Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

احمر مجھے لگتا ہے بھائی صاحب کو مارنا نہیں چاہیے تھا۔شاہ نواز نے احمر کو دیکھتے پریشانی سے کہا۔جو ابھی گھر آیا تھا۔

ڈیڈ آپ ابھی تک اُس بات کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں آپ اب آذاد ہے اور ساری جائیداد اب آپ کی ہے۔ پہلے کچھ بھی کرنے سے پہلے آپ کو ہر بات اُن سے پوچھنی پڑتی تھی لیکن اب آپ اپنی مرضی کر سکتے ہیں۔

احمر نے کندھے اچکاتے عام سے لہجے میں کہا۔

اس نے ہی تو شاہ نواز کو بھڑکایا تھا کہ سکندر شاہ نواز کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اور اگر وہ جائیداد کے لیے اپنی بہن کو مروا سکتا ہے تو شاہ نواز کی جان بھی لے سکتا ہے۔

اور انہی سب باتوں میں آکر شاہ نواز نے احمر کو کہا تھا کہ جو تمہیں بہتر لگتا ہے کرو۔تو اُس نے جاکر سکندر کی جان لے لی۔وہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا جب احمر نے اس کے ناک کے پاس رومال رکھا جس پر بے ہوشی کی دوا لگی تھی۔اور پھر اپنا کام کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔

شاہ نواز کو پتہ تو چل گیا تھا کہ اس کا بیٹا کوئی عام کام نہیں کرتا کچھ ایسا تو ضرور کرتا ہے جو ٹھیک نہیں ہے لیکن شاہ نواز خاموش رہا لیکن اب اسے افسوس ہو رہا تھا۔

ابتسام تو موقعے کے تلاش میں تھا کہ کسی طرح اسے موقع ملے تو نائل کو جان سے مار دے اور اگر اُسے پتہ چل جاتا کہ اُس کے بابا سائیں کو مارنے والا اس کا اپنا چچا ہے تو وہ اپنے چچا کی جان لینے میں بھی دیر نا لگاتا۔

اب تو احمر نے اسے یہی کہا تھا کہ سکندر کی موت کا سیدھا شک نائل کی طرف جائے گا اور اگر ابتسام نائل کی جان بھی لے لیتا ہے تو وہ جیل چلا جائے گا پیچھے یہ لوگ آرام سے رہ سکتے ہیں۔

احمر تم کام کیا کرتے ہو؟ سکندر نے احمر کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے ہوچھا۔

ڈیڈ ابھی تک آپ کو معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا کام کرتا ہوں؟

احمر نے مسکراتے ہوئے پوچھا خیر اسے چھوڑیں مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔احمر نے جلدی سے کہا۔

میں شادی کرنا چاہتا ہوں احمر نے شاہ نواز کو دیکھتے کہا۔

یہ تو اچھی بات ہے۔لڑکی بھی تم نے پسند کر لی ہو گی؟ شاہ نواز نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود کو پرسکون کرتے کہا۔

جی میں سیرت سے شادی کرنا چاہتا ہوں احمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

شاہ نواز کی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں۔

کیا کہا تم نے؟ کس سے شادی کرنی ہے؟

شاہ نواز نے دوبارہ پوچھا۔

مجھے سیرت سے شادی کرنی ہے جو میری کزن بھی لگتی ہے۔

احمر نے کہا تو شاہ نواز نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔

وہ شادی شدہ ہے۔نائل سے اُس کی شادی ہوئی ہے تم اُس سے کیسے شادی کرسکتے ہو؟ شاہ نواز نے پریشانی سے پوچھا۔

نائل کی جان لینے کے بعد میں اُس سے شادی کروں گا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

احمر نے پیچھے ٹیک لگاتے عام سے لہجے میں کہا۔

شاہ نواز کو تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا جواب دے جیسے کام وہ خود کرتا تھا اس کا بیٹا بھی ویسے ہی کام کر رہا تھا بلکہ وہ اس سے زیادہ آگے نکل گیا تھا۔

شاہ نواز خاموش رہا تھا۔احمر کا

موبائل رنگ ہوا تو وہاں سے اُٹھ کر باہر چلا گیا۔

ناچاہتے ہوئے بھی شاہ نواز شہریار اور احمر کا موازنہ کرنے لگا تھا دونوں اس کے بیٹے تھے لیکن کس قدر مختلف تھے۔

آگے کیا ہونے والا تھا یہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔لیکن کچھ اچھا ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔

💜
💜
💜
💜

زبیر گھر آیا اور وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔اس کا دل کر رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر دے۔اور اس نے ایسا کیا بھی جو چیز اسے نظر آئی اُسے زمین پر پھینکتے توڑ دیا تھا۔

توڑ پھوڑ کی آواز پر پری جو بیڈ پر بیٹھی تھی جلدی سے باہر آئی۔

اس نے جب زبیر کو دیکھا تو پریشان ہو گئی۔

وہ ایک جنونی انسان لگ رہا تھا۔

پری نیچے آئی تو اور زبیر کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ پری نے غصے سے زبیر کو دیکھتے پوچھا لیکن جب اس کی نظر زبیر کے ہاتھ پر پڑی تو پریشانی سے اس کے ہاتھ کو تھاما۔جہاں کانچ لگنے کی وجہ سے خون نکل رہا تھا۔

آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے؟ پری نے دانت پیستے زبیر کو دیکھتے پوچھا۔جو خاموش نظروں سے پری کو دیکھ رہا تھا۔

تم تو میری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی اب یہاں کیا کر رہی ہو؟ زبیر نے اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔

زبیر آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے۔

پری نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن زبیر پیچھے ہو گیا تھا۔

زرا سا خون نکلا ہے مر نہیں گیا جو تم اتنا پریشان ہو رہی ہو۔زبیر نے پری کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جو آنکھوں میں آنسو لیے زبیر کو جاتے ہوئے دیکھنے لگی تھی۔

غلطی زبیر کی تھی اور غصہ بھی وہ ہی اسے دیکھا رہا تھا۔

پری نے گہرا سانس لیا اور اپنے قدم کمرے کی طرف بڑھا دیے۔

زبیر کا غصہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو رہا ہے تھا۔شبنم کو اس پر یقین کرنا چاہیے تھا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا بلکہ زبیر پر شک کیا اور اسی بات نے اسے زیادہ تکلیف پہنچی تھی۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد زبیر اپنے کمرے سے باہر نکلا اور اُس کمرے کی طرف گیا۔جہاں پر پری تھی۔

دروازہ کھولتے ہی اندر آیا تو پری سامنے کھڑی تھی جس نے زبیر کو دیکھتے اپنا رخ موڑ لیا تھا۔

چلو کمرے میں زبیر مے سنجیدگی سے پری کو کندھے سے پکڑ کر اس کا رخ اپنے سامنے کرتے کہا۔

میں کہی نہیں جاؤں گی میں یہی رہو گی۔

پری نے زبیر کو دیکھتے کہا۔

زبیر نے ایک نظر پری کے سجے سنورے روپ پر ڈالی اور اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اسے بانہوں میں اٹھائے وہاں سے اسے اپنے کمرے میں لے گیا۔

زبیر چھوڑو مجھے پری نے اس کے سینے پر مکے مارتے چیختے ہوئے کہا۔

زبیر نے اسے کمرے میں جاتے ہی بیڈ پر پھینکنے والے انداز میں بیڈ پر بیٹھایا۔

خو خونخوار نظروں سے زبیر کو دیکھ رہی تھی۔

وہ الماری ہے اُس میں تمھاری ضرورت کی ساری چیزیں موجود ہیں۔جاؤ اور چینج کرکے آؤ اگر چینج نہیں کیا تو مسز میں خود یہ کام اپنے ہاتھوں سے سر انجام دوں گا اور یقین کرو مجھے برا تو بلکل بھی نہیں لگے گا۔

زبیر نے پری کی طرف جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔

اور خود کمرے سے باہر نکل گیا۔

پری آنکھوں میں غصہ لیے دروازے کو دیکھ رہی تھی جیسے وہاں پر زبیر کھڑا ہو۔

💜
💜
💜
💜

ہمیں اور کتنا چلنا ہو گا نائل؟ سیرت نے وہی بیٹھتے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔

وہ دونوں کافی دیر سے چل رہے تھے لیکن ابھی بھی اس جگہ سے باہر جانے کا راستہ ان کو نظر نہیں آیا تھا۔

میڈم میں بھی آپ کے ساتھ ہی چل رہا ہوں. جلدی سے اٹھو ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔

نائل نے سنجیدگی سے کہا۔

آپ کب کے بس یہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں نکلنا ہے۔لیکن باہر نکلنے کا راستہ تو ہمیں مل نہیں رہا سیرت نے غصے سے نائل کو دیکھتے ہوئے کہا۔

بیٹھنے سے تو راستہ ملنے سے رہا تھوڑی کوشش کرنی پڑے گی۔

مجھے لگتا ہے ہم اب صحیح راستے کی طرف جا رہے ہیں۔نائل نے سیرت کو بازو سے پکڑ کر اسے کھڑا کرتے کہا۔

جو منہ بسوڑتے اس کے ساتھ پھر سے چل پڑی تھی۔لیکن ان کو زیادہ چلنا نہیں پڑا تھا اور سڑک نظر آگئی تھی۔

اب کیا کریں؟ موبائل تو میرا گاڑی میں ہی رہ گیا تھا۔نائل نے سڑک کو دیکھتے پوچھا۔

یہ لیں موبائل اور کسی کو کال کرکے بلا لیں سیرت نے اپنے بیگ میں سے موبائل نکالتے نائل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔نائل نے حیرانگی سے پہلے موبائل پھر سیرت کے چہرے کی طرف دیکھا۔

تمھارے پاس موبائل تھا تو تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ نائل نے دانت پیستے سیرت کو دیکھتے پوچھا۔

آپ نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں تو کیسے بتاتی؟ سیرت مے معصومیت سے کہا۔

سیرت تم نائل کو سمجھ نہیں آئی کہ اپنی بیوی کو کن الفاظ سے نوازے۔

یا اللہ میری بیوی کو عقل دے۔نائل نے اونچی آواز میں کہا اور موبائل پر طالش کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔

سیرت نے اسے گھور کر دیکھا تھا لیکن یہاں پرواہ کسے تھی۔

تھوڑی دیر بعد طالش وہاں آگیا تھا۔اور وہ نائل کو پہلے ہسپتال لے کر گیا جہاں اس کے بازو کی پٹی کی گئ تھی۔

نائل گھر آیا تو سیرت اس کے لیے دودھ گرم کر کے لے آئی تھی کیونکہ اس نے میڈیسن لینی تھی۔

مسز میڈیسن تو میں کھا چکا ہوں۔نائل نے سیرت کو دیکھتے کہا۔

تھوڑی دیر صبر نہیں کر سکتے تھے آپ؟ سیرت نے گھورتے ہوئے پوچھا۔

مسز آپ کی کچھ زیادہ ہی زبان نہیں چلنے لگی؟ نائل نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھنچا جو اس کی گود می میں آ بیٹھی تھی۔

کیا کر رہے ہیں ابھی یہ دودھ گر جانا تھا۔سیرت نے سائیڈ ٹیبل پر دودھ کا گلاس رکھتے کہا۔

ایسا کرو یہ دودھ تم پی لو جتنی تم کمزور ہو تمہیں ہی اسکی ضرورت ہے۔نائل نے مسکراہٹ دباتے کہا۔

پہلے تو آپ مجھے موٹی کہہ رہے تھے اور اب میں آپ کو کمزور لگ رہی ہوں؟ سیرت نے نائل کو دیکھتے پوچھا۔جو ہنس پڑا تھا۔

تمہیں کیا لگتا ہے تم سمارٹ ہو؟ نائل نے الٹا اس سے سوال پوچھا۔

جی بلکل میں سمارٹ ہی ہوں اور اب آپ سو جائیں۔سیرت نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور نائل کی بھی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی۔

سیرت نے لائیٹ اوف کی اور بیڈ کی دوسری جانب آکر لیٹ گئی تھی۔

نائل بھی لیٹ گیا تھا اس کے بازو بھی درد کر رہا تھا۔اس لیے سونا ہی بہتر سمجھا اس نے

اور اس نے سوچ لیا تھا کہ اُس انسان کا اب کیا کرنا یے جو اس کی بیوی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔

💜
💜
💜
💜
💜

نائل اور سیرت کو گھر چھوڑنے کے بعد طالش گھر آیا۔اس نے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا۔

کمرے میں داخل ہوا تو شیریں شاید ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔

اسے دیکھتے ہی طالش مسکرا پڑا تھا۔

مسز مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔طالش نے شیریں کے ہاتھوں کو تھامتے اسے اپنے سامنے کھڑا کرتے کہا۔

جو اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔

اس نے سوچ لیا تھا کہ جو بھی سچ ہے وہ شیریں کو بتا دے گا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کے درمیان میں کوئی بھی غلط فہمی آئے۔

اُس دن جس لڑکی کا فون بار بار آرہا تھا وہ میرے دوست کی بیوی تھی۔

اور میری کلاس فیلو بھی۔اُس کا اپنے شوہر سے کچھ سیریس قسم کا جھگڑا ہوا تھا اور میرے دوست نے غصے سے اُسے گھر سے نکل دیا۔اور اُس لڑکی نے اپنے ماں باپ کے خلاف جاکر اُس سے شادی کی تھی۔تو بس اسی لیے میں نے دونوں کی مدد کی۔

اور اب دونوں میں جو بھی غلط فہمیاں تھیں وہ ٹھیک ہو گئی ہیں۔

میرے دوست نے اپنی بیوی سے معافی بھی مانگی کہ وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔طالش نے پوری تفصیل شیریں کو بتاتے کہا۔

اور یہ سب آپ مجھے اب کیوں بتا رہے ہیں؟ شیریں نے سنجیدگی سے پوچھا۔

کیونکہ اُس دن مجھے لگا کہ میں تھوڑا روڈ ہو گیا تھا۔اس لیے میں سب کچھ کلیر کرنا چاہتا ہوں کہ تم میری زندگی میں آئی پہلی اور آخری لڑکی ہو تمہیں دھوکا دینے کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا۔

طالش نے سنجیدگی سے کہا۔

لیکن میں آپ سے سوری نہیں بولوں گی کیونکہ غلطی آپ کی تھی اور لڑکیاں کبھی غلط نہیں ہوتی۔شیریں نے ناک چڑھاتے کہا۔

جس پر طالش ہنس پڑا تھا۔

کس نے کمبخت نے کہا کہ میں تمھارے ان خوبصورت لبوں سے سوری سننا چاہتا ہوں؟ طالش نے شیریں کے قریب ہوتے اس کے گلابی لبوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے گھمبیر لہجے میں کہا۔

مجھے اس سے پہلے شیریں کوئی بہانا بنا کر وہاں سے اٹھتی طالش نے اس کے بازو کو پکڑ کر دوبارہ اپنے پاس بیٹھاتے اس کی ساری کوشش ناکام بنا دیا تھا۔

مسز اس وقت اپ کو کوئی کام نہیں ہے اگر ہو گا بھی تو میں جانے نہیں دوں گا۔

سمجھی طالش نے مسکراہٹ دباتے کہا۔

اس کی گہری نظروں نے شیریں کو اپنی نظریں جھکانے پر مجبور کر گئی تھیں۔

طالش نے مسکرا کر اسے خود کے قریب کیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا جس پر شیریں نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔

💜
💜
💜
💜

ابتسام کو کسی کی مدد کی ضرورت تھی تاکہ وہ نائل سے بدلہ لے سکے اس لیے وہ احمر کے پاس آیا تھا۔

اگر تمہیں نائل سے بدلہ لینا ہے تو اُس کی بیوی یعنی اپنی بہن کو اُس سے دور کرنا ہو گا۔نائل کی جان تمھاری بہن میں بستی ہے اگر تم اُسے دور کر دیتے ہو تو تم نائل نے وہ سب کچھ کروا سکتے ہو جو تم چاہتے ہو۔

احمر نے سنجیدگی سے ابتسام کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔

ٹھیک کہہ رہے ہو اور سیرت سے ملنا میرے لیے مشکل کام نہیں ہے۔کچھ دیر ابتسام نے سوچنے کے بعد ابتسام نے کہا۔

اس معاملے میں تمہیں اگر کسی بھی قسم کی ضرورت ہوتی ہے تو میں تمھاری مدد کروں گا۔ لیکن اس بار ایسا کچھ کرنا ہے کہ نائل بچ نا پائے۔

احمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

تمھاری نائل سے کیا دشمنی ہے؟ ابتسام نے حیرانگی سے پوچھا۔اس کے باپ نے ہی احمر کے بارے میں اسے بتا دیا تھا کہ وہ اس کا کزن ہے۔

میری اُس سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن میرے بوس نے مجھے اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔جسے میں نے ہر حال میں پورا کرنا ہے۔

احمر نے آدھا جھوٹ اور آدھا سچ ملا کر ابتسام کو بتایا۔

تم کام کیا کرتے ہو؟ ابتسام کے اگلے سوال پر احمر ہنس پڑا۔

بس یہ سمجھ لو کہ میں کوئی اچھا کام نہیں کرتا وہی سب کرتا ہوں جو میرا دل کرتا ہے جس میں کوئی مجھے روک نہیں سکتا میں اپنی مرضی کرتا ہوں۔اور خوش رہتا ہوں جو چیز مجھے آرام سے نہیں. ملتی اُسے میں کھینچ لیتا ہوں ۔احمر نے کہا تو ابتسام سجھ گیا تھا کہ احمر کیا کام کرتا ہے اس لیے اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔

💜
💜
💜
💜