبر دیکھ کر اس نے کال اٹینڈ کی اور موبائل کان سے لگایا۔
مجھے تم سے ملنا ہے ابھی
مزمل نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
ان کو بھی ابھی فون کرنا تھا۔اگر کھانا کھائے بغیر گیا تو موم ناراض ہو جائے گی۔اور موم کو تو میں ناراض نہیں کر سکتا۔
احمر نے دل میں سوچا اور کھانا کھانے کے لیے باہر چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
یہ کیا ہے؟ سیرت نے بیڈ پر پڑے مہرون کلر کے سوٹ کو دیکھتے پوچھا۔
اسے سوٹ کہتے ہیں۔نائل نے جیسے اس کے علم میں اضافہ کیا تھا۔
وہ میں بھی جانتی ہوں لیکن یہ کس لیے ہے؟ سیرت نے سنجیدگی سے پوچھا۔
پاؤں اس کا ٹھیک ہو گیا تھا۔
تمھارے پہنے کے لیے ہیں جلدی سے تیار ہو جاؤ آج تمھاری بہن کا نکاح ہے کیا بھول گئی ہو؟ نائل نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے پوچھا۔
تو ابھی بھی جانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں آپی کو موبائل فون پر ہی مبارک باد دے دیتی ہوں۔سیرت نے بیڈ پر بیٹھتے طنزیہ لہجے میں کہا۔
نائل اس کی بات کا مطلب سمجھ کر ہنس پڑا تھا۔وہ کچھ دن پہلے وہاں جانا چاہتی تھی لیکن نائل نے اسے جانے نہیں دیا اور اُسی بات کا سیرت کو غصہ تھا۔
نائل نے ابھی تک اسے سکندر کی موت کا نہیں بتایا تھا۔شہریار کو بتا دیا تھا۔جس نے کہا تھا اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے۔
نائل چلتا ہوا سیرت کے پاس آیا اور اس کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔
ناراض ہو؟ نائل نے سیرت کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑا کر اوپر کرتے پیار سے پوچھا،
نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگی؟ سیرت نے اپنے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
تو پھر جلدی سے تیار ہو جاؤ ورنہ تمہیں چھوڑ کر اکیلا چلا جاؤں گا۔نائل نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟ سیرت نے غصے سے نائل کو دیکھتے پوچھا۔
میں معصوم خود کو صرف تمھارا شوہر سمجھتا ہوں۔نائل نے معصومیت سے کہا۔
سیرت تو نائل کی اداکاری دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔
آپ… سیرت کو سمجھ نہیں آئی آگے سے کیا کہے اس لیے اسے پیچھے دھکا دینے کے بعد کپڑے اٹھائے چینج کرنے چلی گئی۔
پیچھے نائل کا قہقہ اسے صاف سنائی دیا تھا۔
بدتمیز سیرت نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
سیرت چینج کرکے باہر آئی تو نائل بھی چینج کرکے بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنچ چکا تھا۔
سیرت نے اسے پہلی بار شلوار سوٹ میں دیکھا تھا اور اس پر کافی جچ بھی رہی تھی۔
نائل نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔
ماشاءاللہ نائل کی زبان سے بےساختہ پھسلا تھا۔سیرت نے نظریں اٹھا کر نائل کی طرف دیکھا جو گھنٹوں تک آتی شرٹ اور ساتھ کیپری میں سیدھا نائل کے دل میں اتر رہی تھی۔
نائل نے بیڈ پر رکھا جیولری باکس اٹھایا اور اُسے کھول کر اندر سے ایک ڈائمنڈ کا سیٹ نکالا اور چلتا ہوا سیرت کے سامنے کھڑا ہو گیا۔جو اس نے خود اس کے لیے پسند کیا تھا۔
یہ ڈائمنڈ کا سیٹ ہے؟ سیرت نے آنکھوں میں حیرانگی لیے پوچھا۔
ہاں کیوں تمہیں پسند نہیں آیا؟ نائل نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔آپ کیا اتنے امیر ہیں؟ سیرت نے معصومیت سے نائل کو دیکھتے پوچھا۔جو سیرت کے سوال پر کھل کر ہنسا تھا۔
مسز میرا نام نائل حسن ہے اور اللہ نے مجھے بہت زیادہ نوازہ ہے۔یہ تو بس چھوٹا سا تحفہ ہے تمھارے لیے نائل نے سیرت کا رخ آئینے کے سامنے کرتے کہا اور اس کے بال آگے کرتے اسے سیٹ پہناتے لگا۔اس کے چہرے کو دیکھ کر لگا رہا تھا کہ اسے سیٹ پسند آیا ہے۔
دیکھو تم پر کتنا پیارا لگ رہا ہے۔
نائل نے اپنی ٹھوڑی سیرت کے کندھے رکھتے ہوئے کہا۔
نائل کے قریب آنے پر سیرت ایک دم گھبرا گئی تھی۔اور وہاں سے پیچھے ہٹنے لگی جب نائل نے اس کی توجہ سامنے آئینے کی طرف کی۔
سامنے دیکھو ہم دونوں کی جوڑی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔نائل نے سامنے دیکھتے کہا۔اور ہاتھ میں پکڑی اس کی گلاسز اسے پہنا دی۔
سیرت نے بھی اب غور کیا تھا نائل ٹھیک کہہ رہا تھا۔سیرت نے جب نظریں جھکائی تو نائل مسکرا پڑا تھا اور اس نے جھک کر سیرت کی گردن پر بوسہ دیا اور پیچھے ہو گیا۔
جلدی باہر آجاؤ میں تمھارا انتظار کررہا ہوں۔
نائل نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔پیچھے سیرت کے لبوں کو ہلکی سی مسکراہٹ نے چھوا تھا۔
💜 💜 💜 💜
گارڈن کو کافی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔اور وہی پر نکاح ہونا تھا۔زبیر اکیلا آیا تھا۔اپنے چچا کے ساتھ نہیں آیا۔نائل اور سیرت بھی آچکے تھے۔
نائل نے زبیر سے اس کے چچا کا پوچھا تو اس نے بتا دیا تھا کہ اس کے چچا نہیں چاہتے کہ اسکی شادی شبنم سے ہو اس لیے وہ نکاح کے بعد شبنم کو اپنے ساتھ باہر لے کر جانا چاہتا ہے۔نائل نے مزید کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
شہریار اور طالش ساری تیاریاں دیکھ رہے تھے دونوں نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی۔زبیر نے سفید شلوار سوٹ کے ساتھ اوف وائٹ واسکٹ پہنی تھی۔جس میں وہ کافی اچھا لگ رہا تھا۔
شیریں نے پنک کلر کا فراک پہنا تھا۔جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
زہِ نصیب آج تو لگتا ہے آپ ہماری جان لینے کا ارادہ رکھتی ہیں مسز طالش نے شیریں کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔جس کے سفید رنگ پر پنک کلر کافی جچ رہا تھا۔
یہ تعریف ہے؟ شیریں نے ناسمجھی سے طالش کو دیکھتے پوچھا۔
جی بلکل میرے خیال سے تو اسے تعریف ہی کہتے ہیں۔طالش نے مسکرا کر کہا۔
صاحب آپ کو نائل صاحب بلا رہے ہیں۔ملازمہ نے طالش کو دیکھتے کہا۔
اُف اس نے بھی ابھی بلانا تھا۔طالش نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔شیریں اس کی حالت دیکھ کر مسکرا پڑی تھی۔
رات کو تمھاری اچھے سے تعریف کروں گا۔طالش نے ایک آنکھ دباتے بےباکی سے کہا اور جھک کر شیریں کے گال پر اپنا لمس چھوڑ کر چلا گیا۔
جس نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا تھا۔
لیکن وہاں پر کوئی نہیں تھا۔
سیڑھیوں سے بمشکل اترتی ہوئی مرحا آرہی تھی جسے دیکھ کر شیریں ہنس پڑی۔
مرحا نے کبھی ہیل نہیں پہنی تھی اور اب اس سے چلا نہیں جا رہا تھا۔لیکن وہ بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
بھابھی گجرے کہاں ہیں؟ مرحا نے اس کے پاس آتے پوچھا۔
میرے خیال سے شہریار بھائی نے کچن میں رکھے تھے۔تم لے آؤ میں آپی کو دیکھتے ہوں کہ وہ تیار ہوئی کہ نہیں شیریں نے مسکرا کر کہا۔اور وہاں سے چلی گئی۔
مرحا کچن کی طرف گئی اور اس نے یہی سوچا کہ وہ ہیل نہیں پہنے گی کمرے میں جاکر چینج کر لیتی ہے ابھی وہ یہی سوچ کر کچن میں داخل ہوئی جب اس کا پیر مڑا اور وہ گرنے لگی عین اسی وقت کسی نے اسے کمر سے پکڑ کر گرنے سے بچایا تھا۔
مرحا نے جب دیکھا کہ وہ گری نہیں ہے تو اس نے شکر کا سانس لیا لیکن وہ اس وقت کس کے حصار میں تھی یہ اسے معلوم نہیں تھا۔
اس نے سر اوپر کیے دیکھا تو شہریار اسے ہی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔
مرحا جلدی سے پیچھے کھڑی ہو گئی اور اپنے ڈوپٹے کو ٹھیک کرنے لگی۔
شہریار نے مرحا کو گھبرائے ہوئے دیکھا تو اسکے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آگئی۔
مرحا جلدی سے گجرے پکڑے وہاں سے جانے لگی جب شہریار نے اس کا ہاتھ پکڑے اسے روکا۔اور اس کے ہاتھ سے گجرے لے کر اس نے مرحا کی دونوں کلائیوں میں خود اسے گجرے پہنائے تھے۔جو دم سادھے کھڑی حیران سی شہریار کو دیکھ رہی تھی۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔شہریار نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے کہا اور مسکرا کر وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے مرحا ابھی بھی حیران کھڑی تھی۔
💜 💜 💜 💜
بیوٹیشن نے شبنم کو تیار کر دیا تھا جو آسمان سے اتری ہوئی پری ہی لگ رہی تھی۔کتنی مشکلات ان کے درمیان آئی اور آخرکار دونوں ملنے والے تھے۔
پری آئینے کے سامنے سے اٹھی اور بیڈ کی طرف آنے لگی جب اس کی نظر چاکلیٹ پر پڑی۔صبح سے اس نے خوشی کے مارے کچھ کھایا نہیں تھا اس لیے آگے بڑھ کر اس نے چاکلیٹ والے ڈبے کو پکڑا اور اُسے کھولنے لگی۔
جب اس نے ڈبے کو کھولا تو اندر سے ایک خالی لفافہ بھی نکلا تھا۔
جسے پری نے حیرانگی سے دیکھا اور اسے بھی کھولنے لگی لیکن اندر موجود تصویروں کو دیکھتے اسے اپنے پیروں تلے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
وہ لڑکی جس حالت میں زبیر کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔پری کو تو تصویریں دیکھتے ہوئے بھی شرم آرہی تھی۔خوبصورت آنکھیں پل بھر میں آنسوؤں سے بھر گئی تھی۔
کچھ دیر بیٹھی پری ان تصویروں کو ہی دیکھتی رہی پھر اس نے تصاویر کو سائیڈ ڈرا میں رکھا اور اپنا میک اپ ٹھیک کیا۔
اتنے میں شیریں اندر آئی اور اپنی بہن کو دیکھ کر تو وہ صدقے واری جا رہی تھی ۔
شیریں میرا ایک کام کرو گی؟ پری نے شیریں کو دیکھتے پوچھا۔جی آپی شیریں نے مسکرا کر کہا۔
کسی طرح زبیر کو یہاں لے آؤ میں نے اُس سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔پری نے کہا تو شیریں نے حیرانگی سے اپنی بہن کی طرف دیکھا تھا۔
آپی تھوڑی دیر تک مولوی صاحب آتے ہوں گئے آپ کا نکاح شروع ہونے والا ہے۔شیریں نے پریشانی سے کہا۔
پلیز شیریں پری نے صرف اتنا ہی کہا۔
ٹھیک یے میں کوشش کرتی ہوں۔لیکن شیریں نے کچھ پوچھنا چاہا لیکن پری نے منع کر دیا تھا۔
ابھی مجھ سے کچھ مت پوچھنا کیونکہ اس وقت میں جھوٹ بولنا نہیں چاہتی۔پری نے صاف لفظوں میں کہا تو شیریں ایک نظر اپنی بہن پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی۔
اس نے باہر جاکر سیرت کو بات بتا دی تھی۔جس نے زبیر کو پری کے کمرے میں بھیجنے میں کافی مدد کی۔
پری کا دل فل سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔جب دروازہ ناک ہونے کے بعد کھلنے کی آواز آئی۔
زبیر ابھی دروازے کی پاس ہی کھڑا تھا اور پری رخ موڑے کھڑی تھی اس نے مڑ کر زبیر کی طرف دیکھا اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
زبیر تو پری کو ایک نظر دیکھتے ہی پلکیں جھپکانا بھول گیا تھا۔اس وقت وہ سرخ رنگ کے جوڑے میں زبیر کے سامنے کھڑی تھی۔
زبیر چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔
مجھےآپ سے کچھ پوچھنا تھا۔پری نے سنجیدگی سے زبیر کو دیکھتے کہا۔
ہاں پوچھو زبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگر میں نکاح سے منع کر دوں زبیر تو آپ کیا کریں گئے؟
شبنم دل دہلانے والا زبیر سے سوال کیا تھا۔
تم پاگل ہو گئی ہو تم ایسا کیوں کرو گی؟
زبیر نے بے یقینی سے شبنم کو دیکھتے پوچھا۔
آپ وجہ نہیں جانتے؟ حیرت ہے شبنم نے کہتے ہی سائیڈ ڈرا سا کچھ تصاویر نکال کر زبیر کی طرف اچھالی۔جس نے حیرانگی سے تصاویر کو دیکھا تھا۔اس کی آنکھیں حیرت سے باہر آگئی تھیں۔
تو اُس دن یہ سب ہوا تھا اس کے ساتھ لیکن اسے کچھ یاد نہیں تھا۔
شبنم میں سب کچھ تمہیں بتا دوں گا بس نکاح سے انکار نا کرنا۔میں خود بھی نہیں جانتا تھا یہ سب زبیر نے بوکھلائے ہوئے انداز میں شبنم کو دیکھتے کہا جس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔
آپ نے مجھے دھوکا دیا ہے زبیر شبنم نے بھاری لہجے میں بےبس کھڑے زبیر کو دیکھتے کہا۔
میرا یقین کرو شبنم تمہیں دھوکا دینے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا زبیر نے شبنم کا ہاتھ پکڑے کہنا چاہا لیکن شبنم دو قدم پیچھے ہوتے زبیر سے کھڑی ہو گئی تھی۔
پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو۔زبیر نے کہا اس وقت وہ بےبسی کی انتہا پر کھڑا تھا۔
