Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

شہریار اور طالش اپنے ساتھ پولیس لے کر حویلی گئے تھے۔
ملازم نے پولیس کے آنے کی اطلاع دی۔تو سکندر کے ساتھ ابتسام بھی حیرانگی کے ساتھ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔
اسے یہی لگا تھا کہ اس کی ماں نے سکندر کے ظلم سے تنگ آکر خود کشی کی تھی۔
بابا سائیں حویلی میں پولیس کیا لینے آئی ہے؟ ابتسام نے اپنے باپ کو دیکھتے پوچھا جس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔
یہ تو جا کر ہی پتہ چلے گا۔سکندر نے کہا۔ اور وہاں سے باہر چلا گیا۔ابتسام بھی اپنے باپ کے پیچھے چل پڑا تھا۔
سکندر نے شہریار اور طالش کو دیکھا تو غصے سے اس کی رگیں تن گئی تھیں۔
مسٹر سکندر آپ کے خلاف اپنی بیوی کو قتل کرنے کی رپورٹ درج ہوئی اور آپ کو ہمارے ساتھ تھانے چلنا ہو گا۔انسپکٹر نے سکندر کو دیکھتے کہا۔
رپورٹ؟ رپورٹ کس نے درج کروائی؟ ابتسام نے حیرانگی سے پوچھا۔
آپ کے کزن شہریار نے ان کا کہنا ہے کہ ان کی تائی پر یہاں بہت ظلم ہوتا تھا۔اور اب ان کے شوہر نے ان کے جان لے لی باقی باتیں تھانے جا کر ہوں گی۔انسپکٹر نے کہتے ہی اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا جس نے سکندر کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی تھی۔
انسپکٹر صاحب یہ جھوٹ ہے بابا سائیں نے امی کی جان نہیں لی اور یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ابتسام نے جلدی سے آگے آتے کہا۔
اگر آپ کو اس بارے میں بات کرنی ہے تو آپ کو تھانے آنا ہوگا۔
اور ان کی والدہ کو بھی بلائے ان کا کہنا ہے کہ اُن کی جان کو بھی یہاں خطرہ ہے۔انسپکٹر نے شہریار کی طرف اشارہ کرتے ابتسام کو کہا۔جس نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
یہ آئیڈیا طالش کا تھا ان کو کچھ کرنا نہیں پڑا سارا کام پولیس نے کر لیا تھا۔
ملازمہ نگین کو بلا لائی تھی شاہ نواز بھی اس کے ساتھ ہی نیچے آگیا تھا۔
نگین نے شہریار کو دیکھا تو اپنے بیٹے کے گلے جا لگی۔
بیٹا بھابھی کو اس انسان نے جان سے مارا ہے۔نگین نے روتے ہوئے سکندر کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
سکندر نے شاہ نواز کی طرف دیکھا تھا لیکن اس وقت وہ خود بھی بےبس تھا۔کیونکہ یہاں پولیس کھڑی تھی۔اس لیے کچھ کر نہیں سکتا تھا۔
لے کر جاؤ ان کو یہاں سے انسپکٹر نے سکندر کو دیکھتے اپنے ساتھیوں کو کہا۔
تم لوگوں کو میں چھوڑوں گا نہیں سکندر نے غصے سے طالش اور شہریار کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
امی آپ اسی وقت میرے ساتھ چلے گی اور میں آپ کا انکار اس بار ہرگز نہیں سنوں گا۔
شہریار نے اپنی ماں کے آنسوؤں کو صاف کرتے پیار سے کہا۔
میں بھی اب ان قاتلوں کے درمیان رہنا نہیں چاہتی نگین نے شاہ نواز کو دیکھتے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
طالش خاموشی سے کھڑا تھا۔
چلیں میرے ساتھ شہریار نے کہا تو نگین بنا شاہ نواز کی طرف دیکھتے وہاں سے چلی گئی تھی۔
سکندر کے گرفتار ہونے کی خبر پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیلی تھی ہر کوئی اپنی مطابق باتیں کر رہا تھا۔
چچا جان ہمیں پولیس سٹیشن جانا ہے ابتسام نے شاہ نواز کو دیکھتے کہا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
طالش آپ مجھے اب بتا رہے ہیں؟ تائی جان کو کیا ہوا؟ اور سیرت کیسی ہے؟ شیریں کو جبسے پتہ چلا تھا اُسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ نیلم اب اس دنیا میں نہیں رہی۔
شیریں جاؤ یار پہلے اپنی امی کو سنبھالو طالش نے اپنی کنپٹی دباتے ہوئے کہا۔
طالش اور شہریار اسی گھر میں نگین کو لے آئے تھے نگین نے مرحا اور شبنم دونوں کو زندہ دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔
شبنم اپنی ماں کو کمرے میں لے گئی تھی اور اُس نے بتا دیا کہ کیسے وہ حویلی سے نکلی تھی۔نگین مرحا اور شبنم کے لیے خوش تھی لیکن اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ کسی کے گلے لگ کر خوب روئے۔
کیا ہوتی ہے انسان کی زندگی ایک پل میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے انسان سب کچھ چھوڑ کر اتنا دور چلا جاتا ہے کہ وہاں سے کبھی واپس نہیں آ سکتا۔نگین نے بےبسی سے کہا۔
امی آپ ٹھیک ہیں؟ شبنم نے اپنی ماں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے پوچھا۔
مجھے حویلی سے جانا نہیں چاہیے تھا اگر میں نا جاتی تو بھابھی کو بچا لیتی نگین کہتے ہی شبنم کے گلے لگی رونے لگی تھی۔
امی اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے اور اگر آپ وہاں ہوتی بھی تو تایا سائیں کو آپ روک نہیں سکتی تھیں۔
تائی جان اتنی ہی زندگی لکھوا کر آئی تھیں۔
آپ دعا کریں کہ اللہ اُن کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔سیرت کو ہم سب کو آپ کی ضرورت ہے۔تائی جان ہمیں چھوڑ کر جا چکی ہیں اور اب ہم آپ کو نہیں کھونا چاہتے۔
شبنم نے اپنی ماں کے آنسو صاف کرتے کہا۔
ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن شبنم صبر آنے میں بھی تھوڑا وقت لگتا ہے اور سیرت کہاں ہے؟ نگین کو سیرت کا خیال آیا تو جلدی سے پوچھا۔
امی وہ نائل بھائی کے ساتھ دوسرے گھر میں رہتی ہے۔شبنم نے کہا۔
مجھے سیرت سے ملنا ہے تم شہریار کو کہو کہ مجھے سیرت کے پاس لے جائے۔نگین نے کہا۔
جی امی میں کہتی ہوں شبنم نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔اور کمرے سے باہر چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
نائل سیرت کے سرہانے بیٹھا اس کے بال سہلا رہا تھا ڈاکٹر اسے چیک کرنے کے بعد چلا گیا ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ٹینشن کی وجہ سے وہ بےہوش ہو گئی تھی۔
سیرت نے اپنی آنکھیں کھولی جو ابھی بھی سرخ تھیں۔
سیرت…. نائل نے پیار سے سیرت کو پکارا تھا۔جس نے نائل کی طرف انجان نظروں سے دیکھا۔
اُٹھ کر کچھ کھا لو پھر میڈیسن بھی لینی ہیں۔نائل نے سنجیدگی سے کہا۔
سیرت نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
سیرت نائل نے پھر سے اس کا نام پکارا۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔سیرت نے بھاری لہجے میں کہا۔
ضد مت کرو سیرت اگر ایسے کروں گی تو تمھاری امی کو بھی دکھ ہو گا تو کیا تم چاہتی ہو کہ تمھاری امی کو تمھاری وجہ سے تکلیف ہو؟
نائل نے کہا تو سیرت نے آنکھوں میں آنسو لیے نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
چلو پھر شاباش جلدی سے اٹھو میں تمھارے لیے کھانا لے کر آتا ہوں نائل نے سیرت کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور خود کمرے سے باہر چلا گیا۔
کاش میں ایک بار آخری بار آپ سے مل لیتی امی سیرت نے سامنے دیوار کو دیکھتے بےبسی سے کہا۔
لیکن میرا وعدہ ہے آپ سے جس نے بھی آپ کو مجھ سے دور کیا ہے میں اُسے سخت سزا دلاؤں گی پھر چاہے وہ میرا باپ بھائی ہی کیوں نا ہو۔سیرت نے پر عزم لہجے میں اپنے آنسو صاف کرتے کہا۔
وہ جانتی تھی کہ اس کی ماں خودکشی جیسی حرام موت کو گلے نہیں لگا سکتی۔کاش وہ زبردستی ہی سہی لیکن اپنے ماں کو اپنے ساتھ لے آتی۔لیکن اسے بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ اسے اچانک ایسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔
💜 💜 💜 💜
آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ احمر نے مزمل کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
زبیر کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں پتہ نہیں اس لڑکے کو کیا ہو گیا ہے وہ لڑکی جس سے وہ محبت کرتا تھا وہ زندہ ہے اور واپس آگئی ہے۔
اب ضد لگائے بیٹھا ہے کہ اُسی سے شادی کرے گا۔لیکن میں سلیمان سے ڈیل کر چکا ہوں کہ زبیر کی شادی اس کی بیٹی کے ساتھ ہی ہو گی۔مزمل نے اپنا مسئلہ بتایا۔
سر آپ زبیر کی شادی اُس لڑکی کے ساتھ کروا دیں۔زبیر کا اعتماد پھر سے حاصل کریں۔اُس کے بعد ایک لڑکا ہائیر کریں جو اُس لڑکی کو اپنے جال میں پھنسا کر پیار کا جھوٹا ڈرامہ رچائے اس کے بعد زبیر جب اُس لڑکی کو اُس لڑکے کے ساتھ دیکھے گا تو خود ہی چھوڑ دے گا۔کیونکہ مرد کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ جسے وہ چاہتا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف مسکرا کر بھی دیکھے۔اور زبیر کے ساتھ بھی آپ ایسا ہی کچھ کریں۔اور وہ لڑکی جس سے آپ زبیر کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں کی تصویریں لے کر زبیر جس لڑکی کو پسند کرتا ہے اُسے دیکھا دیں اس طرح دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے گے اور آپ کا کام بھی آسان ہو جائے گا۔احمر نے مزمل کو دیکھتے کہا۔
جس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
یہ تو بہت اچھا آئیڈیا ہے احمر تم نے تو میرا بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے۔میں کل ہی زبیر کے پاس جاؤں گا۔لیکن آج میں نے تمہیں جس کام کے لیے بلایا ہے وہ کچھ اور ہے۔مزمل نے سنجیدگی سے کہا۔
اور دو تصویریں احمر کے سامنے رکھی۔
ان دونوں کو مارنا ہے کیسے یہ تم پر ہے لیکن کام ہوتے ہی مجھے بتا دینا جتنے پیسے تم مانگو گئے میں تمہیں دے دوں گا۔
مزمل نے پیچھے ٹیک لگاتے کہا۔
احمر نے دونوں تصویروں کو دیکھا۔
یہ تو نائل حسن ہے نا اور ساتھ اس کا بھائی جانے مانے بزنس مین ہیں یہ تو احمر نے نائل کی تصویر کو دیکھتے کہا۔
ہاں یہ وہی ہے انسان جتنی زیادہ بلندیوں پر ہوتا ہے اُس کے دشمن بھی اُتنے ہی ہوتے ہیں۔
مزمل نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔اب وہ کافی حد تک پرسکون تھا۔
یہ تو ہے چلیں آپ کا کام ہو جائے گا۔احمر نے وہاں سے اٹھتے اپنی جیب میں دونوں تصویروں کو ڈالتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
مزمل بھی وہاں سے اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن نگین سیرت سے ملنے گئی تھی۔اور اس نے باقی سب کو بھی وہاں آنے کا کہا تھا تاکہ گھر میں پڑھائی کروائی جائے۔
سب لوگ نکل گئے تھے۔
مرحا شہریار کے ساتھ تھی۔
ان دونوں نے راستے میں رک کر کچھ سامان بھی لینا تھا۔جو نگین نے لانے کو کہا تھا۔
تم گاڑی میں بیٹھو میں سامان لے کر آتا ہوں۔شہریار نے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔
نہیں میں بھی آپ ہے ساتھ چلو گی۔
مرحا نے جلدی سے کہا۔
شہریار نے ایک نظر مرحا کو دیکھا اور بنا کچھ کہے باہر نکل گیا۔
مرحا بھی جلدی سے اس کے پیچھے باہر نکل گئی تھی۔
سامان لے کر دونوں اپنی گاڑی کی طرف آرہے تھے جب مرحا کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے ابتسام پر پڑی اس کے ساتھ ہی شاہ نواز بھی کھڑا تھا۔جو شاید تھانے سے سیدھے حویلی جا رہے تھے اور ابتسام نے پانی کی بوتل لینے گاڑی کو روکا تھا۔
یہ زندہ کیسے بچ گئی۔ابتسام نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا اور چلتا ہوا شہریار کے پاس آیا۔مرحا ڈر کے مارے شہریار کے پیچھے چھپ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
تم زندہ ہو مرحا میرے لیے یہ انکشاف ناقابلِ یقین ہے۔ابتسام نے مرحا کو دیکھتے اپنے لہجے میں حیرانگی لیے کہا۔
چھپ کیوں رہی ہو؟ میں وہی انسان ہوں جس سے تم بےپناہ محبت کرتی تھی۔
ابتسام نے تھوڑا مرحا کی طرف جھکتے ہوئے کہا۔لیکن ان کے درمیان شہریار کھڑا تھا جس نے ابتسام کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے پیچھے کیا۔
اب تمھارا اس سے کوئی رشتہ نہیں ہے اس لیے اپنی حد میں رہو۔شہریار نے سرد لہجے میں کہا۔
ہمم رشتہ تو میرا بھی وہی ہے جو تمھارا اس کے ساتھ ہے ٹھیک کہا نا؟ اور کزن ہونے کے ناطے ہم بات تو کر ہی سکتے ہیں نا؟ ابتسام نے دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر لاتے کہا۔
تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ اور اپنی ماں کے قاتل کا پتہ لگاؤ ویسے بہت ہی تم بےشرم انسان ہو باپ نے ماں کو مار دیا اور بیٹا اپنے باپ کا ساتھ دے رہا ہے۔لیکن
تمھاری بھی اس میں غلطی نہیں ہے تم تو باپ کے ٹکروں پر پلنے والے انسان ہو جسے باپ کا سہارا نا ہو تو سڑکوں پر آجائے اس لیے باپ کا ساتھ تو دو گے نا۔شہریار نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔ابتسام غصے سے شہریار کے گریبان کی طرف اپنے ہاتھ بڑھانے لگا لیکن شہریار نے راستے میں ہی اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تھا۔
یہ غلطی مت کرنا باپ پہلے ہی جیل میں ہے وہ نہیں چاہے گا تم بھی اُس کے پاس جاؤ۔شہریار نے زور سے ابتسام کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
اور گاڑی کا دروازہ کھول کر مرحا کو اندر بیٹھایا۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کے بعد گاڑی سٹارٹ کرتے وہاں سے چلا گیا۔
ابتسام نے زور سے اپنی ہاتھ کی مٹھیاں بنا کر اسے بھینچا تھا۔