No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
اتنے بڑے گھر میں کیا یہ دو بھائی اکیلے رہتے ہیں؟ شیریں نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے گھر کو دیکھتے کہا۔
کمرے میں بیٹھے وہ تھک گئی تھی طالش اسے ناشتہ دینے کے بعد دوبارہ کمرے میں نہیں آیا تھا اور اب تو شام ہونے والی تھی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر شیریں کمرے سے باہر نکلی تھی۔
گھر کافی بڑا اور خوبصورت تھا۔
شیریں باہر گارڈن میں آئی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور اس وقت گارڈن کا منظر بہت خوبصورت نظر آرہا تھا۔
گارڈن میں ہر طرح کے پھول موجود تھے۔
شیریں نے سفید گلاب کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھول کو توڑنے لگی لیکن پھول کے ساتھ لگے کانٹے اس کے ہاتھ پر لگ گئے تھے۔
دھیان سے پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں طالش جو ابھی گھر آیا تھا شیریں کو باہر دیکھ کر حیران ہوا اور اس کے پاس ہی آگیا تھا۔
شیریں نے گھبرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا لیکن طالش کی پکڑ سخت تھی۔
شوہر ہوں تمھارا اتنا گھبرا کیوں جاتی ہو۔اور میرا نہیں خیال کہ جب ہمارا نکاح ہوا تھا تم اتنی چھوٹی تھی کہ تمہیں یاد نا ہو۔طالش نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اگر آپ کو یاد ہو تو میں چھوٹی ہی تھی شیریں نے گھورتے ہوئے کہا جس پر طالش ہنس پڑا۔
آپ کی امی کہاں ہیں؟ شیریں نے اچانک سوال کیا تھا۔جس پر طالش کا مسکراتا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہوا تھا۔
تمھارے بابا اور تایا سائیں کی کرم نوازی سے ہم نے اپنی ماں کو کھو دیا تھا اتنا تو تمہیں یاد ہو گا؟ طالش نے کرخت لہجے میں کہا۔
آپ کو پورا یقین ہے کہ آپ نے اُن کو کھو دیا؟ کبھی اُن کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی آپ لوگوں نے؟ شیریں نے سنجیدگی سے طالش کو دیکھتے کہا اور وہاں سے جانے لگی۔لیکن طالش نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا تھا۔
کیا مطلب ہے تمھاری اس بات کا؟ طالش نے سرد لہجے میں پوچھا۔
آپ کو نہیں لگتا ہے آپ کو حویلی جا کر معلوم کرنا چاہیے کہ آپ کی ماں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ شیریں نے بس اتنا کہا اور وہاں سے چلی گئی پیچھے طالش کو وہ ایک نئی امید دے کر چلی گئی تھی۔کہ وہ ہو سکتا ہے کہ اس کی ماں زندہ ہو۔
💜 💜 💜 💜 💜
سیرت کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے کمرے میں خود کو اکیلا پایا۔اسے اتنا یاد تھا کہ وہ چھت پر گرم زمین پر بیٹھی تھی اور وہی بےہوش ہو گئی۔
اُٹھ گئی؟ اپنے پاس سے آتی کسی اجنبی کی آواز پر سیرت ایک دم ڈر گئی تھی۔کیونکہ یہ آواز اُس اجنبی انسان کی آواز سے کافی حد تک ملتی تھی۔جو اسے مارکیٹ کے باہر ملا تھا لیکن وہ اس کے کمرے میں کیسے آیا یہ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی سیرت ابھی بھی اوپر چھت کی طرف دیکھ رہی تھی دماغ میں یہی سوال چل رہے تھے۔
کمرے کی مدھم روشنی میں کچھ بھی صاف نظر نہیں آرہا تھا۔
میں اپنے کام کے لیے اس حویلی آیا تھا۔تو سوچا تم سے بھی ملتا جاؤں نائل نے سیرت کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھتے اس پر جھکتے ہوئے پرسرار لہجے میں کہا۔
سیرت کی خوف کے مارے آنکھیں باہر کو آگئی تھی۔
اپنے اوپر چھکے انسان کا چہرہ اسے بلکل بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
لیکن خوف سے اسے اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
ویسے گلاسز کے بغیر تمہیں نظر نہیں آتا نا اور تمھاری گلاسز تو ٹوٹ چکی ہے اس لیے میں تمھارے لیے گلاسز لایا ہوں اور اپنے جاہل باپ اور چچا سے تم کوئی بات نہیں کروں گی سمجھ گئی نائل نے سیرت کی تھوڑی کو پکڑتے کہا۔جس نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
گڈ گرل کیونکہ میں نہیں چاہتا میرے علاوہ تمہیں کوئی بھی تکلیف دے نائل نے مسکرا کر کہا۔
سیرت کی آنکھوں میں بے بسی سے آنسو آگئے تھے۔
رونا تو بلکل بھی نہیں ہے تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے رونے کے لیے تو پوری زندگی پڑی ہے نائل نے کہا اور وہی اندھیرے میں کہی غائب ہو گیا۔
سیرت میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اُٹھ کر لائٹ اون کر سکے۔
تھوڑی دیر بعد ہی اس کا دماغ تاریکی میں ڈوبنے لگا۔
پھر اس کی آنکھ اگلے دن کھلی تھی۔
اُٹھ گئی میری بچی نیلم کے سیرت کو دیکھتے خوشی سے کہا۔
سیرت کل رات کا سوچ رہی تھی اسے لگا کہ وہ ایک خواب ہی تھا اس لیے اپنے دل کو مطمئن کرتے وہاں سے اٹھ کر بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔
تم جلدی سے فریش ہو جاؤ میں تمھارے لیے ناشتہ لاتی ہوں نیلم نے کہا اور کمرے بسے باہر چلی گئی۔
سیرت بیڈ سے اُٹھنے لگی تھی جب اس کی نظر سائیڈ ڈرا پر پڑی وہاں پر گلاسز پڑی ہوئی تھی۔
گلاسز کو دیکھتے ہی سیرت وہی رک گئی کانپتے ہاتھوں سے اس نے گلاسز کو پکڑا۔
اس کا مطلب وہ سچ میں کل رات یہاں میرے کمرے میں آیا تھا۔سیرت نے خوفزدہ لہجے میں منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
سیرت بیٹا تم ابھی تک فریش نہیں ہوئی نیلم نے کمرے میں داخل ہوتے کہا۔
جی امی میں جا رہی ہوں سیرت نے جلدی سے کہا اور وہاں سے اٹھ گئی۔لیکن اس کے دماغ میں ابھی بھی اُس اجنبی کی باتیں چل رہی تھی جو اس کے کمرے تک آگیا تھا۔
💜 💜 💜💜
کیا سوچ رہے ہو طالش؟ حسن نے اپنی ٹائی کو ڈھیلا کرتے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
میں سوچ رہا ہوں ہمیں اپنی ماں کے بارے میں پتہ لگوانا چاہیے تھا ہو سکتا یے وہ زندہ ہو طالش نے سنجیدگی سے کہا۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں نے معلوم نہیں کروایا؟ حسن نے الٹا سوال کیا۔
تو پھر کیا پتہ چلا اور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں طالش نے بےتابی سے پوچھا۔
میں نے اپنے آدمیوں کو کام پر لگایا ہوا ہے لیکن ابھی مجھے کوئی ایسی خبر نہیں ملی جس کے بارے میں تمہیں بتا سکوں اور تم پریشان مت ہو میں سب دیکھ لوں گا اور دوسری بات میں حویلی جانا چاہتا ہوں حسن نے طالش کو دیکھتے کہا۔
حویلی ؟لیکن کیوں؟ طالش نے حیرانگی سے پوچھا۔
رشتے کے لیے حسن نے مسکراتی نظروں سے طالش کو دیکھتے کہا۔
رشتہ؟ تم اُس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ طالش نے بے یقینی سے حسن کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں اس میں برائی کیا ہے وہ لڑکی اچھی خاصی ہے اور دوسری بات بہادر ہے لیکن یہ شادی میں کسی اور مقصد کے لیے کر رہا ہوں حسن نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو طالش نے کہا تو حسن مسکرا پڑا۔
کل ہم لوگ حویلی جا رہے ہیں حسن نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا اور اپنا کوٹ پکڑے کمرے کی طرف چلا گیا۔
پیچھے طالش سوچ میں پڑ گیا تھا کہ حسن کیا کرنے والا ہے۔
💜 💜 💜 💜
سیرت تمہیں چودھری کے گھر والوں سے معافی مانگنی ہو گی اسی شرط پر تمھارے بابا سائیں نے تمہیں چھت سے نیچے لانے کی اجازت دی تھی۔نیلم نے سیرت کو دیکھتے کہا۔
امی آپ مجھے پھر اوپر ہی مرنے دیتی لیکن اُن لوگوں سے تو میں کبھی بھی معافی نہیں مانگو گی اور کس بات کی معافی؟ میں نے کچھ بھی غلط نہیں بولا تھا جس کی معافی میں اُن لوگوں سے مانگوں ۔سیرت نے غصے سے کہا۔
سیرت ضد مت کرو ورنہ تمھارے بابا سائیں اس سے پہلے نیلم کچھ کہتی سیرت بول پڑی تھی.
امی میں نے کہا نا میں اُن لوگوں سے کبھی معافی نہیں مانگو گئی سیرت کہتے ہی وہاں سے اٹھ گئی تھی۔
نیلم نے گہرا سانس لیا تھا اب وہ اسے کیسے سمجھاتی شبنم بھی ایسے ہی ضد کرتی تھی سب کچھ سیرت کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا کہ کیسے وہ سب کو چھوڑ کر چلی گئی لیکن سیرت کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔کہ اُس کی ماں اب کسی اور کو کھونا نہیں چاہتی۔
💜 💜 💜 💜
کون ہو تم لوگ؟ ابتسام نے سامنے کھڑے ہٹے کٹے حبشیوں کو دیکھتے پوچھا۔وہ شہر جا رہا تھا جب راستے میں اس کی گاڑی کو روک لیا گیا۔
میں بتاتا ہوں گاڑی کا دروازہ کھلا اور اندر سے زبیر باہر نکلا لیکن زبیر کو دیکھ کر ابتسام حیران ہوا تھا۔سامنے کھڑا زبیر کہی سے بھی ان لوگوں کا ڈرائیور نہیں لگ رہا تھا۔
تھری پیس بلیک کلر کے سوٹ میں ملبوس زیبر گلاسز لگائے پہلے والے زبیر سے بہت مختلف لگ رہا تھا۔
تم؟ ابتسام نے اپنی حیرانگی پر قابو پاتے پوچھا۔
تمہیں کیا لگا میں مر چکا ہوں؟ اور زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے آج اس مقام پر میں تم لوگوں کی بدولت ہی پہنچا ہوں۔انسان کے پاس پیسا ہو نا تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔زبیر نے ابتسام کے سامنے کھڑے ہوتے کہا۔
شبنم کو تم لوگوں نے مار دیا نا؟ زبیر نے سرد لہجے میں پوچھا۔
یہ وہی جانتا تھا کہ اس بات کو کہتے ہوئے وہ کتنے قرب سے گزرا ہے۔
اُس نے ہماری عزت نیلام کی اُسے مر ہی جانا چاہیے تھا۔ابتسام نے غصے سے کہا۔
زبیر نے زور سے مکا ابتسام کے جبڑے پر دے مارا تھا۔
تم لوگوں کی عزت تو پہلے سے ہی دو کوڑی کی تھی مزید وہ خراب کیسے کر سکتی ہے زبیر نے کرخت لہجے میں کہا۔
تمہاری اتنی ہمت ابتسام نے آگے بڑھتے کہا لیکن زبیر کے آدمیوں نے اسے پکڑ لیا تھا۔
اسے اتنا مارو کہ اسے اپنے سارے گناہ یاد آجائیں لیکن یہ مرنا نہیں چاہیے اس کے باپ اور چچا کو پتہ چلنا چاہیے کہ اب ان کا دشمن زبیر ہے۔
زبیر نے سگریٹ سلگاتے کہا اور اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔
