No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
سیرت ایک بار اپنے بھائی کی خیریت معلوم کر لو وہ کل کا حویلی واپس آچکا ہے اور بھائی ہے تمھارا اچھا نہیں لگتا نیلم نے پیار سے اپنی لاڈلی کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
امی آپ سب کا اُس کے لیے پیار کافی ہے میرے جانے سے کون سا انہوں نے جلدی ٹھیک ہو جانا ہے۔اور ہاں گاؤں میں شادی ہے نا میں آپ کے ساتھ وہاں جاؤں گئی۔
چچی جان بھی جا رہی ہیں نا سیرت نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا۔
سیرت میرا دل تو نہیں چاہ رہا لیکن حویلی میں سے کسی نا کسی کا جانا بھی ضروری ہے ایسا کرو تم اپنی چچی کے ساتھ چلی جاؤ نیلم نے کہا تو سیرت نے اپنے کندھے آچکا دیے ٹھیک ہے سیرت نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
نیلم کو حیرت ہوئی تھی کہ آج خود اس نے کہا تھا کہ وہ گاؤں کی شادی میں جانا چاہتی ہے ورنہ وہ جاتی نہیں تھی۔
سیرت نے اپنے کمرے میں جا کر ایک پنک کلر کا جوڑا نکالا جس کے گلے پر ہلکا سا کام ہوا تھا۔
ڈوپٹہ اس کا تھوڑا فینسی تھا۔سیرت اُس شادی میں جا کر اپنے دماغ کو ٹھوڑا پرسکون کرنا چاہتی تھی ورنہ یہاں حویلی میں تو ہر کوئی ابتسام کی فکر میں لگا ہوا تھا۔
وہ حویلی سے تھوڑا دور جانا چاہتی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ حویلی سے کچھ دیر دور رہنا اسے مشکل میں ڈال دے گا۔
💜 💜 💜 💜
زبیر بے شک اپنے چچا کے ساتھ رہتا تھا اور ان کے ساتھ مل کر بزنس کو مزید آگے لے گیا تھا۔لیکن اس نے اپنے چچا کو صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ ان کے کسی غلط کام میں ان کا ساتھ نہیں دے گا بلکہ ان کا آفس سنبھالے گا اور مزمل کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔لیکن زبیر کو اپنے چچا کے ایک کام سے سخت چڑ تھی اور وہ تھا لڑکیوں کا ان کے گھر آنا۔
اور اب تو زبیر کافی حد تک بدل گیا تھا کچھ وقت نے اسے بہت کچھ سیکھا دیا تھا کچھ پیسہ انسان کو بدل دیتا ہے زبیر نے آنکھوں پر چشمہ لگا لیا تھا۔اور ہمیشہ یہ تھری پیس سوٹ میں ہی پایا جاتا تھا اس کی شخصیت میں بھی کافی نکھار آگیا تھا۔
اس وقت بھی وہ تھکا ہارا گھر آیا اور کوٹ کو صوفے پر رکھے خود ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا بیٹھ گیا تھا۔بلیک شرٹ میں اس کا تھکا ہوا چہرہ بھی کافی پرکشش لگ رہا تھا۔
ہائے ہینڈسم ایک لڑکی جو اس کے چچا سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے آئی تھی زبیر کو دیکھتے ہی اس کے پاس آبیٹھی۔
زبیر نے آنکھیں کھول کر اپنے ساتھ چپک کر بیٹھی لڑکی کو دیکھا تو ایک پل کے لیے وہی منجمد ہو گیا۔شبنم زبیر نے منہ میں بڑبڑاتے کہا اور بےخودی کے عالم میں اُس لڑکی کی آنکھوں کو اپنے ہاتھ سے چھوا وہ لڑکی تو ایک دم خوش ہوئی تھی سب جانتے تھے کہ مزمل کا بھتیجا کسی لڑکی کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
اُس لڑکی نے اپنا ہاتھ زبیر کی گردن کی طرف بڑھایا تو وہ ایک دم ہوش میں آیا تھا۔ اور ایسے لڑکی سے پیچھے ہوا جیسے اُس لڑکی میں کرنٹ ہو۔
کون ہو تم؟زبیر نے سرد لہجے میں کھڑے ہوتے پوچھا۔
اُس سے فرق نہیں پڑتا تم مجھے اپنی شبنم ہی سمجھ سکتے ہو لڑکی نے مسکراتے زبیر کی کی طرف اپنے قدم بڑھاتے کہا۔
شٹ اپ دفا ہو جاؤ یہاں سے زبیر نے غصے سے کہا اور اپنا کوٹ پکڑے وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
پیچھے لڑکی نے مسکرا کر زبیر کو جاتے دیکھا اور خود بھی وہاں سے چلی گئی جیسے اُسے کوئی فرق نا پڑا ہو۔
💜 💜 💜 💜
شہریار میں نے کہہ دیا نا مجھے واپس پاکستان جانا ہے تو جانا ہے اور آپ مجھے روک نہیں سکتے پری نے غصے سے شہریار کو دیکھتے کہا۔
میں نے نائل سے بات کی ہے وہ کہہ رہا ہے کچھ دنوں تک تمہیں پاکستان آنے کا کہہ دے گا۔اور اُس کی پرمیشن کے بغیر میں بھی کچھ نہیں کر سکتا۔شہریار نے صاف ہاتھ کھڑے کرتے کہا۔
آپ کتنے اپنے بھائی کے فرمانبردار ہیں میں اچھی طرح جانتی ہوں اور یقیناً کوئی نا کوئی کھچڑی پک رہی ہے آپ دونوں کے دماغوں میں اور اسی لیے مجھے پاکستان واپس نہیں جانے دے رہے پری نے میٹھا سا طنز کرتے کہا جس پر شہریار ہنس پڑا تھا۔
تم پاکستان کیوں جانا چاہتی ہو؟ شہریار نے بات بدلتے پوچھا کیونکہ پری کے سوال کا جواب اس کے پاس بھی نہیں تھا۔
کسی کو تلاش کرنا ہے پری ایک دم سنجیدہ ہوئی تھی۔
تمہیں یقین ہے کہ جس کی تلاش میں تم وہاں جا رہی ہو وہ تمہیں مل جائے گا؟ شہریار نے پری کے تاثرات دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
یقین نہیں ہے لیکن ایک چھوٹی سی امید ہے ہو سکتا ہے میری چاہت مجھے مل جائے۔
پری نے شہریار سے زیادہ خود کو جیسے یقین دلایا تھا۔
میری دعا ہے کہ جو تم چاہتی ہو وہ تمہیں مل جائے شہریار نے کہا تو پری چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ لیے ہنس پڑی تھی۔
میں ہسپتال جا رہا ہوں ہو سکتا ہے آنے میں دیر ہو جائے مرحا کا خیال رکھنا آگر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو مجھے کال کر لینا شہریار نے ٹیبل سے اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے کہا۔
پری نے کوئی جواب نہیں دیا تھا شہریار کے جانے کے بعد وہ خاموشی سے مرحا کے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
یہ کیا پہنا ہے تم نے؟ طالش نے شیریں کو دیکھتے پوچھا جس نے سفید رنگ کا لانگ فراک پہنا تھا اسے طالش نے ڈھیر ساری شاپنگ کروائی تھی۔پسند تو طالش کی ہی تھی شیریں بےچاری تو خاموشی سے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔
فراک ہے شیریں نے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے اس کی نالج میں جیسے اضافہ کیا تھا۔
مجھے بھی معلوم ہے لیکن ابھی اور اسی وقت تبدیل کرکے آؤ طالش نے حکم صادر کیا۔
اس میں کیا مسئلہ ہے؟ شیریں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اچھا خاصا اس نے فراک پہنا ہوا تھا۔پتہ نہیں طالش کو اس میں ایسا کیا نظر آگیا تھا جو چینج کرنے کا کہہ رہا تھا۔
میں نے کہا نا کہ چینج کرکے آؤ طالش نے تھوڑا غصے سے کہا تو شیریں تبدیل کرنے چلی گئی اسے یہ رنگ نہیں لے کر دینا چاہیے تھا اگر میری ہی نظر لگ گئی تو طالش نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
تھوڑی دیر بعد شیریں بلیک کلر کی شلوار قمیض پہن کر آگئی تھی اس کا رنگ گورا تھا اور اس پت یہ رنگ کافی جچ رہے تھے۔
طالش نے شیریں کو دیکھا تو گہرا سانس لیا۔
تمھارے پاس کسی دوسرے رنگ کا سوٹ نہیں ہے اس بار طالش نے شیریں کے سامنے آتے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
آپ کو مسئلہ کیا ہے؟ یہ سب کلر آپ نے ہی مجھے لے کر دیے ہیں شیریں نے غصے سے کہا۔تو طالش مسکرا پڑا۔
اس نے شیریں کو بازو سے پکڑ کر اسے خود کے قریب کرتے گھمبیر لہجے میں کہا۔
میں نہیں چاہتا کہ میرا دل تم پر آجائے اور میں تمھارا غلام بن جاؤں لیکن ان کپڑوں میں تم قیامت ڈھا رہی ہو اور مجھے لگتا ہے کہ تم یہ جان بوجھ کر رہی ہو طالش نے بھاری لہجے میں شیریں کے کان پر اپنے لب رکھتے کہا۔
شیریں ایک دم کپکپا سی گئی تھی۔
جاؤ یہاں سے طالش نے شیریں سے پیچھے ہٹتے کہا اس کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ شیریں اپنے کمرے کہ طرف بھاگ گئی تھی۔
لگتا ہے یہ مجھے اپنا غلام بنا کر ہی دم لے گی طالش نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ٹھنڈی آہ بھرتے کہا اور خود بھی وہاں سے حسن کے کمرے کی طرف چلا گیا اس نے کوئی ضروری بات کرنی تھی۔
💜 💜 💜 💜
سیرت تیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر آئی تو نگین بیگم نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری تھی جس نے پنک کلر کا سوٹ اور اس پر کام والی بڑی سی چادر لی ہوئی تھی۔
چلیں چچی جان سیرت نے اپنی چادر ٹھیک کرتے پوچھا۔
ہاں بیٹا لیکن سر پر ڈوپٹہ لے لو اور اپنے چہرے کو ڈھانپ لو نگین نے کہا تو سیرت نے بنا کوئی سوال کیے نگین کی بات مان لی تھی۔
دونوں حویلی سے نکلی تو شام کے سائے ڈھل رہے تھے دونوں گاڑی میں بیٹھی تو چودھری کے آدمی جو حویلی پر نظر رکھے کھڑے تھے اس نے چودھری کے بیٹے شفیق کو جلدی سے اطلاع دی۔
سب کچھ تیار ہے نا؟ جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی ہونا چاہیے اگر کوئی کوتاہی ہوئی تو تم لوگوں کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا شفیق نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
شادی والا گھر زیادہ دور نہیں تھا سات منٹ کے فاصلے پر تھا دونوں گاڑی سے باہر نکلی سامنے گھر کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا تھا۔
اور باہر ٹینٹ لگا کر وہی سارا انتظام کیا گیا تھا۔سیرت کو کافی اچھا لگ رہا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔لیکن دوری کھڑی دو نظریں بہت گھور سے سیرت کا معائنہ کر رہی تھیں۔
سیرت ان سب سے انجان اپنی چچی کا ہاتھ پکڑے اندر گئی تھی۔
وہاں ٹینٹ کے درمیان میں ایک پردے کی دیوار بنائی گئی تھی جس کے دائیں جانب آدمی اور بائیں جانب عورتیں موجود تھیں ساری عورتوں کی نظریں سیرت پر جمی تھی کیونکہ وہ پہلی باری اس طرح شادی میں آئی تھی۔
سیرت کو ان سب کی نظروں سے کوفت ہو رہی ہے تھی اسے ویسے ہی کسی کا گھورنا پسند نہیں تھا۔
چچی میں آتی ہوں سیرت نے وہاں سے کھڑے ہوتے کہا۔
بیٹا یہاں سے باہر مت جانا نگین نے کہا اور اپنے ساتھ بیٹھی عورت کے ساتھ باتوں میں مگن ہو گئی۔
سیرت وہاں سے کچھ فاصلے پر گئی جہاں پر کوئی نہیں موجود تھا اور یہ جگہ کافی پرسکون تھی۔
اچانک اسے ایسے لگا جیسے کسی نے اس کا نام پکارا ہے اس نے ارد گرد دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا اس نے اپنے کندھے اچکائے اور وہاں سے جانے لگی جب دوبارہ اسے آواز سنائی دی جو باہر سے آرہی تھی۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر سیرت نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے۔
باہر نکل کر اس نے دیکھا تو ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اس سے پہلے وہ دوبارہ اندر جاتی کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھا۔ تھوڑے بہت ہاتھ پیر چلانے کے بعد سیرت وہی بےہوش ہو گئی تھی۔
یہ رنگ تو تم پر بہت زیادہ جچ رہا ہے مقابل نے گہرے لہجے میں سیرت کے چہرے ہو دیکھتے کہا اور اسے بانہوں میں اٹھائے وہاں سے لے گیا۔
💜 💜 💜 💜 💜
جب اس کی آنکھ کُھلی تو اس نے خود کو کمرے میں بند پایا تھا۔اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ ٹینٹ سے باہر آئی تھی تو کسی کے اس کے منہ پر رومال رکھا اور وہی بےہوش ہو گئی۔
سیرت جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی اور کافی دیر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد جب کسی نے نہیں کھولا تو وہی تھک ہار کر زمین پر بیٹھ گئی تو ملازمہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے اندر آئی تھی۔
مجھے یہاں کون لایا ہے؟ جواب دو؟ سامنے کھڑی لڑکی نے ملازمہ کو دیکھتے چیختے ہوئے پوچھا۔
بی بی جی مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے آپ کھانا کھا لیں ملازمہ نے نظریں جھکا کر کہا۔
مجھے گاؤں واپس جانا ہے میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گئے۔آپ سمجھ کیوں نہیں رہی۔پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں سیرت نے بےبسی سے ملازمہ کو دیکھتے کہا۔ملازمہ کو دیکھ کر اسے تھوڑی بہت امید نظر آئی تھی۔
بی بی جی بڑے صاحب کل یہاں آجائیں گئے آپ اُن سے بات کر لیجیے گا لیکن ابھی آپ یہاں سے کہی نہیں جا سکتی ملازمہ نے مودبانہ انداز میں کہا۔
بھاڑ میں گئے تمھارے صاحب خون پی جاؤں گی میں تمھارے بڑے صاحب کا سیرت نے چیختے ہوئے کہا اور اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے۔اس نے جلدی سے باہر جا کر دروازے کو لاکٹ کر دیا تھا۔
بی بی جی ایسی غلطی مت کیجیے گا بڑے صاحب آپ کو معاف نہیں کریں گئے ملازمہ نے دروازے کو پیٹتے ہوئے کہا۔
لیکن وہ ملازمہ کی بات کو نظر انداز کیے وہاں سے بس نکلنا چاہتی تھی اسے اپنے ڈوپٹے کا بھی ہوش نہیں تھا جو شاید کمرے میں ہی رہ گیا تھا۔
اس سے پہلے وہ گھر سے باہر قدم رکھتی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کی طرف کھنچا تھا۔یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا کہ سیرت کو سمجھ نہیں آیا اور سیدھا مقابل کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی۔
اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں جب اس نے سامنے کھڑے انسان کو خود کے بےحد قریب کھڑے دیکھا۔
آپ……. سیرت کی زبان سے بس یہی الفاظ ادا ہوئے تھے آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
تم مجھے مس کر رہی تھی جانِ من مقابل نے اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں کہا۔
لیکن وہ تو اپنے سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر وہی پتھر کی بن گئی تھی۔آنکھوں کے سامنے آتے اندھیرے کی وجہ سے وہی وہ مقابل کی بانہوں میں جھول گئی۔
💜 💜 💜 💜 💜
